Saturday, 9 April 2011

گوادر سونے کے جزیرے کی بجائے بھوتوں کا مرکز بن گیا



گوادر کی بندرگاہ کو عظیم معاشی مرکز بنانے کا پاکستانی خواب سپر پاور کے اثر و رسوخ سے تباہ ہو گیا ہے۔آٹھ سال قبل گوادر کی چھوٹی سی فشنگ پورٹ کو ایک ڈیوٹی فری پورٹ اور ایک آزاد اقتصادی زون میں تبدیل کرنے کا خواب تھا۔لیکن آج گوادر سونے کے جزیرے کی بجائے بھوتوں کا مرکز دکھائی دیتا ہے۔برطانوی اخبار ’گارڈین‘ کی ایک تفصیلی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ افغانستان کے ساتھ ملحقہ سرحد پر دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑی جارہی ہے اس سے میلوں دور ایران کے ساتھ مکران کے ساحل پر واقع گوادر کی بندرگاہ بھی عسکریت پسندی کا مرکز ہے۔طالبان کے خلاف جنگ کے برعکس اس بغاوت نے اتنی زیادہ بین الاقوامی توجہ حاصل نہیں کی۔


اگرچہ یہ صورت حال سپر پاور کے مفادات کے خلاف ہے۔ جب کہ روس اور برطانوی سلطنت نے اس علاقے پر کنٹرول کے لئے کئی لڑائیاں کی ۔ یہ امید تھی کہ گوادر شپنگ ، تجارتی اور صنعتی سرگرمیوں کا علاقائی مرکز بن جائے اور یہ پورٹ وسطی ایشیا کے وسیع تیل اور گیس کے ذخائر فراہم کرنے کے لیے پاکستان کے درمیان ایک لنک کا کام دے۔ رئیل اسٹیٹ کا جال، مستقبل کی رہائشی اسکیموں اور ہوٹلوں کے جگمگاتے بورڈ اور کراچی سے گوادر تک دو لین سڑک بنادی گئی۔چینی حکام کی مدد سے پورٹ مکمل اور بحری جہازوں کے لیے تیار ہے لیکن گوادر سونے کا جزیرے کی بجائے بھوتوں کا بسیرا معلوم ہوتا ہے

۔خالی پلاٹ عمارات بننے کے منتظر ہیں جن کی تعمیر کے وعدے کیے گئے لیکن مکمل نہیں ہوئے۔چینی حکومت کی بجائے تین سال قبل اسے سنگاپور کی حکومت کو لیز پر دے دیا گیا۔ بندرگاہ کے ساتھ چین کی ہاربر انجینئرنگ کمپنی کے گروپ نے ایک منصوبے میں 200ملین ڈالر کی بھاری سرمایہ کاری کی ۔چینی حکام اسلام آباد سے چین تک قرارقرم کے منصوبے کو وسیع کرنا چاہتے ہیں اور اسے گوادر سے منسلک کریں گے۔لیکن بھارت خطے میں چین کی موجودگی سے خوف زدہ ہے۔ بلوچ قوم پرست گوادر میں ترقی کے مخالف ہیں۔بلوچستان کی ترقی کا ریکارڈ مایوس کن ہے 3لاکھ پچاس ہزار مربع کلومیٹر کے رقبے بلوچستان میں ملک بھر کی صرف سات فی صد آبادی ہے۔صدیوں سے گوادراسمگروں کی جنت بنارہا ہے اور خاص کرانسانی اسمگلنگ کی وجہ سے بدنام ہے۔جہاں سے غیر قانونی تارکین وطن کو مشرق وسطی میں اور اس سے باہر اسمگل کیا جاتا ہے۔یہ گریٹ گیم 21 ویں صدی میں بھی جاری رہے گی۔

No comments:

Post a Comment