Wednesday, 30 May 2012

بہت بہت مبارکاں: جناب خرم شہزاد خرم صاحب کو!!!!!


موبائل فون پر ایس ایم ایس کو نوید سنتےہیں مجھے لگا کہ شاید میرے کانوں نے دھوکا کھایا ہے، کیوں کہ میرے موبائل پر یو اے ای میں ایس ایم ایس ایسے ہی ہے جیسے بیچ صحرا میں آپ کو اچانک پانی کا چشمہ نظر آجائے۔ بڑی حسرت ہی رہتی ہے کہ فون پر ایس ایم ایس ہی آجائے، تو چلے اس فون کا اپنے ساتھ ہونے کا کچھ یقین ہو جائے۔

بہرحال ایک نا معلوم نمبر سے انتہائی خوشی کی ایک خبر تھی

کہ ::::

ماشاء اللہ، اللہ نے چاند سی بیٹی عطاء کی ہے۔

بہت اچھی خبر لیکن نا بندے کا نام معلوم تھا نا ہی نمبر محفوظ تھا کہ پتہ چلتا کس کا ایس ایم ایس ہے، میرا ذہن فوری طورپر تمام دوست احباب کو ڈھونڈنے لگا کہ کون ہو سکتا ہے? پھر فون اٹھایا اور ایک اور دوست کو بتایا ، بلکہ پوچھا شاید اس کے پاس بھی میسج آیا ہو۔ لیکن اس کا جواب نفی میں تھا، اب تجسس اور جاگا کہ یہ تو کوئی قریبی جاننے والا ہے جو صرف مجھے جانتا ہے۔ دوست کو کہا کہ ذرا فون کر کے چیک کرنا۔

اس نے فوری فون ملایا اور تھوڑی دیر بعد ہی میری لائن پر انٹرنیشنل لائن ٹرانسفر کر دی، سلام ادا کرتے ہی:::::::::::::::::::::::::::::

دل خوشی سے اچھلنے کو تھا اور آنکھیں مسرت سے آشک بار

جی دوسری طرف اپنے شہزادے یعنی خرم شہزاد خرم صاحب تھے، اعلٰی حضرت نے یہ خبر دوبارہ سنائی تو دل کو اور بھی خوشی محسوس ہوئی۔

ماشاء اللہ ، بیٹی اللہ کی ایک بہت بڑی نعمت ہے اور جنت کا ایک وسیلہ بھی۔

تو بھائیو!! خرم بھائی کی خوشی میں سب شریک ہوں، جن کے پاس ان کا پاکستان کا نمبر نہیں وہ مجھ سے لے سکتا ہے ورنہ انکی اپنی ویب سائیٹ "نوائے ادب" بھی موجود ہے۔

ان کو میری طرف سے اور میرے ساتھ وہ سب احباب جو اس پیارے سے انسان کو جانتے ہیں اور بہت یاد کرتے ہیں سب کی طرف سے بہت بہت  "مبارکاں" تے مٹھائی ادھار، انشاء اللہ

Tuesday, 29 May 2012

رب دلاں وچ رہندا::::بلھے شاہ

 
 نہ کر بندیا میری میری
نہ   تیری    نہ    میری
چار    دناں    دا    میلہ
دنیا فیر مٹی دی ڈھیری
مندر ڈھا دے مسجد ڈھا دے
ڈھا   دے   جو   کجھ ڈھیندا
اک  بندے  دا  دل نہ ڈھاویں
رب   دلاں   وچ   رہندا

منتخب تحریر زاویہ از اشفاق احمد

 اشفاق احمد زاویہ  منتخب تحریر
بغداد میں ایک نوجوان تھا - وہ بہت خوبصورت تھا ، اور اس کا کام نعل سازی تھا - وہ نعل بناتا بھی تھا اور گھوڑے کے سموں پر چڑھاتا بھی تھا -
نعل بناتے وقت تپتی بھٹی میں سرخ شعلوں کے اندر وہ نعل رکھتا اور پھر آگ میں اسے کسی " جمور " یا کسی اوزار کے ساتھ نہیں پکڑتا تھا بلکہ آگ میں ہاتھ ڈال کے اس تپتے ہوئے شعلے جیسے نعل کو نکال لیتا اور اپنی مرضی کے مطابق اسے (shape) شکل دیتا تھا -
لوگ اسے دیکھ کر دیوانہ کہتے اور حیران بھی ہوتے تھے کہ اس پر آگ کا کوئی اثر نہیں ہوتا -

وہاں موصل شہر کا ایک شخص آیا جب اس نے ماجرا دیکھا تو اس نے تجسس سے اس نوجوان سے پوچھا کہ اسے گرم گرم لوہا پکڑنے سے کیوں کچھ نہیں ہوتا ؟
اس نوجوان نے جواب دیا کہ وہ جلدی میں لوہے کو اٹھا لیتا ہے اور اب اس پر ایسی کیفیت طاری ہو گئی ہے کہ میرا ہاتھ اسے برداشت کرنے کا عادی ہوگیا ہے -
اور اسے کسی جمور یا پلاس کی ضرورت نہیں پڑتی -
اس شخص نے کہا کہ میں اس بات کو نہیں مانتا " یہ تو کوئی اور ہی بات ہے - "
اس نے نوجوان سے کہا کہ مجھے اس کی حقیقت بتاؤ ؟

اس نوجوان نے بتایا کہ بغداد میں ایک نہایت حسین و جمیل لڑکی تھی اور اس کے والدین عمرے کے لیے گئے ، اور کسی حادثے کا شکار ہو کے وہ دونوں فوت ہو گئے - اور یہ لڑکی بے یار و مددگار اس شہر میں رہنے لگی -

وہ لڑکی پردے کی پلی ہوئی ، گھر کے اندر رہنے والی لڑکی تھی اب اس کو سمجھ نہیں آتی تھی کہ زندگی کیسے گزارے -
آخر کار نہایت غمزدہ اور پریشانی کی حالت میں وہ باہر سڑک پر نکل آئی -
اس نے میرے دروازے پر دستک دی اور کہا " کیا ٹھنڈا پانی مل سکتا ہے "
میں نے کہا ہاں اور اندر سے اس لڑکی کو ٹھنڈا پانی لا کر پلایا اور اس لڑکی نے کہا خدا تمہارا بھلا کرے -

میں نے اس سے پوچھا کیا تم نے کچھ کھایا بھی ہے کہ نہیں ؟
اس لڑکی نے کہا نہیں میں نے کچھ نہیں کھایا -

میں نے اس سے اکیلے اس طرح پھرنے کی وجہ پوچھی تو اس لڑکی نے اپنے اوپر گزرا سارا واقعہ سنایا اور کہا کہ مجھے سمجھ نہیں آتی میں زندگی کیسے بسر کروں -
میں نے اس سے کہا کہ تم شام کو یہیں میرے گھر آجانا اور میرے ساتھ کھانا کھانا - میں تمھیں تمہاری پسند کا ڈنر کھلاونگا وہ لڑکی چلی گئی -

اس نوجوان نے بتایا کہ میں نے اس کے لیے کباب اور بہت اچھی اچھی چیزیں تیار کیں وہ شام کے وقت میرے گھر آگئی اور میں نے کھانا اس کے آگے چن دیا -
جب اس لڑکی نے کھانے کے لیے ہاتھ بڑھایا تو میں نے دروازے کی چٹخنی چڑھا دی اور میری نیت بدل گئی کیوں کہ وہ انتہا درجے کا ایک آسان موقع تھا - جو میری دسترس میں تھا -

جب میں نے دروازے کی چٹخنی چڑہائی تو اس لڑکی نے پلٹ کر دیکھا اور اس نے کہا کہ میں بہت مایوس اور قریب المرگ اور اس دنیا سے گزر جانے والی ہوں -
اس نے مزید کہا " اے میرے پیارے بھائی تو مجھے خدا کے نام پر چھوڑ دے "

وہ نوجوان کہنے لگا میرے سر پر برائی کا بھوت سوار تھا - میں نے اس سے کہا کہ ایسا موقع مجھے کبھی نہیں ملے گا میں تمھیں نہیں چھوڑ سکتا -
اس لڑکی نے مجھے کہا کہ
" میں تمھیں خدا اور اس کے رسول کے نام پردرخواست کرتی ہوں کہ میرے پاس سوائے میری عزت کے کچھ نہیں ہے اور ایسا نہ ہو کہ میری عزت بھی پامال ہو جائے اور میرے پاس کچھ بھی نہ بچے اور پھر اس حالت میں اگر میں زندہ بھی رہوں تو مردوں ہی کی طرح جیئوں "

اس نوجوان نے بتایا کہ لڑکی کی یہ بات سن کرمجھ پر خدا جانے کیا اثر ہوا ، میں نے دروازے کی چٹخنی کھولی اور دست بستہ اس کے سامنے کھڑا ہوگیا اور کہا کہ

" مجھے معاف کر دینا میرے اوپر ایک ایسی کیفیت گزری تھی جس میں میں نبرد آزما نہیں ہو سکا تھا لیکن اب وہ کیفیت دور ہو گئی ہے تم شوق سے کھانا کھاؤ اور اب سے تم میری بہن ہو - "

یہ سن کر اس لڑکی نے کہا کہ

" اے الله میرے اس بھائی پر دوزخ کی آگ حرام کر دے - "

یہ کہ کر وہ رونے لگی اور اونچی آواز میں روتے ہوئی کہنے لگی کہ

" اے الله نہ صرف دوزخ کی آگ حرام کر دے بلکہ اس پر ہر طرح کی آگ حرام کر دے - "

نوجوان نے بتایا کہ لڑکی یہ دعا دے کر چلی گئی - ایک دن میرے پاس زنبور (جمور) نہیں تھا اور میں دھونکنی چلا کر نعل گرم کر رہا تھا میں نے زنبور پکڑنے کے لیے ہاتھ بڑھایا تو وہ دہکتے ہوئے کوئلوں میں چلا گیا لیکن میرے ہاتھ پر آگ کا کوئی اثر نہ ہوا -

میں حیران ہوا اور پھر مجھے اس لڑکی کی وہ دعا یاد آئی اور تب سے لے کر اب تک میں اس دہکتی ہوئی آگ کو آگ نہیں سمجھتا ہوں بلکہ اس میں سے جو چاہے بغیر کسی ڈر کے نکال لیتا ہوں

نجات کا راستہ:::::::::ایک منتخب تحریر


وہ گرمیوں کی ایک تپتی دوپہر تھی۔ دفتر سے میں نے چھٹی لی ہوئی تھی ، کیونکہ گھر کے کچھ ضروری کام نمٹانے تھے۔ میں بچوں کو کمپیوٹر پر گیم کھیلنا سکھا رہا تھا کہ باہر بیل بجی۔ کافر دیر کے بعد دوسری بیل ہوئی تو میں نے جا کر دورازہ کھولا۔ سامنے میری ہی عمر کے ایک صاحب کھڑے تھے۔

...السلام علیکم ۔۔۔۔! انہوں نے نہایت مہذب انداز میں سلام کیا۔ پہلے تو میرے ذہن میں خیال گزرا یہ کوئی چندہ وغیرہ لینے والے ہیں۔ ان کے چہرے پر داڑھی خوب سج رہی تھی، اور لباس سے وہ چندہ مانگنے والے ہر گز نہیں لگ رہے تھے۔ جی فرمایئے ، میں نے پوچھا۔ آپ طاہر صاحب ہے؟ ’’جی‘‘ میں نے مختصر جواب دیا۔ وہ مجھے رفیق صاحب نے بھیجا ہے۔ غالباً آپ کو کرائے دار کی ضرورت ہے۔ ہاں ہاں۔۔۔ مجھے اچانک یاد آیا کہ میں نے دفتر کے ایک ساتھ طاہر کو بتایا تھا کہ میں نے اپنے گھر کا اوپر والا پورشن کرائے پر دینا ہے اگر کوئی نیک اور چھوٹی سی فیملی اس کی نظر میں ہو تو بتائے۔ کیونکہ دفتر کی تنخواہ سے خرچے پورے نہیں ہوتے۔ مجھے افسوس ہوا کہ میں نے اتنی دھوپ میں کافی دیر اسے باہر کھڑا رکھا۔

اسے چھ مال کے لیے مکان کرائے پر چاہیے تھا۔ کیونکہ اپنا مکان وہ گرا کر دوبارہ تعمیر کروا رہے تھے۔ میں نے تین ہزار کرایہ بتایا۔ لیکن بات دو ہزار پر پکی ہوگئی۔ وہ چلا گیا تو مجھے افسوس ہونے لگا کہ کرایہ کچھ کم ہے۔ گواو پر صرف ایک چھوٹا سا کمرہ، کچن اور باتھ روم تھا۔ مجھے اپنی بیوی کا دھڑکا لگا ہوا تھا کہ اسے معلوم ہوگا تو کتنا جھگڑا ہوگا۔ اور وہی ہوا۔ بقول اس کے دو ہزار تو صرف بچوں کی فیس ہے۔ مجھے اس نے کافی برا بھلا کہا اور میں چپ چاپ سنتا رہا، اور اپنی قسمت کو کوستا رہا ۔ میں نے ایم ایس سی بہت اچھے نمبروں سے کیا تھا۔ اس لیے فوراً نوکری مل گئی، نوکری ملی تو شادی بھی فوراً ہوگئی۔
میری بیوی بھی بہت پڑھی لکھی تھی۔ وہ بھی ایک انگریزی اسکول میں پڑھاتی تھی، ہمارے تین بچے تھے۔ مگر گزارا مشکل سے ہوتا تھا۔

اگے ہی دن وہ صاحب اور ان کے بیوی بچے ہمارے گھر شفٹ ہوگئے۔ ان کی بیوی نے مکمل شرعی پردہ کیا تھا۔ دونوں بڑے بچے بہت ہی مہذب اور خوبصورت تھے۔ چھوٹا گود میں تھا۔ کچھ دنوں کے بعد ایک دن میں دفتر سے آیا تو میری بیوی نے بتایا کہ میں نے بچوں کو کرائے دار خاتون سے قرآن مجید پڑھنے کے لیے بھیج دیا کرنا ہے۔‘‘ اچھا پڑھاتی ہیں، ان کے اپنے بچے اتنی خوبصورت تلاوت کرتے ہیں۔

کچھ دنوں بعد جب میں نے ان کے ایک بیٹے سے تلاوت سنی تو پہلی مرتبہ میرے دل میں خواہش ابھری کہ کاش ہمارے بچے بھی اتنا اچھا قرآن مجید پڑھیں۔ ایک دن میں بہار جانے لگا تو اپنی بیوی سے پوچھ ہی لیا کہ وہ بارلر جائے گی تو لیتا چلوں۔ کیونکہ پہلے تو دو مہینے میں تین چار مرتبہ پارلر جاتی تھی اور اس مہینے میں ایک بار بھی نہیں گئی تھی۔
اس نے جواب دیا کہ پارلر فضول خرچی ہے۔ جتنی خوبصورتی چہرے پر پانچ بار وضو کرنے اور نماز اور تلاوت سے آتی ہے کسی چیز سے نہیں آتی۔ اگر زیادہ ضرورت ہو تو گھریلو استعمال کی چیزوں سے ہی چہرے پر نکھار رہتا ہے۔

ایک روز میں کیبل پر ڈرامہ دیکھ رہا تھا تو میرے چھوٹے بیٹے نے میرے بغیر پوچھے ٹی وی بند کر دیا اور میرے پاس آکر بیٹھ گیا۔ بابا یہ بیکار مشغلہ ہے۔ میں آپ کو اپنے نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک واقعہ سناؤں۔ مجھے غصہ تو بہت آیا لیکن اپنے بیٹے کی زبان جب واقعہ سنا تو میرا دل بھر آیا۔ یہ تمہیں کس نے بتایا میں نے پوچھا۔ ہماری استانی محترمہ نے۔۔۔ وہ قرآن مجید پڑھانے کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام کے متعلق بتاتی ہیں۔ اپنے گھر کی اور بیوی بچوں کی تیزی سے بدلتی حالت دیکھ کر میں حیران ہو رہا تھا کہ ایک روز بیوی نے کہا کہ کیبل کٹوادیں۔ کوئی نہیں دیکھا اور ویسے بھی فضول خرچی اور اوپر سے گناہ ہے۔ چند روز بعد بیوی نے شاپنگ پر جانے کو کہا تو میں بخوشی تیار ہو گیا، اس نے کافی دنوں بعد شاپنگ کا کہا تھا ورنہ پہلے تو آئے دن بازار جانا رہتا تھا۔ کیا خریدنا ہے؟ میں نے پوچھا۔
’’برقعہ‘‘
کیا؟؟ میں ہنسا تو وہ بولی’’ پہلے میں کتنے ہی غیر شرعی کام کرتی تھی، آپ نے کبھی مذاق نہیں اڑایا تھا، اب اچھا کام کرنا چاہتی ہوں تو آپ کو مذاق سوجھ رہا ہے۔‘‘ میں کچھ نہ بولا۔ پھر چند دن بعد اس نے مجھے کافی سارے پیسے دیئے اور کہا فریج کی باقی قیمت ادا کر دیں۔ تاکہ مزید قسطیں نہ دینی پڑیں۔ اتنے روپوں کی بچت کیسے ہوگئی۔ بس ہو گئی،وہ مسکرائی جب انسان اللہ کے بتائے ہوئے احکام پر چلنے لگے تو برکت خود بخود ہو جاتی ہے۔

’’یہ بھی وہ کرائے دار خاتون بتایا ہے‘‘ میں نے پوچھا تو وہ کھل کھلا کر ہنس دی۔ سکون میرے اندر تک پھیل گیا۔میری بیوی اب نہ مجھ سے کبھی لڑی، نہ شکایت کی۔ بچوں کو وہ گھر میں پڑھا دیتی ہے۔ خود بچوں کے ساتھ قرآن مجید تجوید سے پڑھنا سیکھ رہی تھی وہ خود نماز پڑھنے لگی تھی، اور بچوں کو سختی سے نماز پڑھوانے بھیجتی۔

مجھے احساس ہونے لگا کہ نجات کا راستہ یہی تو ہے۔ پیسہ آرائش اور سکون نہیں دیتا۔ اطمینان تو بس اللہ کی یاد میں ہے۔ مجھے اس دن دو ہزار کرایہ تھوڑا لگ رہا تھا، آج سوچتا ہوں تو لگتا ہے کہ وہ تو اتنا زیادہ تھا کہ آج میرا گھر سکون بھر گیا ہے۔ نیک بیوی نعمت ہے۔ یہ میں آج سمجھتا ہوں

پاکستان کے انتہاءی مطلوب دہشت گرد::::::::::امریکی ڈرون کا شکار


مندرجہ با لا تصویر میں پاکستان کے قباءلی علاقوں میں موجود انتہاءی مطلوب دہشت گرد جو کہ امریکی ڈرون کا شکار ہوءے ملاحظہ فرماءیں اس تصویر میں۔


جادو ٹونا کرنا یا کرانا یا اس پر یقین رکھنا جہنم کا راستہ ہے ، کفر ہے۔


ازواج مطہرات سے روایت ہے

 نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
جس نے کسی عراف(نجومی،قیافہ شناس) کے پاس جا کر اس سے کسی چیز کے بارے میں سوال کیا تو اس کی چالیس رات (یعنی دنوں) کی نمازیں قبول نہیں ہوتی.

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے
  نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
جس نے کسی نجومی یا کاہن کے پاس جاکر اس کی باتوں کی تصدیق کی تو اس نے اس دین کے ساتھ کفر کیا جو محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر اتارا گیا۔
(مسند احمد: 2/ 429، و المستدرک للحاکم:1/ 8 و سنن الکبری للبیھقی:8/ 135)

ہاں شام جل رہا ہے اور ہم چپ ہیں::::::::افسوس

 ایک دکھی اور زخموں سے بھرپور تحریر

Muhammad Abid



دجالی پاکستانی میڈیا کو سب کچھ نظر آ جاتا ہے.
ہر چیز پے نظر رکھتا ہے .
کسی مراسی کی موت ہو یا کسی کوٹھے والی کا ابٹن.
کسی بھانڈ کا ولیمہ ہو یا کسی طوائف کی طلاق.
کسی ناکام کرکٹر کی شادی ہو یا کسی اوسط درجے کے ٹینس کھلاڑی کا لباس.
کسی کنجری کا افئیر ہو یا کسی بازاری کا ٹھمکا.
صرف نظر نہیں آتا تو
مسلمان نظر نہیں آتے
اسلام نظر نہیں آتے
رافضی بشرالاسد قصائی کے ہاتھوں ذبح ہونے والے سنی بچے نظر نہیں آتے.
شام کی معصوم سنی عورتیں نظر نہیں آتی جن کی عصمتوں کولوٹا جا رہا ہے.
شام کے وہ نوجوان نظر نہیں آتے جنکا قصور یہ ہے کے وہ رافضی نہیں،جنکا قصور یہ ہے کے وہ عمر فاروقؓ اور خالد بن ولیدؓ کے پیار کرنے والے ہیں.
 
یہ تصویر
شام کے سنی اکثریتی شہر ہوما کی ہے جس کو رافضی فوجوں نے پامال کر کے کربلا کا منظر دہرا دیا. ابن سبا اور کوفیوں کی اولاد بشارالاسد نے سنیوں کا وہ قتل عام کیا ہے جس پے نازی جرمنی کا ہٹلر بھی شرما رہا ہوگا.
اے پاکستان کے مسلمان.
تمہاری دجالی نام نہاد قومی میڈیا نے تو سب سے پہلے پاکستان کا کفریہ
نعرہ بلند کر کے شامی مسلمانوں کے قتل عام پے اپنی آنکھیں بند رکھی ہی ہیں.
لیکن تم تو دجالی میڈیا کے مکر میں نہ آو.اور دنیا کو بتا دو کے شام کے مسلمانوں پے کیا "کرب و بلا" بیت رہی ہے.
اگر آپ پاکستان کے دجالی میڈیا کے ساتھ نہیں تو اس تصویر کو اتنا شیئر کریں کے ہمارا پیغام شام کے ان مسلمان بہن بھائیون تک پہنچ جائے اور وہ جان سکیں کے پاکستان میں ابھی تک مسلمان اور اسلام زندہ ہے اور امت کا درد رکھنے والے آج بھی زندہ ہی

لکڑی کا بیل”””””بچپن کی یادیں””””””

لکڑی کا بیل 

اپنی ننھی سی انگلی سے اس نے بٹن آن کیا۔ بیٹری والی کار چلنے لگی۔جہاں رکاوٹ ہوتی، کار ذرا سا رُک کر، واپس ہوتی اور پھر کسی دوسرے رخ چل پڑتی۔ اب وہ اس شور مچاتی کار کو روکنا چاہتا تھا لیکن اس سے بٹن آف نہیں ہو رہا تھا۔ وہ اسے پکڑ کر میرے پاس لے آیا اور اس زبان میں جسے صرف وہ سمجھتا تھا اور فرشتے، مجھے بند کرنے کےلئے کہا اور میں نے بیٹری کا بٹن آف کر د یا۔

لیکن ڈیڑھ سالہ پوتے کے ساتھ کھیلتے ہوئے میں کہیں اور جا پہنچا تھا۔ مجھے لکڑی کا بیل یاد آ رہا تھا۔ لکڑی کا وہ بیل جو مجھے میرے نانا اور ماموں نے بنوا کر دیا تھا اور جو میرے ننھیالی گاﺅں بکھوال کے ترکھان نے بنایا تھا۔ میں اپنے نانا نانی کا پہلا نواسہ تھا۔اس وقت ان کا پوتا بھی نہیں پیدا ہوا تھا۔ میں وی آئی پی تھا اور وی آئی پی کی پہلی نشانی یہ ہوتی تھی کہ گاﺅں کے ترکھان سے، جسے سرکھجانے کی فرصت نہیں ہوتی تھی ،  خصوصی طور پر لکڑی کا بیل بنوایا جاتا تھا۔ بیل کے پیچھے ننھا سا چھکڑا تھا۔ نیچے پہیے لگے ہوئے تھے۔ آگے رسی تھی اور میں اسے صحن بھر میں بھگاتا پھرتا تھا۔

ستائیس سال کے بعد میرا بیٹا پیدا ہوا تو میں اسلام آباد میں تھا اور سول سروس میں تھا۔ کھلونوں کے ڈھیر لگ گئے لیکن میری سوئی وہیں اٹکی ہوئی تھی۔ گاﺅں ماموں کو خط لکھا کہ اسرار کےلئے لکڑی کا بیل بنوا کر بھیجیں۔ کہنے لگے یار، وہ ترکھان مر کھپ گئے۔ آج کل بیل کون بنواتا ہے۔ میں نے ضد کی۔ میں بیٹے کو اس عیاشی سے محروم نہیں رکھنا چاہتا تھا ۔چنانچہ لکڑی کا بیل بن کر آیا اور اسرار اس سے کھیلا۔

اسرار کے ڈیڑھ سالہ بیٹے نے اپنی کار کی بیٹری مجھ سے بند کروائی تو مجھے پہلے تو لکڑی کا بیل یاد آیا اور پھر اسکے بعد بہت کچھ اور یاد آیا اور یاد آتا چلا گیا۔ اسکے پاس وہ سارے کھلونے ہیں جو کسی بچے کے پاس ہو سکتے ہیں۔ اسکی دادی‘ چاچوں، پھپھیوں‘ مامے، اور اسکے چین نژاد نانا اور نانی کے دیئے ہوئے کھلونوں سے اس کا کمرہ بھرا پڑا ہے اور چھلک رہا ہے لیکن مجھے اس پر ترس آ رہا ہے۔ پاکستان میں اس کا ضدی، روایت پرست دادا، کسی نہ کسی طرح لکڑی کا بیل بنوا لیتا لیکن یہ تو میلبورن ہے۔ ترکھان ڈھونڈوں تو کیسے ڈھونڈوں اور کہاں سے ڈھونڈوں؟

لکڑی کا بیل تو صرف ایک لگژری ہے جس سے یہ بچہ محروم ہے۔ عیاشی اور تفریح کا ایک جہان ہے جسے یہ نہیں حاصل کر سکتا اور جس میں اس کا خوش قسمت دادا خوشیوں کے ہلکورے لیتا رہا۔ رات کو دودھ والی چاٹی میں نانی یا دادی تنور کی روٹی کا ایک بڑا سا ٹکڑا ڈال دیتی تھیں۔ صبح یہ نرم ہو چکا ہوتا تھا اور مٹی کے بڑے سے پیالے میں دہی کے ساتھ ملتا تھا اور مزے لے لے کر کھایا جاتا تھا ۔ پھر تھوڑی دیر کے بعد چینی ملا میٹھا ادھ رِڑکا دیا جاتا تھا۔ روٹی پر مکھن کا بڑا سا پیڑا ہوتا تھا۔ ساتھ شکر ہوتی تھی اور لسی اور یہ گاﺅں کی اپر کلاس کا کھانا تھا! رات کی بچی ہوئی کھیر، مٹی کی پلیٹ میں جو ٹھنڈک بھرا ذائقہ دیتی تھی، اسکے بعد کہیں نہیں ملا۔

سہ پہر کو ٹوکری میں چنے یا مکئی کے دانے ڈال کر بھٹیارن کے پاس جا کر بھنواتے تھے۔ یہ SNACKS آج میرے پوتے کے نصیب میں کہاں! کوئی فاسٹ فوڈ، کوئی چاکلیٹ، بھٹیارن کے بھُنے ہوئے دانوں کا نعم البدل نہیں ہو سکتا۔ دوپہر کو جب دادی سوئی ہوتی تھیں تو چھپر میں گھڑونجی کے نیچے، ٹھنڈی گیلی ریت پر پڑی، کڑھے ہوئے دودھ سے بھری دیگچی میں سے بالائی اتار کر کھانے کا کیا لطف تھا اور چونکہ یہ واردات چوری کی ہوتی تھی اس لئے اس کا لطف دوبالا ہو جاتا تھا۔

کیا آج میں اپنے پوتے اور نوا سی کو قائل کر سکتا ہوں کہ اس وقت ریفریجریٹر کا نام و نشان نہ تھا۔ جو گوشت پکنے سے بچ جاتا تھا اسے محفوظ رکھنے کی ایک ہی صورت تھی کہ صحن کے درمیان میں کپڑے سکھانے والی تار کے ساتھ باندھ کر لٹکا دیا جاتا۔ تار کے عین نیچے چارپائی پر کوئی نہ کوئی سو رہا ہوتا پھر بھی مہم جو بلی رات کے کسی حصے میں ضرور اس لٹکتے گوشت پر حملہ کرتی۔ کسی کی آنکھ کھل جاتی تو شور برپا ہو جاتا اور ایک ہنگامہ مچ جاتا!

لاﺅنج، ڈرائنگ روم اور بیڈ روموں میں قید، ان بچوں کو کیسے بتایا جائے کہ عصر کے بعد، جب سائے خوب ڈھل جاتے تو بڑے بڑے صحنوں میں صفائی کے بعد پانی کا چھڑکاﺅ ہوتا۔ چارپائیاں باہر نکالی جاتیں، ان پر گدے (تلائیاں) اور گدوں پر چھیبی ہوئی چادریں بچھائی جاتیں۔ ساتھ کڑھے ہوئے غلافوں والے تکیے ہوتے۔ ان بستروں پر لیٹ کر، اچھل کر اور قلابازیاں کھا کر کتنا لطف آتا۔ دوسرے صحن میں بکریوں کےلئے بیری کی کٹی ہوئی جھاڑیاں پڑی ہوتیں جو اسی شام باہر سے چرواہے نے لا کر رکھی ہوتیں۔ ان جھاڑیوں سے میٹھے بیر چن چن کر کھانے میں کیا مزا تھا! اور مویشیوں والے صحن میں کیا مہک ہوتی! میمنے کی خوشبو! جسے ہم بوسہ دیا کرتے۔ گھوڑی کی کھال سے نکلنے والی خوشبو اور تازہ کٹی ہوئی گندم سے نکلنے والی عجیب مست کر دینے والی مہک! کیا خوشبوئیں تھی جو زندگی بھر ساتھ رہیں۔ مٹی کے کورے پیالے سے نکلنے والی سوندھی خوشبو! تنور سے اترنے والی گرم روٹی کی خوشبو! سرسوں کے پھولوں بھرے کھیت میں سے گزرنے وقت ناک سے ٹکرانے والی خوشبو اور گاﺅں سے تھوڑی دور بہنے والی ندی کے مٹیالے پانی کی خوشبو.... وہ پانی جو کسی بھی منرل (Mineral)واٹر سے زیادہ میٹھا ا ور زیادہ صاف تھا!

ہم رات کو سوتے وقت سینکڑوں ہزاروں تارے دیکھتے تھے جو آسمان پر جگمگا رہے ہوتے تھے۔ یہ وہ منظر ہے جسے میرا پوتا شاید ہی دیکھ سکے۔ ہم گاﺅں کے جنوب میں پہرہ دیتی پہاڑیوں کے پار کھلے میدان میں گلی ڈنڈا کھیلتے تھے۔ واپس آتے تھے تو تھکاوٹ اتارنے کےلئے ٹھنڈے میٹھے ستو پیتے تھے۔ ہاتھوں سے بنی ہوئی سویاں کھاتے تھے۔ باجرے کے خوشے ہمارے لئے تنور میں رکھے جاتے تھے تاکہ دانے بھن جائیں۔ گندم کے اور مکئی کے اور جوار کے اور چنوں کے مرنڈے کھاتے تھے۔ کھیتوں سے نکالے ہوئے چنوں کے پودوں سے سبز چنے کھاتے تھے۔ موٹھ اور مونگ کی ادھ پکی پھلیاں کھاتے تھے۔ بیلوں میں چھپے ہوئے اور زمین پر لیٹے ہوئے خربوزے اور تربوز اپنے ہاتھوں سے توڑتے تھے۔ شہر سے ہمارے لئے چاکلیٹیں نہیں بلکہ گنوں کے گٹھے آتے تھے جنہیں ہم دانتوں سے چھیل چھیل کر کھاتے تھے۔

بڑے بڑے شاپنگ مالوں میں آج میرا پوتا، خود کار سیڑھیوں پر خود ہی سوار ہوتا ہے اور خود ہی اتر آتا ہے۔ اسے کیا معلوم کہ اس کا دادا جب گھوڑی کو پانی پلانے، گاﺅں سے باہر، تالاب کی طرف لے جانے لگتا تو اس پر زین نہیں صرف تہہ کیا ہوا کمبل ہوتا تھا جس پر اس کا دادا اچھل کر سوار ہوتا اور اپنے نانا کی ہدایت کے بالکل برعکس، گھوڑی کو بھگا کر لے جاتا۔ اسلام آباد کے ایک گھر میں ڈیڑھ سالہ حمزہ کی آبائی زینیں ایک ڈرائنگ روم کی زینت ہیں۔ وہ زینیں جن پر اس کا دادا، پردادا اور لکڑدادا سوار ہوتے رہے‘ آج ANTIQUEبنی ایک کونے میں پڑی ہیں!

ٹیکنالوجی اور تصاویر

=============================================================
ٹیکنالوجی اور تصاویر
 دیکھیں حیریت انگیز ریزولوشنری تصاویر
=============================================================
 
 
دیکھنے کے لیئے تصویر پر کلک کریں
http://gigapan.com/
 

Monday, 28 May 2012

مشرقی پاکستان میں پاکستانیوں کا خون بہانے والے ایک بنگالی کے اعترافات



 A True Story by  تنویر قیصر شاہد

بحراوقیانوس کی طرف سے آنے والی تیز اور یخ بستہ ہوا میں تلوار ایسی کاٹ ہے۔ دسمبر کے وسطی دنوں ہیں ابھی برف باری تو شروع نہیں ہوئی لیکن نیو یارک کی منجمد کردینے والی یہ طوفانی ہوائیں اس کا سندیسہ ہیں کہ کرسمس تک برف ضرور گرے گی۔ نیو یارک میں برفباری نہ ہو تو کرسمس کا تہوار بدمزہ ہوجاتا ہے۔ مین ہٹن سے میں نے رات کے گیارہ بجے ڈی ٹرین پکڑی اور زیریں بروکلین کی طرف روانہ ہوگیا۔تقریبًا ۲۵منٹ بعد میں چرچ ایونیو پہنچ گیا۔ یہیں میری رہائش گاہ ہے۔ اس علاقے میں بہت سے بنگالی بھی رہتے ہیں۔ یک دم مجھے خیال آیا گھر میں دودھ نہیں ہے۔ میرے قدم سعید بھائی کے گروسری سٹور کی طرف یوں بڑھ گئے جیسے کسی نے طلسم کردیا ہو۔سعید بھائی بنگالی ہیں۔ عمر ہوگی کوئی ساٹھ برس کے قریب، پستہ قد، نحیف سے۔ سامنے کے تین دانت ٹوٹے ہوئے۔ گرم مفلر سے سر، گردن اور کان لپیٹے ہوئے۔ چہرے پر ایسی معصومانہ سی وحشت سی لیے ہوئے جیسے ابھی اُن پر حملہ ہوجائے گا۔ بولتے ہیں تو منہ سے مچھلی اور کڑی کی باس آتی ہے۔ کسی بنگالی مالک کا یہ سٹور ہے جہاں یہ بارہ گھنٹے ڈیوٹی دیتے ہیں۔میرے بائیں ہاتھ پر بروکلین کے صاف اور سرد آسمان پر چاند دمک رہا ہے۔ لیکن نیو یارک کی خیرہ کن روشنیوں میں بھلا اُس کی جانب کون دیکھتا ہے۔ سامنے گروسری سٹور میں سعید بھائی سہمے بیٹھے ہیں۔ مجھے انھوں نے آتے دیکھا تو ایک لحظہ ان کے بجھے ہوئے چہرے پر روشنی عود کر آئی۔ میں نے دودھ کا گیلن اُٹھایا، قیمت ادا کی اور سعید بھائی کے سامنے کھڑا ہوگیا۔ بڑے دنوں سے ایک سوال نوکِ زباں پر آتاتھا لیکن اُن سے پوچھنے کی جسارت نہ کرسکا۔ سوچتا، یہ شریف آدمی کہیں ناراض نہ ہوجائے! آج پھر وہی سوال زبان پر ہے۔ دسمبر کا مہینا ہے اور ایک بوڑھے بنگالی سے یہ سوال پوچھا جانا ازبس ضروری ہے۔ دل کڑاکرکے میں نے پوچھ ہی لیا: ’’سعید بھائی! جب پاکستان ٹوٹ رہا تھا اور بنگلہ دیش بن رہا تھا، آپ اُس وقت کہاں تھے؟‘‘سعید بھائی نے موٹے موٹے عدسوں کی عینک کے عقب سے مجھے گھورا اور جیکٹ کی جیبوں سے ہاتھ نکال کر بازوئوں کو پوری طاقت سے جھٹکا۔ گرم مفلر کے پیچھے چھپے اُن کے ٹوٹے دانت حیرت اور غصے میں کھلے، چند ثانیے ہی میں وہ بدلے ہوئے سعید بھائی بن گئے: ’’یہ جنگ ہم نے جاتی (ذاتی) طور پر لڑی اور اس میں کامیاب بھی ہوئے۔‘‘ انھوں نے پوری قوت سے گلا صاف کیا جیسے مچھلی کے کانٹے سے نجات حاصل کررہے ہوں۔ ’’اجادی (آزادی) کی جنگ کے دنوں میں میں پچیس چھبیس سال کا نوجوان تھا۔ میں سلہٹ سے ڈھاکا آیا اور وہاں یونیورسٹی کے طلبا کے ایک گروہ میں شامل ہوکر کلکتہ چلا گیا جہاں ہمیں گوریلا ٹریننگ بھی ملتی تھی اور پیسے بھی۔ میں تین مرتبہ کلکتہ گیا اور آیا لیکن بھارت کی طرف سے مجھے گن دو مرتبہ دی گئی۔ (مغربی) پاکستان کے خلاف مجھے نفرت تو تھی ہی لیکن کلکتہ میں بھارتی فوجی ٹریننگ سے اس نفرت میں بے پناہ اضافہ ہوگیا جہاں بھی کوئی (پاک فوج کا) فوجی نظر آتا، اسے مار ڈالنے کو جی چاہتا تھا۔‘‘دوگاہک دکان میں سگریٹ لینے آ گئے ۔ انھوں نے انہیںبھگتایا۔ کچھ دیر خاموش رہے پھر بولے: ’’بھارت سے ہمیں ہر قسم کی امداد ملتی تھی۔ ہتھیاربھی، اسلحہ بھی اور حفاظت بھی۔ ہم سات دوستوں نے مل کر بہت سے پاکستان نواز بنگالی اور فوجی قتل کیے لیکن سقوطِ ڈھاکا سے ایک دن پہلے ہم نے جو خون بہایا، آج بھی مجھے اس پر افسوس ہوتا ہے ۔لیکن ہماری کھوپڑیوں میں نفرت کی جو آگ بھر دی گئی تھی، ہمیں کچھ اور دکھائی نہیں دیتا تھا۔ پلٹن میدان میں جنرل نیاجی (نیازی) کا بھارتی فوج کے سامنے ہتھیار ڈالنے کا منجر (منظر) ہم سب کا دل ٹھنڈا کرگیا۔‘‘ سعید بھائی اچانک خاموش ہوگئے اور کہنیاں کھڑکی کے سامنے ٹکا کر باہر سردی میں ٹھٹھرتی رات کو تکنے لگے۔ گہری خاموشی نے ہم دونوں کے درمیان تعلق کو ختم کرڈالا تھا۔ پھر وہ اچانک گھومے اور بھرائی آواز میں کہنے لگے: ’’اس خونریزی سے ہمیں کیا ملا؟ بھارت جیت گیا اور پاکستان و بنگلہ دیش ہار گئے۔‘‘میں نے سٹور کا دروازہ کھولا، جس نے چند لمحوں کے لیے باہر کی خاموش فضا میں ارتعاش پیدا کیا، اور میں باہر نکل آیا۔ گزشتہ چند برسوں کے دوران جب بھی دسمبر کا وسط آتا ہے اور پاکستان کے دولخت ہونے کی باتیں ہونے لگتی ہیں، سعید بھائی شدت سے یاد آنے لگتے ہیں۔ کیا ہم اس سانحہ کو فراموش کردیں اور ظلم کو پسِ پشت ڈال دیں جوبھارت نے ہم پر ڈھایا؟آج ہمارے درمیان بہت سے ایسے دانشور پیدا ہوگئے ہیں جو، ہمیں یہ میٹھا درس دے رہے ہیں کہ اس سانحہ اور بھارتی مظالم کو بھلا کر بھارت سے جپھی ڈال لینی چاہیے کہ قافلے اسی طرح منزل کی جانب بڑھتے ہیں۔ ان عظیم دانشوروں کا کہنا ہے کہ بھارت سے معانقہ اور مصافحہ ہی ہماری بقا کی ضمانت ہے ورنہ ہم تنہا ہوکر بچھڑ جائیں گے۔ ان صاحبانِ دانش کا کہنا ہے کہ بھارت سے نفرت و عناد رکھنا ہمارے مسلح اداروں کا مسئلہ ہے، ہمارا نہیں۔ میں آپ کے سامنے سوال رکھتا ہوں
: ’’کیا واقعی ایسا ہی ہے؟

قادیانیوں کا سجدہ:::::لعنت ہے


 یہ لندن میں قادیانیوں کی مرکزی عبادت گاہ کا منظر ہے جہاں ہال میں درجنوں افراد سجدہ کرتے نظر آرہے ہیں۔ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ مختلف لوگ مختلف سمتوں میں سجدہ کررہے ہیں۔لعنت ہے ایسے لوگوں پر، اور یہ ملعون خود کو مسلمان سمجھتے ہیں۔

آج کا بنیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔سود خوری اور اس کا شکار ہم



آج کا بنیا ہر وہ شخص ، دکاندار، صراف یا کاروباری انسان ہے جو سود کی بنیاد پر قرض دیتا ہے۔ اکثر اوقات ہمیں یہ خبریں پڑھنے کو ملتی ہیں کہ آج فلاں نے قرض کے ہاتھوں مجبور ہو کر خودکشی کر لی۔ جیسے پچھلے دنوں لاہور میں ایک شخص نے قرض ادا نا کر پانے پرخود اور اپنے اہل وعیال جن میں بیوی اور تین بچے شامل تھے زہر کھا کر خود کشی کر لی۔ اسی طرح ایک شخص نے قرض کی رقم ادا نا کر پانے پر خود گلے میں پھندہ ڈال کر خودکشی کر لی، وغیرہ وغیرہ۔ دراصل یہ سودی نظام ایک مافیہ ہے جو ہمارے معاشرے میں ایک ناسور کی طرح پھیل چکا ہے اور مزید پھل پھول رہا ہے۔ ان کا طریقہ کار بہت سیدھا ہے۔ قسطوں پر سامان حاصل کریں جس پر شرح سود 35 سے 50 فیصد تک ہوتی ہے، مجبوری اور مہنگائی کے ستائے لوگ ضرورتوں سے تنگ آکر اس جال میں پھنس جاتے ہیں اور مرتے دم تک اس قرض کو اتارتے رہتے ہیں یا پھر ان کی آنیوالی نسلیں تک اس دلدل میں پھنسی رہتی ہیں۔

"جیسے کہ ہمارے ہاں ہر قانون موجود ہے" جی ہاں یہ پڑھ کر آپ کو پہلے غصہ آئے گا یا پھر میری دماغی حالت پر بہت ہنسی آئے گی لیکن یہ بات ایک حقیقت ہے کہ ہمارے ہاں ہر قانون موجود ہے اور اگر آپ تفصیل سے دیکھیں تو بہت اچھا قانون موجود ہے، جو کہ باقی دنیا یا اور ممالک سے بہت بہتر بھی ہے لیکن ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ لیکن بد نصیبی کہ اس پر نا تو کوئی عمل درآمد کرتا ہے اور نا ہی کوئی کراتا ہے۔ قانون بنانے والے اس کو توڑنے اور بائی پاس کرنے کے طریقے بھی مفت بانٹتے ہیں۔ بلکل اسی طرح سودی کاروبار پر بھی پاکستان میں بظاہر پابندی ہے لیکن اس مافیا یعنی آج کے بنیا نے اس کا حل بھی نکال لیا ہے، یہ لوگ مل جل کر لائسنس لیتے ہیں ادارے کو رجسٹر کراتے ہیں اور یہ مکروہ دھندہ قانون کے سائے میں بہت دھڑلے سے کرتے ہیں۔

اور ان کا قرض ادا نا کرنے کی صورت میں:

◘آپ خودکشی کر سکتے ہیں
◘آپ چوری ڈکیتی کی طرف مائل ہو سکتے ہیں
◘آپ نشہ میں مبتلا ہو سکتے ہیں
◘آپ ان کی گولی شکار ہو سکتے ہیں
◘آپ یا آپ کے گھر والے ان کی دشمنی کی بھینٹ چڑھ سکتے ہیں
جس عزت اور وقار کو قائم رکھنے کے لیئے آپ ان کے چنگل میں پھنستے ہیں یہ لوگ آپ کی اسی عزت کو پامال کرسکتے ہیں
◘آپ کا رہن یا ضمانت رکھا ہوا  قیمتی سامان، زیور، زمین جائیداد سب ان کے قبضہ میں جا سکتا ہےاور آپ اپنی زندگی بھر کی جمع پونجی سے محروم ہو سکتے ہیں۔


اس کی ایک منہ بولتی مثال میں ابھی پڑھ رہا تھا کہ سندھ کے کسی گوٹھ میں ایک پٹھان یہ کاروبار کرتا ہے اور لوگوں کو کپڑا ادھارپر یعنی سود پر دیتا ہے جب وہ کپڑا بیچنے آتا ہے تو اس کے ہاتھ میں کپڑا ماپنے والا گز ہوتا ہے لیکن جب اسی کپڑے کی رقم وصول کرنے آتا ہے تو اس کے ہاتھ میں کلہاڑی ہوتی ہے،اور غریب لوگ جو ادھار کے لالچ میں کپڑالے تو لیتے ہیں لیکن غربت اور تنگدستی کے ہاتھوں مجبور ہو کر نا تو قرض ادا کرسکتے ہیں اور نا ہی اس دلدل سے نکل سکتے ہیں، سو ایسے لوگ اس انسان نما بھیڑیے سے بچنے کے لیئے چھپتے پھرتے ہیں، ایسے لوگ سود کی زد میں آکر اپنی عزتیں تک پامال کرا بیٹھتے ہیں اور یہ کوئی من گھڑت کہانی نہیں بلکہ ہمارے معاشرے کی ایک زندہ جاوید اورحقیقی مثال ہے۔ ہر بڑے چھوٹے شہر میں ایسے ادارے، کاروبار اور لوگ آپ کو ملیں گے جو بہت اچھے طریقے سے لوگوں کی مجبوریوں کو خریدتے ہیں۔
ہمارے گاوں سے کچھ دور ایک گاوں ہے وہاں کہ نمبردار صاحب اس کام کو کچھ یوں انجام دیتے ہیں کہ وہ گاوں میں اگر کوئی بھی بندہ کسی مصیبت کا شکار ہو تو اس کی مدد اس کی موجودہ زمین کو دیکھتے ہوئے کرتے ہیں اور بہت دل کھول کر کرتے ہیں اس کے بعد آپ ان کے احسان تلے دب کے رہ جاتے ہیں، جب آپ اس کو مطلوبہ وقت پر مطلوبہ رقم نہیں دے پاتے تو یہ بہت آرام سے کورٹ میں جا کر آپ کی زمین ساری یا جتنی پر آپ اس سے معاملہ طے کرتے ہیں اپنے نام منتقل کرا لیتا ہے، اور یوں ان کی رقم بمہ سود و منافع واپس آ جاتی ہے۔

اسی تناظر میں دیکھیں تو قیام پاکستان سے قبل جب بینکنگ کا نظام اتنا موثر نہیں تھا تو ایسے قرض دینے والوں کو بنیا کہا جاتا تھا جن سے نہ صرف کاروباری لوگ بلکہ زراعت پیشہ افراد اور کاشتکار قرضہ لیتے تھے ۔ پاکستان بننے کے بعد بھی یہ کاروبار جاری رہا۔1972ءتک اس کاروبار پر کوئی قانونی قدغن نہیں تھی لیکن جب اس کے نتیجے میں استحصالی طبقے کی تعداد بڑھنے لگی اور لوگوں کی طرف سے ایسے افراد کے خلاف کارروائی کا مطالبہ بڑھنے لگا تو1973ءکے شروع میںذوالفقار علی بھٹو کی حکومت نے زرعی قرضے حاصل کرنے کیلئے ایک ریلیف متعارف کروایا ۔اس ایکٹ کے تحت سود خوروں سے لیے گئے قرضے معاف کر دیے گئے اور سود خوروں کی طرف سے دیے جانے والے قرضوں پر سود کی رقم کی حد بندی کر دی گئی۔ مزید براں یکم نومبر 1973ءکو قرضوں پر واجب الادا سود کی رقم ختم کر دی گئی اور صرف اصل رقم باقی رکھی گئی۔ اسی تاریخ کو اس ایکٹ کے تحت اراضی کیلئے واجب الادا رقوم بھی ختم کر دی گئیں۔

اللہ تعالٰی ہمیں اس سودی نظام، سودی کاروبار، سود خوروں سے بچائے، آمین

Sunday, 27 May 2012

اگر آپ کے یا آپ کی فیملی میں بچے ہیں تو یہ لازمی پڑھیں


A Column by Javaid Chudhry
A Public Service Message ?
اگر آپ کے یا آپ کی فیملی میں بچے ہیں تو یہ لازمی پڑھیں
 Thanks a lot Mr. M. Khalil Paknet.com


دوستی یا دشمنی::::: ایک حقیقت پسند تبصرہ شکریہ جناب بنیاد پرست بھائی





ایرانی انقلاب مسلم معاشروں میں فروغ فرقہ واریت کی سامراجی اور استعماری سازش کا حصہ تھا ، اب بھی امریکہ ایران کے خلاف جعلی شعلہ انگیزی کرتا ہے، جس کے جواب میں ایران کی طرف سے امریکہ کے خلاف جعلی لڑائی کا اعلان کیا جاتا ہے، تاکہ مسلم معاشروں میں ایران اور خمینی باقیات کو عالم اسلام کا حقیقی نمائندہ بنا کر پیش کیا جاسکے، ایران کا کردار حقیقت میں مشہور انگریزی ناول دی پرل کے ایک ایجنٹ کا ہے جو طے شدہ اسکرپٹ کے مطابق لین دین میں رسمی مول بھاؤ کرتا ہے

Friday, 25 May 2012

دوستی یا دشمنی


دوستی یا دشمنی

آج کی یہ خبر کوئی نئی نہیں بلکہ ایسی کئی خبریں اور ایران امریکہ خیر سگالی کی مثالیں ہمیں نظر آتی ہیں لیکن ہم زیادہ تر اس کو نظر انداز کر کے ایران امریکہ دشمنی کو ایک حقیقت جانتے ہیں۔


لیکن حقیقت اس سے بہت مختلف ہے!!!!!

ملاحظہ کریں جنگ / جیو کی ایک خبر۔

تہران…ایرانی نیوی کا کہنا ہے کہ اس نے خلیج اومان میں ایک امریکی کارگو جہاز کو بحری قزاقوں کے چنگل سے چھڑالیا ۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق ایرانی نیوی کے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ خلیج اومان میں بحری قزاقوں نے ایک امریکی کارگو جہاز کا محاصرہ کرلیا جس کے بعد مائرس ٹیکساس نامی جہاز کی جانب سے نیوی کو ہنگامی سگنلز موصول ہوئے جس پر نیوی نے فوری اقدامات کرتے ہوئے ایک جنگی جہاز بھیجا جس کے پہنچتے ہی قزاق وہاں سے فرار ہوگئے بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکی کارگو جہاز نے اس کی حفاظت پر ایرانی نیوی کا شکریہ ادا کیا اور اپنی منزل پر بحفاظت پہنچ گیا کارگو جہاز متحدہ عرب امارات کی فوجاریہ بندرگاہ سے روانہ ہوا تھا اور امریکہ جارہا تھا ۔

Tuesday, 22 May 2012

بجلی کہاں جاتی ہے ؟افتخار اجمل بھوپال :: بتاریخ May 22 2012



حسبِ وعدہ حاضر ہے مطالعاتی تحقیق کا نتیجہ
عوام پریشان کہ حکمرانوں کے مطابق بجلی پیدا کرنے والوں کو 360 ارب روپے سبسڈی دی جاتی ہے ۔ گو وہ بھی عوام سے وصول کردہ ٹیکس ہی کا پیسہ ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ عوام بھاری بھرکم بل بھی عطا کرتے ہیں ۔ محترمہ بجلی صاحبہ پھر بھی کم ہی درشن کراتی ہے ۔ آخر یہ بجلی جاتی کہاں ہے ؟
وفاقی وزراء اور ان کے لواحقین کے ذمہ ایک کھرب 20 ارب (120000000000) روپے کے بجلی کے بل واجب الادا ہیں
حکومتِ سندھ کے ذمہ 50 ارب (50000000000) روپے کے بجلی کے بل واجب الادا ہیں
حکومتِ پنجاب کے ذمہ 19 ارب (19000000000) روپے کے بجلی کے بل واجب الادا ہیں
حکومتِ بلوچستان کے ذمہ 18 ارب (18000000000) روپے کے بجلی کے بل واجب الادا ہیں
حکومت خیبر پختونخوا کے ذمہ 16 ارب (16000000000) روپے کے بجلی کے بل واجب الادا ہیں
حکومتِ آزاد جموں کشمیر کے ذمہ 15 ارب (15000000000) روپے کے بجلی کے بل واجب الادا ہیں

 
نجی اداروں کے ذمہ ایک کھرب 27 ارب روپے بجلی کے بل واجب الادا ہیں جس میں زیادہ رقم اُن لوگوں کے ذمہ ہے جو بارسُوخ سیاستدانوں کے رشتہ دار یا قریبی دوست ہیں

واجب الادا بلوں کے ساتھ ساتھ مُلک میں ہر سال 50 ارب روپے کی بجلی چوری کی جاتی ہے ۔ چوری کی بجائے کہا جاتا ہے کہ سِلکیہ نقصانات (Line Losses) 35 سے 40 فیصد ہیں ۔ چین میں سلکیہ نقصانات 6 فیصد ہوتے ہیں جبکہ فلپین جو کرپٹ مُلک جانا جاتا ہے میں 11 فیصد ہوتے ہیں ۔ یہ الگ بات ہے کہ پاکستان میں بھی کم از کم 1970ء تک سِلکیہ نقصانات 6 فیصد ہو جائیں تو آڈٹ اوبجیکشن ہو جاتا تھا اور تحقیقات شروع ہو جاتی تھیں
اس بجلی چوری کے حصہ داران ہیں
 
کراچی ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 38.5 فیصد یعنی سالانہ 19 ارب 25 کروڑ روپے
پشاور ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 31.2 فیصد یعنی سالانہ 15 ارب 60 کروڑ روپے
لاہور ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 12.8 فیصد یعنی سالانہ 6 ارب 40 کروڑ روپے
فیصل آباد ۔ ۔ ۔ 9.1 فی صد یعنی سالانہ 4 ارب 55 کروڑ روپے
دوسرے علاقے ۔ 4 ارب 20 کروڑ روپے

یہیں بات ختم نہیں ہوتی
ہر بڑے شہر میں چوری کئے ہوئے سرکاری ٹرانسفارمر اور بجلی کی تاروں کے ڈھیر لگے ہیں جو اندر کھاتے سستے داموں فروخت ہوتے ہیں
نیپرا رپورٹ کے مطابق بجلی کی صرف 3 سرکاری کمپنیوں نے 26 ارب روپے کا فرنس آئل چوری کیا
اگر صرف واجب الادا بل ہی ادا کر دیئے جائیں تو مُلک میں لوڈ شیڈنگ بالکل بند ہو جائے اور فاضل بجلی برآمد بھی کی جا سکتی ہے
ایسی بات نہیں کہ مندرجہ بالا کاروائیاں حکمرانوں کے علم میں نہیں ۔ حقیقت واضح ہے کہ اس میں بارسُوخ حکمرانوں کا مفاد ہے ۔ اسی لئے اسے جاری و ساری رکھا گیا ہے
گھی مہنگا ۔ تیل مہنگا ۔ آٹا مہنگا ۔ چاول مہنگے ۔ پھل مہنگا ۔ سبزیاں مہنگی ۔ دالیں مہنگی ۔ پٹرول مہنگا ۔ گیس مہنگی اور بجلی مہنگی ۔ عوام صرف غم کھائیں اور جان بنائیں

قطب شمالی سے میتھین گیس کا اخراج




سائنسدانوں نے بحر منجمد شمالی میں ایسی ہزاروں جگہوں کی نشاندہی کی ہے جہاں سے ہزاروں سال سے زیرزمین موجود میتھین گیس اب فضا میں خارج ہو رہی ہے۔

سائنسدانوں کے مطابق یہ گیس برف کی تہہ تلے دبی ہوئی تھی اور اب برف کے پگھلنے کے ساتھ مختلف مقامات پر فضا میں خارج ہونا شروع ہو گئی ہے۔
سائنسی جریدے جیو سائنس میں شائع ہونے والی اس رپورٹ کے مطابق محققین کا کہنا ہے کہ میتھین گیس کا دنیا کے درجہ حرارت میں اضافے یا گوبل ورامنگ میں نمایاں کردار ادا کر سکتی ہے۔

میتھین کاربن ڈائی اکسائیڈ کے بعد دوسری اہم گرین ہاؤس گیس ہے اور اس کی مقدار میں کافی سالوں کے استحکام کے بعد اضافہ ہو رہا ہے۔

میتھین گیس کی نشاندہی کرنا کوئی آسان کام نہیں لیکن یونیورسٹی آف الاسکا کے سائنسدان کیٹی والٹر انتھونی کی سربراہی میں محققین نے زیرزمین میتھین گیس کے اخراج کو میتھین مالیکیولز میں موجود کاربن کے مختلف آئسوٹوپس کی مدد سے شناخت کیا۔
سائنسدانوں نے زمینی اور فضائی سروے کے ذریعے الاسکا اور گرین لینڈ میں واقع جھیلوں میں ایک لاکھ پچاس ہزار مقامات پر میتھین کے اخراج کی نشاندہی کی۔


 
سائنسدانوں کے مطابق بعض جگہوں پر صدیوں سے دبی ہوئی گیس کا اخراج ہو رہا ہے اور اس کی وجہ جھیل کی تہہ میں قدرتی گیس اور کوئلے کے ذخائر کا موجود ہونا ہے جب کہ بعض جگہوں سے خارج ہونے والی گیس زیادہ پرانی نہیں ہے اور یہ جھیلوں میں درختوں کا فضلہ گرنے کی وجہ سے پیدا ہوئی۔

اس تحقیق میں شامل یونیورسٹی آف لندن کے پروفیسر ایون نیسبٹ کے مطابق’دنیا میں بحر منجمد شمالی تیزی سے گرم ہونے والا خطہ ہے اور میتھین گیس کے اخراج کے ساتھ درجہ حرات میں اضافہ ہو گا جو کہ ایک قابل تشویش پہلو ہے۔ اب درجہ حرات ہی درجہ حرات کو بڑھانے کا سبب بنے گا۔‘

Thursday, 17 May 2012

ہر سو چھایا تھا سناٹا:::::::::.....راشد ادریس رانا


اس کو میری یاد نے کاٹا
جس سے اپنا دکھ سکھ بانٹا
کس کو تسلی دیتے ہم
کس سے پیار کی باتیں کرتے
تیرے پیار میں ہم تھے پاگل
دل میں چبھا تھا ایسا کانٹا
روز تمہاری یاد میں تڑپے
دل کو اپنے ہاتھ میں تھاما
جب بھی خود میں تم کو ڈھونڈا
ہر سو چھایا تھا سناٹا
راشد ادریس رانا

آگ ہو تو جلنے میں دیر کتنی لگتی ہے : فرحت عباس شاہ

آگ ہو تو جلنے میں دیر کتنی لگتی ہے
برف کے پگھلنے میں‌ دیر کتنی لگتی ہے

چاہے کوئی رک جائے، چاہے کوئی رہ جائے
قافلوں کو چلنے میں دیر کتنی لگتی ہے

چاہے کوئی جیسا بھی ہمسفر ہو صدیوں سے
راستہ بدلنے میں دیر کتنی لگتی ہے

یہ تو وقت کے بس میں ہے کہ کتنی مہلت دے
ورنہ بخت ڈھلنے میں دیر کتنی لگتی ہے

موم کا بدن لے کر دھوپ میں نکل آنا
اور پھر پگھلنے میں‌ دیر کتنی لگتی ہے

سوچ کی زمینوں میں راستے جدا ہوں تو
دور جا نکلنے میں دیر کتنی لگتی ہے

☻☻☻بٹ گئی کاریز زمیں داروں میں☻☻☻سبطِ علی صبا

ایک تصویر نظر آتی ہے شہ پاروں میں
مشترک سوچ ہے اس عہد کے فن کاروں میں

لوگ جنگل کی ہواؤں سے ہیں اتنے خائف
کوئی روزن ہی نہیں گاؤں کی دیواروں میں

جس کی پیشانی پہ تحریر تھا محنت کا نصاب
سرِفہرست وہی شخص ہے بے کاروں میں

اور طبقات میں انسان بکھرتے جائیں
مشورے روز ہوا کرتے ہیں زرداروں میں

جب کسی لفظ نے الجھے ہوئے معنی کھولے
رنگ کچھ اور نکھر آیا ہے فن پاروں میں

تشنگی تشنہ زمینوں کی صباؔ مٹ نہ سکی
ہاں مگر بٹ گئی کاریز زمیں داروں میں

راوی ترا سیلابِ جواں کیوں نہیں اٹھتا:::::::::سبطِ علی صبا

 اس شہر میں اب شورِ سگاں کیوں نہیں اٹھتا
آباد مکاں ہیں تو دھواں کیوں نہیں اٹھتا

اٹھتے ہیں چمکنے کے لئے ننھّے سے جگنو
سورج! کوئی آشوبِ جہاں کیوں نہیں اٹھتا

زندہ ہے ابھی شہر میں فن تیشہ گری کا
بازو ہیں تو پھر سنگِ گراں کیوں نہیں اٹھتا

کیا رزق فقیروں کا فرشتوں میں بٹے گا
منصف کوئی اس خاک سے یاں کیوں نہیں اٹھتا

تینتیس بہاروں کا ثمر چکھ کے بھی مجھ سے
دو چار قدم رختِ جہاں کیوں نہیں اٹھتا

شہرت کی کمیں گاہوں میں قد ناپنے والو!
تم سے کبھی غیرت کا نشاں کیوں نہیں اٹھتا

رستے میں ابھی ریت کی دیوار کھڑی ہے
راوی ترا سیلابِ جواں کیوں نہیں اٹھتا

آندھی چلی تو :::..سبطِ علی صبا

 آندھی چلی تو گرد سے ہر چیز اَٹ گئی
دیوار سے لگی تری تصویر پھٹ گئی

لمحوں کی تیز دوڑ میں، میں بھی شریک تھا
میں تھک کے رک گیا تو مری عمر گھٹ گئی

اس زندگی کی جنگ میں ہر اک محاذ پر
میرے مقابلے میں مری ذات ڈٹ گئی

سورج کی برچھیوں سے مرا جسم چھد گیا
زخموں کی سولیوں پہ مری رات کٹ گئی

احساس کی کرن سے لہو گرم ہو گیا
سوچوں کے دائروں میں تری یاد بٹ گئی

دیوار کیا گری مرے خستہ مکان کی::سبطِ علی صبا

ملبوس جب ہوا نے بدن سے چرا لئے
دوشیزگانِ صبح نے چہرے چھپا لئے

ہم نے تو اپنے جسم پر زخموں کے آئینے
ہر حادثے کی یاد سمجھ کر سجا لئے

میزانِ عدل تیرا جھکاؤ ہے جس طرف
اس سمت سے دلوں نے بڑے زخم کھا لئے

دیوار کیا گری مرے خستہ مکان کی
لوگوں نے میرے صحن میں رستے بنا لئے

لوگوں کی چادروں پہ بناتی رہی وہ پھول
پیوند اس نے اپنی قبا میں سجا لئے

ہر حرملہ کے دوش پہ ترکش کو دیکھ کر
ماؤں نے اپنی گود میں بچے چھپا لئے

::::::سیاہ سی خدمت:::::::


کاش کہ ایسی قیادت مل جائے!!!!




اونٹنی پر دو تھیلے تھے‘ ایک میں ستو تھے‘ دوسرے میں کھجوریں۔ سامنے پانی سے بھرا مشکیزہ تھا اور پیچھے ایک برتن۔ مسلمانوں کی ایک جماعت ساتھ تھی‘ روزانہ صبح آپ برتن بیچ میں رکھ دیتے اور سب آپکے ساتھ کھانا کھاتے۔ پیشانی سے اوپر کا حصہ دھوپ میں چمک رہا تھا‘ سر پر ٹوپی تھی‘ نہ عمامہ‘ اونٹ کی پیٹھ پر اونی کمبل تھا جو قیام کی حالت میں بستر کا کام بھی دیتا تھا۔ خورجین میں کھجور کی چھال بھری تھی‘ اسے ضرورت کے وقت تکیہ بنا لیا جاتا تھا۔ نمدے کا بوسیدہ کُرتا پہنے تھے اس میں چودہ پیوند تھے اور پہلو سے پھٹا ہوا تھا۔
یہ تھی وہ حالت جس میں عمر فاروق اعظم بیت المقدس میں داخل ہوئے جہاں مخالفین ہتھیار ڈال چکے تھے اور اب وہ معاہدہ کرنے آئے تھے جس کی رو سے یہ عظیم الشان شہر مسلمانوں کی سلطنت میں شامل ہونا تھا۔
آپ نے مفتوح قوم کے سردار کو بلایا‘ اس کا نام جلومس تھا‘ ارشاد فرمایا‘ میرا کرتا دھو کر سی لاﺅ اور مجھے تھوڑی دیر کیلئے کوئی کپڑا یا قمیص دے دو۔

جلومس نے عرض کیا‘ ”آپ عرب کے بادشاہ ہیں‘ اس ملک میں آپ کا اونٹ پر جانا زیب نہیں دیتا‘ اگر آپ دوسرا لباس پہن لیں اور ترکی گھوڑے پر سوار ہو جائیں تو رومیوں کی نگاہ میں عظمت بڑھے گی۔“ جواب دیا۔ ”خدا نے ہمیں جو عزت دی ہے‘ اسلام کی وجہ سے ہے‘ اسکے سوا ہمیں کچھ نہیں چاہیے“۔


ابن کثیر نے طارق بن شہاب کی ایک روایت بھی نقل کی ہے‘ ان کا بیان ہے‘ ”جب حضرت عمر شام پہنچے تو ایک جگہ رستے میں پانی رکاوٹ بن گیا۔ آپ اونٹنی سے اترے‘ موزے اتار کر ہاتھ میں لئے اور اونٹنی کو ساتھ لے کر پانی میں اتر گئے۔ حضرت ابوعبیدہؓ نے کہا‘ آپ نے آج وہ کام کیا جس کی اہل زمین کے نزدیک بڑی عظمت ہے۔ فاروق اعظم نے انکے سینے پر ہاتھ مارا اور فرمایا‘ ”ابوعبیدہؓ! کوئی اور کہتا تو کہتا‘ یہ بات تمہارے کہنے کی نہ تھی۔ تم دنیا میں سب سے زیادہ حقیر‘ سب سے زیادہ ذلیل اور سب سے زیادہ قلیل تھے‘ اللہ نے تمہیں اسلام سے عزت دی‘ جب بھی تم اللہ کے سوا کسی سے عزت طلب کرو گے‘ اللہ تمہیں ذلیل کریگا۔“


لیکن لطیفہ یہ ہے کہ جب بھی ان ہستیوں کی مثال دی جاتی ہے تو کہا جاتا ہے کہ یہ تو صحابہ تھے‘ یہ تو خلفائے راشدین تھے‘ یہ تو عمر بن عبدالعزیز تھے‘ تو پھر شان و شوکت پر مرنے والے لوگ کیا یہ چاہتے ہیں کہ ہم چنگیز خان اور قیصر یا کسریٰ کی مثالیں دیں؟ کیا ہم عیاش زندگی گزارنے والے ان کیڑے مکوڑوں کو ان بادشاہوں کا سبق پڑھائیں جو بات بات پر کھالیں کھنچواتے تھے؟ کیا ان کا آئیڈیل بنوامیہ کے وہ لالچی لوگ ہیں جنہوں نے عمر بن عبدالعزیز کو زہر دے دیا تھا؟


امام ابوحنیفہ کپڑا دھو رہے تھے اور دھوئے جا رہے تھے۔ کسی نے پوچھا حضرت! آپ نے تو فقہ کے حساب سے فتویٰ دیا ہے کہ تین دفعہ دھونے سے کپڑا پاک ہو جاتا ہے‘ پھر مسلسل دھوئے جا رہے ہیں؟ فرمایا! وہ فتویٰ تھا‘ یہ تقویٰ ہے۔ لیڈر کے ایک ایک عمل سے سینکڑوں ہزاروں لاکھوں کروڑوں لوگوں کا طرز عمل متاثر ہوتا ہے ۔

Wednesday, 16 May 2012

کہا تھا ناں:::::::::::عاطف سعید



کہا تھا ناں!
کہا تھا ناں!
مجھے تم اِس طرح سوتے ہوئے مت چھوڑ کرجانا
مجھے بے شک جگا دینا
بتا دینا!
محبت کے سفر میں ساتھ میرے چل نہیں سکتیں
جدائی کے بحر میں ساتھ میرے جل نہیں سکتیں
تمہیں رستہ بدلنا ہے
مری حد سے نکلنا ہے
تمہیں کس بات کا ڈر تھا
تمہیں جانے نہیں دیتا
کہیں پہ قید کر لیتا
ارے پگلی!
محبت کی طبیعت میں
زبردستی نہیں ہوتی
جسے رستہ بدلنا ہو‘ اُسے رستہ بدلنے سے
جسے حد سے نکلنا ہو اُسے حد سے نکلنے سے
نہ کوئی روک پایا ہے
نہ کوئی روک پائے گا
تمہیں کس بات کا ڈر تھا
مجھے بے شک جگا دیتیں
میں تم کو دیکھ ہی لیتا
تمہیں کوئی دعا دیتا
کم از کم یوں تو نہ ہوتا
مرے ساتھی حقیقت ہے
تمہارے بعد کھونے کے لیے کچھ بھی نہیں باقی
مگر کھونے سے ڈرتا ہوں
میں اب سونے سے ڈرتا ہوں۔۔۔۔!

عجب پاگل سی لڑکی ہے::::::عاطف سعید


عجب پاگل سی لڑکی ہے
مجھے ہر خط میں لکھتی ہے
مجھے تم یاد کرتے ہو؟ تمھیں میں یاد آتی ہوں؟
مری باتیں ستاتی ہیں
مری نیندیں جگاتی ہیں
مری آنکھیں رلاتی ہیں
دسمبر کی سنہری دھوپ میں اب بھی ٹہلتے ہو
کسی خاموش رستے سے کوئی آواز آتی ہے؟
ٹھٹہرتی سرد راتوں میں تم اب بھی چھت پہ جاتے ہو
فلک کے سب ستاروں کو مری باتیں سناتے ہو
کتابوں سے تمھارے عشق میں کوئی کمی آئی
یا میری یاد کی شدت سے آنکھوں میں نمی آئی
عجب پاگل سی لڑکی ہے
مجھے ہر خط میں لکھتی ہے
جوابااس کو لکھتا ہوں
مری مصروفیت دیکھو
سحرسے شام آفس میں چراغ عمر جلتا ہے
پھر اس کے بعد دنیا کی کئی مجبوریاں پاؤں میں بیڑی ڈال رکھتی ہیں
مجھے بے فکر، چاہت سے بھرے سپنے نہیں دکھتے
ٹہلنے، جاگنے، رونے کی فرصت ہی نہیں ملتی
ستاروں سے ملے عرصہ ہوا ناراض ہوں شاید
کتابوں سے شغف میرا ابھی ویسے ہی قائم ہے
بس اب اتنا ہوا ہے میں انھیں عرصہ میں پڑھتا ہوں
تمھیں کس نے کہا پگلی تمھیں میں یاد کرتا ہوں؟
کہ میں خود کو بھلانے کی مسلسل جستجو میں ہوں
تمھیں نہ یاد آنے کی مسلسل جستجو میں ہوں
مگر یہ جستجو میری بہت ناکام رہتی ہے
مرے دن رات میں اب بھی تمھاری شام رہتی ہے
مرے لفظوں کی ہر مالا تمھارے نام رہتی ہے
تمھیں کس نے کہا پگلی مجھے تم یاد آتی ہو؟
پرانی بات ہو جو لوگ اکثر گنگناتے ہیں
انھیں ہم یاد کرتے ہیں جنھیں ہم بھول جاتے ہیں
عجب پاگل سی لڑکی ہو
مری مصروفیت دیکھو
تمھیں دل سے بھلاؤں تو تمھاری یاد آئے نا!
تمھیں دل سے بھلانے کی مجھے فرصت نہیں ملتی
اور اس مصروف جیون میں
تمھارے خط کا اک جملہ
تمھیں میں یاد آتی ہوں
مری چاہت کی شدت میں کمی ہونے نہیں دیتا
بہت راتیں جگاتاہے مجھے سونے نہیں دیتا
سو اگلی بار اپنے خط میں یہ جملہ نہیں لکھنا!
عجب پاگل سی لڑکی ہے، مجھے پھر بھی یہ کہتی ہے
مجھے تم یاد کرتے ہو؟ تمھیں میں یاد آتی ہوں؟

میں اب سونے سے ڈرتا ہوں::::::عاطف سعید

لہو رونے سے ڈرتا ہوں
 جدا ہونے سے ڈرتا ہوں
مری آنکھیں بتاتی ہیں
کہ میں سونے سے ڈرتا ہوں
مری انگلی پکڑ لینا
 مجھے تنہا نہیں کرنا
یہ دنیا ایک میلہ ہے
 تمہیں کھونے سے ڈرتا ہوں
جو ہنستی ہو تو کیوں پلکوں کے
 گوشے بھیگ جاتے ہیں
تمہیں معلوم ہے میں اس طرح
 رونے سے ڈرتا ہوں
یہ جب سے خواب دیکھا ہے
 مجھے تم چھوڑ جاؤ گی
میں اب ڈرتا ہوں خوابوں سے
 میں اب سونے سے ڈرتا ہوں

Tuesday, 15 May 2012

نوجوان دفتری ملازمین میں خون جمنے کے خطرات میں دگنا اضافہ


آرام دہ طرز زندگی، دفتری اوقات میں90منٹ سے زیادہ مسلسل سیٹ پر براجمان اور گھروں میں صوفوں پر وقت گزارنا،نوجوان دفتری ملازمین میں خون جمنے کے خطرات میں دگنا اضافے کا باعث بن رہا ہے۔90منٹ تک مسلسل بیٹھنے سے گھٹنو ں کے نیچے خون کا بہاوٴ نصف سے کم ہونے سے خون جمنے کا خطرہ دگنا بڑھ جاتا ہے۔ہر گھنٹے کے ساتھ خون جمنے کے خطرے میں دس فی صد اضافہ ہو تا ہے۔برطانوی اخبار کے مطابق دفتروں کے نوجوان ملازمین میں خون جمنے blood clots کے حوالے سے شدید خطرات پیدا ہوگئے،ان میں بلڈ کلاٹ کے خطرات دیگر کی نسبت دگنا ہیں ۔ تیس برس سے کم عمر دفتری ملازمین روزانہ اوسطاً تین گھنٹے ڈیسک پر بیٹھتے ہیں،اسی دوران لنچ کرتے ہیں اور بہت کم دفتری اوقات میں چہل قدی کرتے دکھائی دیتے ہیں، گھروں میں زیادہ تر صوفوں پر بیٹھ کر یالیٹ کر وقت گزارتے ہیں۔ایسی طرز زندگی ان کی صحت کے لئے خطر ناک ثابت ہورہی ہے۔برطانوی چیریٹی ادارے کی طرف سے کی گئی تحقیق نے ایسے تمام نوجوان پروفیشنل اور ویڈیو گیمز کے شوقین افراد کی صحت کے حوالے سے خبردار کیا ہے کہ طویل دورانیے تک بیٹھنا ان میں خون جمنے blood clots کے خطرات میں دگنا اضافے کے ساتھ موٹاپا، ذیابیطس اور عارضہ قلب کی وجہ بن رہا ہے اور یہ سب ایک دوسرے کے ساتھ ایک غیر معیاری طرز زندگی کی وجہ سے منسلک ہے ۔ ہر دس میں سے آٹھ ایسے نوجوان دفتروں سے جانے کے بعد اپنے گھروں میں صوفوں پر وقت گزارتے ہیں۔برطانیہ میں ہر سال 60ہزار ایسے کیسز سامنے آ رہے ہیں۔ ویڈیو گیمز کھیلنے والے 16سے21سال کے نوجوانوں میں بھی ایسے خطرات بہت زیاد دیکھنے میں آئے۔ تحقیق کے مطابق ویڈیو گیمز کھیلنے والے 96 فی صد نوجوان90منٹ سے زیادہ مسلسل بیٹھتے ہیں۔

Monday, 14 May 2012

ماں

یہ کامیابیاں عزت یہ نام تم سے ہے
خدا نے جو بھی دیا ہے مقام تم سے ہے
  تمہارے دم سے ہیں مرے لہو میں کھلتے گلاب
مرے وجود کا سارا نظام تم سے ہے
کہاں بساطِ جہاں اور میں کمسن و ناداں
یہ میری جیت کا سب اہتمام تم سے ہے
 
جہاں جہاں ہے مری دشمنی سبب میں ہوں
جہاں جہاں ہے مرا احترام تم سے ہے 

♥♥♥♥♥♥♥ماں! میری ماں♥♥♥♥♥♥♥

اور اللہ تعالٰی سے کیا مانگیں۔




اس خبر کو پڑھنے کے بعد میں سوچ کے سمندر میں غوطہ زن ہوں، کہ پہلی قوموں پر من و سلویٰ اترنے کا سنا تھا، جو آسمان سے اترتا تھا۔ لیکن ہم لوگوں کو تو ہر زریعہ سے ہی نعمتوں سے نوازا گیا ہے ، زمین، پہاڑ، دریا، میدان، ہوا، پانی ، سورج غرض ہر چیز ہے جس کو استعمال کیا جا سکتا ہے اور فائدہ اٹھایا جاتا ہے۔ لیکن ہم لوگ کیا کر رہے ہیں:

ہم اپنے غلیظ حکمرانوں کی طرف آس امید لگائے بیٹھے ہیں
ہم ایک دوسرے پر الزام تراشی کرتے رہتے ہیں

ہم اللہ کی نعمتوں کو چھوڑ کر، غیروں سے ملنے والے بھیک پر خود بھی پروان چڑھ رہے ہیں اورا پنے آنے والی نسلوں کو بھی اس پر لگار ہے ہیں۔
ہم ملک سے باہر جا کر جھاڑو لگانے کو ترجیع دیتے ہیں لیکن اپنے ملک میں کرسی پر بیٹھ کر کام کرنا گوارہ نہیں کرتے ۔
ہمیں اللہ نے مسلمان بنایا، بہترین قوم بنایا ، ہمیں اس قابل بنایا کہ ہم دنیا کی اقوام پر حکومت کر سکیں لیکن ہم نے غلامی کو اپنے گلے میں ڈالا۔


قرآن پاک کی آیت کا ترجمہ ہے کہ:



"اور تم اپنے پروردیگار کی کون کون سی نعمت کو جھٹلاو گے"



 
کیا سب جواب دیں کہ میں ، آپ اور ہم ناشکری جیسے گناہ میں مبتلا نہیں






Sunday, 13 May 2012

اپنے سوہنے ملک لئیی

اک پیڑ اگایا سی
بڑیاں آساں تے امیداں نال

ساری حیاتی کلیاں بہہ کے
اونہوں پانی لایا سی

فیر جد ویلا آیا
اودھا پھل کھاون دا
اودی چھاویں سو جاون دا

تے جانے کتھوں، ویری آگئے
میرے سوہنے گھر نوں ٹہا کے
اوتھے اونچے محل بناون

بڑیاں منتا، بڑے ترلے
کردا کردا میں تھک گیا،
اونہا اگے اک نا چلی

ظالم میرا گھر وی ڈھا گئے
میرے شجرے ، سوہنڑے پیڑ نوں
جڑاں وچوں پٹ کے سٹیا،
میریاں ساریاں امیداں مکا گئے
جیندے جی مینوں‌مکا گئے

سوہنیاں ربا تیرا آسرا، تیرا سہارا
میری ڈبدی کشتی نو بس تیرا کنارہ
میں اپنا گھر وی دیتا،
اپنے پیڑ دی قربانی وی،
ہاں میں سب کجھ گواچ وی دیتا،
پر میں نال صبر وی کیتا
میرے سوہنے ملک نو ں بچا دے
ظالم کیتے نا اینوں ڈھا دے
ظالم کیتے نا اینوں ڈھا دے


 اپنے سوہنے دیس لئی اک چھوٹی جی دعا میری زبانی

Thursday, 10 May 2012

سیانے بیواقوف



لو جی بھلے وقتاں وچ ایک کمہار ، اودی بیوی پتر تے بہو نے پنڈ دے چوھدری تو تنگ آ کے فرار ہونے دی کوشش کیتی۔

صبح سویرے اوہناں نے ویسن دے لڈو بنائے تے گھر بوہا بند کر کے پنڈ توں بار دوڑ لا دتیی۔


بد قسمتی نال پنڈ تو تھوڑا جیا دور ہی چوہدری دا اونہاں دے نال ٹاکرا ہو گیا، تے اونہاں دی تیاری توں چوہدری نوں اندازہ ہویا کہ اے تے نس رہیئے نے۔


اوہنے کیا اوئے کتھے چلے او، لگدا نس رہیے او، ایدھر آو:


تہاڈی ایسی تیسی ، تہانوں ملے گی سزا: سارے ایتھے آ جاو


لو جی چوہدری صاحب نے لا لیتا چھتر:


تے نال کہن لگیا،


اوئے کمہارا،


مرغا بن پہلے تینوں وجن گیاں کیوں کے توہی اینا دا زمہ وار ایں:


کمہار دی بیوی نوں آکھیا ادھر آ، تھیلے وچوں لڈو کڈ، تے جدوں میں دس لتر ماراں تو مینوں ایک لڈو کھلانا اے،


کمہار دے پتر نو بلا کے کیا اوئے درخت اتے چڑ جا، جدوں میں دس لتر ماراں تے توں سجے پاسے واجاں مارنیاں نے تے جدوں میں دس لتر فیر ماراں تے کھبے پاسے واجاں مارنیاں نے،


نی کڑیئے ایدھر آ توں لتر گننے نے کہ کنے ہو گئے،جدوں دس ہون نے مینوں دسیں تے سہی سہی گنی، جدوں سو چھتر ہو جان تے فیر دوجے بندے دی واری آوئے گی۔


لو جی ایدھے توں بعد کم شروع ہو گیا، کمہار بیچارے نوں بڑی گدڑ کٹ پئی:


فیرجدوں چوہدری مار مار تھک گیا تے او اوناں نو اوتھے چھڈ کے پنڈ ول ٹر پیا،


اودے جاندے ہی : کمہار دے پتر نے اپنے باپ نوں‌کیا: ابا میں چوہدری نو بڑا بیواقوف بنایا:


اودے پیو نے ہائے ہائے کردے ہوئے آکھیا اچھا او کنج،


پتر: جدوں چوہدری دس لتر ماردا سی نا تے میں سجے دی بجائے کھبے پاسے واجاں ماردا سی ، تے جدوں فیر دس ماردا سی میں کھبے دی بجائے سجے ویکھدا سی:

اے گل سن کے کمار دی بیوی بولی لو جی ای وی کوئی گل اے میں چوہدری نوں بیواقوف بنایا جے،

کمہار نے پوچھیا اوہ کنج:

بیوی: چوھدری نے کہیا سی پورا لڈو کھلائیں تے میں اونو ادھا لڈو کھلاندی ساں،

لو جی ہن اونہاں دی بہو نو وی خیال آیا تے بولی ابا جی میں اینا ساریاں تو زیادہ چوھدری نوں بیواقوف بنایا جے،


جدوں او لتر مار مار کے پوچھدا سی نا کے کنے ہوئے ، تے لتر ہوندے سی دس پر میں کہندی سی پنج ہوئے چوھدری صاحب۔

ایے گل سننے دی دیر سی ، کمہار نے تے چک لتا ڈنڈا ، تے اوناں نوں کٹ لاندا ہویا پنڈ واپس لے آیا۔

سب سے بڑا چاند









دعائیں:::::انجانے خوف کے وقت کی دعا


دعائیں:::::اگر لیٹنے کے بعد نیند نہ آئے


دعائیں:::::بیماری سے شفایابی کی دعا

جب انسان کسی سخت بیماری میں مبتلا ہو، تویہ دعا بکثرت مانگتے رہنا چاہئے۔ اللہ تعالٰی نے حضرت ایوب علیہ السلام کی تکلیف اسی دعا کی برکت سے دور فرمائی تھی۔

ترجمہ:(اے اللہ) مجھے تکلیف نے آلیا ہے، اور آپ سب سے بڑھ کر رحم کرنے والے ہیں۔

دعائیں:::::غم و فکر سے نجات


ابھی تو رُت بدلنی تھی

 ---------------------------------------------
ابھی تو رُت بدلنی تھی
 ابھی تو پھول کھلنے تھے
ابھی تو رات ڈھلنی تھی،
 ابھی تو زخم سلنے تھے
ابھی تو سر زمین جان پ
ہ
 اک بدل کو گھرنا تھا
ابھی تو وصل کی بارش میں
 ننگے پاؤں چلنا تھا
ابھی تو کشت غم میں 
اک خوشی کا خواب بونا تھا
ابھی تو سینکڑوں سوچی ہوئی
 باتوں کو ہونا تھا
ابھی تو ساحلوں پ
ہ
اک ہوا شاد چلنی تھی
ابھی جو چل رہی ہے 
یہ تو کچھ دن بعد چلنی تھی

Wednesday, 9 May 2012

اسٹیبلشمنٹ


پڑھی لکھی جہالت

شکریہ جناب محمد عابد


امریکی عدالت میں ایک امریکی دہشت گرد


(Edited as he is not a Pakistani National at all)

امریکی عدالت میں ایک امریکی دہشت گرد کی تقریر جس نے بہت سے لوگوں کو رلا دیا

طارق مھنا ایک امریکن ہیں ان کے والدین پاکستان اور مصر سے امریکہ ہجرت کرگئے تھے اور طارق وہیں پیدا ہوئے اور پیدائش سےا مریکہ میں مقیم ہیں۔ انہیں کچھ ہفتے قبل ہی امریکی حکومت نے انٹر نیٹ پر جہادیوں کی حمایت کرنے کے الزام میں کئی سال کے لئے جیل بھیج دیا ہے۔ جس وقت جج انہیں سزا سنا رہا تھا انہوں نے بھری عدالت میں ایک بیان دیا تھا۔ اس جذباتی بیان نے عدالت میں موجود بہت سے لوگوں کو مہبوت کردیا تھا اور کئی لوگ اپنی آنکھیں پونچھتے دیکھے گئے۔ اس تقریر کے بعد جج نے کہا کہ عدالت صرف قانون کے دائرے میں رہ کر فیصلہ دیتی ہے قانون بناتی نہیں اور امریکی قانون یہی کہتا ہے کہ آپ مجرم ہیں۔ ذیل میں دئی گئی تحریر دراصل وہ تقریر ہے جوطارق مھنّا نے۱۲ اپریل ۲۰۱۲ء کو سزا سنائے جانے پر امریکی جج کے سامنے کی، طارق مھنّا ان بہت سارے لوگوں میں سے ہیں جو اپنی حق گوئی کی بابت امریکی عقوبت خانوں میں قید ہیں اور امریکہ کی اسلام دشمنی کا ہد ف بن رہے ہیں۔ آپ ابو سبایا کے نام سے انٹرنیٹ پر جانے جاتے تھے اور بہت موثر مقرر ہیں۔ ادارہ


۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

بسم اللہ الرحمن الرحیم
آج سے چار سال قبل یہی اپریل کا مہینہ تھا جب میں ایک مقامی ہسپتال میں اپنا کام ختم کرکے گاڑی کی طرف جارہا تھا کہ میرے پاس امریکی حکومت کے دو ایجنٹ آئے ۔ انہوں نے کہا کہ مجھے دو راہوں میں ایک کا انتخاب کرنا ہوگا، ایک راستہ آسان تھا اور دوسرا مشکل۔ ’آسان‘ راستہ ان کے مطابق یہ تھا کہ امریکی حکومت کا مخبر بن جاؤں اور یوں کبھی عدالت یا قیدخانے کی صورت نہ دیکھنی پڑے گی اور دشوار راستہ، سو وہ آپ کے سامنے ہے۔تب سے اب تک ان چار سالوں کا اکثر حصہ میں نے قید تنہائی میں ایک ایسے کمرے میں گزارا ہے جس کا حجم ایک چھوٹی سی الماری جتنا ہے اور مجھے دن کے تئیس گھنٹے اسی میں بند رکھا جاتا ہے۔ایف بی آئے اور ان وکلاء نے بہت محنت کی،حکومت نے مجھے اس کوٹھری میں ڈالنے، اس میں رکھنے، مقدمہ چلانے اور بالآخر یہاں آپ کے سامنے پیش ہونے اور اس کوٹھری میں مزید وقت گزارنے کی سزا سننے کے لئے لوگوں کے اداکردہ ٹیکسوں کے سینکڑوں ڈالر خرچ کئے۔
اس دن سے ماقبل ہفتوں میں لوگوں نے مجھے بہت سے مشورے دیئے کہ مجھے آپ کے سامنے کیا کہنا چاہئے۔ کچھ نے کہا کہ مجھے رحم کی اپیل کرنی چاہئے کہ شاید کچھ سزا میں تخفیف ہوجائے، جبکہ دوسروں کی رائے تھی کہ کچھ بھی کرلوں میرے ساتھ سختی ہی کا معاملہ کیا جائے گا۔تاہم میں بس یہ چاہتا ہوں کہ چند منٹ اپنے بارے میں گفتگو کروں۔
جب میں نے مخبر بننے سے انکار کردیا تو حکومت نے ردعمل کے طور پرمجھ پر الزام لگایا کہ میں نے دنیا بھر میں مسلم ممالک پر قبضے کے خلاف لڑنے والے مجاہدین کی حمایت کا’جرم‘ کیا ہے۔یا ’دہشتگردوں ‘ کی جیسا کہ وہ انہیں کہنا پسند کرتے ہیں۔حالانکہ میں کسی مسلمان ملک میں بھی پیدا نہیں ہوا۔ میں یہیں امریکہ میں پلا بڑھا ہوں اور یہی بات بہت سے لوگوں کو غضبناک کرتی ہے۔ایسا کیسے ممکن ہے کہ میں امریکی ہونے کے باوجود ان باتوں پر یقین رکھوں جن پر میں رکھتا ہوں اور وہ موقف اختیار کروں جو میں نے کررکھا ہے؟ آدمی اپنے ماحول میں جو کچھ دیکھتا ہے وہ ایک جز بن جاتا ہے جو اس کا نقطہ نظر تشکیل کرتا ہے، اور یہی حال میرا بھی ہے۔لہذا، ایک نہیں بلکہ بہت سی وجوہات کے سبب میں جو کچھ ہوں امریکہ ہی کی وجہ سے ہوں۔
چھ سال کی عمر میں میں نے comic booksکا ذخیرہ جمع کرنا شروع کردیا۔بیٹ مین نے میرے ذہن میں ایک تصور بویا، میرے سامنے ایک نمونہ رکھا کہ کس طرح دنیا کا نظام چل رہا ہے،بعض ظالم ہوتے ہیں، بعض مظلوم ہوتے ہیں اور بعض وہ جو مظلمومین کی حمایت کے لئے آگے آتے ہیں۔یہ چیز میرے ذہن میں اس طرح پیوست رہی کہ اپنے پچپن کے پورے دور کے اندر میں ہر اس کتاب کی طرف کھنچا چلا جاتا جس میں یہ نمونہ پیش کیا جارہا ہوUncle Tom's Cabin, TheAutobiography of Malcolm X اور مجھے توThe Catcher in the Ryeمیں بھی ایک اخلاقی پہلو نظر آتا تھا۔
پھر میں ہائی اسکول پہنچ گیا اور تاریخ کے اسباق پڑھے ،اور مجھ پر یہ واضح ترہوگیا کہ دنیا کا یہ اصول کتنا حقیقی ہے۔میں نے امریکہ کے اصل باشندوں اور یورپی آبادکاروں کے ہاتھوں ان پر ہونے والے ظلم کے بارے میں پڑھا۔میں نے پڑھا کہ پھر ان یورپی آبادکاروں کی نسلوں کو کس طرح کنگ جارج سوم کی جابرانہ حکومت کے دوران ظلم کا نشانہ بنایا گیا۔میں نے پال ریوراور ٹام پین کے بارے میں پڑھا اور یہ کہ کس طرح امریکیوں نے برطانوی فوج کے خلاف مسلح بغاوت کی،وہ بغاوت جس کا اب ہم امریکہ کی انقلابی جنگ کی حیثیت سے جشن مناتے ہیں۔آج جہاں ہم بیٹھے ہیں بچپن میں اس سے کچھ دور ہی اسکول کی فیلڈ ٹرپ پر جایا کرتے تھے۔میں نے ہیریئٹ ٹب مین،نیٹ ٹرنر،جان براؤن اور اس ملک میں غلامی کے خلاف جنگ کے بارے میں پڑھا۔میں نے ایما گولڈمین،یوجین ڈیبز، مزدوروں کی انجمنوں، ورکنگ کلا س اور غرباء کی جدوجہدوں کے بارے میں پڑھا۔میں نے این فرینک اور نازیوں کے بارے میں پڑھا کہ وہ کس طرح اقلیتوں کو اذیتیں دیتے تھے اورمخالفین کو قید کردیتے تھے۔میں نے روزا پارکس، میلکم ایکس، مارٹن لیوتھر کنگ اور شہری حقوق کی جدوجہد کے بارے میں پڑھا۔میں نے ہو چی منھ کے بارے میں پڑھا کہ کس طرح ویت نام کے باشندگان نے کئی دہائیاں یکے بعد دیگرے آنے والے غاصبین کے خلاف لڑنے میں گزاردیں۔ میں نے نیلسن منڈیلا اور جنوبی افریقہ میں نسلی عصبیت کے خلاف جنگ کے بارے میں پڑھا۔میں نے ان سالوں میں جو کچھ پڑھا وہ چھ سال کی عمر میں سیکھی گئی بات کی مزید تصدیق کررہا تھا، کہ پوری تاریخ میں ظالم اور مظلوم کے درمیان ایک مستقل جنگ جاری رہی ہے۔میں نے جس بھی جدوجہد کے بارے میں پڑھا ،میں نے اپنے آپ کو ہمیشہ مظلوم کا طرفدار پایا، اور ان کی حمایت میں کھڑے ہونے والوں کو میں نے ہمیشہ احترام کی نگاہ سے دیکھا، خواہ وہ کسی بھی ملک سے ہوں، کسی بھی مذہب سے تعلق رکھتے ہوں۔ میں نے کبھی بھی اپنی کلاسوں کے نوٹس نہیں پھینکے۔ آج بھی جبکہ میں یہاں کھڑا ہوں وہ میرے کمرے کی الماری میں سلیقے سے رکھے ہیں۔
جتنی بھی تاریخی شخصیات کے بارے میں میں نے پڑھا ان میں سے ایک سب میں ممتاز تھی۔ملیکم ایکس کے بارے میں بہت سی چیزوں نے مجھے متاثر کیا لیکن جس چیز نے سب سے زیادہ دلچسپی بڑھائی وہ کایا پلٹ تھی، ان کی کایا پلٹ۔مجھے معلوم نہیں کہ آپ نے سپائک لی کی فلم ’X‘ دیکھی ہے یانہیں، یہ تقریبا ساڑھے تین گھنٹے کی ہے، اور ابتدا میں نظر آنے والا میلکم آخر میں نظر آنے والے میلکم سے بہت مختلف ہے۔وہ ایک ان پڑھ مجرم ہوتا ہے جو بعدازاں ایک شوہر، ایک باپ ، اپنے لوگوں کا محافظ اور فصیح البیاں لیڈر بن جاتا ہے، ایک اصولی مسلمان جو مکہ میں حج کا فریضہ ادا کرتا ہے اور بالآخر شہید ہوجاتا ہے۔میلکم کی زندگی نے مجھے یہ سبق دیا کہ اسلام کوئی وراثتی دین نہیں ہے؛یہ کسی نسل یا تہذیب کا نام نہیں ہے۔ یہ تو طریقہ زندگی ہے،ایک فکری حالت ہے جو کوئی بھی اپنا سکتا ہے چاہے وہ کہیں سے بھی تعلق رکھتا ہو اور کسی بھی ماحول میں پلا بڑھا ہو۔اس چیز نے مجھے اسلام کو بنظر غائر دیکھنے کی ترغیب دی اور بس پھر میں اس کا دلدادہ ہوگیا۔میں تو صرف ایک نوجوان تھا اوراسلام اس سوال کا جواب پیش کرتا تھا جو بڑے بڑے سائنسی ذہن دینے سے قاصر ہیں۔اور جس کا جواب نہ پاکر امرا ء اور مشہور و معروف لوگ ڈیپریشن اور خودکشیوں کا شکار ہوجاتے ہیں۔زندگی کا مقصد کیا ہے؟اس کائنات میں ہمارا وجود کیوں ہے؟ اسلام نے جواباً بتایا کہ کس طرح ہمیں زندگی گزارنی ہے۔کیونکہ اسلام ہمیں کسی پیشوا یا راہب کا محتاج نہیں کرتا لہذا میں نے براہ راست قرآن اور سنت کی گہرائیوں میں جانا شروع کردیا،تاکہ اس فہم کے سفر کا آغاز کرسکوں کہ اسلام کیا ہے،بحیثیت انسان اسلام میرے لئے کیا پیش کرتا ہے، ایک فرد کی حیثیت سے، میرے اردگرد کے لوگوں کے لئے، ساری دنیا کے لئے، اور جتنا جتنا میں سیکھتا گیا،مجھے اسلام کی قدر وقیمت کا اتنا ہی احساس ہونے لگا گویا وہ کوئی ہیرا ہے۔یہ میرے عنفوان شباب کی بات ہے، لیکن آج بھی پچھلے چند سالوں کے دباؤ کے باوجود، میں یہاں آپ کے اور اس کمرہ عدالت میں موجود تمام لوگوں کے سامنے ایک مسلمان کی حیثیت سے کھڑا ہوں،الحمدللہ۔
اس کے ساتھ ہی میری توجہ دنیا بھر میں مسلمانوں کے حالات کی طرف گئی۔اور جدھر بھی میں نے نگاہ ڈالی میں نے دیکھا کہ نام نہاد طاقتیں میری محبوب شے کے درپے ہیں۔مجھے پتہ چلا کہ سویت نے افغانستان کے مسلمانوں کے ساتھ کیا کیا۔مجھے معلوم ہوا کہ سربوں نے بوسنیا کے مسلمانوں پرکیا قیامت ڈھائی۔مجھے روسیوں کے ہاتھوں چیچن مسلمانوں پر ہونے والے ظلم کے متعلق پتہ چلا۔مجھے پتہ چلا کہ اسرائیل نے لبنان میں کیا کیا تھا، اوراب امریکہ کی مکمل پشت پناہی کے ساتھ فلسطین میں کیا کچھ کررہا ہے۔اور مجھے پتہ چلا کہ خود امریکہ مسلمانوں کے ساتھ کیا کررہا ہے۔مجھے جنگ خلیج کے متعلق اور ان یورینیم بموں کے متعلق علم ہوا جن سے ہزاروں لوگ مر گئے اور عراق میں کینسر کی شرح آسمان کو پہنچ گئی۔میں نے امریکہ کے صادر کردہ ان احکامات و قوانین کے بارے میں جانا جن کے باعث عراق میں کھانا، دوائیں اور طبی سامان جانے سے روک دیا گیا اور کس طرح ،اقوام متحدہ کے مطابق،نتیجتاً پانچ لاکھ سے زائد بچے ہلاک ہوئے۔ مجھے میڈیلائن ایلبرائٹ کے ’۰ ۶ منٹ ‘ کے انٹرویو کا ایک حصہ یاد ہے جس میں اس نے اپنا یہ اظہار خیال کیا تھا کہ یہ بچے اسی قابل تھے۔میں نے گیارہ ستمبرکو دیکھا کہ کس طرح کچھ افراد نے ان بچوں کی ہلاکتوں پر ہوائی جہاز ہائی جیک کرنے اور انہیں عمارتوں میں اڑادینے کی صورت میں اپنے غم و غصے کا اظہار کیا۔پھر میں نے دیکھا کہ امریکہ نے براہ راست عراق پر حملہ کردیاہے۔میں نے حملے کے پہلے روزآپریشن ’Shock and Awe‘ کے نتیجے میں ہونے والی تباہی دیکھی، ہسپتال کے واڑدوں میں وہ بچے تھے جن کے سروں میں امریکی میزائلوں کے ٹکڑے کھبے ہوئے تھے(ظاہر ہے یہ سب کچھ سی این این پر نہیں دکھایا گیا)۔ مجھے حدیثہ کے قصبے کے بارے میں علم ہواجہاں چوبیس مسلمانوں کو جن میں ایک چھیتر سالہ ویل چیئر پربیٹھا بوڑھا، عورتیں اور ننھے بچے شامل ہیں، ان کے بستروں میں ہی گولیوں سے بھون دیا گیا۔ مجھے عبیر الجنبی کے بارے میں پتی چلا، ایک چودہ سالہ عراقی بچی جسے پانچ امریکی فوجیوں نے اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا، جنہوں نے پھر اس کے اور اس کے گھر والوں کے سروں میں گولیاں ماریں اور ان کی لاشوں کو جلا دیا۔میں بس اس بات کی طرف اشارہ کرنا چاہتا ہوں، آپ دیکھتے ہی ہیں کہ مسلم خواتین نامحرم مردوں کو اپنے بال تک نہیں دکھاتیں۔ ذرا تصور کریں ایک گاؤں سے تعلق رکھنے والی بچی کو بے لباس کیا جائے اور پھر ایک نہیں، دو نہیں ، تین نہیں یکے بعد دیگرے پانچ فوجی اسے بے عزت کریں۔آج بھی جبکہ میں اپنے سیل میں بیٹھا ہوتا ہوں ،ان ڈرون حملوں کے بارے میں پڑھتا ہوں جو پاکستان ، صومالیہ اور یمن جیسے ممالک میں روزانہ مستقل بنیاد پر مسلمانو ں کو قتل کررہے ہیں۔پچھلے ماہ ہی ان سترہ افغان مسلمانوں کے بارے میں سنا جن میں اکثریت ماؤں اور ان کے بچوں کی تھی،جو ایک امریکی فوجی کی گولیوں کا نشانہ بنے اور اس نے ان کی لاشوں کو بھی جلا دیا۔ یہ تو صرف چند کہانیاں ہیں جو شہ سرخیوں تک پہنچ پاتی ہیں، تاہم اسلام کے جو تصورات میں نے سب سے پہلے سیکھے ان میں بھائی چارہ اور وفادرای بھی شامل ہے، کہ ہر مسلمان خاتون میری بہن ہے اور ہر مرد میرا بھائی اور مل جل کر ہم سب ایک جسم کی مانند ہے اور ہمیں ایک دوسرے کی حفاظت کرنی ہے۔بالفاظ دیگر ،میں یہ نہیں دیکھ سکتا تھا کہ میرے بہن بھائیوں کے ساتھ یہ کچھ ہوتا رہے، امریکہ بھی ظالموں میں شامل ہو اور میں غیر جانبدار رہوں۔مظلوموں کے لئے میری حمایت جاری رہی تاہم اس بار اس میں اپنائیت بھی تھی، اور یہی احساسات ان لوگوں کے لئے بھی تھے جو ان مظلومین کے دفاع میں اٹھے۔
میں نے پال ریور کا تذکرہ کیا تھا، وہ آدھی رات کو لوگوں کو خبردار کر نے کے لئے نکلا کہ برطانوی سام ایڈمز اور جان ہینکاک کو گرفتار کرنے کے لئے لیگزنگٹن کی طرف پیش قدمی کررہے ہیں اور اس کے بعد کانکورڈجائیں گے تاکہ وہاں آزادی کے لئے لڑنے والی ملیشیا کے ذخیرہ کردہ اسلحہ کو ضبط کریں۔جس وقت تک برطانوی کانکورڈ پہنچے آزادی کے لئے لڑنے والے لوگ اپنے ہاتھوں میں اسلحہ لئے ا ن کے سامنے مقابلے کے لئے کھڑے تھے۔انہوں نے برطانویوں پر گولیاں چلائیں، ان سے لڑائی کی اور انہیں ہرا دیا۔ اسی جنگ سے امریکی انقلاب کا آغا ز ہوا۔ جو کام ان لوگوں نے کیا اس کے لئے ایک عربی لفظ ہے ،اور وہ لفظ ’جہاد ‘ہے، اور میرا مقدمہ بھی اسی سے متعلق تھا۔وہ ساری ویڈیوز اور تراجم اور بچکانہ بحثیں کہ’ اوہ! اس نے اس جملے کا ترجمہ کیا تھا ‘اور ’اوہ ! اس نے اس جملے پر نظر ثانی کی تھی!‘،اور وہ تمام پیش کردہ باتیں ایک ہی معاملے کے گرد گھومتی تھیں:وہ مسلمان جو امریکہ کے خلاف اپنا دفاع کررہے تھے جو ان کے ساتھ وہی سلوک کررہا ہے جو برطانیہ نے امریکہ کے ساتھ کیا تھا۔پیشیوں کے اندر یہ بات بالکل واضح ہوگئی تھی کہ میں کبھی بھی بازاروں میں ’امریکیوں کے قتل‘ کے کسی منصوبے میں شامل نہیں رہا، یا جو بھی کہانی بنائی گئی تھی اس سے میرا کوئی تعلق نہیں۔حکومتی گواہوں نے خود بھی اس دعوے کا رد کیا، اور ایک کے بعد دوسرا ماہر اس جگہ آکر کھڑا ہوتا رہا، جنہو ں نے میرے تحریر کردہ ہر ہر لفظ کے حصے بخرے کرنے میں کئی گھنٹے گزارے کہ میرے عقائد کو بیان کرسکیں۔ اس کے بعد جب میں آزاد ہواتو حکومت نے اپنا ایک خفیہ ایجنٹ بھیجا کہ وہ مجھے اپنے کسی چھوٹے سے’دہشتگردانہ منصوبے‘ میں ملوث ہونے کی ترغیب دے سکے، لیکن میں نے شمولیت سے انکار کردیا۔ تاہم حیرت کی بات ہے کہ جیوری کو اس بارے میں کوئی خبر نہیں۔
لہذا ،میرا یہ مقدمہ امریکی شہریوں کے قتل پر میرے موقف کے لحاظ سے نہیں تھا، بلکہ یہ امریکیوں کے ہاتھوں مسلمان شہریوں کے قتل کے لحاظ سے میرے موقف پر تھا، اور وہ یہی ہے کہ مسلمانوں کو اپنی اراضی پر غاصب قوتوں کے خلاف دفاع کرنا چاہئے چاہے وہ امریکی ہوں ، روسی ہوں یا مریخی ہوں۔میں اسی بات پر یقین رکھتا ہوں، ہمیشہ سے میرا یہی یقین رہا ہے اور ہمیشہ یہی یقین رہے گا۔یہ نہ دہشت گردی ہے ،نہ انتہا پسندی ہے۔یہ تو بس دفاع نفس کی سادہ سی منطق ہے۔یہ وہی چیز ہے جس کی نمائندگی آپ کے اوپر موجود علامت کے تیر کررہے ہیں، وطن کا دفاع۔چنانچہ میں اپنے وکلاء کی اس بات سے متفق نہیں ہوں کہ آپ کو میرے عقائد ماننے کی ضرورت نہیں۔نہیں،بلکہ جس کے اندر بھی تھوڑی سی عقل اور انسانیت ہوگی لامحالہ اسے یہ بات ماننی ہی پڑے گی۔ اگر کوئی آپ کے گھر میں گھس کر چوری کرنا چاہے اور آپ کے اہل و عیال کو نقصان پہنچانا چاہے تو عقل یہی کہے گی کہ اس جارح کو باہر نکالنے کے لئے جو کچھ ہو سکتا ہے وہ کیا جائے۔ لیکن جب وہ گھر کوئی مسلم سرزمین ہو، اور وہ جارح امریکی فوج ہو، تو کسی وجہ سے یہ اصول بدل جاتے ہیں۔عقل کا نام’دہشت گردی ‘رکھ دیا جاتا ہے، اور جو لوگ سمندر پار سے آئے قاتلوں کے خلاف اپنا دفاع کرتے ہیں وہ ’دہشت گرد‘ بن جاتے ہیں جو ’امریکیوں کو قتل‘ کررہے ہیں۔ ڈھائی صدی پہلے امریکہ جس ذہنیت کا شکار تھا جب برطانوی ان سڑکوں پر چل رہے تھے وہی ہے جس کا شکا ر آج مسلمان ہیں جن کی سڑکوں پر امریکی فوجی مٹر گشت کررہے ہیں۔ یہ استعماریت کی ذہنیت ہے۔جب سرجنٹ بیلز نے پچھلے مہینے ان افغانوں کو قتل کیا تو ذرائع ابلاغ کا سارا زور اس کی ذات پر تھا، اس کی زندگی، اس کی پریشانی، اس کے گھر کا گروی ہونا، گویا وہی ظلم کا نشانہ بنا ہے۔اور جن لوگوں کو اس نے ماراتھا ان کے لئے کم ہی ہمدردی دکھائی گئی،گویا وہ حقیقی لوگ نہیں تھے، انسان نہیں تھے۔بدقسمتی سے یہی ذہنیت معاشرے کے ہر فرد میں راسخ ہوچکی ہے،چاہے اسے اس بات کا احساس ہو یا نہ ہو۔حتی کہ میرے وکلاء بھی، دو سال گفتگو کرنے، سمجھانے اور وضاحتیں پیش کرنے میں لگے اور پھر کہیں جاکر وہ اس قابل ہوئے کہ اپنے خول سے باہر جھانک سکیں اور کم ازکم میری بات میں موجود منطق و عقل کو بناوٹی طور پر ہی قبول کرسکیں۔دو سال!اگر اتنے ذہین لوگوں کو اتنا وقت لگا، جن کا کام میرا دفاع کرنا تھا، اپنی ذہنیت تبدیل کرنا تھا ، اور پھر مجھے یونہی کسی جیوری کے سامنے پیش کردیا گیا اس بات کے تحت کہ وہ میرے’غیر جانبدار موکل‘ ہیں ، مطلب یہ کہ مجھے اپنے ساتھیوں کی جیوری کے سامنے نہیں پیش کیا گیا کیونکہ جو ذہنیت امریکہ پر چھائی ہوئی ہے اس کی وجہ سے میرے کوئی ساتھی ہی نہیں۔اسی حقیقت کو بنیاد بناتے ہوئے حکومت نے مجھ پر مقدمہ چلایا، اس لئے نہیں کہ انہیں کوئی حاجت تھی، بس صرف اس لئے کیونکہ وہ ایسا کرسکتے تھے۔
میں نے تاریخ کی کلاسوں میں ایک او ر بات بھی سیکھی تھی۔امریکہ نے تاریخ میں ہمیشہ اپنی اقلیتوں کے خلاف غیر منصفانہ ترین حکمت عملیاں اپنائی ہیں، ایسے افعال جنہیں قانون کا تحفظ بھی حاصل تھا، اور پھربعد میں پیچھے دیکھ کر یہی کہا گیا’آخر ہم کیا سوچ رہے تھے؟‘غلامی، جم کرو،جنگ عظیم دوئم میں جاپانیوں کی نظر بندی، یہ سب امریکی معاشرے میں بالکل قابل قبول تھا، اور سپریم کورٹ کی پشت پناہی کے ساتھ تھا۔لیکن جیسے جیسے وقت گزرتا گیا اور امریکہ بدل گیا، عوام اور عدلیہ دونوں نے پیچھے دیکھ کر یہی کہا کہ ’آخر ہم کیا سوچ رہے تھے؟‘ جنوبی افریقہ کی حکومت نیلسن منڈیلا کودہشت گرد سمجھتی تھی، اور اسے قید حیا ت کی سزا سنائی گئی تھی۔لیکن وقت گزر گیا اور دنیا بدل گئی،انہیں احساس ہوا کہ ان کی پالیسی کتنی ظالمانہ تھی، کہ دراصل وہ دہشت گرد نہیں تھا، اور اسے قید سے آزاد کردیاگیا۔ وہ صدر بھی بن گیا۔ لہذا ہر چیزذہنیت سے تعلق رکھتی ہے، یہ ’دہشت گردی‘ کا سارا معاملہ بھی اور یہ کہ کون ’دہشت گرد ‘ہے۔یہ سب تو وقت اور مقام پر منحصر ہے اور یہ کہ کون اس وقت ’عالمی قوت ‘ ہے۔
آپ کی نظروں میں میں دہشت گردہوں، صرف ایک میں ہی یہاں پر ایک زرد لباس میں کھڑا ہوں اور میرا یہاں زرد لباس میں کھڑا ہونا بالکل معقول ہے۔ لیکن ایک دن امریکہ بدل جائے گا اور لوگوں کو اس دن کی حقیقت کا احساس ہوگا۔وہ دیکھیں گے کہ کس طرح ہزاروں لاکھوں مسلمان غیر ممالک میں امریکی فوج کے ہاتھوں قتل ہوئے اور اپاہج ہوئے۔ تاہم کسی طریقے سے آج میں ہوں جسے ان ممالک میں’قتل اور اپاہج کرنے کی سازش ‘ کی وجہ سے قید میں بھیجا جارہا ہے، کیونکہ میں ان لوگوں کا دفاع کرنے والے مجاہدین کی حمایت کرتا ہوں۔لوگ پیچھے مڑ کر دیکھیں گے کہ کس طرح حکومت نے مجھے’دہشتگرد‘ کی حیثیت سے قید کرنے کے لئے لاکھوں ڈالر خرچ کئے، لیکن اگر ہم کسی طرح امیر الجنبی کو اس موقع پر زندہ کرکے لاکھڑا کریں جب وہ آپ کے فوجیوں کے ہاتھوں ذلیل ہورہی تھی، اسے اس گواہی کے کٹہرے میں کھڑا کریں اور اس سے پوچھیں کہ دہشت گرد کون ہیں، تو یقیناًاس کا اشارہ میر ی طرف نہیں ہوگا۔
حکومت کا کہنا ہے کہ مجھ پر شدت کا بھوت سوار ہے، ’امریکیوں کے قتل ‘کا بھوت سوار ہے۔ لیکن اس دور میں رہنے والے مسلمان کی حیثیت سے، میں اس سے زیادہ طعن آمیز جھوٹ سوچ بھی نہیں سکتا۔