Wednesday, 21 December 2011

ہم اور ہمارے ٹھگ



پرانے وقتوں میں لوگوں کوبیوقوف بناکرمال بٹورنے کے لیے ایک گروہ ہواکرتاتھااس گروہ سے وابستہ لوگ ٹھگ کہلاتے تھے۔انہی ٹھگوں کاایک واقعہ ہے کہ ایک دیہاتی بکراخریدکراپنے گھرجارہاتھاکہ چارٹھگوں نے اسے دیکھ لیااورٹھگنے کاپروگرام بنایا۔چاروں ٹھگ اس کے راستے پرکچھ فاصلے سے کھڑے ہوگئے۔وہ دیہاتی کچھ آگے بڑھاتوپہلاٹھگ اس سے آکرملااوربولا’’بھائی یہ کتاکہاں لےئے جارہے ہو؟‘‘دیہاتی نے اسیگھورکردیکھااوربولا’’بیوقوف تجھے نظرنہیںآرہا کہ یہ بکراہے کتانہیں‘‘۔دیہاتی کچھ اورآگے بڑھاتودوسراٹھگ ٹکرایا۔ اس نے کہا’’یاریہ کتاتوبڑاشاندارہے کتنے کاخریدا؟‘‘دیہاتی نے اسے بھی جھڑک دیا۔اب دیہاتی تیز قدموں سے اپنے گھر کی جانب بڑھنے لگا مگر آگے تیسرا ٹھگ تاک میں بیٹھا تھا جس نے پروگرام کے مطابق کہا ’’جناب یہ کتاکہاسے لیا؟‘‘اب دیہاتی تشویش میں مبتلاہوگیاکہ کہیں واقعی کتاتونہیں۔اسی شش و پنج میں مبتلا وہ باقی ماندہ راستہ کاٹنے لگا۔بالآخرچوتھے ٹھگ سے ٹکراؤہوگیا جس نے تابوت میں آخری کیل ٹھونکی اور بولا’’جناب کیااس کتے کوگھاس کھلاؤگے؟‘‘اب تودیہاتی کے اوسان خطاہوگئے اوراس کاشک یقین میں بدل گیاکہ یہ واقعی کتاہے۔وہ اس بکرے کوچھوڑکربھاگ کھڑاہوایوں ان چاروں ٹھگوں نے بکراٹھگ لیا۔


دور حاضر میں ٹھگوں نے اپنا طریقہ کار ، رہن سہن، حلیہ سب کچھ بدل لیا ہے، کچھ پڑھ لکھ کر سیاہ ست میں آ گئے ، کچھ بیورو کریٹس بن گئے کچھ عسکری شعبہ میں شامل ہو کر نام کما رہے ہیں، کچھ نے ڈاکٹری کا لیبل لگا لیا ہے کچھ نے کاروبار کا، غرض یہ کہ پہلے یہ لوگ پہچانے جاتے تھے لیکن ابھی ان کو پہچاننے کے لیئے ایک مخصوص نظر کی بلکہ نظریہ کی ضرورت ہے۔ لیکن کیا کریں ہم لوگ محور سے ہٹنے اور گمراہی پر چلنے کی وجہ سے اس بصارت سے محروم ہو چکے ہیں، ہم نے ذاتی و معاشرتی برائیوں کو اپنی مجبوری کا لبادہ اوڑھا رکھا ہے اور اس کی دلیلیں کچھ یوں دیتے ہیں:

رشوت: کیا کریں مجبوری ہے، میٹر لگوانا ہے، بچے کا داخلہ کرنا ہے، نوکری لینی ہے، کام جلدی کرانا ہے، باہر جانا ہے۔

چور بازاری: کیا کریں مجبوری ہے، ٹماٹر 80روپے کلو نا لیں توکیا کریں، گوشت اصل قیمت سے دوگنا میں نا لیں تو کیا کریں۔

زخیرہ اندوزی: کیا کریں مجبوری ہے، نہیں کریں گے تو زیادہ منافع کیسے ہو گا اور ویسے بھی سبھی کرتے ہیں، اگلے سال پتہ نہیں اتنی کمائی ہو نا ہو۔

جھوٹ: جس جھوٹ سے کوئی کام بنتا ہو وہ جھوٹ تھوری ہوتا ہے، اب دیکھو نا جھوٹ بول کر جو اثاثہ جات لکھوائے ہیں اگر سچ بولا ہوتا تو اولاد کے مستقبل کا کیا ہوتا۔

سیاہ ست: کیا کریں مجبوری ہے، کوئی نا کوئی تو حکومت میں آنا ہی ہے، اب میں یا تم تھوڑی اسمبلی چلایئں گے۔ ویسے بھی یہ خاندانی (چور) لوگ ہیں، کل کوئی کام ہوا تو آرام سے کرا دیں گے۔

ووٹ: کیا کریں مجبوری ہے، ڈالیں یا نا ڈالیں حکومت تو بن ہی جانی ہے، سو جو دروازے پر مانگنے آیا ہے اسی کو دے دیتے ہیں، اتنا ٹائم کس کے پاس کے جا کر دیکھیں بندے کا ماضی کیا ہے۔

سیاستدان: کیا کریں مجبوری ہے، سب چور ہیں، لٹیرے ہیں، غاصب ہیں، قاتل ہیں، ظالم ہیں لیکن اور کوئی آپشن جو نہیں۔

فوج: ہمیشہ سے زندہ باد ہے اور رہے گی، کوئی مجبوری تو نہیں لیکن ڈر ضرور ہے کہ اگر فوج کی چھیڑا یا احتساب کیا تو ناراض نا ہو جایئں اس لیئے جو کر رہے ہیں کرنے دو، آخر کو سرحدوں کی حفاظت تو کر ہی رہے ہیں (کونسی سرحدوں کی یہ آج تک ہمیں خود بھی نہیں پتہ)

معاشرتی برائیاں: کیا کریں مجبوری ہے، ساری دنیا کا دستور ہے اب ہم نے کر لیا تو کیا ہوا سبھی کرتے ہیں۔ مثلا سگنل کی خلاف ورزی، کوڑا کرکٹ گھر سے نکال کر گلی یا سڑک پر پھینکنا، بجلی چوری کرنا، گیس چوری کرنا، پانی چوری کرنا، ٹیکس چوری کرنا۔ کوئی مرتا ہے تو مرنے دو کون اس جھنجٹ میں پڑے گورنمنٹ کا کام ہے۔

سو ٹھگ بھی حیران ہیں کہ وہ ہمیں لوٹتے جاتے ہیں، پر ہم پھر بھی زندہ ہیں ٹھیک ہیں ہمیں کوئی فرق نہیں پڑتا، ہم دو چار دن بین کرتے ہیں روتے ہیں اور پھر اسی روش پر چل پڑتے ہیں۔ یعنی کہ ہم بھی ٹھگ ہیں_________________________

اوپر والے ہمیں ٹھگتے ہیں اور ہم!!!!!!
اپنی زمین کو
اپنے ضمیر کو
اپنی اخلاقیات کو
اپنی مذہبی معاشرتی اقدار کو
اپنے آپ کو

ٹھگتے ہیں اور کہتے ہیں کہ جو کر رہا ہے اوپر والا کر رہا ہے!!!!!

Monday, 19 December 2011

+_+_ نا بھلا پاو گے _+_+

تم میری آنکھ کے تیور نا بھلا پاو گے
انکہی بات کو سمجھو گے تو یاد آوں گا
ہم نے خوشیوں کی طرح دکھ بھی اکٹھے دیکھے
صفحہ زیست کو پلٹو گے تو یاد آوں گا
اس جدایی میں تم اندر سے بکھر جاو گے
کسی معذور کو دیکھو گے تو یاد آوں گا
اسی انداز میںہوتے تھے مخاطب مجھ سے
خط کسی اور کو لکھو گے تو یاد آوں گا
میری خوشبو تمہیںآے گی گلابوں کی طرح
اگر خود سے نا بولوگے تو یاد آوں گا
آج تم محفل یاراں پے ہو مغرور بہت
جب کبھی ٹوٹ کے بکھروگے تو یاد آوں گا
سرد راتوں کے مہکتے ہوےسناٹوں میں
جب کسی پھول کو چوموگے تو یاد آوں گا
اب تو یہ اشک میں ہونٹوں سے چر لیتا ہوں
ہاتھ سے خود انہیں پونچھوگے تو یاد آوں گا
حادثے آییں گے جیون میں تو ہوگے نڈھال
کسی دیوارکو تھامو گے تو یاد آوں گا
شال پہناے گا اب کون دسمبر میں تمہیں
بارشوں میں کبھی بھیگوگے تو یاد آوں گا
اس میں شامل مرےبخت کی تاریکی بھی
تم سیہ رنگ جوپہنوگے تو یاد آوں گا

+_+_کوئی شام گھر بھی رہا کرو_+_+

یونہی بے سبب نہ پھرا کرو، کوئی شام گھر بھی رہا کرو
وہ غزل کی سچی کتاب ہے اسے چپکے چپکے پڑھا کرو
کوئی ہاتھ بھی نہ ملائے گا جو گلے ملو گے تپاک سے
یہ نئے مزاج کا شہر ہے ذرا فاصلے سے ملا کرو
ابھی راہ میں کئی موڑ ہیں کوئی آئے گا کوئی جائے گا
تمہیں جس نے بھلا دیا اسے بھولنے کی دعا کرو
مجھے اشتہار سی لگتی ہیں یہ محبتوں کی کہانیاں
جو کہا نہیں وہ سنا کرو، جو سنا نہیں وہ کہا کرو
کبھی حسن پردہ نشیں بھی ہو ذرا عاشقانہ لباس میں
جو میں بن سنور کے کہیں چلوں مرے ساتھ تم بھی چلا کرو
نہیں بے حجاب وہ چاند سا کہ نظر کا کوئی اثر نہ ہو
اسے اتنی گرمئ شوق سے بڑی دیر تک نہ تکا کرو
یہ خزاں کی زرد سی شال میں جو اداس پیڑ کے پاس ہے
یہ تمہارے گھر کی بہار ہے اسے آنسوؤں سے ہرا کرو

__بنے تو سہی__

مرا نہیں تو کسی اور کا بنے تو سہی
کسی بھی طور سے وہ شخص خوش رہے تو سہی
پھر اس کے بعد بچھڑنے ہی کون دے گا اسے
کہیں دکھائی تو دے وہ کبھی ملے ہی سہی
کہاں کا زعم ترے سامنے انا کیسی
وقار سے ہی جھکے ہم مگر جھکے تو سہی
جو چپ رہا تو بسا لے گا نفرتیں دل میں
برا بھلا ہی کہے وہ مگر کہے تو سہی
کوئی تو ربط ہو اپنا پرانی قدروں سے
کسی کتاب کا نسخہ کہیں ملے تو سہی
دعائے خیر نہ مانگے کوئی کسی کیلیے
کسی کو دیکھ کے لیکن کوئی جلے تو سہی
جو روشنی نہیں ہوتی نہ ہو بلا سے مگر
سروں سے جبر کا سورج کبھی ڈھلے تو سہی

.::::میری زندگی تو فراق ہے::::.

میری زندگی تو فراق ہے، وہ ازل سے دل میں مکیں سہی
وہ نگاہِ شوق سے دور ہیں، رگِ جاں سے لاکھ قریں سہی
ہمیں جان دینی ہے ایک دن، وہ کسی طرح ہو کہیں سہی
ہمیں آپ کھینچئے وار پر، جو نہیں کوئی تو ہمیں سہی
سرِ طور سرِ حشر ہو، ہمیں انتظار قبول ہے
وہ کبھی ملیں، وہ کہیں ملیں، وہ کبھی سہی وہ کہیں سہی
نہ ہو ان پہ میرا بس نہیں، کہ یہ عاشقی ہے ہوس نہیں
میں انھی کا تھا میں انھی کا ہوں،وہ میرے نہیں تو نہیں سہی
مجھے بیٹھنے کی جگہ ملے، میری آرزو کا بھرم رہے
تیری انجمن میں اگر نہیں، تیری اجنمن کا قریں سہی
تیرا در تو ہمکو نہ مل سکا، تیری رہگزر کی زمیں سہی
ہمیں سجدہ کرنے سے کام ہے، جو وہاں نہیں تو یہیں سہی
میری زندگی کا نصیب ہے، نہیں دور مجھ سے قریب ہے
مجھے اسکا غم تو نصیب ہے، وہ اگر نہیں تو نہیں سہی
جو ہو فیصلہ وہ سنائیے، اسے حشر پہ نہ اٹھایئے
جو کریں آپ ستم وہاں وہ ابھی سہی، وہ یہیں سہی
اسے دیکھنے کی جو لو لگی، تو قتیل دیکھ ہی لیں گے ہم
وہ ہزار آنکھ سے دور ہو، وہ ہزار پردہ نشیں سہی

Thursday, 15 December 2011

باپ کی شان

اپنے باپ سے منہ نا پھیرو، جس نے اپنے باپ سے منہ پھیرا اس نے کفر کیا
صیحح بخاری شریف: کتاب الفرائض: حدیث: 6768 صفحہ نمبر 565

1- باپ کا احترام کرو تاکہ تمہاری اولاد تمہارا احترام کرئے۔
2- باپ کی باتیں غور سے سنو تاکہ دوسروں کی نا سننی پڑیں۔
3- باپ کے سامنے اونچا نا بولو ورنہ اللہ تعالٰی تمہیں نیچا کر دے گا۔
4- باپ کے سامنے نظر جھکا کے رکھو تا کہ اللہ تعالٰی تمہیں دنیا میں بلند کرے۔
5- باپ کی سختی برداشت کرو تاکہ باکمال ہو سکو۔
6- باپ کے آنسو تمہارے دکھ سے نا گریں ورنہ، اللہ تعالٰی تمہیں جنت سے گرا دیں گے۔

Monday, 12 December 2011

پرانا زخم پھر تازہ ہوا



درد پھر جاگا، پرانا زخم پھر تازہ ہوا

فصلِ گُل کتنے قریب آئی ہے، اندازہ ہوا

صبح یوں نکلی، سنور کے جس طرح کوئی دُلہن
شبنم آویزہ ہوئی، رنگِ شفق غازہ ہوا

ہاتھ میرے بُھول بیٹھے دستکیں دینے کا فن
بند مُجھ پر جب سے اُس کے گھر کا دروازہ ہوا

ریل کی سیٹی میں کیسے ہجر کی تمہید تھی
اُس کو رُخصت کرکے گھر لَوٹے تو اندازہ ہوا

Sunday, 11 December 2011

زرا سا ٹہر اے دل۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔



کوئی کندھا نہیں دیتا

محبت کے سفر میں
کوئی بھی رستہ نہیں دیتا

زمیں واقف نہیں بنتی
فلک سایہ نہیں دیتا

خوشی اور دکھ کے موسم
سب کے اپنے اپنے ہوتے ہیں

کسی کو اپنے حصے کا
کوئی لمحہ نہیں دیتا

اداسی جس کے دل میں ہو
اسی کی نیند اڑتی ہے

کسی کو اپنی آنکھوں سے
کوئی سپنتا نہیں دیتا

اٹھاناخود ہی پڑتا ہے
تھکا ٹوٹا بدن اپنا

کہ جب تک سانس چلتی ہے
کوئی کندھا نہیں دیتا

Saturday, 10 December 2011

...::::Beauty of Math::::...



Absolutely amazing!
Beauty of Math!

1 x 8 + 1 = 9
12 x 8 + 2 = 98
123 x 8 + 3 = 987
1234 x 8 + 4 = 9876
12345 x 8 + 5 = 98765
123456 x 8 + 6 = 987654
1234567 x 8 + 7 = 9876543
12345678 x 8 + 8 = 98765432
123456789 x 8 + 9 = 987654321

1 x 9 + 2 = 11
12 x 9 + 3 = 111
123 x 9 + 4 = 1111
1234 x 9 + 5 = 11111
12345 x 9 + 6 = 111111
123456 x 9 + 7 = 1111111
1234567 x 9 + 8 = 11111111
12345678 x 9 + 9 = 111111111
123456789 x 9 +10= 1111111111

9 x 9 + 7 = 88
98 x 9 + 6 = 888
987 x 9 + 5 = 8888
9876 x 9 + 4 = 88888
98765 x 9 + 3 = 888888
987654 x 9 + 2 = 8888888
9876543 x 9 + 1 = 88888888
98765432 x 9 + 0 = 888888888

Brilliant, isn't it?

And look at this symmetry:

1 x 1 = 1
11 x 11 = 121
111 x 111 = 12321
1111 x 1111 = 1234321
11111 x 11111 = 123454321
111111 x 111111 = 12345654321
1111111 x 1111111 = 1234567654321
11111111 x 11111111 = 123456787654321
111111111 x 111111111=12345678987654321





Now, take a look at this...





From a strictly mathematical viewpoint,

What Equals to 100%?
What does it mean to give MORE than 100%?


Ever wonder about those people who say they are giving more than 100%...

We have all been in situations where someone wants you to

GIVE OVER 100%.
How about ACHIEVING 101%?

What equals to 100% in life?


Here's a little mathematical formula that might help answering these questions:


If:

A B C D E F G H I J K L M N O P Q R S T U V W X Y Z

Is represented as:

1 2 3 4 5 6 7 8 9 10 11 12 13 14 15 16 17 18 19 20 21 22 23 24 25 26


It is
H-A-R-D-W-O-R- K

8+1+18+4+2 3+15+18+11 = 98%

And

K-N-O-W-L-E-D-G-E

11+14+15+23+12+5+4+7+5 = 96%

But
A-T-T-I-T-U-D-E
1+20+20+9+20+21+4+5 = 100%

AND
L-O-V-E-O-F-G-O-D

12+15+22+5+15+6+7+15+4 = 101%


Therefore, one can conclude with mathematical certainty that:

While Hard Work and Knowledge will get you close and Attitude will get you there...
It's the Love of God that will put you over the top!!!

Tuesday, 6 December 2011

چالیس ہزار روپے میں پاکستانی گھر سولر انرجی پر منتقل ہو سکتا ہے



موجودہ صورت حال میں پاکستان کے لیے توانائی کے متبادل ذرائع تلاش کرنا ضروری ہوگیا ہے۔ پاکستان ایک ایسے خطے میں واقع ہے جہاں سارا سال سورج چمکتا ہے۔ چنانچہ یہاں آسانی سے بڑی مقدار میں شمسی توانائی حاصل کی جاسکتی ہے۔پاکستان میں اس شعبے میں پیش رفت ہورہی ہے۔ عام افراد اپنی بجلی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے شمسی توانائی سے کس طرح فائدہ اٹھا سکتے ہیں؟ اس موضوع پر گفتگو کے لیے امریکی ادارے نے ایک مذاکرے کا اہتمام کیا ، جس میں ٹیلی فون کے ذریعے اسلام آباد سے پاکستان آلٹر نیٹ انرجی بورڈ کے چیئر مین عارف علاؤالدین صاحب ، کراچی سے یو این ڈی پی کے پاکستان میں جاری سمال گرانٹس پروگرام کے نیشنل کوآرڈی نیٹر مسعود لوہار، لاس اینجلس کیلی فورنیا سے سولر انرجی کے ماہر اور دنیا بھر میں ایل ای ڈی لائٹنگ سے متعلق صف اول کی ایک کمپنی لیڈٹرانکس کے فاؤنڈر اور سی ای او، جناب پرویز لودھی ، اور کراچی سے پاکستان میں سولر پینل بنانے والی ایک ممتاز کمپنی شان ٹکنالوجیز کے سولر ایکسپرٹ شاہد صدیقی شریک ہوئے۔

لیڈٹرانکس کے فاؤنڈر اور سی ای او پرویز لودھی نے کہا کہ شمسی توانائی کا استعمال گزشتہ کچھ برسوں میں پوری دنیا میں بڑھ رہا ہے لیکن اس کے بارے میں عام لوگوں کو زیادہ معلومات نہیں ہیں ۔ جس کی وجہ سے اس سسٹم سے لوگوں کی توقعات بڑھ جاتی ہیں اور وہ کئی غلط فیصلے کر بیٹھتے ہیں ۔انہوں نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ سولر پینلز سورج سے بہت سی روشنی کو لے کرقلیل مقدار میں بجلی پیدا کرتے ہیں ، اس لیے اس کا استعمال احتیا ط سے کرنا چاہیے اور روشنی کے لیے ایل ای ڈی بلب استعمال کرنے چاہیں۔
اسد محمود نے کہا کہ صرف ایل ای ڈی بلب ہی نہیں بلکہ گھر کی دوسری چیزیں بھی سولر انرجی سے مطابقت رکھنے والی ہونی چاہیں ۔ سولر انرجی ڈی سی کرنٹ پیدا کرتی ہے اس لیے اس پر وہی مشینیں چلانی چاہییں جو ڈی سی کرنٹ پر چلیں اور سولر سسٹم کی لاگت کو کم کرنے کے لیے سسٹم کے ساتھ منسلک دوسرے آلات بھی انرجی ایفیشنٹ ہونے چاہییں۔ انہوں نے تجویز دی کہ سولر سسٹم کی موجودہ لاگت کے پیش نظر پریکٹیکل یہ ہے کہ گھر کا پورا سسٹم سولر پر نہ کریں بلکہ صرف اسے بیک اپ کے طور پر استعمال کریں۔بالکل اسی طرح جیسے بجلی چلے جانے کی صورت میں جنریٹر کو بیک اپ کے طور پر رکھا جاتاہے ۔
شاہد صدیقی صاحب نے بتایا کہ پاکستان کے کسی بھی علاقے میں لوڈ شیڈنگ کے وقت یا بجلی چلے جانے کی صورت میں یا جن علاقوں میں بجلی نہیں ہے ، گھر کا ایک کمرہ روشن کرنے کے لیے سولر پینل کے سب سے چھوٹے سسٹم کو انسٹال کرنے پر چار سے پانچ ہزار یا زیادہ سے زیادہ دس ہزار روپے خرچ ہو سکتے ہیں ۔ا ور اسی طرح اگر اس کے ساتھ ایک پنکھا بھی چلانا چاہیں تو یہ لاگت اسی حساب سے بڑھتی جائے گی لیکن یہ سب سرمایہ کاری صرف ایک بار کی ہوگی ا ور اس کے نتیجے میں بجلی کے بل کی جو بچت ہو گی و ہ بہت جلد آپ کا خرچہ آپ کو واپس کر دے گی۔ لیکن ضروری ہے کہ روشنی ایل ای ڈی ہو پنکھا ڈی سی کرنٹ پر چلتا ہو۔ انہوں نے بتایا کہ مارکیٹ میں لوگ سولر سسٹم لگانے کے لیے موجود ہیں لیکن یہ سولر پینل الیکٹریکل کی تھوڑی بہت سمجھ بوجھ رکھنے والا شخص انسٹال کر سکتا ہے ۔

متبادل توانائی کے بورڈ کے چئیر مین عارف علاؤالدین نے جنریٹر اور سولر انرجی کا تقابل کرتے ہوئے کہا کہ سولر سسٹم زیادہ سستا پڑے گا لیکن اس وقت سسٹم میں استعمال ہونےوالی بیٹری مہنگی ہے ۔ سولر پینل 21سے 25 سینٹ فی گھنٹہ کی بجلی پیدا کر سکتا ہے ۔عارف علاؤالدین نے بتایا کہ بڑے پیمانے پر سولر انرجی پیدا کرنے والے نجی اداروں سے حکومت بجلی خرید سکتی ہے اور ایک کلو واٹس یااس سے کچھ کم یا کچھ زیادہ سولر انرجی پیدا کرنے والے آلات درا ٓمد کرنے کے لیے حکومت نے کسٹم ڈیوٹی معاف کر دی ہے ۔ا نہوں نے مزید کہا کہ اگر آپ سولر پینل کے ساتھ بجلی پیدا کررہے ہیں اور اگر آپ کے پاس زائد بجلی ہے اور آپ کسی وجہ سے اس بجلی کو استعمال نہیں کر رہے اور اسے گرڈ میں ڈال دیں تو حکومت وہ اضافی سولر بجلی خرید سکتی ہے ۔

عارف علاؤالدین نے بتایا کہ پاکستان میں بہت سی این جی اوز سولر بجلی پیدا کر رہی ہیں اور ان کا ادارہ بھی مختلف مقامات پر اس حوالے سے کام کررہا ہے لیکن اس کا سب سے بڑاپراجیکٹ وہ تھا جس کے تحت مٹھی میں پچاس دیہاتوں میں تیس ہزار گھروں کو سولر انرجی فراہم کی گئی اور ہر گھر کو کو دو دو لائٹس اور ایک ایک پنکھا چلانے کے لیے سولر سسٹم لگا کر دیا تو اس پورے سسٹم پر ایک گھر میں چالیس ہزار روپے خرچ ہوئے اور اب جب کہ پینلز اور دوسرے متعلقہ آلات کی قیمتوں میں کمی ہو رہی ہے اس لاگت میں اور کمی ہو سکتی ہے

شرک کی انتہا۔

video

Monday, 5 December 2011

اک چھوٹا سا لڑکا

اک چھوٹا سا لڑکا تھا
میں جن دنوں
اک میلے میں
پہنچا ہمکتا ہوا
جی مچلتا تھا
ہر اک شے مول لوں
جیب خالی تھی
کچھ مول لے نہ سکا
لوٹ آیا لیئے حسرتیں سینکڑوں

اور آج میلہ لگا ہے
اسی شان سے
آج چاہوں تو
سارا جہاں مول لوں
آج چاہوں تو
اک اک دوکان مول لوں
نارسائی کا اب
دل میں دھڑکا کہاں
پر وہ الہڑ سااب
چھوٹا لڑکا کہاں

شاعر ابن انشاء!!!!!

Thursday, 1 December 2011

الّلہ سے ڈرنے والے

دنیا میں تین قسم کے آدمی ہوتے ہیں۔ ایک وہ جو الّلہ کے ڈر سے خالی ہوں۔ ایسے لوگ خواہ زبان سے الّلہ کا نام لیتے ہوں، مگر ان کے سینہ میں الّلہ کے ڈر کا کوئی خانہ نہیں ہوتا۔ وہ اس طرح رہتے ہیں جیسے کہ وہ آزاد ہیں جو چاہیں کریں ۔ ان کے سامنے سارا سوال بس دنیا کےنفع نقصان کا ہوتا ہے۔ جس کام میں نفع نظر آئے اس کی طرف دوڑنا اور جس کام میں نقصان کا اندیشہ ہو اس سے رک جانا، یہ ان کا مذہب ہوتا ہے۔ کسی چیز کا اصولی طور پربر حق ثابت ہو جانا ان کے نزدیک کوئی اہمیت نہیں رکھتا وہ ہمیشہ‘‘ دلیل’’ کے بجائے ‘‘مفاد’’ کو اصل اہمیت دیتے ہیں۔ کوئی کام کرتے ہوئے وہ کبھی یہ نہیں سوچتے کہ اس معاملہ میں الّلہ کی مرضی کیا ہے یا یہ کہ وہ الّلہ کے سامنے کیوں کر بری الزمہ ہو سکتے ہیں وہ وہاں جھک جاتے ہیں جہاں ان کا نفس جھکنے کے لئے کہے۔ اور وہاں اکڑ جاتے ہیں جہاں ان کا نفس اکڑنے کی ترغیب دے۔ وہ الّلہ سے بے خوف زندگی گزارتے ہیں۔ یہاں تک کہ اس دنیا سے چلے جاتے ہیں تا کہ الّلہ کی عدالت میں حساب دینے کے لئے کھڑے کر دیے جائیں۔
دوسری قسم ان لوگوں کی ہے جن کے دل میں حرام و حلال کا لحاظ رہتا ہے۔ ان کو یہ خیال آتا رہتا ہے کہ مرنے کے بعد الّلہ کے یہاں حساب کتاب کے لئے حاضر ہونا ہے۔ عام حالات مین وہ الّلہ سے ڈر کر زندگی گزارتے ہیں۔ روز مرہ کی زندگی میں کسی کو ان سے حق تلفی اور بےاخلاقی کا تجربہ نہیں ہوتا۔ تاہم وہ اپنئ نفسیاتی پیچیدگیوں سے اٹھے ہوئے نہین ہوتے۔ ان کا خوف خدا اتنا مکمل نہیں ہوتا کہ وہ ان کے نفس کےاندر چھپے ہوئے جزبات کا احاطہ کرلے۔ عام حالات میںوہ خدا ترس زندگی گزارتے ہیں۔ مگر جب کوئی غیر معمولی حالت پیش آئے تو اچانک وہ دوسری قسم کے انسان بن جاتے ہیں۔ کبھی کسی کی محبت کا لحاظ، کبھی کسی کے خلاف نفرت کا جزبہ،کبھی اپنی عزت کا سوال ان کے اوپر اس طرح غالب آتا ہے کہ ان کا خوف خدا اس کے نیچےدب کر رہ جاتاہے۔ یہ عمل چونکہ اکثر غیر شعوری طور پر ہوتا ہے اس لئے بہت کم ایسا ہوتا ہے کہ وہ اپنے اوپراپنے نفس کے اس حملہ سے آگاہ ہوں اوراپنے آپ کو تھامتے ہوئے اپنے کو متقیانہ روش پر قائم رکھیں ، معمول کے حالات میں خدا ترسی کی زندگی گزار نے والا غیر معمولی حالات میں وہی کچھ کر گزرتا ہے جو پہلی قسم کے لوگ اپنے عام زندگی میں کرتے رہتے ہیں۔
تیسرا انسان وہ ہے جو پورے معنوں ہیں الّلہ سے ڈرنے والا ہے، جو الّلہ کو پہچاننے کے ساتھ خود اپنے آپ کو بھی پوری طرح پہچان چکا ہو۔ ایسا شخص صرف عام حالات ہی میں الّلہ سے نہین ڈرتا بلکہ غیر معمولی حالات میں بھی الّلہ کا خوف اس کا نگراں بنا رہتا ہے۔ کسی کی محبت جب اس کو بے خوفی کے راستہ پر لے جانا چاہتی ہے تو وہ فوراً اس کو دیکھ لیتا ہے۔ کسی سے چھپی ہوئی نفرت جب اس کے نفس میں تیرتی ہے اور اس کو بے انصافی پر اکساتی ہے تو وہ چونک پڑتاہے اور اس سے باخبر ہو کر اس کے خلاف کھڑا ہو جاتا ہے۔ ذاتی عزت و وقار کا سوال جب اس کے اندر داخل ہوکر اس کو کسی حق کےاعتراف سے روکتا ہے تو وہ بلا تاخیر اس کو جان لیتا ہے۔ اس طوح وہ اپنی تمام خامیوں سے آگاہ ہوکر اپنی اصلاح کرتا ہے۔ اس کا مسلسل احتساب اس کو ایسے مقام پر پہنچا دیتا ہے جہاں وہ اپنے آپ کو انتہائی بے لاگ نظر سے دیکھ سکے۔ بالفاظ دیگر، وہ اپنے آپ کو اس حقیقی نظر سے دیکھنے لگتا ہے جس نظر سے اس کا خدا اس کو دیکھ رہا ہے۔

دعا

‘‘ میرے لئے بائیسکل خرید دیجئے’’ ایک غریب خاندان کے لڑکے نے اپنے باپ سے کہا۔ باپ کے لئے بائیسکل خریدنا مشکل تھا۔ اس نے ٹال دیا ۔ لڑکا بار بار کہتا رہا اور باپ بار بار منع کرتا رہا۔ آخر کار ایک روز باپ نے ڈانت کر کہا‘‘ میں نے کہہ دیا کہ میں بائیسکل نہیں خریدوں گا۔ آئندہ مجھ سے اس قسم کی بات مت کرنا۔’’ یہ سن کر لڑکے کی آنکھ میں آنسو آگئے ۔ وہ کچھ دیر تک چپ رہا۔ اس کے بعد روتے ہوئے بولا‘‘ آپ ہی تو ہمارے باپ ہیں پھر آپ سے نہ کہیں تو کس سے کہیں’’ اس جملہ نے باپ کو تڑپا دیا ۔ اچانک اس کا انداز بدل گیا۔ اس نے کہا ‘‘ اچھا بیٹے ، اطمینان رکھو۔ میں تم کو ضرور بائیسکل دوں گا۔’’ یہ کہتے ہوئے باپ کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ اگلے دن اس نے پیسہ کر کے بیٹے کے لئے نئی بائیسکل خرید دی۔
لڑکے نے بظاہر ایک لفظ کہا تھا۔ مگر یہ ایسا لفظ تھا جس کی قیمت اس کی اپنی زندگی تھی۔جس میں اس کی پوری ہستی شامل ہو گئی تھی۔ اس لفظ کا مطلب یہ تھا کہ اس نے اپنے آپ کو اپنے سرپرست کے آگے بالکل خالی کردیا ہے۔ یہ لفظ بول کر اس نے اپنے آپ کو ایک ایسے نقطہ پر کھڑا کر دیا جہاں اس کی درخواست اس کے سرپرست کے لئے بھی اتنا بڑا مسئلہ بن گئی جتنا وہ خود اس کے اپنے لئے تھی۔
یہ انسانی واقعہ خدائی واقعہ کی تمثیل ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ کون سی دعا ہےجو لوٹائی نہیں جاتی۔ یہ وہ دعا ہےجس میں بندہ اپنے پوری ہستی کو انڈہل دیتا ہے ۔ جب بندہ کی آنکھ سے عجز کا وہ قطرہ ٹپک پڑتا ہے جس کا تحمل زمین و آسمان بھی نہ کر سکیں۔جب بندہ اپنے آپ کو اپنے رب کے ساتھ اتنا زیادہ شامل کرلیتا ہے کہ ‘‘ بیٹا’’ اور ‘‘ باپ’’ دونوں ایک ترازو پر آجاتے ہیں۔
یہ وہ لمحہ ہےجب کہ دعا محض زبان سے نکلا ہوا ایک لفظ نہیں ہوتی بلکہ وہ ایک شخصیت کے پھٹنے کی آواز ہوتی ہے۔
اس وقت خدا کی رحمتیں اپنے بندے پر ٹوٹ پڑتی ہیں۔ بندگی اور خدائی دونوں ایک دوسرے سے راضی ہو جاتے ہیں۔ قادر مطلق عاجز مطلق کو اپنی آغوش میںلےلیتا ہے۔


Wednesday, 30 November 2011

وہ پگلی۔۔۔۔۔


دسمبر جب بھی آتا ہے
وہ پگلی۔۔۔۔۔
پھر سے بیتے موسموں کی
تلخیوں کو
یاد کرتی ہے
پرانا کارڈ پڑھتی ہے
کہ جس میں اُس نے
لکھا تھا
میں لوٹوں گا دسمبر میں

نئے کپڑے بناتی ہے
وہ سارا گھر سجاتی ہے
دسمبر کے ہر اک دن کو
وہ گن گن کر بتاتی ہے
جونہی 15 گزرتی ہے
وہ کچھہ کچھہ ٹوٹ جاتی ہے
مگر پھر بھی
پرانی البموں کو کھول کر
!!!ماضی بلاتی ہے
نہیں معلوم یہ اُس کو
کہ بیتے وقت کی خوشیاں
بہت تکلیف دیتی ہیں
محض دل کو جلاتی ہیں۔۔۔
یونہی دن بیت جاتے ہیں
دسمبر لوٹ جاتا ہے
مگر وہ خوش فہم لڑکی۔۔۔
دوبارہ سے کیلنڈر میں
دسمبر کے مہینے کے صفحےکو
موڑ کر، پھر سے
پھر سے
دسمبر کے سحر میں
ڈوب جاتی ہے
کہ آخر اُس نے لکھا تھا۔۔۔۔
میں لوٹوں گا دسمبر میں

انتخابی تحریر::::::::لڑکی= بیوی، بہو، بیٹی اور پھر ماں




میری ماں نے مجھ سے پوچھا کہ بتا تجھے شادی کے لئے کیسی لڑکی چاہئے؟
میں نے ماں سے کہا جو تجھے پسند ہو
ماں نے کہا جو تجھے سمجھے اور تجھے پسند آئے وہی میری پسند ہو گی اور میں تو
چاند جیسی بہو لاؤں گی تیرے لئے ، پھر بھی بتاؤ نہ کسی لڑکی چاہئے ؟
میں خاموش ہو گیا اور سوائے ان چند الفاظ کے اور کچھ نہ کہہ
سکا کہ

ماں لڑکی وہ چاند نہیں ہونی چاہئے
جسے ہر کوئی بے نقاب دیکھے

بلکہ

لڑکی وہ سورج ہونا چاہئے

جسے دیکھتے ہی آنکھیں جھک جائیں

کبھی احترام میں !
کبھی جلال میں !

دوستو________________________ شیخ سعدی رحمتہ اللہ علیہ کا قول ہے کہ اچھی عادت کی مالک نیک اور پارسا عورت کسی فقیر کے گھر میں بھی ہو تو اسے بھی بادشاہ بنا دیتی ہے۔ ! اس لئے دین دار لڑکی سے شادی کرو جو آپ کی دنیا و آخرت کو سنوار دے جو کل کو آپ کے بچوں کی ماں بنے گی جو سب کو فخر سے بتا سکیں کہ ہماری ماں جیسی کوئی نہیں۔

Tuesday, 29 November 2011

یہ کم ظرف انسان by:::Rana Rashid:::::


انسان

نا بدلا ہے یہ سورج
نا ہی بدلا ہے یہ چاند
بدلا ہے تو بس بدلا ہے
یہ کم ظرف انسان

نا بدلے ہیں یہ ستارے
نا ہی بدلے پربت سارے
ناہی بدلی یہ دھرتی پیاری
نا بدلا پھول کا کھلنا
نا ہی بدلا ہے کھیت کھلیان
بدلا ہے تو بس بدلا ہے
یہ کم ظرف انسان

نا بدلا ہے پانی کا جھرنا
نا بدلا شبنم کا گرنا
نا تو بدلا ہوا کا رخ
نا ہی بدلا پورب پچھم
اور ناہی بدلا ہے آسمان
بدلا ہے تو بس بدلا ہے
یہ کم ظرف انسان

نا بدلی ہے کوئل کی کوکو
نا بدلی مرغے کی بانگ
بدلا ہے تو بس بدلا ہے
یہ کم ظرف انسان
===================

Saturday, 26 November 2011

خوبصورت پاکستان::::ثقافتی موسیقی اور سازرانی کوٹ، پاکستان۔

video

عالم اسلام میں ”دوسرا اسرائیل“ قادیانی ریاست کامنصوبہ

قادیا نیوں کا اپنے نام نہادمذہب اور کفریہ عقا ئدکی بنیاد رکھنے کے روز اول سے ہی یہ پلان تھا کہ وہ ہندو پاک میں اپنی علیحدہ ریاست قا ئم کریں گے چاہے اسکے لیے انہیں کتنی ہی جانی ومالی قربانی کیوں نہ دینی پڑے عرصہ دراز سے اس پر عمل درامد کرنے کے لیے تمام قادیانی ملازمین اپنی تنخواہوں کا 7فیصد اور کاروباری حضرات بھی کم و بیش اتنا ہی سرمایہ اپنی جماعت کو جمع کرواتے چلے آرہے ہیں پاکستان بننے کے بعد انہوں نے ربوہ (موجودہ اسلام نگر) کواس کے لیے منتخب کیا یہ علاقہ تین اطراف سے پہاڑیوں سے گھرا ہوا ہے اور چوتھی طرف دریا بہہ رہاہے ربوہ میں رابطہ کا صرف ایک پل ہے جو کہ دریا پر بنا ہوا ہے اسلئے قادیانی منصوبہ سازوں نے ریاست کے اندر ریاست قائم کرنے کے لیے یہ جگہ مخصوص کر ڈالی اور قادیانیوں نے اس جگہ پر ہزاروں ایکڑ نہیں بلکہ کئی میل لمبا چوڑا علاقہ اونے پونے داموں خرید لیا جسمیں انہیں تمام حکمرانوں کی بھی آشیر باد حاصل رہی قادیانی ریاست کے قیام کا انکا زیر زمین پلان ہی انکا اولین مقصد ہے جس طرح سے یہودیوں نے اسرائیل کی صورت میں عالم اسلام کے سینے میں خنجر گھونپ رکھا ہے اور پورا عالم کفر اور لادینی جمہوریت کے چیمپئن اسکے ممدومعاون بنے ہوئے ہیں اسی طرح انکی ہی پیروی کرتے ہوئے اور تمام کفریہ عقائد کی علمبر دار قوتوں کی ہی مدد سے قادیانی ربوہ میں مرزائی اسٹیٹ بنانا چاہتے ہیں اسی مقصد کے حصول کے لیے انہوں نے سول اور فوج کے اعلٰی عہدوں پر قبضہ کیا پاک فوج میں عملاًمرزائی اجتماعات بھی منعقد کرتے ہیں حتیٰ کہ کسی مرتد کے مکان کے بڑے ہال کو عبادت و اجتماع گاہ قرار دے لیتے ہیں ایک دوسرے کی ناجائز امداد کر کے اعلٰی عہدوں پر قابض ہیں اور بوقت ضرورت حکومت کی وفاداری سے بھی آنکھیں پھیر لیں گے اور قادیانی سربراہ کے حکم کی بجا آوری ان کی ترجیح ہو گی ۔قادیانیوں نے ربوہ میں دریا کے قرب وجوار کی طرف توکئی ایکڑ زمین خرید کر خالی چھوڑ رکھی ہے اسمیں نہ تو کوئی فصل اگاتے ہیں اور نہ ہی کوئی درخت بلکہ پہلے سے موجود تمام درخت جڑ سے اکھاڑپھینکے ہیں لیکن اس زمین کو عملا ًمستقل طور پر پانی لگاتے ہیں تا کہ زمین پختہ رہے اور بوقت ضرورت اسکو فوراً آناًفانا ًائیرپورٹ میں تبدیل کر کے یہاں پر جنگی طیارے اتارے جاسکیں اور ریاست کا منصوبہ تکمیل پا سکے ۔ہمارے وزیر خارجہ ، وزیر اعظم ، حتیٰ کہ صدر پاکستان تک نے جو ملاقاتیں امریکیوں سے اعلیٰ سطح پر کی ہیں ان میں یہ معاملہ سر فہرست رہا اور اندرونِ خانہ سب کچھ طے پا گیا ۔ امریکن افواج جو کہ پاکستان کے اندر اور بارڈرز پر خاصی تعداد میں موجود ہیں اور پہلے بھی 9/11 کے واقعہ کے بعد یہیں سے ” اسلامی افغانستان“ کو تباہ و برباد کر کے قبضہ کر چکی ہیں اور آج کل نت نئے علاقہ پر پاکستانی بارڈر کے اندر جب چاہتی ہیں حملہ آور ہو کر مظلوم مسلمانوں کا قتل عام کر ڈالتی ہیں جسکے لئے موجودہ 87 افراد کے باجوڑ میں قتل کے واقعہ پر کسی ثبوت کی ضرورت نہ ہے۔ اسلئے ربوہ جیسی کسی جگہ جہاں کفر کے روپ میں مسلمان کہلوانے والے موجود ہیں انکا حملہ آور ہونا یا قبضہ میں امداد کر ڈالنا بائیں ہاتھ کا کام ہے ۔ صدر پاکستان کی کئی بار اسرائیل کو تسلیم کرنے کی طرف تجاویز اور تردید یں بھی ا یسے اقدام کرنے میں ممد و معاون ہیں عالم اسلام کے ممالک کے سربراہوں یا بادشاہوں نہیں بلکہ صحیح العقیدہ عوام الناس کا اندرونی دباؤ انہیں ایسے اقدام سے باز رکھے ہوئے ہے۔ ہمارے حکمرانوں کی تو اسلام دشمن پالیسیوں سے ہی یہ سب کچھ ممکن ہوتا نظر آتا ہے ۔ مرزائیوں کے سر براہ کی طرف سے کسی بھی افراتفری کو بنیاد بنا کر قادیانی ریاست کا اعلان ہوتے ہی امریکن جنگجو طیارے فوری طور پر ربوہ اےئر پورٹ پر اتریں گے اور پاکستان کے موجودہ حکمرانوں کی آنکھ مچولی کی وجہ سے یہ تعمیر ہو جائیگی۔ قادیانیوں نے اطراف میں موجود پہاڑیوں کی غاروں میں جدید ترین اسلحہ جمع کر رکھا ہے جو کہ بوقت ضرورت انکے کام آسکے گا ملک بھر سے نہیں بلکہ پوری دینا سے قادیانیوں کو اسرائیل کی طرح یہاں لا کر جمع کرنے کے لئے قادیانی ہزاروں ایکڑ زمین اطراف میں خرید چکے ہیں پاکستانی انٹیلی جنس اداروں کو سب معلوم ہے مگر سرکاری ہونے کے ناطے انکا وطیرہ ہر دور میں یہی رہا ہے کہ موجود حکمرانوں کے نظریات کے مطابق ہی وہ رپورٹس مرتب کر کے بھجواتے ہیں تاکہ مقتدر افراد کے ماتھوں پر بل نہ آسکے اور ایسے ملازمین کا دال دلیہ چلتا رہے اور امریکنوں کا تو اسمیں مفاد موجود ہے کہ وہ پھر کھل کر یہاں سے پاکستان ، افغانستان ، ہندوستان ، ایران حتیٰ کہ چین تک کو” کنٹرول “ کر سکیں گے اور انہیں کسی حکومت سے اپنے مذموم مقاصد کی تکمیل کے لئے با رگیننگ کرنے کی ضرورت نہ رہے گی یہاں تک کہ پاکستان کو اربوں ڈالر کی نام نہاد امداد دیکر اپنے مقاصد و مطالبات پورے کرنے کروانے سے بھی جان چھوٹ جائیگی اور ناجائزوغیر جمہوری قابض حکمرانوں کی سر پرستی کرتے ہوئے جو بدنامی کا دھبہ اُن پر ہے وہ بھی نہ رہے گا۔ ویسے بھی اسرائیل کی طرح عالم اسلام میں دوسرے اسرائیل کا قیام عمل میں آ جائے گا پوری دنیا جانتی ہے کہ مرزائیوں (قادیانیوں) یا یہودیوں کی پالیسیوں اور عقائد و نظریات میں کوئی فرق نہ ہے۔دونوں ایک ہی تھیلے کے چٹے بٹے ہیں پاکستانی تو حیران و ششدر ہیں کہ قادیانیوں کے افواج ِ پاکستان میں ملازمتیں حاصل کرنے پر اب تک کیوں پابندی نہ لگائی جا سکی ہے؟ حالانکہ مرزائیوں کے نام نہاد کفریہ مذہب کی بنیاد ہی انگریزوں نے اس خود کاشتہ پودے کے ذریعے مسلمانوں کے دلوں سے جہادی نظریات کو اکھاڑنے کے لئے کی تھی تا کہ وہ ہندو پاک میں مزید عرصہ مقتدر رہ سکیں مگر وہ پلان اس وقت کا میاب نہ ہو سکا۔ قادیانی جو خدا، رسول ودیگر انبیاء کسی کو نہ مانتے ہیں نہ انکا عقیدہ ہے تو پھر وہ جہاد فی سبیل اللہ کوکیسے مان سکتے ہیں ہماری فوج کا چونکہ نعرہ ہی جہاد فی سبیل اللہ ہے اسلئے پاک فوج کے نظریات سے متصادم کسی دوسرے نظریہ کے علمبرداروں کی بھرتی ویسے ہی قانون و آئین کے مطابق نہ ہے۔ برطانیہ کی سینکڑوں برس سے قائم حکومت جب مسلمانوں کے شعور سے قریب الختم ہوئی تو انہوں نے ڈوبتے کو تنکے کا سہارا کے مصداق مرزا غلام احمد نامی شخص کو مسلمانوں کے دلوں سے غیرت ایمانی ، حُبِ رسول اور جہادی نظریات کو ختم کرنے کا کام سونپا۔ اُس وقت با وجوہ وہ کامیاب نہ ہو سکا کہ بہتے ہوئے دریاؤں کا رُخ تبدیل نہیں کیا جا سکتا۔ تحریک زوروں پر تھی اور علماء کی قربانیاں اور انگریز اقتدار کی طرف سے انکی قتل و غارت عروج پر تھی اسلئے انگریزوں کو یہاں سے جانے میں ہی عافیت محسوس ہوئی مگر اپنا کاشتہ پودا نہ اکھاڑا اور مسلسل آج تک انکا مشن پورا کرنے کے لئے قادیانی جماعت تگ و دو میں مصروف ہے پورے ملک میں نہیں بلکہ عالم اسلام میں بھی ہر جگہ رسل و رسائل کے ذریعے لٹریچر کی بھر مار ہے۔ حکومتی چیک ا ینڈ بیلنس نہ ہونے کی وجہ سے ربوہ میں اب بھی عملاً انکا کنٹرول ہے کوئی ملازم ان کی جازت کے بغیر وہاں تعینات نہیں کیا جا سکتا۔ اگر ٹرانسفر ہو کر آبھی جائے تو قادیانی اسکا نا طقہ بند کر دیتے ہیں یہاں تک کہ با لآخر اسے یہاں سے راہِ فرار اختیار کرنا پڑتی ہے۔ مجلس تحفظ ختم نبوت اور مجلس احرارِ اسلام نے یہاں پر مساجد تو قائم کر رکھی ہیں مگر وہ بھی صرف سالانہ جلسہ کی حد تک ہیں عملاً مسلمانوں کا کوئی تبلیغی یا تعلیمی مشن یہاں پر کام نہیں کر رہا ۔ گو کہ 7 ستمبر1974 کو قادیانیوں کو قومی اسمبلی پاکستان نے متفقہ قرار داد کے ذریعے غیر مسلم قرار دیا تھا مگر جو قوانین مرتب کئے گئے ان پر آج تک عمل درآمد نہ ہو سکا ہے۔ ساری دنیا جانتی ہے کہ 29 مئی1974 کو ربوہ کے سٹیشن پر ر میڈیکل کالج ملتان کے نہتے 187 طلبہ جو کہ سوات کی سیر سے واپس آرہے تھے کو قادیانیوں نے مسلح حملہ کر کے زخمی کر ڈالا تھا اس میں کوئی شک نہیں کہ وقوعہ سے تین روز قبل ہی ملتان سے سوات جاتے ہوئے جب چناب ایکسپریس ربوہ (اسلام نگر) سٹیشن پر رکی تو راقم الحروف کے 1971 کے مرتب کردہ 16 صفحہ کے پمفلٹ ” آئینہ مرزائیت“ کو تقسیم کیا تھا جس پر اسٹیشن پر موجود قادیانی سیخ پا ہوگئے تُو تکار اور معمولی ہاتھا پائی کے بعد ٹرین چل پڑی مگر قادیانیوں کا اپنی مستقبل کی تصوراتی نام نہاد ریاست کے ” دارالخلافہ“ جیسے مقام پر ایسا معمولی واقعہ ان کے مزاج شیطانی کو شدید ناگوار گذرا کہ پورے ملک سے مسلح قادیانی نوجوان اکٹھے کئے گئے اور واپسی پر ان مسلح منکرینِ ختم نبوت وجہنم واصلین نے حملہ کر کے 187 مسلمان طلبہ کو شدید زخمی کر ڈالا جس کی باز گشت راقم الحروف اور ایک اور سٹوڈنٹس یونین کے عہدیدار ارباب عالم کی پریس کانفرنس سے پوری دنیا کے ریڈیو اور اخبارات میں سنی گئی۔ اور تمام پرنٹ میڈیا اخبارات و رسائل نے دوسرے دن خدا اور رسول ﷺ کے دشمنوں کی اس شرمناک حرکت کو شہہ سرخی کے طور پر شائع کیا اور جس پرپورے ملک کے صحیح العقیدہ اور مسلمہ مکاتیبِ فکر کے علماء نے اکٹھے ہو کر قادیانیوں کے خلاف تحریک کا آغاز کر دیا ۔ جب اس واقعہ کی تحقیقات ہائیکورٹ کے فُل بنچ جس کی سربراہی جسٹس صمدانی نے کی تو بھی وقوعہ کی بنیاد اسی پمفلٹ ” آئینہ مرزائیت“ کو قرار دیا گیا۔عدالت نے قادیانیوں کی تمام کفریہ کتب او ر لٹریچر سے اس پمفلٹ میں درج حوالہ جات کا موازنہ کر کے اسے حرف بحرف درست قرار دیا تھا۔اس پمفلٹ کو آج کل عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان جس کا ہیڈ آفس ملتان میں ہے مختلف زبانوں میں لاکھوں کی تعداد میں چھپوا کر تقسیم کرتی ہے ۔ قومی اسمبلی میں قرارداد سے چند روز قبل قائد حزبِ اختلاف مولانا مفتی محمود مرحوم ، مولانا شاہ احمد نورانی مرحوم، اور دیگر علماء و ممبران اسمبلی نے قادیانیوں کے کفریہ عقائد اسمبلی کے فلور پر بیان کئے تو ممبران اسمبلی دانتوں میں انگلیاں دبا کر رہ گئے۔ خود راقم الحروف نے مذکورہ پمفلٹ قائد حزب اقتدار شہید ذوالفقار علی بھٹو کو پیش کیا تو وہ ان کفریہ حوالہ جات کو دیکھ کر حیران رہ گئے ۔ نقل کفر کفر نہ باشد۔چند حوالہ جات یوں ہیں” کل مسلمانوں نے مجھے قبول کر لیا ہے اور میری دعوت کی تصدیق کر لی ہے مگر کنجریوں اور بدکاروں کی اولاد نے مجھے نہیں مانا“ ۔ ” میرے مخالف جنگلوں کے سور ہو گئے اور ان کی عورتیں کتیوں سے بڑھ گئیں“۔ حتیٰ کی تمام ممبران قومی اسمبلی نے ان کفریہ عقائد کے مندرجات / حوالہ جات کو پمفلٹ کے ذریعے دیکھا اور لاہور ہائیکورٹ کے فُل بنچ کی تحقیقات کی رپورٹ کو مدِ نظر رکھتے ہوئے مشترکہ قرار دا دکے ذریعے قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دے ڈالا۔ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ تمام مکاتیبِ فکر کے مسلمان قادیانیوں کی بڑھتی ہوئی ریشہ دوانیوں ، شر انگیزیوں اور زیر زمیں خفیہ طور پر ” قادیانی ریاست “ کے قیا م کی مذموم کوششوں کے تدارک کے لئے متحد ہو کر ان کا مقابلہ کریں ۔ فوج میں سے ان کا اثر و رسوخ ختم کرنے کے لئے تمام قادیانیوں کو فوج میں سے نکالا جائے یا کم از کم کرنل یا س سے اوپر کے عہدہ کے تمام ملازمین کو فوراً فارغ کیا جائے تاکہ ان کا پا کستان میں موجود امریکی افواج اور خود ہماری پاک فوج میں موجود قادیانیوں کی امداد سے قادیانی ریاست کا خواب شرمندہ تعبیر نہ ہو سکے۔ پاکستانی مسلمان موجودہ حکمرانوں کے عزائم کو ناکام بنانے کے لئے بھی متحد و متفق ہو کر دباؤ ڈالیں تاکہ ہماری خارجہ اوراندرونی پالیسی قرآن و سنت اور ایٹمی پاکستان کے نظریات کے مطابق مرتب ہو سکے۔ اور تمام سامراجی ممالک کی غلامی سے مسلمان آزاد ہو سکیں۔اگر عالم اسلام کے تمام ممالک سے تعلقات خراب ہونے کا خوف نہ ہوتا تو جس طرح امریکہ کی تمام دیگر پالیسیوں پر عمل درآمد ہو رہا ہے اسی طرح اسرائیل کبھی کا تسلیم کیا جا چکا ہوتا۔ ایسا اعلان چونکہ پاکستان کی پورے عالم اسلام میں شدید بدنامی کا باعث بنتا اس لئے اس کی جگہ دوسرے پلان پر عمل در آمد کا منصوبہ بنایا گیا ہے۔ کہ قادیانی ریاست کا اگر اعلان ہو بھی جائے تو اس پر حکومتی سطح پر اس قدر شدید ردِ عمل کا اظہار نہ کیا جائے اور پاکستان کے اندر اس کڑوی گولی کو نگلوانے کے لئے تجاویز مرتب کی جائیں ایسی تجاویز کے لئے اسلام آباد میں کرپٹ لادین بیورو کریٹس پر مشتمل کمیٹی دن رات مصروف عمل ہے ایسے اعلان کو موجودہ حکومت آسانی سے ہضم کر سکتی ہے ۔ سابق روایات کی طرح صرف اتنا ہی تو کہنا پڑے گا کہ اگر ہم امریکی افواج کے اس اقدام کی مخالفت کرتے تو وہ پورے ملک پر قبضہ کر لیتے ہم کیا کریں ہم تو صرف اپنے ملک کی حفاظت کے لئے اور آپ کی جان و مال کو بچانے کے لئے ایسا کر رہے ہیں اگر چند میل میں قادیانی ریاست قائم ہو بھی گئی ہے تو سیاچین کی طرح ہمیں کیا فرق پڑتا ہے؟ پہلے بھی تو ربوہ (اسلام نگر) میں انہی کا کنٹرول تھا۔وغیرہ وغیرہ۔ قادیانیوں کے اسی پلان کی تکمیل کے لئے اور موجودہ حکمرانوں کی امداد کے بل بوتے پر ہی تو قادیانیوں کے خلاف کسی قانون پر عمل درآمد نہیں ہو سکا حتیٰ کہ حکومت کی مکمل آشیر باد کی وجہ سے کوئی قادیانی اپنے نام کے ساتھ لفظ قادیانی یا مرزائی لکھنے کو تیار نہ ہے۔ نہ ہی ووٹر لسٹ میں قادیانی اپنے آپ کو غیر مسلموں کی فہرست میں یا قادیانیوں کی لسٹ میں درج کرواتے ہیں۔ سانپوں کی طرح مسلمانوں کی صفحوں میں گھسے ہوئے بہروپئے مرزائیوں کی سر گرمیاں عروج پر ہیں انکی سازشوں اور ” ڈنگ مارو بل میں گھس جاؤ“ جیسی پالیسی سے پوری ملت اسلامیہ زخمی زخمی اور لہو لہان ہے۔ ملک بھر میں موجود اہلِ سنت کے مدارس و مساجد اور اہلِ تشیع حضرات کی امام بارگاہوں پر راکٹوں ، دستی بموں اور کلاشن کوفوں کے حملوں کا پلان یہی لوگ مرتب کرتے ہیں اس سلسلہ میں سرمایہ بھی مہیا کرتے ہیں مسلمانوں کے متفقہ علیہ نظریات اور مسالک میں معمولی اختلافات کی جڑیں گہری کر رہے ہیں اس طرح سے1974 کی تحریک ختم نبوت میں گلی کوچوں کے اندر اپنی پٹائی اور املاک کے نقصان کا بدلہ مسلمانوں کو آپس میں لڑاؤ کی پالیسی اختیار کر کے خوب خوب لے رہے ہیں اور ہم خواب خرگوش میں مدہوش پڑے ہیں۔ چیف جسٹس سپریم کورٹ/ چیف جسٹسزہائی کورٹس / حکمرانوں میں صحیح العقیدہ مسلمان حضرات / آئی جی صاحبان پولیس صوبہ جات/ وزارت داخلہ بھی اس کا سو یو موٹو ایکشن لیکر اس کے تدارک کے لئے اقدامات کریں۔
نوٹ: دنیا بھر کے تما م اخبارات ، رسائل و جرائد کے ایڈیٹرصاحبان/ انچارج آڈیو وڈیو، ریڈیو و پرنٹ میڈیا اس کالم کو خدا اور اسکے رسول ﷺ کی محبت کے تقاضوں اور ملکی سالمیت کے تحفظ اور دینی اقدار کو روند ڈالنے کی قادیانیوں کی پالیسیوں سے نجات کے لئے اس کو ضرور بالضرور من و عن شائع و نشر کر کے مشکور فرمائیں۔ دیگر افراد بھی اپنے احباب و عزیز و اقارب تک اس پیغام کو لازماً پہنچائیں اور ثوابِ دارین حاصل کریں۔


Muntakhib Tehreer

Friday, 25 November 2011

کجھ بغض دی ریت

کجھ بغض دی ریت
وچ نہیں ملدا

اوہ ہار تے جیت
وچ نہیں ملد

مخلوق خدا نال
پیار تے کر،

رب صرف مسیت
وچ نہیں ملدا۔

محبت روٹھ جاتی ہے

مکمل دو ہی دانوں پر
یہ تسبیح محبت ہے

جو آئے تیسرا دانا
یہ ڈوری ٹوٹ جاتی ہے

مقرر وقت ہوتا ہے
محبت کی نمازوں کا

ادا جن کی نکل جائے
قضاء بھی چھوٹ جاتی ہے

محبت کی نمازوں میں
امامت ایک کو سونپو

اسے تکنے اسے تکنے
سے نیت ٹوٹ جاتی ہے

محبت دل کا سجدہ ہے
جو ہے توحید پر قائم

نظر کے شرک والوں سے
محبت روٹھ جاتی ہے

Sunday, 13 November 2011

جب عمر کی نقدی ختم ہوئی : ابن انشاء

ا ب عمر کی نقدی ختم ہوئی
ا ب ہم کو ادھار کی حاجت ہے
ہے کوئی جو ساہو کار بنے
ہے کوئی جو دیون ہار بنے
کچھ سال ،مہینے، دن لوگو
پر سود بیاج کے بن لوگو
ہاں اپنی جاں کے خزانے سے
ہاں عمر کے توشہ خانے سے
کیا کوئی بھی ساہو کار نہیں
کیا کوئی بھی دیون ہار نہیں
جب نام ادھر کا آیا کیوں
سب نے سر کو جھکایا ہے
کچھ کام ہمیں نپٹانے ہیں
جنہیں جاننے والے جانے ہیں
کچھ پیار ولار کے دھندے ہیں
کچھ جگ کے دوسرے پھندے ہیں
ہم مانگتے نہیں ہزار برس
دس پانچ برس دو چار برس
ہاں ،سود بیاج بھی دے لیں گے
ہاں اور خراج بھی دے لیں گے
آسان بنے، دشوار بنے
پر کوئی تو دیون ہار بنے
تم کون ہو تمہارا نام کیا ہے
کچھ ہم سے تم کو کام کیا ہے
کیوں اس مجمع میں آئی ہو
کچھ مانگتی ہو ؟ کچھ لا
ئی ہو
یہ کاروبار کی باتیں ہیں
یہ نقد ادھار کی باتیں ہیں
ہم بیٹھے ہیں کشکول لیے
سب عمر کی نقدی ختم کیے
گر شعر کے رشتے آئی ہو
تب سمجھو جلد جدائی ہو
اب گیت گیاسنگیت گیا
ہاں شعر کا موسم بیت گیا اب پت جھڑ آئی پات گریں
کچھ صبح گریں، کچھ را ت گریں
یہ ا پنے یار پرانے ہیں
اک عمر سے ہم کو جانے ہیں
ان سب کے پاس ہے مال بہت
ہاں عمر کے ماہ و سال بہت
ان سب کو ہم نے بلایا ہے
اور جھولی کو پھیلایا ہے
تم جاؤ ان سے بات کریں
ہم تم سے نا ملاقات کریں
کیا پانچ برس ؟
کیا عمرا پنی کے پانچ برس ؟
تم جا ن کی تھیلی لائی ہو ؟
کیا پاگل ہو ؟ سو دائی ہو ؟
جب عمر کا آخر آتا ہے
ہر دن صدیاں بن جاتا ہے
جینے کی ہوس ہی زالی ہے
ہے کون جو اس سے خالی ہے
کیا موت سے پہلے مرنا ہے
تم کو تو بہت کچھ کرنا ہے
پھر تم ہو ہماری کون بھلا
ہاں تم سے ہمارا رشتہ ہے
کیاسود بیاج کا لالچ ہے ؟
کسی اور خراج کا لالچ ہے ؟
تم سوہنی ہو ، من موہنی ہو ؛
تم جا کر پوری عمر جیو
یہ پانچ برس، یہ چار برس
چھن جائیں تو لگیں ہزار برس
سب دوست گئے سب یار گئے
تھے جتنے ساہو کار ، گئے
بس ایک یہ ناری بیٹھی ہے
یہ کون ہے ؟ کیا ہے ؟ کیسی ہے ؟
ہاں عمر ہمیں درکار بھی ہے ؟
ہاں جینے سے ہمیں پیار بھی ہے
جب مانگیں جیون کی گھڑیاں
گستاخ
اکھیاں کتھے جا لڑیاں
ہم قرض تمہیں لوٹا دیں گے
کچھ اور بھی گھڑیاں لا دیں گے
جو ساعت و ماہ و سال نہیں
وہ گھڑیاں جن کو زوال نہیں
لو اپنے جی میں اتار لیا
لو ہم نے تم کو ادھار لیا

Saturday, 12 November 2011

المیہ!!!!

کون رکھے گا ہمیں یاد

اس دور مفلسی میں

حالات ایسے ہیں کہ

لوگوں کو خدا یاد نہیں



Saturday, 5 November 2011

لونڈی کی پکار پر معتصم باللہ کی یلغار

مشھورعباسی خلیفہ معتصم باللہ (833ءتا 843ء) کے دربار خلافت میں ایک شخص کھڑا ہوا- عرض کی: امیر المومنین میں عموریۃ سے آرہا ہوں- میں نے ایک عجیب منظر دیکھا- ایک موٹے عیسائی نے ایک مسلمان لونڈی کے چہرے پر زناٹے دار تھپڑ رسید کیا- لونڈی نے بے بسی کے عالم مین آہ بھری اور بے اختیار اس کے منہ سے نکلا:
{ وا معتصماہ}
" ہائے خلیفہ معتصم تم کہاں ہو!"

اس موٹے عیسائی نے لونڈی کا مذاق اڑاتے ہوئے کہا:

{ وما یقدر علیہ المعتصم! یجیء علی ابلق وینصرک؟!}
" معتصم باللہ اس پکار کا کیوں کر جواب دے سکتا ہے! ایا وہ چتکبرے گھورے پر سوار ہوکر تیرے پاس آئے گا اور تیری مدد کرے گا؟"

پھر اس لونڈی کے رخسار پر کھینچ کر ایک دوسرا تھپڑ رسید کیا جس سے وہ تلملا اٹھی-
یہ سن کر خلیفہ معتصم باللہ نے اس آدمی سے دریافت کیا:
" عموریہ کس سمت میں ہے؟"

اس آدمی نے عموریہ کی سمت اشارہ کرکے بتلایا کہ عموریہ اس طرف ہے-
خلیفہ معتصم باللہ نے اپنا رخ عموریہ کی سمت موڑا اور کہا:

{ لبیک، ایتھا الجاریۃ! البیک، ھاذا المعتطم باللہ اجابک}
"میں تیری آواز پر حاضر ہوں اے لونڈی، معتصم تیری پکار کا جواب دینے آرہا ہے-"

پھر خلیفہ نے عموریہ کے لیے بارہ ھزار چتکبرے گھوڑے تیار کرائے اور ایک لشکر جرار لےکر عموریہ پہنچا اور اس کا محاصرہ کرلیا- جب اس محاصرہے کی مدت طول پکڑ گئی تو اس نے مشیروں سے مشورہ طلب کیا- انہوں نے کہا: "ہمارے خیال کے مطابق آپ عموریہ کو انگور اور انجیر کے پکنے کے زمانے ہی میں فتح کرسکتے ہیں-" چونکہ اس فصل کے پکنے کے لیے ایک لمبا وقت درکار تھا، اس لیے خلیفہ پر یہ مشورہ بڑا گراں گزرا-

خلیفہ اسی رات اپنے خاص سپاہیوں کے ہمراہ جپکے چپکے لشکر کے معائنے کے لیے نکلا تاکہ مجاہدین کی باتیں سن سکے کہ اس بارے میں ان کی چہ مگوئیان کس نتیجے پر پہنچنے والی ہیں- خلیفہ کا گزر ایک خیمے کے پاس سے ہوا جس میں ایک لوہار گھوڑوں کی نعلیں تیار کررہا تھا- بٹھی گرم تھی- وہ گرم گرم سرخ لوہے کی نعل نکالتا تو اس کے سامنے ایک گنجا اور بد صورت غلام بڑی تیزی سے ہتھوڑا چلاتا جاتا-
لوہار بڑی مہارت سے نعل کو الٹا پلٹتا اور اسے پانی سے بھرے برتن میں ڈالتا جاتا-
اچانک غلام نے برے زور سے ہتھوڑا مارا اور کہنے لگا:

{ فی راس المعتصم}
" یہ معتصم کے سر پر"
لوہار نے غلام سے کہا: تم نے بڑا برا کلمہ کہا ہے- اپنی اوقات میں رہو- تمہیں اس بات کا کوئی حق نہیں کہ خلیفہ کے بارے میں ایسا کلمہ کہو-
غلام کہنے لگا: " تمہاری بات بلکل درست ہے مگر ہمارے خلیفہ بالکل عقل کا کورا ہے- اس کے پاس اتنی فوج ہے- تمام تر قوت اور طاقت ہونے کی باوجود حملہ میں تاخیر کرنا کسی صورت مناسب نہین- اللہ کی قسم! اگر خلیفہ مجھے یہ ذم داری سونپ دیتا تو میں کل کا دن عموریہ شہر میں گزارتا"-
لوہار اور اس کے غلام کا یہ کلام سن کر خلیفہ معتصم باللہ کو بڑا تعحب ہوا- پھر اس نے چند سپاہیوں کو اس خیمے پر نظر رکھنے کا حکم دیا اور اپنے خیمے کی طرف واپس ہوگیا-

صبح ہوئی تو ان سپاہیوں نے اس ہتھوڑے مارنے والے غلام کو خلیفہ معتصم باللہ کی حدمت میں حاضر کیا-
خلیفہ نے پوچھا:
" رات جو باتیں مین نے سنی ہین، ان باتوں کی کرنے کی تمہیں جرات کیسے ہوئی؟
غلام نے جواب دیا:
" آپ نے جو کچھ سنا ہے، وہ سچ ہے- اگر آپ جنگ میں مجھے کماندر بنادیں تو مجھے امید ہے کہ اللہ تعالی عموریہ کو میرے ہاتھوں فتح کروادے گا-"
خلیفہ نے کہا:
"جاؤ میں نے فوج کی کمان تمہیں سونپ دی-"
چنانچہ اللہ تعالی نے عموریہ کو اس غلام کے ہاتھوں فتح کرادیا- پھر معتصم باللہ شہر کے اندر داخل ہوا- اس اس نے فورا اس آدمی کو تلاش کیا جو لونڈی کے متعلق اس کے دربار تک شکایت اور پیغام لے گیا تھا اور اس سے فرمایا: جہاں تونے اس لونڈی کو دیکھا تھا وہاں مجھے لے چلو- وہ آدمی خلیفہ کو وہاں لے گیا اور لونڈی کےاس کے گھر سے بلا کر خلیفہ کی حدمت میں حاضر کیا- اس وقت خلیفہ نے لونڈی سے کہا:{ یا جاریۃ! ھل اجابک المعتطم؟}
" لڑکی! بتا معتصم تیری مدد کو پہنچا یا نہیں؟"
اس لڑکی نے اثبات میں اپنا سر ہلادیا- اور اب تلاش اس موٹے عیسائی کی ہوئی جس نے اس لڑکی کو تھپڑ رسید کیا تھا- اس کو پکڑ کر لایا گیا اور اس لڑکی سے کہا گیا کہ آج وقت ہے تم اس سے اپنا بدلہ لے لو- اللہ اکبر

محاضرات الابرا: 2/63، قصص العرب :3/449

اقتباس: سنہرے حروف
از: عبد المالک مجاھد

Thursday, 3 November 2011

مسلمانوں کے نام ایک غیر مسلم شاعر کا پیام


ایک ہی پربھو کی پوجا ہم اگر کرتے نہیں
ایک ہی در پر مگر سر آپ بھی دھرتے نہیں

اپنی سجدہ گاہ دیوی کا اگر استھان ہے

آپ کے سجدوں کا مرکز ’قبر ‘ جو بے جان ہے

اپنے معبودوں کی گنتی ہم اگر رکھتے نہیں

آپ کے مشکل کشاؤں کو بھی گن سکتے نہیں

’’جتنے کنکر اتنے شنکر‘‘ یہ اگر مشہور ہے

ساری درگاہوں پہ سجدہ آپ کا دستور ہے

اپنے دیوی دیوتاؤں کو اگر ہے اختیار

آپ کے ولیوں کی طاقت کا نہیں حدوشمار

وقتِ مشکل ہے اگر نعرہ مرا ’ بجرنگ بلی

آپ بھی وقتِ ضرورت نعرہ زن ہیں ’یاعلی‘

لیتا ہے اوتار پربھو جبکہ اپنے دیس میں

آپ کہتے ہیں ’’خدا ہے مصطفٰے کے بھیس میں‘‘

جس طرح ہم ہیں بجاتے مندروں میں گھنٹیاں

تربتوں پر آپ کو دیکھا بجاتے تالیاں

ہم بھجن کرتے ہیں گاکر دیوتا کی خوبیاں

آپ بھی قبروں پہ گاتے جھوم کر قوّالیاں

ہم چڑھاتے ہیں بتوں پر دودھ یا پانی کی دھار

آپ کو دیکھا چڑھاتے مرغ چادر ،شاندار

بت کی پوجا ہم کریں، ہم کو ملے’’نارِ سقر

آپ پوجیں قبر تو کیونکر ملے جنّت میں گھر؟

آپ مشرک، ہم بھی مشرک معاملہ جب صاف ہے

جنّتی تم،دوزخی ہم، یہ کوئی انصاف ہے

مورتی پتّھر کی پوجیں گر! تو ہم بدنام ہیں

آپ’’سنگِ نقشِپا‘‘ پوجیں تو نیکو نام ہیں

کتنا ملتا جلتا اپنا آپ سے ایمان ہے

’آپ کہتے ہیں مگر ہم کو ’’ تو بے ایمان ہے ‘

شرکیہ اعمال سے گر غیر مسلم ہم ہوئے

پھر وہی اعمال کرکے آپ کیوں مسلم ہوئے

ہم بھی جنّت میں رہیں گے تم اگر ہو جنّتی

ورنہ دوزخ میں ہمارے ساتھ ہوں گے آپ بھی

ہے یہ نیّر کی صدا سن لو مسلماں غور سے

اب نہ کہنا دوزخی ہم کو کسی بھی طور سے


اوم پر کاش نیّر، لدھیانوی

وہ دولت بھی آخر کھو بیٹے مسلماں

کرے غیر گر بت کی پوجا تو کافر
جو ٹھہرائے بیٹا خدا کا تو کافر
کہے آگ کو اپنا قبلہ تو کافر
کواکب میں مانے کرشمہ تو کافر
مگر مومنوں پر کشادہ ہیں راہیں
پرستش کریں شوق سے جس کی چاہیں

نبی کو جو چاہیں خدا کر دکھائیں
اماموں کا رتبہ نبی سے بڑھائیں
مزاروں پہ دن رات نذریں چڑھائیں
شہیدوں سے جا جا کے مانگیں دعائیں
نہ توحید میں کچھ خیال اس سے آئے
نہ اسلام بگڑے نہ ایمان جائے

وہ دین جس سے توحید پھیلی جہاں میں
ہوا جلوہ گر حق زمیں و زماں میں
رہا شرک باقی نا وہم و گماں میں
وہ بدلہ گیا آکے ہندوستاں میں
ہمیشہ سے اسلام تھا جس پہ نازاں
وہ دولت بھی آخر کھو بیٹے مسلماں


مولانا الطاف حسین حالی

Monday, 31 October 2011

پڑھیں آن لائین اور حاصل کریں سرٹفیکیٹ، ڈپلومہ


زندہ قوم اور مردہ قوم::::::فرق صاف ہے


شکریہ جناب: بشارت علی صاحب
ایک خود سوزی نے تیونس میں انقلاب بر پا کر دیا اور پاکستان میں خود سوزی نے ؟؟؟؟

محمد باﺅ عزیزی گریجویٹ تھا اور جنوری 2010 سے تیونس کی سڑکوں اور گلیوں میں نوکری تلا ش کرتا رہا۔مایوس ہوکر اس نے کام کرنے کی بھی کوشش کی مگر وہ اس میں بھی ناکام رہا اور آخر تنگ آ کر اس نے پیٹرول کی بھری ہوئی بوتل سے تیونس کی پا رلیمنٹ کے سامنے اپنے اوپر پیٹرول ڈال کر خود کو آگ لگالی۔ باﺅ عزیزی کی زندگی تلخیوں کی پوری کتاب تھی۔

باﺅ عزیزی نے جب اپنے آپ کو آگ لگائی تو اس وقت تیونس میں صدر زین العابدین بن علی کی حکومت تھی جو پورے ملک پر قابض تھے ملک کا میڈیا مکمل طور پر حکومت کا پابند تھا ہر خبر حکومت کی مر ضی سے نشر ہوتی تھی۔ یہ ہی وجہ ہے کہ باﺅ عزیزی کی خود سوزی کی تصاویر یا ویڈیو کسی چینل پر نشر نہیں ہوئی بلکہ تیونس کے ایک شہری کے موبائل فون کے ذریعے پوری دنیا تک پہنچی جس نے تیونس میں انقلاب کو جنم دیا جس کے زدمیں عرب کے دیگر ڈیکٹیٹرز بھی آگئے ۔

نوشہرو فیروز سے تعلق رکھنے والے راجہ رند خان نے بھی 24 اکتوبر کو یہی کیا ۔ وہ میٹرک پاس تھا۔ اس کی عمر بھی باﺅ عزیزی کی طرح 25 سال تھی وہ دو بچوں کا باپ اور ایک حاملہ بیوی کا خاوند تھا۔ راجہ نوکری کی تلا ش میں اسلام آباد آیااور اپنے علاقے کے ایم این اے سے ملا قات کی کوشش کی لیکن پولیس نے اسے پا رلیمنٹ لاجز میں گھسنے کی اجازت نہ دی تو وہ پارلیمنٹ کے سامنے دھرنا دینے پر مجبور ہوگیا اور اس کے دھرنے پر کسی نے دھیان نہ دیا ۔ چناچہ وہ خود سوزی کرنے پر مجبور ہوگیا اور راجہ رند نے 24 اکتوبر کو خود کوپارلیمنٹ کے سامنے آگ لگالی۔راجہ رند کی خبر جب میڈیا پر نشر ہوئی تو تھوڑی دیر تک پورا ملک سکتے کی حالت میں رہا لیکن پھر زندگی معمول پر آگئی اور لوگوں نے راجہ کی موت کو ایک نیوز پیکج یا ایک amazing نیوز کے طور پر لیا اور یوں میں غلط ثابت ہوگیا اور راجہ کی قربانی رائیگاں چلی گئی۔

باﺅ عزیزی کی موت تو تیونس میں انقلاب برپا کرگئی مگر افسوس راجہ رند کی خود سوزی پاکستان کو کچھ نہیں دے سکی اور پاکستان آج بھی راجہ رند کی طرح روز جی رہا ہے اور روز مررہا ہے ۔ سوال یہ ہے کہ ہمارے ملک میں انقلاب برپا کیوں نہ ہوسکا کیونکہ ہم لوگ صرف زندہ ہیں مگر ہم میں زندہ قوموں والی کوئی بات نہیں، اندر سے سب گل سڑ چکے ہیں، الزام لگاکے روز رات کو رضائی اوڑہ کے سونا اور دوسرے دن اٹھ کے دوبارہ حکومت کو برا بھلا کہناہمارا معمول بن گیا ہے ۔لیکن عملی طور پر ہم نے کچھ بھی نہیں کیا اور صرف زرداری و رحمان ملک کو برا بھلا کہ کر اپنی بھڑاس نکالتے رہتے ہیں ۔

یہ تو ایک معمولی راجہ رند تھا ایک وہ حبیب جالب تھے جو انقلابی نظمیں لکھتے رہے اور انقلاب کی باتیں کرتے ہوئے اس جہاں فانی سے کوچ کرگئے مگر اس قوم پر کو ئی فرق نہ پڑا۔ پاکستان میں پچھلے برس 1600 افراد نے ریکا رڈخود کشی کی مگر کیا ہوا؟ راجہ رند خان کی موت نے اس کی بیوی کو پولیس میں نوکری دلوادی مگر کیا راجہ رند خان کی خود سوزی نے اس ملک کو کچھ دیا۔

Friday, 28 October 2011

بچے

بھوک چہروں پہ لیے چاند سے پیارے بچے
بیچتے پھرتے ہیں گلیوں میں غبارے بچے

ان ہواؤں سے تو بارود کی بُو آتی ہے
ان فضاؤں میں تو مر جائیں گے سارے بچے

کیا بھروسہ ہے سمندر کا، خدا خیر کرے
سیپیاں چننے گئے ہیں مرے سارے بچے

ہو گیا چرخِ ستم گر کا کلیجہ ٹھنڈا
مر گئے پیاس سے دریا کے کنارے بچے

یہ ضروری ہے نئے کل کی ضمانت دی جائے
ورنہ سڑکوں پہ نکل آئیں گے سارے بچے

Wednesday, 26 October 2011

:::::Go America Go America::::::


~~Letter to Americans~~

Our country has suffered/is suffering from dictatorship by its elected/unelected leaders. They are involved in murder of thousands of innocent civilians in the tribal regions of Pakistan and Karachi. They are corrupt and will not let an ordinary Pakistani prosper. Human Rights violations, chaos, lawlessness, and all that comes with it is pretty much thriving in our country. Drug Mafia, Land mafia this that and jack mafia, we have them all. Justice takes forever, in fact, may take for never. We have weapons that can be misused against our own people by our own institutions at any time. Military dictatorship is still a threat in Pakistan. The rich are getting richer and the poor are getting poorer by the day. The educated migrate from here due to lack of opportunities. We have disputes with our neighbors and have had many wars. Ethnic and religious tension is in the air. I heard some voices talk about anarchy. People don’t like their president who is considered a gangster and murderer of his wife. I don’t like him either even though I’m not too sure about who killed BB. Our administration does not have full control over its territory. There are some separatist movements in Pakistan and some just fight others because they are paid to do so. Suicide bombings are common while our law enforcement agencies are immoral. Women, children, minorities and other groups of people are deprived of their basic rights on a daily basis. Feudalism, slavery, and honor killings are still in vogue.


Please do not consider the above as an invitation to invade Pakistan and/or fight for our rights. Stay out! Let us Pakistanis fix our problems even if it takes long. You haven’t fixed any country with your military intervention so far, and I don’t think you can fix ours. What you did in Iraq, Afghanistan, Vietnam and Libya has claimed more lives than the oppressor you tried to remove. Has put the people at an acute economic disadvantage, destroyed the very fabric of society, social structure, and governance. And you didn’t even get lucky to win their resources after several attempts. You do not have the automatic responsibility to fix Pakistan. You have no business here!

Tuesday, 25 October 2011

..:::::تمہاری یاد کے موسم:::::..

تمہاری یاد کے موسم بڑی شدت کے ہوتے ہیں
کبھی آنکھیں برستی ہیں
تمہیں دیکھیں ترستی ہیں
کبھی دل ڈوب جاتا ہے
دھڑکنا بھول جاتا ہے
یہ ساری دھوپ سورج کی مرے سر پر اترتی ہے
مرے اندر ٹھہر جاتی ہے
دل کو چیرتی ٹھنڈک
کبھی یہ پیرھن میرے جھلس کر راکھ ہوتے ھیں
کبھی آنکھوں کے سارے خواب جل کر خاک ہوتے ہیں
کبھی میں برف ہوتی ہوں
میرے ہاتھوں کی نیلاہٹ مجھے محسوس ہوتی ہے
پگھلتی ہوں توآنکھوں سے بھی ساون ٹوٹ پڑتا ہے
بکھرتی ہوں تو اک طوفان ہر سو پھیل جاتا ہے
سمٹتی ہوں تو اک کتبہ نگاہوں میں ٹہرتا جاتا ہے
تمہارے نام کا کتبہ
تمہاری قبر کا کتبہ

Thursday, 13 October 2011

لو کرا لو کشمیر آزاد

بھائیو!

یہ کالم پڑھیں اور بتائیں کہ کشمیر کون آزاد کرائے گا?

چلو چھوڑو!

چلو چھوڑو!
محبت جھوٹ ہے
عہدِ وفا اِک شغَل ہے بے کار لوگوں کا
’’طَلَب ‘‘ سوکھے ہوئے پتوں کا بے رونق جزیرہ ہے
’’ خلش ‘‘ دیمک زدہ اوراق پر بوسیدہ سطروں کا ذخیرہ ہے
’’ خُمارِ وصل ‘‘ تپتی دھوپ کے سینے پہ اُڑتے بادلوں کی رائیگاں بخشش!
’’ غبارِ ہجر ‘‘ صحرا میں سَرابوں سے اَٹے موسم کا خمیازہ
چلو چھوڑو!
کہ اب تک میں اندھیروں کی دھمک میں سانس کی ضربوں پہ
چاہت کی بنا رکھ کر سفر کرتا رہا ہوں گا
مجھے احساس ہی کب تھا
کہ تُم بھی موسموں کے ساتھ اپنے پیرہن کے
رنگ بدلوگی!
چلو چھوڑو!
وہ سارے خواب کچّی بھُر بھُری مٹی کے بے قیمت گھروندے تھے
وہ سارے ذائقے میری زباں پر زخم بن کر جم گئے ہوں گے
تمہارے اُنگلیوں کی نرم پوریں پتھروں پر نام لکھتی تھیں میرا لیکن
تمہاری اُنگلیاں تو عادتاً یہ جُرم کرتی تھیں
چلو چھوڑو!
سفر میں اجنبی لوگوں سے ایسے حادثے سرزد ہوا کرتے ہیں
صدیوں سے
چلو چھوڑو!
میرا ہونا نہ ہونا اِک برابر ہے
تم اپنے خال و خد کو آئینے میں پھر نکھرنے دو
تم اپنی آنکھ کی بستی میں پھر سے اِک نیا موسم اُترنے دو!
’’ میرے خوابوں کو مرنے دو ‘‘
نئی تصویر دیکھو
پھر نیا مکتوب لکھّو
پھر نئے موسم نئے لفظوں سے اپنا سلسلہ جوڑو
میرے ماضی کی چاہت رائیگاں سمجھو
میری یادوں سے کچّے رابطے توڑو
چلو چھوڑو
محبت جھوٹ ہے
عہدِ وفا اِک شَغل ہے بے کار لوگوں کا

Tuesday, 11 October 2011

سچ کہوں مجھ کو یہ عنوان برا لگتا ہے


سچ کہوں مجھ کو یہ عنوان برا لگتا ہے
ظلم سہتا ہوا انسان برا لگتا ہے

کس قدر ہو گئی مصروف یہ دنیا اپنی
ایک دن ٹھہرے تو مہمان برا لگتا ہے

ان کی خدمت تو بہت دور، بیٹوں بیٹیوں کو
بوڑھے ماں باپ کا فرمان برا لگتا ہے

میرے اللہ میری نسلوں کو ذلت سے نکال
ہاتھ پھیلائے ہوئے مسلمان برا لگتا ہے۔


Monday, 3 October 2011

!!!میرے وطن کے لوگو!!!

شکریہ بشارت علی بھائی

میرے وطن کے اداس لوگو!
نہ خود کو اتنا حقیر سمجھو
کہ کوئی تم سے حساب مانگے
خواہشوں کی کتاب مانگے

نہ خود کو اتنا قلیل سمجھو،
کہ کوئی اٹھ کر کہے یہ تم سے
وفائیں اپنی ہمیں لوٹا دو،
وطن کو اپنے ہمیں تھما دو

اٹھو اور اٹھ کر بتا دو ان کو
کہ ہم اہل ایمان سارے
نہ ہم میں کوئی صنم کدہ ہے
ہمارے دل میں تو اک خدا ہے

میرے وطن کے اداس لوگو!
جھکے سروں کو اٹھا کے دیکھو
قدم تو آگے بڑھا کے دیکھو
ہےاک طاقت تمہارے سر پر
کرے گی سایہ جو ان سروں پر
قدم قدم پر جو ساتھ دے گی
اگر گرئے تو سنبھال لے گی

میرے وطن کے اداس لوگو!
اٹھو چلو اب وطن سنبھالو!!!

حوا کی بیٹی، تڑپ رہی ہے

آج کا دن بھی ہر دن کی طرح بہت خوبصورت تھا، امنگوں سے بھرا، پیار کی دھوپ لیئے۔ وہ صبح سویرے کالج کے لیئے تیار ہوئی باپ کی شفقت اور ماں کا پیار سمیٹے خوشی سے کالج روانہ ہوئی۔ اس کے بہت سے خواب تھے بہت سارے جذبات، جب سے اس نے میٹرک میں نمایاں نمبر لیئے تھے تب سے نا صرف گھر بھر میں معتبر ہوگئی تھی بلکہ سہلیوں سکھیوں میں بھی سب اس کو پسند کرنے لگے تھے۔

اس کا خواب تھا کہ وہ بہت سارا پڑھے گی، اور اپنے والدین کے لیئے فخر بنے گی۔ بھائی بہنوں کے لیئے تمغہ امتیاز بنے گی۔ ساری امنگیں اور جذبات اپنی جگہ لیکن اس کا تعلق ایک متوسط گھرانے سے تھا، باپ بہت محنت سے اور سفید پوشی کا بھرم لیئے اپنے بچوں کے تگ و دو میں مصروف تھا۔

بہت خوشی سے وہ اپنے کالج میں پہنچی اور کمرہ جماعت میں پورے انہماک سے پڑھائی میں مصروف ہو گئی اور اسے وقت گزرنے کا پتا ہی نا چلا، جب اچانک اس کی ایک ٹیچر نے اسے آکر بلایا اور کہا کہ وہ اس کے ساتھ آئے، وہ کچھ سمجھی نا سمجھی کیفیت میں اپنی جگہ سے اٹھی اور اس کے پیچے چل پڑی، باہر جا کر اس کی ٹیچر نے آہستہ سے مگر پریشان لہجے میں اسے کہا کہ تمہاری والدہ کی طبعیت بہت خراب ہو گئی ہے اور تمہیں جلدی سے گھر جانا چاہیئے، یہ خبر ایک بجلی کی طرح اس کے دل و دماغ پر گری اور اسے کچھ سمجھ نا آیا کہ کیا کرئے بہت عجلت میں اس نے اپنی کتابیں اٹھایئں اور باہر کی طرف دوڑی، اس کی وہ ٹیچر اس کے ساتھ ساتھ تھی، پھر داخلی گیٹ سے باہر آتے ہی اس کی نظر اپنے تایا زاد پر پڑی اور ناگواری کا احساس فوری طور پر اس کے چہرے پر عیاں تھا ، کہنے کو تو وہ اس کا رشتہ دار بھائی تھا لیکن بے انتہا دولت، اثر ورسوخ کی وجہ سے یہ لوگ انہیں خاطر میں نا لاتے تھے اور ہمیشہ انہیں ذلیل کرنے کی کوشش میں رہتے تھے۔ لیکن اسوقت صورت حال کچھ عجیب تھی وہ اپنے چہرے پر پریشانی طاری کئے اس کی طرف لپکا، اور بولا کہ اس کی والدہ کی طبعیت بہت خراب ہے لہذا وہ اسے لینے آیا ہے، سو وہ جلدی سے اس کے ساتھ گاڑی میں بیٹھے، وہ شش وپنج کے عالم میں اس کی گاڑی تک آئی لیکن گاڑی میں سوار تین افراد کو دیکھ کر حواس باختہ ہوگئی، وہ بہت تیزی سے نیچے اترے اور اس سے پہلے کہ وہ کچھ سمجھ سکتی انہوں نے اسے آن دبوچا اور گاڑی میں ڈال دیا۔

بے بسی اور گھبراہٹ میں اس نے پلٹ کر اپنے ساتھ آنیوالی ٹیچر کی طرف دیکھا لیکن وہ تو کب کی اپنا کام کر کے جا چکی تھی۔ وہ چیخی لیکن اس کی آواز سننے کے لیئے وہاں کوئی نہیں تھا، اور گاڑی فراٹے بھرتی کسی نامعلوم جگہ کی طرف جا رہی تھی، اس دھان پان سی میٹرک کی لڑکی نے بہت آہ و بکا کی لیکن کہیں اس کی آواز نا سنی گئی،

اچانک گاڑی ایک ویران جگہ پر رکی، اور انہوں نے کھینچ کر اسے نیچے اتارا،

اس کے بعد جو ہوا اسے نا تو بیان کیا جا سکتا ہے اور نا کسی بھی غیرت مند انسان کے لیئے ایسا سوچنا ہی ممکن ہے۔

ان درندوں نے اپنی درندگی اور حرام کاری کا ثبوت دیتے ہوئے اسے پامال کیا اور وہاں سے فرار ہوگئے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

افسوس صد افسوس

یقیناً عرش بھی کانپا ہوگا اور ہوائیں روئی ہوں گی، ہر وہ شے جو انسان نہیں وہ انسان کی بربریت اور درندگی پر نوح خواں ہو گی۔

تیسرے دن اس کو مقامی ہسپتال میں جب ہوش آیا تو اندازہ ہوا کہ اس کے ساتھ کیا سے کیا ہو گیا۔

وزیر اعلٰی پنجاب نے از خود نوٹس لے لیا،
بے غیرتوں کا ٹولہ پولیس پہلے تو رپورٹ درج نہیں کررہی تھی اور جب مرکزی ملزم فرار ہو گیا تو ایکشن میں آ گئ،
آج صبح کی رپورٹ کے مرکزی مجرم کو راولپنڈی سے گرفتار کر لیا گیا۔

میرا سوال یہ ہے کہ: اب آگے کیا ہو گا?
کیا ایک کیس چلے گا اور جب تک اس کا فیصلہ ہو گا تب تک یہ افسوس ناک دل دہلا دینے والا واقعہ ماضی کی راکھ بن چکا ہوگا?
یا پھر اس میں واسطہ و بل واسطہ ملوث افراد کو کھلے چوک میں گولی مار کر لٹکا دینا چائیے تا کہ عبرت ہو۔


آخر کوئی تو ایسی سزا ہو جو عبرت ناک ہو اور دوسروں کے لیئے سبق ہو۔