Friday, 20 May 2011

وعدے اور یادیں :::کیا فرق ہے

وعدوں اور یادوں‌میں‌کیا فرق ہوتا ہے؟

آپ بھی اپنی رائے دیں،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،، ،،

ویسے میرے خیال میں:
وعدے وہ ہوتے ہیں‌جو انسان توڑ دیتا ہے

اور

یادیں‌ وہ ہوتی ہیں‌جو انسان کو توڑ دیتی ہیں

Amazing 51 Facts:::::

Amazing 51 Facts -

1. People who ride on roller coasters have a higher chance of having a blood clot in the brain.

2. Black bears are not always black they can be brown, cinnamon, yellow and sometimes white.

3. People with blue eyes see better in dark.

4. Each year 30,000 people are seriously injured by exercise equipment.

5. The placement of a donkey's eyes in its head enables it to see all four feet.

6. The sun is 330330 times larger than the earth.

7. The cow gives nearly 200000 glass of milk in her lifetime.

8. There are more female than male millionaires in the U.S.A.

9. A male baboon can kill a leopard.

10. When a person dies, hearing is usually the first sense to go.

11. Bill gates house was designed using Macintosh computer.

12. Nearly 22,000 cheques will be deducted from the wrong account over the next hour.

13. Almost all varieties of breakfast cereals are made from grass.

14. Some lions mates over 50 times a day.

15. American did not commonly use forks until after the civil war.

16. the most productive day of the week is Tuesday.

17. In the 1930's America track star Jesse Owens used to race against horses and dogs to earn a living.

18. There's a great mushroom in Oregon that is 2,400 years old. Covers 3.4 square miles of land and is still growing.

19. Jimmy Carter is the first U.S.A. president to have born in hospital.

20. Elephants are the only animals that cannot jump.

21. Cleopatra married two of her brothers.

22. Human birth control pill work on gorillas.

23. The right lung takes in more air than the left.

24. It is illegal to own a red car in shanghai china.

25. A hard-boiled egg will spin. An uncooked or soft-boiled egg will not.

26. Astronauts cannot burp in space.

27. The snowiest city in the U.S.A. is blue canyon; California Lake Nicaragua in Nicaragua is the only fresh water lake in the world that has sharks.

28. Kite flying is a professional sport in Thailand.

29. The great warrior Genghis khan died in bed while having $ex.

30. No matter how cold it gets gasoline will not freeze.

31. SNAILS have 14175 teeth laid along 135 rows on their tongue.

32. A BUTTERFLY has 12,000 eyes.

33. DOLPHINS sleep with 1 eye open.

34. A BLUE WHALE can eat as much as 3 tons of food every day, but at the same time can live without food for 6 months.

35. The EARTH has over 12, 00,000 species of animals, 3, 00,000 species of plants & 1, 00,000 other species.

36. The fierce DINOSAUR was TYRANNOSAURS which has sixty long & sharp teeth, used to attack & eat other dinosaurs.

37. DEMETRIO was a mammal like REPTILE with a snail on its back. This acted as a radiator to cool the body of the animal.

38. CASSOWARY is one of the dangerous BIRDS that can kill a man or animal by tearing off with its dagger like claw.

39. The SWAN has over 25,000 feathers in its body.

40. OSTRICH eats pebbles to help digestion by grinding up the ingested food.

41. POLAR BEAR can look clumsy & slow but during chase on ice, can reach 25 miles / hr of speed.

42. KIWIS are the only birds, which hunt by sense of smell.

43. ELEPHANT teeth can weigh as much as 9 pounds.

44. OWL is the only bird, which can rotate its head to 270 degrees.

45. In the last 4000 years, no new animals have been domesticated.

46. On average, people fear spiders more than they do death.

47. The cigarette lighter was invented before the match.

48. Like fingerprints, everyone's tongue print is different.

49. Tapeworms range in size from about 0.04 inch to more than 50 feet in length.

50. German Shepherds bite humans more than any other breed of dog.

51. A female mackerel lays about 500,000 eggs at one time

بدنام ::::::انتخاب: زمرہ

بدنام

اس دفعہ ماں کے حکم پر دو سال بعد جب ان کی خدمت میں حاضری دی تو انہوں نے بہت ساری کہاوتیں سنا کر ہمیں نصیحتیں کیں۔ ان میں ایک کہاوت جو ہمارے دل کو لگی وہ کچھ اس طرح تھی۔

ایک دفعہ عاشق نے آدھی رات کو اپنی محبوبہ کو گھر سے اسی کے باپ کی گھوڑی پر بھگانے کا پروگرام بنایا۔ عاشق نے لڑکی کو گھوڑی پر بٹھایا اور رات کے اندھیرے میں اپنے گاؤں کی طرف چل پڑا۔

راستے میں گھوڑی کو ٹھوکر لگی لیکن وہ سنبھل گئی۔ گھوڑی کے اس ٹھوکر لگنے کو پنجابی میں ”نیوں لگانا” کہتے ہیں یعنی گھوڑی کمزوری یا پھر کسی اور وجہ سے کبھی کبھار اپنا پاؤں سیدھا نہیں رکھ پاتی، اس کے ناخن کا اگلا حصہ زمین پر لگتا ہے اور وہ لڑکھڑا جاتی ہے۔ اس عمل ميں کئی دفعہ گھوڑي گھڑسوار کو نیچے بھی گرا دیتی ہے۔ گھوڑی کی اس خصلت کو بہت برا سمجھا جاتا ہے۔

لڑکی نے اپنے محبوب سے کہا فکر کی کوئی بات نہیں اس کی ماں بھی “نیوں” لگایا کرتی تھی۔ محبوب نے معشوقہ کے منہ سے یہ الفاظ سنتے ہی گھوڑی کو واپس موڑا اور گھوڑی سمیت اسے گھر چھوڑ کر اپنے گاؤں واپس چلا گیا۔

اس نے سوچا آج اگر وہ کسی کی بیٹی کو بھگا کر لے جارہا ہے تو کل اس کی بیٹی کو بھی کوئی بھگا کر لے جائے گا۔ پھر لوگ کہیں گے کہ لڑکی نے بھاگ کر کوئی نیا کام نہیں کیا، اس کی ماں بھی اسی طرح گھر سے بھاگی تھی۔ یعنی برا کام کرنے سے پہلے یہ سوچ لو کہ یہ بدنامی نسلوں تک پیچھا نہیں چھوڑے گی۔

ہم لوگ اپنے ارد گرد اس طرح کے کئی حادثات سے واقف ہوں گے جب ایک خاص واقعہ کسی خاندان سے منصوب ہو جاتا ہے بلکہ اس حادثے کی مناسبت سے اس کا نام پڑ جاتا ہے۔ “بلی مار” “چھری مار” “چڑی مار” ”کب” یعنی لڑاکے “چوہے” “خورے” وغیرہ شاید ایسے ہی حادثات کی وجہ سے خاندانوں کے نام پڑے ہوں گے۔

ایک دفعہ ہمارے بھائی نے اپنے دوست کے ہاتھ دبئی سے فرانسیسی گلاس بھیجے جو بہت خوبصورت تھے۔ دوست کی بیوی کو گلاس پسند آگئے اور اس نے اپنے گھر رکھ لیے۔ تب سے ہم اس عورت کو “گلاسوں والی” پکارتے ہیں اور اس کا اصل نام تک بھول چکے ہیں۔

اردو کی بورڈ کو اپنے بلاگ پر کیسے لگایا جائے?

اردو کی بورڈ کو اپنے بلاگ پر کیسے لگایا جائے?

دوستو!!!!

میں اپنے بلاگ پر اردو کی آپشن دینا چاہتا ہوں تاکہ جو بھی دوست کچھ لکھنا چاہے وہ اردو کی بورڈ سے لکھ سکے۔ سو آپ لوگوں کی مدد درکار ہے۔

سب کا بہت بہت شکریہ

Thursday, 19 May 2011

تم بھول گئے شاید

تم بھول گئے شاید
(انور مسعود)

تم بھول گئے شاید
وہ جو دودھ شہد کی
کھیر تھی
وہ جو نرم مثل
حریر تھی
وہ جو آملے کا
اچار تھا
وہ جو ہم میں تم میں قرار تھا
تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو

جو ہرن کے
سیخ کباب تھے
وہ جو آپ
اپنا جواب تھے
وہ جو کوئٹے کا
انار تھا
وہ جو ہم میں تم میں قرار تھا
تمہیں یاد ہو کہ نا یاد ہو

وہ جو سیب
زینت باغ تھے
وہ جو شاخ شاخ
چراغ تھے
وہ جو آلووں کو
بخار تھا
وہ جو ہم میں تم میں قرار تھا
تمہیں یاد ہو کہ نا یاد ہو
وہ رقیب کے
جو بغیر تھی
وہ جو چاند رات
کی سیر تھی
وہ جو عہد
فصل بہارتھا
وہ جو ہم میں تم میں قرارتھا
مجھے سب ہے یاد زرا زرا
تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو

Monday, 16 May 2011

حویلی کا راز::::مسلمانوں میں تفرقہ کو فروغ دینے والے ایک خفیہ برطانوی ادارے کا چشم کشا احوال__منتخب تحریر

::::حویلی کا راز::::
مسلمانوں میں تفرقہ کو فروغ دینے والے
ایک خفیہ برطانوی ادارے کا چشم کشا احوال
منتخب تحریر
نواب راحت سعید خان چھتاری 1940ء کی دہائی میں ہندوستان کے صوبے اتر پردیش کے گورنر رہے ہیں۔ انگریز حکومت نے انہیں یہ اہم عہدہ اس لیئے عطا کیا کہ وہ مسلم لیگ اور کانگریس کی سیاست سے لا تعلق رہ کر انگریزوں کی وفاداری کا دم بھرتے تھے۔ نواب چھتاری اپنی یاداشتیں لکھتے ہوئے انکشاف کرتے ہیں کہ ایک بار انہیں سرکاری ڈیوٹی پر لندن بلایا گیا۔ ان کے ایک پکے انگریز دوست نے جو ہندوستان میں کلکٹر رہ چکا تھا، نواب صاحب سے کہا "آیئے! آپ کو ایک ایسی جگہ کی سیر کراوں جہاں میرے خیال میں آج تک کوئی ہندوستانی نہیں گیا۔" نواب صاحب خوش ہو گئے، انگریز کلکٹر نے پھر نواب صاحب سے پاسپورٹ مانگا کہ وہ جگہ دیکھنے کے لیے حکومت سے تحریری اجازت لینی ضروری تھی، دو روز بعد کلکٹر اجازت نامہ ساتھ لے آیا اور کہا" ہم کل صبح چلیں گے، لیکن میری موٹر میں، سرکاری موٹر وہاں لے جانے کی اجازت نہیں"۔ اگلی صبح نواب صاحب اور وہ انگریز منزل کی طرف روانہ ہوئے۔ شہر سے باہر نکل کر بائیں طرف جنگل شروع ہو گیا۔ جنگل میں ایک پتلی سڑک موجود تھی، جوں جوں چلتے گئے، جنگل گھنا ہوتا گیا۔ سڑک کے دونوں جانب نہ کوئی ٹریفک تھا نہ کوئی پیدل مسافر! نواب صاحب حیران بیٹھے اِدھر اْدھر دیکھ رہے تھے۔ موٹر چلتے چلتے آدھے گھنٹے سے زیادہ وقت گزر گیا۔ تھوڑی دیر بعد ایک بہت بڑا دروازہ نظر آیا، پھر دور سامنے ایک نہایت وسیع وعریض عمارت دکھائی دی۔ اس کےچاروں طرف کانٹے دار جھاڑیوں اور درختوں کی ایسی دیوار تھی جسے عبور کرنا ممکن نہ تھا۔ عمارت کے چاروں طرف زبردست فوجی پہرہ تھا۔ اس عمارت کے باہر فوجیوں نے پاسپورٹ اور تحریری اجازت نامہ غور سے دیکھا اور حکم دیا کہ اپنی موٹر وہیں چھوڑ دیں اور آگے جو فوجی موٹر کھڑی ہے اس میں سوار ہو جائیں۔ نواب صاحب اور انگریز کلکٹر پہرے داروں کی موٹر میں بیٹھ گئے۔اب پھر اس پتلی سڑک پر سفر شروع ہوا۔ وہی گھنا جنگل اور دونوں طرف جنگلی درختوں کی دیواریں! نواب صاحب گھبرانے لگے، تو انگریز نے کہا "بس منزل آنے والی ہے"۔ آخر دور ایک اور سرخ پتھر کی بڑی عمارت نظر آئی تو فوجی ڈرائیور نے موٹر روک دی اور کہا "یہاں سے آگے آپ صرف پیدل جاسکتے ہیں"۔ راستے میں کلکٹر نے نواب صاحب سے کہا " کہ آپ یہاں صرف دیکھنے آئے ہیں بولنے یا سوال کرنے کی بلکل اجازت نہیں"۔ عمارت کے شروع میں وسیع دالان تھا۔ اس کے پیچھے متعد کمرے تھے۔ دالان میں داخل ہوئے تو ایک باریش نوجوان عربی کپڑے پہنے سر پر عربی رومال لپیٹے ایک کمرے سے نکلا۔ دوسرے کمرے سے ایسے ہی دو نوجوان اور نکلے پہلے نے عربی لہجے میں "السلام وعلیکم" کہا۔ دوسرے نے کہا"وعلیکم اسلام"۔ کیا حال ہے? نواب صاحب یہ منظر دیک کر حیران رہ گئے۔ کچھ پوچھنا چاہتے تھے، لیکن انگریز نے فوراً اشارے سے منع کر دیا۔ چلتے چلتے ایک کمرے کے دروازے پر پہنچے۔ دیکھا کہ اندر مسجد جیسا فرش بچھا ہے۔ عربی لباس میں ملبوس متعدد طلبہ فرش پر بیٹھے ہیں، ان کے سامنے استاد بلکل اسی طرح بیٹھے سبق پڑھا رہے ہیں، جیسے اسلامی مدرسوں میں پڑھاتے ہیں۔ طلباء عربی اور کبھی انگریزی میں استاد سے سوال بھی کرتے۔ نواب صاحب نے دیکھاکہ کسی کمرے میں قرآن مجید پڑھایا جا رہا ہے، کہیں قرآت سکھائی جارہی ہے، کہیں تفسیر کا درس ہو رہا ہے، کسی جگہ بخاری شریف کا درس دیا جا رہا ہے اور کہیں مسلم شریف کا۔ ایک کمرے میں مسلمانوں اور مسیحوں درمیان مناظرہ ہو رہا تھا۔ ایک اور کمرے میں فقہی مسائل پر بات ہو رہی تھی۔ سب سے بڑے کمرے میں قرآن کا ترجمہ مختلف زبانوں میں سکھایا جا رہا تھا۔ انہوں نے نوٹ کیا کہ ہر جگہ باریک مسئلے مسائل پر زور ہے۔ مثلاً غسل کا طریقہ، وضو، روزے، نمازاور سجدہ سہو کے مسائل، وراثت اور رضاعت کےجھگڑے، لباس اور ڈاڑھی کی وضع قطع، گا گا کر آیات پڑھنا، غسل خانے کے آداب، گھر سے باہر جانا، لونڈی غلاموں کے مسائل، حج کے مناسک بکرا، دنبہ کیسا ہو، چھری کیسی ہو، دنبہ حلال ہے یا حرام? حج اور قضا نمازوں کی بحث، عید کا دن کیسے طے کیا جائے اور حج کا کیسے? میز پر بیٹھ کر کھانا، پتلون پہننا جائز ہے یا ناجائز، عورت کی پاکی اور ناپاکی کے جھگڑے، حضورصلی اللہ و علیہ وسلم کی معراج روحانی تھی یا جسمانی? امام کے پیچھے سورتہ فاتحہ پڑھی جائے یا نہیں? تراویح آٹھ ہیں یا بیس? نماز کے دوران وضو ٹوٹ جائے تو آدمی کیا کرئے? سود مفرد جائزہے یا ناجائز وغیرہ وغیرہ۔

ایک استاد نے سوال کیا، پہلے عربی پھر انگریزی اورآخرمیں نہایت شستہ اردو میں!!!! جماعت اب یہ بتائے کہ جادو نظر بد، تعویز گنڈہ آسیب کا سایہ بر حق ہے یا نہیں? پینتیس چالیس کی جماعت بیک آواز پہلے انگریزی میں بولی "سچ سچ" پھر عربی میں یہی جواب اور پھر اردو میں!!!!

ایک طالب علم نے کھڑے ہوکر سوال کیا کہ حج کے لیئے نیت ضروری ہے تو مردہ لوگوں کا حج بدل کیسے ہو سکتا ہے? قرآن تو کہتا ہے ہر شخص اپنے اعمال کا ذمہ دار ہے"۔
استاد بولے" قرآن کی بات مت کرو،روایات، ورد اوراستخارے میں مسلمانوں کا ایمان پکا کرو۔ ستاروں، ہاتھ کی لکیروں، مقدر اور نصیب میں انہیں الجھاو"۔

یہ سب دیکھ کر وہ واپس ہوئے تو نواب چھتاری نے انگریز کلکٹر سے پوچھا، اتنے عظیم دینی مدرسے کو آپ نے کیوں چھپارکھاہے"?

انگریز نے کہا "ارے بھئ، ان سب میں کوئی مسلمان نہیں، یہ سب عیسائی ہیں۔ تعلیم مکمل ہونے پر انہیں مسلمان ملکوں خصوصاً مشرق وسطٰی، ترکی، ایران، اور ہندوستان بھیج دیا جاتا ہے۔ وہاں پہنچ کر یہ کسی بڑی مسجد میں نماز پڑھتے ہیں۔ پھر نمازیوں سے کہتے ہیں کہ وہ یورپی مسلمان ہیں۔ انہوں نے مصر کی جامعہ الازہر میں تعلیم پائی ہے اور وہ مکمل عالم ہیں۔ یورپ میں اتنے اسلامی ادارے موجود نہیں کہ وہ تعلیم دے سکیں۔ وہ سردست تنخواہ نہیں چاہتے، صرف کھانا، سر چھپانے کی جگہ درکار ہے۔ پھر وہ موذن، پیش امام، بچوں کے لیے قرآن پڑھانے کے طور پر اپنی خدمات پیش کرتے ہیں۔ تعلیمی ادارہ ہو تو اس میں استاد مقرر ہو جاتے ہیں، جمعہ کے خطبے تک دیتے ہیں۔"

نواب صاحب کے انگریز مہمان نے انہیں بتا کر حیران کر دیا کہ اس عظیم مدرسے کے بنیادی اہداف یہ ہیں:

--- مسلمانوں کو روایات، زکر کے وظیفوں اور نظری مسائل میں الجھا کر قرآن سے دور رکھا جائے۔

--- حضور اکرم صلّی اللہ علیہ وسلم کا درجہ جس طرح بھی ہو سکے (نعوذباللہ) گھٹایا جائے۔ کبھی یہ کہو کہ آپ صلّی اللہ علیہ وسلم (نعوذباللہ) رجل مسحور یعنی جادو زدہ تھے۔

اس انگریز نے یہ انکشاف بھی کیا کہ 1920ء میں (رنگیلا رسول) نامی کتاب راجپال سے اسی ادارے نے لکھوائی تھی۔ اس طرح کئی برس پہلے مرزا غلام احمد قادیانی کو جھوٹا نبی بنا کر کھڑا کرنے والا یہی ادارہ تھا۔ ان کتابوں کی بنیاد لندن کی اسی عمارت سے تیار ہو کر جاتی تھی۔

خبر ہے کہ سلیمان رشدی ملعون کی کتاب لکھوانے میں بھی اسی ادارے کا ہاتھ ہے۔

خدایا ایسا نہ ہو کہ مغرب رہن ہی میرا سماج رکھ لے
ہے فتنہ پرور نظام عالم تو اپنے مسلم کی لاج رکھ لے


اب جنگل کی حویلی کے ایک مکین سے ملاقات کیجیئے، یہ واقعہ ایک دوست حسین امیر فرہاد کے ساتھ کویت میں پیش آیا، انہی کی زبانی سنئیے::::::::

یہ 1979ء کا واقعہ ہے، ان دنوں میں کویت کی ایک کمپنی میں مندوب تعلقات العامہ (افسر تعلقات عامہ) تھا۔ ہمارے ڈائریکٹر نے سری لنکا سے گھر کے کام کاج کے لئے ایک خادمہ منگائی، دوسرے دن مجھ سے کہنے لگے کہ اس کو واپس بھیج دو کیوں کہ ہمارے کسی کام کی نہیں نا تو یہ عربی جانتی ہے اور نا انگریزی۔ سو میں اسکی کی دستاویزات لے کر متعلقہ جگہ پہنچا تو پتہ چلا کہ فی الحال سری لنکن سفارت موجود نہیں البتہ برطانوی ہی سری لنکن باشندوں کے معاملا ت دیکھتے ہیں۔ برٹش کونسل میں استقبالیہ کلرک نے میرا کارڈ دیکھا تو مسٹر ولسن سے ملایا۔ وہ بڑے تپاک سے ملے اور بٹھایا، جب اس نے اندازہ لگایا کہ میں بھارتی یا پاکستانی ہوں تو اردو میں کہا، میں کیا خدمت کر سکتا ہوں?"

میں نے سری لنکن خادمہ کے متعلق بتایا، اس نے کہا کوئی مسئلہ نہیں اسے ہم رکھ لیں گے۔ آپ کا جو خرچہ آیا ہے وہ ہم ادا کر دیں گے۔ یہ بتاو کہاں کے رہنے والے ہو?

میں نے کہا پاکستان سے،
وہ بولا وہ تو بہت بڑا ملک ہے،
میں نے کہا پشاور کا رہنے والا ہوں،
پشتو میں پوچھنے لگا کے کون سی جگہ?
میں نے بتایا "نوشہرہ"
جب میں نے گاوں کا نام بتایا تو اس کی آنکھوں میں عجیب چمک پیدا ہو گئی۔ پھر وہ مختلف لوگوں کا پوچھنے لگا، میں نے میں نے بتایا کہ کون مر گیا اور کون زندہ ہے۔ میں نے سوچا ہو سکتا ہے نوشہرہ چھاونی میں ملازمت کرتا رہا ہو، لیکن اس کی عمر زیادہ نہیں تھی۔ لیکن اس نے کچھ اور کہانی سنائی۔ پہلے اس نے کافی منگائی پھر انٹر کام پر کلرک سے کہا کہ اس کے پاس کسی کو مت بھیجنا۔ وہ اتنا خوش تھا کہ میں بیان نہیں کر سکتا۔ کافی کے دوران اس نے بتایا"میں آپ کے گاوں، محلہ عیسٰی خیل میں چار سال تک پیش امام رہاہوں۔

میں نے پوچھا" کیا آپ مسلمان ہیں?"

وہ بولا" میں چار سال آپ کے گاوں کا نمک کھایا ہے۔ آپ کے گاوں والوں نے مجھے بڑی عزت دی۔ میں آپ سے جھوٹ نہیں بولوں گا۔ میں عیسائی ہوں یعنی اہل کتاب"۔

اس کے بعد میرا اس کے ہاں آناجانا رہا۔ وہ مجھے اپنا ہم وطن سمجھتا رہا اور تقریباً میرا ہم عمر تھا۔ تعجب کی بات یہ ہے کہ وہ ہمارے ہاں پاکستان بننے کے بعد رہا تھا۔ ایک دن میں نے پوچھا "آپ پٹھانوں کا کھانا کیسے کھاتے رہے?"

وہ کہنے لگا" آپ لوگوں کا کھانا اتنا مزیدار ہوتا ہے کہ میں یہاں آج بھی گھر جاتے ہوئے ایرانی تندور سے روٹی لے کر موٹر میں روکھی کھاتا ہوں"۔

جب میں کویت سے پاکستان آ رہا تھا تو میں نے اس سے وہی سوال پوچھا جسے وہ ہمیشہ ٹالتا رہا تھا۔ میں نے دریافت کیا" اب تو بتادو کہ تم عیسائی ہو کر پٹھانوں کے گاوں میں روکھی سوکھی کھاتے اور پیش امام کی خدمات انجام دیتے رہے۔۔۔۔۔۔آخر کیوں?

وہ کافی دیر سرجھکائے سوچتا رہا پھر سر اٹھا کر میری آنکھوں میں جھانکا اور کہا "ہمیں اپنے ملک کے مفادات کی خاطر بعض اوقات بہت کچھ کرنا پڑتا ہے۔ ہمارے ہاں لندن کے مضافات میں ایک مرکز ہے جہاں شکل وشباہت دیکھ کر انگریزوں کی بیرونی مذاہب اور زبانوں کی تعلیم دی جاتی ہے۔ وہاں سے فارغ تحصیل ہو کر پھر ہمیں مختلف ممالک اور علاقوں میں بھیجا جاتا ہے۔"

گاوں آکر میں محلہ عیسٰی خیل کے بزرگوں کو یہ واقعہ سنایا توایک بوڑھے طالب گل نے کہا" مجھے شک پڑاتھا مگر سب کہہ رہے تھے کہ چترالی ہے۔ وہاں اکثر چترالی مولوی پیش امام ہیں۔ وہ بھی گورے ہیں بلکل انگریزوں کی طرح۔ پھر طالب گل نے کہا "چلو بھائی اب چار سال کی نمازیں لوٹائیں جو ہم نے انگریز کے پیچھے پڑھیں۔۔۔۔۔۔خانہ خراب ہو اس کا۔"
جب میں نے جنگل کی حویلی کا پڑھا تو مجھے یقین ہو گیا کہ مسٹر ولسن بھی ضروراسی جنگل کی حویلی کا پروردہ تھا۔

::::::::::::::::اپیل:::::::::::::::
سو دوستو! ::::::::::::::

بات یہ ہے کہ اچھی روایات کو اپنانا اور قائم کرنا اچھی بات ہے لیکن اپنے اردگرد موجود لوگوں اور خاص کر ایسے لوگوں سے ضرور ہوشیار رہیں۔ موجودہ حالات میں سوات، شمالی علاقاجات اور سرحد، بلوچستان، پنجاب اور سندہ غرض پورے پاکستان میں جہاں بھی لوگ حکومتی بے پرواہی کا شکار ہیں اور جہاں علم کا فقدان ہے یا پھر لوگوں کو اپنی ذات سے ہی فرصت نہیں ملتی وہاں پر ایسے عناصر خوب بڑھتے اور پھلتے پھولتے ہیں۔
ہمارے معاشرے میں جہاں دین کو صرف مولویوں اور پیش اماموں پر ڈال دیا گیا، جہاں ہر شخص دین سے دوری اور کم علمی کا شکار ہے جہاں پر سائنس اور ٹیکنالوجی کو مستقبل کے لیئے تابناک تصور کیا جاتا ہے اور قرآن کی تعلیم کے لیئے صرف دماغی طور پر کمزور بچوں کو بھیجا جاتا ہے کیوں کہ وہ سکول میں نہیں پڑھ سکتے ہے پس ایسے معاشرے میں ایسے ہی حالات پیدا ہوتے ہیں، اور فتنے جنم لیتے ہیں۔

اس منتخب مضمون کو اس بلاگ پر ڈالنے کا مقصد یہ ہے کہ ہر بندہ جہاں تک ہو سکے اس کو دوسروں تک پہنچائے اور خدا کے لیئے میری اپیل ہے وزارت مذہبی امور سے، اور ساری مذہبی جماعتوں سے کہ کچھ تو خیال کریں کچھ تو حرکت کریں اور کوئی ایسا عملی پلان ترتیب دیں جس سے پاکستان کی ہر مسجد اور مدرسہ کا ریکارڈ حاصل کیا جائے اور وہاں پر موجود لوگوں کی چھان بین کی جائے۔

سیاہ ست کارٹون