Tuesday, 2 March 2021

استاد کی قدرومنزلت

 سلطنت عمان کا سلطان "قابوس بن سعید رحمۃ اللہ علیہ" کا پروٹوکولز کے بارے میں اپنا خاص نظریہ تھا۔ وہ زندگی بھر کسی شخصیت کے استقبال کیلیئے ہوائی اڈے نہ گئے۔ مگر ان کی یہ عادت اُس وقت ٹوٹ گئی جب انہوں نے انڈیا کے صدر  شنکر دیال شرما کا ہوائی اڈے پر جا کر استقبال کیا۔ 


حکومتی اراکین اور عہدیداران اس بات پر حیران و پریشان تو تھے ہی صحافیوں کیلیئے بھی یہ سب کچھ انوکھا اور حیرت و تعجب کا سبب بن گیا تھا۔ 


سلطان قابوس انڈین صدر سے اس کے جہاز میں کرسی پر سے اٹھنے سے پہلے ہی جا کر گلے ملے، اس کے ساتھ ہی ہاتھوں میں ہاتھ ڈالے جہاز سے نیچے اترے، جب کار کے نزدیک پہنچے تو ڈرائیور کو اتر جانے کا کہا، خود جا کر کار کا دروازہ کھولا، مہمان کو بٹھایا اور خود ہی کار چلا کر مہمان کو اپنے محل میں لائے۔ 


بعد میں جب صحافیوں نے اس بارے میں سلطان سے سبب پوچھا تو انہوں نے جواباً بتایا: میں ایئرپورٹ پر انڈیا کے صدر کے استقبال کیلیئے ہرگز نہیں گیا۔ میں ایئرپورٹ پر اس وجہ سے گیا ہوں کہ میں نے بچپن میں انڈیا کے شہر پونا کے ایک سکول میں تعلیم حاصل کی ہے۔ جناب شنکر دیال شرما اس وقت میرے استاد ہوا کرتے تھے اور انہوں نے مجھے بتایا تھا کہ زندگی کیسے گزارنی ہے اور زندگی میں آنے والے مشاکل اور مصائب کا کیسے سامنا کرنا ہے۔ اور میں آج تک حتی المقدور کوشش کرتا ہوں کہ جو کچھ اُن سے پڑھا اور سیکھا ہے اسے عملی زندگی میں نافذ کروں۔ 


تو یہ تھی ایک استاد کی قدر و منزلت جو سلطان کے اپنے پروٹوکول نظریات سے انحراف کا سبب بنی تھی۔ 


آج بھی ایسے عجائب نظر آ جاتے ہیں اگر کوئی دیکھنے والا بنے تو: 


کل کی ہی تو بات جب روسی صدر پوٹین کو اپنے استقبال میں کھڑے لوگوں کے ہجوم میں اپنی ایک استانی نظر آ گئی۔ پوٹین نے سارے گارڈز، حفاظتی عملے اور حفاظتی حصار بالائے طاق رکھ کر سیدھا استانی کو جا کر گلے لگایا اور وہ رو رہی تھی۔ خلقت کے ہجوم میں استانی کو ساتھ لیکر باتیں کرتے اور چلتے ہوئے ایسا لگ رہا تھا کہ پوٹین اپنی استانی کے ساتھ نہیں کسی ملکہ کے پہلو میں چل رہا ہے۔ 


اُستاد کی عزت و منزلت اور قدر و قیمت کی ایک تاریخ ہے۔ تاریخ سے ایک ورق ملاحظہ کیجیئے: مامون الرشید چھوٹا سا تھا تو اس کے استاد نے آتے ہی مامون کو بلا وجہ ایک ڈنڈا جڑ دیا۔ مامون نے درد سے بلبلاتے ہوئے اُستاد سے پوچھا: کیوں مارا ہے مجھے یونہی بلا وجہ؟ استاد نے کہا: چُپ، خاموش ہوجا۔  مامون اس بلاوجہ چھڑی مارنے کے بارے میں جب بھی استاد سے پوچھتا تو استاد کہتا: خاموش۔ 


بیس سال کے بعد یہی مامون جب خلیفہ وقت بن بیٹھا تو اسے اپنے ذہن پر نقش وہ بلاوجہ کی مار یاد آ گئی اور اس نے اپنے استاد کو بلوا بھیجا۔ استاد کے آنے پر مامون نے پوچھا: جب میں چھوٹا تھا آپ نے مجھے ایک بار کیوں بلا وجہ مارا تھا؟ استاد نے پوچھا: تو ابھی تک وہ مار نہیں بھولا کیا؟ مامون نے کہا: اللہ کی قسم میں تو کبھی بھی نہ بھولوں گا۔ 


استاد نے مسکراتے ہوئے مامون کو دیکھا اور میں جانتا تھا کہ تو ایک نہ ایک دن مسلمانوں کا خلیفہ بنے گا۔ اور میں نے تجھے جان بوجھ کر بلا سبب پیٹا تھا تاکہ تو یاد رکھ لے کہ "مظلوم کبھی بھی نہیں بھولا کرتے"۔ 


استاد نے مامون کو دوبارہ نصیحت کرتے ہوئے کہا: کبھی کسی پر ظلم نہ کرنا۔ ظلم ایک آگ ہوتی ہے جو مظلوم کے دل میں کبھی بھی نہیں بُجھتی چاہے جتنے بھی سال کیوں نہ گزر جائیں۔ 


*****


** آداب و تسلیمات ہر اُس قابل قدر شخصیت کیلیئے جو تعلیم و تدریس کے پیشے سے وابستہ ہے۔ 

محمد سلیم بھائی کی وال سے کاپی/پیسٹ 

Monday, 18 January 2021

فوجی ‏محمد ‏صدیق ‏کی ‏یادیں

نانا جان فوجی محمد صدیق مرحوم: 
والدہ کے چچا تھے لیکن ہمیں ہمیشہ نانا جان سے بڑھ کر پیار ملا بلکہ جو اور جتنا پیار ان سے ملا کسی سے نا ملا ہو گا:

وہ اپنے بچپن کے بارے بتاتے کہ:

ایک بار بہت بیمار تھا بیماری سے تھوڑا ہوش آیا تو بے بے (ماں جی) سے کھانے کی فرمائش کی کہ بے بے روٹی کھانی ہے لیکن مکھن کے ساتھ۔ بے بے نے خالی سی نظروں سے صحن میں پھیلی غربت کو دیکھا اور ڈبڈبائی آنکھوں سے پیار کیا اور کہا اچھا میرا پت میں لائی۔

بے بے نے سفید کپاہ (روئی) کا پھمبا لیا اور اسکو دھو کے صاف کرکے روٹی کے ساتھ رکھ کے مجھے دیا اور کہا لے پت مکھن کے ساتھ روٹی کھا لے میرا شیر چنگا ہو جا بس۔ 
میں نیم تندرست سا مزے سے روٹی کھانے لگا۔

چند دن گزرے تو کچھ چلنے پھرنے لگا، تایا جان کے گھر چلا گیا، شام ہوئی تو تائی نے پاس بلایا ماتھا چوما اور پوچھا میرا پت (بیٹا) کیا کھائے گا، میں نے کہا تائی روٹی کھاوں گا پر مکھن کے ساتھ، سالن کھاتا ہوں تو پیٹ میں پیڑ (درد) ہونے لگتی ہے۔ تائی نے پیار سے بٹھایا اور روٹی کے ساتھ کولی (رکابی) میں مکھن کا پیڑہ رکھ کر دیا کہ کھا میرا پت۔ میں نے حیرانگی سے مکھن کو دیکھا اور جب کھانے لگا تو اس کا سواد (ذائقہ) ہی اور تھا۔  ڈٹ کے روٹی کھائی تائی کا پیار لیا اور گھر آ گیا۔

آتے ہی بے بے سے بولا بے بے جوں مکھن تم نے مجھے دیا تھا اور تھوڑا بھی تھا اور اسکا تو کوئی سواد بھی نہیں تھا۔
بے بے کی آنکھوں میں بے بسی کے آنسو امڈ آئے مجھے سینے سے لگا کر بولی پتر وہ مکھن نہیں تھا وہ تو رووں (روئی) تھی۔ اپنے گھر مکھن کہاں سے آیا، تو میرا پت ناراض نا ہو جب اللہ سوہنا ہمیں مجھ (بھینس) دے گا تو ہمارے گھر بھی مکھن ہو گا فئر تو میرا پت رج رج کھائی۔

(نانا صدیق مرحوم کی یاد میں) 
*اللہ پاک غریق رحمت کرئے، الھم آمین یا رب العالامین*

Monday, 28 September 2020

اسلام ‏آباد ‏کے ‏نیچے ‏دبے ‏دیہات

شکرپڑیاں بھی ان 85 دیہات میں شامل تھا جو اسلام آباد کی تعمیر سے متاثر ہوئے۔ جن میں تقریباً 50 ہزار افراد آباد تھے۔ یہاں دو سو سے زائد گھر تھے جو بالکل اس جگہ پر تھے جہاں آج لوک ورثہ موجود ہے۔ لوک ورثہ کے پیچھے پہاڑی پر اس گاؤں کے آثار آج بھی جنگل میں بکھرے پڑے ہیں۔ 85 دیہات کی 45 ہزار ایکٹر زمین جب سی ڈی اے نے حاصل کی تو متاثرین میں اس وقت 16 کروڑ روپے تقسیم کیے گئے جبکہ انہیں ملتان، ساہیوال، وہاڑی، جھنگ اور سندھ کے گدو بیراج میں کاشت کے لیے 90 ہزار ایکڑ زمین بھی الاٹ کی گئی جس کے لیے 36 ہزار پرمٹ جاری کیے گئے۔

ان میں جو بڑے گاؤں تھے ان میں *کٹاریاں* بھی شامل تھا جو موجودہ شاہراہ ِ دستور اور وزارت خارجہ کی جگہ آباد تھا۔

 شکر پڑیاں لوک ورثہ کی جگہ،
 بیسٹ ویسٹرن ہوٹل کے عقب میں *سنبل کورک*

مری روڈ پر سی ڈی اے فارم ہاؤسز کی جگہ *گھج ریوٹ*،

 جی سکس میں *بیچو* 

ای سیون میں *ڈھوک جیون* 

 ایف سکس میں *بانیاں* 

 جناح سپر میں *روپڑاں* 

جی 10 میں *ٹھٹھہ گوجراں* 

، آئی ایٹ میں *سنبل جاوہ نڑالہ  اور نڑالہ کلاں*

  ایچ ایٹ میں *جابو* 

، زیرو پوائنٹ میں *پتن*  

میریٹ ہوٹل کی جگہ *پہالاں* 

 ایچ ٹین میں *بھیگا سیداں* 

 کنونشن سینٹر کی جگہ *بھانگڑی*

 آبپارہ کی جگہ *باغ کلاں* 

آباد تھے۔

اسی طرح راول ڈیم کی جگہ *راول، پھگڑیل، شکراہ، کماگری، کھڑ پن اور مچھریالاں*  نامی گاؤں بستے تھے۔ 

فیصل مسجد کی جگہ *ٹیمبا*  اور اس کے پیچھے پہاڑی پر *کلنجر*  نام کی بستی تھی۔

شکر پڑیاں میں گکھڑوں کی *بگیال* شاخ کے لوگ آباد تھے جنہیں ملک بوگا کی اولاد بتایا جاتا ہے۔ گکھڑوں نے پوٹھوہار پر ساڑھے سات سو سال حکمرانی کی ہے۔ راولپنڈی کے گزٹیئر 1884 کے مطابق ضلع راولپنڈی کے 109 دیہات کے مالک گوجر اور 62 گکھڑوں کی ملکیت تھے۔

~سجاد اظہر کے آرٹیکل سے اقتباس~

Wednesday, 6 May 2020

مثبت ‏سوچ

انتہائی مثبت سوچ اور تحریر

کہتے ہیں ہر وہ جاندار جو آج دنیا میں موجود ہے حضرت نوح کی کشتی میں موجود تھا جس میں گھونگا بھی شامل ہے۔ اگر خُدا ایک گھونگے کا نوحؑ کی کشتی تک پہنچنے کا انتظار کر سکتا ہے تو وہ خُدا آپ مجھ پر بھی اپنے فضل کا دروازہ اُس وقت تک بند نہیں کرے گا جب تک کہ آپ زندگی میں اپنے متوقع مقام تک نہیں پہنچ جاتے۔

Monday, 13 April 2020

قاتل کورونا کوویڈ 19 کی وبا

●●● کرونا کوویڈ 19 ●●●●
صرف چند مہینوں میں دنیا کیا سے کیا ہو گئی، وہ میرا رب میرا مالک میرا آقا میرا رحمان میرا رحیم اس نے دکھا دیا دنیا کو اپنی سب سے عقلمند تخلیق کو اپنے نائب کو اپنی اشرف المخلوقات کو کہ صرف وہی ہے واحد ایک لا شریک ہستی۔
دنیا کا علم ، عقل، فہم، ترقی، ستاروں پہ کمند، سوپر پاور، نا ڈرنے والے نا گھبرانے والے،  سب کچھ اگا لیتے تھے، کیا کچھ بنا لیتے تھے، ایٹمی طاقت، کیمیائی طاقت، جو کہتے تھے بندر سے انسان ارتقاء پزیر ہوا، اپنے دماغوں پہ فخر اور غرور کرنے والے، جنھوں نے ترقی کی ان بلندیوں کو چھوا کہ قارون، نمرود، فرعون اور شداد تک کہیں پیچھے رہ گئے۔

لیکن میرے مالک میرے خالق نے اتنے بڑے بڑے دعوئے کرنیوالوں کو مچھر کے قابل بھی نا سمجھا کہ مچھر ہی انکو کچھ کہتا، نا سمندر غرق کیا، نا پہاڑ الٹائے، نا آگ برسائی، نا قحط ہی اتارا، بس فقط ایک نظر نا آنیوالا کہ جس کو آنکھ بھی نہیں دیکھ پاتی، اتنا چھوٹا سا جرثومہ !!!!!!! بس حکم ربی نے دنیا کی کایا پلٹ دی۔۔۔۔

○○○○○ سب صفر ہو گیا ○○○○○
ترقی صفر
سائینس صفر
دعویداریاں صفر
علم کے دریا صفر
ایٹم بمب صفر
فوجیں صفر
طب صفر
انجنیئرنگ صفر

میرے رب کی قدرت نے ماحول کو صاف کر دیا، آسمان صاف، زمین صاف، فضائیں صاف، درخت، پیڑ پودے چرند پرند سب صاف شفاف صحت مند اجلے دھلے ہوئے دن با دن چمکتے جا رہے ہیں۔
اور انسان فقط اپنی ناک سانس سنبھالنے کے لئے مقید ہے گھروں میں خود آپ اپنے آپ سے اچھوت بنا پڑا ہے ، حالت بے گورو کفن موت کی تاریکی سروں پہ منڈلاتی ہوئی۔ 

لیکن پھر بات وہی جہاں سے شروع ہوئی کہ!!!!!

میرا مالک ہے، جس کا یہ سارا نظام ہے
وہ ہے موجود ہے ہر جا ہر سو
خدا زمیں سے گیا نہیں ہے
جلد اس کا ازن اسکا کن پھر سے زندگی کو جلا بخشے گا۔ 
بے شک مایوسی کفر ہے
اور توکل ہمارا ایمان
شاید اک موقع ہے ہمیں اپنے رب کی طرف لوٹ جانے کا، جب سب کچھ الٹ پلٹ رہا ہوتا ہے تو کچھ نیا ترتیب ہو رہا ہوتا ہے کچھ اچھا ہونیوالا ہوتا ہے کچھ ٹھیک ہو رہا ہوتا ہے۔
اللہ واحد لاشریک ہے
نبی صلی اللہ علیہ وسلم آخرالزماں ہیں
رب ہی سوپر پاور ہے رب ہی سب ہے، بے شک
یہی ہمارا ایمان ہے
الھم آمین یا رب

Friday, 14 June 2019

رب کا شکر ادا کر بھائی

کاپی شدہ: فیس بک پیج "سچی کہانیاں"

ماچس کی ڈبیاں اس وقت ایک روپے کی چار آتی تھیں لیکن چولہا جلانے کے لیے دادی گتے کی چھپٹیوں کا استعمال کرتی تھیں۔ چھپٹی کہہ لیجیے کہ جیسے چائے کا ڈبا ہے ، اس کے باریک اور لمبے بہت سے ٹکڑے کاٹ لیں، آئس کریم سٹک کی طرح سے ، تو وہ ایک ٹکڑا ایک چھپٹی کہلاتا ہے۔ اب سین یہ ہوتا تھا کہ صبح جو پہلا چولہا جلتا وہ ماچس سے جلایا جاتا، اس کے بعد دوسرا اور تیسرا چولہا جلانے کے لیے وہی چھپٹی پہلے چولہے سے جلا کر باقی دونوں کو دکھا دیتیں اور یوں ماچس کی دو تیلیوں کی بچت ہو جاتی۔ وہ سب گتے کے باریک ٹکڑے یا چھپٹیاں چولہے کے برابر کسی بھی ڈبے میں رکھی ہوتی تھیں۔ دادی جب تک زندہ تھیں ان کا استعمال ہوتا رہا۔ جب تک نظر ٹھیک تھی تو فارغ وقت میں وہ سوئیٹر وغیرہ بن لیتی تھیں، نظر کمزور ہو گئی تو اسی طرح کے چھوٹے موٹے بہت سے کام انہوں نے خود اپنے ذمے لے لیے ۔ ماچس کی بچت آج کون سوچ سکتا ہے ؟ یعنی ایک تیلی جس کی وقعت آج بھی شاید دو پیسے ہو گی دادی اس کے استعمال میں کفایت کرتی تھیں، فضول خرچی نام کی چڑیا کبھی اڑتی ہی نہیں دیکھی۔

قلفی والا آتا، دور سے ہی گھنٹی بجنے کی آواز آنا شروع ہو جاتی، ابھی لکھتے لکھتے بھی منہ میں پانی آ گیا، کیا ہی قلفی ہوتی تھی! وہ گھنٹی جب بجتی اور بچے دادی سے پیسے مانگتے تو جتنے چاہیے ہوتے اتنے ہی وہ دیتیں لیکن کہتیں، چندا منہ ہی میٹھا کرنا ہے نا، تین روپے والی کھاؤ یا ایک روپے والی، پیٹ کبھی نہیں بھر سکو گے، ایک والی کھاؤ گے تو باقی دو روپوں سے شام میں کچھ کھا لینا۔ لیکن شام کون دیکھے ، اور شام میں کچھ بجوگ پڑ بھی گیا تو دادی کا بنک پھر دوبارہ کام آ جاتا تھا۔ یہ بات بھی اب سمجھ میں آتی ہے ۔ جو بھی کھا لیجیے ، جتنا بھی کھا لیجیے ، بھوک ہر حال میں دوبارہ لگنی ہی لگنی ہے ، تو کیوں نہ حساب سے کھایا جائے اور چادر دیکھ کر پاؤں پھیلائے جائیں۔

ایک نعمت خانہ ہوتا تھا۔ نعمت خانہ اس زمانے کا فریج تھا۔ چار فٹ لمبائی، تین فٹ چوڑائی اور تین فٹ ہی گہرائی کی ایک الماری جس میں چاروں طرف لکڑی کے فریم کے اندر جالی لگی ہوتی تھی۔ یعنی بس ایک ہوادار سی الماری تھی جو باورچی خانے میں ایک کونا سنبھالے ہوتی تھی۔ دودھ ابالا، اسی میں رکھ دیا، سالن بنایا اس میں رکھ دیا، نچلے خانوں میں مصالحے وغیرہ بھی پڑے رہتے ، چائے کے لوازمات بھی وہیں دھرے ہیں، ماں کے لیے جو ڈرائے فروٹ نانا بھیجتے تھے وہ بھی وہیں سے چرا کر کتنی دفعہ کھایا، تو نعمت خانہ بڑی مزے کی چیز تھا۔ اسے ہرگز یہ دعویٰ نہیں تھا کہ میں پانچویں دن بھی آپ کو تازہ سالن کھلا سکتا ہوں، وہ سکھلاتا تھا کہ بھئی اتنا پکاؤ جتنا رات تک ختم ہو جائے ، کل کی فکر کل ہی کرنا!

ایک کام اور بھی دادی کا بڑا زبردست تھا۔ کبھی کوئی چیز ضائع نہیں کرتی تھیں۔ اپنے کپڑوں کی سلائی میں سے بچی کترنیں، دھاگوں کے چھوٹے بڑے گچھے ، مختلف رنگوں کے بٹن، سر میں لگانے والی سیاہ پن (بوبی پن)، سوئٹروں کی سلائی سے بچی اون، ٹوٹی ہوئی تسبیح کے دانے ، پانچ پیسے کا وہ چوکور سکہ، دس پیسے والے کنگری دار سکے یا چونی اٹھنی جو بھی بچتا وہ سب کا سب پاندان میں ان کے پاس سنبھلا رہتا تھا۔ ضرورت کے وقت نکل بھی آتا تھا۔ ایک فٹ کا پاندان گھر داری کی ضرورتیں بھی پوری کرتا تھا۔

اس وقت ایک انسان کے پاس جیب میں پانچ دس نوٹ ہوتے تھے اور اگر وہ سگریٹ پینے والا ہوتا تو ساتھ ایک ڈبی اور ماچس بھی ہوتی، زندگی یہیں تک تھی اور پھر بھی حسین تھی۔ آج آپ نے گھڑی بھی لازمی باندھنی ہے ، سالم بٹوہ جیب میں ہونا لازم ہے ، موبائل تو امت پر فرض ہو چکا ہے ، اس کی بیٹری کمزور ہے تو پاور بینک بھی ہاتھ میں رکھنا ہے ، سواری کی چابیاں بھی ساتھ ہیں، سگریٹ پیتے ہیں تو وہ، اس کا لائٹر، بندہ دو جیبوں میں کتنا کچھ رکھ سکتا ہے ؟ جیبوں میں ضرورت سے زیادہ سامان بھر لینا اور پھر اس کے پیچھے جیبیں خالی کرتے جانا دورِ جدید کی عطا ہے ۔

اے سی، فریج، ٹیلی فون، رنگین ٹی وی، وی سی آر، شاور، مسلم شاور، ٹائلوں والے باتھ روم، ماربل اور چپس والے فرش، ایلومینیم کی کھڑکیاں، ہر بندے کی اپنی موٹر سائیکل یا گاڑی، یہ سب ابھی بیس پچیس برس پہلے تک نوے فی صد لوگوں کے لیے ایک خواب ہوتا تھا، کون مان سکتا ہے ؟ ماموں گیارہویں سال گرہ پر آئے تو لال رنگ کی ایک سائیکل لائے تھے ، اس سے آج تک نیچے نہیں اترا، خوشی بس یہ ہوتی تھی!

خواب پورے کرنے کے لیے قیمت چکانا پڑتی ہے ۔ بجلی کے بلوں پر چیخنے سے پہلے گھر کے اندر اے سی گن لیجیے ۔ گیس کے بل پر بلبلانے سے پہلے گیزر چیک کیجیے ، کتنے ماہ سے بند نہیں ہوا؟ پیٹرول کے بڑھتے ریٹ پر احتجاج کرنے سے پہلے یاد کیجیے کہ سائیکل سے اترتے ہوئے کندھے ٹانگیں اور کمر کیا احتجاج کرتے تھے ۔ ذرا وہ لال اینٹوں کے صحن اور سیمنٹ والے باتھ روم یاد کیجیے جن میں بالٹی سے ڈونگے بھر بھر کے نہانا ہوتا تھا اور اب شاور کے مزے دیکھ لیجیے کہ جس کے نیچے سے ہٹنے کا دل نہیں چاہتا۔ موبائل کمپنیوں کی دھاندلی کا رونا روتے ہوئے تصور کیجیے کہ ماں بہنوں کو فون سننے چھ گھر پار جانا پڑے تو کیسا لگتا ہو گا۔ انٹرنیٹ ری چارج کرواتے ہوئے سوچیے کہ یہ جو مفت میں گھنٹوں پردیسیوں سے بات ہوتی ہے ، یہ کیا دو منٹ کو بھی ممکن تھی؟ جو بہت زیادہ افورڈ کر سکتے تھے وہ مکمل ویڈیو کیسٹ ریکارڈ کروا کے گھر بھیجتے تھے ، پورا گھر ٹی وی کے سامنے بیٹھ کر انہیں دیکھتا تھا اور ماں رو بھی نہیں سکتی تھی کہ باپ کا دل کمزور نہ پڑ جائے ، باپ تو ویسے ہی “مرد” بننے پر مجبور ہوتا تھا۔ ہما شما آڈیو کیسٹ پر آواز سن کر دوپٹے کے کونے بھگو لیتے تھے اور غریب غربوں کا آسرا وہی خط ہوتا تھا جو آج بھی نصف ملاقات سمجھا جاتا ہے لیکن ایس ایم ایس اور ای میل جسے دفن کر چکے ہیں۔

تو یہ قیمت چکاتے چکاتے راستہ وہاں لے جاتا ہے جہاں نئے خواب منتظر ہوتے ہیں۔ سستے موبائل والا مہنگا موبائل لے گا۔ سائیکل والا موٹر سائیکل لے گا، موٹر سائیکل والا چھوٹی گاڑی لے گا، چھوٹی گاڑی کے بعد بڑی کا خواب دیکھا جائے گا، بڑی سے اور بڑی اور پھر اور بڑی۔ یہی معاملہ کچے گھروں سے نکلنے والوں کو دو کنال کے بنگلے میں بھی چین نہیں لینے دیتا اور اسی طرح کا حال ٹیکنالوجی کے مارے ہوؤں کا ہوتا ہے ۔ لیپ ٹاپ، موبائل، ٹیبلٹ، ہر چار سے چھ ماہ بعد ان کے نئے ماڈل دستیاب ہوتے ہیں اور انہیں ساتھ رکھنا سٹیٹس کی نشانی، انسان کتنا اپ ٹو ڈیٹ رہ سکتا ہے ؟ یارو، ایک لاکھ کے موبائل پر چڑھ کے گھر سے بندہ صدر تک تو جا نہیں سکتا، فائدہ کیا ایسی اندھی ریس میں پڑنے کا، بھٹ پڑے وہ سونا جس سے ٹوٹیں کان!

ابا کہتے ہیں عرب شہزادے بھی اے سی کی وہی ٹھنڈک لیتے ہیں جو آپ کے پاس ہے ، معدے ان کے بھی آپ جتنے ہیں، گھڑی پر وقت وہ بھی ایسے ہی دیکھتے ہیں جیسے آپ دیکھتے ہیں، سبزہ انہیں بھی ویسی ہی فرحت دیتا ہو گا جیسے آپ کسی باغ میں جا کر محسوس کرتے ہیں، آئی فون سے مہنگا کوئی فون ان کے پاس بھی نہیں ہو سکتا، گاڑیاں ان کی واقعی بہت آرام دہ ہوتی ہیں لیکن بنیادی ضرورت کی تمام چیزیں اگر آپ کے پاس ہیں تو آپ میں اور عرب شہزادوں میں کوئی فرق نہیں۔ بس چادر کا حساب رکھیے تو آپ خود ایک جیتے جاگتے شہزادے ہیں۔
رب کا شکر ادا کر بھائی

Thursday, 9 May 2019

♡ماں کی محبت♡

ماں کی محبت سے متعلق ایئر وائس مارشل ریٹائرڈ ملک خداداد خان صاحب کی ایک نہایت ہی عمدہ اور دل کو چھوُ لینے والی تحریر ۔

ہمیں اماں جی اس وقت زہر لگتیں جب وہ سردیوں میں زبردستی ہمارا سر دھوتیں-
لکس ، کیپری ، ریکسونا کس نے دیکھے تھے ..... کھجور مارکہ صابن سے کپڑے بھی دھلتے تھے اور سر بھی- آنکھوں میں صابن کانٹے کی طرع چبھتا ... اور کان اماں کی ڈانٹ سے لال ہو جاتے !!!
ہماری ذرا سی شرارت پر اماں آگ بگولہ ہو جاتیں... اور کپڑے دھونے والا ڈنڈا اٹھا لیتیں جسے ہم "ڈمنی" کہتے تھے ... لیکن مارا کبھی نہیں- کبھی عین وقت پر دادی جان نے بچا لیا ... کبھی بابا نے اور کبھی ہم ہی بھاگ لئے ...
گاؤں کی رونقوں سے دور عین فصلوں کے بیچ ہمارا ڈیرہ تھا - ڈیرے سے پگڈنڈی پکڑ کر گاؤں جانا اماں کا سب سے بڑا شاپنگ ٹؤر ہوا کرتاتھا ... اور اس ٹؤر سے محروم رہ جانا ہماری سب سے بڑی بدنصیبی !!
اگر کبھی اماں اکیلے گاؤں چلی جاتیں تو واپسی پر ہمیں مرنڈے سے بہلانے کی کوشش کرتیں .... ہم پہلے تو ننھے ہاتھوں سے اماں جی کو مارتے .... ان کا دوپٹا کھینچتے ... پھر ان کی گود میں سر رکھ کر منہ پھاڑ پھاڑ کر روتے-
کبھی اماں گاؤں ساتھ لے جاتیں تو ہم اچھلتے کودتے خوشی خوشی ان کے پیچھے پیچھے بھاگتے ..... شام گئے جب گاؤں سے واپسی ہوتی تو ہم بہت روتے.....ہمیں گاؤں اچھا لگتا تھا " ماں ہم گاؤں میں کب رہیں گے " میرے سوال پر اماں وہی گھسا پٹا جواب دیتیں ...." جب تو بڑا ہوگا ... نوکری کرے گا ... بہت سے پیسے آئیں گے ... تیری شادی ہوگی ... وغیرہ وغیرہ ... یوں ہم ماں بیٹا باتیں کرتے کرتے تاریک ڈیرے پر آن پہنچتے ...
مجھے یاد ہے گاؤں میں بابا مظفر کے ہاں شادی کا جشن تھا- وہاں جلنے بجھنے والی بتیاں بھی لگی تھیں اور پٹاختے بھی پھوٹ رہے تھے- میں نے ماں کی بہت منّت کی کہ رات ادھر ہی ٹھہر جائیں لیکن وہ نہیں مانی- جب میں ماں جی کے پیچھے روتا روتا گاؤں سے واپس آرہا تھا تو نیت میں فتور آگیا اور چپکے سے واپس گاؤں لوٹ گیا.....
شام کا وقت تھا .... ماں کو بہت دیر بعد میری گمشدگی کا اندازہ ہوا- وہ پاگلوں کی طرع رات کے اندھیرے میں کھیتوں کھلیانوں میں آوازیں لگاتی پھری - اور ڈیرے سے لیکر گاؤں تک ہر کنویں میں لالٹین لٹکا کر جھانکتی رہی -
رات گئے جب میں شادی والے گھر سے بازیاب ہوا تو وہ شیرنی کی طرع مجھ پر حملہ آور ہوئیں- اس رات اگر گاؤں کی عورتیں مجھے نہ بچاتیں تو اماں مجھے مار ہی ڈالتی-
ایک بار ابو جی اپنے پیر صاحب کو ملنے سرگودھا گئے ہوئے تھے- میں اس وقت چھ سات سال کا تھا- مجھے شدید بخار ہو گیا- اماں جی نے مجھے لوئ میں لپیٹ کر کندھے پر اٹھایا اور کھیتوں کھلیانوں سے گزرتی تین کلو میٹر دور گاؤں کے اڈے پر ڈاکٹر کو دکھانے لے گئیں- واپسی پر ایک کھالے کو پھلانگتے ہوئے وہ کھلیان میں گر گئیں ... لیکن مجھے بچا لیا ... انہیں شاید گھٹنے پر چوٹ آئ ... ان کے مونہہ سے میرے لئے حسبی اللہ نکلا ... اور اپنے سسرال کےلئے کچھ ناروا الفاظ ... یہ واقعہ میری زندگی کی سب سے پرانی یاداشتوں میں سے ایک ہے ....
یقیناً وہ بڑی ہمت والی خاتون تھیں-اور آخری سانس تک محنت مشقت کی چکی پیستی رہیں ...
پھر جانے کب میں بڑا ہوگیا اور اماں سے بہت دور چلا گیا...
سال بھر بعد جب گھر آتا.....تو ماں گلے لگا کر خوب روتی لیکن میں سب کے سامنے ھنستا رہتا- پھر رات کو جب سب سو جاتے تو چپکے سے ماں کے ساتھ جاکر لیٹ جاتا اور اس کی چادر میں منہ چھپا کر خوب روتا-
ماں کھیت میں چارہ کاٹتی اور بہت بھاری پنڈ سر پر اٹھا کر ٹوکے کے سامنے آن پھینکتی- کبھی کبھی خود ہی ٹوکے میں چارہ ڈالتی اور خود ہی ٹوکہ چلاتی - جب میں گھر ہوتا تو مقدور بھر ان کا ہاتھ بٹاتا- جب میں ٹوکہ چلاتے چلاتے تھک جاتا تو وہ سرگوشی میں پوچھتیں ... " بات کروں تمہاری فلاں گھر میں ....؟؟ "
وہ جانتی تھی کہ میں پیداٰئشی عاشق ہوں اور ایسی باتوں سے میری بیٹری فل چارج ہو جاتی ہے-
پھر ہم نے گاؤں میں گھر بنا لیا ... اور ماں نے اپنی پسند سے میری شادی کر دی-
میں فیملی لے کر شہر چلا آیا اور ماں نے گاؤں میں اپنی الگ دنیا بسا لی-
وہ میرے پہلے بیٹے کی پیدائش پر شہر بھی آئیں .... میں نے انہیں سمندر کی سیر بھی کرائ...کلفٹن کے ساحل پر چائے پیتے ہوئے انہوں نے کہا " اس سمندر سے تو ہمارے ڈیرے کا چھپڑ زیادہ خوبصورت لگتا ہے....
ماں بیمار ہوئ تو میں چھٹی پر ہی تھا... انہیں کئ دن تک باسکوپان کھلا کر سمجھتا رہا کہ معمولی پیٹ کا درد ہے ... جلد افاقہ ہو جائے گا ... پھر درد بڑھا تو شہر کے بڑے ھسپتال لے گیا جہاں ڈاکٹر نے بتایا کہ جگر کا کینسر آخری اسٹیج پر ہے ......
خون کی فوری ضرورت محسوس ہوئ تو میں خود بلڈ بینک بیڈ پر جا لیٹا .... ماں کو پتا چلا تو اس نے دکھ سے دیکھ کر اتنا کہا..." کیوں دیا خون...خرید لاتا کہیں سے...پاگل کہیں کا "
میں بمشکل اتنا کہ سکا .... " اماں خون کی چند بوندوں سے تو وہ قرض بھی ادا نہیں ہو سکتا ... جو آپ مجھے اٹھا کر گاؤں ڈاکٹر کے پاس لیکر گئیں تھیں ... اور واپسی پر کھالا پھلانگتے ہوئے گر گئ تھیں .... "
وہ کھلکھلا کر ہنسیں تو میں نے کہا "امّاں مجھے معاف کر دینا ... میں تیری خدمت نہ کر سکا "
میرا خیال ہے کہ میں نے شاید ہی اپنی ماں کی خدمت کی ہو گی ... وقت ہی نہیں ملا ... لیکن وہ بہت فراغ دل تھیں .... بستر مرگ پر جب بار بار میں اپنی کوتاہیوں کی ان سے معافی طلب کر رہا تھا تو کہنے لگیں " میں راضی ہوں بیٹا ... کاہے کو بار بار معافی مانگتا ہے !!! "
ماں نے میرے سامنے دم توڑا .... لیکن میں رویا نہیں ... دوسرے دن سر بھاری ہونے لگا تو قبرستان چلا گیا اور قبر پر بیٹھ کر منہ پھاڑ کر رویا-
مائے نی میں کنوں آکھاں
درد وچھوڑے دا حال نی
ماں سے بچھڑے مدت ہوگئ...اب تو یقین بھی نہیں آتا کہ ماں کبھی اس دنیا میں تھی بھی کہ نہیں....!!!!
آج بیت اللّہ کا طواف کرتے ہوئے پٹھانوں اور سوڈانیوں کے ہاتھوں فٹ بال بنتا بنتا جانے کیسے دیوار کعبہ سے جا ٹکرایا...
یوں لگا جیسے مدتوں بعد پھر ایک بار ماں کی گود میں پہنچ گیا ہوں .... وہی سکون جو ماں کی گود میں آتا تھا ... وہی اپنائیت ... وہی محبت ... جس میں خوف کا عنصر بھی شامل تھا .... اس بار منہ پھاڑ کر نہیں .... دھاڑیں مار مار کر رویا !!!!
ستر ماؤں سے زیادہ پیار کرنیوالا رب کعبہ ..... اور ہم سدا کے شرارتی بچے !!