Sunday, 1 April 2012

♣♣♣ ٹوٹی ہوئی کشتیوں والے ♣♣♣

دشت میں پیاس بجھا تے ھوے مر جاتے ہیں
ھم پرندے کہیں جاتے ہوے مر جاتے ہیں

ھم ہیں سوکھے ہوے تالاب پے بیتھے ہوے ہنس

جو تعلق کو نبھاتے ہوے مر جاتے ہیں

گھر پہنچتا ہے کوی اور ہمارے جیسا

ہم تیرے شہر سے جاتے ہے مر جاتے ہیں

کس ترح لوگ چلے جاتے ہیں اُٹھ کے

ھم تو یہ دھیان میں لاتے ہوے مر جاتے ہیں

اُن کے بھی قتل کا الزام ہمارے سر ہے

جو ہمیں زہر پلاتے پوے مر جاتے ہیں

یہ محبت کی کہانی نہیں مرتی لیکن

لوگ کردار نبھاتے ہوے مر جاتے ہیں

ہم ہیں وہ ٹوٹی ہوئی کشتیوں والے تابش

جو کناروں کو ملاتے ھوے مر جاتے ہیں

No comments:

Post a comment