Monday, 28 May 2012

آج کا بنیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔سود خوری اور اس کا شکار ہم



آج کا بنیا ہر وہ شخص ، دکاندار، صراف یا کاروباری انسان ہے جو سود کی بنیاد پر قرض دیتا ہے۔ اکثر اوقات ہمیں یہ خبریں پڑھنے کو ملتی ہیں کہ آج فلاں نے قرض کے ہاتھوں مجبور ہو کر خودکشی کر لی۔ جیسے پچھلے دنوں لاہور میں ایک شخص نے قرض ادا نا کر پانے پرخود اور اپنے اہل وعیال جن میں بیوی اور تین بچے شامل تھے زہر کھا کر خود کشی کر لی۔ اسی طرح ایک شخص نے قرض کی رقم ادا نا کر پانے پر خود گلے میں پھندہ ڈال کر خودکشی کر لی، وغیرہ وغیرہ۔ دراصل یہ سودی نظام ایک مافیہ ہے جو ہمارے معاشرے میں ایک ناسور کی طرح پھیل چکا ہے اور مزید پھل پھول رہا ہے۔ ان کا طریقہ کار بہت سیدھا ہے۔ قسطوں پر سامان حاصل کریں جس پر شرح سود 35 سے 50 فیصد تک ہوتی ہے، مجبوری اور مہنگائی کے ستائے لوگ ضرورتوں سے تنگ آکر اس جال میں پھنس جاتے ہیں اور مرتے دم تک اس قرض کو اتارتے رہتے ہیں یا پھر ان کی آنیوالی نسلیں تک اس دلدل میں پھنسی رہتی ہیں۔

"جیسے کہ ہمارے ہاں ہر قانون موجود ہے" جی ہاں یہ پڑھ کر آپ کو پہلے غصہ آئے گا یا پھر میری دماغی حالت پر بہت ہنسی آئے گی لیکن یہ بات ایک حقیقت ہے کہ ہمارے ہاں ہر قانون موجود ہے اور اگر آپ تفصیل سے دیکھیں تو بہت اچھا قانون موجود ہے، جو کہ باقی دنیا یا اور ممالک سے بہت بہتر بھی ہے لیکن ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ لیکن بد نصیبی کہ اس پر نا تو کوئی عمل درآمد کرتا ہے اور نا ہی کوئی کراتا ہے۔ قانون بنانے والے اس کو توڑنے اور بائی پاس کرنے کے طریقے بھی مفت بانٹتے ہیں۔ بلکل اسی طرح سودی کاروبار پر بھی پاکستان میں بظاہر پابندی ہے لیکن اس مافیا یعنی آج کے بنیا نے اس کا حل بھی نکال لیا ہے، یہ لوگ مل جل کر لائسنس لیتے ہیں ادارے کو رجسٹر کراتے ہیں اور یہ مکروہ دھندہ قانون کے سائے میں بہت دھڑلے سے کرتے ہیں۔

اور ان کا قرض ادا نا کرنے کی صورت میں:

◘آپ خودکشی کر سکتے ہیں
◘آپ چوری ڈکیتی کی طرف مائل ہو سکتے ہیں
◘آپ نشہ میں مبتلا ہو سکتے ہیں
◘آپ ان کی گولی شکار ہو سکتے ہیں
◘آپ یا آپ کے گھر والے ان کی دشمنی کی بھینٹ چڑھ سکتے ہیں
جس عزت اور وقار کو قائم رکھنے کے لیئے آپ ان کے چنگل میں پھنستے ہیں یہ لوگ آپ کی اسی عزت کو پامال کرسکتے ہیں
◘آپ کا رہن یا ضمانت رکھا ہوا  قیمتی سامان، زیور، زمین جائیداد سب ان کے قبضہ میں جا سکتا ہےاور آپ اپنی زندگی بھر کی جمع پونجی سے محروم ہو سکتے ہیں۔


اس کی ایک منہ بولتی مثال میں ابھی پڑھ رہا تھا کہ سندھ کے کسی گوٹھ میں ایک پٹھان یہ کاروبار کرتا ہے اور لوگوں کو کپڑا ادھارپر یعنی سود پر دیتا ہے جب وہ کپڑا بیچنے آتا ہے تو اس کے ہاتھ میں کپڑا ماپنے والا گز ہوتا ہے لیکن جب اسی کپڑے کی رقم وصول کرنے آتا ہے تو اس کے ہاتھ میں کلہاڑی ہوتی ہے،اور غریب لوگ جو ادھار کے لالچ میں کپڑالے تو لیتے ہیں لیکن غربت اور تنگدستی کے ہاتھوں مجبور ہو کر نا تو قرض ادا کرسکتے ہیں اور نا ہی اس دلدل سے نکل سکتے ہیں، سو ایسے لوگ اس انسان نما بھیڑیے سے بچنے کے لیئے چھپتے پھرتے ہیں، ایسے لوگ سود کی زد میں آکر اپنی عزتیں تک پامال کرا بیٹھتے ہیں اور یہ کوئی من گھڑت کہانی نہیں بلکہ ہمارے معاشرے کی ایک زندہ جاوید اورحقیقی مثال ہے۔ ہر بڑے چھوٹے شہر میں ایسے ادارے، کاروبار اور لوگ آپ کو ملیں گے جو بہت اچھے طریقے سے لوگوں کی مجبوریوں کو خریدتے ہیں۔
ہمارے گاوں سے کچھ دور ایک گاوں ہے وہاں کہ نمبردار صاحب اس کام کو کچھ یوں انجام دیتے ہیں کہ وہ گاوں میں اگر کوئی بھی بندہ کسی مصیبت کا شکار ہو تو اس کی مدد اس کی موجودہ زمین کو دیکھتے ہوئے کرتے ہیں اور بہت دل کھول کر کرتے ہیں اس کے بعد آپ ان کے احسان تلے دب کے رہ جاتے ہیں، جب آپ اس کو مطلوبہ وقت پر مطلوبہ رقم نہیں دے پاتے تو یہ بہت آرام سے کورٹ میں جا کر آپ کی زمین ساری یا جتنی پر آپ اس سے معاملہ طے کرتے ہیں اپنے نام منتقل کرا لیتا ہے، اور یوں ان کی رقم بمہ سود و منافع واپس آ جاتی ہے۔

اسی تناظر میں دیکھیں تو قیام پاکستان سے قبل جب بینکنگ کا نظام اتنا موثر نہیں تھا تو ایسے قرض دینے والوں کو بنیا کہا جاتا تھا جن سے نہ صرف کاروباری لوگ بلکہ زراعت پیشہ افراد اور کاشتکار قرضہ لیتے تھے ۔ پاکستان بننے کے بعد بھی یہ کاروبار جاری رہا۔1972ءتک اس کاروبار پر کوئی قانونی قدغن نہیں تھی لیکن جب اس کے نتیجے میں استحصالی طبقے کی تعداد بڑھنے لگی اور لوگوں کی طرف سے ایسے افراد کے خلاف کارروائی کا مطالبہ بڑھنے لگا تو1973ءکے شروع میںذوالفقار علی بھٹو کی حکومت نے زرعی قرضے حاصل کرنے کیلئے ایک ریلیف متعارف کروایا ۔اس ایکٹ کے تحت سود خوروں سے لیے گئے قرضے معاف کر دیے گئے اور سود خوروں کی طرف سے دیے جانے والے قرضوں پر سود کی رقم کی حد بندی کر دی گئی۔ مزید براں یکم نومبر 1973ءکو قرضوں پر واجب الادا سود کی رقم ختم کر دی گئی اور صرف اصل رقم باقی رکھی گئی۔ اسی تاریخ کو اس ایکٹ کے تحت اراضی کیلئے واجب الادا رقوم بھی ختم کر دی گئیں۔

اللہ تعالٰی ہمیں اس سودی نظام، سودی کاروبار، سود خوروں سے بچائے، آمین

No comments:

Post a comment