Wednesday, 15 January 2014

لیکن وہ ایک ماں تھی..!! "اشفاق احمد.. زاویہ 2"


بچپن میں ایک بار باد و باراں کا سخت طوفان تھا اور جب اس میں بجلی شدت کے ساتھ کڑکی تو میں خوفزدہ ھو گیا.. ڈر کے مارے تھر تھر کانپ رھا تھا.. میری ماں نے میرے اوپر کمبل ڈالا اور مجھے گود میں بٹھا لیا تو محسوس ھوا جیسے میں امان میں آ گیا ھوں..

میں نے کہا.. " اماں ! اتنی بارش کیوں ھو رھی ھے..؟ "

اس نے کہا.. " بیٹا ! پودے پیاسے ھیں اللہ نے انہیں پانی پلانا ھے اور اسی بندوبست کے تحت بارش ھو رھی ھے.. "

میں نے کہا.. " ٹھیک ھے پانی تو پلانا ھے مگر یہ بجلی بار بار کیوں چمکتی ھے..؟ "

وہ کہنے لگیں.. " روشنی کرکے پودوں کو پانی پلایا جائے گا.. اندھیرے میں تو کسی کی منہ میں ' کسی کی ناک میں پانی چلا جائے گا.. اس لیے بجلی کی کڑک چمک ضروری ھے.. "

میں ماں کے سینے کے ساتھ لگ کر سو گیا.. پھر مجھے پتہ نہیں چلا کہ بجلی کس قدر چمکتی رھی یا نہیں..

یہ ایک بالکل چھوٹا سا واقعہ ھے اور اس کے اندر پوری دنیا پوشیدہ ھے.. یہ ماں کا فعل تھا جو ایک چھوٹے سے بچے کے لیے جو خوفزدہ ھو گیا ھے ' اسے خوف سے بچانے کے لیے پودوں کو پانی پلانے کی مثال دیتی ھے.. یہ اس کی ایک اپروچ تھی.. گو وہ کوئی پڑھی لکھی عورت نہیں تھی.. دولت مند ' بہت عالم فاضل ' کچھ بھی ایسا نہیں تھا لیکن وہ ایک ماں تھی..!!
اشفاق احمد.. زاویہ 2.. " خوشی کا راز "

No comments:

Post a comment