Saturday, 30 June 2012

جاگو پاکستان، انقلاب زندہ باد

اللہ تعالٰی کمی بیشی معاف فرمائے، ایک حدیث مبارکہ کا مفہوم ہے کہ
 
ایک وقت ایسا آئے گا جب گلیوں، بازاروں میں زنا عام ہو جائے گا


اب اگر آپ اس حدیث کا موازنہ کریں اور موجودہ صورت حال دیکھیں تو آپ کو احساس ہو گا کہ شاید اسی دور کی طرف اشارہ کیا گیا تھاجس میں ہم لوگ رہ رہے ہیں۔ سڑکوں پر ، روڈوں پر یا  بازاروں میں نکلنے کے بعد اگر اپنے اردگر نظر دوڑائیں تو ہر طرف آویزاں اشتہاری بورڈ، کتبے، بینرز غرض ہر چیز میں حوا کی بیٹی کو بطور تشہیر نیم عریاں یا نیم برہنہ کرکے پیش کیا جاتا ہے، حیرت اور شرم کی انتہا ہےان لڑکیوں پر جو گلیمر اور پیسے کی حوس میں اپنے جسموں کو فروخت کرتی ہیں۔

اگر بہتر طور پر کہا جائے تو یہ ہمارے معاشرے کی وہ گندگی ہے جسے ہم مکمل طور پر فراموش کر بیٹھے ہیں، ایسے اشتہار بنانے والے، لگانے والے اور دیکھنے والے مکمل طور پر بھول چکے ہیں کہ ہم ایک مسلمان ملک کے مسلمان شہری ہیں۔ شاید اس روشن خیالی کے زریعے وہ یہ بتلانا چاہتے ہیں کہ وہ بہت لبرل اور امن پسند ہیں اور ساری دنیا کی گندگی میں شامل ہو کر امن کی بھاشا بول رہے ہیں۔

ایک شریف انسان اپنی، ماں ، بہن ، بیٹی یا بیوی کے ساتھ گھر سے باہر نکل کر یقینی طور پر شرمندہ ہوتا ہوگا جب اس کی نظر اس طرح کے فحش اشتہارات پر پڑتی ہوگی۔

بے حسی اور بے غیرتی کا منہ بولتا ثبوت ہیں سب لوگ اور ان کاموں کی سرپرستی کرنے والے صاحبان!!!!!! کسی کی عزت کو پامال کرکے یا عریانیت دکھا کر آپ کیسے کہہ سکتے ہیں کہ آپ کے اپنے گھر اس گندگی سے محفوظ رہیں گے، ایسا ممکن ہی نہیں ہے، جب تک ہم دوسرے کی ماں، بہن، بیٹی اور بیوی کی عزت نہیں کریں گے کوئی ہماری عزت کا پاسدار نہیں ہو گا۔ یہ کارہائے عمل ہے اور ایک وارننگ ہے ان لوگوں کے لیے جو زاتی مفادات کی بنا پر اور پیسوں کی ہوس میں ایسا گھناونا کام کر رہے ہیں ، بلکل یہ زنا عام کرنے والی ہی ایک بات ہے۔


ایک مضمون ابھی ابھی نظر سے گزرا جو کراچی میں ایک ایسے ہی اجتماعی تحریک پر ہے کہ نوجوان لڑکے رات کے وقت کالا رنگ لیکر ایسے بورڈز اور بینرز وغیرہ سے عریانیت بھری تصاویر کو کالا کرتے ہیں اور ایسی قابل اعتراض اور گندی تصاویر جو سر عام لگائی گئیں ہیں ان کو چھپاتے ہیں۔

اللہ ان کو اس نیک کام میں کامیاب کرئے اور مزید ہمت دے، باقی دوست احباب جن تک یہ صداء پہنچے گی ان سے گزارش ہے کہ اس پیغام کو کسی بھی صورت دوسروں تک پہنچائیں اور معاشرے میں بیداری لانے کے لیئے عملی طور پر میدان میں آئیں۔

شکریہ، اللہ ہمیں نیک عمل عام کرنے کی اور خود احتسابی توفیق دے، آمین ثم آمین

راشد ادریس رانا

No comments:

Post a comment