Monday, 20 March 2017

کتوں کی دعا از حفیظ جالندھری

کُتّوں کی دُعا
پاک سر زمین شاد باد پاکستانی قومی ترانے
اور ’’شاہنامہ اسلام‘‘ جیسی مشہور و معروف کتاب کے خالق
ابو الاثر حفیظ جالندھری مرحوم اپنی آپ بیتی بیان فرماتے ہیں
کہ میری عمر بارہ سال تھی ۔میرا لحن داؤدی بتایا جاتا اور نعت خوانی کی محفلوں میں بلایا جاتا تھا۔ اس زمانے میں شعر و شاعری کے مرض نے بھی مجھے آلیا تھا۔ اس لئے اسکول سے بھاگنے اورگھر سے اکثر غیر حاضر رہنے کی عادت بھی پڑ چکی تھی ۔
میری منگنی لاہور میں میرے رشتے کی ایک خالہ کی دُختر سے ہو چکی تھی۔ میرے خالو نے جب میری آوارگی کی داستان سُنی تو سیر و تفریح کے بہانے محترم نے جالندھر سے مجھے ساتھ لیا اور محض سیر و تفریح کا سبز باغ دکھلانے شہر گجرات کے قریب قصبہ جلال پور جٹاں میں پہنچ گئے ۔ اصل سبب مجھے بعد میں معلوم ہوا کہ ہونے والے خُسر اورفی الحال خالُو میرے متعلق اپنے دینی مرشد سے تصدیق کرنا چاہتے تھے کہ وہ بزرگ ان کی بیٹی کی شادی مجھ ایسے آوارہ سے کردینے کی اجازت دیتے ہیں یا نہیں۔
یہ پُر انوار پیر و مرشد ایک کہنہ سال بزرگ تھے۔ اُن کے اِردگرد مؤدب بیٹھے ہوئے دوسرے شُرفا سے پہلے ہی دن میں نے نعت سنا کر واہ واہ سبحان اللہ کے تحسین آمیز کلمات سُنے ۔
ہر روز نمازِ عشائ کے بعد میلاد کی بزم اورنعت خوانی کا اہتمام ہوتا۔ دو مہینے اسی جگہ گزرے۔
اس سال ساون سُوکھا تھا۔ بارش نہیں ہو رہی تھی لوگ بارش کے لئے میدانوں میں جاکر نمازِ استسقائ ادا کرتے تھے ۔ بچّے ، بوڑھے ، جوان مرد و زن دعا کرتے لیکن گھنگھورگھٹا تو کیا کوئی معمولی بدلی بھی نمودار نہ ہوتی تھی ۔یہ ہے پس منظر اس واقعہ کا جسے میں عجوبہ کہتا ہوں۔ جسے بیان کردینے کے لئے نہ جانے کیوں مجبور ہو گیا ہوں۔ پہلے یہ جان لیجئے کہ وہ محترم بزرگ کون تھے؟ مجھے یقین ہے ان کا خاندان آج بھی جلال پور جٹاں میں موجود ہے ۔ ان بزرگ کا نام نامی حضرت قاضی عبدالحکیم رحمۃ اللہ علیہ تھا اَسی پچاسی برس کی عمر تھی دُور دُور سے لوگ ان سے دینی اور دُنیوی استفادہ کی غرض سے آتے تھے۔ یہ استفادہ دینی کم دنیوی زیادہ تھا۔ آنے والے اوردو تین دن بعد چلے جانے والے گویا ایک تسلسلِ امواج تھا۔ کثرت سوداگروں اورتجارت پیشہ لوگوں کی تھی ۔
میری نعت خوانی کے سبب حضرت مجھے بسا اوقات اپنے مصلّے کے بہت قریب بٹھائے رکھتے تھے۔ ایک دن میری طرف دیکھ کر حضرت نے کہا’’برخوردار تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اسم گرامی سے مجھے خوش کرتے ہو ، تمہارے لئے میرے پاس بس دعائیں ہی ہیں۔ انشائ اللہ تم دیکھو گے کہ آج تو تم دوسروں کی لکھی ہوئی نعتیں سناتے ہو، لیکن ایک دن تمہاری لکھی ہوئی نعتیں لوگ دوسروں کو سنایا کریں گے ۔‘‘
اس وقت بھلا مجھے کیا معلوم تھا کہ سرکارِ دوجہاں صلی اللہ علیہ وسلم کے یہ محّب صادق میری زندگی کا مقصود بیان کررہے ہیں۔ بہر صورت یہ تواُن کی کرامتوں میں سے ایک عام بات ہے جس عجوبے کے اظہار نے مجھ سے آج قلم اٹھوایا وہ کرامتوں کی تاریخ میں شاید بے نظیر ہی نظر آئے ۔
ایک دن حضرت قاضی صاحب کے پاس میں اوران کے بہت سے نیاز مند بیٹھے ہوئے تھے ۔ ان میں میرے خالو بھی تھے۔ یہ ایک بڑا کمرہ تھا اورحضرت مصلّے پر بیٹھے تھے ۔ السّلام علیکم کہتے ہوئے کندھوں پر رومال ڈالے سات آٹھ مولوی طرز کے معتبر آدمی کمرے میں داخل ہوکر قاضی صاحب سے مخاطب ہوئے ۔ قاضی صاحب نے وعلیکم السلام اوربسم اللہ کہہ کر بیٹھ جانے کاایما فرمایا۔ہم سب ذرا پیچھے ہٹ گئے اورمولوی صاحبان تشریف فرما ہوگئے۔
ان میں سے ایک صاحب نے فرمایا کہ حضرت !ہمیں ہزاروں مسلمانوں نے بھیجا ہے ۔ یہ چار صاحبان گجرات سے اور یہ وزیر آباد سے آئے ہیں۔ میں ، آپ جانتے ہیں ڈاکٹر ٹیلر کے ساتھ والی مسجد کا امام ہوں۔ عرض یہ کرنا ہے کہ آپ اس ٹھنڈے ٹھار گوشے میں آرام سے بیٹھے رہتے ہیں۔ باہر خلق خدا مررہی ہے ، نمازی اور بے نماز سب بارانِ رحمت کے لئے دعائیں کرتے کرتے ہار گئے ہیں ۔ ہر جگہ نمازِ استسقائ ادا کی جارہی ہے ۔ کیا آپ اورآپ کے ان مریدوں کے دل میں کوئی احساس نہیں ہے کہ یہ لوگ بھی اُٹھ کر نماز میں شرکت کریں اورآپ بھی اپنی پیری کی مسند پر سے اُٹھ کر باہر نہیں نکلتے ،کہ لوگوں کی چیخ و پکار دیکھیں، اللہ تعالٰی سے دعا کریں تاکہ وہ پریشان حال انسانوں پر رحم کرے اور بارش برسائے۔
میرے قریب سے ایک شخص نے چپکے سے اپنے دوسرے ساتھی سے کہا ’’یہ وہابی ہے ‘‘۔
میں اُن دنوں وہابی کا مفہوم نہیں سمجھتا تھا ۔ صرف اتنا سنا تھا کہ یہ صوفیوں کو بُرا سمجھتے ہیں اور نعت خوانی کے وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں جب سلام پیش کیا جاتا ہے تو یہ لوگ تعظیم کے لئے کھڑے نہیں ہوتے بلکہ کھڑے ہونے والوں کو بدعتی کہتے ہیں۔
مسکراتے ہوئے قاضی صاحب نے پوچھا’’حضرات! آپ فقیر سے کیا چاہتے ہیں‘‘۔ توان میں سے ایک زیادہ مضبوط جُثے کے مولوی صاحب نے کڑک کر فرمایا ’’اگر تعویذ گنڈا نہیں تو کچھ دُعا یہ کرو۔ سُنا ہے پیروں فقیروں کی دُعا جلد قبول ہوتی ہے۔‘‘
یہ الفاظ مجھ نادان نوجوان کو بھی طنزیہ محسوس ہوئے تاہم قاضی صاحب پھر مسکرائے اورجواب جو آپ نے دیا وہ اس طنز کے مقابلے میں عجیب و غریب تھا۔
قاضی صاحب نے فرمایا ’’آپ کُتّوں سے کیوں نہیں کہتے کہ دُعا کریں‘‘۔ یہ فرمانا تھا کہ مولوی غضب میں آگئے اور مجھے بھی اُن کا غضب میں آنا قدرتی معلوم ہوا۔ چنانچہ وہ جلد جلد بڑبڑاتے ہوئے اُٹھے اور کوٹھڑی سے باہر نکل گئے۔
قاضی صاحب کے اِردگرد بیٹھے ہوئے نیاز مند لوگ ابھی گم صم ہی تھے کہ مولوی صاحبان میں سے جو بہت جَیّد نظر آتے تھے ، دوبارہ کمرے میں داخل ہوئے ، اُن میں سے ایک نے کہا’’حضرت! ہم تو کُتّے کی بولی نہیں بول سکتے ۔ آپ ہی کُتّوں سے دُعا کرنے کے لئے فرمائیے۔‘‘
مجھے اچھی طرح یاد ہے اورآج تک میرے سینے پر قاضی صاحب کا یہ ارشاد نقش ہے۔
حضرت ! پہلے ہی کیوں نہ کہہ دیا ، کل صبح تشریف لائیے کُتّوں کی دُعا ملاحظہ فرمائیے’’!‘‘مولوی صاحبان طنزاً مسکراتے ہوئے چل دئیے اور میں نے اُن کے الفاظ اپنے کانوں سے سُنے کہ ’’یہ صوفی لوگ اچھے خاصے مسخرے ہوتے ہیں۔‘‘
جب مولوی صاحبان چلے گئے تو میرے خالو سے قاضی صاحب نے فرمایا کہ ’’ذرا چھوٹے میاں کو بلائیے۔ ‘‘ چھوٹے قاضی صاحب کانام اب میں بھولتا ہوں۔ مہمانوں کی آؤ بھگت اورقیام و طعام کا سارا انتظام انہی کے سِپرد تھا ۔ انواع و اقسام کے کھانے اور دیگیں قاضی صاحب کی حویلی کی ڈیوڑھی اورصحن میں پکتی رہتی تھیں۔ ساتھ ہی ایک چھوٹی سی خوبصورت مسجد تھی۔ جس میں عشائ کی نماز کے بعد نعت خوانی ہوا کرتی تھی اورمیں ذوق و شوق سے یہاں نعت خوانی کیا کرتا تھا۔
میرے خالو ان کے چھوٹے بھائی کو لائے تو قاضی صاحب نے ان سے کہا’’ میاں کل صبح دو تین سو کُتّے ہمارے مہمان ہوں گے آپ کو تکلیف تو ہوگی بہت سا حلوہ راتوں رات تیار کرا لیجئے۔ ڈھاک کے پتوں کے ڈیڑھ دو سو دَونے شام ہی کو منگوا کر رکھ لیجئے گا۔ ڈیوڑھی کے باہر ساری گلی میں صفائی بھی کی جائے۔ کل نماز فجر کے بعد ہم خود مہمانداری میں شامل ہوں گے۔‘‘
چھوٹے قاضی صاحب نے سر جھکایا اگر چہ ان کے چہرے پر تحیر کے آثار نمایاں تھے۔ میرے لئے تویہ باتیں تھی ہی پُراسرار ، لیکن میرے خالو مسجد میں بیٹھ کر قاضی صاحب کے دوسرے مستقل نیاز مندوں اورحاضر باشوں سے چہ میگوئیاں کرنے لگے کہ کل صبح واقعی کچھ ہونے والا ہے۔
میں نے تین چار کڑاہے حویلی کے صحن میں لائے جاتے دیکھے، یہ بھی دیکھا کہ کشمش، بادام اور حلوے کے دوسرے لوازمات کے پُڑے کھل رہے ہیں۔ سُوجی کی سینیاں بھری رکھی ہیں گھی کے دو کنستر کھولے گئے۔ واقعی یہ تو حلوے کی تیاری کے سامان ہیں۔ ناریل کی تُریاں کاٹی جارہی ہیں اورسب آدمی تعجب کر رہے ہیں کہ کُتّوں کی مہمانداری وہ بھی حلوے سے ؟
صبح ہوئی نماز فجر کے بعد میں نے دیکھا کہ قاضی صاحب قبلہ دو تین آدمیوں کو ساتھ لئے ہوئے اپنی ڈیوڑھی سے نکل کر گلی میں اِدھر اُدھر گھومنے لگے چند ایک مقامات پر مزید صفائی کے لئے فرمایا۔میری ان گناہ گار آنکھوں نے یہ بھی دیکھا کہ اس گلی میں دونوں طرف یک منزلہ مکانوں کی چھتوں پر حیرت زدہ لوگ کُتّوں کی ضیافت کا کرشمہ دیکھنے کے لئے جمع ہونا شروع ہوگئے تھے ۔ اورجلال پور جٹاں میں سے مختلف عمر کے لوگ اس گلی میں داخل ہورہے تھے۔ وہ قاضی صاحب کو سلام کرکے گلی میں دیواروں کے ساتھ لگ کر کھڑے ہوجاتے اورجانے کیا بات تھی کہ یہ سب اونچی آواز سے باتیں نہیں کرتے تھے۔ کوٹھوں پر عورتیں اور بچے تھے۔
ہم دونوں قاضی صاحب کا بھتیجا محمد اکرام اورمیں مسجد کی چھت پر چڑھ گئے اور یہاں سے گلی میں ہونے والا عجیب و غریب تماشا دیکھنے لگے ۔
درویش طرز کے چند آدمی حلوے سے بھری ہوئی سینیاں لاتے جارہے تھے ۔ اور قاضی صاحب چمچے سے ان دَونوں کو پُر کرتے پھر دونوں ہاتھوں سے دَونا اٹھاتے اور تھوڑے تھوڑے فاصلے پر مین گلی کے درمیان رکھتے جاتے۔ جب پوری گلی میں حلوے بھرے دَونے رکھے جا چکے تو اُنہوں نے بلند آواز سے دَونوں کو گِنا۔ مجھے یقین ہے کہ گلی میں دیواروں کی طرف پشت کئے کھڑے سینکڑوں لوگوں نے قاضی صاحب کا یہ فقرہ سُنا ہوگا:’’کُل ایک سو بائیس(۱۲۲)ہیں۔‘‘
یہ کام مکمل ہوا ہی تھا کہ زور زور سے کچھ ایسی آوازیں آنے لگیں جن کو میں انسانی ہجوم کی چیخیں سمجھا ۔ مجھے اعتراف ہے کہ اُس وقت مجھے اپنے بدن میں کپکپی سی محسوس ہونے لگی، میں نے گلی میں ہر طرف دیکھا تو عورتیں اور بچے اورمرد گلی میں اور کوٹھوں سے چیخ رہے تھے۔
کیوں چیخ رہے تھے اس لئے کہ ایک کُتّا جس کو، جب سے میں یہاں وارد ہوا تھا، حویلی کے اِردگرد چلتے پھرتے اورمہمانوں کا بچا کچھا پھینکا ہوا کھانا کھاتے اکثر دیکھا تھا، بہت سے کُتّوں کو اپنے ساتھ لئے ہوئے گلی کی مشرقی سمت سے داخل ہوا۔ جو بے شمار کتّے اس کے پیچھے پیچھے گلی میں آئے تھے ان میں سے ایک بھی بھونک نہیں رہا تھا بھونکنا توکیا اس قدر خلقت کو گلی میں کھڑے دیکھ کر کوئی کتّا خوفزدہ نہ تھا۔ اورنہ کوئی غرّا رہا تھا۔ کتّے دو دو تین تین آگے پیچھے بڑے اطمینان کے ساتھ گلی کے اندر داخل ہورہے تھے۔
کتّوں کی یہ پُراسرار کیفیت دیکھ کر ساری خلقت نہ صرف پریشان تھی بلکہ دہشت زدہ بھی ، پھر ایسی دہشت آج تک مجھے بھی محسوس نہیں ہوئی۔
قاضی صاحب اگر اپنے ہونٹوں پر انگشتِ شہادت رکھ کر لوگوں کو خاموش رہنے کی تلقین نہ کرتے تو میں سمجھتا ہوں کہ گلی میں موجود سارا ہجوم ڈر کر بھاگ جاتا۔
اس گلی والا وہ کُتّا جس کا میں ذکر کر چکا ہوں قاضی صاحب کے قدموں میں آکر دُم ہلانے لگا۔ قاضی صاحب نے جو الفاظ فرمائے وہ بھی مجھے حرف بہ حرف یاد ہیں۔ فرمایا’’بھئی کالو! تم تو ہمارے قریب ہی رہتے ہو، دیکھو، انسانوں پر اللہ تعالٰی رحمت کی بارش نہیں برسا رہا، اللہ کی اور مخلوق بھی ہم انسانوں کے گناہوں کے سبب ہلاک ہو رہی ہے ۔ اپنے ساتھیوں سے کہو، سب مل بیٹھ کر یہ حلوہ کھائیں پھر اللہ سے دعا کریں کہ رحمۃ اللعالمین صلی اللہ علیہ وسلم کے صدقے بادلوں کو اجازت دے تاکہ وہ پیاسی زمین پر برس جائیں۔‘‘
یہ فرما کر حضرت قاضی صاحب اپنی ڈیوڑھی کے دروازے میں کھڑے ہوگئے اورمیں کیا سبھی نے ایک عجوبہ دیکھا۔
خدارا یقین کیجئے کہ ہر ایک حلوہ بھرے دَونے کے گِرد تین تین کُتّے جُھک گئے اور بڑے اطمینان سے حلوہ کھانا شروع کر دیا۔ ایک بھی کُتّا کسی دوسرے دَونے یا کتّے پر نہیں جھپٹا، اورنہ کوئی چیخا چلایااورجس وقت یہ سب کُتّے حلوہ کھار رہے تھے ایک اور عجیب و غریب منظر دیکھنے میں آیا کہ وہ کتا جو اس گلی کا پرانا باسی اوران تمام کتّوں کو یہاں لایا تھا خود نہیں کھا رہا تھا بلکہ گلی میں مسلسل ایک سِرے سے دوسرے سِرے تک گھومتا رہا، جیسے وہ ضیافت کھانے والے کتّوں کی نگرانی کررہا ہو یا میزبانی ۔
میں نے اسکول میں اپنے ڈرل ماسٹر صاحب کو طالب علموں کو اِسی طرح نگرانی کرتے وقت گھومتے دیکھا تھا۔ کالو کا انداز معائنہ بڑا پُر شکوہ تھا جس پر مجھے اپنا ڈرل ماسٹر یاد آگیا۔ کیونکہ ہم میں سے کوئی لڑکا ماسٹر صاحب کے سامنے ہلتا تک نہیں تھا۔
تھوڑی دیر میں سب کُتّے حلوہ کھا کر فارغ ہوگئے بے شمار لوگوں نے ہجوم میں سے صرف حضرت قاضی صاحب کی آواز ایک مرتبہ پھر سنائی دی۔ وہ فرمارہے تھے،’’لو بھئی کالو! ان سے کہو کہ اللہ تعالٰی سے دُعا کریں تاکہ خدا جلد ہی انسانوں پر رحم کرے‘‘۔
یہ سنتے ہی میں نے غیر ارادی طور پر ایک طرف دیکھا تو کل والے مولوی صاحبان ایک سمت کھڑے اس قدر حیرت زدہ نظر آئے جیسے یہ لوگ زندہ نہیں یا سکتے کے عالم میں ہیں۔
اب صبح ، کے نو دس بجے کا وقت تھا، ہر طرف دھوپ پھیل چکی تھی ، تپش میں تیزی آتی جارہی تھی ۔ جب قاضی صاحب نے ’’کالو’’ کو اشارہ کیا۔ حیرت انگیز محشر بپا ہوا۔ تمام کتّوں نے اپنا اپنا مُنہ آسمان کی طرف اُٹھالیا اور ایک ایسی متحد آواز میں غُرانا شروع کیا جو میں کبھی کبھی راتوں کو سُنتا تھا۔ جسے سُن کر میری دادی کہا کرتی تھیں،’’کُتّا رو رہا ہے خدا خیر کرے‘‘۔
آسمان کی طرف تھوڑی دیر مُنہ کئے لمبی غراہٹوں کے بعد یہ کتّے جو مشرقی سمت سے اس کوچے میں داخل ہوئے تھے۔ اب مغرب کی طرف چلتے گئے۔
میں اور قاضی اکرام ہی نہیں جلال پور جٹاں کے سبھی مردوزن کتّوں کو گلی سے رخصت ہوتے دیکھ رہے تھے۔ اورخالی دَونے آسمان کی طرف منہ کھولے گلی میں بدستور پڑے تھے۔ (یہ دستِ دُعا تھے)۔
جونہی کُتّے گلی سے نکلے قاضی صاحب کے ہاتھ بھی دُعا کے لئے اُٹھ گئے اور ان کی سفید براق داڑھی پر چند موتی سے چمکنے لگے یقیناً یہ آنسو تھے۔
پَس منظر بیان ہو چکا اب منظر ملاظہ فرمائیے۔ کیا آپ یقین کریں گے کہ میں جو آج ستّر برس اور گیارہ میہنے کابوڑھا بیمار ہوں خدا عزوجل اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ بادل گرجا اور مغرب سے اس تیزی کے ساتھ گھٹا اُمڈی کہ گلی ابھی پوری طرح خالی بھی نہ ہوئی تھی ، مرد ،عورتیں ، بچے بالے ابھی کوٹھوں سے پوری طرح اُترنے بھی نہ پائے تھے کہ بارش ہونے لگی ۔ ہم بھی مسجد کی چھت سے نیچے اُترے۔ پہلے مسجد میں گئے اورپھر حلوہ کھانے کا شوق لئے ہوئے حویلی کی ڈیوڑھی میں چلے گئے۔ دیکھا کہ وہی معتبر مولوی صاحبان چٹائیوں پر بیٹھے ہیں اورحضرت قاضی صاحب حلوے کی طشتریاں ان لوگوں کے سامنے رکھتے جارہے ہیں ۔ وہ حلوہ کھاتے بھی جارہے ہیں اورآپس میں ہنس کر باتیں بھی کررہے ہیں۔ ایک کی زبان سے میں نے یہ بھی سُنا کہ حضرت یہ نظر بندی کا معاملہ نہیں ہے تو اور کیا ہے ۔ جادو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔نعوذ باللہ۔
مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ قاضی صاحب قبلہ ان کی اس بات پر دیر تک مسکرائے اوران بن بلائے مہمانوں کے لئے مزید حلوہ طلب فرماتے رہے ۔ باہر بارش ہو رہی تھی اوراندر مولوی صاحبان خوشی سے حلوہ اڑارہے تھے ۔ قاضی صاحب کے جو الفاظ آج تک میرے سینے پر منقوش ہیں میں یہاں ثبت کئے دیتا ہوں اورمیرا ایمان ہے کہ یہی مقصود تھا۔
قاضی صاحب نے کہا تھا’’کُتّے مل جل کر کبھی نہیں کھاتے لیکن یہ آج بھلائی کے لئے جمع ہوئے تھے۔ اللہ کے بندوں کے لئے دُعا کرنے کے لئے وہ اتنے متحد رہے کہ ایک نے بھی کسی دوسرے پر چھینا جھپٹی نہیں کی۔ ان کا ایک ہی امام تھا۔ اس نے کھایا بھی کچھ نہیں۔ اب وہ آئے گا تو میں اس کے لئے حلوہ حاضر کروں گا۔‘‘
ایک مولوی صاحب نے کہا’’حضرت ہمیں تو یہ جادوگری نظر آتی ہے۔‘‘ قاضی صاحب بولے ’’مولوی صاحب ! ہم تو آپ ہی کے فَتوؤں پر زندگی گزارتے ہیں۔ خواہ اسے جادو فرمائیں یا نظر بندی آپ نے یہ تو ضرور دیکھ لیا ہے کہ کُتّے بھی کسی نیک مقصد کے لئے جمع ہوں تو آپس میں لڑتے جھگڑتے نہیں۔‘‘ یہ سُن کر مولوی صاحبان جھیپتے نظر آئے۔
مجھے یاد ہے کہ مولوی صاحبان کو بھیگتے ہوئے ہی اس ڈیوڑھی سے نکل کر جاتے ہوئے میں نے دیکھا تھا۔ بخدا یہ عجوبہ اگر میں خود نہ دیکھتا تو کسی دوسرے کے بیان کرنے پر کبھی یقین نہ کرتا۔ یاد رہے کہ میں وہی حفیظ جالندھری ہوں جس کے بارے میں حضرت قاضی صاحب نے جلال پور جٹاں میں ساٹھ سال پہلے فرمایا تھا کہ حفیظ؎ تیری لکھی ہوئی نعتیں دوسرے سنایا کریں گے ۔
الحمدللہ ، نعتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم یعنی ’’شاہنامہ اسلام‘‘ ساری دنیا کے اُردوجاننے والے مسلمان خود پڑھتے اوردوسروں کو بھی سُناتے ہیں۔
ارادت ہو تو دیکھ ان خرقہ پوشوں کو..
ید بیضا لئے بیٹھے ہیں اپنی آستینوں میں...
~~~منقول~~~

Friday, 16 December 2016

بھَگتُو کا قرض

بھَگتُو کا قرض
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بھَگتُو ملاح جب بھی جیل سے آتا واپس دھندے میں جُت جاتا۔ وہ ایک مشہور پیشہ ور چور تھا ۔ چونکہ پرانے زمانے میں ہرشئے میں روایات اور اقدار کا خیال رکھا جاتا تھا اس لیے سب لوگ بھَگتُو کی ایک خاص انداز میں عزت کرتے تھے۔ اسی عزت کا نتیجہ تھا کہ وہ جب بوڑھا ہوگیا تو دس پندرہ سال تک اہل علاقہ نے اُسے پرانے چوک میں چوکیدار مقرر کردیا۔ سب کا یہی خیال تھا کہ چونکہ وہ چوری، نقب لگانے، دیواروں پر چڑھنے اور چھتیں پھلانگنے کا ماہر ہے اور چوروں کی ہرادا اور ہرطریقے سے واقف ہے اس لیے وہی چوکیدار بننے کا بھی سب سے زیادہ اہل ہے۔

بلکہ بھَگتُو کو سب سے پہلے چوکیدار میرے اباجی نے ہی بنایا تھا۔ کئی سال تک وہ ہمارے گھر اور مال ڈنگر کا چوکیدارہ کرتا رہا۔ اور پھر کہیں اہل علاقہ نے اسے پرانے چوک میں بڑے عہدے پر منتقل کردیا۔ بھگتُو جب چوکیدار بن گیا اور پرانا ہوگیا تو اس کا ٹائم ٹیبل یہ ہوتا کہ عشأ کی نماز کے بعد وہ چوک میں آجاتا اور اپنے مخصوص بنچ پر براجمان ہوجاتا۔ ہم اس وقت لڑکے تھے۔ میں تب پان بہت چبایا کرتا تھا۔ میں پیلی پتی والا پان منہ میں رکھ، بھگتُو کے بنچ پر اس کے ساتھ جابیٹھتا تھا۔ بھگتو نے تقریباً ہر اُس چوری کی واردات مجھے سنائی جو اس نے اپنی زندگی میں کی تھی اور اسے یاد رہ گئی تھی۔ کئی مرتبہ وہ آپ کا ہاتھ پکڑ کر اپنے سر پر لے جاتا اور پھر اپنے سر پر آپ کا ہاتھ پھِرواتے ہوئے کہتا،

’’یہ دیکھو! پولیس کے ڈنڈے کھا کھا کر میرا سر کیسا ہوگیا ہے؟‘‘

بھگتُو کا سر واقعی بہت عجیب و غریب تھا۔ جیسے ساحل کی ریت پر کوئی بڑی لہر اپنے نشان چھوڑ جائے۔ بھَگتُو چوروں کے قواعد ، رسم و رواج اور اقداروروایات کے بہت واقعات سناتا تھا۔ اس کے نزدیک بڑا چور یعنی بڑی شان والا چور وہ تھا جو پولیس کے مارنے پر چوری نہ مانے۔ وہ سینہ تان کر اکثر اس طرح کے واقعات سناتا،

’’ایک مرتبہ تھانیدار نے مجھے کہا، بھگتُو سچ سچ بتاؤ! فُلاں چوری تم نے کی؟ تو میں نے تھانیدار سے کہا، صاحب جی! ایک گلاس پانی تو پلا دیں پہلے۔ تھانیدار نے اسی وقت ایک پولیس والے کو حکم دیا اور پولیس والا میرے لیے پانی لے آیا۔ میں نے پانی پیا۔ گلاس خالی کرکے پولیس والے کو تھمایا اور تھانیدار سے کہا، ’صاحب جی! ابھی یہ جو پانی میں نے پیا ہے۔ آپ پہلے مجھ سے یہ منوائیں کہ میں نے پیا ہے۔ تب میں چوری بھی مان لونگا۔ یہ بات سن کر تو تھانیدار کو اور زیادہ غصہ آگیا۔ اس نے میری خوب دھلائی کی لیکن پھر دوبارہ چوری کا سوال نہ کیا بلکہ آخر تک یہی پوچھتا رہا کہ ’بھگتُو! تم نے  ابھی پانی پیا کہ نہیں؟‘‘

بھگتُو کے پاس کہانیاں ہی کہانیاں تھی۔ سب اسکی اپنی زندگی کے واقعات تھے۔ چوریوں کی وارداتیں، ڈنگر(جانور) کھولنا۔ رات کی تاریکی میں جسم پر تیل مل کر صرف ایک جانگیہ پہن، اونچی اونچی چھتوں پر پھدکتے چلے جانا۔ چھت سے چھلانگ لگانا تو زمین پر یوں آکر کھڑے ہوجانا جیسے بھگتُو گِر نہیں بلکہ اُڑ رہا تھا۔ ایک بار بھگتُو نے مجھے بتایا کہ،

’’کسی زمانے میں ہم پیشہ ور چوروں کے درمیان مقابلے ہوا کرتے تھے۔ ہم پھولوں کی ایک تھالی ہاتھوں میں تھام کر چھت سے چھلانگ لگاتے اور جس کی جتنی کم پتیاں اُڑ کر زمین پر گرتیں وہ اتنا زیادہ جیت جاتا‘‘

بھگتو کے بڑھاپے کے زمانے میں ہمارے شہر میں ایک اور پیشہ ور چور ’’اَچھُو کالیا‘‘ خاصا مشہور ہوچکا تھا ۔ لیکن وہ جوانی میں ہی چل بسا ۔ ایک روز کسی چھت سےایسا گرا کہ سیدھا نہ کھڑا ہوسکا اور اس کا منکا ٹوٹ گیا۔

بھگتو کی شادی جوانی میں تو نہ ہوسکی لیکن جب اس نے چوریاں چھوڑ دیں اور اباجی کی مُریدی میں آگیا تو اباجی کے بعض دوستوں کی کوششوں سے ہم نے کسی گاؤں میں اس کی شادی کروادی۔ وہ بیوی سے اتنا پیار کرتا تھا۔ اتنا پیار کرتا تھا کہ جب اس کی بیوی کو بھگتُو کی بجائے چودھری خالد سے پیار ہوگیا تو بھگتُو نے بیوی سے ناراضی کا اظہار کرنے کی بجائے اسے چودھری خالد سے ملنے دیا۔ وہ کہتا تھا ’’میری رانی کو خوش رہنا چاہیے۔ وہ خوش ہے تو مجھے اور کچھ نہیں چاہیے‘‘

ایک مرتبہ بھگتو کی بیوی غائب ہوگئی۔ لیکن تین دن کے اندر اندر اس نے ڈھونڈ نکالی۔ اور جب میری بھگتو سے ملاقات ہوئی تو اس نے بتایا کہ بیوی کو ڈھونڈنے کے لیے اس نے تیس چالیس مکانوں کی سیر کی ہے ۔ یعنی رات کو جب لوگ سورہے تھے تو وہ لوگوں کے گھروں میں اترا اور اس نے ایک ایک بستر پر لیٹے ، ایک ایک فرد کے چہرے سے کمبل ہٹا ہٹا کر دیکھا کہ کہیں اس کی بیوی تو نہیں سورہی؟ اور بالآخر اس نے اپنی محبوب بیوی کو ڈھونڈ ہی لیا۔ اس کے بعد بھگتُو خوشاب چھوڑ کر چلا گیا اور پھر کبھی واپس نہ آیا۔ مجھے آج تک معلوم نہیں کہ وہ کب فوت ہوا ہوگا۔ یا ابھی بھی زندہ ہو تو کچھ نہیں کہا جاسکتا لیکن اگر وہ اب زندہ ہوا تو اس کی عمر ضرور نوّے سال سے اوپر ہوگی۔اا

بھگتُو، قوم کا ملاح تھا  چنانچہ ایک اور فن جو اس کی گھُٹی میں تھا اور اُسے چوری سے بھی زیادہ آتا تھا ، وہ تھا دریا میں تیرنا۔ مچھلیاں پکڑنا۔ ڈوبنے والوں کی لاشیں ڈھونڈ کر دینے کا کام وہ ہمیشہ مفت کیا کرتا تھا۔ موسم جتنا بھی سرد ہوتا بھگتُو کا کہنا تھا کہ جسم پر تیل مل کر اور بہت سا گُڑ کھا کر دریا میں چھلانگ لگا دو۔ بالکل بھی ٹھنڈ نہیں لگے گی۔ ایک مرتبہ بھگتونے مجھے مچھلی پکانے کا ایک عجب طریقہ بتایا۔ میں نے آج تک اس  طریقے پر مچھلی پکائی تو نہیں لیکن سوچتا ہوں کہ جب کبھی کوئی بھی اس طریقے پر مچھلی پکائے گا تو وہ مچھلی ہوگی بے حد لذیذ ۔ بھگتو نے بتایا کہ اگر کبھی دریا پر آپ اکیلے ہوں اور کچھ پکانے کے لیے آپ کے پاس کوئی سامان بھی نہ ہو تو آپ ایک مچھلی پکڑیں۔ مچھلی کا پیٹ صاف کرکے، اس پر چکنی دریائی مٹی کا موٹا موٹا لیپ کردیں۔ پھر عام گھاس پھونس اور چھوٹی موٹی لکڑیوں سے آگ کا چھوٹا سا الاؤ جلائیں اور مچھلی اس میں پھینک دیں۔ پھر دیکھیں کہ جب مچھلی پر لگی مٹی پک جائے جیسے کمہاروں کے گھڑے پک جاتے ہیں تو مچھلی آگ سے نکال لیں اور اسے درمیان سے اس طرح چیریں کہ مچھلی کسی سِیپ کے دو ٹکڑوں کی طرح دولخت ہوجائے۔ اور یوں آپ کے ہاتھ میں پکی ہوئی مٹی کی  گویا دو پلیٹیں آجائیں گی جن میں پکی پکائی مچھلی دھری ہوگی۔

بھگتو کی کہانیوں میں چوریوں، مچھلیوں اور پولیس کے علاوہ جیلوں کی داستانیں بھی ہوتی تھیں۔ اس نے اپنی عمر کا زیادہ تر حصہ جیل میں کاٹا تھا۔ وہ اتنی بار جیل گیا تھا کہ آخر جیل میں موجود تمام پرانے قیدیوں اور سٹاف کی اس کے ساتھ دوستی ہوگئی تھی۔ بھگتو کو وہ جیل سے باہر کچھ خریدنے کے لیے بھی بھیج دیتے تھے ۔ وہ چپ چاپ جاتا۔ سبزی، دال، جیلر کے لیے سگریٹ خریدتا اور پھرواپس آجاتا۔ جب جب وہ جیل میں ہوتا تو ہمیشہ کُک بھگتُو ہی ہوا کرتاتھا۔ جیل نے اسے اتنا اچھا کُک بنا دیا تھا کہ جس زمانے میں اباجی نے اسے بطور چوکیدار رکھا ہوا تھا۔ بھگتو ہمارا کُک بھی رہا۔ بھگتو نے گھر کے باہر تَنُور (تندوری) لگا رکھی تھی۔ تندوری لگا رکھی سے مُراد مٹی کا تنور بنا رکھا تھا۔ اور وہ تندوری کے چبوترے پر چڑھ کر بیٹھ جاتا۔ ساتھ کے ساتھ مذاق کیے جاتا، کہاںیاں سنائے جاتا اور ساتھ کے ساتھ روٹیاں تھپتھپاتا جاتا۔

بھگتو گاتا بھی بہت اچھا تھا۔ اگرچہ اس کا گَلہ دیہاتی قسم کا بلند تھا لیکن پھر بھی اس کے سُر نہ ٹوٹتے تھے۔ ایک گانا جو بھگتو اکثر سنایا کرتا تھا۔ مجھے آج بھی یاد ہے اور میں کبھی کبھی گنگناتا بھی ہوں۔ اگرچہ یہ آج تک معلوم نہیں ہوسکا کہ یہ گانا کسی پنجابی فلم کا ہے یا بھگتو اور اس کے دوستوں نے خود بنا رکھا تھا۔ ممکن ہے آج فیس بک کی اس پوسٹ کے بعد کوئی پنجابی فلموں کا شوقین دوست اس راز سے پردہ اُٹھا سکے،

بھگتو یہ گانا سنایا کرتا اور اکثر رو پڑتا،

اَسّی آں لفنگے تے تلنگے موچی وال دے
جیلاں دے عادی اَسّی شوقیں آں دال دے
اسی آں لفنگے تے تلنگے موچی وال دے

لُٹے سہاگ اَسّی ، لُٹی پھلجھڑیاں
کئی واری جیل ویکھی پایاں ہتھ کڑیاں
نئیں ہوندے چور جانی! اَجکل ساڈے نال دے
اسی آں لفنگے تے تلنگے موچی وال دے

۔۔
تحریر جناب محترم #ادریس_آزاد