Sunday, 1 April 2012

مجھے ٹوٹی ہوئی چیزوں سے اک بے نام الفت ہے _____منور چشتی

کسی بھی موڑ یا اگلے پڑاو پر
جدا گر ہم کو ہونا ہے
تو آو
پھر
یہیں الگ کر لیں
 ہم اپنے اثاثوں کو
یہ جتنے ذخم دل پر ہیں

ادھر میری طرف کردو
کہ،،،،،،،،،،،،،،تم اکثر یہ کہتے تھے
یہ سب میری بدولت ہیں

مگر ٹھرو زرا ٹھرو
جو مل کے ہم نے دیکھے تھے
سہانے خواب تم رکھ لو
ادھورے سب مجھے دےدو

کہ میری یوں بھی عادت ہے
مجھے ٹوٹی ہوئی چیزوں سے اک بے نام الفت ہے

No comments:

Post a comment