Monday, 31 December 2012

تب تم بہت یاد آتے ہو

Poet:
Shaheen Mughal, Gujranwala

 

کھلا ہے جھوٹ کا بازار، آو سچ بولیں.

Stop Voice Feather Light
 

 
کھلا ہے جھوٹ کا بازار، آو سچ بولیں.
 
سترہ سالہ دانیال کے ایک انکار نے اسلام آباد کی اشرافیہ کو حیران نہیں بلکہ پریشان کر دیا۔ انکار کا یہ واقعہ پاکستان نیشنل کونسل آف دی آرٹس کے ڈرامہ ہال میں پیش آیا جہاں وفاقی دارالحکومت کے ایک معروف انگریزی میڈیم اسکول کی تقریب تقسیم انعامات جاری تھی۔ رمضان المبارک کے باعث یہ تقریب صبح دس بجے سے بارہ بجے کے درمیان منعقد کی گئی اور اتوار کا دن ہونے کے باعث ڈرامہ ہال طلبہ و طالبات کے والدین سے بھرا ہوا تھا۔ ان والدین میں شہر کے معروف لوگ شامل تھے۔ اس تقریب پر مغربی ماحول اور مغربی موسیقی غالب تھی جس میں حیرانگی کی کوئی بات نہ تھی۔ تقریب کی تمام کارروائی انگریزی میں ہو رہی تھی اور انگریزی زبان جہاں بھی جاتی ہے اپنی تہذیب کو ساتھ لے کر جاتی ہے۔ اس دوران اسکول کی طالبات نے جنید جمشید کے ایک پرانے گیت پر رقص پیش کیا۔ یہ گیت ایک سانولی سلونی محبوبہ کے بارے میں تھا جو شہر کے لڑکوں کو اپنا دیوانہ بنا لیتی ہے۔ نو عمر طالبات نے اس گیت پر دیوانہ وار رقص کیا۔ حاضرین میں موجود کئی طلبہ نے اپنے والدین کی موجودگی کی پروا نہ کرتے ہوئے محو رقص طالبات کو چیخ چیخ کر داد دی۔

اس رقص کے بعد اسٹیج سے او لیول اور اے لیول کے امتحانات میں نمایاں پوزیشن حاصل کرنے والے طلبہ و طالبات کے نام پکارے جانے لگے۔ گولڈ میڈل حاصل کرنے والی بعض طالبات اسکارف اور برقعے میں ملبوس تھیں۔ ایک طالب علم ایسا بھی تھا جس کے چہرے پر نئی نئی داڑھی آئی تھی اور جب پرنسپل صاحبہ نے اس کے گلے میں گولڈ میڈل ڈال کر اس کے ساتھ ہاتھ ملانا چاہا تو دبلے پتلے طالب نے نظریں جھکا کر اپنا ہاتھ پیچھے کھینچ لیا۔ پرنسپل صاحبہ نے پوچھا کہ کیا تم ہاتھ نہیں ملانا چاہتے؟ طالب علم نے نفی میں سر ہلایا اور اسٹیج سے نیچے اتر آیا۔ پھر دانیال کا نام پکارا گیا جو اے لیول مکمل کرنے کے بعد ایک امریکی یونیورسٹی میں زیر تعلیم ہے اور صرف گولڈ میڈل حاصل کرنے اپنے پرانے اسکول کی تقریب میں بلایا گیا تھا۔ وہ گولڈ میڈل وصول کرنے کیلئے پرنسپل صاحبہ کی طرف نہیں گیا بلکہ ڈائس پر جا کھڑا ہوا اور مائیک تھام کر کہنے لگا کہ وہ اپنے اسکول کی انتظامیہ کا بہت شکر گزار ہے کہ اسے گولڈ میڈل کیلئے نامزد کیا گیا لیکن اسے افسوس ہے کہ مذکورہ تقریب میں اسکول کی طالبات نے رمضان المبارک کے تقدس کا خیال نہیں کیا اور واہیات گیت پر رقص پیش کیا۔ اس نے کہا کہ مسلمانوں کے ملک میں رمضان المبارک کے تقدس کی پامالی کے خلاف بطور احتجاج وہ گولڈ میڈل وصول نہیں کرے گا۔ یہ کہہ کر وہ اسٹیج سے اتر آیا اور ہال میں ہڑبونگ مچ گئی۔ کچھ والدین اور طلبہ تالیاں بجا کر دانیال کی حمایت کر رہے تھے اور کچھ حاضرین غصے میں پاگل ہو کر اس نوجوان کو انگریزی زبان میں برا بھلا کہہ رہے تھے۔ بوائے کٹ بالوں والی ایک خاتون اپنی نشست سے کھڑی ہو کر زور زور سے چیخیں”گیٹ آؤٹ طالبان، گیٹ آؤٹ طالبان “۔

ایسا محسوس ہوتا تھا کہ دانیال کے مخالفین حاوی ہیں کیونکہ وہ بہت زیادہ شور کر رہے تھے لیکن یہ ہڑبونگ وفاقی دارالحکومت کی اشرافیہ میں ایک واضح تقسیم کا پتہ دے رہی تھی۔ یہ تقسیم لبرل عناصر اور بنیاد پرست اسلام پسندوں کے درمیان تھی۔ پرنسپل صاحبہ نے خود مائیک سنبھال کر صورتحال پر قابو پایا اور تھوڑی دیر کے بعد ہوشیاری سے ایک خاتون دانشور کو اسٹیج پر بلا لیا اور خاتون نے اپنی گرجدار آواز میں دانیال کو ڈانٹ پلاتے ہوئے کہا کہ تم نے جو کچھ بھی کیا وہ بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح کی تعلیمات کے خلاف تھا کیونکہ بانی پاکستان رواداری کے علمبردار تھے۔ پچھلی نشستوں پر براجمان ایک اسکارف والی طالبہ بولی کہ بانی پاکستان نے یہ کب کہا تھا کہ مسلمان بچیاں رمضان المبارک میں اپنے والدین کے سامنے سانولی سلونی محبوبہ بن کر ڈانس کریں؟ ایک دفعہ پھر ہال میں شور بلند ہوا اور اس مرتبہ بنیاد پرست حاوی تھے لہٰذا پرنسپل صاحبہ نے مائیک سنبھالا اور کہا کہ طالبات کے رقص سے اگر کسی کے جذبات مجروح ہوئے ہیں تو وہ معذرت خواہ ہیں۔

اس واقعے نے اسلام آباد میں ایک مغربی سفارت خانے کو بہت کچھ سوچنے پر مجبور کر دیا۔ سفارت خانے نے فوری طور پر ایک ماہر تعلیم کی خدمات حاصل کیں اور اسے کہا گیا کہ وہ اسلام آباد کے پانچ معروف انگریزی میڈیم اسکولوں میں او لیول اور اے لیول کے ایک سو طلبہ و طالبات سے امریکی پالیسیوں، طالبان اور اسلام کے بارے میں رائے معلوم کریں۔ اس سروے کے حتمی نتائج ابھی مرتب نہیں ہوئے لیکن مجھے بتایا گیا ہے کہ او لیول اور اے لیول کے طلبہ و طالبات کی ایک بڑی اکثریت امریکہ اور طالبان دونوں سے نالاں ہے لیکن امریکہ کو بڑا دہشت گرد سمجھتی ہے۔ سروے کے دوران بعض طلبہ نے ” خطرناک حد تک “ طالبان کی حمائت کی اور کہا کہ طالبان دراصل امریکہ اور پاکستان حکومت کے ظلم اور بمباری کا ردعمل ہیں اور انہیں دہشت گرد قرار نہیں دیا جا سکتا تاہم ایسے طلبہ دس فیصد سے بھی کم تھے۔ اس سروے سے مغرب کو کم از کم یہ پتہ ضرور چل جائے گا کہ اسلام آباد کے انگریزی میڈیم اسکولوں میں طالبان کے دس فیصد حامی موجود ہیں۔ یہ بھی ثابت ہو جائے گا کہ طالبان صرف دینی مدارس میں پیدا نہیں ہوتے بلکہ وقت اور حالات انگریزی میڈیم طالبان بھی پیدا کر سکتے ہیں۔

قلم کمان ۔۔۔حامد میر
(بشکریہ روزنامہ جنگ)

Saturday, 29 December 2012

....::::::طارق بن زیاد کا ایمان افروز خطبہ ::::::...


 


جب طارق بن زیاد دشمن کے قریب پہنچے تو انہوں نے اپنی فوج کے سامنے اللہ
تعالیٰ کی حمد و ثنا کرتے ہوئے مسلمانوں کو جہاد اور شہادت کی ترغیب دلائی اور کہا :

اے لوگو! اب راہ فرار کہاں ہے؟ سمندر تمہارے پیچھے ہے اور دشمن تمہارے آگے۔
اللہ کی قسم ! تمہارے لئے صدق و صبر کے سوا اور کوئی چارہ نہیں۔ جان لو ! تم اس جزیرہ نما میں اس قدر بےوقعت ہو کہ کم ظرف لوگوں کے دسترخوان پر یتیم بھی اتنے بےوقعت نہیں ہوتے۔
تمہارے دشمن اپنے لشکر ، اسلحے اور وافر خوراک کے ساتھ تمہارے مقابلے میں نکلا ہے۔ ادھر تمہارے پاس کچھ نہیں سوائے اپنی تلواروں کے۔ یہاں اگر تمہاری اجنبیت کے دن لمبے ہو گئے تو تمہارے لئے خوراک بس وہی ہے جو تم اپنے دشمن کے ہاتھوں سے چھین لو۔
اگر تم یہاں کوئی معرکہ نہ مار سکے تو تمہاری ہوا اکھڑ جائے گی اور تمہاری جراءت کے بجائے تمہارے دلوں پر دشمن کا رعب بیٹھ جائے گا۔
اس سرکش قوم کی کامیابی کے نتیجے میں تمہیں جس ذلت و رسوائی سے دوچار ہونا پڑے گا اس سے اپنے آپ کو بچاؤ۔ دشمن نے اپنے قلعہ بند شہر تمہارے سامنے ڈال دئے ہیں۔ اگر تم جان کی بازی لگانے کو تیار ہو جاؤ تو تم اس موقع سے فائدہ اٹھا سکتے ہو۔
میں تمہیں ایسے کسی خطرے میں نہیں ڈال رہا جس میں کودنے سے خود گریز کروں ۔۔۔۔ اس جزیرہ نما میں اللہ کا کلمہ بلند کرنے اور اس کے دین کو فروغ دینے پر اللہ کی طرف سے ثواب (ان شاءاللہ) تمہارے لئے مقدر ہو چکا ہے۔
یہاں کے غنائم خلیفہ اور مسلمانوں کے علاوہ خاص تمہارے لئے ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ نے کامیابی تمہاری قسمت میں لکھ دی ہے، اس پر دونوں جہانوں میں تمہارا ذکر ہوگا۔
یاد رکھو ! میں تمہیں جس چیز کی دعوت دیتا ہوں اس پر پہلے خود لبیک کہہ رہا ہوں۔ میں میدانِ جنگ میں اس قوم کے سرکش راڈرک پر خود حملہ آور ہوں گا اور ان شاءاللہ تعالیٰ اسے قتل کر ڈالوں گا۔
تم سب میرے ساتھ ہی حملہ کر دینا۔ اگر اس کی ہلاکت کے بعد میں مارا جاؤں تو تمہیں کسی اور ذی فہم قائد کی ضرورت نہیں رہے گی۔ اور اگر میں اس تک پہنچنے سے پہلے ہلاک ہو جاؤں تو میرے عزم کی پیروی کرتے ہوئے جنگ جاری رکھنا اور سب مل کر اس پر ہلہ بول دینا۔ اس کے قتل کے بعد اس جزیرہ نما فتح کا کام پایۂ تکمیل تک پہنچانا۔ راڈرک کے بعد اس کی قوم مطیع ہو جائے گی۔
بحوالہ : وفیات الاعیان ، ج:5 ، ص:321-322

پنجابی کلام



خوشی


باپ ، بیٹا


Friday, 28 December 2012

طالبہ کے پرس میں کیا تھا..............منتخب تحریر:::: اپنی زبان اردو

طالبہ کے پرس میں کیا تھا ؟؟؟

ایک گرلز کالج میں سرکاری تفتیشی ٹیم آئی اور کالج کے سارے کلاسیز میں گھوم گھوم کر لڑکیوں کے بیگ کی تلاشی کرنے لگی ،ایک ایک لڑکی کے بیگ کی تفتیش کی گئی، کسی بھی پرس میں کتابیں، کاپیاں اورلازمی اوراق کے علاوہ کوئی ممنوع شے پائی نہیں گئی ، البتہ ایک آخری کلاس باقی رہ گئی تھی ، اوریہی جائے حادثہ تھا ، حادثہ کیا تھا، اورکیا پیش آیا؟

تفتیشی کمیٹی ہال میں داخل ہوئی اور ساری لڑکیوں سے گذارش کی کہ تفتیش کے لیے اپنا اپنا پرس کھول کر سامنے رکھیں، ہال کے ایک کنارے ایک طالبہ بیٹھی تھی، اس کی پریشانی بڑھ گئی تھی، وہ تفتیشی کمیٹی پر دزدیدہ نگاہ ڈال رہی تھی اور شرم سے پانی پانی ہورہی تھی ۔
...

اس نے اپنے پرس پرہاتھ رکھا ہوا تھا !! تفتیش شروع ہوچکی ہے، اس کی باری آنے ہی والی ہے ، لڑکی کی پریشانی بڑھتی جارہی ہے …. چند منٹوں میں لڑکی کے پرس کے پاس تفتیشی کمیٹی پہنچ چکی ہے ،لڑکی نے پرس کو زورسے پکڑ لیا گویا وہ خاموش زبان سے کہنا چاہتی ہوکہ آپ لوگ اسے ہرگز نہیں کھول سکتے، اسے کہا جا رہا ہے، پرس کھولو! تفتیشی کی طرف دیکھ رہی ہے اور زبان بند ہے ، پرس کو سینے سے چپکا لیا ہوا ہے ، تفتیشی نے پھر کہا : پرس ہمارے حوالے کرو، لڑکی زور سے چلا کر بولتی ہے: نہیں میں نہیں دے سکتی ۔ پوری تفتیشی کمیٹی اس لڑکی کے پاس جمع ہوگئی ، سخت بحث ومباحثہ شروع ہوگیا ۔ ہال کی ساری طالبات پریشان ہیں ، آخر راز کیا ہے ؟حقیقت کیا ہے ؟

بالآخر لڑکی سے اس کا پرس چھین لیا گیا، ساری لڑکیاں خاموش ….لکچر بند …. ہر طرف سناٹا چھا چکا ہے۔ پتہ نہیں کیا ہوگا …. پرس میں کیاچیز ہے ؟

تفتیشی کمیٹی طالبہ کا پرس لیے کالج کے آفس میں گئی ، طالبہ آفس میں آئی ، ادھراس کی آنکھوں سے آنسوؤں کی بارش ہورہی تھی، سب کی طرف غصہ سے دیکھ رہی تھی کہ بھرے مجمع کے سامنے اسے رسوا کیا گیا تھا ، اسے بٹھایا گیا، کالج کی ڈائرکٹر نے اپنے سامنے پرس کھلوایا، طالبہ نے پرس کھولا، یااللہ ! کیا تھا پرس میں ….؟

آپ کیا گمان کرسکتے ہیں ….؟

پرس میں کوئی ممنوع شے نہ تھی، نہ فحش تصویریں تھیں، واللہ ایسی کوئی چیز نہ تھی …. اس میں روٹی کے چند ٹکڑ ے تھے، اور استعمال شدہ سنڈویچ کے باقی حصے تھے، بس یہی تھے اورکچھ نہیں ۔ جب اس سلسلے میں اس سے بات کی گئی تو اس نے کہا : ساری طالبات جب ناشتہ کرلیتی ہیں تو ٹوٹے پھوٹے روٹی کے ٹکڑے جمع کرلیتی ہوں جس میں سے کچھ کھاتی ہوں اور کچھ اپنے اہل خانہ کے لیے لے کر جاتی ہوں۔ جی ہاں! اپنی ماں اور بہنوں کے لیے ….تاکہ انہیں دوپہر اور رات کا کھانا میسر ہو سکے ۔ ہم تنگ دست ہیں ،ہماری کوئی کفالت کرنے والا نہیں، ہماری کوئی خبر بھی نہیں لیتا ۔ اور پرس کھولنے سے انکار کرنے کی وجہ صرف یہی تھی کہ مبادا میری کلاس کی سہیلیاں میری حالت کو جان جائیں اور مجھے شرمندگی اٹھانی پڑے ۔ میری طرف سے بے ادبی ہوئی ہے تواس کے لیے میں آپ سب سے معافی کی خواستگار ہوں۔ یہ دلدوز منظر کیا تھا کہ سب کی آنکھیں ڈبڈبا گئیں،

بھائیو اور بہنو!

یہ منظر ان مختلف المناک مناظر میں سے ایک ہے، جو ممکن ہے ہمارے پڑوس میں ہو اور ہم اسے نہ جانتے ہوں، یا بسا اوقات ایسے لوگوں سے نظریں اوجھل کئے ہوئے ہوں ۔

اللہ پاک ہر شخص کو ایسی مجبوری سے بچائے، اور ایسے بُرے دن کسی کو نہ دیکھنے پڑیں .....اللهم آمين يا رب العالمين

Thursday, 27 December 2012

لڑکیوں کو بلیک میل :::::::میری بہنو!!‌! حیا کرو.

مندرجہ ذیل خبر کو پڑھنے کے بعد میں تو صرف ایک ہی بات کہوں گا!!!!!!
میری بہنو!!!‌حیا کرو!!!!!
یہ نوبت اپنے آپ نہیں آتی بلکہ آپ خود لاتی ہیں.. .. .. ناجائز تبھی ہوتا ہے جب موقع دیا جاتا ہے ..
پھر اس ملک پر اللہ کا عذاب نہیں آئے گا تو اور کیا ہو گا. کیا یہ لوگ بھول گئے ہیں کہ ہم سب مسلمان بہن بھائی ہیں
 
04
 
کراچی: اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوان لڑکیوں سے دوستی کرکے انھیں نجی تصاویر اور فلموں کے ذریعے بلیک میل کرنے والے گروہ کا انکشاف ہوا ہے۔
ملزمان لڑکیوں کی تصاویر اور فلم بندی کیلیے ڈیفنس میں واقع فلیٹ میں لیجاتے تھے اور وہاں پہلے سے نصب کیمروں کے ذریعے ان کی تصاویر اور فلمیں بنالیتے تھے، بعدازاں لڑکیوں کو بلیک میل کرکے ان سے خطیر رقوم بٹوری جاتی تھیں، ایک غیرملکی کمپنی میں اعلیٰ عہدے پر تعینات لڑکی کی ماں کی درخواست پر ایف آئی اے نے ایک ملزم کو گرفتار اور بلیک میلنگ میں استعمال ہونے والا مواد قبضے میں لے لیا، ملزم کے دیگر ساتھیوں کی تلاش میں چھاپے مارنے کا سلسلہ جاری ہے۔
تفصیلات کے مطابق ایف آئی اے سائبر کرائم سرکل کو ڈیفنس کی رہائشی ایک خاتون کی جانب سے درخواست موصول ہوئی تھی جس میں بتایا گیا تھا کہ ایک نوجوان ان کی بیٹی کو ایک سال سے بلیک میل کرکے 50 لاکھ روپے سے زائد بٹور ہوچکا ہے، درخواست کے مطابق ان کی بیٹی اعلیٰ تعلیم یافتہ، کینڈین شہری اور ایک غیرملکی فرم میں اعلی عہدے پر کام کررہی ہے، انھوں نے بتایا کہ ایک نامعلوم شخص گذشتہ کچھ عرصے سے اس کے رابطے میں ہے اور اس کی متنازع تصاویر اور فلمیں انٹرنیٹ پر اپ لوڈ کرنے کی دھمکی دیکر اس سے اب تک خطیر رقم بٹور چکا ہے، ان کی بیٹی نے اپنی عزت بچانے کیلیے اب تک اس کے تمام مطالبات پورے کیے ہیں، وہ دو مرتبہ اس نوجوان کو گاڑی خرید کردے چکی ہے جبکہ متعدد مرتبہ قیمتی تحفے اور نقد رقوم لینے کے بعد بھی اس کے مطالبات بڑھتے جارہے ہیں اور اب وہ نئی گاڑی اور فلیٹ خرید کر دینے کی ڈیمانڈ کررہا ہے۔
ان کی بیٹی کی کچھ نجی تصویریں وہ انٹرنیٹ پر اپ لوڈ بھی کرچکا ہے، خاتون کی درخواست پر ایف آئی اے سائبر کرائم نے انٹرنیٹ سروس پروائیڈر کی مدد سے گلستان جوہر کے رہائشی تیس سالہ عامر بدر کو گرفتار کرلیا اور اس کے قبضے سے مذکورہ لڑکی کی تصاویر اور فلمیں بھی برآمد کرلی گئی ہیں، دوران تفتیش ملزم نے انکشاف کیا کہ وہ اور اس کے دوست آسودہ حال گھرانوں کی اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوان لڑکیوں سے دوستی کرکے انھیں اپنے جال میں پھنساتے ہیں۔
ذرائع نے بتایا کہ ملزم عامر بدر اور اس کے ساتھیوں نے اس سلسلے میں ڈیفنس میں ایک کرائے کا فلیٹ حاصل کررکھا ہے اور اس فلیٹ کے مختلف حصوں میں کیمرے نصب کررکھے ہیں، لڑکیوں کو ملاقات کے بہانے فلیٹ میں لیجا کر ان کی تصاویر اور فلمیں بنائی جاتی ہیں اور ان کی بنیاد پر لڑکیوں سے خطیر رقوم اور قیمتی تحفے حاصل کیے جاتے ہیں، ذرائع نے بتایا کہ درخواست گزار خاتون کی بیٹی نے ملزم کے مطالبات پورے کرنے کیلیے اپنی کمپنی کے اکائونٹ سے بھی خطیر رقم نکالی تھی تاہم اس کے والدین نے کمپنی کی رقم لوٹادی لیکن لڑکی کو اپنی ملازمت سے ہاتھ دھونا پڑا، ایف آئی اے حکام ملزم کے دیگر ساتھیوں کی تلاش میں چھاپے مار رہے ہیں۔

Saturday, 22 December 2012

برہام پور گنجم:::::ملّا:::::شہاب نامہ از قدرت اللہ شہاب

 
سنگلاخ پہاڑیوں اور خاردار جنگل میں گھرا ہوا ایک چھوٹا سا گاؤں تھا، جس میں مسلمانوں کے بیس پچیس گھر آباد تھے۔ ان کی معاشرت، ہندوانہ اثرات میں اس درجہ ڈوبی ہوئی تھی کہ رومیش علی، صفدر پانڈے، محمود مہنتی، کلثوم دیوی اور پر بھادئی جیسے نام رکھنے کا رواج عام تھا۔ گاؤں میں ایک نہایت مختصر کچی مسجد تھی جس کے دروازے پر اکثر تالا پڑا رہتا تھا جمعرات کی شام کو دروازے کے باہر ایک مٹی کا دیا جلایا جاتا تھا۔ ک...چھ لوگ نہا دھوکر آتے تھے اور مسجد کے تالے کو عقیدت سے چوم کر ہفتہ بھر کیلئے اپنے دینی فرائض سے سبکدوش ہوجاتے تھے۔

ہر دوسرے تیسرے مہینے ایک مولوی صاحب اس گاؤں میں آکر ایک دو روز کے لئے مسجد کو آباد کر جاتے تھے۔ اس دوران میں اگر کوئی شخص وفات پا گیا ہوتا، تو مولوی صاحب اس کی قبر پر جاکر فاتحہ پڑھتے تھے۔ نوزائیدہ بچوں کے کان میں اذان دیتے تھے۔ کوئی شادی طے ہوگئی ہوتی تو نکاح پڑھوا دیتے تھے۔ بیماروں کو تعویذ لکھ دیتے تھے اور اپنے اگلے دورے تک جانور ذبح کرنے کے لئے چند چھریوں پر تکبیر پڑھ جاتے تھے۔ اس طرح مولوی صاحب کی برکت سے گاؤں والوں کا دین اسلام کے ساتھ ایک کچا سا رشتہ بڑے مضبوط دھاگے کے ساتھ بندھا رہتا تھا۔

برہام پور گنجم کے اس گاؤں کو دیکھ کر زندگی میں پہلی بار میرے دل میں مسجد کے ملّا کی عظمت کا کچھ احساس پیدا ہوا۔ ایک زمانے میں ملّا اور مولوی کے القاب علم و فضل کی علامت ہوا کرتے تھے لیکن سرکار انگلشیہ کی عملداری میں جیسے جیسے ہماری تعلیم اور ثقافت پر مغربی اقدار کا رنگ و روغن چڑھتا گیا، اسی رفتار سے ملّا اور مولوی کا تقدس بھی پامال ہوتا گیا۔ رفتہ رفتہ نوبت بایں جارسید کہ یہ دونوں تعظیمی اور تکریمی الفاظ تضحیک و تحقیر کی ترکش کے تیر بن گئے۔ داڑھیوں والے ٹھوٹھ اور ناخواندہ لوگوں کو مذاق ہی مذاق میں ملّا کا لقب ملنے لگا۔ کالجوں ، یونیورسٹیوں اور دفتروں میں کوٹ پتلون پہنے بغیر دینی رجحان رکھنے والوں کو طنز و تشنیع کے طور پر مولوی کہا جاتا تھا۔ مسجدوں کے پیش اماموں پر جمعراتی ، شبراتی، عیدی، بقرعیدی اور فاتحہ درود پڑھ کر روٹیاں توڑنے والے قل اعوذئے ملّاؤں کی پھبتیاں کسی جانے لگیں۔ لُو سے جھلسی ہوئی گرم دوپہر میں خس کی ٹٹیاں لگا کر پنکھوں کے نیچے بیٹھنے والے یہ بھول گئے کہ محلے کی مسجد میں ظہر کی اذان ہر روز عین وقت پر اپنے آپ کس طرح ہوتی رہتی ہے؟ کڑکڑاتے ہوئے جاڑوں میں نرم و گرم لحافوں میں لپٹے ہوئے اجسام کو اس بات پر کبھی حیرت نہ ہوئی کہ اتنی صبح منہ اندھیرے اٹھ کر فجر کی اذان اس قدر پابندی سے کون دے جاتا ہے؟

دن ہو یا رات، آندھی ہو یا طوفان، امن ہو یا فساد، دور ہو یا نزدیک، ہر زمانے میں شہر شہر، گلی گلی ، قریہ قریہ، چھوٹی بڑی، کچی پکی مسجدیں اسی ایک ملّا کے دم سے آباد تھیں جو خیرات کے ٹکڑوں پر مدرسوں میں پڑا تھا اور دربدر کی ٹھوکریں کھا کر گھر بار سے دور کہیں اللہ کے کسی گھر میں سرچھپا کر بیٹھ رہا تھا۔ اس کی پشت پر نہ کوئی تنظیم تھی، نہ کوئی فنڈ تھا، نہ کوئی تحریک تھی۔ اپنوں کی بے اعتنائی، بیگانوں کی مخاصمت، ماحول کی بے حسی اور معاشرے کی کج ادائی کے باوجود اس نے نہ اپنی وضع قطع کو بدلا اور نہ اپنے لباس کی مخصوص وردی کو چھوڑا۔ اپنی استعداد اور دوسروں کی توفیق کے مطابق اس نے کہیں دین کی شمع ، کہیں دین کا شعلہ، کہیں دین کی چنگاری روشن رکھی۔ برہام پور گنجم کے گاؤں کی طرح جہاں دین کی چنگاری بھی گل ہوچکی تھی، ملّا نے اس کی راکھ ہی کو سمیٹ سمیٹ کر بادِ مخالف کے جھونکوں میں اڑ جانے سے محفوظ رکھا۔

یہ ملّا ہی کا فیض تھا کہ کہیں کام کے مسلمان، کہیں نام کے مسلمان، کہیں محض نصف نام کے مسلمان ثابت و سالم و برقرار رہے اور جب سیاسی میدان میں ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان آبادی کے اعداد و شمار کی جنگ ہوئی تو ان سب کا اندارج مردم شماری کے صحیح کالم میں موجود تھا۔ برصغیر کے مسلمان عموماً اور پاکستان کے مسلمان خصوصاً ملّا کے اس احسان عظیم سے کسی طرح سبکدوش نہیں ہوسکتے جس نے کسی نہ کسی طرح کسی نہ کسی حد تک ان کے تشخص کی بنیاد کو ہر دور اور ہر زمانے میں قائم رکھا۔

شہاب نامہ از قدرت اللہ شہاب
❤.✿.❤.✿.❤.✿.❤.✿.❤.✿.❤.✿.❤.✿.❤❤.✿.❤.✿.❤.✿.❤.✿.❤.✿

Saturday, 15 December 2012

جنت کی چابی -------- منتخب تحریر


 

تین نوجوان ملک سے باہر سیر کے لیئے گئے
اور وہاں ایک ایسی عمارت میں ٹھہرے جو 75 منزلہ ہے
 انکو کمرہ بھی سب سے اوپر والی منزل پر ملا
 ان کو عمارت کی انتظامیۃ باخبر کرتے ہویے کہتی ہے
 ہمارے یہاں کا نظام آپ کے ملک کے نظام سے تھوڑا مختلف ہے یھاں کے نظام کے مطابق رات کے 10 بجے کے بعد لفٹ کے دروازے بند کر دیے جاتے ہیں
 لھذا ہر صورت آپ کوشش کیجیے کے دس بجے سے پہلے آپ کی واپسی ممکن ہو
 کیونکہ اگر دروازے بند ہوجاییں تو کسی بھی کوشش کے باوجود لفٹ کھلوا نا ممکن نہ ہوگا
 پہلے دن وہ تینوں سیر و سیاحت کے لیے نکلتے ہیں مگر رات 10 بجے سے پہلے واپس لوٹ آتے ہیں
مگر
 دوسرے دن انہیں دیر ہوگئی اور 10:05 پر عمارت میں داخل ہوئے اب لفٹ کے دروازے بند ہو چکے تھے
 اب ان تینوں کو کوئی راہ نظر نہ آئی کیسے اپنے کمرے تک پہنچا جائے
 جبکہ کمرہ 75 ویں منزل پر ہے
 اب تینوں نے فیصلہ کیا کہ سیڑھیوں کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ نہیں ہے اس لیے اب سیڑھیوں کے ذریعے ہی جانا ہوگا ۔ لیکن اتنا لمبا رستہ طے کرتے کرتے ہم تھک جائیں گے اس لیے ہم باری باری قصے سنائیں گے تاکہ راستہ کا پتہ ہی نہ چلے
25 منزل تک پہلا ساتھی قصے سنائے گا پھر 25 منزل دوسرا اور پھر آخری 25 منزل تیسرا اس طرح ہمیں تھکاوٹ کا زیادہ احساس نہیں ہوگا اور راستہ بھی کٹ جایے گا

پہلے دوست نے کہا کہ میں تمہیں لطیفے اور مزاحیہ قصے سناتا ہوں
 اب تینوں ہنسی مزاق کرتے ہویے چلتے رہے
 جب 25 ویں منزل آگئی تو دوسرے ساتھی نے کہا کہ اب میں تمہیں قصے سناتا ہوں
 مگر میرے قصے سنجیدہ اور حقیقت ہونگیں
اب ۲۵ منزل تک وہ سنجیدہ اور حقیقی قصے سنتے ہویے چلتے رہے
 اب جب ۵۰ منزل تک پہنجے تو تیسرے ساتھی نے کہا کہ اب میں تم لوگوں کو کچھ غمگین اور دکھ بھرے قصے سناتا ہوں
اور
 غم بھرے قصے سنتے ہویے باقی منزل بھی طے کرتے رہے
 یھاں تک کے تینوں تھک تھک کر جب دروازے تک پہنچے
 تو ایک ساتھی نے کہا
 کہ میری زندگی کا سب سے بڑا غم بھرا قصہ یہ ہے کہ ہم
 کمرے کی چابی نیچے استقبالیہ پر ہی چھوڑ آیے ہیں
 یہ سن کر تینوں پر غشی طاری ہوگیی

مگر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
 رکیں
 ابھی میری بات مکمل نہیں ہوئی
 انسان کی اوسط عمر 60 سے 80 سال ہے ۔ بہت کم لوگ اس سے اوپر جاتے ہیں
اور ہم لوگ اپنی زندگی کے 25 سال ہنسی مزاق کھیل کود اور لہو لعب میں لگا جاتے ہیں
 پھر باقی کے 25 سال شادی ، بچے رزق کی تلاش ، نوکری جیسی سنجیدہ زندگی میں پھنسے رہتے ہیں
 اور جب اپنی زندگی کے 50 سال مکمل کر چکے ہوتے ہیں تو
 باقی زندگی کے آخری 25 سال بڑھاپے میں مشکلات کا سامنا ،بیماریاں ، بچوں کے غم اور ایسی ہی ہزار مصیبتوں کے ساتھ گزارتے ہیں
 یھاں تک کے جب موت کے دروازے پر پہنچتے ہیں تو ہمیں یاد آتا ہے
 کہ
چابی اصل کنجی تو ہم ساتھ لانا ہی بھول گیے
 اس جنت کی چابی
 جس کو ہم اپنی منزل سمجھتے ہویے یہ زندگی گزارتے رہتے ہیں
 اور پھر افسوس سے ہاتھ ملتے ہیں لیکن وہ افسوس کسی کام نہیں آتا
 تو کیوں نا ابھی سے جنت کی چابی حاصل کرنے کی کوشش کی جائے ، تاکہ منزل پر پہنچ کر پچھتاوا نہ ہو

ایک حقیقت ، اسلامی جمہوریہ پاکستان


Wednesday, 12 December 2012

ہے کوئی جو حلال کھاتا ہو.::: ایک ایمان افروز واقعہ

اچھرہ ،لاہور کے قریب ایک اسلامی قصبہ (جس زمانے کا یہ واقعہ ہے اس وقت اچھرہ کی آبادی لاہور سے بالکل الگ تھی اوربیچ میں لمبے فاصلے تک کھیت تھے )ہے ،کئی سال گذرے ،اس قصبہ کی جامع مسجد میں نماز مغرب پڑھی جارہی تھی کہ ایک نہایت ہی دبلاپتلامسافرآیااورشامل ِنماز ہوگیا،اگر چہ یہ مسافر محض ہڈیوں کا ڈھانچہ تھا ،تاہم اس کی صورت بااثر تھی ،نماز پڑھی گئی اورنمازی اپنے اپنے گھر چلے گئے ،تھوڑے عرصہ بعد ایک مقامی مسلمان کھانا لے کر داخل ِ مسجد ہوااوراس نووارد سے کہا: "آپ بھوکے ہوں گے ،میں کھانالایا ہوں ،براہ ِ کرم تناول فرمالیں ،آپ کی بڑی عنایت ہوگی"۔
مسافر نے جواب دیا: "لیکن معاف فرمائیے ،مجھے کچھ پرہیز ہے"۔
"حضرت آپ کچھ فکر نہ کیجئے ،یہ سادہ سی روٹی ہے،مرچ کم ہے اورگھی بھی بازاری نہیں ہے"۔مقامی مسلمان نے جواب دیا
"بھائی میرایہ مطلب نہیں ہے"۔مسافر نے کہا
"پھر کیا مطلب ہے"۔مقامی مسلمان نے پوچھا
مسافرچپ ہوگیا اورمقامی مسلمان اس کے چہرے کی طرف دیکھنے لگا،چند منٹ بعد مسافرنے زبان کھولی اورکہا:"امید ہے آپ مجھے معاف فرمائیں گے ،مجھے آپ سے کچھ بھی کہنے سننے کی ضرورت نہ تھی ، لیکن آپ کھانا لے کر آگئے تو مجبوراً مجھے عرض کرنا ضروری ہوگیا ہے،آپ جانتے ہیں کہ شریعت ِ اسلام میں طعام ِحلال ،نمازِ پنجگانہ ہی کی طرح فرض ہے،ایک روایت میں ہے کہ اگر کسی مسلمان کا لقمہ حلال نہ ہوتو اللہ کی بارگاہ میں اس کے نہ فرض قبول ہوتے ہیں اورنہ نفل ؛چونکہ اس انگریز ی راج میں حلال وحرام کی تمیز اٹھ چکی ہے ،اس واسطے میں جب تک پوری طرح جان پہچان نہیں کرلیتا ،میں کسی بھا ئی کو بھی کبھی کھانے کی تکلیف نہیں دیتا"۔
"حضرت!آپ نے یہ کیافرمایا’’،مقامی مسلمان نے کہنا شروع کیا:"معاذاللہ!میں حرام خور نہیں ہوں ،یہ چوری کامال نہیں ہے جو آپ کی خدمت میں پیش کیا گیا،میں یہاں منڈی میں آڑھتی ہوں اوربیوپار کرکے اپنی روزی کماتاہوں ،آپ اس کاوہم نہ کیجئے"۔
"تو پھر آپ کی تجارت کے کسی مرحلہ میں سود کالینا دینا نہیں ہوتا ؟"مسافر نے پوچھا۔
"میں یہ تو نہیں کہہ سکتا،کئی مواقع پر ہم کومنڈی سے قرض لینا پڑتاہےاورمقررہ شرح پر سود بھی دینا پڑتا ہے،اسی طرح تجارتی مال کے ہیرپھیر میں دوسرے سے بھی ہم سودوصول کرلیتے ہیں "۔مقامی مسلمان نے جواب دیا۔
"تو بہت اچھا ،میں معافی چاہتا ہوں کہ آپ کو تکلیف ہوئی ،احکام ِ قرآن کے مطابق وہ تجارتی منافع جس میں سود کی آمیز ش ہوحلال نہیں کہلاسکتا ،ممکن ہے آپ تجارتی رسوم یا حکومتی اصرار کے ماتحت مجبور ہوں ،لیکن میں مجبور نہیں ہوں ،بیشک آپ کو تکلیف ہوئی اورآپ کی دل شکنی بھی ہوئی ہوگی مگر آپ کے اسلامی اخلاق سے امید کرتاہوں آپ اس کے لئے مجھے معاف فرمادیں گے"۔
اس کے بعد مسافر نے مقامی مسلمان سے رخ پھیر لیا اورقبلے کی طرف منہ کرلیا،اور یادِ خدامیں مشغول ہوگیا ۔
مقامی مسلمان اس آخری جواب سے سخت مضطرب اورپریشان ہوا،اس نے نہایت ندامت سے برتن اٹھائے اور سر جھکا کر واپس چلاآیا اوربرتن گھر پہنچاکرہمسایہ کے ہاں پہنچااو ر اس سے کہاکہ مسجد میں ایک بزرگ مسافر آئے ہیں ،آپ اپنے ہاں سے کھانا لے کر جائیں اورکھلاآئیں ،یہ ہمسایہ مقامی ہسپتال میں ڈاکٹری کاکام کرتا تھا،ڈاکٹر صاحب نے کھانا اٹھایا اورمسجد میں جاپہنچے ،مسافرنے نہایت نرمی اورخوش خوئی کے ساتھ ڈاکٹر صاحب سے تعارف اورجان پہچان کی فرمائش کی،ڈاکٹر صاحب ذراباتونی بزرگ تھے ، انہوں نے کہانی سناناشروع کی اورفرمایا: "حضرت !مجھ پر اللہ تعالیٰ کا بڑا فضل ہے ،میری ایک سوروپیہ تنخواہ ہے،دوچار روپئے ہرروز اوپر سے بھی آجاتے ہیں ،بڑا لڑکا کچہری میں ملازم ہے،وہ ۷۵روپئے تنخواہ پاتا ہے،اوردوچارروپئے روزانہ وہ بھی لے آتا ہے،زمین بھی ہے،جہاں سے سال کاغلہ آجاتا ہے وغیر ہ وغیرہ"۔
ڈاکٹر صاحب کی کہانی ختم ہوئی تو مسافر نے انہیں نہایت ہی محبت اورشیرینی سے سمجھایا کہ اسلام ِ مقدس کی روسے رشوت ستانی کس قدر بڑا جرم ہےاور آخر میں اپنی معذوری ظاہر کرکے کھانا کھانے سے انکار کردیا،مسافر کی گفتگو اس قدر سنجیدہ اورباوقارتھی کہ ڈاکٹر صاحب نے بھی ان کے سامنے اپنی گردن خم کردی اوربڑی ندامت کے ساتھ کھانااٹھاکرگھر واپس چل دئے ،یہاں تاجر صاحب پہلے ہی ان کے منتظر تھے، یہ دونوں نہایت ہی درد وندامت کے ساتھ ایک دوسرے کو اپنی کہانی سنارہے تھے کہ دوچاراورنیک دل مسلمان وہاں جمع ہوگئے ،انھوں نے بھی یہ دونوں کہانیاں سنیں اورآناً فاناً یہ بات محلے میں عام ہو گئی ۔
ڈاکٹر صاحب اورتاجر صاحب نے مل کرعرض کیا کہ اب کسی زمیندار کے ہاں سے کھانا بھیجوانا چاہئے ، تاکہ اس پر سود یا رشوت کا الزام نہ آسکے ،چنانچہ اسی وقت ایک زمیندار کے ہاں سے کھانا بھجوایا گیا۔
مسافر نے ان سے پوچھا :"آپ کے پاس کوئی گروی زمین تونہیں ہے؟’’جب زمیندار صاحب نے اس کا اقرار کیا تو مسافر نے انہیں پھیر دیا اورکہاکہ جو شخص مسلمان ہو کر زمین گروی رکھتا ہے اس کی کمائی حرام سے خالی نہیں ہوسکتی،اس کے بعد ایک عالم صاحب کو بھیجا گیا، ان میں نقص پایا گیا کہ انھوں نے اپنی بہنوں اورلڑکیوں کو حکم ِ شریعت کے مطابق جائیدادمیں حصہ نہیں دیاتھا، اس واسطے مسافر نے ان کا کھانا بھی رَدکردیا اور فرمایا کہ آپ بہنوں اورلڑکیو ں کے حصۂ شرعی کے غاصب ہیں اورآپ کے ہرلقمے میں آدھے سے کم حرام شامل نہیں ہے ،نماز ِ مغرب سے یہ سلسلہ شروع ہوااور رات کے ۹/بج گئے ،متعدد مسلمان کھانا لے کرگئے مگر مسجد سے شرمندہ ونگوں سارہوکرواپس آئے ۔
مسافر کُلُوْا مِمَّا فِی الْاَرْضِ حَلٰلاً طَیِّباًکی کسوٹی لئے مسجد میں بیٹھا تھا اورہر ایک مسلمان کو جوکھانا لے کر جاتا تھا ،اسی قرآنی کسوٹی پر پر کھتا تھا اور شرمندہ کرکے باہر نکال دیتا تھا ،تمام آبادی میں شوربرپا ہوگیا،جابجایہی چرچا تھا،مسلمانوں کو بھوک اور نیند بھول گئی، گھروں میں ،بازاروں میں ،گلی کو چوں میں جہاں بھی چار آدمی بیٹھے تھے، یہی گفتگو اورذکر تھا، جب کسی جگہ ایک مسلمان دوسرے کو کہتا تھا کہ:"تم کھانا لے جاؤ تو وہ اسی وقت کانوں پر ہاتھ رکھ دیتا تھا، کوئی کہتا تھا کہ میں راشی ہوں ،کوئی کہتا تھا کہ میں سود خوار ہوں ،کوئی کہتا تھا کہ میں کم تولتا ہوں ،کوئی کہتا تھا کہ میں نے لڑکیوں کو حصہ نہیں دیا ،کوئی کہتا تھا کہ میرے لڑکوں کی آمدنی میں حرام شامل ہے،مختصر یہ کہ دلوں کے عیوب آج زبانوں پر آگئے تھے اوران کابرملااعلان ہورہاتھا،اگر چہ اچھرہ میں ہزار ہامسلمان آباد تھے ،مگر ایک شخص بھی اکل ِ حلال کا مدعی بن کرسامنے نہیں آتاتھا،بزرگان ِ قصبہ کی گرد نیں خم تھیں ،بااحساس مسلمان زمین میں غرق ہوئے جاتے تھے کہ آج ہزارہا مسلمانوں میں ایک شخص بھی نہیں ملتا جو ایک ایسے مہمان کو جواکل ِ حلال کا طالب تھا،ایک ہی وقت کا کھانا کھلاسکے ،رات کے دس بج گئے ،مگر کسی گھر سے کھانا نہ گیا،اب سوال یہ درپیش تھاکہ کیا یہ مسافر اچھرہ سے بھوکا چلا جائے گا؟کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے امتی حرام کھانے پر مصر ر ہیں گے ؟جوں جوں وقت گذرتاجاتاتھا دلوں کا اضطراب بڑھتاجاتاتھا ،یہاں تک کہ رات کے گیارہ بج گئے’’۔
آخر مجمع کے اندر امید کی کرن جلوہ گرہوئی،ایک شخص نے کہا:میں ابھی لڑکیوں کاحصہ دیتا ہوں اوراس نے دے دیا،دوسرے نے کہا:میں گروی زمین چھوڑتاہوں اوراس نے چھوڑدی،تیسرے شخص نے کہا: میں آج کے بعد کبھی سود نہ لوں گااوراس نے سود کاکاروبارترک کردیا،مختصر یہ کہ آن کی آن میں اچھرہ کے بیشمار مسلمانوں پر توبہ واستغفارکے دروازے کھل گئے،کسی نے رشوت چھوڑدی ،کسی نے جھوٹی گواہی کا پیشہ چھوڑدیا، کسی نے راگ رنگ سے توبہ کرلی،کسی نے یتیموں کا غصب شدہ مال واپس کردیا،اس کے بعد تائبین کی جماعت کھانا لے کر مسافر کے پاس آئی اور اُسے بتایا گیاکہ اچھرہ کے بیشمار مسلمان اب اللہ کی بارگاہ میں جھک گئے ہیں ، انھوں نے اپنی غلطیوں کو محسوس کرلیا ہے اور اب عملی اصلاح وتوبہ کے بعد آپ کے پاس آئے ہیں اوریہ کھانا پیش کرتے ہیں ۔
مسافر نے جب یہ واردات سنی تو سجدے میں گر گیا، اس کے بعد دستر خوان بچھایا گیاجس میں سے مسافر نے چند لقمے کھائے اور اس کے بعد لوگوں کورخصت کردیا۔
صبح کے وقت اچھرہ کے بیشمار مسلمان جوق درجوق مسجد میں آئے تاکہ باخدانسان کی زیارت کریں جس کے زہد ِبے ریاء نے اپنے صرف ایک ہی عمل سے اچھرہ کے آدھے مسلمانوں کو صحیح معنوں میں سچامسلمان بنادیا تھا،مگر وہ حیرت زدہ رہ گئے جب انہیں بتایاگیاکہ کہ مسافر تہجد کے بعد مسجد سے نکلاتھااور واپس نہیں آیا۔ ..... یہ ایک واقعہ ہے جس سے معلوم ہوسکتا ہے کہ اہل اللہ کس طرح خلق ِ خدا کی اصلاح کیاکرتے ہیں ؟
مسافر نے کوئی وعظ نہیں کیا ،کوئی چلہ نہیں کیا ،کوئی کتاب نہیں چھاپی ،کوئی درس وتدریس کا نصاب نہیں بنایا، وہ مغرب سے تہجد تک صرف چند گھنٹے اچھرہ کی جامع مسجد میں ٹھہرا ،مگر جب وہاں سے نکلاتو صد ہامسلمانوں کی اصلاح ہوچکی تھی ،بیشمار یتیموں کو اپنا حق مل چکاتھا،بے شمار لڑکیوں کو اپنا شرعی حصہ مل چکا تھا،بہت سے مقرو ضوں نے اپنا قرضہ وصول کرلیاتھا،بہت سے رشوت خوار رشوت ستانی سے باز آچکے تھے ، بہت سے جواری جو اچھوڑچکے تھے، یہ سب کہ سب لوگ تقریباًوہ تھے جن پر صد ہا مرتبہ قرآن پڑھاگیا، جنہیں بیسیوں مرتبہ وعظ سنائے گئے اورجن سے متعدد مرتبہ پنچایتوں نے جمع ہوہوکراہل ِ حق کے لئے حق کا مطالبہ کیا،مگر وہ ظلم وستم سے باز نہ آئے ، لیکن اب وہ ایک ہی رات میں اس طرح ازخود گناہوں سے تائب ہوگئے کہ گویا انھوں نے کبھی گناہ نہیں کیا تھا، پھر لطف یہ کہ یہ سار ا کام نماز ِ مغرب سے شروع ہوااور اسی رات گیارہ بجے ختم وہ گیا ۔..... ایسے ہی باعمل اورباخداانسان ہیں جن کی نگاہوں سے قوموں اورملکوں کی تقدیر یں بدل جاتی ہیں ، آؤ !

Sunday, 9 December 2012

شمشیر و سناں اول طاؤس و رباب آخر - راشد اشرف - 14-06-2009 09:01 PM

یہ 1973ء کی بات ہے۔ عربوں اور اسرائیل کے درمیان جنگ چھڑنے کو تھی۔ ایسے میں ایک امریکی سنیٹر ایک اہم کام کے سلسلے میں اسرائیل آیا۔ وہ اسلحہ کمیٹی کا سربراہ تھا۔ اسے فوراً اسرائیل کی وزیراعظم ”گولڈہ مائیر“ کے پاس لے جایا گیا۔ گولڈہ مائیر نے ایک گھریلو عورت کی مانند سنیٹر کا استقبال کیا اور اسے اپنے کچن میں لے گئی۔ یہاں اس نے امریکی سنیٹر کو ایک چھوٹی سی ڈائننگ ٹیبل کے پاس کرسی پر بٹھا کر چولہے پر چائے کے لئے پانی رکھ دیا اور خود بھی وہیں آ بیٹھی۔ اس کے ساتھ اس نے طیاروں، میزائلوں اور توپوں کا سودا شروع کر دیا۔ ابھی بھاؤ تاؤ جاری تھا کہ اسے چائے پکنے کی خوشبو آئی۔ وہ خاموشی سے اٹھی اور چائے دو پیالیوں میں انڈیلی۔ ایک پیالی سنیٹر کے سامنے رکھ دی اور دوسری گیٹ پر کھڑے امریکی گارڈ کو تھما دی۔ پھر دوبارہ میز پر آ بیٹھی اور امریکی سنیٹر سے محو کلام ہو گئی۔ چند لمحوں کی گفت و شنید اور بھاؤ تاؤ کے بعد شرائط طے پا گئیں۔ اس دوران گولڈہ مائیر اٹھی، پیالیاں سمیٹیں اور انہیں دھو کر واپس سنیٹر کی طرف پلٹی اور بولی ”مجھے یہ سودا منظور ہے۔ آپ تحریری معاہدے کے لئے اپنا سیکرٹری میرے سیکرٹری کے پاس بھجوا دیجئے۔ یاد رہے کہ اسرائیل اس وقت اقتصادی بحران کا شکار تھا، مگر گولڈہ مائیر نے کتنی ”سادگی“ سے اسرائیل کی تاریخ میں اسلحے کی خریداری کا اتنا بڑا سودا کر ڈالا۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ خود اسرائیلی کابینہ نے اس بھاری سودے کو رد کر دیا۔ اس کا موقف تھا، اس خریداری کے بعد اسرائیلی قوم کو برسوں تک دن میں ایک وقت کھانے پر اکتفا کرنا پڑے گا۔ گولڈہ مائیر نے ارکان کابینہ کا موقف سنا اور کہا : ”آپ کا خدشہ درست ہے، لیکن اگر ہم یہ جنگ جیت گئے اور ہم نے عربوں کو پسپائی پر مجبور کر دیا تو تاریخ ہمیں فاتح قرار دیگی اور جب تاریخ کسی قوم کو فاتح قرار دیتی ہے، تو وہ بھول جاتی ہے کہ جنگ کے دوران فاتح قوم نے کتنے انڈے کھائے تھے اور روزانہ کتنی بار کھانا کھایا تھا۔ اسکے دستر خوان پر شہد، مکھن، جیم تھا یا نہیں اور ان کے جوتوں میں کتنے سوراخ تھے یا ان کی تلواروں کے نیام پھٹے پرانے تھے۔ فاتح صرف فاتح ہوتا ہے۔“ گولڈہ مائیر کی دلیل میں وزن تھا، لہٰذا اسرائیلی کابینہ کو اس سودے کی منظوری دینا پڑی۔
 
 آنے والے وقت نے ثابت کر دیا کہ گولڈہ مائیر کا اقدام درست تھا اور پھر دنیا نے دیکھا، اسی اسلحے اور جہازوں سے یہودی عربوں کے دروازوں پر دستک دے رہے تھے۔ جنگ ہوئی اور عرب ایک بوڑھی عورت سے شرمناک شکست کھا گئے۔
 
 جنگ کے ایک عرصہ بعد واشنگٹن پوسٹ کے نمائندے نے گولڈہ مائیر کا انٹرویو لیا اور سوال کیا: ”امریکی اسلحہ خریدنے کے لئے آپ کے ذہن میں جو دلیل تھی، وہ فوراً آپ کے ذہن میں آئی تھی، یا پہلے سے حکمت عملی تیار کر رکھی تھی؟“ گولڈہ مائیر نے جو جواب دیا وہ چونکا دینے والا تھا۔
 
 وہ بولی :”میں نے یہ استدلال اپنے دشمنوں (مسلمانوں) کے نبی (محمد صلی اللہ علیہ وسلم) سے لیا تھا، میں جب طالبہ تھی تو مذاہب کا موازنہ میرا پسندیدہ موضوع تھا۔ انہی دنوں میں نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی سوانح حیات پڑھی۔ اس کتاب میں مصنف نے ایک جگہ لکھا تھا کہ جب محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہوا تو ان کے گھر میں اتنی رقم نہیں تھی کہ چراغ جلانے کے لئے تیل خریدا جا سکے، لہٰذا ان کی اہلیہ (حضرت عائشہ صدیقہ) نے ان کی زرہ بکتر رہن رکھ کر تیل خریدا، لیکن اس وقت بھی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے حجرے کی دیواروں پر نو تلواریں لٹک رہی تھیں۔ میں نے جب یہ واقعہ پڑھا تو میں نے سوچا کہ دنیا میں کتنے لوگ ہوں گے جو مسلمانوں کی پہلی ریاست کی کمزور اقتصادی حالت کے بارے میں جانتے ہوں گے لیکن مسلمان آدھی دنیا کے فاتح ہیں، یہ بات پوری دنیا جانتی ہے۔ لہٰذا میں نے فیصلہ کیا کہ اگر مجھے اور میری قوم کو برسوں بھوکا رہنا پڑے، پختہ مکانوں کی بجائے خیموں میں زندگی بسر کرنا پڑے، تو بھی اسلحہ خریدیں گے، خود کو مضبوط ثابت کریں گے اور فاتح کا اعزاز پائیں گے۔“ گولڈہ مائیر نے اس حقیقت سے تو پردہ اٹھایا، مگر ساتھ ہی انٹرویو نگار سے درخواست کی اسے ”آف دی ریکارڈ“ رکھا جائے اور شائع نہ کیا جائے۔
 
وجہ یہ تھی، مسلمانوں کے نبی کا نام لینے سے جہاں اس کی قوم اس کے خلاف ہو سکتی ہے، وہاں دنیا میں مسلمانوں کے موقف کو تقویت ملے گی۔ چنانچہ واشنگٹن پوسٹ کے نمائندے نے یہ واقعہ حذف کر دیا۔ وقت دھیرے دھیرے گزرتا رہا، یہاں تک کہ گولڈہ مائیر انتقال کر گئی اور وہ انٹرویو نگار بھی عملی صحافت سے الگ ہو گیا۔ اس دوران ایک اور نامہ نگار، امریکہ کے بیس بڑے نامہ نگاروں کے انٹرویو لینے میں مصروف تھا۔ اس سلسلے میں وہ اسی نامہ نگار کا انٹرویو لینے لگا جس نے واشنگٹن پوسٹ کے نمائندے کی حیثیت سے گولڈہ مائیر کا انٹرویو لیا تھا۔ اس انٹرویو میں اس نے گولڈہ مائیر کا واقعہ بیان کر دیا، جو سیرت نبوی محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے متعلق تھا
 
 اس نے کہا کہ اب یہ واقعہ بیان کرنے میں اسے کوئی شرمندگی محسوس نہیں ہو رہی ہے۔ گولڈہ مائیر کا انٹرویو کرنے والے نے مزید کہا: ”میں نے اس واقعے کے بعد جب تاریخ اسلام کا مطالعہ کیا، تو میں عرب بدوؤں کی جنگی حکمت عملیاں دیکھ کر حیران رہ گیا، کیونکہ مجھے معلوم ہوا کہ وہ طارق بن زیاد جس نے جبرالٹر (جبل الطارق) کے راستے اسپین فتح کیا تھا، اس کی فوج کے آدھے سے زیادہ مجاہدوں کے پاس پورا لباس نہیں تھا۔ وہ بہترّ بہترّ گھنٹے ایک چھاگل پانی اور سوکھی روٹی کے چند ٹکڑوں پر گزارا کرتے تھے۔ یہ وہ موقع تھا، جب گولڈہ مائیر کا انٹرویو نگار قائل ہو گیا کہ ”تاریخ فتوحات گنتی ہے، دستر خوان پر پڑے انڈے، جیم اور مکھن نہیں۔ “ گولڈہ مائیر کے انٹرویو نگار کا اپنا انٹرویو جب کتابی شکل میں شائع ہوا تو دنیا اس ساری داستان سے آگاہ ہوئی ۔
یہ حیرت انگیز واقعہ تاریخ کے دریچوں سے جھانک جھانک کر مسلمانان عالم کو جھنجھوڑ رہا ہے، بیداری کا درس دے رہا ہے، ہمیں سمجھا رہا ہے کہ ادھڑی عباؤں اور پھٹے جوتوں والے گلہ بان، *****ہ سو برس قبل کس طرح جہاں بان بن گئے؟ ان کی ننگی تلوار نے کس طرح چار براعظم فتح کر لئے؟
 
اگر پُرشکوہ محلات، عالی شان باغات، زرق برق لباس، ریشم و کمخواب سے آراستہ و پیراستہ آرام گاہیں، سونے، چاندی، ہیرے اور جواہرات سے بھری تجوریاں، خوش ذائقہ کھانوں کے انبار اور کھنکھناتے سکوں کی جھنکار ہمیں بچا سکتی تو تاتاریوں کی ٹڈی دل افواج بغداد کو روندتی ہوئی معتصم باللہ کے محل تک نہ پہنچتی۔ آہ! وہ تاریخ اسلام کا کتنا عبرت ناک منظر تھا جب معتصم باللہ، آہنی زنجیروں اور بیڑیوں میں جکڑا، چنگیز خان کے پوتے ہلاکو خان کے سامنے کھڑا تھا۔ کھانے کا وقت آیا تو ہلاکو خان نے خود سادہ برتن میں کھانا کھایا اور خلیفہ کے سامنے سونے کی طشتریوں میں ہیرے اور جواہرات رکھ دیئے۔ پھر معتصم سے کہا: ”جو سونا چاندی تم جمع کرتے تھے اسے کھاؤ!“ بغداد کا تاج دار بے چارگی و بے بسی و بے کسی کی تصویر بنا کھڑا تھا، بولا: ”میں سونا کیسے کھاؤں؟“ ہلاکو نے فوراً کہا: ”پھر تم نے یہ سونا و چاندی جمع کیوں کیا تھا؟“ وہ مسلمان جسے اس کا دین ہتھیار بنانے اور گھوڑے پالنے کی ترغیب دیتا تھا، کچھ جواب نہ دے سکا۔ ہلاکو خان نے نظریں گھما کر محل کی جالیاں اور مضبوط دروازے دیکھے اور سوال کیا: ”تم نے ان جالیوں کو پگھلا کر آہنی تیرکیوں نہ بنائے؟ تم نے یہ جواہرات جمع کرنے کے بجائے اپنے سپاہیوں کو رقم کیوں نہ دی، تاکہ وہ جانبازی اور دلیری سے میری افواج کا مقابلہ کرتے۔“ خلیفہ نے تاسف سے جواب دیا ”اللہ کی یہی مرضی تھی۔“ ہلاکو خان نے کڑک دار لہجے میں کہا: ”پھر جو تمہارے ساتھ ہونے والا ہے، وہ بھی خدا کی مرضی ہو گی۔“ پھر ہلاکو خان نے معتصم باللہ کو مخصوص لبادے میں لپیٹ کر گھوڑوں کی ٹاپوں تلے روند ڈالا، بغداد کو قبرستان بنا ڈالا۔ ہلاکو خان نے کہا : ”آج میں نے بغداد کو صفحہٴ ہستی سے مٹا ڈالا ہے اور اب دنیا کی کوئی طاقت اسے پہلے والا بغداد نہیں بنا سکتی۔“ تاریخ تو فتوحات گنتی ہے۔ محل، لباس، ہیرے، جواہرات لذیز کھانے اور زیورات نہیں۔ اقبال کا یہ شعر کس قدر برمحل ہے:
میں تجھ کو بتاتا ہوں تقدیر امم کیا ہے

Tuesday, 27 November 2012

کچھ پردیس کی باتاں

کچھ پردیس کی باتاں"
27-11-2012
از: راشد ادریس رانا "

کچھ خریداری کا ارادہ ہوا تو بھائی اور ایک دوست کو ساتھ لیکر لمبی واک کرتے ہوئے ایک قریبی شاپنگ مال جس کا نام دلما مال ہے وہاں چلے گئے، موسم بہت اچھا ہو رہا ہے آج کل ادھر ابوظہبی میں شام صبح بہت اچھی ہوا چلتی ہے.
کافی ٹائم شاپنگ مال میں ادھر ادھر گزار کر واپس نکلے تو کافی تھکاوٹ ہو گئی تھی، سوچا ٹیکسی ہی کر لی جائے. ٹیکسی میں بیٹھتے ہی ایک خوبصورت ہوا کے جھونکے نے میری رگ وجاں میں ٹھنڈک بھر دی لیکن:::::
ایک ہی لمحہ میں میرا دل کیا کہ میں آنکھیں بند کروں اور کھولوں تو پاکستان میں ہوں..................

جو مزہ اپنے وطن کی ہواوں کا ہے وہ کہیں کا نہیں ہو سکتا........... پتا نہیں سب کو ہی اپنے وطن سے پیار ہوتا ہو گا. بہت سے لوگ مجھ سے زیادہ پیار کرتے ہوں گے پاکستان کو اور یاد بھی کرتے ہوں گے لیکن.............

مجھے یوں لگتا ہے کہ میرا وجود میری ایک ایک پور جس مٹی سے تخلیق ہوئی ہے وہ مٹی صرف اور صرف پاکستان کی ہی ہے.
شاید اگر دنیا کی ہر خوشی اور آسائیش بھی میسر ہو تو بھی اپنے وطن کی بات ہی کچھ اور ہے............

مخملیں بستر پر لیٹ کر شاید نیند آ جاتی ہے ، ہر وقت اے سی کی ٹھنڈی ہوا جو کبھی گرمی کا احساس نہیں ہونے دیتی ہر سہولت اور ہر طرح کا تحفظ پر پھر بھی اپنے اندر ایک خلاء ایک ادھورا پن محسوس کرتا ہوں..............

اور مجھے پتا ہے وہ خلا اور ادھورا پن صرف اور صرف میرے سوہنے من موہنے دیس کی ہوا ہے...............

گلی کے نکڑ پر کھڑا ہونا، یا مری روڈ پر جا کر فٹ پاتھ پر بیٹھنا، یا پھر دامن کوہ کے راستے پر پہاڑکے کسی موڑ پر جا کر بیٹھ جانا..................... کافی غیر محفوظ ہیں لیکن پھر بھی ............................
اس میں اتنا سکون کیوں ہے................. کیوں کہ وہ میرا پیارا پاکستان ہی تو ہے................

پاکستان تجھے سلام............. پاکستان تو میری جان.................. پاکستان زندہ باد، پائیندہ باد
 

Friday, 23 November 2012

حضرت زبیر رضی اللہ عنہ

 
 
 
بارہ سال کا ایک بچہ ہاتھ میں تلوار پکڑے تیز تیز قدموں کے ساتھ ایک طرف لپکا جارہا تھا۔ دھوپ بھی خاصی تیز تھی، بستی میں سناٹا طاری تھا، یوں لگتا تھا جیسے اس بچے کو کسی کی پروا نہیں۔ لپکتے قدموں کا رخ بستی سے باہر کی طرف تھا، چہرہ غصے سے سرخ تھا، آنکھیں کسی کی تلاش میں دائیں بائیں گھوم رہی ہیں، اچانک ایک چٹان کے پیچھے سے ایک سایہ لپکا۔ بچے نے تلوار کو مضبوطی سے تھام لیا۔ آنے والا سامنے آیا تو بچے کا چہرہ خوشی سے کھل اُٹھا۔ ہاتھ میں تلوار اور چہرے پر حیرت اور مسرت کی جھلملاہٹ دیکھ کر آنے والے نے شفقت سے پوچھا:

" میرے پیارے بیٹے! ایسے وقت میں تم یہاں کیسے؟"

بچے نے جواب دیا : " آپ کی تلاش میں۔"
...

اس بچے کا نام زبیر تھا۔ باپ کا نام عوام اور ماں کا نام صفیہ رضی اللہ عنھا تھا۔ یہ بچہ رسول صلّی اللہ علیہ وسلّم کا پھوپی زاد بھائی تھا۔

قصہ یہ پیش آیا تھا کہ مکہ مکرمہ میں افواہ پھیلی کہ پیغمبر صلّی اللہ علیہ وسلّم کو کفار نے پہاڑوں میں پکڑلیا ہے۔ مکہ میں دشمن تو بہت زیادہ تھے، اس لیے ایسا ہوبھی سکتا تھا۔ حضرت زبیر رضی اللہ عنہ نے جن کی عمر بارہ سال تھی فوراً تلوار اٹھائی اور اکیلے ہی آپ صلّی اللہ علیہ وسلّم کی تلاش میں نکل کھڑے ہوئے۔ آخر آپ صلّی اللہ علیہ وسلّم مل گئے۔ پیارے نبی صلّی اللہ علیہ وسلّم نے اس حالت میں دیکھ کر حیرت سے پوچھا:

" اگر واقعی مجھے پکڑ لیا گیا ہوتا تو پھر تم کیا کرتے۔"

اس بارہ سالہ بچے نے جواب دیا:

" میں مکّہ میں اتنے قتل کرتا کہ ان کے خون کی ندیاں بہادیتا اور کسی کو زندہ نہ چھوڑتا۔"

پیارے نبی صلّی اللہ علیہ وسلّم یہ بات سن کر ہنس پڑے اور اس جرأت مندانہ انداز پر اپنی چادر مبارک انعام کے طور پر عطافرمائی۔
 
اللہ تعالٰی کو یہ ادا پسند آئی۔ جبرئیل( علیہ السلام) آسمان سے نازل ہوئے اور عرض کیا زبیر کو خوش خبری دے دیں کہ اب قیامت تک جتنے لوگ اللہ کے راستے میں تلوار اٹھائیں گے، ان کا ثواب زبیر کو بھی ملے گا۔

بہادری اور جرأت اللہ اور اس کے پیغمبر صلّی اللہ علیہ وسلّم کو بہت پسند اور محبوب ہے۔ خود رسول اللہ بھی بہادر تھے بہادری کو پسند فرماتے تھے اور بزدلی سستی کاہلی سے آپ صلّی اللہ علیہ وسلّم کو نفرت تھی۔ ہر مسلمان کو بہادر بننا چاہیے.

پاکستان کو مثبت سوچ کی ضرورت ہے.

منتخب و تدریسی تحریر
 
 
کہتے ہیں کہ ایک بار چین کے کسی حاکم نے ایک بڑی گزرگاہ کے بیچوں بیچ ایک چٹانی پتھر ایسے رکھوا دیا کہ گزرگاہ بند ہو کر رہ گئی۔ اپنے ایک پہریدار کو نزدیک ہی ایک درخت کے پیچھےچھپا کر بٹھا دیا تاکہ وہ آتے جاتے لوگوں کے ردِ عمل سُنے اور اُسے آگاہ کرے۔

اتفاق سے جس پہلے شخص کا وہاں سے گزر ہوا وہ شہر کا مشہور تاجر تھا جس نے بہت ہی نفرت اور حقارت سے سڑک کے بیچوں بیچ رکھی اس چٹان کو دیکھا، یہ جانے بغیر کہ یہ چٹان تو حاکم وقت نے ہی رکھوائی تھی اُس نے ہر اُس شخص کو بے نقط اور بے حساب باتیں سنائیں جو اس حرکت کا ذمہ دار ہو سکتا تھا۔ چٹان کے ارد گرد ایک دو چکر لگائے اور چیختے ڈھاڑتے ہوئے کہا کہ وہ ابھی جا کر اعلیٰ حکام سے اس حرکت کی شکایت کرے گا اور جو کوئی بھی اس حرکت کا ذمہ دار ہوگا اُسے سزا دلوائے بغیر آرام سے نہیں بیٹھے گا۔

اس کے بعد وہاں سے تعمیراتی کام کرنے والے ایک ٹھیکیدار کا گزر ہوا ۔ اُس کا ردِ عمل بھی اُس سے پہلے گزرنے والے تاجر سے مختلف تو نہیں تھا مگر اُس کی باتوں میں ویسی شدت اور گھن گرج نہیں تھی جیسی پہلے والا تاجر دکھا کر گیا تھا۔ آخر ان دونوں...
کی حیثیت اور مرتبے میں نمایاں فرق بھی توتھا!
 
اس کے بعد وہاں سے تین ایسے دوستوں کا گزر ہوا جو ابھی تک زندگی میں اپنی ذاتی پہچان نہیں بنا پائے تھے اور کام کاج کی تلاش میں نکلے ہوئے تھے۔ انہوں نے چٹان کے پاس رک کر سڑک کے بیچوں بیچ ایسی حرکت کرنے والے کو جاہل، بیہودہ اور گھٹیا انسان سے تشبیہ دی، قہقہے لگاتے اور ہنستے ہوئے اپنے گھروں کو چل دیئے۔

اس چٹان کو سڑک پر رکھے دو دن گزر گئے تھے کہ وہاں سے ایک مفلوک الحال اور غریب کسان کا گزر ہوا۔ کوئی شکوہ کیئے بغیر جو بات اُس کے دل میں آئی وہ وہاں سے گزرنے ولوں کی تکلیف کا احساس تھا اور وہ یہ چاہتا تھا کہ کسی طرح یہ پتھر وہاں سے ہٹا دیا جائے۔ اُس نے وہاں سے گزرنے والے راہگیروں کو دوسرے لوگوں کی مشکلات سے آگاہ کیا اور انہیں جمع ہو کر وہاں سے پتھر ہٹوانے کیلئے مدد کی درخواست کی۔ اور بہت سے لوگوں نے مل کر زور لگاکرچٹان نما پتھر وہاں سے ہٹا دیا۔ 
اور جیسے ہی یہ چٹان وہاں سے ہٹی تو نیچے سے ایک چھوٹا سا گڑھا کھود کر اُس میں رکھی ہوئی ایک صندوقچی نظر آئی جسے کسان نے کھول کر دیکھا تو اُس میں سونے کا ایک ٹکڑا اور خط رکھا تھا جس میں لکھا ہوا تھا کہ: حاکم وقت کی طرف سے اس چٹان کو سڑک کے درمیان سے ہٹانے والے شخص کے نام۔ جس کی مثبت اور عملی سوچ نے مسائل پر شکایت کرنے کی بجائے اُس کا حل نکالنا زیادہ بہتر جانا۔
کیا خیال ہے آپ بھی اپنے گردو نواح میں نظر دوڑا کر دیکھ لیں۔ کتنے ایسے مسائل ہیں جن کے حل ہم آسانی سے پیدا کر سکتے ہیں!

تو پھر کیا خیال ہے شکوہ و شکایتیں بند، اور شروع کریں ایسے مسائل کو حل کرنا؟

چھلہ کی لبدا پھرئے.

 
چھلہ کی لبدا پھرئے.

Monday, 19 November 2012

♥♥♥ فقط تمہارا ہوں ، تمہارا رہوں گا ♥♥♥

وفا کروں تو جفا ہے ملتی،
کہ قسمت میں اپنی وفا نہیں ہے،
میں سوچتا ہوں اکثر،
ملا ہے مجھ کو وہ جان الفت،
کہ قسمت پہ اپنی ہے رشک آتا،
 
مگر ہے مجھ سے خفا وہ بے حد،
کہ وہ ہے سمجھتا!!!!
مجھ میں تو جیسے وفا نہیں ہے،
میں کیسے بتلاوں،
میں کیسے کہہ دوں
کہ جان جاناں!!!!
 
یہ زندگی کی صبح ، یہ ساری شامیں
یہ موسموں کے رنگ، یہ سب ہوائیں
یہ تتلی، یہ جگنو، پھولوں کی خوشبو
تمہاری مسکان، اور تبسم
کہ میری خوشیاں تمہاری ادائیں
تم مجھ میں بستے ہو ، جان بن کر
کہ جیسے سانسوں کی ڈور ہو تم
تمہار ی ہر اک ادا پہ
مر مٹا ہوں ، فنا ہوا ہوں
میرے ہمدم،میرے ساجن ،میرے ساتھی،
میرے دل کے تو چور ہو تم

کہ جو بھی کہہ لو جو بھی سمجھ لو
مگر یہ بات ہے سب سے سچی
جب تم روٹھتی ہو تو لگتی ہو بچی
کہ بچے تو دل کے ہیں صاف ہوتے
کہ کل کے دکھوں کو وہ آج کے پل میں
نہیں سنجوتے ، نہیں پروتے
تم بھی مجھے سے خفا نا رہنا،
ہزار روٹھو، لاکھ روٹھو،
مگر میں تم کو منانا چاہوں،
تم کبھی بھی ضد نا کرنا،
بس میری جاں مان جانا، مسکرانا
کہ جہاں پہ بے حد ہے پیار ہوتا،
وہاں منانے اور روٹھنے کا
بہت مزہ ہے،
بس اک بات اپنے دل میں اتار لینا
میں جہاں بھی جاوں ، جہاں بھی جاوں
فقط تمہارا ہوں ، تمہارا رہوں گا،
فقط تمہارا ہوں ، تمہارا رہوں گا،

Dedicated to : Jan-e-Rashid

Monday, 12 November 2012

میں گھر کب جاوں گا. Dedicated to Overseas

 

ایک پردیسی کی کہانی !
_____________________

پیارے ابو جان اور امی جان
مجھے آج ملک سے باہر پانچ سال ہو گئے اور میں اگلے ماہ اپنے وطن واپسی کا ارادہ کر رہا ہوں، میں نے اپنے ویزا کے لیے جو قرض لیا تھا وہ ادا کر چکا ہوں اور کچھ اخراجات پچھلی چھٹی پر ہو گئے تھے۔ تحفے تحائف لینے میں اور کچھ دیگر اخراجات۔ اب میرے پاس کوئی بڑی رقم موجود نہیں لیکن میری صحت ابھی ٹھیک ہے اور میں خود کو اس قابل سمجھتا ہوں کہ پاکستان جا کر کوئی بھی اچھی نوکری کر سکوں اور گھر کے اخراجات چلا سکوں۔ یہ جگہ مجھے پسند نہیں ہے میں اپنے گھر رہنا چاہتا ہوں۔ آپ کی کیا رائے ہے اس بارے میں
آپکا پیارا – جمال


پیارے بیٹے جمال
تمھارا خط ملا اور ہمیں تمھاری چھٹی کے بارے میں پڑھ کر خوشی ہوئی۔باقی تمھاری امی کہہ رہی تھی کہ گھر کی حالت بہت خراب ہو رہی ہے اور تم جانتے ہو برسات شروع ہونے والی ہے۔ یہ گھر رہنے کے قابل نہیں ہے۔ گھر چونکہ پرانی اینٹوں اورلکڑیوں سے بنا ہے اس لیے اس کی مرمت پر کافی خرچ آئے گا۔ ہم سوچ رہے ہیں کہ کنکریٹ اور سیمینٹ سے بنا ہوا گھر ہو تو بہت اچھا ہو۔ ایک اچھا اور نیا گھر وقت کی ضرورت ہے۔ تم جانتے ہو یہاں کے کیا حالات ہیں اگر تم یہاں آ کر کام کرو گے تو اپنی محدود سی کمائی سے گھر کیسے بنا پاؤ گے۔ خیر گھر کا ذکر تو ویسے ہی کر دیا آگے جیسے تمھاری مرضی۔
تمھاری پیاری امی اور ابو۔


پیارے ابو جان اور امی جان
میں حساب لگا رہاتھا آج مجھے پردیس میں دس سال ہو چکے ہیں۔ اب میں اکثر تھکا تھکا رہتا ہوں، گھر کی بہت یاد آتی ہے اور اس ریگستان میں کوئی ساتھی نہیں ہے۔ میں سوچ رہا ہوں اگلے ماہ ملازمت چھوڑ کر ہمیشہ کے لیے گھر آجاؤں۔ دس سال کے عرصے میں الحمدللہ ہمارا پکا گھر بن چکا ہے اور جو ہمارے اوپر جو قرضے تھے وہ بھی میں اتار چکا ہوں۔ اب چاہتا ہوں کہ اپنے وطن آ کر رہنے لگ جاؤں۔ اب پہلے والی ہمت تو نہیں رہی لیکن پھر بھی کچھ نہ کچھ کر کے ، ٹیکسی چلا کے گھر کا خرچ چلا لوں گا۔ اس ریگستان سے میرا جی بھر گیا ہے۔ اب اپنے بچوں کے ساتھ رہنا چاہتا ہوں۔ آپ کی کیا رائے ہے۔
آپکا پیارا – جمال


پیارے بیٹے جمال
تمھارا خط ملا اور ہم پچھتا رہے ہیں اس وقت کو جب ہم نے تمھیں باہر جانے دیا، تم ہمارے لیے اپنے لڑکپن سے ہی کام کرنے لگ گئے۔ ایک چھوٹی سے بات کہنی تھی بیٹا۔ تمھاری بہنا زینب اب بڑی ہو گئی ہے ، اس کی عمر ۲۰ سے اوپر ہو گئی۔ اس کی شادی کے لیے کچھ سوچا ، کوئی بچت کر رکھی ہے اس لیے کہ نہیں۔ بیٹا ہماری تو اب یہی خواہش ہے کہ زینب کی شادی ہو جائے اور ہم اطمینان سے مر سکیں۔ بیٹا ناراض مت ہونا ، ہم تم پر کوئی بوجھ نہیں ڈالنا چاہتے۔
تمھاری پیاری امی اور ابو۔


پیارے ابو جان اور امی جانآج مجھے پردیس میں چودہ سال ہو گئے۔ یہاں کوئی اپنا نہیں ہے۔ دن رات گدھے کی طرح کام کر کے میں بیزار ہو چکا ہوں، کمھار کا گدھا جب دن بھر کام کرتا رہتا ہے تو رات کو گھر لا کر اس کا مالک اس کے آگے پٹھے ڈال دیتا ہے اور اسے پانی بھی پلاتا ہے پر میرے لیے تو وہ بھی کوئی نہیں کرتا، کھانا پینا بھی مجھے خود ہی کرنا پڑتا ہے۔ بس اب میں ویزا ختم کروا کر واپس آنے کا سوچ رہا ہوں۔ پچھلے کچھ سالوں میں اللہ کی مدد سے ہم زندگی کی بیشتر آزمائشوں سے نکلنے میں کامیاب ہوگئے۔ زینب بہنا کی شادی ہو چکی ہے اور اب وہ اپنے گھر میں سکھی ہے۔ اس کے سسرال والوں کو خوش رکھنے کے لیے میں اکثر تحفے تحائف بھی بھیج دیتا ہوں۔ اللہ کے کرم سے آپ لوگوں کو میں نے حج بھی کروا دیا اور کوئی قرضہ بھی باقی نہیں ہے۔ بس کچھ بیمار رہنے لگا ہوں، بی پی بڑھا ہوا ہے اور شوگر بھی ہو گئی ہے لیکن جب گھرآؤں گا، گھر کے پرسکون ماحول میں رہوں گا اور گھرکا کھانا کھاؤں گا تو انشاء اللہ اچھا ہو جاؤں گا اور ویسے بھی اگر یہاں مزید رہا تو میری تنخواہ تو دوائی دارو میں چلی جائے گی وہاں آ کر کسی حکیم سے سستی دوائی لے کر کام چلا لوں گا۔ اب بھی مجھ میں اتنی سکت ہے کہ کوئی ہلکا کام جیسے پرائیویٹ گاڑی چلانا کر لوں گا۔
آپکا پیارا – جمال


پیارے بیٹے جمالبیٹا ہم تمھارا خط پڑھ کر کافی دیر روتے رہے۔ اب تم پردیس مت رہنا لیکن تمھاری بیوی زہرہ نے کچھ کہنا تھا تم سے ، اسکی بات بھی سن لو۔
(بیوی ) پیارے جمال
میں نے کبھی آپکو کسی کام کے لیے مجبور نہیں کیا اور کسی چیز کے لیے کبھی ضد نہیں کی لیکن اب مجبوری میں کچھ کہنا پڑ رہا ہے مجھے۔ آپکے بھائی جلال کی شادی کے بعد آپ کے والدین تو مکمل طور پر ہمیں بھول چکے ہیں ان کا تمام پیار نئی نویلی دلہن کے لیے ہے ، میں نے تو یہ بھی سنا ہے کہ وہ آبائی گھر جلال کو دینے کا سوچ رہے ہیں۔ ذرا سوچیے اگر آپ یہاں آ گئے اور مستقبل میں کبھی اس بات پر جھگڑا ہو گیا تو ہم اپنے چھوٹے چھوٹے بچے لے کر کہاں جائیں گے۔ اپنا گھر ہر انسان کی بنیادی ضرورت ہے۔ آپ کو پتہ ہے سیمنٹ سریہ کی قیمتیں کتنی ہیں؟ مزدوروں کی دیہاڑی آسمان سے باتیں کر رہی ہے۔ یہاں رہ کر ہم کبھی بھی اپنا گھر نہیں بنا سکیں گے۔ لیکن میں آپ کو پریشان نہیں کرنا چاہتی۔ آپ خود سوچ سمجھ کر فیصلہ کریں۔
آپکی پیاری ۔ زہرہ


پیاری شریک حیات زہرہانیسواں سال چل رہا ہےپردیس میں، اور بیسواں بھی جلد ہی ہو جائے گا۔ اللہ کے فضل سے ہمارا نیا علیحدہ گھر مکمل ہو چکا ہے۔ اور گھرمیں آج کے دور کی تمام آسائشیں بھی لگ چکی ہیں۔ اب تمام قرضوں کے بوجھ سے کمر سیدھی ہو چکی ہے میری ، اب میرے پاس ریٹائرمنٹ فنڈ کے سوا کچھ نہیں بچا، میری نوکری کی مدت بھی اب ختم ہو گئی ہے۔ اس ماہ کے اختتام پر کمپنی میرا ریٹائرمنٹ فنڈ جو کہ ۲۵۰۰ ہزار درہم ہے جاری کردے گی۔ اتنے لمبے عرصے اپنے گھر والوں سے دور رہنے کے بعد میں بھول ہی گیا ہوں کہ گھر میں رہنا کیسا ہوتا ہے۔بہت سے عزیز دنیا سے کوچ کر چکے ہیں اور بہت سوں کی شکل تک مجھے بھول گئی۔ لیکن میں مطمئن ہوں ، اللہ کے کرم ہے کہ میں گھر والوں کو اچھی زندگی مہیا کر سکا اور اپنوں کے کام آسکا۔ اب بالوں میں چاندی اتر آئی ہے اور طبیعت بھی کچھ اچھی نہیں رہتی۔ ہر ہفتہ ڈیڑھ بعد ڈاکٹر کے پاس جانا پڑتا ہے۔ اب میں واپس آکر اپنوں میں رہوں گا۔ اپنی پیاری شریک حیات اور عزیز از جان بچوں کے سامنے۔
تمھارا شریک سفر – جمال

پیارے جمالآپ کے آنے کا سن کر میں بہت خوش ہوں۔ چاہے پردیس میں کچھ لمبا قیام ہی ہو گیا لیکن یہ اچھی خبر ہے ۔ مجھے تو آپکے آنے پر کوئی اعتراض نہیں لیکن بڑا بیٹا احمد ہے نا، وہ ضد کر رہا ہے کہ یونیورسٹی آف لاہور میں ہی داخلہ لے گا۔ میرٹ تو اس کا بنا نہیں مگر سیلف فنانس سے داخلہ مل ہی جائے گا۔ کہتا ہے کہ جن کے ابو باہر ہوتے ہیں سب یونیورسٹی آف لاہور میں ہی داخلہ لیتے ہیں۔ پہلے سال چار لاکھ فیس ہے اور اگلے تین سال میں ہر سال تین تین لاکھ۔ اور ہم نے پتہ کروایا ہے تو یونیورسٹی والے انسٹالمنٹ میں فیس بھرنے پر راضی ہو گئے ہیں۔ اس ماہ کی ۳۰ تک فیس کی پہلی قسط بھرنی پڑے گی،
آپکے جواب کی منتطر ، آپکی پیاری ۔ زہرہ
________

اس نے بیٹے کی پڑھائی کے لیے ساری رقم بھیج دی۔ بیٹی کی شادی کے لیے جہیز اور دیگر اخراجات بھیجے۔ مگر اب ستائیس سال ہو چکے تھے۔ وہ خود کو ائر پورٹ کی طرف گھسیٹ رہا تھا۔ شوگر، بلڈ پریشر، السر ،گردے و کمر کا درد اورجھریوں والا سیاہ چہرا اس کی کمائی تھا۔ اسے اچانک اپنی جیب میں کسی چیز کی موجودگی کا احساس ہوا۔ اس نے جیب میں ہاتھ ڈال کر دیکھا تو وہ ایک ان کھلا خط تھا۔
یہ وہ پہلا خط تھا جو اس نے اپنی پردیس کی زندگی میں نہیں کھولا ۔

Wednesday, 7 November 2012

◘◘◘ کھوٹے سکے ◘◘◘

 


بغداد میں ایک نانبائی تھا ، وہ بہت اچھے نان کلچے لگاتا تھا اور دور دور سے دنیا اس کے گرم گرم نان خریدنے کے لیے آتی تھی ۔ کچھ لوگ بعض اوقات اسے کھوٹا سکہ دے کر چلے جاتے جیسے یہاں ہمارے ہاں بھی ہوتے ہیں ۔ وہ نانبائی کھوٹا سکہ لینے کے بعد اسے جانچنے اور آنچنے کے بعد اسے اپنے " گلے" ( پیسوں والی صندوقچی ) میں ڈال لیتا تھا ۔ کبھی واپس نہیں کرتا تھا اور کسی کو آواز دے کر نہیں کہتا تھا کہ تم نے مجھے کھوٹا سکہ دیا ہے ۔ بے ایمان آدمی ہو وغیرہ وغیرہ اس بلکہ محبت سے وہ سکہ بھی رکھ لیتا تھا ۔ جب اس نانبائی کا آخری وقت آیا تو اس نے پکار کر اللہ سے کہا ( دیکھئیے یہ بھی دعا کا ایک انداز ہے ) "اے اللہ تو اچھی طرح سے جانتا ہے کہ میں تیرے بندوں سے کھوٹے سکے لے کر انہیں اعلیٰ درجے کے خوشبو دار گرم گرم صحت مند نان دیتا رہا اور وہ لے کر جاتے رہے ۔ آج میں تیرے پاس جھوٹی اور کھوٹی عبادت لے کر آرہا ہوں ، وہ اس طرح سے نہیں جیسی تو چاہت ہے ۔ میری تجھ سے یہ درخواست ہے کہ جس طرح سے میں نے تیری مخلوق کو معاف کیا تو بھی مجھے معاف کر دے ۔ میرے پاس اصل عبادت نہیں ہے "۔

بزرگ بیان کرتے ہیں کہ کسی نے اس کو خواب میں دیکھا تو وہ اونچے مقام پر فائز تھا اور اللہ نے اس کے ساتھ وہ سلوک کیا جس کا وہ متمنی تھا ۔


اشفاق احمد زاویہ 2 ھاٹ لائن صفحہ 97

Saturday, 3 November 2012

ہمیشہ گلاس کو نیچے رکھیں ــ منتخب تحریرـــ

 


ایک پروفیسر نے اپنی کلاس کا آغاز کرتے ہوئے ایک گلاس اٹھایا جس کے اندر کچھ پانی موجود تھا - اس نے وہ گلاس بلند کر دیا تا کہ تمام طلبہ اسے دیکھ لیں پھر اس نے طالب علموں سے سوال کیا " تمھارے خیال میں اس گلاس کا وزن کیا ہوگا ؟ "
" پچاس گرام ! "
" سو گرام ! "
" ایک سو پچیس گرام "
لڑکے اپنے اپنے اندازے سے جواب دینے لگے -
" میں خود صحیح وزن نہیں بتا سکتا جب تک کہ میں اس کا وزن نہ کر لوں ! "
پروفیسر نے کہا ! " مگر میرا سوال یہ ہے کہ کیا ہوگا اگر میں اس گلاس کو چند منٹوں کے لئے اسی طرح اٹھائے رہوں ؟"
کچھ نہیں ہوگا ! تمام طالب علموں نے جواب دیا -

ٹھیک ہے اب یہ بتاؤ کہ اگر میں اس گلاس کو ایک گھنٹے تک یونہی اٹھائے رہوں تو پھر کیا ہوگا ؟
آپ کے بازو میں درد شروع ہو جائے گا -
تم نے بلکل ٹھیک کہا - پروفیسر نے تائیدی لہجے میں کہا -

اب یہ بتاؤ کہ اس گلاس کو میں دن بھر اسی طرح تھامے رہوں تو کیا ہوگا ؟
آپ کا بازو سن ہو سکتا ہے ایک طالب علم نے کہا
آپ کا پٹھا اکڑ سکتا ہے دوسرے نے کہا
آپ پر فالج کا حملہ ہو سکتا ہے
لیکن آپ کو اسپتال تو لازمی جانا پڑیگا ایک طالب علم نے جملہ کسا اور پوری کلاس قہقہے لگانے لگی -

بہت اچھا ! پروفیسر نے برا نہ مناتے ہوئے کہا -
لیکن اس تمام دوران میں کیا گلاس کا وزن تبدیل ہوا ؟
نہیں - طالب علموں نے جواب دیا -

تو پھر بازو میں درد اور پٹھا اکڑنے کا سبب کیا تھا ؟
طالب علم چکرا گئے -
گلاس نیچے رکھ دیں - ایک طالب علم نے کہا -
بلکل صحیح .............! پروفیسر نے کہا " ہماری زندگی کے مسائل بھی کچھ اسی قسم کے ہوتے ہیں آپ انھیں اپنے ذہن پر چند منٹ سوار رکھیں تو وہ ٹھیک ٹھاک لگتے ہیں - انھیں زیادہ دیر تک سوچتے رہیں تو وہ سر کا درد بن جائیں گے
انھیں اور زیادہ دیر تک تھامے رہیں تو وہ آپ کو فالج زدہ کر دیں گے آپ کچھ کرنے کے قابل نہیں رہیں گے -

اپنی زندگی کے چیلنجز کے بارے میں سوچنا یقینن اہمیت رکھتا ہے لیکن ...................
" اس سے کہیں زیادہ اہم ہر دن کے اختمام پر سونے سے پہلے انھیں ذہن پر سے اتار دینا ہے - اس طریقے سے آپ کسی قسم کے ذہنی تناؤ میں مبتلا نہیں رہیں گے - ہر روزصبح آپ تر و تازہ اور اپنی پوری توانائی کے ساتھ بیدار ہونگے اور اپنی راہ میں آنے والے کسی بھی ایشو کسی بھی چیلنج کو آسانی سے ہینڈل کر سکیں گے لہٰذا گلاس کو نیچے رکھنا یاد رکھیں "

Thursday, 1 November 2012

ہم محسنوں کو نہیں بھولتے

 
=================

 وہ دو تھیں‘ ایک میکسیکو میں پیدا ہوئی، دوسری جرمنی کے شہر لائزگ میں۔
ایک نن تھی اوردوسری ڈاکٹر۔ سسٹربیرنس کا تعلق میکسیکو سے تھا جب کہ ڈاکٹر روتھ فائو جرمنی کی رہنے والی تھی‘ یہ دونوں انسانیت کی خدمت کرنا چاہتی تھیں۔ ڈاکٹر روتھ نے 1958ء میں پاکستان میں کوڑھ (جزام) کے مریضوں کے بارے میں ایک فلم دیکھی‘ کوڑھ اچھوت مرض ہے جس میں مریض کا جسم گلنا شروع ہو جاتا ہے‘ جسم میں...
پیپ پڑجاتی ہے اور اس کے ساتھ ہی انسان کا گوشت ٹوٹ ٹوٹ کر نیچے گرنے لگتا ہے‘ کوڑھی کے جسم سے شدید بو بھی آتی ہے‘ کوڑھی اپنے اعضاء کو بچانے کے لیے ہاتھوں‘ ٹانگوں اور منہ کو کپڑے کی بڑی بڑی پٹیوں میں لپیٹ کر رکھتے ہیں‘ یہ مرض لا علاج سمجھا جاتا تھا چنانچہ جس انسان کو کوڑھ لاحق ہو جاتا تھا اسے شہر سے باہر پھینک دیا جاتا تھا اور وہ ویرانوں میں سسک سسک کر دم توڑ دیتا تھا۔
پاکستان میں 1960ء تک کوڑھ کے ہزاروں مریض موجود تھے‘ یہ مرض تیزی سے پھیل بھی رہا تھا‘ ملک کے مختلف مخیرحضرات نے کوڑھیوں کے لیے شہروں سے باہر رہائش گاہیں تعمیر کرا دی تھیں‘ یہ رہائش گاہیں کوڑھی احاطے کہلاتی تھیں‘ لوگ آنکھ‘ منہ اور ناک لپیٹ کر ان احاطوں کے قریب سے گزرتے تھے‘ لوگ مریضوں کے لیے کھانا دیواروں کے باہر سے اندر پھینک دیتے تھے اور یہ بیچارے مٹی اورکیچڑ میں لتھڑی ہوئی روٹیاں جھاڑ کر کھا لیتے تھے‘ ملک کے قریباً تمام شہروں میں کوڑھی احاطے تھے‘ پاکستان میں کوڑھ کو ناقابل علاج سمجھا جاتا تھا چنانچہ کوڑھ یا جزام کے شکار مریض کے پاس دو آپشن ہوتے تھے‘ یہ سسک کر جان دے دے یا خود کشی کر لے۔
 
ڈاکٹر روتھ فائو اس وقت تیس سال کی جوان خاتون تھی‘ یہ انتہائی جاذب نظر اور توانائی سے بھر پور عورت تھی اور یہ یورپ کے شاندار ترین ملک جرمنی کی شہری بھی تھی‘ زندگی کی خوبصورتیاں اس کے راستے میں بکھری ہوئی تھیں لیکن اس نے اس وقت ایک عجیب فیصلہ کیا‘ ڈاکٹر روتھ جرمنی سے کراچی آئی اور اس نے پاکستان میں کوڑھ کے مرض کے خلاف جہاد شروع کر دیا اور یہ اس کے بعد واپس نہیں گئی‘ اس نے پاکستان کے کوڑھیوں کے لیے اپنا ملک‘ اپنی جوانی‘ اپنا خاندان اور اپنی زندگی تیاگ دی‘ ڈاکٹر روتھ نے کراچی ریلوے اسٹیشن کے پیچھے میکلوڈ روڈ پر چھوٹا سا سینٹر بنایا اور کوڑھیوں کا علاج شروع کر دیا‘ کوڑھ کے مریضوں اور ان کے لواحقین نے اس فرشتہ صفت خاتون کو حیرت سے دیکھا کیونکہ اس وقت تک کوڑھ کو اﷲ کا عذاب سمجھا جاتا تھا‘ لوگوں کا
خیال تھا یہ گناہوں اور جرائم کی سزا ہے۔
 
چنانچہ لوگ ان مریضوں کو گناہوں کی سزا بھگتنے کے لیے تنہا چھوڑ دیتے تھے‘ ڈاکٹر روتھ اور سسٹر بیرنس کے لیے پہلا چیلنج اس تصور کا خاتمہ تھا‘ انھیں بیماری کو بیماری ثابت کرنے میں بہت وقت لگ گیا اور اس کے بعد مریضوں کے علاج کا سلسلہ شروع ہوا‘ ڈاکٹر روتھ اپنے ہاتھوں سے ان کوڑھیوں کو دوا بھی کھلاتی تھی اور ان کی مرہم پٹی بھی کرتی تھی جن کو ان کے سگے بھی چھوڑ گئے تھے۔ ڈاکٹر روتھ کا جذبہ نیک اور نیت صاف تھی چنانچہ اﷲ تعالیٰ نے اس کے ہاتھ میں شفا دے دی‘ یہ مریضوں کا علاج کرتی اور کوڑھیوں کا کوڑھ ختم ہو جاتا‘ اس دوران ڈاکٹر آئی کے گل نے بھی انھیں جوائن کر لیا‘ ان دونوں نے کراچی میں 1963ء میں میری لپریسی سینٹر بنایا اور مریضوں کی خدمت شروع کردی‘ ان دونوں نے پاکستانی ڈاکٹروں‘ سوشل ورکرز اور پیرامیڈیکل اسٹاف کی ٹریننگ کا آغاز بھی کر دیا ۔
 
یوں یہ سینٹر 1965ء تک اسپتال کی شکل اختیار کر گیا‘ ڈاکٹر روتھ نے جزام کے خلاف آگاہی کے لیے سوشل ایکشن پروگرام شروع کیا‘ ڈاکٹر کے دوستوں نے چندہ دیا لیکن اس کے باوجود ستر لاکھ روپے کم ہو گئے‘ ڈاکٹر روتھ واپس جرمنی گئی اور جھولی پھیلا کر کھڑی ہو گئی‘ جرمنی کے شہریوں نے ستر لاکھ روپے دے دیے اور یوں پاکستان میں جزام کے خلاف انقلاب آ گیا۔ ڈاکٹر روتھ پاکستان میںجزام کے سینٹر بناتی چلی گئی یہاں تک کہ ان سینٹر کی تعداد 156 تک پہنچ گئی‘ ڈاکٹر نے اس دوران 60 ہزار سے زائد مریضوں کو زندگی دی۔
 
یہ لوگ نہ صرف کوڑھ کے مرض سے صحت یاب ہو گئے بلکہ یہ لوگ عام انسانوں کی طرح زندگی بھی گزارنے لگے۔ ڈاکٹر روتھ کی کوششوں سے سندھ‘ پنجاب‘ خیبرپختونخوا اور بلوچستان سے جزام ختم ہو گیا اور عالمی ادارہ صحت نے 1996ء میں پاکستان کو ’’لپریسی کنٹرولڈ‘‘ ملک قرار دے دیا‘ پاکستان ایشیاء کا پہلا ملک تھا جس میں جزام کنٹرول ہوا تھا‘ یہ لوگ اب قبائلی علاقے اور ہزارہ میں جزام کا پیچھا کر رہے ہیں اور ان کا خیال ہے اگلے چند برسوں میں پاکستان سے جزام کے جراثیم تک ختم ہو جائیں گے۔
 
حکومت ڈاکٹر روتھ فائو کی خدمات سے واقف ہے چنانچہ حکومت نے 1988ء میں ڈاکٹر روتھ کو پاکستان کی شہریت دے دی‘ اسے ہلال پاکستان‘ ستارہ قائداعظم‘ ہلال امتیاز اور جناح ایوارڈ بھی دیا گیا اور نشان قائداعظم سے بھی نوازا گیا۔ آغا خان یونیورسٹی نے ڈاکٹر روتھ فائو کو ڈاکٹر آف سائنس کا ایوارڈ بھی دیا۔ جرمنی کی حکومت نے بھی اسے آرڈر آف میرٹ سے نوازا۔ یہ تمام اعزازات‘ یہ تمام ایوارڈ بہت شاندار ہیں لیکن یہ فرشتہ صفت خاتون اس سے کہیں زیادہ ’’ڈیزرو‘‘ کرتی ہے‘ جوانی میں اپنا وہ وطن چھوڑ دینا جہاں آباد ہونے کے لیے تیسری دنیا کے لاکھوں لوگ جان کی بازی لگا دیتے ہیں اور اس ملک میں آ جانا جہاں نظریات اور عادات کی بنیاد پر اختلاف نہیں کیا جاتا بلکہ انسانوں کو مذہب اور عقیدت کی بنیاد پر اچھا یا برا سمجھا جاتا ہے‘ جس میں لوگ خود کو زیادہ اچھا مسلمان ثابت کرنے کے لیے دوسروں کو بلا خوف کافر قرار دے دیتے ہیں۔
 
جس میں لوگ آج بھی کینسر کا علاج پھونکوں‘ شوگر کا علاج پانی اور نفسیاتی عارضوں کا علاج عاملوں کے ڈنڈوں سے کرتے ہیں اور جس میں ہم بغیر کسی وجہ کے ہر گورے کے خلاف ہیں اور ہم سیم باسیل جیسے بیمار ذہنیت کے لوگوں کی حرکتوں کی سزا پاکستانی چرچوں‘ پاکستانی اے ٹی ایم مشینوں‘ پاکستانی پٹرول پمپوں اور پاکستانی گاڑیوں کو دیتے ہیں
 

 میری خواہش ہے ہماری وفاقی اور صوبائی حکومتیں ڈاکٹر روتھ کا پروفائل چھوٹے بچوں کے سلیبس میں شامل کر لیں‘ یہ وفاقی دارالحکومت اور صوبائی دارالحکومتوں میں مرکزی جگہوں پر ڈاکٹر روتھ کی یادگار بھی بنوائیں‘ ڈاکٹر روتھ کی تصویر کنندہ کی جائے‘ اس کے ساتھ اس کا پروفائل تحریر کیاجائے اور عوام اور اسکولوں کے بچوں کو تحریک دی جائے یہ ڈاکٹر روتھ کی یادگار پر آئیں اور یہاں موم بتی جلا کر پاکستان کی اس محسنہ کا شکریہ ادا کریں۔ ہمارا سی ڈی اے پہلا قدم اٹھا سکتا ہے‘ یہ شاہراہ دستور یا بلیو ایریا کے کسی نمایاں مقام پر ڈاکٹر روتھ کی یادگار بنا دے‘ ڈاکٹر صاحبہ شائد اس وقت تک زندہ ہیں آپ انھیں بلوا کر اس یاد گار کا افتتاح کروائیں اور ہمارا میڈیا انھیں سراہے تا کہ جرمنی سمیت یورپ اور امریکا کے لوگوں کو علم ہو سکے ہم جہاں سیم باسیل جیسے شیطانوں کی مذمت کرتے ہیں ہم وہاں ڈاکٹر روتھ جیسی فرشتہ صفت خواتین کی عظمت کا احترام بھی کرتے ہیں‘ ہم انھیں اپنے دل اور دماغ دونوں میں جگہ بھی دیتے ہیں اور‘ اور ‘ اور ہم احسان فراموش نہیں ہیں‘ ہم اپنے محسنوں کوکبھی نہیں بھولتے۔
از جاوید چودھری زیرو پوائینٹ۔ Javed Chaudhry
کالم 14 اکتوبر 2012 ایکسپریس اخبار

Wednesday, 31 October 2012

سبحان اللہ، سبحان اللہ






♦♦ اُسی ایک شخص کے پیار میں ♦♦

مجھے سارے رنج قبول ہیں
اُسی ایک شخص کے پیار میں
مری زیست کے کسی موڑ پر
 جو مجھے ملا تھا بہار میں
وہی اک امید ہے آخری
 اسی ایک شمع سے روشنی
کوئی اور اس کے سوا نہیں,
 میری خواہشوں کے دیار میں
وہ یہ جانتے تھے کہ آسمانوں
کے فیصلے ہیں کچھ اور ہی
سو ستارے دیکھ کے ہنس پڑے
مجھے تیری بانہوں کے ہار میں
یہ تو صرف سوچ کا فرق ہے
 یہ تو صرف بخت کی بات ہے
کوئی فاصلہ تو نہیں
تیری جیت میں میری ہار میں
ذرا دیکھ شہر کی رونقوں سے
پرے بھی کوئی جہان ہے
کسی شام کوئی دیا جلا
کسی دل جلے کے مزار میں
کسی چیز میں کوئی ذائقہ
کوئی لطف باقی نہیں رہا
نہ تیری طلب کے گداز میں
نہ میرے ہنر کے وقار میں

♥♥♥ میری آنکھوں کے سمندر میں ♥♥♥

میری آنکھوں کے سمندر میں جلن کیسی ہے
آج پھر دل کو تڑپنے کی لگن کیسی ہے


اب کسی چھت پے چراغوں کی قطاریں بھی نہیں
اب تیرے شہر کی گلیوں میں گھٹن کیسی ہے


برف کے روپ میں ڈھل جائینگے سارے رشتے
مجھ سے پوچھو کے محبت کی اگن کیسی ہے


میں تیرے وصل کی خواہش کو نا مرنے دونگا
موسم ہجر کی لہجے میں تھکن کیسی ہے


راہگزاروں میں جو بنتی رہی کانٹوں کی ردا
اسکی مجبور سی آنکھوں میں کرن کیسی ہے


مجھے معصوم سی لڑکی پے ترس آتا ہے
اسے دیکھو تو محبت میں مگن کیسی ہے

Friday, 26 October 2012

اک شخص سارے شہر کو ویران کر گیا: انتقال پر ملال محترمہ عنیقہ ناز

جناب محترم خرم شہزاد خرم کی چند سطروں نے جیسے ایک پہاڑ میرے سر پر رکھ دیا ہو. آج یہاں یو اے ای میں عید ہے اور کافی دنوں سے میں مصروفیت کی وجہ سے بلاگ کو زیادہ ٹائم نہیں دے پایا. لیکن اس تحریر نے کہ محترمہ عنیقہ ناز اس دار فانی سے کوچ فرما گیئں ہیں. آنکھوں میں نمی اور دل پر منوں بوجھ ڈال دیا. اور بس ایک ہی بات ذہن میں بار بار آتی جا رہی ہے کہ یہ کیا ہوگیا.
اللہ ان کو اپنے جوار رحمت میں جگہ عطاء فرمائے.إِنَّا لِلّهِ وَإِنَّـا إِلَيْهِ رَاجِعونَ
 

Saturday, 20 October 2012

صانکی یدم Sanki Yedim Camii



صانکی یدم (مسجد یہ چیز تو میں نے کھائی ہوئی ہے)
 
 مساجد کے ناموں میں ایک نام (مسجد یہ چیز تو میں نے کھائی ہوئی ہے) بہت ہی حیرت سے سنا جائے گا۔ مسجد یہ چیز تو میں کھائی ہوئی ہے اصل میں ترکی لفظ Sanki Yedim Camii کا اردو ترجمہ ہے۔ یہ مسجد ترکی کے مشہور شہر استنبول کے ایک محلے فاتح میں واقع ہے۔ اور اس کی وجہ تسمیہ کے پیچھے ایک بہت ہی سبق آموز قصہ ہے۔
مشہور عراقی مفکر اسلامی اور مؤلف اورخان محمد علی (1937-2010) نے اپنی شہرہ آفاق کتاب (روائع من التاریخ العثمانی) میں اس مسجد کے بارے میں تفصیل سے ذکر کیا ہے۔ لکھتے ہیں:
...
استنبول شہر کے ایک محلے فاتح میں ایک غریب مگر مخلص اور دردمند دل رکھنے والا شخص خیرالدین آفندی رہتا تھا۔ خیرالدین آفندی کا جب بھی بازار سے گزر ہوتا اور اسے کوئی کھانے کی چیز اچھی لگتی یا کبھی پھل، گوشت یا پھر کسی مٹھائی وغیرہ کے کھانے کا دل کرتا تو وہ اپنے آپ کو کہتا صانکی یدم، یعنی یہ چیز تو میری کھائی ہوئی ہے یا اس کا مطلب یہ بھی بنتا ہے کہ فرض کیا یہ چیز میری کھائی ہوئی ہے، اور اس کے ساتھ ہی وہ اس چیز کو کھانے پر خرچ ہونے والے پیسوں کو علیحدہ کرتا اور گھر جا کر ایک صندوقچی میں ڈال دیتا۔
مہینوں اور سالوں تک یہ شخص اپنے آپ کو دنیا کی لذت سے محروم رکھ کر پیسے اکٹھے کرتا رہا اور یہ تھوڑے تھوڑے پیسے اس صندوقچی کو بھرتے چلے گئے۔ حتیٰ کہ بیس سال کے بعد وہ دن آن ہی پہنچا جب خیرالدین آفندی کے پاس اتنے پیسے جمع ہو چکے تھے کہ وہ ان سے اپنے محلے میں ایک مسجد تعمیر کر سکتا تھا۔ محلے میں مسجد کی تعمیر ہونے پر جب اہل محلہ کو اس غریب مگر اپنے مقصد کیلئے اس قدر خلوص نیت کے ساتھ جدوجہد کرنے والے شخص کا قصہ معلوم ہوا تو انہوں نے اس مسجد کا نام ہی صانکی یدم رکھ دیا۔
حاصل موضوع:
=========
ہم لوگوں کو اپنا ذہن اور اپنی سوچ تبدیل کرنے کی ضرورت ہے کہ ہمارے پاس کسی رفاہی کام میں دینے کیلئے زیادہ پیسے ہوتے نہیں اور تھوڑے دیتے ہوئے ہم ندامت اور خجالت محسوس کرتے ہیں۔ نتیجہ کے طور پر ہم کچھ بھی نہیں کر پاتے۔
گھروں میں نعمتوں کی بھرمار ہوتی ہے، سبزیاں اور پھل فریج میں رکھے رکھے باسی اور خراب ہو رہے ہوتے ہیں مگر وافر سامان خریدتے ہوئے ہمارے منہ سے کبھی بھی یہ فقرہ نہیں نکلتا کہ یہ چیزیں تو ہم نے کھائی ہوئی ہیں تاکہ بچ جانے والے وہ پیسے ہم کسی مستحق کو ہی دیدیں

Monday, 8 October 2012

"لعنت ہو مجھ پر اگر پاکستان آکر بھی مجھے لائین میں لگنا پڑئے"

وہ جانے کونسا دور تھا اور کونسا سن تھا لیکن میں نے کہیں پڑھا تھا کہ

دجلہ اور فراط کے کنارے جس وقت مسلمان باقاعدہ جمع ہو کر مناظرے کرنے میں مصروف تھے عین اسی وقت آکسفورڈ یونیورسٹی کی بنیادیں رکھی جا رہی تھیں۔ بس یہی وجہ ہے کہ وہ مسلمان جن کا ہر شعبہ زندگانی میں طوطی بولا کرتا تھا وہ ہر شعبہ میں ہی ذلت شکار ہوتے جا رہےہیں اور آکسفورڈ یونیورسٹی سے نا جانے کتنے لوگ صاحب علم و ہنر ہو کر بری ہوئے۔



خیر اسی بات پر بحث کرتے ہوئے ایک قریبی رفیق نے ایک آپ بیتی واقعہ سنایا جو کچھ یوں تھا۔


مختصر چھٹیاں اپنے بچوں کے ساتھ گزار کر اور کینیڈا کے میٹھے سرد موسم کے مزے لیکر جب میں واپسی کے لیئے ائیرپورٹ پہنچا تو بہت خوش گوار موڈ میں تھا، جو فلائٹ ملی اس کو یو اے ای یعنی ابو ظہبی سے ہو کر جانا تھا۔

اس پر سونے پہ سہاگہ والا کام یہ ہوا کہ ساوتھ افریقہ سے ایک فلائٹ کا کنیکش بھی اسی فلائیٹ کے ساتھ تھا، یعنی وہاں سے آنے والے بھی ہمارے ہمسفر تھے۔ خیر بہت نظم و ضبط کا مظاہرہ کرتے ہوئے ہم سب قدم بہ قدم اور لمحہ بہ لمحہ جہاز تک پہنچے اور اپنی اپنی سیٹوں پر براجمان ہو گئے۔ سفر بہت تہذیب و شائستگی سے گزرا ، بہت مزہ آیا ، آخر کار پہلا پڑاو ابو ظہبی میں پڑا ، جہاں پر کچھ گھنٹوں کا آرام تھا ، آخرکو تھکاوٹ بھی تو کم کرنی تھی۔ یہاں پر بھی ہر چیز بہت نظم و ضبط اور شائیستگی سے انجام پائی۔

اس سارے سفر میں میرے ساتھ ایک خاتون بھی تھیں جو کہ خالص پاکستانی تھیں اور ساوتھ افریقہ یا شاید اس سے بھی آگے کسی جگہ سے وطن واپس لوٹ رہی تھیں۔ خیر پہلے پڑاو کے اختتام پر دوبارہ اسلام آباد کے لیئے روانگی ہوئی ، تو ایک بار پھر ایسا نظم اور شائستگی کے دل خوش ہو گیا۔ ایسا سکون تھا جیسے انسان اپنے گھر میں گھوم رہا ہو اور کہیں آ رہا ہو یا جا رہا ہو۔

اب جناب اللہ اللہ کر کے سفر اختتام پذیر ہوا اور جہاز نے فضائے ارض مقدس کی خوشبودار چاہت بھری ہواوں میں ایک دو قلابے بھرے اور ٹائروں نے اسلام آباد انٹرنیشنل ائیر پورٹ کو چھوا۔

بس یہ وہ لمحات تھے جنہوں نے سارے سکون کا بیڑا غرق کر دیا، سارا نظم و ضبط دھرا کا دھرا رہ گیا، شائستگی یوں ہوا ہوئی کہ جیسے کبھی تھی ہی نہیں۔ وہ لوگ جن کے انگریزی بولنے کے سٹائل سے میں آغاز سفرسے ہی بہت مرعوب تھا ان کے لہجے جانے کہاں سے کہاں چلے گئے۔
یوں لگا جیسے اچانک سفید لبادے پھاڑ کر اندر سے جنات باہر آ گئے ہوں۔ ابھی جہاز پوری طرح اترا بھی نا تھا کہ ٹک ٹک ٹک کی آوازوں نے پورے جہاز کے اندرونی منظر کو چکا چوند کر دیا، اور سب لوگ یوں کھڑے ہوئے جیسے عام طور پر ولیمے کی روٹی کھلنے کے اعلان کے ساتھ  مہمان تیاریاں پکڑتے ہیں ۔ سامان کو نا صرف دبوچا گیا بلکہ حسب توفیق اور حسب ضرورت دائیں بائیں اور آگے آنے والوں کے منہ پر، سر پر کمر میں یا پھر ٹانگوں پر یوں مارا گیا جیسے کہ جنگ کا طبل بجایا جا رہا ہو۔

اب اگلہ مرحلہ جو کے کچھ کشتی اور ہاتھا پائی  سے ملتا جلتا تھا وہ تھا جہاز سے اتر کر بسوں تک جانے کا ، جس میں سب نے اپنی اپنی کوششوں سے پورا حصہ لیا۔ بسوں سے اترتے ہی امیگریشن کا مرحلہ تھا جو کہ اس فلائیٹ سے پہلے آنے والی دو تین بدیشی فلائیٹوں کے باعث پہلے ہی زور زبردستی کا شکار تھا۔ ہر کاونٹر پر اتنی لمبی لائین تھی جتنا کاونٹر پر بیٹھے ہوئے لوگوں کو اطمینان, کیوں کہ ان کے برقی ہاتھ بغیر برق کے ہی رواں دواں تھے۔

یہ سب کچھ دیکھ کر ایک عجیب سا احساس ہو رہا تھا ، خود پر یقین تھا نا اس منظر پر یقین کہ اب سے کچھ گھنٹے پہلے کے لوگ اور ان کا نظم و نسق کہا گم ہو گیا۔ یوں لگا جیسے پاکستان میدان حشر ہے اور اس میں آتے ہی ہر انسان نفسا نفسی کا شکار ہو گیا ہو۔

حیرت کا پہاڑ اس وقت ریزہ ریزہ ہوا جب ان خاتون جن کا میں پہلے ذکر کر چکا ہوں ۔ انہوں نے آکر قطار میں کھڑئے ہوئے لوگوں سے آگے نکلنے کی کوشش شروع کر دی، مجھے سے پہلے کھڑئے ہوئے صاحب نے بہت نرمی سے کہا، آنٹی آپ میرے نمبر پر آ کر لائن میں لگ جائیں میں پیچھے ہو جاتا ہوں۔

جس پر ان خاتون نے ناک سکیڑا ، بھنویں اوپر چڑھائیں اور تنک کر بولیں،

"لعنت ہو مجھ پر اگر پاکستان آکر بھی مجھے لائین میں لگنا پڑئے"


ان کے اس جملے کو سنتے ہی مجھے احساس ہوا کہ واقعی ہی، یہی وجہ ہے کہ آج ہم لوگ اتنے پیچھے ہیں، اتنے زیادہ کہ شاید ہم سے صرف ایک ، دو نسل پہلے پتھر کا دورہی ہوتا ہوگا۔ کیوں کہ تعلیم اور تمدن ہونے کے با وجود ہم تو بنیادی اخلاقیات سے بہت ہی دور ہیں۔