Monday, 29 April 2013

عجیب انسان ہے.... یا انسان عجیب ہے........

 
عجیب انسان ہے.... یا انسان عجیب ہے........

کبھی کچھ بھی سمجھ نہیں آتا اور کبھی لگتا ہے سب سمجھ آ گیا. کبھی فیصلہ ہو نہیں پاتا اور وقت گزرجاتا ہے اور کبھی فیصلے ہوتے جاتے ہیں پر وقت تھم سا جاتاہے. خواہشیں بے تکی اور کبھی بے لگام ہو جاتی ہیں.....
کبھی زندگی میں اتنی فرصت ہوتی ہے سمجھ نہیں آتا کہ وقت کیسے گزرئے.. .. اور کبھی وقت ہی نہیں ملتا کچھ سوچنے کو اور زندگی گزر جاتی ہے......
کبھی بھی ہم اپنے حال میں خوش نہیں ہوتے لیکن جب یہی حال گزر کر ماضی بن جاتا ہے تو اس کو یاد کر کر کے روتے رہتے ہیں......
آنیوالا وقت ہمیشہ پریشان کرتا ہے اور گزرا ہوا وقت ہمیشہ یاد آتا رہتا ہے.....
انسان ہر حال میں پریشان ہی رہتا ہے.... جانے کیوں
زندگی میں سکون کے لیئے بھی تو بہت کچھ ہوتا ہے...........

شاید آپ یہ پڑھ کر وہی کہیں:
عجیب انسان ہےـ یا انسان عجیب ہے.

Thursday, 18 April 2013

اِک بستی بسنے والی ہے

اُمید ابھی کچھ باقی ہے ۔
اِک بستی بسنے والی ہے
جس بستی میں کوئی ظُلم نہ ہو ۔
اور جینا کوئی جُرم نہ ہو
وہاں پھُول خوشی کے کھِلتے ہوں ۔
اور موسم سارے مِلتے ہوں
بَس رَنگ اور نُور برستے ہوں ۔
اور سارے ہنستے بَستے ہوں
اُمید ہے ایسی بستی کی
جہاں جھوٹ کا کاروبار نہ ہو ۔
اور دہشت کا بازار نہ ہو
جینا بھی دشوار نہ ہو ۔
اور مرنا بھی آزار نہ ہو
وہاں خون کی ہولی عام نہ ہو ۔
اُس آنگن میں غم کی شام نہ ہو
جہاں مُ
نصف سے انصاف ملے ۔
دل سب کا سب سے صاف ملے
اِک آس ہے ایسی بستی ہو ۔
جہاں روٹی زہر سے سستی ہو
یہ بستی کاش تمہاری ہو ۔
یہ بستی کاش ہماری ہو
اُمید ابھی کچھ باقی ہے ۔
اک بستی بسنے والی ہے

Friday, 12 April 2013

وہ اپنی ناکامی سے کامیاب ہوتے ہیں اور ہم؟

 
 
وہ اپنی ناکامی سے کامیاب ہوتے ہیں اور ہم؟
 
یہ کامیابی کی ایک سچی کہانی ہے جو ابھی حال ہی میں ہونے والی میری ایک ٹریننگ کی کلاس میں میرے استاد محترم نے بیان کی جو کہ دل پہ بہت اثر چھوڑ گئی. اسی لیئے میں نے اس کا عنوان بھی اپنی مرضی سے چنا ہے کیوں کہ مجھے یہی موزوں لگا.
گزشتہ کچھ سالوں سے میں خلیجی ملک میں برسر روزگار ہوں، ابھی حال ہی میں کمپنی کی طرف سے ایک ہیومن ریسورس ٹریننگ کے دوران ہمارے استاد کامیابی اور کوشش کے بارے بیان کرتے ہوئے کچھ یوں یہ کہانی بیان کی:

برطانیہ میں ایک مشہور کمپنی ہے جو بہت ساری استعمال ہونے والی اشیاء خصوصی طورپر دفاتر میں استعمال ہونے والی اشیاء بناتی ہے. اصل کہانی کی طرف آنے سےپہلے کمپنی کے بارے میں تھوڑی تفصیل کچھ یوں ہے کہ کمپنی کوئی عام کپمنی نہیں ہے اس کے کام کا طریقہ کار کچھ یوں ہے کہ یہ اپنے ملازمین کو نئے نئے تخلیقی خیالات اور آئیڈیاز لانے کا پورا موقع فراہم کرتی ہے اور ان تخلیقی کاموں پر عمل بھی کیا جاتا ہے. اسی مقصد کے لیئے اس کمپنی نے اپنے دفتر کی اوپری منزل پر ایک پورا فلور تیار کیا ہوا ہے جو بہت خوبصورت ہوا دار اور روشن ہے. جہاں پر ایک پورا دن ہر ملازم جا کر بیٹھ جاتا ہے اور سوچتارہتا ہے تا کہ کوئی ایسا تخلیقی آئیڈیا دریافت کر سکے جس سے کپمنی اپنا کوئی نیا پراڈکٹ لانچ کر سکے.
اسی کپمنی میں ایک فلاپ یعنی فیل شدہ پراڈکٹ جو کسی اور کمپنی کا فلاپ آئیڈیا تھی اس پر تحقیق کی جارہی تھی کہ اس کو کس طرح استعمال کیا جا سکتا ہے . لیکن کافی سوچ بچار کے بعد بھی کچھ سمجھ نا آئی.
یہ پراڈکٹ پیپر کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑئے تھے جن کی گڈیاں بنی ہوتی ہیں اور عام طور پر ہم لوگ دفاتر میں استعمال کرتے ہیں کسی بھی یادہانی کے لیے یا کچھ فوری لکھنے کے لیئے "جسے عرف عام اور موجودہ شکل کوسٹکی نوٹس کہا جاتا ہے"  یہ ایک کمپنی نے مارکیٹ میں دفتر استعمال کے لیئے متعارف کرائے لیکن ڈیمانڈ نا ہونے پر بری طرح فلاپ پراڈکٹ ثابت ہوئے.
 
سوچنے اور اس کا کچھ نیا بنانے والا انجینئیر کافی سوچ بچار کے بعد بھی کسی فیصلہ پر نا پہنچا تو اپنے گھر چلا گیا، اگلے دن اس کو چرچ جانا تھا. چرچ میں پادری سامنے کھڑا ہو کر بائیبل میں سے کچھ پڑھ رہا تھا ، لیکن کھڑکی میں سے آنیوالی تیز ہوا بار بار بائیبل کے صفات کو پلٹ دیتی اور اس کو دوبارہ موضوع تلاش کرنے میں کافی دقعت ہوتی...
اچانک ایک خیال بجلی کی سی تیزی سے انجینیئر کے دماغ میں آیا. وہ چرچ سے سیدھا اپنے گھر گیا اور بیٹھ کر اس فلاپ پراڈکٹ کا کامیاب فارمولا لکھنے لگا. . . .
اگلے ہی دن اس نے اس ساری تحقیق اور اسے متعلق تحریر رپورٹ اپنے افسران اعلٰی کو پیش کر دی. . . . وہ بہت خوش تھا کیوں کہ کامیابی یقینی تھی لیکن افسران کی کمیٹی نے کچھ اعتراضات لگا کر اس کو کاغذات واپس کر دیئے. . . اس نے دوبارہ اس پر کام کیا اور یوں یہ سلسلہ کافی دن چلتا رہا. آخر کا کمیٹی اس سے متفق ہو گئی اور تجرباتی بنیادوں پر اس پراڈکٹ کو جیسے اس نے ری-ڈیزائین کیا تھا اس طرح مارکیٹ میں پیش کر دیا گیا.
اس نے دوسری کپمنی کے فلاپ کاغذ کے ٹکڑوں میں گلو/گم یعنی چپکنے والا محلول لگا کر ایک ایسی "سٹکی نوٹ"Sticky Notes تیار کی جسے آپ جب چاہیں جہاں چاہیں چپکا دیں اور اتار لیں. اور یہ آئیڈیا اس کے دماغ میں چرچ میں دوران پادری کے بار بار صفحہ گم ہوجانے پر‌ آیا تھا.
اس کے بعد یہ پراڈکٹ اتنی زیادہ مشہور ہوئی کہ اب پوری دنیا میں "سٹکی نوٹس" Sticky Notes کے نام سے جانی جاتی ہے اور ہر جگہ پر استعمال ہو رہی ہے ، اور یہ اس کمپنی کی سب سے زیادہ منافع دینے والی پراڈکٹ ثابت ہوئی.

آخر میں پھر وہی بات کہ یہ وہ لوگ ہیں جو اپنی ناکامی سے کامیابی کا راستہ نکال لیتے ہیں اور ایک ہم ہیں کہ اللہ رب العزت نے کامیابیاں ہمارے مقدر میں لکھ دیں کیوں کہ ہم اہل دین، اہل اسلام اورمسلمان ہیں لیکن ہم کامیاب ہو کر بھی ہر چیز میں ناکامی کی طرف بھاگتے ہیں. . .  . . . . .
شکریہ: راشد ادریس رانا (یو اے ای) 2013-04-12 ، 11:30 PM

 

Tuesday, 2 April 2013

ِ۔۔۔۔۔۔بابا جانی۔۔۔۔۔۔ِ

ِ۔۔۔۔۔۔بابا جانی۔۔۔۔۔۔ِ

I love my Baba Jani tooooo Much 

 بستر پہ بیمار پڑے تھے
بابا جانی کروٹ لے کر
۔۔ہلکی سی آواز میں بولے
۔۔بیٹا کل کیا منگل ہو گا
۔۔گردن موڑے بِن میں بولا۔۔۔
بابا کل تو بُدھ کا دِن ہے
۔۔۔بابا جانی سُن نہ پائے
۔۔۔پھر سے پوچھا کل کیا دِن ہے
۔۔۔تھوڑی گردن موڑ کے میں نے۔۔۔۔
لہجے میں کُچھ زہر مِلا کے
۔۔۔منہ کو کان کی سِیدھ میں لا کے
۔۔۔دھاڑ کے بولا بُدھ ہے بابا
۔۔۔بُدھ ہے بابا۔۔بُدھ ہے بابا۔۔۔
آنکھوں میں دو موتی چمکے
۔۔۔سُوکھے سے دو ہونٹ بھی لرزے
۔۔لہجے میں کُچھ شہد مِلا کے
۔۔۔بابا بولے بیٹھو بیٹا۔۔۔
...
چھوڑو دِن کو دِن ہیں پُورے۔
۔۔تُم میں میرا حصہ سُن لو۔
۔۔بچپن کا اِک قِصّہ سُن لو۔
۔۔یہی جگہ تھی میں تھا تُم تھے۔۔۔۔
تُو نے پُوچھا رنگ برنگی۔
۔۔پھولوں پر یہ اُڑنے والی۔۔
۔اِس کا نام بتاؤ بابا۔
۔۔گال پہ بوسہ دے کر میں نے۔۔۔۔۔
پیار سے بولا تِتلی بیٹا۔
۔۔تُو نے پُوچھا کیا ہے بابا۔
۔۔پِھر میں بولا تِتلی بیٹا۔
۔۔تِتلی تِتلی کہتے سُنتے۔۔۔
ایک مہینہ پُورا گُزرا۔
۔۔ایک مہینہ پُوچھ کے بیٹا۔
۔۔تِتلی کہنا تُو نے سِیکھا۔۔
۔ہر اِک نام جو سِیکھا تُو نے۔۔۔۔
کِتنی بار وہ پُوچھا تُو نے۔۔۔
تیرے بھی تو دانت نہیں تھے۔۔
۔میرے بھی اَب دانت نہیں ہیں۔
۔۔تیرے پاس تو بابا تھے نا۔۔
باتیں کرتے کرتے تُو تو۔
۔۔تھک کے گود میں سو جاتا تھا۔
۔۔تیرے پاس تو بابا تھے نا۔
۔۔میرے پاس تو بیٹا ہے نا۔۔۔
بُوڑھے سے اِس بَچے کی بھی۔
۔۔بابا ہوتے سُن بھی لیتے۔۔
۔تیرے پاس تو بابا تھے نا۔۔
۔میرے پاس تو بیٹا ہے نا۔۔
میرے پاس تو بیٹا ہے نا۔۔

۔۔عابی مکھنویؔ

Friday, 29 March 2013

کالے چھولے::::::;ایک منتخب تحریر.

ایک منتخب تحریر.
 
سڑک پر کالے چھولے بکھرے دیکھ کر میرے چہرے پر مسکراہٹ پھیل گئی۔ اگرچہ اس مسکراہٹ میں گہرا دکھ بھی شامل تھا۔ بکھرے ہوئے چھولوں کے قریب ہی ایک گیارہ بارہ سال کا بچہ چھولوں کی خالی تھالی کو حسرت سے کھڑا تک رہا تھا۔
"اوہ! وہی ڈرامہ میں نے دل میں سوچا اور میرے ذہن میں وہی پرانی کہانی گھوم کرختم ہو گئی، یعنی کالے چھولوں کو بڑی ادا کاری سے سڑک پر بکھیر دینا اور اپنی غربت کی من گھٹرت کہانی سنا کر راہگیروں سے پیسے بٹورنا۔

ہوں ٹھیک ہے! آج میں بھی دیکھتا ہوں۔ یہ سوچ کر میں اپنی موٹر سائیکل اس بچے کے قریب لے آیا اور اس کی کہانی اس کی زبانی سننے کے لیے انتظار کرنے لگا۔ اس بچے نے ایک اچٹتی نظر مجھ پر ڈالی اور گہری سوچ میں ڈوب گیا۔ اچانک مجھے یاد آیا، اس کی تھالی تو میرے سامنے ہی اس کے ہاتھ سے چھوٹ کر گری تھی اور ایسا ایک موٹر سائیکل سوار کی ٹکر سے ہوا تھا۔

مگر یہ بھی ہوسکتا ہے کہ وہ جان بوجھ کر سائیکل والے کے آگے آگیا ہو، یا پھر ایسا جان بوجھ کر نہ کیا ہو مگر وہ کچھ دیر بعد ایسا ہی کرنا چاہتا ہو اور سائیکل سوار نے اس کی مشکل آسان کردی ہو۔ میں خود ہی سوچ رہا تھا، اس بچے نے ابھی تک کوئی سوال نہیں کیا تھا۔
کیا ہوا؟ میں نے خود ہی آگے بڑھ کر اس سے پوچھ ہی لیا۔ وہ چند لمحے مجھے خاموش نگاہوں سے دیکھتا رہا، پھر مختصر لفظوں میں اپنی رواداد سنا کر خاموش ہو گیا۔

اچھا !!! میں نے مزاق والے انداز میں اچھا کو کھینچتے ہوئے کہا۔
تو پھر میں کچھ مدد کروں آپ کی! نہ چاہتے ہوئے بھی میرا انداز طنزیہ ہوگیا تھا ۔ اگرچہ غریبوں کی ہمدردی اور مدد کا جزبہ میرے اندر کوٹ کوٹ کے بھرا ہوا تھا۔ کسی ضرورت مند کی ضرورت کا علم ہو جاتا تو اس وقت تک سکون نہ ملتا جب تک اس کی ضرورت پوری نہ کر دیتا۔ اپنی جیب خرچ کسی غریب پر خرچ کرنے کا موقع مل جاتا تو میرے چہرے سے خوشی کی کرنیں پھوٹ پھوٹ پڑتی تھیں مگر یہ تو سراسر ڈرامہ تھا جسے میں آج اپنی آنکھوں سے دیکھنے کے لیے ضروری کام چھوڑ کر بھی رک گیا تھا۔

بولو۔ میں پھر مزے لینے والے انداز میں بولا۔
آپ مدد کریں تو احسان ہوگا۔ بس یہی تو میں اس کی زبان سے سننا چاہتا تھا۔ جونہی اس نے جملہ مکمل کیا۔ میرا زور دار قہقہ فضا میں بلند ہوگیااور اس بچے کو لگا جیسی اس نے یہ کہ کر بہت بڑی غلطی کردی ہو۔ وہ خوف زدہ ہو کر پیچھے ہو گیا۔ شاید وہ یہ ظاہر کرنا چاہتا تھا کہ یہ ہنسنے کا کون سا موقع ہے مگر وہ اس بات سے بے خبر تھا کہ میں ان کارستانیوں کو اچھی طرح جانتا ہوں، یہ اداکاری ہے اور کچھ بھی نہیں۔ کچھ دیر میں اس کی طرف دیکھ کر ہنستا رہا۔ اس کا چہرہ اس قدر معصوم تھا کہ اگر مجھے حقیقت کاعلم نہ ہوتا تو میں اپنی جیب سے کل رقم نکال کر اس کے ہاتہ میں تھما دیتا۔

میاں پاگل کسی اور کو بنانا، ہمیں تو معلوم ہے تمھارے ان دھندوں کے بارے میں۔ میں نے اس کی ٹھوڑی کے نیچے ہاتھ رکھ کر کہا اور موٹر سائیکل سٹارٹ کرکے آگے بڑھ گیا۔
کچھ ہی دیر بعد میں واپس اسی طرف آ رہا تھا۔ وہی بچہ چپ چاپ سڑک پر سے اپنے چھولے چننے میں مصروف تھا۔ میں کچھ فاصلے پر رہ کر اسے دیکھ رہا تھا۔ صاف صاف چھولے چننے کے بعد اس نے تھالی اٹھائی اور ایک طرف کو چل پڑا۔
ہوں!! تو اس کا کام بن گیا۔

یہ سوچ کر میں بھی اس کے پیچھے چل۔ ہاں اب میں اس شخص کو دیکھنا چاہتا تھا جو اس بچے سے غلط کام کروا رہا تھا۔ وہ بچہ بہت آہستہ آہستہ قدم اٹھا رہا تھا۔ اس کا پیچھا کرنے کے لیے مجھے موٹر سائیکل پیدل چلنے والوں کی طرح چلانی پڑ رہی تھی۔ تقریبًا 20منٹ چلتے رہنے کے بعد وہ ایک تنگ سی گلی میں داخل ہو گیا۔ یہاں پہنچ کر اس کی رفتار بہت کم ہو گئی۔ پھر اس نے گلی کے چوتھے مکان کا دروازہ کھٹکھٹا دیا۔ میں بھی کچھ فاصلے پر ہی تھا۔ جلد ہی ایک ادھیڑ عمر خاتون نے دروازہ کھولا اور اندر آنے کے لئے راستہ دینے لگی۔
ماں۔ یہ کہ کر وہ تھالی زمین پر رکھ کر ماں سے لپٹ گیا اور بلک بلک کر رونے لگا۔

"کیا ہوا میرے بچے۔" وہ خاتون ایک دم پریشان ہو گئی۔ پھر اس نے ایک نظر تھالی پر ڈالی اور معاملہ سمجھ کر بولی۔
کیا ہو نقصان ہو گیا تو، اچھے بچے روتے نہیں، اللہ سے دعا کرتے ہیں، اللہ پاک نقصان کو پورا کر دیں گے۔ بلکہ اس سے بہتر عطا فرمائیں گے۔ یہ کہہ کر اس نے بچے کو ڈھیر سارا پیار دیا اور دروازہ بند کر دیا۔ ابھی تک مجھے سب کچھ نظر آرہا تھا۔ اور اب دروازہ بند ہو گیا تھا۔ ادھر میری کیفیت عجیب سے عجیب تر ہوتی جا رہی تھی۔ میں غیر ارادی طور پر موٹر سائیکل سمیت ان کے گھر کے دروازے کے قریب آگیا۔ گلی میں کوئی نہیں تھا۔
ماں! میں نے چھولے چن لیے ہیں، سوچا دھو کر ان پر مصالحہ ڈال کر ہم شام کو کھالیں گے، شام کے کھانے کا خرچ بچے گا۔
پھر تو رو کیوں رہا تھا؟ ماں کے لہجہ میں گہرا شکوہ تھا۔
"ماں میں نقصان پر نہیں رویا تھا۔ بچے کا انداز کھویا کھویا سا تھا۔
نقصان پر نہیں رویا، پھر کس بات پر رو رہا تھا، ماں نے حیرت سے پوچھا۔ بچہ کچھ دیر خاموش رہنے کے بعد بولا۔
ماں آج ایک شخص نے میرا خوب مزاق اڑایا ہے، پتہ نہیں کیوں۔ غریبوں کی کوئی عزت نہیں ہوتی کیا، ان کے سینوں میں دل نہیں ہوتے، پھر، پھر یہ امیر لوگ اپنے آپ کو سمجھتے کیا ہیں۔

اف میرے مالک۔۔ مجھ سے مزید کچھ نہ سنا گیا۔ میں گلی سے نکل آیا۔ اس وقت میں خود کو ندامت کی اتھاہ گہرائیوں میں ڈوبتا محسوس کر رہا تھا۔ خود پر غصہ آ رہا تھا کہ بلا تحقیق کیے کسی سے بدگمان ہوا اور ایک غریب کا دل دکھا کر بڑے گناہ کا مرتکب ہوا۔ اب کیا کروں، کچھ سمجھ میں نہیں آ رہا تھا۔ اس کی مدد کروں تو کیسے؟ دل میں عجیب سی بے قراری پیدا ہو گئی تھی۔ آخر کچھ سوچ کر میں پلٹ آیا اور اس گھر کا دروازہ کھٹکھٹا دیا۔ دوسری مرتبہ کھٹکھٹانے پر وہی بچہ دروازے پر آیا۔ جیسے ہی اس کی نظر مجھ پر پڑی وہ اُچھل بڑا۔ ادھر مجھ میں اس سے آنکھیں ملانے کی ہمت نہیں ہو رہی تھی۔ میں نے اپنی جیب کے کل پیسے نکالے اور اس بچے کی مٹھی میں دبا دیے۔

"یہ رکھ لو تمھارے کام آئیں گے۔ مجھے معاف کردینا مجھ سے ایسا غلط فہمی میں ہوگیا تھا۔ وہ کچھ نہ بولا مگر پیسوں پر اس کی گرفت اتنی ڈھیلی تھی کہ میں ہاتھ ہٹاتا تو پیسے زمین پر گر جاتے۔
"پلیز"۔ میں نے التجائیہ انداز میں کہا اور اس نے پیسے پکڑ لیے۔ میں تیزی سے مڑ کر گلی سے نکل آیا۔ اس کے چہرے کے تاثرات دیکھے بغیر، ہاں مجھ میں مزید وہاں ٹھہرنے کی ہمت نہیں تھی۔ واپسی پر میں سوچ رہا تھا۔

"اللہ رب العزت کے ہر حکم میں بے شمار مصلحتیں، حکمتیں اور فوائد پوشیدہ ہوتے ہیں اور ان کی خلاف ورزی میں نقصان کے سوا کچھ نہیں۔ اللہ پاک نے قرآن کریم میں بلا تحقیق کسی کے عمل پر کوئی قدم اٹھانے سے منع فرمایا ہے اور اس حکم کے خلاف ورزی کا نقصان آج میری آنکھوں کے سامنے تھا۔

Monday, 25 March 2013

::::: ﻣﺤﺒﺖ ﺑﯿﭩﮫ ﺟﺎﺗﯽ ﮨﮯ :::::

ﻣﺤﺒﺖ ﭨﮭﮩﺮ ﺟﺎﺗﯽ ﮨﮯ،
ﮨﻢ ﺍﻛﺜﺮ ﻳﻪ ﺳﻤﺠﮭﺘﮯ ﮨﯿﮟ،
ﺟﺴﮯ ﮨﻢ ﭘﯿﺎﺭ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ،
ﺍُﺳﮯ ﻫﻢ ﺑُﻬﻮﻝ ﺑﯿﭩﮭﮯ ﮨﯿﮟ،
ﻣﮕﺮ ﺍﯾﺴﺎ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺗﺎ،
...
ﻣﺤّﺒﺖ ﺩﺍﺋﻤﯽ ﺳﭻ ﮨﮯ،
ﻣﺤﺒﺖ ﭨﮭﮩﺮ ﺟﺎﺗﯽ ﮨﮯ،
ﮨﻤﺎﺭﯼ ﺑﺎﺕ ﮐﮯ ﺍﻧﺪﺭ،
ﻣﺤﺒﺖ ﺑﯿﭩﮫ ﺟﺎﺗﯽ ﮨﮯ،
ﮨﻤﺎﺭﯼ ﺫﺍﺕ ﮐﮯ ﺍﻧﺪﺭ،
... ﻣﮕﺮ ﯾﮧ ﮐﻢ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺗﯽ،
ﮐﺴﯽ ﺑﮭﯽ ﺩﮐﮫ ﮐﯽ ﺻﻮﺭﺕ ﻣﯿﮟ،
ﮐﺒﮭﯽ ﮐﻮﺋﯽ ﺿﺮﻭﺭﺕ ﻣﯿﮟ،
ﮐﺒﮭﯽ ﺍﻧﺠﺎﻥ ﺳﮯ ﻏﻢ ﻣﯿﮟ،
ﮐﺒﮭﯽ ﻟﮩﺠﮯ ﮐﯽ ﭨﮭﻨﮉﮎ ﻣﯿﮟ،
ﺍُﺩﺍﺳﻰ ﻛﻰ ﺿﺮﻭﺭﺕ ﻣﯿﮟ،
ﮐﺒﮭﯽ ﺑﺎﺭﺵ ﮐﯽ ﺻﻮﺭﺕ ﻣﯿﮟ،
ﮨﻤﺎﺭﯼ ﺁﻧﮑﮫ ﮐﮯ ﺍﻧﺪﺭ،
ﮐﺒﮭﯽ ﺁﺏِ ﺭﻭﺍﮞ ﺑﻦ ﮐﺮ،
ﮐﺒﮭﯽ ﻗﻄﺮﮮ ﮐﯽ ﺻﻮﺭﺕ ﻣﯿﮟ،
ﺑﻈﺎﮬﺮ ﺍﯾﺴﺎ ﻟﮕﺘﺎ ﮨﮯ،
ﺟﺴﮯ ﮨﻢ ﭘﯿﺎﺭ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ،
ﺍﺳﮯ ﮨﻢ ﺑﮭﻮﻝ ﺑﯿﭩﮭﮯ ﮨﯿﮟ،
ﻣﮕﺮ ﺍﯾﺴﺎ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺗﺎ،
ﯾﮧ ﮨﺮ ﮔﺰ ﮐﻢ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺗﯽ،
ﻣﺤﺒﺖ ﺑﯿﭩﮫ ﺟﺎﺗﯽ ﮨﮯ،
ﮨﻤﺎﺭﯼ ﺑﺎﺕ ﮐﮯ ﺍﻧﺪﺭ،
ﮨﻤﺎﺭﯼ ﺫﺍﺕ ﮐﮯ ﺍﻧﺪﺭ