Friday, 6 February 2015

ماں تو ماں ہوتی ہے

ایک منتخب تحریر

ماں تو ماں ہوتی ہے
ﺟﺐ ﺍﺑّ ﮐﯽ ﺗﻨﺨﻮﺍﮦ ﮐﮯ ﺳﺎﮌﮬﮯ ﺗﯿﻦ ﺳﻮ ﺭﻭﭘﮯ ﭘﻮﺭﮮ ﺧﺮﭺ ﮨﻮ ﺟﺎﺗﮯ ﺗﺐ ﺍﻣّﺎﮞ ﮨﻤﺎﺭﺍ ﭘﺴﻨﺪﯾﺪﮦ ﭘﮑﻮﺍﻥ ﺗﯿﺎﺭ ﮐﺮﺗﯿﮟ۔ ﺗﺮﮐﯿﺐ ﯾﮧ ﺗﮭﯽ ﮐﮧ ﺳﻮﮐﮭﯽ ﺭﻭﭨﯿﻮﮞ ﮐﮯ ﭨﮑﮍﮮ ﮐﭙﮍﮮ ﮐﮯ ﭘﺮﺍﻧﮯ ﺗﮭﯿﻠﮯ ﻣﯿﮟ ﺟﻤﻊ ﮨﻮﺗﮯ ﺭﮨﺘﮯ ﺍﻭﺭ ﻣﮩﯿﻨﮯ ﮐﮯ ﺁﺧﺮﯼ ﺩﻧﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺍﻥ ﭨﮑﮍﻭﮞ ﮐﯽ ﻗﺴﻤﺖ ﮐﮭﻠﺘﯽ۔ ﭘﺎﻧﯽ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﮕﻮ ﮐﺮ ﻧﺮﻡ ﮐﺮ ﮐﮯ ﺍﻥ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺍﯾﮏ ﺩﻭ ﻣﭩﮭﯽ ﺑﭽﯽ ﮨﻮﺋﯽ ﺩﺍﻟﯿﮟ ﺳﻞ ﺑﭩﮯ ﭘﺮ ﭘﺴﮯ ﻣﺼﺎﻟﺤﮯ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺩﯾﮕﭽﯽ ﻣﯿﮟ ﮈﺍﻝ ﮐﺮ ﭘﮑﻨﮯ ﭼﮭﻮﮌ ﺩﯾﺎ ﺟﺎﺗﺎ۔ ﺣﺘﯽٰ ﮐﮧ ﻣﺰﮮ ﺩﺍﺭ ﺣﻠﯿﻢ ﺳﺎ ﺑﻦ ﺟﺎﺗﺎ ﺍﻭﺭ ﮨﻢ ﺳﺐ ﺑﭽﮯ ﻭﮦ ﺣﻠﯿﻢ ﺍﻧﮕﻠﯿﺎﮞ ﭼﺎﭦ ﮐﺮ ﺧﺘﻢ ﮐﺮ ﺟﺎﺗﮯ۔ ﺍﻣّﺎﮞ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺻﺮﻑ ﺩﯾﮕﭽﯽ ﮐﯽ ﺗﮩﮧ ﻣﯿﮟ ﻟﮕﮯ ﮐﭽﮫ ﭨﮑﮍﮮ ﮨﯽ ﺑﭽﺘﮯ۔ ﺍﻣّﺎﮞ ﮐﺎ ﮐﮩﻨﺎ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ ﮐﮭﺮﭼﻦ ﮐﺎ ﻣﺰﮦ ﺗﻢ ﻟﻮﮒ ﮐﯿﺎ ﺟﺎﻧﻮ۔
 ﺍﻭﺭ ﺍﻣّﺎﮞ ﺍﯾﺴﯽ ﺳﮕﮭﮍ ﺗﮭﯿﮟ ﮐﮧ ﺍﯾﮏ ﺩﻥ ﮔﻮﺑﮭﯽ ﭘﮑﺘﯽ ﺍﻭﺭ ﺍﮔﻠﮯ ﺩﻥ ﺍﺳﯽ ﮔﻮﺑﮭﯽ ﮐﮯ ﭘﺘﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﮈﻧﭩﮭﻠﻮﮞ ﮐﯽ ﺳﺒﺰﯼ ﺑﻨﺘﯽ ﺍﻭﺭ ﯾﮧ ﮐﮩﻨﺎ ﻣﺸﮑﻞ ﮨﻮﺟﺎﺗﺎ ﮐﮧ ﮔﻮﺑﮭﯽ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﻣﺰﮮ ﮐﯽ ﺗﮭﯽ ﯾﺎ ﺍﺱ ﮐﮯ ﮈﻧﭩﮭﻠﻮﮞ ﮐﯽ ﺳﺒﺰﯼ۔
 ﺍﻣّﺎﮞ ﺟﺐ ﺑﮭﯽ ﺑﺎﺯﺍﺭ ﺟﺎﺗﯿﮟ ﺗﻮ ﻏﻔﻮﺭ ﺩﺭﺯﯼ ﮐﯽ ﺩﮐﺎﻥ ﮐﮯ ﮐﻮﻧﮯ ﻣﯿﮟ ﭘﮍﯼ ﮐﺘﺮﻧﻮﮞ ﮐﯽ ﭘﻮﭨﻠﯽ ﺑﻨﺎ ﮐﮯ ﻟﮯ ﺁﺗﯿﮟ۔ ﮐﭽﮫ ﻋﺮﺻﮯ ﺑﻌﺪ ﯾﮧ ﮐﺘﺮﻧﯿﮟ ﺗﮑﺌﮯ ﮐﮯ ﻧﺌﮯ ﻏﻼﻓﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﺮ ﺩﯼ ﺟﺎﺗﯿﮟ۔ ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﺍﻣّﺎﮞ ﮐﮯ ﺑﻘﻮﻝ ﺍﯾﮏ ﺗﻮ ﻣﮩﻨﮕﯽ ﺭﻭﺋﯽ ﺧﺮﯾﺪﻭ ﺍﻭﺭ ﭘﮭﺮ ﺭﻭﺋﯽ ﮐﮯ ﺗﮑﯿﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺟﺮﺍﺛﯿﻢ ﺑﺴﯿﺮﺍ ﮐﺮ ﻟﯿﺘﮯ ﮨﯿﮟ۔ ﺍﻭﺭ ﭘﮭﺮ ﮐﺘﺮﻧﻮﮞ ﺳﮯ ﺑﮭﺮﮮ ﺗﮑﯿﻮﮞ ﭘﺮ ﺍﻣّﺎﮞ ﺭﻧﮓ ﺑﺮﻧﮕﮯ ﺩﮬﺎﮔﻮﮞ ﺳﮯ ﺷﻌﺮ ﮐﺎﮌﮪ ﺩﯾﺘﯿﮟ۔ ﮐﺒﮭﯽ ﻻﮈ ﺁﺟﺎﺗﺎ ﺗﻮ ﮨﻨﺴﺘﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﮐﮩﺘﯿﮟ ’ ﺗﻢ ﺷﮩﺰﺍﺩﮮ ﺷﮩﺰﺍﺩﯾﻮﮞ ﮐﮯ ﺗﻮ ﻧﺨﺮﮮ ﮨﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﺳﻤﺎﺗﮯ ﺟﯽ ، ﺳﻮﺗﮯ ﺑﮭﯽ ﺷﺎﻋﺮﯼ ﭘﺮ ﺳﺮ ﺭﮐﮫ ﮐﮯ ﮨﻮ۔ ‘
 ﻋﯿﺪ ﮐﮯ ﻣﻮﻗﻊ ﭘﺮ ﻣﺤﻠﮯ ﺑﮭﺮ ﮐﮯ ﺑﭽﮯ ﻏﻔﻮﺭ ﺩﺭﺯﯼ ﺳﮯ ﮐﭙﮍﮮ ﺳﻠﻮﺍﺗﮯ۔ ﮨﻢ ﺿﺪ ﮐﺮﺗﮯ ﺗﻮ ﺍﻣّﺎﮞ ﮐﮩﺘﯿﮟ ﻭﮦ ﺗﻮ ﻣﺠﺒﻮﺭﯼ ﻣﯿﮟ ﺳﻠﻮﺍﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﺍﻥ ﮐﮯ ﮔﮭﺮﻭﮞ ﻣﯿﮟ ﮐﺴﯽ ﮐﻮ ﺳﯿﻨﺎ ﭘﺮﻭﻧﺎ ﻧﮩﯿﮟ ﺁﺗﺎ۔ ﻣﯿﮟ ﺗﻮ ﺍﭘﻨﮯ ﺷﮩﺰﺍﺩﮮ ﺷﮩﺰﺍﺩﯾﻮﮞ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﮨﺎﺗﮫ ﺳﮯ ﮐﭙﮍﮮ ﺳﯿﺌﻮﮞ ﮔﯽ۔ ﺟﻤﻌۃ ﺍﻟﻮﺩﺍﻉ ﮐﮯ ﻣﺒﺎﺭﮎ ﺩﻥ ﺍﺑّ ﻟﭩﮭﮯ ﺍﻭﺭ ﭘﮭﻮﻝ ﺩﺍﺭ ﭼﮭﯿﻨﭧ ﮐﮯ ﺩﻭ ﺁﺩﮬﮯ ﺁﺩﮬﮯ ﺗﮭﺎﻥ ﺟﺎﻧﮯ ﮐﮩﺎﮞ ﺳﮯ ﺧﺮﯾﺪ ﮐﺮ ﮔﮭﺮ ﻻﺗﮯ۔ ﻟﭩﮭﮯ ﮐﮯ ﺗﮭﺎﻥ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﺍﺑّ ﺍﻭﺭ ﺗﯿﻨﻮﮞ ﻟﮍﮐﻮﮞ ﮐﮯ ﺍﻭﺭ ﭼﮭﯿﻨﭧ ﮐﮯ ﺗﮭﺎﻥ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﺩﻭﻧﻮﮞ ﻟﮍﮐﯿﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﺍﻣّﺎﮞ ﮐﮯ ﺟﻮﮌﮮ ﮐﭩﺘﮯ ﺍﻭﺭ ﭘﮭﺮ ﺍﻣّﺎﮞ ﮨﻢ ﺳﺐ ﮐﻮ ﺳﻼﻧﮯ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺳﮩﺮﯼ ﺗﮏ ﺁﭘﺎ ﻧﺼﯿﺒﻦ ﮐﮯ ﺩﯾﻮﺍﺭ ﻣﻠﮯ ﮐﻮﺍﺭﭨﺮ ﺳﮯ ﻻﺋﯽ ﮔﺌﯽ ﺳﻼﺋﯽ ﻣﺸﯿﻦ ﭘﺮ ﺳﺐ ﮐﮯ ﺟﻮﮌﮮ ﺳﯿﺘﯿﮟ۔
 ﺁﭘﺎ ﻧﺼﯿﺒﻦ ﺳﺎﻝ ﮐﮯ ﺳﺎﻝ ﺍﺱ ﺷﺮﻁ ﭘﺮ ﻣﺸﯿﻦ ﺩﯾﺘﯿﮟ ﮐﮧ ﺍﻥ ﮐﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﻥ ﮐﮯ ﻣﯿﺎﮞ ﮐﺎ ﺟﻮﮌﺍ ﺑﮭﯽ ﺍﻣّﺎﮞ ﺳﯽ ﮐﮯ ﺩﯾﮟ ﮔﯽ۔ ﮨﻢ ﺑﮩﻦ ﺑﮭﺎﺋﯽ ﺟﺐ ﺫﺭﺍ ﺫﺭﺍ ﺳﯿﺎﻧﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺗﻮ ﮨﻤﯿﮟ ﻋﺠﯿﺐ ﺳﺎ ﻟﮕﻨﮯ ﻟﮕﺎ ﮐﮧ ﻣﺤﻠﮯ ﮐﮯ ﺑﺎﻗﯽ ﺑﭽﮯ ﺑﭽﯿﺎﮞ ﺗﻮ ﻧﺌﮯ ﻧﺌﮯ ﺭﻧﮕﻮﮞ ﮐﮯ ﺍﻟﮓ ﺍﻟﮓ ﭼﻤﮑﯿﻠﮯ ﺳﮯ ﮐﭙﮍﮮ ﭘﮩﻨﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﻣﮕﺮ ﮨﻤﺎﺭﮮ ﮔﮭﺮ ﻣﯿﮟ ﺳﺐ ﺍﯾﮏ ﮨﯽ ﻃﺮﺡ ﮐﮯ ﮐﭙﮍﮮ ﭘﮩﻨﺘﮯ ﮨﯿﮟ۔ ﻣﮕﺮ ﺍﻣّﺎﮞ ﮐﮯ ﺍﺱ ﺟﻮﺍﺏ ﺳﮯ ﮨﻢ ﻣﻄﻤﺌﻦ ﮨﻮﺟﺎﺗﮯ ﮐﮧ ﺍﯾﮏ ﺳﮯ ﮐﭙﮍﮮ ﭘﮩﻨﻨﮯ ﺳﮯ ﮐﻨﺒﮯ ﻣﯿﮟ ﻣﺤﺒﺖ ﻗﺎﺋﻢ ﺭﮨﺘﯽ ﮨﮯ۔ ﺍﻭﺭ ﭘﮭﺮ ﺍﯾﺴﮯ ﭼﭩﮏ ﻣﭩﮏ ﮐﭙﮍﮮ ﺑﻨﺎﻧﮯ ﮐﺎ ﺁﺧﺮ ﮐﯿﺎ ﻓﺎﺋﺪﮦ ﺟﻨﮭﯿﮟ ﺗﻢ ﻋﯿﺪ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺍﺳﺘﻌﻤﺎﻝ ﮨﯽ ﻧﮧ ﮐﺮ ﺳﮑﻮ۔
 ﭼﮭﻮﭨﯽ ﻋﯿﺪ ﯾﻮﮞ ﺑﮭﯽ ﻭﺍﺣﺪ ﺗﮩﻮﺍﺭ ﺗﮭﺎ ﺟﺲ ﭘﺮ ﺳﺐ ﺑﭽﻮﮞ ﮐﻮ ﺍﺑّ ﺍﯾﮏ ﺍﯾﮏ ﺭﻭﭘﮯ ﮐﺎ ﭼﺎﻧﺪ ﺗﺎﺭﮮ ﻭﺍﻻ ﺑﮍﺍ ﺳﮑﮧ ﺩﯾﺘﮯ ﺗﮭﮯ۔ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺍﻧﺘﻈﺎﺭ ﺍﻭﺭ ﺧﺮﭺ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﯽ ﻣﻨﺼﻮﺑﮧ ﺑﻨﺪﯼ ﻣﯿﮟ ﭼﺎﻧﺪ ﺭﺍﺕ ﺁﻧﮑﮭﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﮨﯽ ﮐﭧ ﺟﺎﺗﯽ۔ ﺻﺒﺢ ﺻﺒﺢ ﻧﻤﺎﺯ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﮨﻢ ﺑﭽﻮﮞ ﮐﯽ ﺷﺎﭘﻨﮓ ﺷﺮﻭﻉ ﮨﻮﺟﺎﺗﯽ۔ ﺳﺐ ﺳﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﮨﺮ ﺑﮩﻦ ﺑﮭﺎﺋﯽ ﮐﻮﮈﻭ ﮐﮯ ﭨﮭﯿﻠﮯ ﺳﮯ ﺍﯾﮏ ﺍﯾﮏ ﭘﻨﯽ ﻭﺍﻟﯽ ﮔﻮﻝ ﻋﯿﻨﮏ ﺧﺮﯾﺪﺗﺎ ﺟﺴﮯ ﭘﮩﻦ ﮐﺮ ﭼﺎﻝ ﻣﯿﮟ ﺍﺗﺮﺍﮨﭧ ﺳﯽ ﺁﺟﺎﺗﯽ۔ ﭘﮭﺮ ﺳﺐ ﮐﮯ ﺳﺐ ﭼﺎﻧﺪﯼ ﮐﮯ ﻭﺭﻕ ﻟﮕﯽ ﻣﯿﭩﮭﯽ ﺍﻣﻠﯽ ﺍﺱ ﻻﻟﭻ ﻣﯿﮟ ﺧﺮﯾﺪﺗﮯ ﮐﮧ ﺭﻓﯿﻖ ﺍﻓﯿﻤﭽﯽ ﮨﺮ ﺍﯾﮏ ﮐﻮ ﺍﻣﻠﯽ ﺩﯾﺘﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺗﯿﻠﯽ ﺟﻼ ﮐﺮ ﺍﻣﻠﯽ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﺷﻌﻠﮧ ﻧﮑﺎﻟﮯ ﮔﺎ۔
 ﭘﮭﺮ ﺧﺎﻧﮧ ﺑﺪﻭﺷﻮﮞ ﮐﮯ ﺧﻮﺍﻧﭽﮯ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﺮﮮ ﻣﭩﯽ ﮐﮯ ﮐﮭﻠﻮﻧﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﺭﻧﮕﯿﻦ ﮐﺎﻏﺬ ﺍﻭﺭ ﺑﺎﻧﺲ ﮐﯽ ﻟﭽﮑﺪﺍﺭ ﺗﯿﻠﯿﻮﮞ ﺳﮯ ﺑﻨﮯ ﮔﮭﮕﻮ ﮔﮭﻮﮌﮮ ﮐﯽ ﺑﺎﺭﯼ ﺁﺗﯽ۔ ﺁﺧﺮ ﻣﯿﮟ ﺑﺲ ﺍﺗﻨﮯ ﭘﯿﺴﮯ ﺑﭽﺘﮯ ﮐﮧ ﺳﻮﮈﮮ ﮐﯽ ﺑﻮﺗﻞ  ﺳﮑﮯ۔ ﭼﻨﺎﻧﭽﮧ ﺍﯾﮏ ﺑﻮﺗﻞ ﺧﺮﯾﺪ ﮐﺮ ﮨﻢ ﭘﺎﻧﭽﻮﮞ ﺑﮩﻦ ﺑﮭﺎﺋﯽ ﺍﺱ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﺑﺎﺭﯼ ﺑﺎﺭﯼ ﺍﯾﮏ ﺍﯾﮏ ﮔﮭﻮﻧﭧ ﻟﯿﺘﮯ ﺍﻭﺭ ﻧﻈﺮﯾﮟ ﮔﺎﮌﮮ ﺭﮨﺘﮯ ﮐﮧ ﮐﮩﯿﮟ ﮐﻮﺋﯽ ﺑﮍﺍ ﮔﮭﻮﻧﭧ ﻧﮧ ﺑﮭﺮ ﺟﺎﺋﮯ۔
 ﭘﯿﺴﮯ ﺧﺘﻢ ﮨﻮﻧﮯ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﮨﻢ ﺩﻭﺳﺮﮮ ﺑﭽﻮﮞ ﮐﻮ ﭘﭩﮭﺎﻥ ﮐﯽ ﭼﮭﺮﮮ ﻭﺍﻟﯽ ﺑﻨﺪﻭﻕ ﺳﮯ ﺭﻧﮕﯿﻦ ﺍﻭﺭ ﻣﮩﯿﻦ ﮐﺎﻏﺬ ﺳﮯ ﻣﻨﮉﮬﮯ ﭼﻮﺑﯽ ﮐﮭﺎﻧﭽﮯ ﭘﺮ ﻟﮕﮯ ﻏﺒﺎﺭﮮ ﭘﮭﻮﮌﺗﮯ ﺑﮍﯼ ﺣﺴﺮﺕ ﺳﮯ ﺩﯾﮑﮭﺘﮯ ﺭﮨﺘﮯ۔ ﺑﻨﺪﺭ ﯾﺎ ﺭﯾﭽﮫ ﮐﺎ ﺗﻤﺎﺷﺎ ﺑﮭﯽ ﺍﮐﺜﺮ ﻣﻔﺖ ﮨﺎﺗﮫ  ﺟﺎﺗﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﻭﭘﺮ ﻧﯿﭽﮯ ﺟﺎﻧﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﮔﻮﻝ ﭼﻮﺑﯽ ﺟﮭﻮﻟﮯ ﻣﯿﮟ ﺑﯿﭩﮭﻨﮯ ﺳﮯ ﺗﻮ ﮨﻢ ﺳﺐ ﺑﮩﻦ ﺑﮭﺎﺋﯽ ﮈﺭﺗﮯ ﺗﮭﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﮐﺎ ﭨﮑﭧ ﺑﮭﯽ ﻣﮩﻨﮕﺎ ﺗﮭﺎ۔
 ﺑﻘﺮ ﻋﯿﺪ ﭘﺮ ﺳﺐ ﮐﮯ ﮨﺎﮞ ﻗﺮﺑﺎﻧﯽ ﮨﻮﺗﯽ ﺳﻮﺍﺋﮯ ﮨﻤﺎﺭﮮ۔ ﻣﮕﺮ ﯾﮩﺎﮞ ﺑﮭﯽ ﺍﻣّﺎﮞ ﮐﯽ ﻣﻨﻄﻖ ﺩﻝ ﮐﻮ ﻟﮕﺘﯽ ﮐﮧ ﺟﻮ ﻟﻮﮒ ﮐﺴﯽ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ ﺩﻧﯿﺎ ﻣﯿﮟ ﻗﺮﺑﺎﻧﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮ ﺳﮑﺘﮯ ﺍﻥ ﮐﮯ ﺑﮑﺮﮮ ﺍﻟﻠﮧ ﻣﯿﺎﮞ ﺍﻭﭘﺮ ﺟﻤﻊ ﮐﺮﺗﺎ ﺭﮨﺘﺎ ﮨﮯ۔ ﺟﺐ ﮨﻢ ﺍﻭﭘﺮ ﺟﺎﺋﯿﮟ ﮔﮯ ﺗﻮ ﺍﯾﮏ ﺳﺎﺗﮫ ﺳﺐ ﺟﺎﻧﻮﺭ ﻗﺮﺑﺎﻥ ﮐﺮﯾﮟ ﮔﮯ ، ﺍﻧﺸﺎﺍﻟﻠﮧ !
 ﺍﯾﮏ ﺩﻓﻌﮧ ﮔﮍﯾﺎ ﻧﮯ ﭘﻮﭼﮭﺎ ﮐﮧ ﺍﻣّﺎﮞ ﮐﯿﺎ ﮨﻢ ﺟﻠﺪﯼ ﺍﻭﭘﺮ ﻧﮩﯿﮟ ﺟﺎﺳﮑﺘﮯ؟ ﮨﺮ ﺳﻮﺍﻝ ﭘﺮ ﻣﻄﻤﺌﻦ ﮐﺮ ﺩﯾﻨﮯ ﻭﺍﻟﯽ ﺍﻣّﺎﮞ ﭼﭗ ﺳﯽ ﮨﻮﮔﺌﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﮨﻤﯿﮟ ﺻﺤﻦ ﻣﯿﮟ ﭼﮭﻮﮌ ﮐﺮ ﺍﮐﻠﻮﺗﮯ ﮐﻤﺮﮮ ﻣﯿﮟ ﭼﻠﯽ ﮔﺌﯿﮟ۔ ﮨﻢ ﺑﭽﻮﮞ ﻧﮯ ﭘﮩﻠﯽ ﺑﺎﺭ ﮐﻤﺮﮮ ﺳﮯ ﺳﺴﮑﯿﻮﮞ ﮐﯽ ﺁﻭﺍﺯﯾﮟ ﺁﺗﯽ ﺳﻨﯿﮟ ﻣﮕﺮ ﺟﮭﺎﻧﮑﻨﮯ ﮐﯽ ﮨﻤﺖ ﻧﮧ ﮨﻮﺋﯽ۔ ﺳﻤﺠﮫ ﻣﯿﮟ ﻧﮩﯿﮟ ﺁﯾﺎ ﮐﮧ ﺁﺧﺮ ﮔﮍﯾﺎ ﮐﯽ ﺑﺎﺕ ﭘﺮ ﺭﻭﻧﮯ ﮐﯽ ﮐﯿﺎ ﺑﺎﺕ ﺗﮭﯽ۔
 ﮐﻮﺋﯽ ﭼﮫ ﺳﺎﺕ ﻣﺎﮦ ﺑﻌﺪ ﺍﯾﮏ ﺩﻥ ﺍﻣّﺎﮞ ﺑﺎﻭﺭﭼﯽ ﺧﺎﻧﮯ ﻣﯿﮟ ﮐﺎﻡ ﮐﺮﺗﮯ ﮐﺮﺗﮯ ﮔﺮ ﭘﮍﯾﮟ۔ ﺍﺑّ ﻧﻮﮐﺮﯼ ﭘﺮ ﺗﮭﮯ..ساته والی خالہ اماں کی چیخیں سن کے آئ ...گلی کے نکڑ پر ڈاکٹر کی دوکان تهی...اسے بلا کر لائیں...اس نے بتایا کہ اماں کا دل بند ہو گیا...
 اس عید پہ اچانک بیٹھے بیٹهے چهوٹی کہنے لگی.."باجی اماں خود تو اس عید پہ وہاں اچهی سی قربانی کریں گی...خوب اچهے کهانے ہوں گے..ہمارا کیا ہو گا...چهوٹی کی بات سن کر میں پهوٹ پهوٹ کر رونے لگ گئ..

Tuesday, 3 February 2015

اخلاق کی فتح۔ منتخب تحریر

جالندهر کے خیر المدارس میں جلسہ ہوا اور جلسے کے اختتام پر کهانا لگا، دستر خوان پر امیر شریعت مولانا عطا اللہ شاه بخاری رحمہ اللہ بهی تهے، انکی نظر ایک نوجوان عیسائی پر پڑی تو اسکو فرمایا:
" بهائی کهانا کها لو"
عیسائی نے جواب دیا:
"جی میں تو بهنگی ہوں"
شاه جی نے درد بهرے لہجے میں فرمایا:
"انسان تو ہو اور بهوک تو لگتی ہے"
یہ کہہ کر اٹهے اور اور اسکے ہاتھ دهلا کر اپنے ساتھ بٹها لیا .... وہ بیچارہ تهر تهر کانپتا تها اور کہتا جاتا تها:
"جی میں تو بهنگی ہوں"
شاہ صاحب نے خود لقمہ بنا کر اسکے منہ میں ڈالا، اسکا حجاب اور خوف کچھ دور ہوا تو شاہ صاحب نے ایک آلو اس کے منہ میں ڈال دیا جب اس نے آدها آلو کاٹ لیا تو باقی آدها شاه صاحب نے خود کها لیا، اسی طرح اس نے پانی پیا تو اسکا بچایا ہوا پانی بهی شاه صاحب نے پی لیا.... وقت گذر گیا اور وہ عیسائی کهانا کها کر غائب ہو گیا.. اس پر رقت طاری تهی، وہ خوب رویا اور اسکی کیفیت ہی بدل گئی....
عصر کے وقت وہ عیسائی اپنی بیوی اور بچے کو لے کر آیا اور کہا:
" شاہ جی ! جو محبت کی آگ لگائی ہے وہ بجهائیں بهی آپ، اللہ کے لیے ہمیں کلمه پڑها کر مسلمان کر لیں"
اورمیاں بیوی دونوں مسلمان ہوگئے..
وه ادائے دلبری ہو یا نوائے عاشقانہ !!!
جو دلوں کو فتح کر لے وہی فاتح زمانہ
(بخاری کی باتیں، ص 29.30 )

خلافت : امیر المومنین حضرت عمر رضی الله عنہ


امیر المومنین حضرت عمر رضی الله عنہ اپنے خلافت کے زمانہ میں بسا اوقات رات کو چوکیدار کے طور پر شہر کی حفاظت بھی فرمایا کرتے تھے۔ ایک مرتبہ اسی حالت میں ایک میدان میں گذر ہوا۔ آپ نے دیکھا کہ ایک خیمہ لگا ہوا ہے جو پہلے وہاں نہیں دیکھا تھا۔ اس کے قریب پہنچے تو دیکھا کہ ایک صاحب وہاں بیٹھے ہوئے ہیں اور خیمہ سے کچھ کراہنے کی آواز آرہی ہے۔ آپ سلام کر کے ان صاحب کے پاس بیٹھ گئے اور دریافت کیا کہ تم کون ہو۔ اس نے کہا ایک مسافر ہوں جنگل کا رہنے والا ہوں۔ امیر المومنین کے سامنے کچھ اپنی ضرروت پیش کر کے مدد چاہنے کے واسطے آیا ہوں۔
آپ نے دریافت فرمایا کہ یہ خیمہ میں سے آواز کیسی آرہی ہے۔ ان صاحب نے کہا میاں جائو اپنا کام کرو۔ آپ نے اصرار فرمایا کہ نہیں بتادو کچھ تکلیف کی آواز ہے۔ ان صاحب نے کہا کہ میری بیوی ہے اور بچے کی ولادت کا وقت قریب ہے، آپ نے دریافت فرمایا کہ کوئی دوسری عورت بھی پاس ہے۔ اس نے کہا کوئی نہیں۔ آپ وہاں سے اٹھے، اپنے گھر تشریف لے گئے اور اپنی بیوی حضرت ام کلثوم رضی اللہ عنہ سے فرمایا کہ ایک بڑے ثواب کی چیز مقدر سے تمہارے لئے آئی ہیں۔ انہوں نے پوچھا کیا ہے آپ نے سارا واقعہ بتایا۔ انہوں نے ارشاد فرمایا ہاں ہاں تمہاری صلاح ہو تو میں تیار ہوں۔
حضرت عمر رضی الله عنہ نے فرمایا کہ ولادت کے واسطے جن چیزوں کی ضرورت پڑتی ہو لے لو اور ایک ہانڈی اور کچھ گھی اور دانے وغیرہ بھی ساتھ لے لو، وہ لے کر چلیں۔ حضرت عمر رضی الله عنہ خود پیچھے پیچھے ہو لیے وہاں پہنچ کر حضرت ام کلثوم رضی اللہ عنہا تو خیمہ میں چلی گئیں اور آپ نے آگ جلا کر اس ہانڈی میں دانے ابالے، گھی ڈالا اتنے میں ولادت سے فراغت ہوگئی۔ اندر سے حضرت ام کلثوم رضی اللہ عنہا نے آواز دے کر عرض کیا۔ امیر المومنین! اپنے دوست کو لڑکا پیدا ہونے کی بشارت دیجئے۔
امیر المومنین کا لفظ جب ان صاحب کے کان میں پڑا تو وہ بڑے گھبرائے۔ آپ رضی الله عنہ نے فرمایا گھبرانے کی بات نہیں۔ وہ ہانڈی خیمہ کے پاس رکھ دی اور اپنی بیوی سے کہا کہ اس عورت کو بھی کچھ کھلا دیں۔ انہوں نے تھوڑی دیر بعد بانڈی باہر دے دی۔ حضرت عمر رضی الله عنہ نے اس بدو سے کہا کہ لو تم بھی کھائو۔ رات بھر تمہاری جاگنے میں گذر گئی۔ اس کے بعد اہلیہ کو ساتھ لے کر گھر تشریف لے آئے اور ان صاحب سے فرما دیا کہ کل تمہارے لئے انتظام کر دیا جائے گا۔
(حیات الصحابہ)

عدل و انصاف اور مسلمانوں کی اخوت اور بھائی چارہ


حضرت عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ
عدل و انصاف اور مسلمانوں کی اخوت اور بھائی چارہ
دو نوجوان عمر رضی اللہ عنہ کی محفل میں داخل ہوتے ہی محفل میں بیٹھے ایک شخص کے سامنے جا کر کھڑے ہو جاتے ہیں اور اسکی طرف انگلی کر کے کہتے ہیں “یا عمر یہ ہے وہ شخص
عمر رضی اللہ عنہ ان سے پوچھتے ہیں ” کیا کیا ہے اس شخص نے ؟
یا امیر المؤمنین ۔ اس نے ہمارے باپ کو قتل کیا ہے
عمر رضی اللہ عنہ پوچھتے ہیں “کیا کہہ رہے ہو ۔ اس نے تمہارے باپ کو قتل کیا ہے ؟
عمر رضی اللہ عنہ اس شخص سے مخاطب ہو کر پوچھتے ہیں ” کیا تو نے ان کے باپ کو قتل کیا ہے ؟
وہ شخص کہتا ہے “ہاں امیر المؤمنین ۔ مجھ سے قتل ہو گیا ہے انکا باپ
عمر رضی اللہ عنہ پوچھتے ہیں ” کس طرح قتل ہوا ہے ؟
وہ شخص کہتا ہے “یا عمر ۔ انکا باپ اپنے اُونٹ سمیت میرے کھیت میں داخل ہو گیا تھا ۔ میں نے منع کیا ۔ باز نہیں آیا تو میں نے ایک پتھر دے مارا۔ جو سیدھا اس کے سر میں لگا اور وہ موقع پر مر گیا
عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں ” پھر تو قصاص دینا پڑے گا ۔ موت ہے اسکی سزا
نہ فیصلہ لکھنے کی ضرورت اور فیصلہ بھی ایسا اٹل کہ جس پر کسی بحث و مباحثے کی بھی گنجائش نہیں ۔ نہ ہی اس شخص سے اسکے کنبے کے بارے میں کوئی سوال کیا گیا ہے، نہ ہی یہ پوچھا گیا ہے کہ تعلق کس قدر شریف خاندان سے ہے، نہ ہی یہ پوچھنے کی ضرورت محسوس کی گئی ہے کہ تعلق کسی معزز قبیلے سے تو نہیں، معاشرے میں کیا رتبہ یا مقام ہے ؟ ان سب باتوں سے بھلا عمر رضی اللہ عنہ کو مطلب ہی کیا ۔ کیونکہ معاملہ اللہ کے دین کا ہو تو عمر رضی اللہ عنہ پر کوئی اثر انداز نہیں ہو سکتا اور نہ ہی کوئی اللہ کی شریعت کی تنفیذ کے معاملے پر عمر رضی اللہ عنہ کو روک سکتا ہے۔ حتٰی کہ سامنے عمر کا اپنا بیٹا ہی کیوں نہ قاتل کی حیثیت سے آ کھڑا ہو ۔ قصاص تو اس سے بھی لیا جائے گا۔
وہ شخص کہتا ہے ”ا ے امیر المؤمنین ۔ اُس کے نام پر جس کے حُکم سے یہ زمین و آسمان قائم کھڑے ہیں مجھے صحرا میں واپس اپنی بیوی بچوں کے پاس جانے دیجئے تاکہ میں ان کو بتا آؤں کہ میں قتل کر دیا جاؤں گا۔ ان کا اللہ اور میرے سوا کوئی آسرا نہیں ہے ۔ میں اسکے بعد واپس آ جاؤں گا
عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں ”کون تیری ضمانت دے گا کہ تو صحرا میں جا کر واپس بھی آ جائے گا؟
مجمع پر ایک خاموشی چھا جاتی ہے۔ کوئی بھی تو ایسا نہیں ہے جو اسکا نام تک بھی جانتا ہو۔ اسکے قبیلے ۔ خیمے یا گھر وغیرہ کے بارے میں جاننے کا معاملہ تو بعد کی بات ہے ۔ کون ضمانت دے اسکی ؟ کیا یہ دس درہم کے ادھار یا زمین کے ٹکڑے یا کسی اونٹ کے سودے کی ضمانت کا معاملہ ہے ؟ ادھر تو ایک گردن کی ضمانت دینے کی بات ہے جسے تلوار سے اڑا دیا جانا ہے۔ اور کوئی بھی تو ایسا نہیں ہے جو اللہ کی شریعت کی تنفیذ کے معاملے پر عمر رضی اللہ عنہ سے اعتراض کرے یا پھر اس شخص کی سفارش کیلئے ہی کھڑا ہو جائے اور کوئی ہو بھی نہیں سکتا جو سفارشی بننے کی سوچ سکے۔
محفل میں موجود صحابہ پر ایک خاموشی سی چھا گئی ہے۔ اس صورتحال سے خود عمر رضی اللہ عنہ بھی متأثر ہیں۔ کیونکہ اس شخص کی حالت نے سب کو ہی حیرت میں ڈال کر رکھ دیا ہے۔ کیا اس شخص کو واقعی قصاص کے طور پر قتل کر دیا جائے اور اس کے بچے بھوکوں مرنے کیلئے چھوڑ دیئے جائیں ؟ یا پھر اسکو بغیر ضمانتی کے واپس جانے دیا جائے؟ واپس نہ آیا تو مقتول کا خون رائیگاں جائے گا،
خود عمر رضی اللہ عنہ بھی سر جھکائے افسردہ بیٹھے ہیں اس صورتحال پر، سر اُٹھا کر التجا بھری نظروں سے نوجوانوں کی طرف دیکھتے ہیں ”معاف کر دو اس شخص کو
نوجوان اپنا آخری فیصلہ بغیر کسی جھجھک کے سنا دیتے ہیں ”نہیں امیر المؤمنین ۔ جو ہمارے باپ کو قتل کرے اسکو چھوڑ دیں ۔ یہ تو ہو ہی نہیں سکتا
عمر رضی اللہ عنہ ایک بار پھر مجمع کی طرف دیکھ کر بلند آواز سے پوچھتے ہیں ”اے لوگو ۔ ہے کوئی تم میں سے جو اس کی ضمانت دے؟
ابو ذر غفاری رضی اللہ عنہ اپنے زہد و صدق سے بھر پور بڑھاپے کے ساتھ کھڑے ہو کر کہتے ہیں ”میں ضمانت دیتا ہوں اس شخص کی
عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں “ابوذر ۔ اس نے قتل کیا ہے
ابوذر رضی اللہ عنہ اپنا اٹل فیصلہ سناتے ہیں “چاہے قتل ہی کیوں نہ کیا ہو
عمر رضی اللہ عنہ “جانتے ہو اسے ؟
ابوذر رضی اللہ عنہ ” نہیں جانتا
عمر رضی اللہ عنہ ” تو پھر کس طرح ضمانت دے رہے ہو ؟
ابوذر رضی اللہ عنہ ”میں نے اس کے چہرے پر مومنوں کی صفات دیکھی ہیں اور مجھے ایسا لگتا ہے یہ جھوٹ نہیں بول رہا ۔ انشاء اللہ یہ لوٹ کر واپس آ جائے گا
عمر رضی اللہ عنہ ”ابوذر دیکھ لو اگر یہ تین دن میں لوٹ کر نہ آیا تو مجھے تیری جدائی کا صدمہ دیکھنا پڑے گا
ابوذر رضی اللہ عنہ اپنے فیصلے پر ڈٹے ہوئے جواب دیتے ہیں ” امیر المؤمنین ۔ پھر اللہ مالک ہے
عمر رضی اللہ عنہ سے تین دن کی مہلت پا کر وہ شخص رخصت ہو جاتا ہے ۔ کچھ ضروری تیاریوں کیلئے ۔ بیوی بچوں کو الوداع کہنے ۔ اپنے بعد اُن کے لئے کوئی راہ دیکھنے اور پھر اس کے بعد قصاص کی ادائیگی کیلئے قتل کئے جانے کی غرض سے لوٹ کر واپس آنے کیلئے۔
اور پھر تین راتوں کے بعد عمر رضی اللہ عنہ بھلا کیسے اس امر کو بھلا پاتے ۔ انہوں نے تو ایک ایک لمحہ گن کر کاٹا تھا۔ عصر کے وقت شہر میں (الصلاۃ جامعہ) کی منادی پھر جاتی ہے ۔ نوجوان اپنے باپ کا قصاص لینے کیلئے بے چین اور لوگوں کا مجمع اللہ کی شریعت کی تنفیذ دیکھنے کے لئے جمع ہو چکا ہے ۔ ابو ذر رضی اللہ عنہ بھی تشریف لاتے ہیں اور آ کر عمر رضی اللہ عنہ کے سامنے بیٹھ جاتے ہیں۔
عمر رضی اللہ عنہ سوال کرتے ہیں ” کدھر ہے وہ آدمی ؟
ابوذر رضی اللہ عنہ مختصر جواب دیتے ہیں “مجھے کوئی پتہ نہیں ہے یا امیر المؤمنین
ابوذر رضی اللہ عنہ آسمان کی طرف دیکھتے ہیں جدھر سورج ڈوبنے کی جلدی میں معمول سے زیادہ تیزی کے ساتھ جاتا دکھائی دے رہا ہے۔ محفل میں ہُو کا عالم ہے ۔ اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا کہ آج کیا ہونے جا رہا ہے ؟
یہ سچ ہے کہ ابوذر رضی اللہ عنہ عمر رضی اللہ عنہ کے دل میں بستے ہیں، عمرؓ رضی اللہ عنہ سے ان کے جسم کا ٹکڑا مانگیں تو عمر رضی اللہ عنہ دیر نہ کریں کاٹ کر ابوذر رضی اللہ عنہ کے حوالے کر دیں ۔ لیکن ادھر معاملہ شریعت کا ہے ۔ اللہ کے احکامات کی بجا آوری کا ہے ۔ کوئی کھیل تماشہ نہیں ہونے جا رہا ۔ نہ ہی کسی کی حیثیت یا صلاحیت کی پیمائش ہو رہی ہے ۔ حالات و واقعات کے مطابق نہیں اور نہ ہی زمان و مکان کو بیچ میں لایا جانا ہے۔ قاتل نہیں آتا تو ضامن کی گردن جاتی نظر آ رہی ہے۔
مغرب سے چند لحظات پہلے وہ شخص آ جاتا ہے ۔ بے ساختہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے منہ سے اللہ اکبر کی صدا نکلتی ہے۔ ساتھ ہی مجمع بھی اللہ اکبر کا ایک بھرپور نعرہ لگاتا ہے
عمر رضی اللہ عنہ اس شخص سے مخاطب ہو کر کہتے ہیں ” اے شخص ۔ اگر تو لوٹ کر نہ بھی آتا تو ہم نے تیرا کیا کر لینا تھا۔ نہ ہی تو کوئی تیرا گھر جانتا تھا اور نہ ہی کوئی تیرا پتہ جانتا تھا
وہ بولا ” امیر المؤمنین ۔ اللہ کی قسم ۔ بات آپکی نہیں ہے بات اس ذات کی ہے جو سب ظاہر و پوشیدہ کے بارے میں جانتا ہے ۔ دیکھ لیجئے میں آ گیا ہوں ۔ اپنے بچوں کو پرندوں کے چوزوں کی طرح صحرا میں تنہا چھوڑ کر ۔ جدھر نہ درخت کا سایہ ہے اور نہ ہی پانی کا نام و نشان ۔ میں قتل کر دیئے جانے کیلئے حاضر ہوں ۔ مجھے بس یہ ڈر تھا کہیں کوئی یہ نہ کہہ دے کہ اب لوگوں میں سے وعدوں کا ایفاء ہی اُٹھ گیا ہے
عمر رضی اللہ عنہ نے ابوذر رضی اللہ عنہ کی طرف رخ کر کے پوچھا ” ابوذر ۔ تو نے کس بنا پر اسکی ضمانت دے دی تھی ؟
ابوذر رضی اللہ عنہ نے کہا ” اے عمر ۔ مجھے اس بات کا ڈر تھا کہیں کوئی یہ نہ کہہ دے کہ اب لوگوں سے خیر ہی اٹھا لی گئی ہے
سید عمرؓ نے ایک لمحے کیلئے توقف کیا اور پھر ان دو نوجوانوں سے پوچھا کہ کیا کہتے ہو اب؟
نوجوانوں نے جن کا باپ مرا تھا روتے ہوئے کہا ” اے امیر المؤمنین ۔ ہم اس کی صداقت کی وجہ سے اسے معاف کرتے ہیں ۔ ہمیں اس بات کا ڈر ہے کہ کہیں کوئی یہ نہ کہہ دے کہ اب لوگوں میں سے عفو اور درگزر ہی اُٹھا لیا گیا ہے
عمر رضی اللہ عنہ اللہ اکبر پکار اُٹھے اور آنسو ان کی ڈاڑھی کو تر کرتے نیچے گر نے لگے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ فرمايا ۔۔۔
اے نوجوانو ۔ تمہاری عفو و درگزر پر اللہ تمہیں جزائے خیر دے
اے ابو ذر ۔ اللہ تجھے اس شخص کی مصیبت میں مدد پر جزائے خیر دے
اور اے شخص ۔ اللہ تجھے اس وفائے عہد و صداقت پر جزائے خیر دے
اور اے امیر المؤمنین ۔ اللہ تجھے تیرے عدل و رحمدلی پر جزائے خیر دے
ایک منتخب تحریر: جزاک اللہ

Monday, 2 February 2015

ایک فضول تحریر ، لٹ جانے والوں سے معذرت کے ساتھ


ایک فضول تحریر ، لٹ جانے والوں سے معذرت کے ساتھ

اے ٹی ایم میں داخل ہو کر ابھی اس نے اپنا پرس جیب سے نکالا ہی تھا کہ اچانک اسے اپنے عقب میں آواز سنائی دی، ایک بندہ اندر داخل ہوا۔ اس نے پلٹ کر اس کو کہنا چاہا کہ بھائی باہر انتظار کرو پہلے میں پیسے نکلوا لوں، یہ ویسے بھی آداب کے خلاف ہے اور قانونی طور پر آپ کو باہر رک کر انتظار کرنا چاہیئے۔

لیکن!

اس سے پہلے کہ کوئی لفظ اس کے منہ سے نکلتا ، آنیوالے اجنبی کی پتلون کی بچھلی سائیڈ سے پستول نکل آیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

پھر کیا تھا اس نے آتے ہی اس کے ہاتھ سے پرس چھینا، گاڑی کی چابی چھینی
پرس میں چند ہزار کے سوا کچھ نا تھا، ہاں البتہ اکاونٹ میں کچھ پیسے تھے ، لیکن آنے والا عجلت میں تھا۔

شاید اسکا مقصد صرف گاڑی لوٹنا تھا، اسی لیئے عجلت میں اس کے ہاتھ سے چابی چھین کر وہ باہر کو نکلا،

یہ بھی ڈرتے ڈرتے اس کے پیچھے نکلا ، لیکن لوٹنے والا پستول ہاتھ میں لہراتا ہوا
گاڑی میں بیٹھا اسی دوران ایک اور جوان اندھیرے سے نکل کر بھاگتا ہوا آیا اور گاڑی کی دوسری سیٹ پر بیٹھ گیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ساتھ ہی ساتھ وہ دونوں دور سے اس کو للکار رہے تھے، اور وہ ایک دم جیسے پرسکون سا کھڑا یہ سارا ڈرامہ دیکھ رہا تھا جیسے یہ سب کچھ اس کے ساتھ نہں بلکہ کسی اور کے ساتھ ہو رہا ہو۔
جیسے ہی گاڑی فراٹا بھر کے
تھوڑی دور گئی

اور اندھیرے میں اس کی پچھلی لال بتیاں معدوم ہوئی

اس نے قہقے لگا کر لوٹ پوٹ ہونا شروع کر دیا۔

ساتھ ہی جییب سے موبائل فون نکال کر پولیس کا نمبر ملایا

اور تقریبا پھولی ہوئی سانس اور قہقوں سے مدد مانگی۔


اور زور دار نعرہ لگایا


شیر زندہ باد، جی او شیرا تیرے نعرے

گاڑی میں پیٹرول نہیں ہے اور قریب قریب کہیں سے پیٹرول ملنے کا سوال ہی نہیں، زیادہ سے زیادہ اگلے چوک تک گاڑی بند ہو جائے گی۔ اور اسی دوران اس کو پولیس موبائل کے سائرن کی آواز آئی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اور وہ مسکراتے ہوئے پولیس والوں کی طرف بڑھا جو اس کو حیرت اور غصے سےاس کو دیکھ رہے تھے۔