Sunday, 22 April 2012

وہ دل میں مرے گھات لگا کر ہی رہے گا : فاخرہ بتول



وہ دل میں مرے گھات لگا کر ہی رہے گا
جذبات میں ہلچل سی مچا کر ہی رہے گا
ہر بات میں تکرار کی عادت کے سبب وہ
رشتے میں کوئی چھید بنا کر ہی رہے گا
کہتا ہے، مجھے چاند کو چھونے کی ہے خواہش
اک روز زمیں پر اسے لا کر ہی رہے گا
کچا ہے گھروندا مرا، بادل بھی ہے ضد میں
لگتا ہے کوئی کام دکھا کر ہی رہے گا
گرتی ہے تو سو بار گرے، اُس کی بلا سے
وہ ریت کی دیوار بنا کر ہی رہے گا
شک روگ ہے یہ دل کو اگر چھو لے تو سمجھو
بُنیاد وہ اس گھر کی ہلا کر ہی رہے گا

No comments:

Post a comment