Wednesday, 27 July 2011

بیٹی حقہ پیتی ہے ۔۔۔۔ مستنصر حسین تارڑ


بیٹی حقہ پیتی ہے ۔۔۔۔ مستنصر حسین تارڑ

چند روز بیشتر ایک نہایت عزیز دوست بے حد پریشانی کی حالت میں میرے ہاں تشریف لائے رنگت اڑی ہوئی اور اس رنگت میں بھی ہوائیاں اڑتی ہوئیں تشریف لائے اور صوفے پر ڈھیر ہو گئے اس روز لاہور کا درجہ حرارت چھیالیس سے تجاوز کر چکا تھا اور لاہور کی سب چیلیں اپنے اپنے انڈے چھوڑ چکی تھیں بلکہ ان میں سے جو طاقت پرواز رہتی تھیں مری یا نتھیا گلی کوچ کر گئی تھیں میں نے سوچا کہ ہو نہ ہو میرے دوست پر بھی گرمی کا اثر ہوگیا ہے چنانچہ میں نے فوری طور پر پہلے تو انہیں نمکین لسی کے دوچار گلاس پلائے اور پھر ان کامنہ میٹھا کرنے کی خاطر باداموں کے شربت کا ایک گلاس پیش کیا ان مشروبات کو غٹا غٹ چڑھا جانے کے باوجود ان کی ظاہری حالت میں کچھ فرق نہ پڑا تو میں نے پوچھا’’ اجی حضرت خیریت تو ہے ناں‘‘
وہ ہکلاتے ہوئے بولے‘‘ تارڑ صاحب ، خیریت کہاں ہونی ہے میں تو لٹ گیا، آپ جانتے ہیں کیا ہوا؟
میں نے کہا’’ آپ کو میں نے یہ جو نہایت مہنگے مشروبات پلائے ہیں خاص طور پر باداموں کا شربت جو میں نے خاص طور پر حیدر آباد سے منگوایا ہے تو صرف ا س لئے کہ آپ بتائیں کہ ہوا کیا ہے۔
مردہ سی آواز میں بولے’’ میری بیٹی حقہ پینے لگی ہے‘‘
’’ ہائیں، مجھے بھی دھچکا سا لگا اپنی طاہرہ بیٹی حقہ پینے لگی ہے یعنی گھر میں ایک عدد حقہ لے آئی ہے اسے تازہ کرتی ہے، ہتھیلیوں میں کڑوا تمباکو مسل کر اسے حقے کی ٹوپی کی گردن میں جما کر اس پر کوئلے رکھتی ہے اور پھر یہ لمبے لمبے کش لگاتی نتھنوں میں سے دھواں نکالتی ہے طاہرہ بیٹی چونکہ میرے ابا جی نہایت ذوق وشوق سے حقہ پیا کرتے تھے اس لئے میں اسے تیار کرنے کے مختلف مراحل سے آگاہ تھا۔
’’ نہیں نہیں ابھی تک یہ نوبت تو نہیں آئی ، گھر سے باہر جاکر حقہ پیتی ہے۔’’ آپ کو یہ اندوہناک خبر کس نے دی؟
’’ اس کی ایک سہیلی نے کہنے لگی انکل آج ہم سب پرانی کلاس فیلوز جمع ہو کر ایک نئے ریستوران میں جارہی ہیں آپ پلیز طاہرہ کو بھی ہمارے ساتھ جانے کی اجازت دے دیجئے میں نے پوچھا بیٹے کھانا کھانے جارہے ہو؟ تو اس نے نہایت سنجیدگی سے کہا کہ وہ بھی کھائیں گے لیکن بنیادی طور پر ہم سب شیشہ پینے جارہی ہیں اب میرے فرسودہ خیال کے مطابق تو شیشہ دیکھا جاتا ہے پیا تو نہیں جاتا اور جب میرے پلے کچھ نہ پڑا تو ہنس کر کہنے لگی کہ انکل شیشہ،جسے آپ لوگ حقہ کہتے ہیں یہ دراصل حقے کا تازہ ترین ماڈل ہے شیشہ اور انکل آپ کے زمانے میں تو صرف کڑوا تمباکو پیا جاتا تھا لیکن اب بڑی ورائٹی ہے مختلف پھلوں اور پھولوں کی خوشبو اور ذائقے والے تمباکو ہوتے ہیں تارڑ یار یہ سن کر تو میری ٹانگوں میں جان نہ رہی اور میں نے پوچھا کہ بیٹے کیا اس حقے میں دھواں بھی ہوتا ہے تو وہ مسکرا کر کہنے لگی اور نہیں تو کیا انگل ہم خوب کش لگاتے ہیں اور ناکوں میں سے دھواں خارج کر کے بہت انجوائے کرتے ہیں اب تم ہی بتاؤ کہ میں کیا کروں؟
تم طاہرہ بیٹی کو سمجھاؤ کہ خبر دار تمباکو نوشی کینسر اور دل کی بیماریوں کا باعث ہے ’’ میں کوشش کر چکا ہوں لیکن وہ جواب میں ثقافتی حوالے دیتی ہے کہتی ہے کہ ایک تو شیشے میں تمباکو کی مقدار نہایت قلیل ہوتی ہے اور پھر یہ تو ہمارے کلچر کا ایک حصہ ہے آپ ہمیں خود ہی تو بتایا کرتے تھے کہ آپ کی پھوپھی جان کھانے کے فوراً بعد ’’ حقہ حقہ ‘‘ کا شور مچادیتی تھیں کہ بقول ان کے کھانے کے بعد ان کے پیٹ میں ایک گولا سا بن جاتا تھا اور جب تک وہ حقے کے دوچار کش نہیں لگاتی تھیں وہ گولا نیچے نہیں ہوتاتھا پیٹ میں اٹکا رہتا تھا شنید ہے کہ مرحومہ دادی جان بھی حقے کی بے حد شوقین تھیں تو اگر ہم لوگ ہفتے میں ایک آدھ بار کسی شیشہ ریستوران میں جاکر دو چار کش لگا آتے ہیں تو اس میں کیا مضائقہ ہے

یعنی صرف بیٹی طاہرہ ہی نہیں اس کی سہیلیاں بھی حقہ پیتی ہیں‘‘’’ اچھا وہ والا شیشہ‘‘ میں بے اختیار مسکرانے لگا میرے ذہن میں جدہ کی وہ شام آگئی جب میرا بیٹا سلجوق میری فرمائش پر مجھے پرانے جدہ کے ایک قدیم محلے میں لے گیا جہاں فٹ پاتھ پر ایک ’’ شیشہ ریستوران‘‘ قائم تھا لوگ قہوے کی چسکیاں لگا رہے تھے اور میزوں کے درمیان میں آراستہ خوبصورت شیشے سے بنے ہوئے حقوں کے کش لگا رہے تھے ایک ویٹر صرف اس ڈیوٹی پر مامور تھا کہ وہ گاہکوں کے لئے بار بار چلمیں تازہ کر کے لاتاتھا اور میں نے افسوس کے ساتھ نوٹ کیا کہ برخوردار جس نے آج تک سگریٹ کو ہاتھ نہیں لگایا تھا نہایت اطمینان سے یہ شیشہ حقہ پینے میں مشغول ہو گیا بعد میں میں نے ڈانٹ ڈپٹ کرنے کی خفیف سی کوشش کی تو مسکرا کر کہنے لگا ابا یہ تو بس شغل میلہ ہے تمباکو نوشی تو نہیں ہے چنانچہ میں نے جدہ کی اس شام کا قصہ اپنے دوست کو سنا کر اس کا غم غلط کرنے کی کوشش کی اسے یہ بھی بتایا کہ یہ شیشہ نوشی کا رواج ادھر عرب شریف کی جانب سے آیا ہے کیونکہ میری اطلاع کے مطابق سعودی عرب کی بیشتر خواتین شیشہ پینے کی شوقین ہیں چنانچہ یہ عین اسلامی ہے لیکن اس کی تسلی نہ ہوئی کہنے لگا کہ بچپن سے یہی پڑھتے آئے ہیں کہ ماں چولہے پر بیٹھی ہے اور باپ بیٹھا حقہ پی رہا ہے یہ تو کبھی نہیں پڑھا کہ باپ چولہے پر بیٹھا ہے اور ماں بیٹھی حقہ پی رہی ہے تب میں نے اسے ایک گرانقدر مشورے سے نوازا، تم سگریٹ توپیتے ہو تو کیا حرج ہے کہ کسی روز کسی شیشہ ریستوران میں جاکر دوکش شیشے کے بھی لگا لو دیکھو تو سہی کہ اس کا ذائقہ کیا ہے باقاعدہ حقہ ہے یا کچھ اور ہے میرا دوست یہ مشورہ پلے باندھ کر چلا گیا اور دو تین روز بعد موصوف دوبارہ نازل ہوئے تو نہایت شاداب اور پرمسرت کیفیت میں مسکراتے چلے آرہے ہیں دھپ سے سامنے والے صوفے پر بیٹھے اور کہنے لگے لو بھئی میرا مسئلہ تو حل ہوگیا تمہارے مشورے کے مطابق اس شام میں ایک شیشہ ریستوران میں گیا کیا دیکھتا ہوں کہ کیا مردوزن کیا چھوٹے بڑے سب کے سب نہایت اشتیاق سے شیشہ پی رہے ہیں دھویں اڑا رہے ہیں میں نے بھی دو چار کش لگائے تو یقین کرو لطف آگیا بے حد فرحت آمیز مشغلہ ہے میں نے سگریٹ چھوڑ دئیے ہیں اور اب صرف شیشہ پیتا ہوں اور جیتا ہوں بلکہ سوچ رہا ہوں کہ روز روز ریستوران میں جانے کی بجائے ایک ذاتی شیشہ خرید لوں گھر بیٹھ کر دونوں باپ بیٹی پیا کریں گے آخر کو یہ ایک اسلامی رواج ہے۔

10 comments:

  1. مستنصر حسین تارڑ صاحب کے سفرنامے جس میں موصوف چھ فٹ گوریوں کی گود میں بیٹھے ہوتے ہیں یا چھ فٹ کی گوریاں انکے لئیے بے قرار ہو کر ان کا پیچھا کر رہی ہوتی ہیں۔

    جس طرح انکے وہ سفرنامے بے ہودہ سے ہوتے ہیں اسی طرح انکی یہ تحریر بھی حقیت سے کوسوں دور ہے۔

    شیشیہ کبھی بھی "اسلامی" نہیں تھا۔ شیشہ اسلام کے بعد کا شغل ہے ہے۔ اسلامی فقہ میں تمباکو نوشی کو مکروہ اور ناپسندیدہ عمل قرار دیا گیا ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ ماضی کے ترقی پسندوں کی "جھانویں" قسم کی کتابوں کو ماضی کا "وڈے تے اُچے" ترقی پسند وسیت یونین نے اپنی گودی لیکر ان نام نہاد ترقی پسندوں کی روزی روٹی کا بندوبست اور معاشرے میں ایک "مقام" دلوانے کا بندوبست کررکھا تھا۔ سویت یونیں کے انجہانی ہونے کے بعد یہ سارے ترقی پسند یتیم ہوگئے۔ مگر امریکہ "نائن ایلون" ہونے سے ان کے بھاگ پھر سے جاگ گئے ۔ اور ترقی پسندوں نے پینترا بدلا اور امریکہ کی گود میں جا بیٹھے۔

    یہ اور اس قبیل کے سبھی لوگ نہ کل ترقی پسند تھے اور نہ ہی آج "سب سے پہلے پاکستان" نامی امرت پہ یقین رکھتے ہیں۔ نذیر ناجی کی طرح یہ تب بھی اپنے مفادات کی آبیاری کرتے ےھے اور آج بھی محض اپنے بھونڈے مفادات کی آبیاری کرتے ہیں۔

    البتہ ان سب میں تب بھی ایک قدر مشترک تھی اور آج بھی ہے۔ کہ اسلام سے یہ کال بھی چڑتے تھے آج بھی چڑتے ہیں۔

    بھلا شیشہ کب سے "اسلامی" تھا؟۔ اتبڑی بے ہودگی اور اپنے آپ کو افلاطون سمجھنا۔ ایسے لطیفے صرف پیارے پاکستان میں ہی ہوتے ہیں۔

    ReplyDelete
  2. خالد حمید27 July 2011 at 14:04

    یہ لوگ برائی کو فخر کے لبادہ پہنا کر پھیلاتے ہیں۔۔ اسی وجہ سے اپر کلاس ان کے پیچھے بھاگتی ہے اور ان کے اس بھاگنے کی وجہ سے باقی عوام کو یہ کام برا محسوس نہیں ہوتا۔

    ReplyDelete
  3. Haad ho gaye. Javed Gondal Sahab, main heeran hon ke Dil ko Raaon ya opitoon Jigar ko.

    Kia waqai aap ko Tanz-o-Mazah ki koi tameez nahi?

    Zara Ghor se parhye: tahreer main Huqqa ko islami batane ki wajah yeah hai ke isse arab khawaten istamaal karti hain

    App ne Mustansar Sahab ko Behoda kah dia goya dunya main sirf aap hi pakeezah hain

    La Hol Walah Quwata illah Billah

    ReplyDelete
  4. دل کو رونے یا جگر کو پیٹنے والوں کے لئیے گزارش ہے۔ کہ طنزو مزاح سے بڑھ کر عوامی صحت زیادہ ضروری ہوتی ہے۔
    تماباکو جسی مضر صحت شئے کو دنیا بھر میں منع کیا جارہا ہے اور مشکل سے مشکل بنایا جارہا ہے۔ اور پاکستان میں اس عمل کو "اسلامی" کا تڑکہ لگا کر تمباکو نوشی کی حوصلہ افزائی اور وہ بھی خواتین کو اس مکرو فعل کی ترغیب دینا بجائے خود ایک مکرو عمل ہے خواہ اسے لاکھ طنز و مزاح کا جامہ پہنا دیا جائے۔
    ایک بری عادت کی حوصلہ افزائی بہر حال بری ہے ۔

    آپ کی اطلاع کے لئیے عرض ہے کہ پاکستان میں خواتین حقہ جو شیشہ کی ہی ایک صورت ہے۔ کے استعمال کی نسبت عرب خواتین نہ ہونے کے برابر ششیہ اسموک کرتی ہیں۔

    یاد رہے ہم جب عربوں کی بات کرتے ہیں تو اسمیں صرف بیروت و لبنان یا قاہرہ ہی سارے عرب کی نمائندگی نہیں کرتے ۔

    اور آپکی معلومات کے لئیے عرض شیشہ ترکی و یوروپ کے علاوہ دیگر ممال میں بھی رائج ہے۔

    اور میری رائے میں یہ حقیقت آپ کے پسندیدی تاڑر صاحب کو بھی علم رہی ہوگی۔

    اور آخری بات تاڑر صاحب کی بے ہودگی پہ آپ کو جو تکلیف پہنچی ہے اس سے تو یوں لگتا ہے جیسے وہ آپ کے قریبی عزیز ہوں؟۔ اگر ہوں بھی تو ہمیں بھی پاکستان کے حوالے سے پاکستانی عوام مفاد زیادہ عزیز ہے جو درست سمجھا وہ بیان کر دیا ہے۔اسمیں ہماری پاکیزگی یا کسی کی پلیدگی کا کوئی ذکر نہیں ہے۔

    ہماری بلا سے کہ اب آپ بے شک مکمل اطمینان سے دل کو روئیں یا جگر کو پیٹیں ۔

    ذیل میں شیشے اور حقے کے بارے وکی پیڈیا کی انگریزی معلومات کا رابطہ لنک ہے۔
    http://en.wikipedia.org/wiki/Hookah

    ReplyDelete
  5. damn! This man is a total crank!

    No one favored Hooka here. Your interpretation WAS WRONG. You need to accept that not every one will see the half-glass-empty

    ReplyDelete
  6. اب اگر یہ کہا جائے کہ پاکستانی خواتین کے مقابلے میں عرب خواتین شراب نوشی کہیں زیادہ کرتی ہیں تو اس میں بھی قصور پاکستان کے ترقی پسندوں کا نکل آئے گا۔ یعنی ہم قصور انکا سمجھتے تھے اپنا نکل آیا۔
    میرے بچپن میں پڑوس کی پنجابی خواتین بڑے ذوق و شوق سے حقہ پیا کرتی تھیں۔ اس زمانے میں ترقی پسند اور روشن خیال کی اصطلاحیں ہر کس و ناکس استعمال نہیں کرتا تھا۔ ان بے چاری خواتین کو بھی نہیں معلوم تھا کہ حقہ وہ پیتی ہیں اور سمجھتی ہیں کہ چونکہ انکی دادیاں اور پحوپھیاں پیا کرتی تھیں اس لئے وہ بھی پیتی ہیں۔ در اصل اسکے پیچھے پاکستان کی گم گشتہ ترقی پسندوں کا ہاتھ ہے۔
    صرف اس وقت ہی نہیں بلکہ آج بھی بلوچستان کے دیہاتوں میں میں خواتین کو باجماعت حقہ پیتے دیکھا۔
    لگتا ہے مفتی ء بلاگستان اپنے شیشیے میں اتنے مگن ہیں کہ انکے پاکستان کی سرحدیں انکے سائے کی حد کے بعد ختم ہو جاتی ہیں۔ دعوے تو انکے خدا جانے کیا کیا ہیں لیکن یہ نہیں معلوم کہ حقہ ہمارے یہاں سینکروں سالوں سے پیا جا رہا ہے،۔ اب اگر ہم انہیں لا علم کہیں تو کئ راتوں تک انکی نیند غائب رہے گی۔
    خیر ہر وہ چیز جو عرنب کرتے اور کہتے ہیں ہمارے یہاں اسلامی سمجھی جاتی ہے۔ اسلام کے کسی مسئلے کو حل کرنا ہو تو عرب کی طرف ہی دیکھا جاتا ہے بس شیشہ بھی اسی لئے اسلامی ہے۔
    اس میں سنجیدہ ہونے والی کیا بات ہے۔ ویسے جاوید گوندل صاحب کی نانی دای یا انکے علاقے کی خواتین وغیرہ حقہ سے شغل نہیں فرمایا کرتی تھیں۔ اگر ایسا ہے تو انہیں اپنے علاقے کا حدود اربعہ ضرور دینا چاہئیے۔ سمجھ نہیں آیا، وہ اپنی ثقافت سے اتنے بےزار کیوں ہیں۔

    ReplyDelete
  7. نام نہاد روشن خیالوں میں کی ذہنی اُپچ پہ افسوس ہوتا ہے۔ یہ اپنے زریں اور سوقیانہ جزبات میں یہ بھی بھول رہی ہیں کہ جس وکی پیڈیا کی یہ فین ہیں ۔۔ اسی چہیتے وکی پیڈیا کا لنک ہی پڑھ لیتیں ۔ جس میں پاکستان برصغیر میں حقے کی تاریخ بھی لکھی ہے۔

    اسمیں کوئی شک نہیں اور ایک مرتبہ پھر ثابت ہوتا ہے ۔ کہ پاکستان کے نام نہاد "روشن خیال " اپنے جامے میں کس قدر تنگ ہیں۔ اور تنگ نظری کی حد یہ ہے کہ کچھ بھی ہو۔ کوئی بھی موضوع ہو ۔۔ انھوں نے جامہ ہر صورت اتار پھینکنا ہے۔

    جامہ جو ایک بدن پہ ہوتا ہے۔۔۔ اور دوسرا عقل و فہم پہ۔۔ ۔ ۔

    ReplyDelete
  8. i m asad
    jb main phli baar lahore gaya too wahaan pr student hoqa pitay thy(main ny she-sha ka lifaz phli baar lahore main sona tha) main bhi yahii samjha k she-sha face daknay wala hota hai bhla es ko kasay istamaal kiya ja skta hai

    ReplyDelete
  9. but i do not see
    my age is 25
    03229798598

    ReplyDelete