Sunday, 9 September 2018

مامتا وکھری نہیں ہوندی

As Received
Copied Content!!!!! Writer unknown
کل پھیکے کے گھر کے سامنے ایک نئی چمکتی ہوئی گاڑی کھڑی تھی۔۔۔! سارے گاؤں میں اس کا چرچا تھا۔۔۔! جانے کون ملنے آیا تھا۔۔۔! میں جانتا تھا پھیکا پہلی فرصت میں آ کر  مجھے سارا ماجرا ضرور سناۓ گا۔۔۔! وہی ہوا شام کو بیٹھک میں آ کر بیٹھا ہی تھا کہ پھیکا چلا آیا۔۔۔! حال چال پوچھنے کے بعد کہنے لگا۔۔۔! صاحب جی کئی سال پہلے کی بات ہے آپ کو یاد ہے ماسی نوراں ہوتی تھی جو پٹھی پر دانے بھونا کرتی تھی۔۔۔! جس کا اِکو اِک پُتر تھا وقار۔۔۔! میں نے کہا ہاں یار میں اپنے گاؤں کے لوگوں کو کیسے بھول سکتا ہوں۔۔۔!

اللہ آپ کا بھلا کرے صاحب جی وقار اور میں پنجویں جماعت میں پڑھتے تھے۔۔۔! سکول میں اکثر وقار کے ٹِڈھ میں پیڑ رہتی تھی۔۔۔! صاحب جی اک نُکرے لگا روتا رہتا تھا۔۔۔! ماسٹر جی ڈانٹ کر کار بھیج دیتے تھے کہ جا حکیم کو دکھا اور دوائی لے۔۔۔! اک دن میں آدھی چھٹی کے وقت وقار کے پاس بیٹھا تھا۔۔۔! میں نے اماں کے ہاتھ کا بنا پراٹھا اور اچارکھولا۔۔۔! صاحب جی آج وی جب کبھی بہت بھوک لگتی ہے نا۔۔۔! تو سب سے پہلے اماں کے ہاتھ کا بنا پراٹھا ہی یاد آتا ہے۔۔۔! اور سارے پنڈ میں اُس پراٹھے کی خوشبو بھر جاتی ہے۔۔۔! پتہ نئیں صاحب جی اماں کے ہاتھ میں کیا جادو تھا۔۔۔!

          صاحب جی وقار نے پراٹھے کی طرف دیکھا اور نظر پھیر لی۔۔۔! اُس ایک نظر نے اُس کی ٹِڈھ پیڑ کے سارے راز کھول دیئے۔۔۔! میں نے زندگی میں پہلی بار کسی کی آنکھوں میں آندروں کو بھوک سے بلکتے دیکھا۔۔۔!  صاحب جی وقار کی فاقوں سے لُوستی آندریں۔۔۔! آنسوؤں کے سامنے ہاتھ جوڑے بیٹھی تھیں جیسے کہتی ہوں۔۔۔! اک اتھرو بھی گرا تو بھرم ٹوٹ جاۓ گا۔۔۔! وقار کا بھرم ٹوٹنے سے پہلے میں نے اُس کی منتیں کر کے اُسے کھانے میں شریک کر لیا۔۔۔! پہلی بُرکی ٹِڈھ میں جاتے ہی وقار کی تڑپتی آندروں نے آنکھوں کے ذریعہ شکریہ بھیج دیا۔۔۔! میں نے چُپکے سے ہاتھ روک لیا اور وقار کو باتوں میں لگاۓ رکھا۔۔۔!اس نے  پورا پراٹھا کھا لیا۔۔۔! اور پھراکثر ایسا ہونے لگا۔۔۔! میں کسی نہ کسی بہانے وقار کو کھانے میں شریک کرنے لگا۔۔۔!  وقار کی بھوکی آندروں کے ساتھ میرے پراٹھے کی پکی یاری ہو گئی۔۔۔! اور میری وقار کے ساتھ۔۔۔! خورے کس کی یاری زیادہ پکی تھی۔۔۔؟ میں سکول سے کار آتے ہی بھوک بھوک کی کھپ  مچا دیتا۔۔۔! ایک  دن اماں نے پوچھ ہی لیا۔۔۔! پُتر  تجھے ساتھ پراٹھا بنا کر دیتی ہوں کھاتا بھی ہے کہ نہیں۔۔۔! اتنی بھوک کیوں لگ جاتی ہے۔۔۔؟ میرے ہتھ پیر پھول جاتے ہیں۔۔۔! آتے ساتھ بُھوک بُھوک  کی کھپ مچا دیتا ہے۔۔۔! جیسے صدیوں کا بھوکا ہو۔۔۔!

          میں کہاں کُچھ بتانے والا تھا صاحب جی۔۔۔! پر اماں نے اُگلوا کر ہی دم لیا۔۔۔! ساری بات بتائی اماں تو سن کر بلک  پڑی اور کہنے لگی۔۔۔! کل سے دو پراٹھے بنا دیا کروں گی۔۔۔! میں نے  کہا اماں پراٹھے دو ہوۓ تو وقار کا بھرم ٹوٹ جاۓ گا۔۔۔!میں تو  کار آکر کھا ہی لیتا ہوں۔۔۔! صاحب جی اُس دن سے اماں نے پراٹھے کے ول بڑھا دیئے اور مکھن کی مقدار بھی۔۔۔! کہنے لگی وہ بھی میرے جیسی ماں کا پتر ہے۔۔۔! مامتا تو وکھری وکھری نہیں ہوتی پھیکے۔۔۔! مائیں وکھو وَکھ ہوئیں تو کیا۔۔۔؟

          میں سوچ میں پڑ گیا۔۔۔! پانچویں جماعت میں پڑھنے والے پھیکے کو بھرم رکھنے کا پتہ تھا۔۔۔! بھرم جو ذات کا مان ہوتا ہے۔۔۔! اگرایک بار بھرم ٹوٹ جاۓ تو بندہ بھی ٹوٹ جاتا ہے۔۔۔! ساری زندگی اپنی ہی کرچیاں اکٹھی کرنے میں گزر جاتی ہے۔۔۔! اور بندہ  پھرکبھی نہیں جُڑ پاتا۔۔۔! پھیکے کو پانچویں جماعت سے ہی بھرم رکھنے آتے تھے۔۔۔! اِس سے آگے تو وہ پڑھ ہی نہیں سکا تھا۔۔۔! اور میں پڑھا لکھا اعلی تعلیم یافتہ۔۔۔!  مجھے کسی سکول نے بھرم رکھنا سکھایا ہی نہیں تھا۔۔۔!

          صاحب جی اس کے بعد امّاں بہانے بہانے سے وقار کے کار جانے لگی۔۔۔! “دیکھ نوراں ساگ بنایا ہے چکھ کر بتا کیسا بنا ہے” وقار کی اماں کو پتہ بھی نہ چلتا اور اُن کا ایک ڈنگ ٹپ جاتا۔۔۔! صاحب جی وقار کو پڑھنے کا بہت شوق تھا پھر اماں نے مامے سے کہہ کر ماسی نوراں کو شہر میں کسی کے کار کام پر لگوا دیا۔۔۔! تنخواہ وقار کی پڑھائی اور دو وقت کی روٹی طے ہوئی۔۔۔! اماں کی زندگی تک ماسی نوراں سے رابطہ رہا۔۔۔!  اماں کے جانے کے چند ماہ بعد ہی ماسی بھی گزر گئی۔۔۔! اُس کے بعد رابطہ ہی کُٹ گیا۔۔۔!

کل وقار آیا تھا۔۔۔! ولایت میں رہتا ہے جی واپس آتے ہی ملنے چلا آیا۔۔۔!  پڑھ لکھ کر بہت بڑا افسر بن گیاہے۔۔۔! اماں کے نام پر لنگر کھولنا چاہتا ہے۔۔۔! صاحب جی میں نے حیران ہو کر وقار سے پوچھا۔۔۔! یار لوگ اسکول بنواتے ہیں ہسپتال بنواتے ہیں تو لنگر ہی کیوں کھولنا چاہتا ہے اور وہ بھی امّاں کے نام پر۔۔۔؟

کہنے لگا۔۔۔! پھیکے بھوک بہت ظالم چیز ہے چور ڈاکو بنا دیا کرتی ہے۔۔۔! خالی پیٹ پڑھائی نہیں ہوتی۔۔۔! ٹِڈھ پیڑ سے جان نکلتی ہے۔۔۔!  تیرے سے زیادہ اس بات کو کون جانتا ہے پھیکے۔۔۔! سارے آنکھیں پڑھنے والے نہیں ہوتے۔۔۔! اور نہ ہی تیرے ورگے بھرم رکھنے والے۔۔۔! پھر  کہنے لگا۔۔۔! یار پھیکے تجھے آج ایک بات بتاؤں۔۔۔! جھلیا میں سب جانتا ہوں۔۔۔! چند دنوں کے بعد جب پراٹھے کے بل بڑھ گئے تھے۔۔۔! اور مکھن بھی۔۔۔! آدھا پراٹھا کھا کر ہی میرا پیٹ بھرجایا کرتا۔۔۔! اماں کو ہم دونوں میں سے کسی کا بھی بھوکا رہنا منظور نہیں تھا  پھیکے۔۔۔!  وقار پھوٹ پھوٹ کر رو رہا تھا۔۔۔! اماں یہاں بھی بازی لے گئی صاحب جی۔۔۔!

اور میں بھی اس سوچ میں ڈُوب گیا کہ لُوستی آندروں اور پراٹھے کی یاری زیادہ پکی تھی یا پھیکے اور وقار کی۔۔۔! بھرم کی بنیاد پر قائم ہونے والے رشتے کبھی ٹوٹا نہیں کرتے۔۔۔!

پھیکا کہہ رہا تھا مُجھے امّاں کی وہ بات آج بھی یاد ہے صاحب جی۔۔۔! اُس نے کہا تھا۔۔۔! مامتا تو وکھری وکھری نہیں ہوتی پھیکے۔۔۔! مائیں وکھو وَکھ ہوئیں تو کیا۔۔۔! اُس کے ہاتھ تیزی سے پراٹھے کو ول دے رہے تھے۔۔۔! دو روٹیوں جتنا ایک پیڑا لیا تھا امّاں نے صاحب جی۔۔۔! میں پاس ہی تو چونکی  پر بیٹھا ناشتہ کر رہا تھا۔۔۔! روٹی بیلتے بیلتے نماز کا سبق پڑھاتی میرے ساتھ نکیاں نکیاں گلاں کرتی۔۔۔! آج بھی ویہڑے میں پھرتی نظر آتی ہے۔۔۔! پھیکا ماں کو یاد کر کے رو رہا تھا۔۔۔!
سورج کی پہلی کرن جیسا روشن چہرہ تھا اماں کا صاحب جی۔۔۔! باتیں کرتے کرتے پھیکا میرا ہاتھ پکڑ کر مجھے اُس پل میں لے گیا اور ایک دم میرے سامنے کسی پُرانْی فلم کی طرح سارا منظر بلیک اینڈ وائٹ ہو گیا۔۔۔! زندگی کے کینوس پر صرف ایک ہی رنگ بکھرا تھا مامتا کا رنگ۔۔۔!

سچ ہے ماں کی گود بچے کی پہلی تربیت گاہ ہے۔۔۔!  آج ملک کے حالات کرپشن اور مسائل کو دیکھتے ہوۓ میں سوچ رہا تھا۔۔۔! کاش سب مائیں پھیکے کی اماں جیسی ہو جائیں۔۔۔! میں ہر بار پھیکے سے ملنے کے بعد وطن کی بند کھڑکیوں  سے چھن چھن کر آتی سنہری روشنی کو دیکھتا ہوں۔۔۔!  روشنی جو راستہ تلاش کر ہی لیتی ہے۔۔۔!

Thursday, 5 July 2018

ہمارا المیہ

تو بات ہوتی ہے کسی معاشرتی برائی یا واقعہ کی:

ہمارا المیہ ہے عدم برداشت اور بے ضمیری، یا ہم آگ لگا سکتے ہیں یا پھر بلکل چپ کر کے بیٹھے رہتے ہیں۔ ورنہ سول سوسائٹی ایک عفریت ایک بلا سے کم نہیں ہر معاشرتی برائی اور برے عمل کے خلاف اٹھ کھڑے ہونے سے اس کی روک تھام اور سد باب ممکن ہے۔
سوشل میڈیا ایک آسان طریقہ ہے لیکن ہمیشہ موثر نہیں  یقین کریں یہ تیر ہمیشہ حدف پہ نہیں بیٹھتا۔ کئی ایسے کیس ہیں اور واقعات ہیں جن کا ٹرینڈ سوشل میڈیا سے شروع ہوا اور ختم ہو گیا اور نتیجہ کچھ بھی نہیں۔

میں کسی فرد واحد کو ذمہ دار نہیں ٹھہراتا لیکن اجتماعی ہم لوگ سب اس میں شامل ہیں۔ لوگوں کو عملی طور پہ میدان میں آنا ہو گا لیکن برداشت، بردباری اور سمجھداری کے ساتھ، ہمارے ہاں لوگ نکلتے ہی غریبوں کی ریڑھیاں، گاڑیاں کھوکھے توڑنے لگ جاتے ہیں۔ یا پھر گھروں میں میری طرح پڑے رہتے ہیں اور فیس بک پوسٹ ٹویٹ کر کر کے اپنی بے بس بھڑاس نکال کر مطمئین ہو جاتے ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
چیف جسٹس یا چیف آف آرمی تک تو بات بعد میں پہنچنئ چاہئے پہلے جس جگہ  یا علاقے میں کوئی برائی کوئی ایسا عمل ہو وہاں لوگ بلا کسی تفریق ذمہ داران  کو بحوالہ قانون کریں اور صرف یہی نہیں بلکہ اس کی پیرووی مل کر کریں  تاکہ اس کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے، مزید اسکے سدباب اور دوبارہ نا ہونے پہ بھی متفق ہوں اور ضروری اقدامات کئے جائیں۔

جزاک اللہ الخیر

از: قلم نا تواں
راشد ادریس رانا
05 جولائی 2018

Sunday, 31 December 2017

ابھی وقت لگے گا۔

فروٹ والی دکان پہ وہ نوجوان جلدی جلدی فروٹ تول کر گاہکوں کو دے رہا تھا۔ناجانےکیوں دل میں اک خیال آیا کہ یہ بھی تو اس ملک کی قیادت سنبھال سکتا ہے، یہ بلاول،مریم، حمزہ اور ان جیسے مورثی چوروں سے بہتر ہےجوعوام کااربوں کھربوں ھڑپ رہے ہیں۔پھر اچانک چونک گیا جب لڑکے نے کمال مہارت سے سیب تولتے ہوئے ایک گلا سڑا سیب بھی آرام سے ڈال دیا،اور میری طرف مڑا توچونک گیااورتھوڑی خجل سی مسکراہٹ سے پوچھا جی کیا چاہئے۔
میں نے بے بسی سے اسکی طرف دیکھا اور کہا
چاہتا توزندگیوں کوبدلنا تھا
لیکن ابھی تک سوچ نہیں بدلی اس قوم کی ابھی اور وقت لگے گا۔
قلم ناتواں:ر۔ا۔رانا
31 دسمبر 2017

Saturday, 11 November 2017

اخلاقی سزائیں

کچھ عرصہ سے پاکستان میں خصوصی طور پہ کراچی میں ایک عدالت میں مجرموں کو کچھ سزائیں دی جا رہی ہیں جو جیل میں بند کرنے کی بجائے کچھ یوں ہیں:

ایک مجرم کو سزا ملی کہ وہ 2 سال تک ایک جگہ پلے کارڈ لے کر کھڑا ہو گا جس پہ ٹریفک قانون کی پاسداری کا لکھا ہوا ہو گا.

*اسکا جرم تھا کہ اس نے ٹریفک کے قانون کی خلاف ورزی کی تھی.

اسی طرح تازہ ترین ایک بندے کو 3 سال تک با جماعت نماز پنجگانہ ادا کرنے کا کہا گیا جس کی رپورٹ امام مسجد سے لی جائے گی.

*اسکا جرم کرپشن اور دھوکہ دہی تھا*

ایسے ہی ملتی جلتی کچھ اور سزائیں بھی دی گئی ہیں. حال ہی میں وکلا نے اسکے خلاف آواز اٹھائی کہ یہ سزائیں غیر قانونی ہیں وغیرہ وغیرہ.

اب سوال یہ ہے کہ جو ہمارا نظام قانون اور سزائیں ہیں

₪ کیا ان سزاؤں کے بعد لوگ سدھر جاتے ہیں؟
₪ کیا ہونے والے نقصان کا ازالۂ ہو جاتا ہے؟
₪ کیا ان سزاؤں کے بعد لوگ اخلاقی طور پہ سدھر جاتے ہیں یا مزید بگڑ جاتے ہیں؟
₪ کیا ان سزاوں سے ہم سب کو معاشرے میں کوئی سبق یا عبرت ملتی ہے؟

جواب اگر واقعی ہی ایک تحقیقی سروے کیا جائے تو جواب ملے گا "نہیں".
ہمارا سزاوں کا نظام ایسا ہے کے جس میں عبرت اور سبق کم اور ترغیبِ جرم زیادہ ملتا ہے. ہمارے نظام میں زور اس بات پہ ہے کہ بندہ جرم کے بعد جیل میں آ کے جیل کی آبادی میں اضافہ نا کرئے بس، باقی باہر وہ مزید کیا کرئے اس سے قانونی لوگوں کا کچھ لینا دینا نہیں. جیل سے نکلنے والے 90 سے 97 فیصد لوگ پکے مجرم یا تربیت شدہ مجرم بن چکے ہوتے ہیں.

تو ایسی ابتر صورتحال میں میرے عزیز ہم وطنوں! کیا یہ *اخلاقی سزائیں* قدرے بہتر نہیں کہ جن میں کم از کم دیکھنے والوں کے لئے ایک عبرتناک سبق  ہے

بھائی یہ سزائیں بھی سزا ہی ہیں. جس کی ساتھ شرط ہے کہ اگر مجرم ان کی پابندی نہیں کرئے گا تو اس کو جیل بھی جانا ہی پڑے گا.
خداراَ اگر کچھ اچھا کام ہو رہا تو اسکے خلاف اپنی گہری عقل کا استعمال کم کر دیا کریں. یہ اخلاقی سزائیں ہیں جن کا نقصان کم اور فائدہ زیادہ ہے.

از خود راشد ادریس رانا
قلم نا تواں
11 نومبر 2017

Monday, 21 August 2017

"دو لمحے" تحریر محترم ارشد محمود

بشکریہ
محترم نادر خان سرگروہ
محترمہ شمسہ نجم صاحبہ
انتظامیہ: حرفِ ادب
محترم توصیف صدیقی
"اے زندگی" ریڈیو شگاگو

دو لمحے
تحریر: ارشد محمود
وہ باتھ روم کے آئینے میں اپنی ہی آنکھوں میں رات دیکھے خواب کی پرچھائیاں تلاش کررہاتھا۔ ڈھلتی عمرکے ساتھ آنکھوں میں خواب کی جگہ آسیب اتر آتے ہیں۔ اچھے برے اعمال کا بوجھ ۔ کندھوں پر رکھی بینگھی کے دونوں پلڑوں کی جنبش اور پل صراط پر توازن برقرار رکھنے کی کوشش۔ خوف سے لرزاں تھکن سے چور اور ندامت کے پسینہ میں شرابور بدن۔۔۔۔۔ ہاتھ پر پانی کی دھار نے خیال کی رو کو حقیقی دنیا سے جوڑ دیا۔ نظر واش بیسن پر گئی۔ اور سامنے کے منظر سے ایک چھناکا ہوا۔ کبھی کبھی اچانک لمحے وارد ہوتے ہیں ، ہاتھ تھام کر ساتھ بہا لے جاتے ہیں ، اُس گھڑی اس کے ہاتھ میں پانی کی ٹھنڈی دھار کے ساتھ کسی بچھڑے لمحہ کا لمس بھی آن ٹکا۔۔۔۔۔۔۔۔ بجلی کی سی تیزی سے اسکا بایاں ہاتھ پانی کے بہاوکو روکنے کے لیۓ ٹونٹی کے ہینڈل پر گھوما اور اس سے کئی گنا تیزی سے دائیں ہاتھ سے اس نے چیونٹی کو شہادت کی انگلی پر اٹھا لیا، چیونٹی بے سدھ اسکی انگلی پر ساکت پڑی تھی۔۔۔۔
وہ بھی تو اس دن یونہی ساکت تھا۔۔۔۔۔ چڑیا کا وہ ننھا سا بچہ۔۔۔۔۔۔۔۔ ایک اوربھولے بسرے لمحے نے اس کا ہاتھ تھام لیا، 7 سال کی بالی عمر کے وہ دن تھے جب دیکھ کر سیکھنے اور کر گزرنے کا جنوں جا بجا بھٹکائے رکھتا ہے ،جولائی کی جھلسا دینے والی گرمی میں ہر ذی روح اپنی اپنی پناہ گاہ میں دبکا ہوا تھا، وہ ایر کنڈیشن کی نرم خنکی میں گھلتی سانسیں اور بند پپوٹوں کو نظر انداز کرتا پیاس سے بلبلاتے چڑیا کے بچے کی دھیمی پڑتی آواز کے تعاقب میں اس گھنے پیڑ تک جا پہنچا جہاں چڑیا نے بچے دے رکھے تھے۔ پیلی پڑتی گھاس پر گرا چڑیا کا وہ بے بال و پر بچہ گرمی اور پیاس سے نڈھال تھا اس نے ہاتھ بڑھا کر اسے اپنی پسینے سےبھیگی ہتھیلی پر رکھ لیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ نرم گوشت کے اس پار ننھے سے دل کی دھڑکن صاف محسوس کی جا سکتی تھی
کچھ دیر اس کو ہاتھوں میں لیۓ گھومنے کے بعد اچانک اسکے ذہن میں ایک خیل آیا۔ جو دو روز قبل اسکے چچا کے مرغی ذبحہ کرنے کے تجربہ سے منسلک تھا۔ اگلے ہی لمحہ وہ سبزی کاٹنے والی چھری سے چڑیا کے بچے کا گلا کاٹ چکا تھا۔ ننھا سا بدن لمحے بھر کو تڑپ کر ہمیشہ کے لیئے ساکت ہو گیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ لیکن اس ہولناک تجربہ کے اختتام سے قبل ہی اسے وہ سکوت اپنی روح میں اترتا ہوا محسوس یوا۔۔۔۔۔۔ وہ بوجھ۔۔۔۔۔۔۔ وہ اذیت۔۔۔۔۔۔۔۔ جوناحق جان لینے والے ہر شخص کا مقدر ہوتی ہوگی۔
احساسِ گناہ نے اسے اوّلین انسانی قتل کے بعد نعش کو زمین گھود کر ٹھکانے لگانے کی ترغیب دی۔۔۔۔۔۔۔۔۔کوّے کی ان سنی ان دیکھی واردات کی طرح۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ شاید بھلے زمانے تھے۔۔۔۔۔۔انسان تو کیا انسانی نعشوں کی بے حرمتی بھی ممنوع تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس نے اُسے گھر کے ایک غیر آباد کونے میں مٹی تلے دبا تو دیا۔ لیکن وہ کونا ہمیشہ اسکے دل میں قدیم قبرستان کی طرح آباد رہا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ منظر دھندلانے لگا۔۔۔۔۔۔۔۔ شہادت کی انگلی پر دھری چیونٹی کو اس نے انتہائی آہستگی سےواش بیسن کے خشک حصہ پر اتارا ۔۔۔۔۔
نہ جانے کتنی صدیاں بیت گئیں یاس و بیم میں۔ پھر چیونٹی نے ڈھلوان کی جانب سفر شروع کیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس نے دھندلائے ہوئے آئینے پر ہاتھ پھیرا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ آنکھوں کے نم گوشوں کے باوجود ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔سانس میں سکینت بھری ہوئی تھی.

Saturday, 12 August 2017

نا سمجھوں کا ٹولہ

₪ حکومتوں کا گرانا، کسی جماعت پہ کرپشن ثابت کرنا اقتدار ختم کرا دینا اور لولی لنگڑی. سسکتی اور آہیں بھرتی نام نہاد ہی سہی، سیاہ ست کو ناکارہ کر دینا یہ ہے وہ کامیابی جس پہ عمران خان سمیت سبھی اپوزیشن جماعتوں کا زور رہتا ہے. لیکن بعد از نتائج اور بد تر صورتحال بارے کوئی نہیں سوچتا.

سمجھتے نہیں ہیں کیوں کہ انہوں نے کبھی مری روڈ پہ چلنے والی اومنی بس میں سفر نہیں کیا. جس میں موجود ڈرائیور کنڈیکٹر دونوں نشئی ہوتے ہیں بد تمیز جاہل ہوتے ہیں دنیا کر قریب قریب سب برائیاں ان میں موجود ہوتی ہیں لیکن!!!!!!!
ہم پیسے دیکر انکے ساتھ سفر کرتے ہیں زندگی.داو پہ لگا کر سب کچھ برداشت کرتے ہیں کیوں؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟

"کیونکہ مقصد ہوتا ہے منزل تک پہنچنا."
جب تک ہمارے پاس بہتر سے بہترین متبادل نہیں آتا یا وہ جس پہ بھرپور یقین ہو کہ وہ ہمارے معیارکے مطابق ہے ہم کیوں ھاھاکار مچا کر یہ ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ صرف ہم ہی مسیحا ہیں اور کوئی نہیں........

ہمارے ہاں زور برائی پہ رہتا ہے اسباب پہ نہیں.
ذاتیات پہ اتریں تو دودھ کا دھلا کوئی نہیں. کاروبار روپے پیسے کی بات کریں تو شک سبھئ پہ جاتا ہے..... پھر بھی ہم میٹھئ گولی لے کر آسمان سے فرشتوں کے اتر آنے کا خواب دیکھتے ہیں . کوئی قوم پرستی کا شکار کوئی فرقہ پرستی کا کوئی برادری ازم کا...... غرض 90 فیصدغرض ہے اور خلوص کہیں ایک تنہا چراغ کی مانند ہوا کے تھپیڑے کھاتا ہوا.

ازخود
راشد ادریس رانا
قلم بے لگام
12 اگست 2017