Saturday, 30 June 2012

جاگو پاکستان، انقلاب زندہ باد

اللہ تعالٰی کمی بیشی معاف فرمائے، ایک حدیث مبارکہ کا مفہوم ہے کہ
 
ایک وقت ایسا آئے گا جب گلیوں، بازاروں میں زنا عام ہو جائے گا


اب اگر آپ اس حدیث کا موازنہ کریں اور موجودہ صورت حال دیکھیں تو آپ کو احساس ہو گا کہ شاید اسی دور کی طرف اشارہ کیا گیا تھاجس میں ہم لوگ رہ رہے ہیں۔ سڑکوں پر ، روڈوں پر یا  بازاروں میں نکلنے کے بعد اگر اپنے اردگر نظر دوڑائیں تو ہر طرف آویزاں اشتہاری بورڈ، کتبے، بینرز غرض ہر چیز میں حوا کی بیٹی کو بطور تشہیر نیم عریاں یا نیم برہنہ کرکے پیش کیا جاتا ہے، حیرت اور شرم کی انتہا ہےان لڑکیوں پر جو گلیمر اور پیسے کی حوس میں اپنے جسموں کو فروخت کرتی ہیں۔

اگر بہتر طور پر کہا جائے تو یہ ہمارے معاشرے کی وہ گندگی ہے جسے ہم مکمل طور پر فراموش کر بیٹھے ہیں، ایسے اشتہار بنانے والے، لگانے والے اور دیکھنے والے مکمل طور پر بھول چکے ہیں کہ ہم ایک مسلمان ملک کے مسلمان شہری ہیں۔ شاید اس روشن خیالی کے زریعے وہ یہ بتلانا چاہتے ہیں کہ وہ بہت لبرل اور امن پسند ہیں اور ساری دنیا کی گندگی میں شامل ہو کر امن کی بھاشا بول رہے ہیں۔

ایک شریف انسان اپنی، ماں ، بہن ، بیٹی یا بیوی کے ساتھ گھر سے باہر نکل کر یقینی طور پر شرمندہ ہوتا ہوگا جب اس کی نظر اس طرح کے فحش اشتہارات پر پڑتی ہوگی۔

بے حسی اور بے غیرتی کا منہ بولتا ثبوت ہیں سب لوگ اور ان کاموں کی سرپرستی کرنے والے صاحبان!!!!!! کسی کی عزت کو پامال کرکے یا عریانیت دکھا کر آپ کیسے کہہ سکتے ہیں کہ آپ کے اپنے گھر اس گندگی سے محفوظ رہیں گے، ایسا ممکن ہی نہیں ہے، جب تک ہم دوسرے کی ماں، بہن، بیٹی اور بیوی کی عزت نہیں کریں گے کوئی ہماری عزت کا پاسدار نہیں ہو گا۔ یہ کارہائے عمل ہے اور ایک وارننگ ہے ان لوگوں کے لیے جو زاتی مفادات کی بنا پر اور پیسوں کی ہوس میں ایسا گھناونا کام کر رہے ہیں ، بلکل یہ زنا عام کرنے والی ہی ایک بات ہے۔


ایک مضمون ابھی ابھی نظر سے گزرا جو کراچی میں ایک ایسے ہی اجتماعی تحریک پر ہے کہ نوجوان لڑکے رات کے وقت کالا رنگ لیکر ایسے بورڈز اور بینرز وغیرہ سے عریانیت بھری تصاویر کو کالا کرتے ہیں اور ایسی قابل اعتراض اور گندی تصاویر جو سر عام لگائی گئیں ہیں ان کو چھپاتے ہیں۔

اللہ ان کو اس نیک کام میں کامیاب کرئے اور مزید ہمت دے، باقی دوست احباب جن تک یہ صداء پہنچے گی ان سے گزارش ہے کہ اس پیغام کو کسی بھی صورت دوسروں تک پہنچائیں اور معاشرے میں بیداری لانے کے لیئے عملی طور پر میدان میں آئیں۔

شکریہ، اللہ ہمیں نیک عمل عام کرنے کی اور خود احتسابی توفیق دے، آمین ثم آمین

راشد ادریس رانا

Thursday, 28 June 2012

دعائے شفاء

دعائے شفاء


خودکش بمبار کے نرغے میں پھنسنے والا ایک ڈاکٹر



ڈاکٹر شیر شاہ سید
اصل مصنف کے نام کی درستگی پر عنیقہ ناز صاحبہ کا شکریہ


 "میں آٹھ منٹ میں زندہ انسان کی کھال کھینچ لیتا ہوں اس نے بڑ ے سکون سے مجھے دیکھتے ہوئے صاف الفاظ میں بتایا۔


دوبارہ سے میری ریڑ ھ کی ہڈی میں سرد لہر ڈوڑتی چلی گئی ، کوشش کے باوجود میں اپنے آپ کو سکون نہیں رکھ پایا۔ مجھے اپنے دل کی دھڑکن کی آواز محسوس ہو رہی تھی۔ میرے دونوں کانوں کے نیچے والے پور بھی دھڑکن کے ساتھ دھک دھک کئے جا رہے تھے۔میری نظروں کے سامنے انٹرنیٹ کی وہ فلم آ گئی جسے دیکھ کر کئی دنو ں تک میں بے چین اور بے قرار رہا تھا ۔ اس فلم میں افغان طالبان کے ایک رکن کو دکھایا گیا تھا۔ جس نے اسلام کے ایک دشمن کے گلے پر تیر دھار چاقو چلا کر اس کی کھال کو چاورں طرف سے گردن کے اوپر سے الگ کر لیا تھا۔ اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے منٹوں میں زندہ انسان کی کھال اس طرح سے کھینچ لی جیسے قصاب بکرے کی کھال کھینچ لیتا ہے۔ میں نے کسی قصاب کو بھی زندہ بکرے کی کھال کھینچتے ہوئے نہیں دیکھا ۔یہاں  تو زندہ انسان بغیر کھال کے لٹکا ہوا تڑپ رہا تھا۔ اس کی آنکھوں کا کر ب میرے دماغ کے اندر بنے ہوئے بہت بڑے پردے پر بار بار جھما کے کے ساتھ آتا رہا۔ کئی دنوں تک میں سکون کی نیند نہیں سو سکا۔یہ شخص بھی اس طرح کا ایک آدمی تھا۔ ایک خود کش بمبار جو عام طور پر چھوٹی عمر کے ہوتے ہیں۔ مگر اس کی عمر زیادہ تھی۔


ہوا یہ کہ سی او ڈی بلز کی جانب سے ملیر جاتے ہوئے شاہرا فیصل کےجکشن سے ملتے ہی سرخ بتی پر میں نے عام طریقہ کار کے خلاف گاڑی روک دی۔ ایک عام شکل و صورت کے خوبصورت سے درمیانہ قد کے آدمی نے کھڑکی کے شیشے پر دستک دی۔وہ صورت شکل سے شمالی صوبے سے تعلق رکھنے والا معلوم ہوتا تھا۔ میں نے اسے غور دیکھا، سفید اور کالی داڑھی کے ساتھ بظاہر وہ ایک سمجھدار آدمی لگتا تھا۔ میں نے عادت کے بر خلاف سنٹرل لاک کھول کر اسے اگلی نشست پر بیٹھنے کا اشارہ کیا۔ وہ اسلام علیکم کہہ کر تیزی سے نشست پر بیٹھ گیا۔ "وعلیکم السلام ۔ میں ائیر پورٹ جا رہا ہوں ، آپ کہاں جا رہے ہیں۔ میں نے دھیمے سے لہجے میں اس سے سوال کیا۔ "تم دنیا کے راستے پر جا رہے ہوں اس نے بڑے دھیمے لہجے میں پر سکون انداز میں کہا۔ " میں سمجھا نہیںابھی سمجھاتا ہوں،تم گاڑی آہستہ چلاو۔ یہ کہہ کر اس نے اپنے گریبان کے بٹن کھول دیئے۔ یہ میرے نجات کا جیکٹ ہے اور شہادت کا راستہ ، تمہاری بھی شہادت کا راستہ یہی ہے۔ بہتر ہے کہ کلمہ پڑھ لو اور اللہ کی طرف جانے کی تیاری کر لو، اسی کی طرف ہم سب کو لوٹ کر جانا ہے۔ گاڑی آہستہ چلاو۔ اس نے سختی سے کہا ۔ پھر بتاتا ہوں کہ ہمیں کہاں پہنچنا ہے۔ سر سے نیچے تک میری ریڑ ھ کی ہڈی میں ٹھنڈک دوڑتی چلی گئی ، میں نے سوچا بھی نہیں تھا۔ کہ میرے ساتھ ایسا ہو گا، میں نے گاڑی آہستہ کرلی اور اپنے آپ پر قابو پانے کی کوشش کے ساتھ اس کو نظر بھر کے دیکھا۔ اس کی شکل پر بلا اطمینان تھا۔ در حقیقت وہ دبلا پتلا آدمی تھا۔ مگر خود کش جیکٹ پر چادر اوڑھنے کی وجہ سے وہ تھوڑا وزنی سا لگ رہا تھا۔ میں نے پہلی دفعہ اس کے چہرے پر بھر پور نظر ڈالی، وہ چالیس سال سے زائد عمر کا مضبوط جسم کا مالک تھا۔ چہرے پر نو کیلی داڑھی تھی۔ جس کے زیادہ تر بال سیا ہ تھے۔سرخ و سفید رنگت کے ساتھ چوڑی پیشانی کے نیچے دو بڑی بڑی آنکھیں تھیں۔جس میں سرمہ لگایا گیا تھا۔ اس کا چہرہ بشاشت سے بھر پور اور جاب نظر تھا مگر میرے اندر اس کیلئے نفرت کا جوار بھاٹا سا اُبل پڑا۔


اپنے آپ پر قابو پانے کی کوشش کے ساتھ میں نے تقریباً روتے ہوئے کہا کہ "شہید ہونا اچھی بات ہے اور اگر اللہ کے راستے میں جان چلی جائے تو اس سے اچھی بات اور کیا ہو سکتی ہے۔مگر میرے چار بچے ہیں میرے دو جڑواں بیٹے تو بہت ہی چھوٹے ہیں، میرے مرنے کے بعدان کا کیا ہو گا، کوئی بھی نہیں ہے کہ جو ان کا خیال رکھ سکے، یہ گاڑی وغیرہ میری ضرور ہے لیکن میرے  جیسے ڈاکٹر کے پاس بچا ہوا کچھ نہیں ہوا ہے میری بیوی ایک گھریلو عورت ہے " مجھے اپنی لرزتی ہوئی آواز صاف سنائی دے رہی تھی۔


"اچھا تو تم ڈاکٹر ہو" ۔


یہ کہہ کر وہ کچھ سوچنے لگا پھر بولا کہ جو اللہ تمہیں شہادت کیلئے چن رہا ہے تمہیں اس پر بھروسہ نہیں ہے کہ تمہارے بچوں اور بیوی کا خیال رکھے ۔ تمہارے خیال میں وہ اتنا بے نیاز ہے کہ اسے تمہارے گھر والوں کی فکر نہیں ہو گئی۔ تم کیسے مسلمان ہو۔ ساتھ ہی اس نے کہا کہ ائیر پورٹ کے موڑ سے گاڑی کو واپس شہر کی طرف موڑ  کر آہستہ آہستہ چلاؤ، میں بتاوں گا کہ کہاں کھڑا ہونا ہے۔


میرا گلا خشک تھا، جسم پسینے سے شرابور اور دل خوف کے مارے زور زور سے دھڑک رہا تھا۔ اسے اپنی گاڑی میں بٹھانے کی سنگین حماقت پر جیسے میرے دل و دماغ سے آنسو بہہ رہے تھے۔ آج کل کسی کو بھی لفٹ نہیں دی جاتی ہے۔ خاص کر نا آشنا لوگوں کو۔ کسی پر بھروسہ کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ یہ سارے اصول از بر یاد مجھے مگر میں پھر بھی اسے لفٹ دے بیٹھا ۔مجھے کچھ اندازہ نہیں تھا۔ کہ یہ خود کش مجاہد کس جگہ پر پہنچنا چاہتا ہے۔ کسی اسکول کے سامنے ، کسی پولیس اسٹیشن کے ساتھ ، رینجر اور پولیس کی کسی موبائل کے اوپر یا اس کا ٹارگٹ کوئی ایسی مارکیٹ تھی جہاں بے شمار لوگ موت کے گھاٹ اُتر جائیں اور میڈیا کو زبر دست پروپیگنڈے کا موقع مل جائے۔ ہر صورت میں میری موت یقینی تھی۔ایسی موت کا نہ میں نے کبھی سوچاتھا اور نہ اس کی تیاری تھی۔ مجھے اپنے ہوش و حواس بر قرار رکھنے میں شدید مشکلات کا سامنا ہو رہا تھا۔


اب تک ملک بھر میں جتنے بھی خود کش حملے ہوئے ان کا یہی انداز تھا۔ لڑکیوں کے اسکول ، پولیس کے تھانے ، فائیو اسٹار ہوٹل ، غیر ملکی سفارت خانے ، پریس کلب، فوجیوں کی تنصیبات ، شیعوں ، سنیوں اور مزاروں کے مذہبی اجتماعات یا بازار جہاں زیادہ سے زیادہ اموات ہو سکے ، میں ان سر گرمیوں کے خلاف تھا، مگر ہم کر بھی کیا سکتے ہیں، سب بے بس وبےکس تھے، اور ہماری طرح سرکار بھی بے بس تھی، ایسا لگتا تھا جیسے حکمرانی نام کی کوئی چیز نہیں ہے، پورا ملک دہشت گردی کی چراگاہ بن کر رہ گیا تھا۔ میں نے تھوڑی دیر سوچ کر بڑی لجاجت کے ساتھ کہا کہ میں ایک ڈاکٹر ہوں جو نہایت شرافت اور ایمانداری کے ساتھ اپنا کام کرتا ہوں ۔ میں بے شمار لوگوں کا مفت علاج کرتا ہوں ۔ نہ کسی مریض سے ناجائز فیس وصول کرتا ہوں اور نہ ہی دوائیں بنانے والی کمپینوں کے خرچے پر عیاشی کرتا ہوں ، اور نہ ہی اپنے مریضوں کو بڑے پرائیوٹ اسپتالوں میں بھیج کر کمیشن کی خیرات وصول کرتا ہوں ، نہ ہی میرا کسی لیبارٹری والے سے معاہدہ ہے،کہ میں اپنے مریضوں کو ضرور تمہارے پاس ضروری اور غیر ضروری ٹیسٹ کروانے کیلئے بھیج کر پیسے بٹورو گا۔ کچھ خاندانوں کی کفالت کی ذ مہ داری بھی  میری ہے،۔ میں سمجھتا ہوں کہ خدا بے نیاز نہیں۔۔


خدا نہیں اللہ ۔۔۔اللہ کہو۔ اس نے مجھے بولتے ہوئے ٹوک دیا، "جو بہتر۔ میں یہ کہہ رہا تھا کہ اللہ بے نیاز نہیں ہے، اور یقیناً ان سب کے لیے اور میرے خاندان کیلئے کچھ نہ کچھ اسباب پیدا کر دے گا، مگر میرے بھائی کوئی بھی شخص میرے بچوں کی ذمہ داری نہیں لے گا اور نہ ہی ان کو محبت اور شفقت کے ساتھ پالے گا۔آپ جو کہوں میں کرنے کو تیار ہوں مگر اللہ کا واسطہ ہے مجھے چھوڑ دو جانے دو میری گاڑی لے جاو۔ میں جب تک زندہ  رہوں گا، تمہارا احسان مند رہو ں گا، آج کے بعد آپ لوگوں کے کسی کام آسکوں تو وہ کام بھی کروں گا۔ آ پ یقین کر و میرے بعد خاندان تباہ و برباد ہو جائے گا۔ مجھے اندازہ نہیں تھا کہ میری آواز اتنی درد بھری ہو جائے گی۔ وہ زیر لب مسکرایا اور میری طرف دیکھتے ہوئے بولا کہ تم ڈر پوک ہو، مسلمان کو اتنا ڈر پوک نہیں ہونا چاہیے۔ زندگی موت تو اللہ کے ہاتھ میں ہے وہ جسے چاہے جہاں چاہے موت دے تمہاری موت نہیں آرہی ہے ۔ وہ جسے چاہے جہاں چاہے موت دے دے۔ تمہیں اپنی شہادت پر خوش ہونا چاے ناکہ اس طرح سے میری منت اور سماجت کرو۔


مجھے غصہ آگیا شاید ڈیپریشن صورت حال میں غصہ آ جاتا ہے۔ مجھے زندہ رہنے کا شوق ہے مجھے شہید نہیں ہونا ہے، مجھے نہیں مرنا ہے، اللہ کیلئے مجھے چھوڑو اور اگر نہیں چھوڑو گے تو گاڑی کو میں دیوار پر مار دو گا۔ نہ جانے تمہاراکیانشانہ ہے لیکن دیوار سے ٹکرانے سے تمہارا نشانہ بہر حال ضائع ہو جائےگا۔ میرے ساتھ تمہاری بھی موت ہو جائے گی۔ اور تمہاری موت ضروری ہے۔ کیونکہ تم مجھے طالبان مافیا کے پہلے سر غنہ لگتے ہو خود خود کش بن کر آیا ہے۔ ورنہ تم لوگ تو سولہ سترہ یا آٹھارہ سال کے بچوں کے اپنا نشانہ بناتے ہوں ۔ جو معصوم ہوتے ہیں جنہیں زندگی کا کوئی تجربہ نہیں ہوتا ہے، جنہیں دھوکہ دینا نہیں آتا ہے۔ تم جیسی عمر کے لوگ پہاڑوں میں بیٹھ کر بزدلی کے ساتھ بچوں کو آلہ کار بناتے ہو، انہیں دوسری دنیا میں حوروں کا جھانسہ دیتے ہو اور خود عیش کرتے ہو۔ یہ اچھا جہاد ہے تمہارا ،میں نےغصے سے مگر دھیرے دھیرے کہا تھا۔


" مجھے غصہ نہیں آئے گا"اس نے مسکراتے ہوئے کہا،میں اور میرا ساتھی غصہ نہیں کرتے ہیں۔ ہم لوگ خاموشی سے اپنا کام کرتے ہیں، ہم نے روسیوں کو کابل سے باہر نکال دیا، ہم امریکہ کو بھی افغانستان سے نکال کر باہر پھینک دیں گے، امریکہ کی حمایت کرنے والوں کو چن چن کر ختم کر دیں گے۔ یہ سب کچھ بہت اطمینان سے ہو گا۔ اگر تم کو گاڑی کسی دیوار سے ٹکرانی ہے تو ضرور ٹکرا دو، میرا مشن تو شہید ہونا ہے وہ ہو جائے گا۔ تم ہلاکت کے بعد کہاں جاو گے، تمہیں پتہ نہیں ہو گا۔ دوسری بات یہ ہے کہ شہادت بچے جوان اور بوڑھے کی نہیں ہوتی ہے۔ شہادت تو کسی مقصد کیلئے ہوتی ہے۔مجھے تم سے یہ گفتگو کرنے کی ضرورت نہیں کہ میں آج شہید ہونے کیلئے کیوں آیا ہوں تم دنیا داروں کی سمجھ میں نہیں آئے گی۔ تم لوگوں نے جس طرح ذلت کی زندگیوں کو اپنایا ہے گوروں  اور اللہ کے دشمنوں کے ہاتھوں سے ذلیل ہو رہےہو تمہیں کیا پتا شہادت کیا ہوتی ہے۔تم ہمیں مافیا کہو یا شدت پسند اور ہمارے بارے میں مغرب کے اس گھٹیا پروپیگنڈے کو پھیلاؤ کہ ہم حوروں کیلئے لڑرہے ہیں ، اور لڑکوں کو، حوروں کا جھانسہ دے رہے ہیں ۔ مگر سب کو پتہ ہے کہ ہم صرف اور صرف اللہ کیلئے جنگ کر رہے ہیں، یہ بھی حقیقت ہے، کہ ہم یہاں بھی جیت رہے ہیں اور وہاں پر بھی جیت رہے ہیں، ہماری شہادت کے بعد اندھیرا نہیں اُجالا ہے، ان کیلئے جو یہاں رہ جائیں گے۔ اور ہمارے لیے بھی جو وہاں چلے جائے گئے، مجھے کالج کے زمانے کے ڈائی لوگ یاد آگئے تھے۔ مگر مجھے یہ کہنےمیں کوئی عار نہیں ہے۔ کہ اس کے لہجے میں سکون تھا، اور غضب کا اعتماد اور اس کے چہرے پر کوئی نفرت نہیں تھی۔ درحقیقت یہ سب کچھ اس کے مسکراتے ہوئے بڑے نپے تلے انداز میں آہستہ آہستہ کہا تھا۔ میں نے سوچا تھا۔ کہ یہ شخص ضرور کسی خاص مشن پر نکلا ہے مجھے موت سامنے نظر آنے لگی تھی۔


میرے ذہن نے کام کرنا شروع کر دیا، مجھے پتہ تھا۔ کہ آگے ٹیپو سلطان روڑ تک کوئی جنکشن نہیں ہے لہٰذا گاڑی اسی طرح سے چلتی رہے گی۔ میں نے سوچا کہ میں گاڑی یکایک روک دوں اور باہر نکل کر بھاگ جاو،اگر اس جہادی نے اپنے آپ کو اُڑا بھی لیا تو شاید میں بچ جاو گا۔ اگر اس نے کسی جگہ گاڑی رکوا کر خود کو اُڑا لیا تو پھر شاید کچھ بھی نہیں ہو سکے گا۔ میں نے یہ بھی سوچا کہ اس شخص سے بات چیت بھی جاری رکھنی چاہیے شاید میں اسے قائل کر سکوں کہ وہ مجھے چھوڑ دے۔


آپ کا یقین اپنی جگہ پر شاید درست ہو"میں نے یہ الفاظ کہے تھے کہ اس کے فون کی گھنٹی بجی ۔ کچھ لمحوں کیلئے میں نے سوچا کہ جیسے ہی وہ فون سے بات کرنے کیلئے بٹن دبا ئے گا بم پھٹ جائے گا۔ آج کل اسی طرح سے ہوتا ہے۔ جدید ٹیکنالوجی کا یہ استعمال نیا تھا۔ جلسوں میں اسٹیج کے نیچے، کسی بازار میں کسی اسکوٹر پر بم فٹ کر دیا جاتا۔جس کے ساتھ موبائل فون لگا ہوتا ہے۔ جس وقت دھماکہ کرنا ہو فون کر دیا جاتا ہے۔ شاید یہاں بھی یہی ہو، مگر ایسا نہیں ہوا ۔ اس نے فون پر دھیمے لہجے میں پستو میں مختصر بات کی۔


ہم لوگ اب پاکستان ائیر فورس بیس کے پاس پہنچ گئے تھے۔ اور غیر ارادی طور پر ایکسی لیٹر پر میرا دباو بڑھ گیا اور گاڑی تھوڑی تیز ہو گئی۔ " گاڑی آہستہ چلاو"اس نے دھیرے سے کہا۔ میں نے ایکسی لیٹر پر دباو کم کر دیا اور اس کی طرف دیکھتے ہوئے کہا کہ: میں آپ کی ہمت اور بے خوفی کا معترف ہو گیا ہوں ۔ مگر ایک بار کہہ رہا ہوں کہ اللہ کے لیے مجھے گاڑی سے اُتار دیں اور گاڑی جہاں بھی لے جانی ہے لے جائیں ، میں کسی سے کچھ نہیں کہوں گا۔ " اللہ کی راہ میں جو نکلتے ہیں وہ بے خوف ہو جاتے ہیں  ہم صرف اللہ سے ڈرتے ہیں، کسی سپر طاقت سے نہیں۔ جو لوگ اللہ سے ڈرتے ہیں ان کا کوئی بھی کچھ نہیں بگاڑ سکتا ہے یہ صرف وہی لوگ سمجھ سکتے ہیں جو انصاف اور اللہ کے راستے پر ہیں "اس نے مسکراتے ہوئے کہا۔


"مگر اللہ کی راہ میں جان دینے والے لوگ معصوم عورتوں اور بچوں کی جانیں کیوں لیتے ہیں ، یہ کوئی انصاف نہیں ہے اور اللہ کا حکم بھی نہیں ہے کہ عورتوں اور بچوں کو نشانہ بنایا جائے جو بے چارے کاموں کے سلسلے میں گھر سے نکلتے ہیں اور واپس ان کی لاشیں لائی جاتی ہیں " میں نے ڈرتے ڈرتے کہا۔
یہ جنگ ہے اور جنگ میں یہی ہوتا ہے جب وہ حملہ کرتے ہیں زمین پر ہتھیاروں سے اور جب بم برساتے ہیں ہم لوگوں پر تو وہ صرف نشانہ دیکھتے ہیں، ان معصوموں کو نہیں دیکھتے ہیں  ، جن کی جان چلی جاتی ہیں "اس کی آواز میں درد اور غصہ دونوں واضح تھا۔


" مگر وہ اللہ کیلئے نہیں لڑ رہے ہیں ، آپ اللہ کیلئے لڑ رہے ہیں ، آپ میں اور ان لوگوں کی جنگ میں فرق ہونا چاہیے ۔ وہ باطل ہیں آپ حق ہیں ،وہ جھو ٹے ہیں،آپ سچ ہیں ، ان کا مطعع نظر دنیا ہے آپ کی منزل دین ، پھر یہ کہ وہ اپنے لوگوں کو نہیں مارتے ہیں ان کا نشانہ بھی
مسلمان بن رہے ہیں اور آپ کا نشانہ بھی مسلمان بن جاتے ہیں ، دونوں میں کوئی فرق تو ہونا چاہیے "میں نے بہت احتیاط سے ان جملوں کی ادائیگی کی۔


گاڑی کا رساز کے موڑ سے آگے گزر چکی تھی ، میری سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ یہ شخص کیا کر رہا ہے اور کیا کرنا چاہتا ہے۔ جنگ صرف جنگ ہوتی ہے۔ اور جنگ کے اپنے اصول ہوتے ہیں اور دونوں جانب سے جنگ میں یہی ہو رہا ہے اور ہوتا رہے گا۔ یہ بھی ہم نے امریکیوں سے سیکھتا ہے اس وقت سیکھا ہےجب روس کے خلا ف جنگ میں وہ ہمارے ساتھ تھے ۔ میں آٹھ منٹ میں انسان کی کھال کھینچ لیتا ہوں۔انسان زندہ رہتا ہے مگر اس کی کھال باہر آجاتی ہے ۔ وہ مجھے ہمارے امریکی دوست نے سکھایا تھا۔ ہم لوگوں کی تربیت کی تھی اس نے۔ سب اسے ڈائمنڈ کہتے تھے برادر ڈائمنڈ ، نہ جانے اس کا اصلی نام کیا تھا۔ وہ اپنے کام میں ماہر تھا۔ ہم لوگ روسی سپاہیوں ، افغانستان میں موجود روسی شہریوں یا ان کے جاسوسوں کو اغوا کرتے پھر انہیں لٹکا کر ان کی کھال کھینچ لیتے تھے۔اور بغیر کھال کے زندہ آدمی اس کو کابل کی سڑکوں پر پھینک دیتے تھے ۔ یہ ایک غیر انسانی فعل ہے مگر اس کا مقصد دشمن کو خوفزدہ کرنا ہے اسی طرح سے جس شہر،محلہ اور گاؤں کےلوگ ہمارے خلاف ہوتے ہیں ہم وہاں کےمشہور لوگوں کو پکڑ کر ان لوگوں کو پکڑ کر انکی گردنیں کاٹ کر ان کے جسم اور گردن کو شہر کے چوک میں لٹکا دیتے۔ اس کے بعد لوگ خاموشی سے ہمارے سامنے سر جھکا دیتے، وہی کرتے جو ہم چاہتے تھے۔یہ موجود ہ زمانے کی جنگی حکمت عملی ہے یہ نیا انداز ہے جنگ کرنے کا ، نیا طریقہ ہے دشمنوں سے نمٹنے کا"۔ یہ کہہ کر وہ تھوڑی دیر کیلئے خاموش ہوا کچھ سوچتا رہا پھر بولا۔"ایک دن پانچ روسی فوجی اور ان کے خاندان کے دو شہری پکڑے گئے اور مجھ سے کہا گیا تھا کہ ان میں سے ایک کی کھال کھینچنی ہے یہی میرا متحان تھا۔ ان کے ہاتھ پیر باندھ کر کھڑا کیا گیا۔ پھر ان میں ایک کو میں نے اپنی مرضی سے چنا اور پھر ان کے سامنے اس زندہ آدمی کو لٹکا دیا اور اس کی گردن کے نیچے سے اس کے کھال کھینچ دی میں نے ۔ جیسے قصاب بکرے کی کھال کھینچتا ہے فرق صرف اتنا ہے کہ دنبہ یابکرا مرا ہوتا ہے مگر یہ زندہ تھے۔ دس بارہ منٹ لگے ہو گے مجھے ،ان  کی شکل دیکھنے لائق تھی۔ ایک تو فوراً مر گیا وہ دونوں اور بقیہ لاشیں ہم نے روس پہنچا دی تھیں۔ یہی طریقہ تھا دشمنوں میں دہشت پھیلا نے کا اور اسی طریقے سے روسی بھاگے تھے افغانستان سے یہاں بھی یہی کریں ہم لوگ کوئی فرق نہیں پڑتا ہے کہ کتنے معصوم مرتے ہیں اور کتنے مجرم،مقصد تو امریکیوں اور ان کے پٹھوؤں کو نکالنا ہے یہی کریں گے،اور ایسا ہی پاکستانی حکومت کے کرتو توں کی وجہ سے  پاکستانیوں کے ساتھ بھی یہی کرنا پڑ رہا ہے ۔


میرے دل میں شدید نفرت کا جوار بھاٹا سا اُبلا اور سارے جسم پر رعشہ سا طاری ہو گیا۔ جنگل میں یہ سوچ نہیں ہوتی ہے جانور جانور کے ساتھ یہ نہیں کرتا ہے جو انسان انسان کے ساتھ کرتا ہے یہی کچھ اسرائیلیوں نے فلسطینوں کےساتھ کیا راتوں کو گولیاں چلا کر معصوم بچوں اور عورتوں کی جانہیں لی۔ زبر دستی زمین خالی کرا کر اپنے گھر بسا لئے ، خان یونس کی داستان پرانی نہیں ہے اس رات نہتے فلسطینوں کوان کے گاوں میں گھس کر قتل کیا گیا۔ یہ صہیونیوں کا ٹولہ تھا جس نے نہ بچے چھوڑے نہ عورتیں ، نہ بوڑھوں کو بخشا اور نہ جوانوں کو زندہ رہنے دیا۔اسرائیل کی مملک بنانے کیلئے نہ جانےایسے کتنے گاوں، دیہات تا راج کر دئیے گئے، انہیں بے دخل کیا گیا ، لاشوں کے ڈھیر بنائے گئے اور سینی کاگ کی عمارتیں کھڑی کی گئیں ، یہی کچھ امریکیوں نے وتینا م اور کمبوڈیا میں کیا تھا۔


اور افغانستان کی جنگ میں مجاہدوں کو یہی سکھایا تھا کہ کس طرح روسیوں کوخوف زدہ کرنا ہے۔ اور اب ان کے سکھائے ہوئے مجاہدین پاکستانیوں کے ساتھ یہی کر رہے ہیں ۔


شہریوں میں بم پھوڑ رہے ہیں۔ سر تن سےجدا کرتے لاشیں لٹکا رہے ہیں۔ پاکستان کو اپنے کیے کی سزا مل رہی ہے ، میرے ذہن میں خیالات کے طوفان اُٹھ رہے تھے۔ ہم لوگ شاہراہ قائدین کےموڑ سے آگے بڑھ گئے تھے، مجھے خیال آیا کہ کہیں وہ کانٹی نینٹل ہوٹل یاگورنر ہاوس یا وزیر اعظم ہاوس پر جا کر نہیں پھٹنا چاہتا۔ ایک بار پھر خوف نے میرے پورے جسم کا محاصرہ کیا ، عائشہ باوانی اسکول کے آگے جناح ہسپتال کے موڑ سے اس نے گاڑی واپس شاہراہ فیصل پر موڑ نے کو کہا۔ دم بھر کیلئے میرے ذہن میں آیا کہ گاڑی موڑتے وقت چلتی گاڑی کا دروازہ کھول کر باہر چھلانگ گلا دوں ۔ گاڑی جس طرف جاتی ہے چلی جائے،اس طرح سے میری جان بچ جائے گی۔میں نے یہ سوچتے ہوئے گاڑی کو آہستہ کیا۔ اتنی دیر میں اس کے فون کی گھنٹی دوبارہ بج اُٹھی۔فون پر اس نے مشکل سے دو منٹ بات کی ، اس دوران میں گاڑی موڑ کر دوبارہ ائیر پورٹ کی طرف سفر شروع کر چکا تھا۔ اس نے بھر پور نظر مجھ پر ڈالی اور دھیرے سے کہا۔ تم شہید ہونے کو تیار ہو نا، کلمہ پڑھنے کا وقت آگیا ہے اور ایک دن ہم سب کو اسی طرف واپس جانا ہے خوش قسمت ہیں وہ لوگ جو شہادت کے مرتبے ہر فائز ہوتے ہیں ان کیلئے اللہ تعالیٰ نے وعدے کیے ہیں ، وہ اللہ تعالیٰ کے وعدے چھوٹے نہیں ہوتے ہیں۔ اس کی آواز میں غضب کا ٹھہراو اور اعتماد تھا۔


" نہیں میں مرنے کو تیار نہیں ہوں، مجھے نہیں مرنا ہے میں مرنا نہیں چاہتا ہوں۔ ایک ایسی بے کار کی جنگ میں جس کا سر ہے نہ پیر، جو کوئی بھی نہیں جیتے گا،اللہ کیلئے مجھے چھوڑ رو، مجھ ہر رحم کرو، میرے بچوں پر رحم کرو۔"مجھے اس طرح یاد ہے کہ یہ سب کچھ میں نےروتے ہوئے  بے اختیار ی کے ساتھ چیخ چیخ کر کہا تھا۔
بڑے بزدل ہو تم۔ تمہارے جیسے لوگوں کی وجہ سے ہی آج دنیا میں مسلمانوں کا کوئی مقام نہیں ہے تمہارا تو دین میں بھی کوئی مقام نہیں ہے تم ان بچوں کی فکر کر رہے ہوں، جو تمہیں اللہ نے دیے ہیں ، تمہیں یہ بھروسہ نہیں ہے کہ اوپر والا ہی ان کا خیال بھی رکھے گا۔ تمہارے جیسے ہی مسلمان ہیں ، جنہوں نے جہاد کا، دین کا، رسول کا، اللہ کا راستہ چھوڑ دیا ہے۔ تمہیں تو اللہ کا شکر گزار ہونا چاہیے کہ میں نے تمہیں چنا ہے ابھی فون پر مجھے خبر ملی ہے م چیف منسٹر ائیر پورٹ سے نکلنے والا ہے جیسے ہی وہ سڑک کے دوسری طرف پہنچے گا میں اپنے کو تم اور تمہاری گاڑی سمیت تباہ کر دوں گا۔ وہ امریکہ کا یار جہنم پہنچے گا۔ تم اور میں جنت میں پہنچ جائیں گے۔ تمہیں تو خوش ہونا چاہیے ۔ " اس نے مسکراتے ہوئے کہا۔اس کے چہرے پر بلا کا سکون تھا اور آنکھوں میں اطمینان ،اس کی شکل دیکھ کر کوئی بھی اندازہ نہیں کر سکتا تھا۔ کہ یہ شخص زندہ انسانوں کی کھال کھینچ لیتا ہے، بکرے کی طرح انہیں ذبح کر سکتا ہے۔ ملبے میں زندہ دفن ہو سکتے ہیں، یہ سارے خیالات میرے ذہن میں ایک تیز ریل گاڑی کی طرح سے چھک چھک کرتے چلے گئے۔


میری آنکھوں کے سامنے میری بیوہ بیوی کا آنسووں بھرا چہرا آگیا، میرے بچے آگئے۔ ننھے ننھے یتیم بے یار مددگار نہ جانے کیسی گزرے گی، میرے دل میں آیا کہ میں گاڑی دیوار سے ٹکرادوں ، یا روک کر گاڑی سے اتر بھاگ جاوں ، میں سوچ ہی رہا تھا کہ پھر اس کے فون کی گھنٹی بجی۔ اس نے اسلام علیکم  کہہ کر فون اپنے کانوں سے لگا لیا۔ میں نے کن انکھیوں سے اُسے دیکھا وہ سامنے دیکھ رہا تھا۔ مجھے پہلی دفعہ ایسا لگا جیسے اس کے چہرے ہر مایوسی ہے، اس نے فون بند کیا اور بغیر کچھ بولے سامنے غور سے دیکھنے لگا۔ گاڑی تھا خان کا پل پار کرکے نیچے اُتر رہی تھی۔ سامنے بس اسٹاپ پر پانچ چھ منی بس کھڑی ہوئی تھیں۔ جن میں مسافر اُتر اور چڑھ رہے تھے اس نے یکایک کہا کہ بس اسٹاپ پر گاڑی روک دومجھے پتہ تھا کہ میری ہلاکت کا وقت آگیا ہے ۔ پھر گاڑی کا دروازہ دھڑسے بند ہوا۔ میں نے فوراً آنکھیں کھول دیں ،دیکھا وہ تیزی سے دوڑتا ہوا لانڈھی جانے والی بس میں سوار ہو گیا ہے۔


مجھے ایسا لگا جیسے میں بے ہوش ہو جاوں گا۔ مجھے اپنے آپ پر قابو پانے میں کئی منٹ لگے۔ اس کے بعد میں نے گاڑی پوری رفتار سے بھگا دی۔

Wednesday, 27 June 2012

♦♣♠♥ خود کش ♦♣♠♥

منتخب تحریر : لکھاری راشد اشرف
ایک ایسی تحریر جو ہمیں حقیقت آشنائی کراتی ہے جو ہمیں رونے اور ہنسنے پر مجبور کرتی ہے۔ ہمارے ہی اردگرد ہونے والے خون ریز ظلم کی منہ بولتی داستان۔
 
 
 
 

Monday, 25 June 2012

برائیوں کا مجموعہ!!!!! Hum aik Nation

..............................................................................................................................................................

کچھ اقوام ایک برائی میں مبتلا ہیں کچھ دو میں کچھ چار میں کچھ پانچ میں لیکن پھر بھی ان میں کچھ اچھے جراثومے باقی ہیں۔ لیکن بحثیت قوم اگر دیکھا جائے تو ہم  ایک ایسی قوم ہیں جس میں برائیوں کے جراثیم نہیں بلکہ ہم خود ایک چلتا پھرتا برائیوں کا مجموعہ ہیں۔ اور ہر برائی کا ہمارے پاس باقاعدہ جواز موجود ہے، ایک باقاعدہ مجبوری کو ہم نے اپنی ہر برائی کے اوپر ڈھال یا پردے کی شکل میں ڈال رکھا ہے،

ہم نے ملک کی باگ دوڑ ان کو دے دی جن کو ماحولیات کہنا نہیں آتا، جن سے پوچھا جائے کہ کونسی منسٹری کے منسٹر بنیں ہیں تو وہ جواب میں کہتے ہیں ، او جی !!! باقی تو ساری منسٹریاں مک گئیں تھیں میرے حصے وچ مخولیات دی منشٹری آئی جے۔

ملک کی باگ دوڑ :::::::::::: سیاہ ست دانوں کے ہاتھ
دین کی باگ دوڑ :::::::::::: مولویوں کو ہاتھ
ملکی اثاثے اور وسائل ::::::: خاندانی نواب اور کاروباری حضرات
ملکی سالمیت ::::::::::: فوج کے ہاتھ
( جس نے پچھلی آدھ صدی کے سفر میں سوائے سودے کرنے کے کچھ نہیں کیا)
اور تو اور ہم نے اپنی آواز، اپنی سوچ، اپنی جدوجہد، اپنا احتجاج سب بیچ دیا ہے سب ٹھیکے پر دے دیا ہے۔

ملک میں کچھ بھی ہو، پہلے جماعت اسلامی دھرنے دیا کرتی تھی، اب تحریک انصاف دھرنے دے رہی ہے۔ وہ کسی کالے دھندے کے کالے دل والے انسان کے کالے الفاظ ہیں کہ ہر کوئی بکاو ہوتا ہے بس ضرورت ہوتی ہے اس کی صحیح وقت میں صحیح قیمت لگانے کی۔

لیکن ہم تو اس مثال کو بھی پیچھے چھوڑ چکے ہیں، ہم تو خود اپنے گلوں میں نمائشی تختیاں لگائے بیٹھے ہیں جن پر واضح تحریر ہے :


دہشت گرد کرائے پر حاصل کریں، خودکش سستے داموں میں دستیاب ہیں

آپ کچھ بھی کریں ہم موجود ہیں اپنے سر لینے کے لیئے، ہر قسم کی برائی اپنے سر لینے والی واحد قوم
بے ضمیر اور دلال بہت مناسب داموں میں آپ کی خدمت کے لیئے حاضر ہیں، ہم دلاسوں اور تسلیوں پر بھی بک جاتے ہیں
اس ملک کی بہو، بیٹیاں، مائیں، بہنیں، پہلے
اپنے ہاتھوں بے آبرو کرتے ہیں اور پھر بکنے کے لیئے ، ہے کوئی جو اچھے دام دے

سب بک رہا ہے، عزتیں ، عدالتیں، آبرو، حریت ، حرمت، دین تک تو ٹھیکے پر لگا دیا ہے، سفید ریش بزرگ سر عام ہماری اسمبلیوں میں جھوٹ بولتے ہیں، اور پریس کانفرنسوں میں فتوٰی جاری کردیتے ہیں۔ جلوس اور تقریروں میں عوام کو جہاد اور حق کی تبلیغ اور اقتدار کی ہوس میں خود بھی ننگے ہونے سے نہیں شرماتے۔


یہ ہے برائیوں کا مجموعہ یعنی ہم، اور اگر یہ رونا رویئں کہ ہم مظلوم ہیں تو اس سے بڑی مردہ ضمیری کوئی نا ہو گی، کیوں کہ یہ تو بلکل بھی نہیں کہ ہم مظلوم ہیں
ہم لوگ بحثیت قوم چور ہیں ،اچکے ہیں، اٹھائی گیرے ہیں ، راہ زن ہیں، عزتیں لوٹنے والے اور بیچنے والے ہیں۔


اور مزید بس ایک کثر باقی ہے کہ ہم زمین میں دھنس جائیں یا آسمان ہم پر ٹوٹ گرئے، باقی تو اللہ کے عذاب میں کوئی کمی نہیں ہے۔ پھر بھی شاید خدائے کل کائینات ہمیں سدھرنے کا موقع دے رہا ہے، شاید ابھی ہماری رسی تھوڑی ڈھیلی ہے کہ ہم سمجھ جائیں ٹھیک ہو جائے صراط مستقیم کی طرف لوٹ آئیں۔

جو ہم محسوس کرتے ہیں:::::::Jan-e-Rashid::::::::::


جو ہم محسوس کرتے ہیں, اگر تم  تک پہنچ جائے, تو بس  اتنا سمجھ لینا, یہ ان  جزبوں کی خوشبوہے جنہیں ہم  کہہ نہیں سکتے مگر تم جو اجازت دو تو
 چند لفظوں میں کہہ دوں گاکہ تم بن جی نہیں سکتا, کہ تم بنجی نہیں سکتا

Sunday, 24 June 2012

وہ زہر کی طرح مرے دل میں اتر گیا



نیلا میرا وجود گھڑی بھر میں کر گیا
وہ زہر کی طرح مرے دل میں اتر گیا

پلکیں لرز کے رہ گئیں اور دیپ بجھ گئے

الزام اب کے بار بھی آندھی کے سر گیا

اب کس لئے سنبھال کے رکھوں بصارتیں

آنکھوں سے خواب چھین کے جب خواب گر، گیا

اس سے بچھڑ کے دل کا ہوا ہے عجیب حال

پانے کی آرزو گئی، کھونے کا ڈر گیا

جب موسموں نے پھر سے بغاوت کی ٹھان لی

ٹہنی پہ پھول کھلنے سے پہلے بکھر گیا

بہتر ہے خود رفو گری سیکھوں کہ آج تو

گھاؤ کھلے ہی چھوڑ کے وہ چارہ گر گیا

اس پر یقیں بحال ہوا تو وہ ایک دم

اقرار کے مقام پہ آ کر مُکر گیا

آنکھوں سے نیند، دل سے سکوں ہو گیا جدا

لگتا ہے اپنے ساتھ کوئی ہاتھ کر گیا

سورج نے ساتھ چھوڑا تو دیکھا پلٹ کے تب

سوچا، جو ساتھ چلتا تھا سایہ کدھر گیا

فاخرہ بتول

کسی کے روٹھ جانے سے:::::

کہا تھا تم نے یہ اک دن
میں تم کو چھوڑ جاؤں تو
یا ناطہ توڑ جاؤں تو
میں تم سےروٹھ جاؤں تو
تمہیں کیا فرق پڑتا ہے

تمہارا یہ بھی کہنا تھا


کسی کے روٹھ جانے سے

یا ناطہ ٹوٹ جانے سے
کسی کو کچھ نہیں ہوتا
ہوائیں چلتی رہتی ہیں
گھٹائِیں آتی جاتی ہیں
نظام زندگانی میں
کوئی ہلچل نہیں مچتی
فغان و آہ و نوحے کی
کوئی محفل نہیں سجتی

میری جاں بات یہ سچ ہے


کسی کے روٹھ جانے سے

یا دامن چھوٹ جانے سے
کسی کی سانس سے اس کا
تعلق پھر بھی رہتا ہے
یہ سانسیں چلتی رہتی ہیں
یہ دل پھربھی دھڑکتا ہے

مگر یہ بھی حقیقت ہے
 
کسی کے روٹھ جانے سے
کہ ناطہ ٹوٹ جانے سے
امیدیں ٹوٹ جاتی ہیں
تو خوشیاں روٹھ جاتی ہیں
بشرزندہ تو رہتا ہے
مگراک لاش کی مانند
جہاں میں پھرتا رہتا ہے
خس و خاشاک کی مانند 

(●̮̮̃•̃)
/█\
.Π.

Wednesday, 20 June 2012

نقاد کی نقدی:::::::......

ہر بار ہماری تاریخ نے پلٹا کھایا اور سب کچھ پلٹ دیا

بھٹؤ گیا، ضیاء گیا، یحییٰ گیا، بے نظیر گئی

میاں گیا تو پرویز آیا :::::: ہم نے مٹھایاں بانٹی، بھنگڑے ڈالے، خوشیاں منائیں، فائرنگ کی

پرویز گیا تو گیلانی آیا،زرداری آیا :::::: ہم نے مٹھایاں بانٹی، بھنگڑے ڈالے، خوشیاں منائیں، فائرنگ کی

گیلانی گیا تو اب آنیوالا ہے مخدوم یا پھر کوئی چوہدری :::::: اور ہم


پاکستان ایک سٹیج ہے اور ہم سب تماشائی، ہر آنیوالا ایک نقاد ہے جس کو ہر حال میں اپنے حصے کی نقدی اکھٹی کرنی ہے سٹیج چلانے والے کو پتا ہے کہ جب تماشائیوں کی جیبوں میں سے نقدی ہلکی ہو جائے گی تو پہلے نقاد کو ہٹا کر ایک نیا چہرہ ،ایک نیا نقاد لا کھڑا کرنا ہے تاکہ کھیل جاری رہے اور کبھی ختم نا ہو، نقدی آتی رہے آتی رہے اور بس آتی رہے لیکن ہو گا کیا، جس سٹیج پر ہم بیٹھ کر نعرے لگاتے ہیں اور انتظار کرر ہے ہیں کے اگلا آنیوالا کچھ الگ کرنے آ رہا ہے یہ سٹیج ایک دن زمین بوس ہو جائے گا، اور جو بھی اس میں ہے وہ بھی زمین بوس ہو کر تاریخ پر ایک سیاہ دھبہ اور عبرت ناک انجام بن جائے گا۔ سٹیج کے پیچھے سب نقاد بھاگ جانے والے ہیں، جو بھاگ جائیں

میاں ہمیشہ میاں ہی رہےگا،
 پرویزی نسل در نسل پرویزی رہے گا،
 گیلانی اپنی گدی پہ جا بیٹھے گا،
 زرداری اپنے زر کا دار ہوگا،
 مخدوم اپنی لڑی کو چلاتا رہے گا،
 کوئی شاہ جی اور کوئی شاہ صاحب،
 کوئی گدی نشین کوئی زمین دار،
 کوئی جاگیردار،
 کوئی جدی پشتی نواب ابن نواب،

 سب نقاد اپنی نقدی لیکر چلتے بنیں گے۔

مجھے کورٹ کے فیصلے سے اختلاف نہیں لیکن میں اس سے خوش بھی نہیں ، نااہل قرار دے کر? ہے نا ہنسنے والی بات ، ان میں سے اہل ہے کون

ہم وہ تھالی کے بینگن ہیں جو کبھی ادھر لڑکھتے ہیں اور کبھی ادھر، ابھی پھر لوگوں نے سوچا ہو گا کہ ایک مسیحا آ رہا ہے جو ان کی تقدیر بدل دے گا، جب کہ ایسا نہیں ہے جب تک ہم اپنے اعمال ٹھیک نہیں کرتے تب تک ایک فرعون کے بعد دوسرا اور دوسرے کے بعد تیسرا آتا رہے گا، اور ہر آنے والے پر اور جانے والے کے بعد ہم خوشیاں مناتے رہیں گے اور مٹھایاں تقسیم کرتے رہیں گے، یہ سب بساط کے مہرے ہیں، یہ سب وہ اسباب ہیں اور وسیلے ہیں جن کے زریعے ہم لوگوں کو کہا جا رہا ہے کہ سدھر جاو، سبق سیکھ لو، ٹھیک ہو جاو، اپنی نیتوں کو اپنے اعمال کو سیدھے راستے پر لاو، صراط مستقیم پر آ جاو
ابھی تو تاریخ پلٹ رہی ہے کہیں ایسا نا ہو جائے  یہ زمین یہ دھرتی اور یہ ملک ہی پلٹ جائے اور جس زمین پر اور جن چیزوں ہم بہت غرور کرتے ہیں تکبر کرتے ہیں وہی ہمیں اپنے نیچے دبا لیں۔ اور موجودہ صورت حال کو دیکھ کر لگتا ہے کہ شاید ایسا ہی ہونے والا ہے، کیوں کہ ہم نے تو نا سدھرنے کی قسم کھا لی ہے۔ اور اصل سبق ہے جو ہمیں دیا جا رہا ہے ہم اس پر توجہ نہیں دے رہے ہیں۔


شامل گناہ، بحثیت قوم
ایک خاکسار ارض پاکستان
راشد ادریس رانا، یو اے ای

Tuesday, 19 June 2012

اللہ تعالٰی کا عذاب

Monday, 18 June 2012

میں نے اللہ سے کہہ دیا ہے

 تحریر: محمد صديق بخارى

گلی میں کھیلنے والے بچوں کو وہ بڑی محویت سے دیکھ رہا تھا۔اس نے دیکھا کہ ایک بچے نے دوسرے بچے کو مارا تو مار کھانے والا روتا ہوا اپنے گھر کی طرف بھاگا لیکن تھوڑی ہی دیر میں پھر آ موجود ہوا۔ اب اس کے چہرے پر حد درجہ اطمینان تھا۔ جس بچے سے اس کی لڑائی ہوئی تھی، اس کو اس نے کہا ” میں نے اپنی ماما سے کہہ دیا ہے ”اور یہ کہہ کر وہ دوبارہ کھیل میں شامل ہو گیا۔ وہ سوچنے لگا کہ اس بچے کو حد درجہ اطمینان کس چیز نے دیا ہے ۔اس کی ‘ماما’ نہ تو موقع پرآئی ہے ، نہ اس نے دوسرے بچے کو کچھ کہا ہے اور نہ ہی ایسا کوئی پیغام بھیجا ہے مگر اس کا بیٹا پھر بھی مطمئن ہے ۔غور و فکر سے اس پر واضح ہوا کہ اس کا اطمینان در اصل اس یقین کا نتیجہ تھا جو اس کو اپنی ماں پر تھا۔ اسے یقین تھا کہ اس کی ماں میں اتنی طاقت ہے کہ وہ اس کی بے عزتی کا بدلہ لے سکے اور یہ کہ وہ لازماً ایسا کرے گی۔مگر یہ کہ، وہ کب ایسا کرے گی، کس طریقے سے کرے گی ، کتنا کرے گی، یہ سب کچھ اس نے اپنی ماں پر چھوڑ دیا تھا۔اور یہ بھی اس کا یقین تھا کہ وہ یقینا بہتر ہی کرے گی۔
تفویض اور اپنے معاملات کو ایک مشفق اور طاقتور ہستی کے سپرد کرنے کا یہ عمل اسے بہت بھایا اور ساتھ ہی وہ بہت شرمندہ بھی ہوا جب اسے یہ احساس ہوا کہ اس کا تو اپنے مالک سے اتنا بھی تعلق نہیں جتنا کہ اس بچے کا اپنی ماں سے ہے ۔ اس نے یاد کیا کہ اس کی زندگی میں کتنے مواقع ایسے ہیں کہ جب اس نے سجدے میں سر رکھ کر یہ کہا ہو کہ مالک میرے بس میں جو تھا وہ تو میں نے کر لیا اب معاملہ تیرے سپرد ہے اور یہ کہہ کر وہ اس بچے کی طرح مطمئن ہو گیا ہو۔ اور جب تہی دامنی کی احساس نے اسے بالکل ہی سرنگوں کر دیا تو اس نے حساب لگایا کہ اصل میں گڑ بڑ دو جگہ پر ہے ۔ اول تو اسے مالک کی طاقت ، قدرت اور عظمت کا کامل استحضار ہی نہیں اور اگر ہے تو پھر اس کی حکمت پہ شاید کامل ایمان نہیں۔ وگرنہ یہ ممکن نہ تھاکہ تفویض کے بعد اسے اطمینان حاصل نہ ہو جاتا۔ اور پھر اس نے افوض امری الی اللہ ان اللہ بصیر بالعباد کہہ کر یہ عہد کیا کہ آئند ہ وہ تفویض کا یہ عمل بچوں سے سیکھے گا اور ہر اہم موقع پر یہ کہہ کر اپنے ایمان کی تربیت کرے گا کہ میں نے اپنے اللہ سے کہہ دیا ہے ۔

Wednesday, 13 June 2012

Sunday, 10 June 2012

کہاں ہو تم

===================================================
کہاں ہو تم
نگاہیں ڈھونڈتی ہیں تم کو
بڑی ہی بے چینی سے
یہ دل بہت اداس رہتا ہے
ہر لمحہ ہر وقت بس
تمہارا ہی خیال رہتا ہے

کہاں ہو تم
تمہارے بن میں تو
ادھورا ہوں
مجھے تتلی کے سب
رنگ پھیکے لگتے ہیں
مجھے قوس قزاح
معدوم لگی ہے

کہاں ہو تم
کے وہ جو مجھ کو
جگنو کی روشنی ہر
لمحہ بہت بھلی لگتی تھی
مجھے بارش کی وہ
بوندیں جو دل لبھاتی تھیں
مجھے وہ مدھم سے نغمے
جو جھرنوں سے نکلتے تھے
سب کچھ بہت بھاتا تھا
مگر تم بن سب کچھ
بے نام لگتا ہے

کہاں ہو تم کہ
تم بن مجھ کو ہر چہرہ
بہت عام لگتا ہے
کہاں ہو تم کہ
تم بن مجھ کو اپنا آپ
بے نشان لگتا ہے
کہاں ہو تم

صرف اور صرف تمہارے نام
J-e-R

Saturday, 9 June 2012

بچے خود کشی کیوں کرنے لگے؟

……شفیق احمد
Jangblog.
 
کس گھر میں بچے نہیں اور کہاں بچوں کو خراب کارکردگی پر ڈانٹا ڈپٹا نہیں جاتا، ماں باپ سے بہتر کسی بچے کا خیرخواہ کوئی اور ہوسکتا ہے؟ہر ماں باپ اپنی اولاد کو خود سے آگے دیکھنا چاہتے ہیں، مگر تمام والدین یہ بات اپنے بچوں کو صحیح طرح سمجھا نہیں پاتے، اس لیے کہ بچوں کی تعلیم و تربیت کی طرح ماں باپ کی تربیت کیلئے ہمارے یہاں کوئی ادارہ جو موجود نہیں،

اس کام کیلئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جو شریعت لائے تھے وہی کافی تھی مگر سب اس راہ سے کوسوں دور ہیں، اس حوالے سے اساتذہ بھی اپنی ذمے داریاں مکمل طور پر ادا نہیں کررہے، تعلیم جو مذہبی فریضہ ہے محض تجارت بن گیا ہے اور تجارت کے ساتھ تاجر جو کرتے ہیں وہی طرزسرکاری اور نجی تعلیمی ادار وں کے اساتذہ و انتظامیہ کا تعلیم کے ساتھ ہے۔
 

اور ہوا یوں کہ ہر نیوز چینل پر ایک بچے کی خود سوزی کو بھرپور کوریج دی گئی، شہ سرخیوں کا حصہ بنایا گیا، کئی دن تک چلایا گیا، نتیجہ، مزید ایک بچے کی خودکشی، اس کے بعد شروعات ہوگئی۔
 
اس صورت حال میں یہ بات بھی بھلادی گئی کہ ماضی میں عراقی سابق صدرصدام حسین کی پھانسی کی ویڈیو بار بار دکھانے کے نتیجے میں ایک بچے نے اس کی نقل کرتے ہوئے اپنے آپ کو پھانسی لگا لی تھی۔ گھروں میں معصوم بچے ہر بات سے متاثر ہوتے ہیں، وہ وہی کرتے ہیں جو ان کے بڑے کرتے ہیں اور اب ان کے بڑوں میں ’ٹیلی ویژن‘ کا کردار بھی بے حد اہم ہے جسے تقریباً ہر گھر میں بچوں کے حوالے کردیا گیا ہے، بلکہ ایسے بھی گھرانے ہیں جہاں ٹیلی ویژن بچوں کے کمروں میں رکھوا دیا گیا ہے، یہ وقت ہے کہ ماں باپ فیصلہ کریں کہ انہیں کیا دکھانا ہے اور کیا نہیں،چاہے انہیں جتنی بھی دیگر مصروفیات درپیش ہوں۔ اس کے ساتھ میڈیا بھی اپنے لئے اس حوالے سے ضابطہ اخلاق نہ صرف ترتیب دے بلکہ اس پر عمل درآمد بھی یقینی بنانے کیلئے اقدامات اٹھائے۔

♥ " چراغ محبت " ♥

بادشاہ ناصر الدین محمد کے ایک مصاحب خاص کا نام " محمد " تھا. بادشاہ اسے اسی نام سے پکارتا تھا ، ایک دن خلاف معمول بادشاہ نے اسے ،" تاج الدین " کہہ کر آواز دی، وہ تعمیل حکم میں حاضر تو ھو گیا مگر بعد گھر جا کر تین دن تک نہں آیا۔ بادشاہ نے بلاوا بھیجا اور تین دن غائب رھنے کی وجہ دریافت کی تو اس نے کہا کہ آپ ہمیشہ مجھے " محمد " کہہ کر پکارا کرتے تھے لکین اس دن آپ نے مجھے " تاج الدین،" کہہ کر پکارا تو میں نے اندازہ کیا کہ شاید آپ کے دل میں میرے لیئے کوئی خلش پیدا ھوگئی ھے۔ اسی افسوس میں 3 دن تک حاضر خدمت نہیں ھوا۔ ناصرالدین نے کہا واللہ ! میرے دل میں کوئی خلش نہ تھی اور نہ ھے ، میں نے تاج الدین کے نام سے تو اس لیے پکارا تھا کہ اس وقت میرا وضو نہیں تھا اور مجھے " محمد " کا مقدس نام بغیر وضو کے لینا گوارہ نہیں تھا..♥

♥ یارسول اللہ (صلى الله عليه وسلم) تیرے چاہنے والوں کی خیر ♥

♥ اللّھُمَّ صَلِّ عَلٰی سَيِّدِنَا وَ مَولَانَا مُحَمَّدٍ وَّ عَلٰی اٰلِہ وَ صَحْبِہ وَ بَارِکْ وَسَلِّمْ ♥

●▬▬▬▬▬▬▬▬۩۞۩▬▬▬▬▬▬▬▬●
اللَّهُـمّ صَــــــلٌ علَےَ مُحمَّــــــــدْ و علَےَ آل مُحمَّــــــــدْ
كما صَــــــلٌيت علَےَ إِبْرَاهِيمَ و علَےَ آل إِبْرَاهِيمَ إِنَّك حَمِيدٌ
مَجِيدٌ اللهم بارك علَےَ مُحمَّــــــــدْ و علَےَ آل مُحمَّــــــــدْ كما
باركت علَےَ إِبْرَاهِيمَ و علَےَ آل إِبْرَاهِيمَ إِنَّك حَمِيدٌ مَجِيدٌ
●▬▬▬▬▬▬▬▬۩۞۩▬▬▬▬▬▬▬▬●

Friday, 8 June 2012

پتھر کا انتظار


پتھر کا انتظار


ایک متمول کاروباری شخص اپنی نئی جیگوار کار پر سوار سڑک پر رواں دواں تھا کہ دائیں طرف سے ایک بڑا سا پتھر اُسکی کار کو آ ٹکرایا۔

اُس شخص نے کار روک کر ایک طرف کھڑی کی اور تیزی سے نیچے اُتر کر کار کو پہنچنے والے نقصان کو دیکھنا چاہا، اور ساتھ ہی یہ بھی کہ پتھر مارا کس نے تھا!!

پتھر لگنے والی سمت میں اُسکی نظر گلی کی نکڑ پر کھڑے ایک لڑکے پر پڑی جس کے چہرے پر خوف اور تشویش عیاں تھی۔

آدمی بھاگ کر لڑکے کی طرف لپکا اور اُسکی گردن کو مضبوطی سے دبوچ کر دیوار پر لگاتے ہوئے پوچھا؛ اے جاہل لڑکے، تو نے میری کار کو پتھر کیوں مارا ہے؟ جانتے ہو تجھے اور تیرے باپ کو اِسکی بہت بڑی قیمت ادا کرنی پڑے گی۔

لڑکے نے بھرائی ہوئی آنکھوں سے اُس آدمی کو دیکھتے ہوئے بولا؛ جناب میں نے جو کُچھ کیا ہے اُسکا مجھے افسوس ہے۔ مگر میرے پاس اسکے علاوہ کوئی اور چارہ نہیں تھا۔ میں کافی دیر سے یہاں پر کھڑا ہو کر گزرنے والے لوگوں کی توجہ اپنی طرف مبذول کرانے کی کوشش کر رہا ہوں مگر کوئی بھی رُک کر میری مدد کرنے کو تیار نہیں۔ لڑکے نے آدمی کو گلی کے وسط میں گرے پڑے ایک بچے کی طرف اِشارہ کرتے ہوئے بتایا؛ وہ میرا بھائی ہے جو فالج کی وجہ سے معذور اور چلنے پھرنے سے قاصر ہے۔ میں اِسے پہیوں والی کُرسی پر بِٹھا کر لا رہا تھا کہ سڑک پر پڑے ایک چھوٹے گڑھے میں پہیہ اٹکنے سے کُرسی کا توازن بگڑا ا ور وہ نیچے گر گیا۔ میں نے کوشش تو بہت کی ہے مگر اتنا چھوٹا ہوں کہ اُسے نہیں اُٹھا سکا۔ میں آپکی منت کرتا ہوں کہ اُسے اُٹھانے میں میری مدد کیجیئے ۔ میرے بھائی کو گرے ہوئے کافی دیر ہو گئی ہے اِسلئے اب تو مجھے ڈر بھی لگ رہا ہے۔۔۔ اِس کے بعد آپ کار کو پتھر مارنے کے جُرم میں میرے ساتھ جو سلوک کرنا چاہیں گے میں حاضر ہونگا۔ آدمی اپنے جذبات پر قابو نہ رکھ سکا، فورا اُس معذور لڑکے کی طرف لپکا، اُسے اُٹھا کر کرسی پر بٹھایا، جیب میں سے اپنا رومال نکال کر لڑکے کا منہ صاف کیا، اور پھر اُسی رومال کو پھاڑ کر ، لڑکے کو گڑھے میں گر کر لگنے والوں چوٹوں پر پٹی کی۔۔

اسکے بعد لڑکے نے آدمی سے پوچھا؛ جی جناب، آپ اپنی کار کے نقصان کے بدلہ میں میرے ساتھ کیا سلوک کرنا چاہتے ہیں؟

آدمی نے مختصر سا جواب دیا؛ کچھ بھی نہیں بیٹے، مجھے کار پر لگنے والی چوٹ کا کوئی افسوس نہیں ہے۔

آدمی اُدھر سے چلا تو گیا مگر کار کی مرمت کیلئے کسی ورکشاپ کی طرف نہیں، کار پر لگا ہوا نشان تو اُس نے اِس واقعہ کی یادگار کے طور پر ویسے ہی رہنے دیا تھا، اِس انتظار کے ساتھ کہ شاید کوئی اور مجبور انسان اُس کی توجہ حاصل کرنے کیلئے اُسے ایک پتھر ہی مار دے۔۔۔

***
خدشات اور پریشانیوں کے اِس دور میں بسنے والے ہم لوگوں کے اپنے اپنے تحفظات اور اپنی اپنی لا متناہی خواہشات ہیں۔ راحت اور آسائشیں بڑھنے سے فرائض اور واجبات کے ساتھ ساتھ خدا بھی بھُولتا جا رہا ہے۔ صحت و تندرستی، مال و زر اور علم و مرتبہ سے بھرپور پُر مسرت اور پُر سکون زندگیاں تو اور بھی زیادہ شُکر کی مُستحق ہوا کرتی ہیں کہ ہم اِن نعمتوں اور مہربانیوں کے شکرگزار ہوں جو ہم پر برس رہی ہیں مگر غفلت نے ہم پر اور ہماری عقلوں پر پردہ ڈال دیا ہوتا ہے۔

اور پھر کبھی کبھی ناگہانی بیماریاں، مصیبتیں اور پریشانیاں شاید ہماری توجہ نعمتوں کے شُکر کی ادائیگی کیلئے، ہمیں سیدھی راہ پر لوٹانے اور ہمیں نعمتوں کے فضل کا احساس دلانے کیلئے نازل ہو ا کرتی ہیں۔

اگر انسان ساری دنیا کی دولت و راحت کما لے مگر اپنے رب سے تعلق اور رابطہ کھو بیٹھے تو اُسے کیا فائدہ ملے گا؟

ہم ہزاروں کاموں کی منصوبہ بندی کرتے ہیں کہ گاڑی کی ضمانت مل جائے، گھر کی ضمانت دے دی جائے، گھر میں موجود ہر راحت و آسانی کی دستیابی کی ضمانت مِل جائے۔۔۔ مگر کیا دائمی زندگی کی بھی کوئی ضمانت ہے؟

کچھ اِس طرف بھی توجہ ہے ہماری؟

یا کسی پتھر کا انتظار ہے جو ہمیں آ کر لگے اورتب ہی ہم اپنی اِس غفلت سے جاگیں گے؟؟؟

ضرور پڑھے اور دوستوں کو بھی شیئر کریں

Wednesday, 6 June 2012

حیا و رضا کی پتلی: مکہ کار ایکسیڈنٹ میں اپنا شوہر کھونے والی ایک عرب خاتون کی ایمان افروز داستان


Thanks AHWAL, تحریر: کائنات فاطمہ
میں کار پر مکہ جا رہا تھا۔ راستے میں اچانک میرے سامنے کار کا ایک حادثہ ہوا۔ صاف معلوم ہورہا تھا کہ یہ بہت خوفناک حادثہ ہے۔ میں ہی تھا جو سب سے پہلے یہاں پہنچا۔ میں نے اپنی گاڑی کھڑی کردی۔ جلدی سے باہر نکلا اور اس گاڑی کی طرف لپکا تاکہ اس میں جو بھی سوار ہے اس کی جان بچائوں۔ ڈرتے ڈرتے اس کے قریب گیا۔ جونہی اس گاڑی میں جھانکا تو میرا دل تیزی سے دھڑکنے لگا۔ دونوں ہاتھوں پر کپکپی طاری ہوگئی۔ اس ہولناک منظر کی وجہ سے مجھے اپنا سانس رُکتا ہوا محسوس ہوا۔ میری آنکھوں میں نمی آگئی۔عجیب منظر تھا۔ کار کا ڈرائیور بے حس و حرکت سٹیرنگ کے ساتھ لگا ہوا تھا۔ وہ اُنگشت شہادت سے اشارہ کررہا تھا۔ اس کا چہرہ روشن تھا جس پر گھنی ڈاڑھی اپنی بہار دکھا رہی تھی۔ یوں لگتا تھا گویا وہ چاند کا ٹکڑا ہے۔
میں نے دیوانہ وار گاڑی کے اندر ادھر اُدھر دیکھا۔ ایک چھوٹا سابچہ نظر آیا۔ وہ اس کی پشت کے ساتھ چمٹاہوا تھا۔ اس نے اپنے دونوں ہاتھ ڈرائیور کی گردن میں ڈالے ہوئے تھے۔ وہ زندگی کو الوداع کہہ چکا ہے۔
میں نے اس جیسی کوئی میت نہیں دیکھی۔ اس کے چہرے پر سکون تھا ، وقار تھا۔ چہرہ سورج کی طرح چمک رہا تھا۔ انگشت شہادت فوت ہوجانے کے باوجود اللہ کی وحدانیت بیان کررہی تھی۔ اس کا تبسم ابھی تک جوان تھا۔ گزرنے والوں کی گاڑیاں اس کار کے پاس کھڑی ہونے لگیں۔ چیخ پکار مچ گئی۔ یہ سب کچھ بڑی تیزی سے ہوا۔ میں بھول ہی گیا کہ یہ تو دیکھوں گاڑی میں اور کون کون ہے۔ میں بچے کو گم پانے والی ماں کی طرح رونے لگا۔
کچھ معلوم نہ تھا کہ میرے ارد گرد کون ہے۔ جس نے بھی دیکھا، یہی گمان کیا کہ میں میت ہی کا کوئی قریبی عزیز ہوں۔ کچھ لوگ چلائے۔ انھوں نے ایک عورت اور دو بچوں کو پچھلی سیٹ پر دیکھا۔مجھے اور زیادہ صدمہ ہوا۔ میں پچھلی سیٹ کی طرف متوجہ ہوا۔ ایک عورت اپنا لباس سمیٹے بیٹھی تھی۔ اس نے اپنے حجاب کو مضبوطی سے سنبھال رکھا تھا۔ وہ چپ چاپ ہماری طرف دیکھ رہی تھی۔ اس نے دو چھوٹے بچوں کو سینے سے چمٹا رکھا تھا۔ اللہ کی قدرت کہ انھیں کوئی گزند نہیں پہنچا تھا۔
حادثے کی وجہ سے وہ لرزہ براندام تھے۔ خاتون اللہ کاذکر کر رہی تھی اور دونوں بچوں کی ڈھارس بندھا رہی تھی۔ مجھے یوں محسوس ہوا جیسے وہ ہمت اور حوصلے کی چٹان ہے۔ وہ پوری ثابت قدمی سے کار سے اترنے کی کوشش کرنے لگی۔ وہ رو رہی تھی نہ چلا رہی تھی نہ کوئی واویلا کر رہی تھی۔
ہم سب نے مل کر انھیں کار سے نکالا۔ جس نے بھی مجھے دیکھا اس نے یہی محسوس کیا کہ میں بھی ان کے ساتھ مصیبت میں مبتلا ہوں۔ میں بہت رویا۔ لوگ میری طرف دیکھ رہے تھے۔ وہ خاتون میری طرف متوجہ ہوئی اور کار سے اترتے اترتے بھرائی ہوئی آواز میں بولی: ’’اخی فی اللہ!آپ اس پر نہ روئیں۔ وہ بلاشبہ نیک آدمی تھا۔ پھر اس پر آنسو غالب آگئے اوراس کی آواز ڈوب گئی۔
وہ عورت کار سے اتری تو اس نے دو بچوں کو اپنے ساتھ چمٹا رکھا تھا۔ اس نے اپنے حجاب کا جائزہ لیا۔ اس کی سلوٹیں ٹھیک کیں۔ جب اس نے لوگوں کی بھیڑ دیکھی اور شور سنا تو اپنے بچوں کو لے کر دور چلی گئی۔ ایک نیک بخت آدمی آگے بڑھا اوراس کے بچے کو اٹھا کر ہسپتال پہنچا دیا۔ وہ دور سے کھڑی دیکھ رہی تھی اوراپنے بچوں کی نگاہ کو ان کے باپ اور بھائی کی طرف جانے سے روکنے کی کوشش کر رہی تھی۔
میں اس خاتون کی طرف متوجہ ہوا اور ادب سے عرض کیا: ’’آپ تشریف لائیے۔ میری کار میں سوار ہوجائیے۔ میں آپ کو آپ کے گھر پہنچا دوں گا۔‘‘ اس نے بڑے مضبوط اور پروقار لہجے میں جواب دیا: ’’اللہ کی قسم! میں صرف اس گاڑی میں سوار ہوں گی جس میں عورتیں ہوں گی۔‘‘ آس پاس کھڑے ہوئے لوگ چل پڑے۔ ہر شخص اپنا رستہ ناپ رہا تھا۔ میں دور کھڑا اس مغموم خاتون کو دیکھ رہا تھا اورمحسوس کر رہا تھا کہ مجھ سے اس خاتون کے بارے میں سوال کیاجائے گا کہ تو نے اس کی مدد کیوں نہیں کی۔ بڑا وقت گزر گیا۔ ہم اس مشکل کی گھڑی میں انتظار کی حالت میں کھڑے رہے۔ وہ خاتون اٹل پہاڑ کی طرح استقامت سے کھڑی رہی۔ دو گھنٹے گزر گئے۔ یکایک ہمارے پاس سے ایک کار گزری۔ اس میں ایک آدمی اوراس کا خاندان سوار تھا۔ میں نے اسے روکا۔ اس الم نصیب خاتون کو پیش آمدہ درد ناک حادثے کا ماجرا سنایا اوراس سے درخواست کی کہ اس خاتون کو اپنی گاڑی میں بٹھا لیجیے اوراس کے گھر پہنچا دیجیے۔
وہ مان گیا۔ خاتون اپنے بچوں کو لے کر صبر اور وقار کے ساتھ آگے بڑھی اور گاڑی میں سوار ہوگئی۔ میں یوں محسوس کررہا تھا جیسے وہ خاتون عورت نہیں، استقامت کا پہاڑ ہے۔
میں اپنی کار کی طرف لوٹ آیا۔ میں اس کے صبر جمیل پر حیران تھا۔ میں نے اپنے دل میں کہا: ’’دیکھ، اللہ تعالیٰ اپنے نیک بندے کے اہل و عیال کی اس کے اٹھ جانے کے بعد کس طرح حفاظت فرماتا ہے۔‘‘
مجھے فوراً اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان عالی شان یاد آیا:

ان الذین قالوا ربنا اللہ ثم استقموا تتنزل علیہم الملئکۃ الا تخافوا ولا تحزنوا وبشروا بالجنۃ التی کنتم توعدون۔ نحن اولیائوکم فی الحیوۃ الدنیا وفی الآخرۃ
’’بلا شبہ جن لوگوں نے کہا کہ اللہ ہی ہمارا رب ہے، پھر (اس پر) استقامت کی، ان پر فرشتے (یہ کہتے ہوئے) اترتے ہیں کہ تم نہ ڈرو اور نہ غم کھائو اوراس جنت سے خوش ہوجائو جس کا تم سے وعدہ کیاجاتا تھا۔ ہم دنیاوی زندگی میں بھی تمھارے دوست تھے اورآخرت میں بھی (تمھارے رفیق) ہیں۔‘‘)حٰمٓ السجدۃ 31,30:41)

ہاں! تم جو کچھ دنیا میں چھوڑ کر جارہے ہو۔ اس بارے میں مت ڈرو۔ ہم دنیا میں تمھارے ولی ہیں۔ ہم تمھارے اہل کی حفاظت کریں گے۔ ڈر اور خوف کی حالت میں انھیں سکون دیں گے، ان کے دلوں کو مضبوط کریں گے، ان کے رزق کی کفالت کریں گے اور ان کی عزت میں اضافہ کریں گے۔

سبحان اللہ! قرآن پاک نے کیسی ایمان افروز ضمانت دی ہے اور کتنی پیاری پیاری باتیں ارشاد فرمائی ہیں۔آہ! اللہ پاک کتنا رحیم و کریم ہے اور ہم کتنے غافل ہیں!
محترم بہنو اور بھائیو! کیا اب بھی وہ وقت نہیںآیا کہ ہم اللہ تعالیٰ کے خوف سے ڈر جائیں۔ غفلت اور گناہوں کی زندگی ترک کردیں اوراپنے اس محسن پروردگار کی بندگی اختیارکرلیں جو حی و قیوم ہے۔ جسے کبھی موت نہیں آئے گی۔ وہ ایسا زبردست غنی ہے جو دینے میں کبھی بخل نہیں کرتا۔ یہ کتنی اچھی اور کیسی خوش بختی کی بات ہوگی کہ وہ ہمیں رات کے سناٹے میں روتادیکھے اور دن کے وقت اپنے مقدس کلام کی تلاوت میں مصروف پائے۔ یہ بات اللہ کو کتنی پیاری لگے گی کہ وہ ہمیں اس حالت میں دیکھے کہ ہماری نگاہ حرام چیزوں کو دیکھنے سے بچی ہوئی ہے۔ نہ ہم کسی غیر محرم عورت کو دیکھیں نہ کوئی لچر بات کریں، نہ سنیں۔

Monday, 4 June 2012

ہمارا بے حس تعلیمی نظام اور اس کے نتائج۔




























































سائیں بیر ناتھ (میجرآفتاب احمد:کھاریاں)

Special thanks to Source: صدائے جمہور


قادنیانی، مرزائی ، کذابی فتنہ کا پس منظر

 thank www.urdumaza.com

کراچی کی تصاویر::: نئی اور پرانی

Some Nice Pics of Karachi (Old & New)

Karachi at night
A part of Karachi's financial district



A postcard from 1930 of Elphinstone Street, Karachi


A sketch of the old fort at Karachi from the 1830's

An aerial view of the Port of Karachi

An old image of Karachi from 1889

British family at Elphinstone St., 1914

Bunder Road

Farewell arch erected by the Karachi Port for the Royal visit of Prince of Wales, later King George V, 1906

Front view of Jinnah International


Karachi Airport in 1943 during World War II


Part of the town of Karachi, with mud houses; camels and villagers in foreground. April 1851

Quaid-e-Azam International Airport

Saint Patricks Cathedral

Satellite view of Karachi

The Empress Market, 1890

The Mohatta Palace

View of the Bunder Road (now M. A. Jinnah Rd.), 1900

View of the dense old native town by the end of the 19th century

Sunday, 3 June 2012

بھلے وقت


بھلے وقتوں میں دیواریں نیچی ہوا کرتی تھیں
لیکن عزت اور آبرو اونچی
افسوس اب دیواریں تو اونچی ہو گئی
لیکن عزت آبرو جگہ جگہ پامال۔
 

آو اپنے دل کو مکان کر لیں، گھر یہ خود ہوجائے گا۔


دیواریں اٹھیں تو جدا کرتی ہیں گریں تو ملاتی ہیں
 
درکھلتے ہیں خوش آمدید کہتے ہیں اوربند ہوتے ہیں تو خدا حافظ کہتے ہیں
 
کھڑکیاں کھلتی ہیں تو ہوا کو بلاتی ہیں اور بند ہوتی ہیں تو دھوپ کو روکتی ہیں
 
روشندان روشنی پہنچاتے ہیں، رات کی تاریکی میں ستارے دکھاتے ہیں
 
صحن سب کو ایک جگہ اکھٹا کرتے ہیں، مل جل کر بیٹھنے کا موقع دیتے ہیں
 
کمرے الگ ہوں تو تکلیفیں بانٹنے والاکوئی نہیں ہوتا، ساتھ ساتھ ہوں تو دکھ درد میںحوصلہ دینے والے مل جاتے ہیں
 
کچن ایک ہو تو رزق کی فراوانی اور برکت ہوتی ہے، الگ ہوں تو رزق بھی بکھر جاتا ہے
 
سیڑھی بچپن اور جوانی یاد دلاتی ہے
 
چھت نیلا نیلا آسمان، تاریک رات کےجھلمل کرتے تارے، پورے چاند کی چاندنی، برسات کی سرمئی گھٹآ اور سردیوں کی دھوپ دلاتی ہے
 
بیٹھک دوستوں کی محفلیں، بزرگوں کی خوش گپیوں کی یاد دلاتی ہے، سب کو مل بیٹھنے اور گلے شکوئے دور کرنے کا موقع دیتی ہے

تو دوستو!!!!!

اپنے دل کو بھی مکان کر لیں، دیواریں گرا دیں، دروازے ،کھڑکیاں اور روشندان کھول دیں۔ دل میں ایک صحن بنائیں جس میں سب مل بیٹھ کر خوشیاں اور غم بانٹیں، دل کے سب کمرے ساتھ ساتھ بنائیں، اور ایک کچن اور ایک سیڑھی جو آپ کو بچن یاد دلائے ، اور ایک ایسا چھت جس سے قدرت کے سب رنگ نظر آئیں، ایک ایسی بیٹھک جہاں کوئی پرایا نا ہو، سب اپنے ہوں۔

بس پھر یہ مکان ایک مکمل گھر بن جائے گا۔

تحریرازراشد ادریس رانا___یو اے ای

جاگو پاکستان، جاگو!!! انقلاب زندہ باد


Friday, 1 June 2012

عرب نسل کے تیندوے کو تحفظ درکار

عرب نسل کا تیندووا

ماہرین کا کہنا ہے کہ عرب نسل کے تیندووں کو تحفظ کی ضرورت ہے اور پوری دنیا میں اس نسل کے دو سو تیند وے باقی رہ گئے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ان تیندووں کے معدوم ہونے کا خدشہ اس لیے اور بڑھ جاتا ہے کیونکہ یہ چھوٹے چھوٹے گروہوں میں رہتے ہیں اور ان کے بچے کم ہوتے ہیں۔ بچے کم ہونے کی وجہ سے ان کی تعداد بہت آہستہ بڑھتی ہے۔
اس خطرے کو کم کرنے کے لیے شارجہ میں واقع ’دی اریبین وائلڈ لائف سینٹر‘ گزشتہ دس برسوں سے ان کی شرح پیدائش میں اضافے کے لیے ان کی افزائش کر رہا ہے۔
اریبین وائلڈ لائف سینٹر متحدہ عرب امارت کا واحد ادارہ ہے جو ان تیندووں کے تحفظ کے لیے کام کر رہا ہے اور ان کی ختم ہوتی نسل کے بارے میں لوگوں کو اجاگر کرنے میں کوشاں ہے۔
شارجہ میں ماحولیات کے تحفظ کے لیے کام کرنے والے ادارے ’انوائرومینٹ اینڈ پروٹیکٹیڈ ایریاس اتھارٹی‘ کے چئیرمین ہنا سیف السعودی کا کہنا ہے کہ عام طور پر سمجھا جاتا ہے کہ صحرا میں دور دور تک صرف ریت کے ڈھیر پھیلے ہوتے ہیں لیکن یہ تصویر غلط ہے۔
’ہمارے یہاں مختلف جغرافیائی خطے ہیں۔ یہاں پہاڑی علاقے ہیں، ساحلی علاقے ہیں۔‘
متحدہ عرب امارات میں گزشتہ پندرہ سالوں سے تیندووں کو عام عوام کے سامنے نمائش کے لیے پیش نہیں کیا گیا ہے۔ حالانکہ اس نسل کے تیندوے عمان، سعودی عرب اور یمن میں بھی پائے جاتے ہیں۔
ہنا سیف السعدی کا کہنا ہے کہ ان تیندووں کے تحفظ کے لیے وہ ان تینوں ممالک میں جنگلات کے تحفظ کے لیے کام کرنے والے اداروں سے رابطہ قائم کیے ہوئے ہیں۔

80 سالہ پرانی تصاویر سے دلچسپ اور حیرت انگیز انکشافات۔