Tuesday, 29 May 2012

لکڑی کا بیل”””””بچپن کی یادیں””””””

لکڑی کا بیل 

اپنی ننھی سی انگلی سے اس نے بٹن آن کیا۔ بیٹری والی کار چلنے لگی۔جہاں رکاوٹ ہوتی، کار ذرا سا رُک کر، واپس ہوتی اور پھر کسی دوسرے رخ چل پڑتی۔ اب وہ اس شور مچاتی کار کو روکنا چاہتا تھا لیکن اس سے بٹن آف نہیں ہو رہا تھا۔ وہ اسے پکڑ کر میرے پاس لے آیا اور اس زبان میں جسے صرف وہ سمجھتا تھا اور فرشتے، مجھے بند کرنے کےلئے کہا اور میں نے بیٹری کا بٹن آف کر د یا۔

لیکن ڈیڑھ سالہ پوتے کے ساتھ کھیلتے ہوئے میں کہیں اور جا پہنچا تھا۔ مجھے لکڑی کا بیل یاد آ رہا تھا۔ لکڑی کا وہ بیل جو مجھے میرے نانا اور ماموں نے بنوا کر دیا تھا اور جو میرے ننھیالی گاﺅں بکھوال کے ترکھان نے بنایا تھا۔ میں اپنے نانا نانی کا پہلا نواسہ تھا۔اس وقت ان کا پوتا بھی نہیں پیدا ہوا تھا۔ میں وی آئی پی تھا اور وی آئی پی کی پہلی نشانی یہ ہوتی تھی کہ گاﺅں کے ترکھان سے، جسے سرکھجانے کی فرصت نہیں ہوتی تھی ،  خصوصی طور پر لکڑی کا بیل بنوایا جاتا تھا۔ بیل کے پیچھے ننھا سا چھکڑا تھا۔ نیچے پہیے لگے ہوئے تھے۔ آگے رسی تھی اور میں اسے صحن بھر میں بھگاتا پھرتا تھا۔

ستائیس سال کے بعد میرا بیٹا پیدا ہوا تو میں اسلام آباد میں تھا اور سول سروس میں تھا۔ کھلونوں کے ڈھیر لگ گئے لیکن میری سوئی وہیں اٹکی ہوئی تھی۔ گاﺅں ماموں کو خط لکھا کہ اسرار کےلئے لکڑی کا بیل بنوا کر بھیجیں۔ کہنے لگے یار، وہ ترکھان مر کھپ گئے۔ آج کل بیل کون بنواتا ہے۔ میں نے ضد کی۔ میں بیٹے کو اس عیاشی سے محروم نہیں رکھنا چاہتا تھا ۔چنانچہ لکڑی کا بیل بن کر آیا اور اسرار اس سے کھیلا۔

اسرار کے ڈیڑھ سالہ بیٹے نے اپنی کار کی بیٹری مجھ سے بند کروائی تو مجھے پہلے تو لکڑی کا بیل یاد آیا اور پھر اسکے بعد بہت کچھ اور یاد آیا اور یاد آتا چلا گیا۔ اسکے پاس وہ سارے کھلونے ہیں جو کسی بچے کے پاس ہو سکتے ہیں۔ اسکی دادی‘ چاچوں، پھپھیوں‘ مامے، اور اسکے چین نژاد نانا اور نانی کے دیئے ہوئے کھلونوں سے اس کا کمرہ بھرا پڑا ہے اور چھلک رہا ہے لیکن مجھے اس پر ترس آ رہا ہے۔ پاکستان میں اس کا ضدی، روایت پرست دادا، کسی نہ کسی طرح لکڑی کا بیل بنوا لیتا لیکن یہ تو میلبورن ہے۔ ترکھان ڈھونڈوں تو کیسے ڈھونڈوں اور کہاں سے ڈھونڈوں؟

لکڑی کا بیل تو صرف ایک لگژری ہے جس سے یہ بچہ محروم ہے۔ عیاشی اور تفریح کا ایک جہان ہے جسے یہ نہیں حاصل کر سکتا اور جس میں اس کا خوش قسمت دادا خوشیوں کے ہلکورے لیتا رہا۔ رات کو دودھ والی چاٹی میں نانی یا دادی تنور کی روٹی کا ایک بڑا سا ٹکڑا ڈال دیتی تھیں۔ صبح یہ نرم ہو چکا ہوتا تھا اور مٹی کے بڑے سے پیالے میں دہی کے ساتھ ملتا تھا اور مزے لے لے کر کھایا جاتا تھا ۔ پھر تھوڑی دیر کے بعد چینی ملا میٹھا ادھ رِڑکا دیا جاتا تھا۔ روٹی پر مکھن کا بڑا سا پیڑا ہوتا تھا۔ ساتھ شکر ہوتی تھی اور لسی اور یہ گاﺅں کی اپر کلاس کا کھانا تھا! رات کی بچی ہوئی کھیر، مٹی کی پلیٹ میں جو ٹھنڈک بھرا ذائقہ دیتی تھی، اسکے بعد کہیں نہیں ملا۔

سہ پہر کو ٹوکری میں چنے یا مکئی کے دانے ڈال کر بھٹیارن کے پاس جا کر بھنواتے تھے۔ یہ SNACKS آج میرے پوتے کے نصیب میں کہاں! کوئی فاسٹ فوڈ، کوئی چاکلیٹ، بھٹیارن کے بھُنے ہوئے دانوں کا نعم البدل نہیں ہو سکتا۔ دوپہر کو جب دادی سوئی ہوتی تھیں تو چھپر میں گھڑونجی کے نیچے، ٹھنڈی گیلی ریت پر پڑی، کڑھے ہوئے دودھ سے بھری دیگچی میں سے بالائی اتار کر کھانے کا کیا لطف تھا اور چونکہ یہ واردات چوری کی ہوتی تھی اس لئے اس کا لطف دوبالا ہو جاتا تھا۔

کیا آج میں اپنے پوتے اور نوا سی کو قائل کر سکتا ہوں کہ اس وقت ریفریجریٹر کا نام و نشان نہ تھا۔ جو گوشت پکنے سے بچ جاتا تھا اسے محفوظ رکھنے کی ایک ہی صورت تھی کہ صحن کے درمیان میں کپڑے سکھانے والی تار کے ساتھ باندھ کر لٹکا دیا جاتا۔ تار کے عین نیچے چارپائی پر کوئی نہ کوئی سو رہا ہوتا پھر بھی مہم جو بلی رات کے کسی حصے میں ضرور اس لٹکتے گوشت پر حملہ کرتی۔ کسی کی آنکھ کھل جاتی تو شور برپا ہو جاتا اور ایک ہنگامہ مچ جاتا!

لاﺅنج، ڈرائنگ روم اور بیڈ روموں میں قید، ان بچوں کو کیسے بتایا جائے کہ عصر کے بعد، جب سائے خوب ڈھل جاتے تو بڑے بڑے صحنوں میں صفائی کے بعد پانی کا چھڑکاﺅ ہوتا۔ چارپائیاں باہر نکالی جاتیں، ان پر گدے (تلائیاں) اور گدوں پر چھیبی ہوئی چادریں بچھائی جاتیں۔ ساتھ کڑھے ہوئے غلافوں والے تکیے ہوتے۔ ان بستروں پر لیٹ کر، اچھل کر اور قلابازیاں کھا کر کتنا لطف آتا۔ دوسرے صحن میں بکریوں کےلئے بیری کی کٹی ہوئی جھاڑیاں پڑی ہوتیں جو اسی شام باہر سے چرواہے نے لا کر رکھی ہوتیں۔ ان جھاڑیوں سے میٹھے بیر چن چن کر کھانے میں کیا مزا تھا! اور مویشیوں والے صحن میں کیا مہک ہوتی! میمنے کی خوشبو! جسے ہم بوسہ دیا کرتے۔ گھوڑی کی کھال سے نکلنے والی خوشبو اور تازہ کٹی ہوئی گندم سے نکلنے والی عجیب مست کر دینے والی مہک! کیا خوشبوئیں تھی جو زندگی بھر ساتھ رہیں۔ مٹی کے کورے پیالے سے نکلنے والی سوندھی خوشبو! تنور سے اترنے والی گرم روٹی کی خوشبو! سرسوں کے پھولوں بھرے کھیت میں سے گزرنے وقت ناک سے ٹکرانے والی خوشبو اور گاﺅں سے تھوڑی دور بہنے والی ندی کے مٹیالے پانی کی خوشبو.... وہ پانی جو کسی بھی منرل (Mineral)واٹر سے زیادہ میٹھا ا ور زیادہ صاف تھا!

ہم رات کو سوتے وقت سینکڑوں ہزاروں تارے دیکھتے تھے جو آسمان پر جگمگا رہے ہوتے تھے۔ یہ وہ منظر ہے جسے میرا پوتا شاید ہی دیکھ سکے۔ ہم گاﺅں کے جنوب میں پہرہ دیتی پہاڑیوں کے پار کھلے میدان میں گلی ڈنڈا کھیلتے تھے۔ واپس آتے تھے تو تھکاوٹ اتارنے کےلئے ٹھنڈے میٹھے ستو پیتے تھے۔ ہاتھوں سے بنی ہوئی سویاں کھاتے تھے۔ باجرے کے خوشے ہمارے لئے تنور میں رکھے جاتے تھے تاکہ دانے بھن جائیں۔ گندم کے اور مکئی کے اور جوار کے اور چنوں کے مرنڈے کھاتے تھے۔ کھیتوں سے نکالے ہوئے چنوں کے پودوں سے سبز چنے کھاتے تھے۔ موٹھ اور مونگ کی ادھ پکی پھلیاں کھاتے تھے۔ بیلوں میں چھپے ہوئے اور زمین پر لیٹے ہوئے خربوزے اور تربوز اپنے ہاتھوں سے توڑتے تھے۔ شہر سے ہمارے لئے چاکلیٹیں نہیں بلکہ گنوں کے گٹھے آتے تھے جنہیں ہم دانتوں سے چھیل چھیل کر کھاتے تھے۔

بڑے بڑے شاپنگ مالوں میں آج میرا پوتا، خود کار سیڑھیوں پر خود ہی سوار ہوتا ہے اور خود ہی اتر آتا ہے۔ اسے کیا معلوم کہ اس کا دادا جب گھوڑی کو پانی پلانے، گاﺅں سے باہر، تالاب کی طرف لے جانے لگتا تو اس پر زین نہیں صرف تہہ کیا ہوا کمبل ہوتا تھا جس پر اس کا دادا اچھل کر سوار ہوتا اور اپنے نانا کی ہدایت کے بالکل برعکس، گھوڑی کو بھگا کر لے جاتا۔ اسلام آباد کے ایک گھر میں ڈیڑھ سالہ حمزہ کی آبائی زینیں ایک ڈرائنگ روم کی زینت ہیں۔ وہ زینیں جن پر اس کا دادا، پردادا اور لکڑدادا سوار ہوتے رہے‘ آج ANTIQUEبنی ایک کونے میں پڑی ہیں!

No comments:

Post a comment