Monday, 2 February 2015

ایک فضول تحریر ، لٹ جانے والوں سے معذرت کے ساتھ


ایک فضول تحریر ، لٹ جانے والوں سے معذرت کے ساتھ

اے ٹی ایم میں داخل ہو کر ابھی اس نے اپنا پرس جیب سے نکالا ہی تھا کہ اچانک اسے اپنے عقب میں آواز سنائی دی، ایک بندہ اندر داخل ہوا۔ اس نے پلٹ کر اس کو کہنا چاہا کہ بھائی باہر انتظار کرو پہلے میں پیسے نکلوا لوں، یہ ویسے بھی آداب کے خلاف ہے اور قانونی طور پر آپ کو باہر رک کر انتظار کرنا چاہیئے۔

لیکن!

اس سے پہلے کہ کوئی لفظ اس کے منہ سے نکلتا ، آنیوالے اجنبی کی پتلون کی بچھلی سائیڈ سے پستول نکل آیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

پھر کیا تھا اس نے آتے ہی اس کے ہاتھ سے پرس چھینا، گاڑی کی چابی چھینی
پرس میں چند ہزار کے سوا کچھ نا تھا، ہاں البتہ اکاونٹ میں کچھ پیسے تھے ، لیکن آنے والا عجلت میں تھا۔

شاید اسکا مقصد صرف گاڑی لوٹنا تھا، اسی لیئے عجلت میں اس کے ہاتھ سے چابی چھین کر وہ باہر کو نکلا،

یہ بھی ڈرتے ڈرتے اس کے پیچھے نکلا ، لیکن لوٹنے والا پستول ہاتھ میں لہراتا ہوا
گاڑی میں بیٹھا اسی دوران ایک اور جوان اندھیرے سے نکل کر بھاگتا ہوا آیا اور گاڑی کی دوسری سیٹ پر بیٹھ گیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ساتھ ہی ساتھ وہ دونوں دور سے اس کو للکار رہے تھے، اور وہ ایک دم جیسے پرسکون سا کھڑا یہ سارا ڈرامہ دیکھ رہا تھا جیسے یہ سب کچھ اس کے ساتھ نہں بلکہ کسی اور کے ساتھ ہو رہا ہو۔
جیسے ہی گاڑی فراٹا بھر کے
تھوڑی دور گئی

اور اندھیرے میں اس کی پچھلی لال بتیاں معدوم ہوئی

اس نے قہقے لگا کر لوٹ پوٹ ہونا شروع کر دیا۔

ساتھ ہی جییب سے موبائل فون نکال کر پولیس کا نمبر ملایا

اور تقریبا پھولی ہوئی سانس اور قہقوں سے مدد مانگی۔


اور زور دار نعرہ لگایا


شیر زندہ باد، جی او شیرا تیرے نعرے

گاڑی میں پیٹرول نہیں ہے اور قریب قریب کہیں سے پیٹرول ملنے کا سوال ہی نہیں، زیادہ سے زیادہ اگلے چوک تک گاڑی بند ہو جائے گی۔ اور اسی دوران اس کو پولیس موبائل کے سائرن کی آواز آئی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اور وہ مسکراتے ہوئے پولیس والوں کی طرف بڑھا جو اس کو حیرت اور غصے سےاس کو دیکھ رہے تھے۔

No comments:

Post a comment