Thursday, 28 April 2011

اسے کہنا یہ دنیا ہے


اسے کہنا یہ دنیا ہے

یہاں ہر موڑپر
ایسے بہت سے لوگ ملتے ہیں
جواندر تک اترتے ہیں
ابد تک ساتھ رہنے کی
اکھٹے درد سہنے کی
ہمیشہ بات کرتے ہیں

اسے کہنا یہ دنیا ہے
یہاں ہر شخص مطلب کی
حدوں تک ساتھ چلتا ہے

جونہی موسم بدلتا ہے
محبت کے سبھی دعوے
سبھی قسمیں سبھی وعدے
اچانک ٹوٹ جاتے ہیں

اسے کہنا یہ دنیا ہے
یہاں ہر موڑ پے اپنی
صدا آنکھیں کھلی رکھنا
کوئی کتنا بھی اچھا ہو
کوئی کتنا بھی سچا ہو
تم اعتبار مت کرنا
اُسے کہنا یہ دنیا ہے
یہاں تم پیار مت کرنا۔۔

Rashid Idrees Rana certification validation on ALISON | Microsoft Office 2003

Rashid Idrees Rana certification validation on ALISON | Microsoft Office 2003

Rashid Idrees Rana certification validation on ALISON | Safety and Health in Construction

Rashid Idrees Rana certification validation on ALISON | Safety and Health in Construction

Wednesday, 27 April 2011

ہوا سیٹی بجاتی ہے-----------------------------

ہوا سیٹی بجاتی ہے
چلو چلنے کا وقت آیا

پیڑوں سے پرندے
اڑتے ہیں
کہیں دور مغرب میں
کسی اکیلے جزیرے پر
کسی تنہا جنگل میں
چھپتے ہیں، سمٹتے ہیں

یہ خود نہیں چھپتے،
یہ خود نہیں سمٹتے،
یہ خود نہیں اڑتے،

انہیں ہوا اڑاتی ہے
ہوا سیٹی بجاتی ہے

چند پتے، کسی کی
یاد کا جھونکالئے،
جدا ہوتے ہیں
درختوں سے

یہ خود نہیں اڑتے
انہیں ہوا اڑاتی ہے
ہوا سیٹی بجاتی ہے
چلو چلنے کا وقت آیا۔۔۔




کلام بابا بھُلے شاہ-01

کلام بابا بھُلے شاہ

ويکھ بنديا اسماناں تے اُڈدے پنچھی
ويکھ تے سہی کی کردے نيں
نہ او کردے رزق ذخيرہ
نہ او بھُکھے مردے نيں
کدی کسے نيں پنکھ پکھيرو
بھُکھے مردے ويکھے نيں ؟
بندے ای کردے رزق ذخيرہ
بندے ای بھُکھے مردے نيں

Sunday, 24 April 2011

خدا کرے کہ مری ارض پاک پر اترے

خدا کرے کہ مری ارض پاک پر اترے
وہ فصلِ گل جسے اندیشۂ زوال نہ ہو

یہاں جو پھول کھلے وہ کِھلا رہے برسوں
یہاں خزاں کو گزرنے کی بھی مجال نہ ہو

یہاں جو سبزہ اُگے وہ ہمیشہ سبز رہے
اور ایسا سبز کہ جس کی کوئی مثال نہ ہو

گھنی گھٹائیں یہاں ایسی بارشیں برسائیں
کہ پتھروں کو بھی روئیدگی محال نہ ہو


خدا کرے نہ کبھی خم سرِ وقارِ وطن
اور اس کے حسن کو تشویشِ ماہ و سال نہ ہو

ہر ایک فرد ہو تہذیب و فن کا اوجِ کمال
کوئی ملول نہ ہو کوئی خستہ حال نہ ہو

خدا کرے کہ مرے اک بھی ہم وطن کے لیے
حیات جرم نہ ہو زندگی وبال نہ ہو

رُودادِ محبّت کیا کہئیے کُچھ یاد رہی کچھ بھول گئے

رُودادِ محبّت کیا کہئیے کُچھ یاد رہی کچھ بھول گئے
دو دِن کی مُسرّت کیا کہئیے کُچھ یاد رہی کُچھ بھول گئے

جب جام دیا تھا ساقی نے جب دور چلا تھا محفل میں
اِک ہوش کی ساعت کیا کہئیے کُچھ یاد رہی کُچھ بھول گیے

اب وقت کے نازک ہونٹوں پر مجروح ترنّم رقصاں ہے
بیدادِ مشیّت کیا کہئیے کُچھ یاد رہی کُچھ بُھول گئے

احساس کے میخانے میں کہاں اَب فکر و نظر کی قندیلیں
آلام کی شِدّت کیا کہئیے کُچھ یاد رہی کُچھ بھول گئے

کُچھ حال کے اندھے ساتھی تھے کُچھ ماضی کے عیّار سجن
احباب کی چاہت کیا کہئیے کُچھ یاد رہی کُچھ بھول گئے

کانٹوں سے بھرا ہے دامنِ دِل شبنم سے سُلگتی ہیں پلکیں
پُھولوں کی سخاوت کیا کہئیے کُچھ یاد رہی کُچھ بھول گئے

اب اپنی حقیقت بھی ساغر بے ربط کہانی لگتی ہے
دُنیا کی کی حقیقت کیا کہئیے کُچھ یاد رہی کُچھ بھول گئے

گُل ترا رنگ چرا لائے ہیں گلزاروں میں

گُل ترا رنگ چرا لائے ہیں گلزاروں میں
جل رہا ہوں بھری برسات کی بوچھاروں میں

مجھ سے کترا کے نکل جا مگر اے جانِ جہاں!
دل کی لَو دیکھ رہا ہوں ترے رخساروں میں

مجھ کو نفرت سے نہیں پیار سے مصلوب کرو
میں بھی شامل ہوں محبت کے گنہ گاروں میں

حُسن بیگانۂ احساسِ جمال اچھا ہے
غنچے کھِلتے ہیں تو بِک جاتے ہیں بازاروں میں

ذکر کرتے ہیں ترا مجھ سے بعنوانِ جفا
چارہ گر پھول پرو لائے ہیں تلواروں میں

میرے کِیسے میں تو اک سُوت کی انٹی بھی نہ تھی
نام لکھوا دیا یوسف کے خریداروں میں

رُت بدلتی ہے تو معیار بدل جاتے ہیں
بلبلیں خار لیے پھرتی ہیں منقاروں میں

چُن لے بازارِ ہنر سے کوئی بہروپ ندیمؔ
اب تو فنکار بھی شامل ہیں اداکاروں میں

وہی قصے ہیں وہی بات پرانی اپنی

وہی قصے ہیں وہی بات پرانی اپنی
کون سنتا ہے بھلا رام کہانی اپنی

ہر ستمگر کو یہ ہمدرد سمجھ لیتی ہے
کتنی خوش فہم ہے کمبخت جوانی اپنی

روز ملتے ہیں دریچے میں نئے پھول کھلے
چھوڑ جاتا ہے کوئی روز نشانی اپنی

تجھ سے بچھڑے ہیں تو پایا ہے بیاباں کا سکوت!
ورنہ دریاؤں سے ملتی تھی روانی اپنی!

قحطِ پندار کا موسم ہے سنہرے لوگو!
کچھ تیز کرو اب کے گرانی اپنی

دشمنوں سے ہی اب غمِ دل کا مداوا مانگیں
دوستوں نے تو کوئی بات نہ مانی اپنی

آج پھر چاند افق پر نہیں ابھرا محسن
آج پھر رات نہ گزرے گی سہانی اپنی

سب مایا ہے، سب ڈھلتی پھرتی چھایا ہے

سب مایا ہے، سب ڈھلتی پھرتی چھایا ہے
اس عشق میں ہم نے جو کھویا جو پایا ہے
جو تم نے کہا ہے، فیض نے جو فرمایا ہے
سب مایا ہے

ہاں گاہے گاہے دید کی دولت ہاتھ آئی
یا ایک وہ لذت نام ہے جس کا رسوائی
بس اس کے سوا تو جو بھی ثواب کمایا ہے
سب مایا ہے

اک نام تو باقی رہتا ہے، گر جان نہیں
جب دیکھ لیا اس سودے میں نقصان نہیں
تب شمع پہ دینے جان پتنگا آیا ہے
سب مایا ہے

معلوم ہمیں سب قیس میاں کا قصہ بھی
سب ایک سے ہیں، یہ رانجھا بھی یہ انشا بھی
فرہاد بھی جو اک نہر سی کھود کے لایا ہے
سب مایا ہے

کیوں درد کے نامے لکھتے لکھتے رات کرو
جس سات سمندر پار کی نار کی بات کرو
اس نار سے کوئی ایک نے دھوکا کھایا ہے
سب مایا ہے

جس گوری پر ہم ایک غزل ہر شام لکھیں
تم جانتے ہو ہم کیونکر اس کا نام لکھیں
دل اس کی بھی چوکھٹ چوم کے واپس آیا ہے
سب مایا ہے

وہ لڑکی بھی جو چاند نگر کی رانی تھی
وہ جس کی الھڑ آنکھوں میں حیرانی تھی
آج اس نے بھی پیغام یہی بھجوایا ہے
سب مایا ہے

جو لوگ ابھی تک نام وفا کا لیتے ہیں
وہ جان کے دھوکے کھاتے، دھوکے دیتے ہیں
ہاں ٹھوک بجا کر ہم نے حکم لگایا ہے
سب مایا ہے

جب دیکھ لیا ہر شخص یہاں ہرجائی ہے
اس شہر سے دور ایک کُٹیا ہم نے بنائی ہے
اور اس کُٹیا کے ماتھے پر لکھوایا ہے
سب مایا ہے

دنیا کا کچھ برا بھی تماشا نہیں رہا

دنیا کا کچھ برا بھی تماشا نہیں رہا
دل چاہتا تھا جس طرح ویسا نہیں رہا
تم سے ملے بھی ہم تو جدائی کے موڑ پر
کشتی ہوئی نصیب تو دریا نہیں رہا
کہتے تھے ایک پل نہ جیئیں گے ترے بغیر
ہم دونوں رہ گئے ہیں وہ وعدہ نہیں رہا
کاٹے ہیں اس طرح سے ترے بغیر روز و شب
میں سانس لے رہا تھا پر زندہ نہیں رہا
آنکھیں بھی دیکھ دیکھ کے خواب آ گئی ہیں تنگ
دل میں بھی اب وہ شوق، وہ لپکا نہیں رہا
کیسے ملائیں آنکھ کسی آئنے سے ہم
امجد ہمارے پاس تو چہرہ نہیں رہا

سحر کے ساتھ ہی سورج کا ہمرکاب ہوا

سحر کے ساتھ ہی سورج کا ہمرکاب ہوا
جو اپنے آپ سے نکلا وہ کامیاب ہوا
میں جاگتا رہا اک خواب دیکھ کر برسوں
پھر اس کے بعد مرا جاگنا بھی خواب ہوا
میں زندگی کے ہر اک مرحلے سے گزرا ہوں
کبھی میں خار بنا اور کبھی گلاب ہوا
سمندروں کا سفر بھی تو دشت ایسا تھا
جسے جزیرہ سمجھتے تھے اک سراب ہوا
وہ پوچھتا تھا کہ آخر ہمارا رشتہ کیا
سوال اس کا مرے واسطے جواب ہوا
ہماری آنکھ میں دونوں ہی ڈوب جاتے ہیں
وہ آفتاب ہوا یا کہ ماہتاب ہوا
نہ اپنا آپ ہے باقی نہ سعد یہ دنیا
یہ آگہی کا سفر تو مجھے عذاب ہوا

Saturday, 23 April 2011

معین اختر__یوم پیدائیش 24 دسمبر 1950 - یوم وفات 22 اپریل 2011



معین اختر__یوم پیدائیش 24 دسمبر 1950 - یوم وفات 22 اپریل 2011
=====================

معین اختر پاکستان ٹیلیوژن، اسٹیج اور فلم کے ایک مزاحیہ اداکار اور میزبان ہیں۔ اسکے علاوہ وہ بطور فلم ہدائتکار، پروڈیوسر، گلوکار اور مصنف کام کر چکے ہیں۔

پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی سے تعلق رکھنے والے معین اختر نے پاکستان ٹیلی ویژن پر اپنے کام کا آغاز 6 ستمبر 1966ء کو پاکستان کے پہلے یوم دفاع کی تقریبات کے لیے کیے گئے پروگرام سے کیا۔ جس کے بعد انہوں نے کئی ٹی وی ڈراموں، سٹیج شوز میں کام کرنے کے بعد انور مقصود اور بشرہ انصاری کے ساتھ ٹیم بنا کر کئی معیاری پروگرام پیش کیے۔

انہوں نے کئی زبانوں میں مزاحیہ اداکاری کی ہے جن میں انگریزی، سندھی، پنجابی، میمن، پشتو، گجراتی اور بنگالی کے علاوہ کئی دیگر زبانیں شامل ہیں اور اردو میں انکا کام انکو بچے بڑے، ہر عمر کے لوگوں میں یکساں مقبول بناتا ہے۔ انہیں انکے کام کے اعتراف میں حکومت پاکستان کی طرف سے پرائڈ آف پرفارمنس اور ستارہ امتیاز سے نوازہ گیا ہے۔


6 ستمبر 1966 دفاع پاکستان کے موقع پر ایک ورائیٹی شو میں لوگوں کے دل موہ لینے والا وہ نوجوان جس نے اس دن اپنے کیرئیر کا آغاز کیا۔ اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے وہ لوگوں کے دلوں پر چھا گیا۔ اس نے جو بھی کیا جیسا بھی کیا کبھی ایسا نہیں ہوا کے اسکو سراہا نا گیا ہو یا کبھی اس کو داد دینے میں کسی نے کسر نفسی کی ہو، وہ لوگوں کے دل موہ لینے والا انسان تھا۔ وقت کے ساتھ ساتھ اس خوبصورت آواز اور پر اثر شخصیت کے حامل شخص نے نا صرف پاکستان بلکہ ہر اس جگہ جہاں لوگوں کو ایک لفظ بھی اردو کا سمجھ آتا تھاسب کے دلوں پر اپنی حکومت قائم کر لی۔

اور یہ کہنا بے جا نا ہو گا کہ اس کا شمار ان چند لوگوں میں ہوتا ہے جنھوں نے اپنی زندگی اور اپنے کیرئیر میں بہت عزت دار اور محتاط طریقے سے ترقی کی اور شہرت کے عروج کو چھوا، اس شخص کی زندگی کی آخری سانس تک وہ ایک ایسا چراغ تھا جس کی روشنی بہت سے دلوں تک پہنچتی تھی، آج وہ شخص اس دنیا سے رخصت ہو گیا ہے اور کسی شاعر نے ایسے ہی لوگوں کے بارے میں کیا خوب کہا ہے کہ:

بچھڑا کچھ اس ادا سے
کہ رت ہی بدل گئی
اک شخص
سارے شہر کو ویران کر گیا

تاریخ کے آئینے میں معین اختر مرحوم کا کام کچھ یوں ہے۔
=====================
ٹیلی وژن پر ان کے مشہور ڈرامے


روزی
ڈالر مین
مکان نمبر 47
ہالف پلیٹ
فیملی 93
عید ٹرین
بندر روڈ سے کیمار
سچ مچ
آنگن ٹیڑھا


جن پروگرامز میں وہ میزبان تھے
=====================
سٹوڈیو ڈھائی
سٹوڈیو پونے تین
بہت مشہور تھے اور وجہ شہرت تھی ان پروگرامز میں اہم شخصیات کی شرکت
جن میں
شام کے بادشاہ حسین،
جمہوریہ گیمبیا کے وزیر اعظم داودی الجوزہ،
صدر مملکت جناب جنرل ضیاء الحق شہید
وزیر اعظم ذولفقار علی بھٹو شہید
صدر مملکت جنرل یحیٰ مرحوم
اور صدرمملکت غلام اسحاق خان مرحوم شامل تھے۔

=====================









Thursday, 14 April 2011

~A very Little Prayer~

~A Very Little Prayer~


Oh GOD!

Give me a very happy Life

With eleven kids and a stylish wife


I only need a ten-canal bungalow

With a little garden where streams flow


For me a BMW will be the best

Five VTI’s will de for the rest


Jobs like customs or DMG suits me

There is no other duty which can fruit me


For a change, green card is necessary

It’s the day’s need, not an accessory


I assure you I will give my Zakat

Never will I miss a single Rakat


My content does not allow me to asking for more

Because you are also GOD of millions more

Wednesday, 13 April 2011

عورت عورت ہوتی ہے


سعد اللہ شاہ----غزل------1


یہ مملکت تو سبھی کی ہے خواب سب کا ہے


آج اغیار کے تیروں سے بدن پر میر ے


میں دل پہ جبر کروں گا ، تجھے بھلا دوں گا


ہم سے مت پوچھ راستے گھر کے


شامل مرا دشمن صف یاراں میں رہے گا


اک دیا دل میں جلانا بھی ، بجھا بھی دینا


تجھے اداس بھی کرنا تھا خود بھی رونا تھا


وفا میں اب یہ ہنر اختیار کرنا ہے


آہٹ سی ہوئی تھی نہ کوئی برگ ہلا تھا


منسوب تھے جو لوگ مری زندگی کے ساتھ


!!!!Burn The Candles!!!!!


(for the Special people, who really need our Care and Love)
A message for All Muslims, for All Pakistani's around the Earth............................

Burn the Candles,
To spread the lights,
Hold your heart,
Take a breath,
Give a Love to every one
It's your need,
It's indeed,
Some one is waiting
To listen some words,
full with care
wrap with fare,
Give them prayer,
Give them Care,
Don't be afraid
Burn the Candles
Spread the Light !.!.!.!.!.!.!

ریشم زلفوں ، نیلم آنکھوں والے اچھے لگتے ہیں

نہیں دیکھا

بچھڑا ہے جو اک بار

تو ملتے نہیں دیکھا

اس زخم کو ہم نے

کبھی سلتے نہیں دیکھا

اک بار جسے چاٹ گئی

دھوپ کی خواہش

پھر شاخ پہ اس پھول کو

کھلتے نہیں دیکھا

یک لخت گرا ہے تو

جڑیں تک نکل آئیں

جس پیڑ کو آندھی میں بھی

ہلتے نہیں دیکھا

کس طرح مری روح

ہری کر گیا آخر

وہ زہر جسے

جسم میں کھلتے نہیں دیکھا۔

شعر سخن