صرف انقلاب ہی معاشرے سے برائیوں کو ختم کر سکتا ہے، آئیں ہم سب ملکر اپنے اندر خود احتسابی کا انقلاب برپا کریں۔ جو بات کہتا ہوں بڑی بے حجاب کہتا ہوں اسی لیئے تو زندگی کو انقلاب کہتا ہوں
Sunday, 9 September 2012
Friday, 7 September 2012
Thursday, 6 September 2012
پاکستان کا مطلب کیا:::::::::: لا الہٰ الا اللہ
Thank you BBC Urdu........
پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے جن چار پاکستانی
فوجیوں کے بارے میں یہ سمجھا جاتا رہا کہ وہ سنہ انیس سو پینسٹھ کی جنگ میں
مارے گئے تھے اب ان کے زندہ ہونے کی امید پیدا ہو گئی ہے۔
ان فوجیوں کے خاندان والوں کو یہ امید پیدا ہوگئی
ہے کہ شاید وہ زندہ ہوں اور اس کی وجہ بھارت کی سپریم کورٹ میں ان فوجیوں
کی بازیابی کے لیے دائر رٹ پٹیشن کی سماعت کے دوران ایک بھارتی پولیس افسر
کا مبینہ طور پر یہ اعتراف کہ انھیں جنگ کے دوران گرفتار کیا گیا تھا۔
سینتالیس سال پہلے چھ ستمبر کو ہی پاکستان اور بھارت کے درمیان تنازع کشمیر پر دوسری جنگ شروع ہوئی تھی۔
پہاڑوں کے دامن میں دریائے پونچھ کے کنارے پر واقع ضلع کوٹلی کے تائی
گاؤں کے سامنے کنٹرول لائن کے آر پار صاف دکھائی دینے والی پاکستان اور
بھارت کی فوجی چوکیاں آج بھی سنہ انیس سو پینسٹھ کے معرکوں کی یاد دلاتی
ہیں۔ان معرکوں کے دوران اس گاؤں سے تعلق رکھنے والے سات پاکستانی فوجی
مبینہ طور پر لاپتہ ہوگئے تھے۔ ان فوجیوں کے خاندان والے برسوں تک یہی سمجھتے رہے کہ ان کے پیارے اس جنگ میں کام آ چکے۔
محمد بشیر سنہ انیس سو پینسٹھ میں صرف تین سال کے
تھے جب ان کے والد برکت حسین اپنے مکان کے سامنے والی پہاڑیوں پر واقع ایک
پوسٹ پر بھارتی فوج کے ساتھ لڑائی کے دوران لاپتہ ہوئے تھے۔
بشیر کا بھی برسوں تک یہی خیال تھا کہ ان کے والد اس جنگ میں مارے گئے
ہیں لیکن چالیس سال بعد سنہ دو ہزار چھ میں محمد بشیر کو یہ خبر ملی کہ ان
کے والد برکت حسین زندہ ہیں۔
سنہ دو ہزار چھ میں جے کے ایل ایف ( جموں کشمیر
لبریشن فرنٹ) کا مجاہد محمد ایوب کھوکھر آیا اور انھوں نے بتایا کہ ان کی
سینڑل جیل جموں میں میرے والد سے ملاقات ہوئی اور وہ جیل میں اکھٹے رہے،
اللہ پر بھروسہ ہے، اگر زندگی ہوئی تو ملاقات ہوگی، ہماری خواہش ہے کہ
ہماری ملاقات ہو، ہم انھیں دیکھیں، ان کی خدمت کریں۔

سابق کشمیری عسکریت پسند محمد ایوب کا تعلق بھی ضلع کوٹلی سے ہے۔
انھیں پندرہ سال بعد سنہ دو ہزار چھ میں بھارت کی قید سے رہائی ملی جس کے بعد وہ گھر لوٹے۔ ایوب کے بقول تائی گاؤں کے دو سابق پاکستانی فوجیوں سے ان کی ملاقات جموں سینڑل جیل میں سنہ انیس سو اٹھانوے میں ہوئی تھی۔
سخی محمد اور برکت حسین دونوں بزرگ ہیں، ان دونوں
سے میری ملاقات جموں جیل میں ہوئی، انھوں نے مجھے بتایا کہ وہ تائی گاؤں کے
رہنے والے ہیں۔ ایوب کے مطابق ان لاپتہ فوجیوں نے بتایا کہ ان کے چار اور ساتھی بھی
پکڑے گئے تھے جن میں سے ایک ساتھی کٹھوعہ اور دوسرے کو ہیرا نگر کی جیل میں
رکھا گیا جبکہ دو لاپتہ ہیں۔ اس خبر کے بعد تائی گاؤں کے لاپتہ فوجیوں کےخاندان والوں کو یہ امید پیدا ہوئی کہ شاید ان کے خاندان والے زندہ ہوں۔ انھوں نے اپنے پیاروں کی تلاش کے لیے پاکستانی اور کشمیری حکمرانوں سے مدد کی درخواست کی مگر اس کا کوئی نتیجہ نہیں نکلا۔
گزشتہ سال چھ میں سے چار لاپتہ فوجیوں برکت حسین،
عالم شیر، سخی محمد اور بگا کے خاندان والوں نے بھارت کی سپریم کورٹ میں
حبس بے جا کی رٹ دائر کی۔ یہ رٹ پٹیشن بھارت کے زیر انتظام کشمیر کی لیگل ایڈ کمیٹی نے دائر کی جس کے ایگزیکٹیو چئیرمین سینئیر وکیل پروفیسر بھیم سنگھ ہیں۔
بھیم سنگھ کے مطابق سپریم کورٹ میں ان کی پٹیشن کے
جواب میں بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر کے ڈپٹی انسپیکٹر جنرل جیل نےعدالت
میں یہ اعتراف کیا کہ تین پاکستانی فوجی برکت حسین، عالم شیر اور سخی محمد
چھ ستمبر سنہ انیس سو پینسٹھ کو گرفتار ہوئے جنھیں بعد میں جموں کی سینٹرل
جیل میں رکھا گیا البتہ ان کا کہنا ہے کہ بگا کے بارے میں ڈپٹی آئی جی جیل
نے کوئی ذکر نہیں کیا۔
بھیم سنگھ کا کہنا ہے کہ انھوں نے اپنی پٹیشن میں
ان کی گرفتاری کی تاریخ کا کوئی ذکر نہیں کیا تھا لیکن ڈپٹی آئی جی جیل نے
گرفتاری کی تاریخیں بھی دیں۔
بھیم سنگھ کے بقول انھوں نے عبدالعزیز نامی ایک
اور پاکستانی فوجی کو، جس کا نام رٹ پٹیشن میں شامل نہیں تھا سنہ انیس سو
سٹرسٹھ میں گرفتار کرنے کا اعتراف کیا۔
انھوں نے کہا کہ سپریم کورٹ نے ان فوجیوں کو عدالت میں پیش کرنے کا حکم
دیا لیکن دہلی اور سرینگر کی حکومتوں نے عدالت کو بتایا کہ یہ جموں کشمیر
میں نہیں ہیں۔ بھیم سنگھ نے کہا کہ رواں ماہ میں اس مقدمے پر حتمی بحث
ہوگی۔
لاپتہ پاکستانی فوجی عالم شیر کی دو بیٹیاں ہیں
اور چھوٹی بیٹی سفینہ دو ماہ کی تھیں جب ان کے والد سنہ انیس سو پینسٹھ کی
جنگ میں لاپتہ ہوئے تھے اور اب وہ پانچ بچوں کی ماں ہیں۔
سفینہ کے مطابق ’امی بھی نہیں ہیں، بھائی بھی کوئی
نہیں، چچا بھی وفات پا چکے میری خواہش ہے کہ ابا ایک بار آجائیں ان کو
دیکھ لوں پھر موت بھی آئے تو کوئی بات نہیں پہلے ہم سوچتے تھے وہ مرچکے ہیں
مگر اب امید ہے شاہد وہ آ جائیں اب سارے کہتے ہیں کہ وہ زندہ ہیں، اللہ
ہمیں ملائے۔‘
لاپتہ پاکستانی فوجیوں کے خاندان والوں نے پاکستان
کے حکمرانوں سے اپیل کی ہے کہ اگر ان کے پیارے زندہ ہیں تو ان کی اپنے
گھروں کی واپسی کے لیے اقدامات کیے جائیں۔
Tuesday, 4 September 2012
Monday, 3 September 2012
بد فالی اور بدشگونی
:اللہ تعالی کا ارشاد ہے
(أَلَا إِنَّمَا طَائِرُهُمْ عِنْدَ اللَّهِ وَلَكِنَّ أَكْثَرَهُمْ لَا يَعْلَمُونَ )(سورة الأعراف7: 131)
“خبردار ! ان کی بدشگونی (نحوست)اللہ کے ہاں مقدر ہے لیکن ان میں سے اکثر نہیں جانتے۔
نیز اللہ تعالی کا ارشاد ہے:
(قَالُوا طَائِرُكُمْ مَعَكُمْ أَئِنْ ذُكِّرْتُمْ بَلْ أَنْتُمْ قَوْمٌ مُسْرِفُونَ (سورة يس36: 19))
رسولوں نے کہا: تمہاری نحوست تمہارے ہی ساتھ ہے۔ کیا (تم یہ باتیں) اس لیے کرتے ہو کہ تمہیں نصیحت کی گئی ہے؟ بلکہ (حقیقت تو یہ ہے کہ)تم لوگ حد سے تجاوز کرچکے ہو۔
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
(لاَ عَدْوَى وَلاَ طِيَرَةَ، وَلاَ هَامَةَ وَلاَ صَفَرَ،)(صحیح البخاری، الطب، باب لاھامۃ، ح:5757 و صحیح مسلم، السلام، باب لا عدوی ولا طیرۃ ولا ھامۃ ولا صفر، ولا نوء ولا غول، ح:2220، زاد مسلم: “ولا نوء ولا غول”)
“کوئی بیماری متعدی نہیں، بدفالی اور بدشگونی کی بھی کچھ حقیقت نہیں۔ نہ الو کا بولنا (کوئی برا اثر رکھتا )ہے اور نہ ہی ماہ صفر(منحوس)ہے۔”(3)
صحیح مسلم کی روایت میں یہ بھی ہے: “ستاروں کی تاثیر کا عقیدہ بھی بے اصل ہے اور بھوتوں کا بھی کوئی وجود نہیں۔”
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
(لاَ عَدْوَى وَلاَ طِيَرَةَ، وَيُعْجِبُنِي الفَأْلُ قَالُوا: وَمَا الفَأْلُ؟ قَالَ: كَلِمَةٌ طَيِّبَةٌ)(صحیح البخاری، الطب، باب لا عدوی، ح: 5776 و صحیح مسلم، السلام، باب الطیرۃ والفال ح:2224)
کوئی بیماری متعدی نہیں۔ نہ بدفالی و بدشگونی کی کچھ حقیقت ہے البتہ مجھے فال پسند ہے۔ صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کی : فال سے کیا مراد ہے؟ آپ نے فرمایا: عمدہ اور بہترین بات(سن کر حسن انجام کی امید رکھنا)۔(4)
عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے،
'' رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بدفالی اور بدشگونی کا تذکرہ ہوا تو آپ نے فرمایا ان سب سے بہتر فال ہے اور یہ کسی مسلمان کو اس کے مقصودسے روک نہ دے۔ چنانچہ جب کوئی شخص ناپسندیدہ چیز دیکھے تو یہ دعا کرے:
( اللَّهُمَّ لَا يَأْتِي بِالْحَسَنَاتِ إِلَّا أَنْتَ، وَلَا يَدْفَعُ السَّيِّئَاتِ إِلَّا أَنْتَ، وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِكَ)(سنن ابی داود، الکھانۃ و التطیر، باب فی الطیرۃ، ح:3919)
“یا اللہ! تیرے سوا کوئی بھلائیاں لا سکتا ہے نہ کوئی برائیوں کو دور کرسکتاہے۔ اور تیری توفیق کے بغیر ہم میں بھلائی کی طاقت ہے نہ برائی سے بچنے کی ہمت۔”(5)
عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
(الطِّيَرَةُ شِرْكٌ الطِّيَرَةُ شِرْكٌ وَمَا مِنَّا إِلَّا وَلَكِنَّ اللَّهَ يُذْهِبُهُ بِالتَّوَكُّلِ)(سنن ابی داود، الکھانۃ والطیرۃ، باب فی التطیر، ح:3910 و جامع الترمذی، السیر، باب ما جاء فی الطیرۃ، ح:1614)
“بدفالی شرک ہے، بدشگونی شرک ہے، اور ہم میں سے کوئی بھی ایسا نہیں جسے (بتقاضائے بشریت)ایسا وہم نہ ہوتا ہو مگر اللہ رب العزت توکل کی وجہ سے اس کو ہم سے رفع فرمادیتا ہے۔”(6)
عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے مروی ایک حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
“جو شخض اپنے کسی کام سے بدفالی کی بنا پر رکا اس نے شرک کیا۔ صحابہ رضی اللہ عنہم نے دریافت کیا اس کا کفارہ کیا ہے ؟
(قَالُوا طَائِرُكُمْ مَعَكُمْ أَئِنْ ذُكِّرْتُمْ بَلْ أَنْتُمْ قَوْمٌ مُسْرِفُونَ (سورة يس36: 19))
رسولوں نے کہا: تمہاری نحوست تمہارے ہی ساتھ ہے۔ کیا (تم یہ باتیں) اس لیے کرتے ہو کہ تمہیں نصیحت کی گئی ہے؟ بلکہ (حقیقت تو یہ ہے کہ)تم لوگ حد سے تجاوز کرچکے ہو۔
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
(لاَ عَدْوَى وَلاَ طِيَرَةَ، وَلاَ هَامَةَ وَلاَ صَفَرَ،)(صحیح البخاری، الطب، باب لاھامۃ، ح:5757 و صحیح مسلم، السلام، باب لا عدوی ولا طیرۃ ولا ھامۃ ولا صفر، ولا نوء ولا غول، ح:2220، زاد مسلم: “ولا نوء ولا غول”)
“کوئی بیماری متعدی نہیں، بدفالی اور بدشگونی کی بھی کچھ حقیقت نہیں۔ نہ الو کا بولنا (کوئی برا اثر رکھتا )ہے اور نہ ہی ماہ صفر(منحوس)ہے۔”(3)
صحیح مسلم کی روایت میں یہ بھی ہے: “ستاروں کی تاثیر کا عقیدہ بھی بے اصل ہے اور بھوتوں کا بھی کوئی وجود نہیں۔”
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
(لاَ عَدْوَى وَلاَ طِيَرَةَ، وَيُعْجِبُنِي الفَأْلُ قَالُوا: وَمَا الفَأْلُ؟ قَالَ: كَلِمَةٌ طَيِّبَةٌ)(صحیح البخاری، الطب، باب لا عدوی، ح: 5776 و صحیح مسلم، السلام، باب الطیرۃ والفال ح:2224)
کوئی بیماری متعدی نہیں۔ نہ بدفالی و بدشگونی کی کچھ حقیقت ہے البتہ مجھے فال پسند ہے۔ صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کی : فال سے کیا مراد ہے؟ آپ نے فرمایا: عمدہ اور بہترین بات(سن کر حسن انجام کی امید رکھنا)۔(4)
عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے،
'' رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بدفالی اور بدشگونی کا تذکرہ ہوا تو آپ نے فرمایا ان سب سے بہتر فال ہے اور یہ کسی مسلمان کو اس کے مقصودسے روک نہ دے۔ چنانچہ جب کوئی شخص ناپسندیدہ چیز دیکھے تو یہ دعا کرے:
( اللَّهُمَّ لَا يَأْتِي بِالْحَسَنَاتِ إِلَّا أَنْتَ، وَلَا يَدْفَعُ السَّيِّئَاتِ إِلَّا أَنْتَ، وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِكَ)(سنن ابی داود، الکھانۃ و التطیر، باب فی الطیرۃ، ح:3919)
“یا اللہ! تیرے سوا کوئی بھلائیاں لا سکتا ہے نہ کوئی برائیوں کو دور کرسکتاہے۔ اور تیری توفیق کے بغیر ہم میں بھلائی کی طاقت ہے نہ برائی سے بچنے کی ہمت۔”(5)
عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
(الطِّيَرَةُ شِرْكٌ الطِّيَرَةُ شِرْكٌ وَمَا مِنَّا إِلَّا وَلَكِنَّ اللَّهَ يُذْهِبُهُ بِالتَّوَكُّلِ)(سنن ابی داود، الکھانۃ والطیرۃ، باب فی التطیر، ح:3910 و جامع الترمذی، السیر، باب ما جاء فی الطیرۃ، ح:1614)
“بدفالی شرک ہے، بدشگونی شرک ہے، اور ہم میں سے کوئی بھی ایسا نہیں جسے (بتقاضائے بشریت)ایسا وہم نہ ہوتا ہو مگر اللہ رب العزت توکل کی وجہ سے اس کو ہم سے رفع فرمادیتا ہے۔”(6)
عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے مروی ایک حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
“جو شخض اپنے کسی کام سے بدفالی کی بنا پر رکا اس نے شرک کیا۔ صحابہ رضی اللہ عنہم نے دریافت کیا اس کا کفارہ کیا ہے ؟
آپ نے فرمایا:اس کا کفارہ یہ دعا ہے
(اَللَّهُمَّ لاَخَيْرَ إِلاَّ خَيْرُكَ، وَلاَطَيْرَ إِلاَّ طَيْرُكَ، وَلاَ إِلهَ غَيْرُكَ)(مسند احمد :2/ 220)
“یا اللہ ! تیری بھلائی کے علاوہ کوئی بھلائی نہیں۔ اور تیرے شگون کے علاوہ کوئی شگون نہیں ۔ اور تیرے سوا کوئی معبود نہیں”۔7
فضل بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
( إِنَّمَا الطِّيَرَةُ مَا أَمْضَاكَ، أَوْ رَدَّكَ)(مسند احمد : 1/ 213)
“بدشگونی وہ ہے جو تجھے کسی کام کے کرنے پر آمادہ کرے یا اس سے روک دے۔”
مسائل
1) اس باب میں سورۃ الاعراف کی آیت 131 اور سورۃ یس کی آیت 19 کی تفسیر اور ان کا مفہوم بیان ہوا ہے۔
2) اس باب کی احادیث میں امراض کے متعدی ہونے کی نفی ہے۔
3) اس میں بدفالی کی نفی بھی ہے۔
4) اور الو کی آواز سے بدفالی لینے کی ممانعت ہے۔
5) اور ماہ صفر کی نحوست کے عقیدہ کی بھی نفی ہے۔
6) اس تفصیل سے ثابت ہوا کہ نیک فالی منع نہیں بلکہ مستحب ہے۔
7) فال کے مفہوم کی بھی وضاحت ہوئی۔
8) یہ بھی ثابت ہوا کہ اگر بادل نخواستہ بدفالی کے وساوس اور خیالات دل میں پیدا ہوجائیں تو وہ مضر نہیں بلکہ اللہ تعالی پر توکل اور اعتماد کی وجہ سے ختم ہو جاتے ہیں۔
9) جس شخص کے دل میں بدفالی کے وساوس پیدا ہو جائیں وہ ان کو دور کرنے کے لیے ان احادیث میں بیان شدہ دعائیں پڑھ لیا کرے۔
10) اس بات کی بھی صراحت ہوگئی کہ بدفالی لینا شرک ہے۔
11) نیز اس بحث سے مذموم بدفالی کی بھی وضاحت ہوتی ہے۔
نوٹ:-
(1) یعنی کسی جانو یا پرندے یا اس کی کسی حرکت کو دیکھ کر اپنی کامیابی یا ناکامی پر بدفالی اور بدشگونی لینا یہ بھی توحید کے منافی اور شرک ہے۔
(2) یعنی انہیں کوئی فائدہ یا نقصان پہنچنا اللہ تعالی کے ہاں مقدر ہے۔ کوئی چیز ان کے لیے برا یا نیک شگون نہیں رکھتی۔ جانوروں سے بدفالی اور بدشگونی لینا انبیاء و رسل کے دشمن مشرکین کی مذموم عادت ہے۔ اہل ایمان اپنے تمام امور کو اللہ تعالی کے سپرد کرتے ہیں۔
(3) یعنی کوئی بیماری ازخود متعدی نہیں ہوتی بلکہ اگر کسی بیماری کا اثر دوسرے تک پہنچتا ہے تو محض اللہ عزوجل کے اذن اور حکم ہی سے۔ دورجاہلیت میں لوگوں کا یہی اعتقاد تھا کہ بیماری طبعی طور پر خود اثر انداز ہوتی ہے۔ اللہ تعالی نے اس اعتقاد کو باطل قرار دیا ۔ اسی طرح بدفالی اور بد شگونی کی بھی کوئی حقیقت نہیں بلکہ یہ ایک دلی وہم ہوتا ہے ورنہ اللہ کی قضاء اور تقدیر میں اس کا کوئی اثر نہیں ہوتا۔
(4) فال یعنی نیک شگونی میں اللہ تعالی پر حسن ظن ہوتا ہے جبکہ بدفالی میں اللہ تعالی پر بدگمانی کی جاتی ہے۔ اس لیے فال یعنی نیک شگونی ممدوح ہے اور بدفالی مذموم۔
(5) “الطیرة” (بدشگونی و بدفالی) لفظ عام ہے۔ اس لفظ میں جہاں بدشگونی پر مشتمل اقوال شامل ہیں وہاں ایسے اعمال بھی اسی کے زمرے سے ہیں جن سے بدشگونی لی جاتی ہے ۔ جبکہ انسان کو اپنے معاملات میں نیک فالی سے کام لینا چاہئے کیونکہ نیک فالی سے انسان کا دل فراخ رہتا اور شیطان کے وسوسے سے پیدا ہونے والی دلی تنگی دور ہوجاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب انسان اپنے دل میں نیک فالی پیدا کرلیتا ہے تو پھر شیطان کے وسوسے اس کے دل پر کوئی اثر نہیں کرسکتے۔
(6) بدشگونی و بدفالی لینا شرک اصغر ہے۔ بسا اورقات ایک مسلمان و موحد آدمی کے دل میں بھی بدشگونی کا وسوسہ پیدا ہو جاتا ہے۔ یہ بعید ازامکان نہیں۔ لیکن چونکہ بندۂ مومن کا اللہ پر توکل اور بھروسہ ہوتا ہے اس لیے اسی توکل کی بنا پر اللہ عزوجل اس وسواس کو دفع کرڈالتے ہیں۔
(7) بدشگونی کے شرک ہونے کا ضابظہ اور اصول یہ ہے کہ جب آدمی کے دل میں بدشگونی کا وسوسہ پیدا ہو اور وہ اس بدشگونی کی بنا پر اپنے کام سے رک جائے تب اس کا یہ عمل شرک ٹھرے گا ورنہ محض وسوسہ پیدا ہونے سے انسان شرک کا مرتکب نہ ہوگا۔
(اَللَّهُمَّ لاَخَيْرَ إِلاَّ خَيْرُكَ...... کا مطلب یہ ہے کہ اے اللہ ! مجھے وہی خیر اور بھلائی مل سکتی ہے جس کا تونے فیصلہ کر رکھا ہے اور وہی کچھ حاصل ہو سکتا ہے جو تونے میرے مقدر میں لکھ دیا ہے۔ کیونکہ غیب کے سارے علم تیرے ہی پاس ہیں۔
Saturday, 1 September 2012
Subscribe to:
Posts (Atom)








