Sunday, 1 July 2012

کرتار سنگھا توں مینوں برباد کر دیتا


ایک دفعہ بس میں ایک سردار صاحب سفر کر رہے تھے، تھوڑی دیر میں ایک اور سردار صاحب گاڑی میں سوار ہوئے تو ان کی نظر ان سردار جی پر پڑی، بس پھر کیا تھا،

وہ لپک کر آئے اور آتے ہی ان سردار جی پر ٹوٹ پڑئے ، خوب مارا اور ساتھ ہی ساتھ کہتے جائیں

کرتار سنگھا توں مینوں برباد کر دیتا ، برباد کر دیتا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
لوگوں نے بڑی مشکل سے ان کی جان چھڑائی، لیکن جیسے ہی بس تھوڑی دور گئی، وہ سردار جی پھر اٹھے اور پھر دھاڑم دھاڑ ان سردار جی پٹائی شروع کر دی اور ساتھ ساتھ کہتے جائیں
کرتار سنگھا توں مینوں برباد کر دیتا ، برباد کر دیتا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

جب تیسری بار بھی یہی ڈرامہ ہو تو ایک بندے نے ان سردار جی سے کہا ،
 سردار جی

یہ بندہ آپ کو بار بار مار رہا ہے آپ کو غصہ نہیں آ رہا
سردار جی نے آگے سے مٹھیاں بھینچ کر جواب دیا، بہت آ رہا ہے،





بندے نے پھر سوال کیا تو آپ اس کو مارتے کیوں نہیں
سردار جی نے آگے سے بہت معصومیت سے جواب دیا،



میں کیڑھا کرتار سنگھ آں
 (میں کونسا کرتار سنگھ ہوں)

2 comments: