Monday, 22 August 2016

درست ہے یہ بات

درست ہے یہ بات کہ

چھوٹے گھروں میں زیادہ جگہ ہوتی ہے۔
ہنڈیا میں پڑوسی کا بھی حصہ ہوتا ہے۔
محلے کی بیٹاں سب کی اپنی بیٹیاں ہوتی ہے۔
شراکت جائیداد میں نہیں بلکہ خوشی غمی میں ہوتی ہے۔

بس یہ سب چھوٹے گھروں اور چھوٹے محلوں میں ہی ہوتا ہے۔

ازخود راشد ادریس رانا
20 آگست 2016

Wednesday, 27 July 2016

معاشرہ ہم خود ہیں

ناک کی سیدھ میں سڑک پے پاگلوں کی طرح چلتے  چلتے جب میں بڑبڑانے لگا تو راہ گیر بھی سمجھے شاید میں کوئی مجنوں ہوں۔
اچانک مجھے ہوش آیا اور اپنے اندر کے دیوانے کے لفظوں پہ غور کرنے لگا
جو بار بار مجھے کہہ رہا تھا

اے ابن آدم !!!! معاشرئے ، برادری اور رشتے داروں میں "ناک" اونچی رکھنے کے لیئے تو کتنا گرتا جا رہا ہے؟؟؟؟؟؟؟
اٹھ کھڑا ہو اور اپنے آپ کو پہچان لے اس سے پہلے کے مال کی بجائے اعمال کا حساب دینا پڑ جائے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

از: راشد ادریس رانا (معاشرہ ہم خود ہیں) 28-07-2015

Wednesday, 25 May 2016

مرحبا ماہ صیام 2016

ہیییییییں جی، ساری دنیا میں غیر مسلمان رمضان المبارک کا احترام کرتے ہیں اور اپنے عمل سے ثابت کرتے ہیں۔
امارات میں میرے ساتھ ایک کٹر ہندو تھا، وہ اور میں اکھٹے آتے جاتے تھے، گرمی شدید ہوا کرتی تھی، اور گرمی سے اسکے ہونٹ خشک ہو جاتے تھے لیکن بیچارہ پانی کی بوتل ساتھ تک نہیں رکھتا تھا، میں نے کہا کہ یار تم رکھ لو گرمی ہے پی لینا لیکن اس کا ایک ہی جواب ہوتا تھا، نہیں تم فاسٹنگ سے ہو، میں تمہارے سامنے ایسا نہیں کروں گا۔ میں آج تک اس کے ظرف اور احترام سے متاثر ہوں۔

ہم یعنی کہ ہم پاکستانی، پاکستان میں رمضان میں وہ کچھ کرتے ہیں جو باقی مہینوں میں بھی نا کیا ہو۔

ماہ مقدس شروع ہونے سے پہلے ہی ہر امیر و غریب ٹوپی پہنے تیار ہے دوسرے کو ٹوپی پہنانے کے لیے۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔ اورہر کوئی روزہ رکھ کے ایسا خونخوار ہو جاتا ہے جیسے روزہ اس نے ساری دنیا کے لیے رکھا ہوا ہے۔

اللہ پاک ہمیں درست معنوں میں احترام رمضان اور اس مقدس مہینے کا پورا فائدہ اٹھانے کی توفیق دے، بے شک جسے اللہ چاہے اپنی رحمتوں سے مالا مال کرئے۔
آمین

از خود راشد ادریس رانا قلم بے لگام
25 مئی 2016

Saturday, 14 May 2016

پکا مسلمان 14 مئی 2015

ان دونوں کے گھر ساتھ ساتھ تھے، زیادہ آنا جانا نہیں تھا وجہ تھی ان کے مذہب کا فرق۔ حاجی گاما پکا کٹر مسلمان تھا لیکن دل میں اللہ کا خوف بھی تھا اس لیئے اپنے پڑوس میں رہنے والے ویلیم کا خاطر خواہ خیال رکھتا تھا۔

پھر ایک دن ایک حادثہ ہو گیا، بازار میں کچھ لڑکوں کی لڑائی ہوئی اور انہوں نے فائرنگ کر دی ، عین اسی وقت ویلیم اپنے ریڑھے پے کوڑا کرکٹ اٹھاتا پھر رہا تھا، ایک گولی نے اس کی زندگی کا  اسی جگہ خاتمہ کر دیا۔

لوگ اس کی لاش اسکے گھر لائے تو کہرام مچ گیا۔ اقلیتی جماعت کے ساتھ یہ سلوک توبہٰ توبہٰ!!!! بہت احتجاج ہوا لوگوں نے بہت ہنگامہ کیا سڑک بلاک کی لیکن بہرحال اس کی لاش لے کر اس کے گھر آ گئے۔

حاجی گاما بہت رنجیدہ تھا، اس ظلم کے ساتھ ساتھ اس کو دکھ تھا کہ اس کی مسلمانی پر کیا اثر پڑئے گا آخر کو مارنے والے تو مسلمان ہی تھے، اسی غم میں اس نے اور اس کے سارے گھر نے رات کا کھانا نا کھایا، صبح بھی وہ سارے اداس اداس بھوکے پیٹ اٹھے ، حاجی گامے نے اعلان کیا آج کوئی کام پے نہیں جائے گا، سب بچے سکول سے چھٹی کریں گے، حالانکہ بچوں کے سالانہ امتحانات ہو رہے تھے۔ لیکن پھر بھی !!!! اس نے پورے سوگ کا اعلان کیا، گلی میں نکلا تو کونے والے شیخ صاحب کا لونڈا اپنی گاڑی میں میوزک لگا کر گزر رہا تھا، حاجی صاحب نے آؤ دیکھا نا تاو، جوتا اتارا اور اس کو گاڑی میں ہی پیٹ ڈالا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس فریضے سے فارغ ہو کر وہ ویلیم کے دروازے کے آگے پہنچا ، تاکہ دیکھے اس کی تدفین کی تیاریاں وغیرہ مکمل ہو ئیں کے نہیں، لیکن پھر ٹھٹھک کے رک گیا،

ویلیم کے چاروں بچے سکول یونیفارم گھر سے باہر نکل رہے تھے، اس نے حیرانگی سے پوچھا کہ کدھر جارہے ہو؟ تو انہوں نے جواب دیا کہ آج ہمارا سالانہ پیپر ہے ، جانے والا واپس تو نہیں آ جائے گا ویسے بھی ابھی تدفین میں وقت ہے تب تک ہم واپس آ جائیں گے۔

حاجی گاما !!!!! حیرانگی سے کھڑا ان کو جاتا دیکھ رہا تھا، آخر کو پکا مسلمان تھا۔

(اگر یہ کہانی کسی حقیقی واقعہ سے ملتی جلتی ہے تو!!!!!! کیا ہو سکتا ہے)

#کراچی،#Karachi
بقلم خود: راشد ادریس رانا

Tuesday, 10 May 2016

اے پاکستان تجھ پہ قرباں

اے پاکستان تجھ پہ قرباں
از راشد ادریس رانا
قلم نا تواں 10 مئی 2016
○○○○○○○○○○○○○○○○○○
یہ کیسے لٹا اور کیوں کر لٹا
اس بات سے مطلب کس کو ہے
بس اجڑئے وطن کو دیکھ زرا
اغیار کے بس کی بات نا تھی
دشمن کی ضرورت کس کو ہے
جو خون بہا ، بے حد ہی بہا
وہ مہنگا تھا یا ارزاں تھا
الزام کسی پہ کیا دینا
یہ جب بھی لٹا اپنوں سے لٹا
غیروں سے عداوت کس کو ہے
●●●●●●●●●●●●●●●●●●

Sunday, 8 May 2016

نامکمل خواہشیں

صبح صادق کی روپہلی کرنوں کے ساتھ ہی کچے صحن میں مرغے کی بانگ سے میری آنکھ کھل گئی، باہر نکل کر دیکھاتو بلند و بالا پہاڑ کی اوٹ سے نکلتا سورج اپنی نارنجی کرنوں سے وادی میں نور پھیلائے  میرا منتظر تھا۔ دھیمے قدموں سے جنگلی کیکر کی شاخ سے بنی تازہ مسواک کرتے میں ندی کی طرف چل پڑا۔ ندی جو نا جانے کتنی صدیوں سے ہونہی بلا روک ٹوک اپنی ہی لے میں مگن بہتی چلی جا رہی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔ نا جانے کب سے ہلکی ہلکی چھینٹیں اڑاتی اور گنگناتی یہ ندی۔ واپس آتے ہوئے خوبانی کے درخت جو اس موسم کی خوبانیوں کے بوجھ سے جھکے کھڑے تھے بہت بھلے لگے۔

اسی لمحے نا جانے کیوں مجھے ہوں لگا جیسے میں ایک بادشاہ ہوں اور میرے درباری راستے میں سر جھکائے میرے ادب میں کھڑئے ہوے ہیں، یکایک ساری وادی مجھے اپنی راجدھانی لگنے لگی۔

بس اسی ایک لمحے نے ساری زندگی کو تشنگی بنا دیا،گلے میں ایک نامکمل سانس اٹک گئی، دو نمکین آنسو آنکھوں کے اندر ہی ابھرئے اور پھر وہیں کہیں ڈوب کے بے نشان ہو گئے۔

میں نے ناشتہ کیا کپڑے بدلے اور قریبی سڑک پہ آکے کھڑا ہو گیا، جس پہ سے اس واحد بس نے گزرنا تھا جس کو پکڑ کے مجھے قریبی شہر کی سبزی منڈی میں جانا اور اپنی واحد ذریعہ آمدن ریڑھی کو کھولنا تھا۔
از خود
راشد ادریس رانا
قلم نا تواں

Wednesday, 27 April 2016

ایک تھا گاؤں "پاکستان"

ایک ہی دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک گاوں تھا، اس میں بڑئے خبیث قسم کے چودھری قابض تھے، لیکن انکی خباثت کا کوئی زور نہیں چلتا تھا، کیوں کہ لوگ خوشحال تھے زرا سے مسئلہ پہ وہ چوھدریوں کے خلاف اٹھ کھڑئے ہوتے تھے ، چوھدریوں نے سوچا کہ کچھ ایسی ترقیب کریں کہ لوگ بھی رہیں لیکن ان کا ضمیر مردہ ہو جائے اور انکی پھوں پھاں بھی ختم ہو جائے۔ لوگ زندہ رہیں لیکن انکے غلام بن کے اور کوئی آواز بھی نا نکالیں۔
سو انہوں نے گاوں کے مراثی سے مشورہ لیا اور موچی کو اپنا مخالف نمایندہ بنا لیا۔۔۔۔۔۔ موچی کیوں کہ انہی گاوں کے لوگوں میں سے تھا سو جیسے ہی اس نے چوھدریوں کئ خلاف شور شرابا شروع کیا لوگ بہت خوش ہوئے کہ دیکھو یار کیسا کھرا بندہ ہے۔ بس موچی نے گاوں کے چوک میں خبیث چوھدریوں کے خلاف دھرنا اور بھوک ہڑتال شروع کر دی، جب بھی کچھ ہلکا پھلکا ہوتا موچی شروع ہو جاتا، لوگ اکھٹے ہوتے واہ واہ کرتے، موچی چوھدریوں کو برا بھلا کہتا، ان کو ننگی گالیاں دیتا ، دھمکیاں دیتا اور لوگ واہ واہ کرتے اپنے اپنے گھروں کو چلے جاتے ، ہر شور شرابے کے بعد چوھدری موچی کے گھر ایک تھیلا گندم بھیجوا دیتے۔ لوگ موچی کی تقاریر اور ہنگامے میں بڑھ چڑھ کے حصہ لیتے اپنا وقت برباد کرتے اپنا نقصان کرتے اور شام کو اپنے اپنے گھر، بس اب یہ ہوا کہ چوھدریوں کے خلاف کوئی عملی طور پہ کچھ نا کرتا، بلکہ لوگ آہستہ آہستہ انکی خباثتوں اور حرامزدگیوں کے عادی ہو گئے، انکی ہر آنے والی نسل پہلے والی نسل سے زیادہ موچیوں کی حمایت می  رہتی لیکن خود کچھ بھی نا کرتے۔
یوں وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ وہ گاؤں بڑا ہوتا گیا پھیلتا گیا اور پھر ایک دن اسکا نام #پاکستان  پڑگیا۔

چوھدری بدنسل تھے سو انکے مزید کئی خاندان بنتے گئے اور وہ وزارتوں، عدالتوں ہر جگہ پھل پھول گئے پھیل گئے۔

موچی ترقی کرتے کرتے اس ملک کی اپوزیشن، لبرل اور مداری عالم بن گئے۔

بس اس گاؤں کے لوگ پڑھ لکھ گئے، ترقی کر گئے موچی کے ساتھ پہلے  بھی کھڑئے ہوتے تھے اب نسل در نسل ذلت و بے ضمیری میں مبتلا رہنے کے بعد اب بھی کھڑئے ہوتے ہیں لیکن  ووٹ بھی ڈالتے ہیں بڑئے شوق سے چوہدریوں سے اپنی عزتیں پامال کراتے ہیں ظلم کراتے ہیں لیکن پھر بھی نظریں انکی موچیوں کی طرف لگی رہتی ہیں۔۔۔۔ کیوں کہ وہ اب ترقی کرکے "عوام پاکستان"  کہلانا پسند کرتے ہیں۔