Wednesday, 29 October 2014

نام تیرا ریت پر: از، راشد ادریس رانا


ریت پر
چلی ہوا تو لکھ دیا
نام تیرا ریت پر
نقش یو ں عیاں ہوا
دل جو بے قراں ہوا
عشق یو ں جواں ہوا
پیار  لامکاں ہوا
انگ انگ نہال تھا
جسم یوں بے حال تھا
چھا گیا تھا ایک نشہ
جانے کیا کمال تھا
بے رخ جو ہوا ہوئی
دل میرا جلا دیا
نقش نقش مٹا دیا
تجھ کو مجھ سے چھین کر
جانے اس کو کیا ملا
اک ہوا کے جھونکے نے
نام تیر ا مٹا دیا
قصور آخر کس کا تھا
ہوا تو بے لگام تھی
چلی ہواتو لکھ دیا
چلی ہوا تو مٹا دیا
نام تیرا ریت پر
از: راشد ادریس رانا

29 اکتوبر 2014

Saturday, 11 October 2014

گوشت کے بارے میں وہ جھوٹ جنہیں آپ سچ سمجھتے ہیں


گوشت کے بارے میں وہ جھوٹ جنہیں آپ سچ سمجھتے ہیں

برمنگھم (نیوز ڈیسک)گوشت کے استعمال اور افادیت کے حوالے سے قارئین کی معلومات اور دلچسپی کے لئے 8 مضحکہ خیز فرضی اور افسانوی باتیں پیش خدمت ہیں جن میں کوئی صداقت نہیں ہے۔ یہ وہ مغالطے ہیں جو نسل درنسل لوگوں میں مشہور و معروف ہیں۔

کچھ لوگوں کا دعویٰ ہے کہ گوشت مناسب طریقے سے ہضم نہیں ہوتا بلکہ آنتوں میں گلتا سڑتا رہتا ہے۔ یہ تو معلوم ہی ہے کہ جیسے ہی گوشت معدے میں پہنچتا ہے تو کچھ تیزابی رطوبتیں اور انزائم کا اخراج ہوتا ہے جو اسے ہضم کرنے میں مددگار ہوتے ہیں۔ پھر یہ محلول نما گوشت چھوٹی آنت میں جاتا ہے تو وہاں اس میں موجود پروٹین امائینوایسڈ مین تبدیلی ہوتی ہے اور فیٹ بھی فیٹی ایسڈ میں تحلیل ہوتی ہے۔ پھر یہاں ہی غذائی اجزاءچھوٹی آنتوں کی دیواروں سے چھن کر خون میں شامل ہوکر جسم کا حصہ بناتے ہیں۔ اب آپ بتائیے کہ گوشت کہاں چھوٹی آنت میں گلنے سڑنے کے لئے پڑا رہتا ہے۔ مختصر یہ کہ گوشت بڑی آنت پنچنے سے قبل ہی تحلیل ہوکر ہضم ہوچکا ہوتا ہے۔ البتہ یہ سچ ہے کہ کچھ خاص قسم کی سبزیاں، پھل اور دانے وغیرہ مشکل سے ہضم ہوتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ انہیں ہضم کرنے کے لئے طاقتور انزائم دستیاب نہیں ہوتے۔

 گوشت کے خلاف سب سے مضبوط دلیل یہ دی جاتی ہے کہ سیر شدہ چربی پیدا کرتا ہے اور کولیسٹرول کو بڑھاتا ہے لیکن اب تک اس دلیل کے ثبوت میں کوئی حقیقت سامنے نہیں آئی۔ سچ یہ ہے کہ کولیسٹرول ہرسیل کی جھلی میں پایا جاتا ہے اور ہارمونز کے اخراج کی وجہ بنتا ہے۔ جگر بھی کولیسٹرول کا منبع ہے۔ ایک تحقیق کے مطابق 70 فیصد لوگوں کے جسم میں پایا جانے وال کولیسٹرول ان کی صحت کو متاثر نہیں کرتا۔ 30 فیصد لوگوں میں ایل ڈی ایل کولیسٹرول کی موجودگی صحت کے لئے مضر ثابت ہوا ہے۔ اس نکتہ پر مختصر تبصرہ یہ ہے کہ یہ سچ ہے کہ گوشت کولیسٹرول بناتا ہے لیکن اس سے جسم پر اس کے منفی اثرات نہیں پڑتے اور نہ ہی دل کی بیماری کی وجہ بنتا ہے۔ احتیاطی تدبیر صرف یہ ہے کہ گوشت مناسب مقدار میں استعمال کیا جاتا ہے۔

 اکثر لوگ ایمان کی حد تک اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ گوشت سے دل کی بیماریاں بڑھتی ہیں اور 2 طرح کی ذیابیطس پیدا ہوتی ہے۔ اس ضمن میں عرض ہے کہ دل کی بیماریاں 20ویں صدی تک تو خطرناک نہ تھیں اور گزشتہ چند عشرے پہلے ذیابیطس بھی اس حد تک خوفناک نہ تھی جتنی کہ آج ہے۔ یہ دونوں بیماریاں تو آج کی بیماریاں ہیں لیکن گوشت تو لوگوں کی صدیوں سے مرغوب غذا ہے۔ کہتے ہیں کہ صدیوں قبل بھی یہ من پسند غذا تھی۔ اس لئے اتنی پرانی غذا کو نئی بیماری سے جوڑنا کسی صورت مناسب نہیں ہے۔ ایک تحقیق میں 1218350 لوگوں پر مطالعہ کیا گیا تو معلوم ہوا کہ اتنی بڑی تعداد کے لوگوں میں کوئی ایسی شہادت نہیں ملی جو ثابت کرتی کہ گوشت کی وجہ سے دل کی بیماری یا ذیابیطس جیسی بیماریوں کو جھیلنا پڑا ہو۔ اصل بات یہ ہے کہ گوشت کا استعمال اور پکانے کا طریقہ کیا ہے، یہ طریقے ہی خرابیوں کا باعث بنتے ہیں۔

 سرخ گوشت کینسر پھیلاتا ہے: یہ بھی ایک مغالطہ ہے کہ جس کی اصل روح کو سمجھنا ضروری ہے۔ ڈبہ بند گوشت سب برائیوں کی جڑ ہے جبکہ تازہ گوشت ایسی کسی بیماری کی وجہ نہیں بنتا، دراصل اس ضمن میں کی گئی دو تحقیقات میں یہ واضح ہوا ہے کہ ڈبہ بند گوشت بھی کینسر کی وجہ بنتا ہے۔ 35 تحقیقیں یہ بتاتی ہیں کہ پکانے کے مختلف طریقے گوشت کی افادیت کا سکیل طے کرتے ہیں کہ آیا غذائی اعتبار سے مفید ہے یا مضر صحت، جیسے یہ بات ثابت شدہ ہے کہ اگر ضرور سے زیادہ کیا پکایا جائے تو اس کے اجزاءہیٹروں ٹیک، ایمانیز اور پولی سائیکل ہائیڈروکاربوریٹس میں تبدیل ہوتا ہے، یہ مرکبات کینسر کی وجہ بنتے ہیں۔

 انسان سبزی خور ہے اس کی تخلیق گوشت خور کے طور پر نہیں کی گئی۔ یہ خیال بھی اوپر بیان کئے گئے مغالطوں کی طرح ہی ہے اور اس میں سچائی نہیں پائی جاتی۔ اس ضمن میں غور کریں کہ ہمارے نظام انہظام میں چھوٹی اور بڑی آنت کا کردار بہت اہم ہے جو گوشت کے ہاضمے کیلئے ان آنتوں میں خصوصی انزائم حصہ لیتے ہیں اور یہ انزائم کچھ سبزیوں اور پھلوں کے لئے فعال نہیں ہوتے۔ سچ یہ ہے کہ انسانی جسم میں قدرت نے وہ نظام بنایا ہے جو گوشت کو ہضم کرتا ہے۔

 کیا پروٹین ہڈیوں کیلئے مفید ثابت نہیں ہوتی؟ اس سوال کے جواب میں اکثریت یہ کہتی ہے کہ چونکہ گوشت پروٹین کا گھر ہوتا ہے اور گوشت خوروں کی ہڈیاں اسی لئے کمزور ہوتی ہیں۔ یہ بھی قطعی غلط خیال ہے۔ جدید تحقیقات نے ثابت کیا ہے کہ زیادہ پروٹین والی غذائیں اور صحت مند ہڈیوں کی ضامن ہوتی ہیں اور ہڈیوں میں پائی جانے والی سختی کو کم کرتی ہیں۔
عام دعویٰ ہے کہ گوشت صحت کے لئے غیر ضروری ہے، اس خیال کو ایک حد تک تو درست تسلیم کیا جاسکتا ہے لیکن پھر بھی گوشت کا کھانا صحت کے لئے لازم ہے، سچ تو یہ ہے کہ ہم گوشت کھائے بغیر رہ بھی نہیں سکتے۔

 گوشت کے بارے میں یہ قیاس آرائی کی جاتی ہے کہ یہ موٹاپے کا باعث بنتا ہے۔ یہ بھی کچھ کچھ درست خیال ہے لیکن ایسا دعویٰ کرنے والے یہ بھول جاتے ہیں کہ گوشت میں پائی جانے والی پروٹین وزن کو کم کرنے میں معاون پائی گئی ہے۔


Wednesday, 24 September 2014

مہنگـی روٹـی سستی مـوت



مہنگـی روٹـی سستی مـوت
کیسے دوں میں تم کو ووٹ

ہر سال آجـــــــــــــــاتے ہو تم
خواب میرے ہی مجھ کو دینے
چہرے پہ مســـــــــــکان لیئے 
اور دلــــوں کــــے اندر کھوٹ

مہنگـــــــی روٹی سستی موت
کیســــے دوں میں تم کو ووٹ

ویسی ہی میری گلیاں بے رنگ
ویسے ہــــــی میرے شہر بازار
خوشیــاں جیسے روٹھ گئی ہوں
ہنسنـــــــا ہے جیسے ایک ادھار

مہنگـــــــی روٹی سستی موت
کیســــے دوں میں تم کو ووٹ

پھــــر بھــــی تم آ جــــــاتے ہو
جھوٹے  وعدے جھوٹی قسمیں
 پرانــے چـہروں پہ نئے چشمے
کرنے پھــر سے لوٹ کھسوٹ

مہنگـــــــی روٹی سستی موت
کیســــے دوں میں تم کو ووٹ

بــــــــاپ گیا اور بیٹــــــــا آیا
تم نے اس کـــو کھـــــیل بنایا
دیـــــس میرے میں خون بہایا
تــم نے اس کــو نسلوں کھایا

مہنگـــــــی روٹی سستی موت
کیســــے دوں میں تم کو ووٹ

چند خاندانوں نے چھانٹ لیا ہے
دیسے میــرے کــو بانٹ لیا ہے
کـــتنا اس کـــو کھـــــاو گـے تم
قبـــــروں میـــں لے جاو گے تم

مہنگـــــــی روٹی سستی موت
کیســــے دوں میں تم کو ووٹ

میــــرے دیــــس کو کھانے والو
خـــون وطـــــن کا پینــــــے والو
ہر ہر ســــانس زہر بنــــــــا دوں
راشـــــــــــد کا جو زور چلے تو
دل کــــــرتا ہے آگ لــــــگا دوں
محل تمہارے قبــــــــــــر بنادوں
محل تمہارے قبــــــــــــر بنادوں


مہنگـــــــی روٹی سستی موت
کیســــے دوں میں تم کو ووٹ

از: راشد ادریس رانا ــــ اجڑے ہوے محب وطن کی پکار


انقلاب ضروی ہے۔



مہنگی تھـــی روٹی بہت
بے رحم تھـی بھوک بھی
موت مانگ لــــی میں نے
اور جـــــــی کے کیا کروں



Sunday, 7 September 2014

آدھا تیتر آدھا بٹیرـــــــــــــ الوداع اردو


آدھا تیتر آدھا بٹیر
سنو یہ فخر سے اک راز بھی ہم فــــــــــاش کرتے ہیں
کبھی ہم منہ بھی دھوتے تھے، مگر اب واش کرتے ہیں
تھا بچوں کے لیے بوسہ مگر اب کِس ہی کرتے ہیں
ستاتی تھیں کبھی یادیں مگر اب مِس ہی کرتے ہیں
چہل قدمی کبھی کرتے تھے اور اب واک کرتے ہیں
کبھی کرتے تھے ہم باتیں مگر اب ٹـــــاک کرتے ہیں
کبھی جو امی ابو تھے ، وہی اب مما پاپا ہیں
دعائیں جو کبھی دیتے تھے وہ بڈھے سیاپا ہیں
کبھی جو تھا غسل خانہ ، بنا وہ باتھ روم آخر
بڑھا جو اور اک درجہ ، بنا وہ واش روم آخر
کبھی ہم بھی تھے کرتے غسل، شاور اب تو لیتے ہیں
کبھی پھول چُنتے تھے، فـــــــــــلاور اب تو لیتے ہیں
کبھی تو درد ہوتا تھا، مگر اب پین ہوتا ہے
پڑھائی کی جگہ پر اب تو نالج گین ہوتا ہے
ڈنر اور لنچ ہوتا ہے، کبھی کھانا بھی کھاتے تھے
بریڈ پر ہے گزارا اب، کبــــھی کھابے اُڑاتے تھے
کبھی ناراض ہوتے تھے، مگر اب مائنڈ کرتے ہیں
جو مسئلہ کچھ اُلجھ جائے ، سلوشن فائنڈ کرتے ہیں
جگہ صدمے کی یارو اب تو ٹیشن ، شـــاک لیتے ہیں
کہ "بُوہا" شٹ جو کرتے ہیں تو اس کو لاک دیتے ہیں
ہوئے ’’آزاد"‘‘جب ہم تو ’’ترقی‘‘ کرگئے آخر
جو پینڈو ذہن والے تھے، وہ سارے مر گئے آخر

Thursday, 21 August 2014

سپاہی مقبول حسین

 
 
17ستمبر 2005 ء کو واہگہ بارڈر کے راستے بھارتی حکام نے قیدیوں کا ایک گروپ پاکستانی حکام کے حوالے کیا-اس گروپ میں مختلف نوعیت کے قیدی تھے-ان کے ہاتھوں میں گٹھڑیوں کی شکل میں کچھ سامان تھا جو شاید ان کے کپڑے وغیرہ تھے-لیکن اس گروپ میں ساٹھ پینسٹھ سالہ ایک ایسا پاکستانی بھی شامل تھا-جس کے ہاتھوں میں کوئی گٹھڑی نہ تھی-
جسم پر ہڈیوں اور ان ہڈیوں کے ساتھ چمٹی ہوئی اس کی کھال کے علاوہ گوشت کا کوئی نام نہیں تھا-اور جسم اس طرح مڑا ہوا تھا جیسے پتنگ کی اوپر والی کان مڑی ہوتی ہے-خودرو جھاڑیوں کی طرح سرکے بے ترتیب بال جنہیں دیکھ کر محسوس ہوتا تھا کہ طویل عرصے تک ان بالوں نے تیل یا کنگھی کی شکل تک نہیں دیکھی ہو گی-اور دکھ کی بات کہ پاکستان داخل ہونے والے اس قیدی کی زبان بھی کٹی ہوئی تھی لیکن ان سارے مصائب کے باوجود اس قیدی میں ایک چیز بڑی مختلف تھی اور وہ تھیں اس کی آنکھیں جن میں ایک عجیب سی چمک تھی-پاکستانی حکام کی طرف سے ابتدائی کارروائی کے بعد ان سارے قیدیوں کو فارغ کردیا گیا-سارے قیدی اپنے اپنے گھروں کو روانہ ہو گئے-لیکن یہ بوڑھا قیدی اپنے گھر جانے کی بجائے ایک عجیب منزل کی تلاش میں نکل کھڑا ہوا-کانپتے اور ناتواں ہاتھوں سے وہ ٹوٹے ہوئے الفاظ لکھ لکھ کر اپنی منزل کا پتہ پوچھتا رہا اور ہر کوئی اسے ایک غریب سائل سمجھ کر اس کی رہنمائی کرتا رہا-اور یوں 2005 ء میں یہ بوڑھا شخص پاکستان آرمی کی آزاد کشمیر رجمنٹ تک پہنچ گیا وہاں پہنچ کر اس نے ایک عجیب دعوی- کردیا-اس دعوے کے پیش نظر اس شخص کو رجمنٹ کمانڈر کے سامنے پیش کردیا-کمانڈر کے سامنے پیش ہوتے ہی نہ جانے اس بوڑھے ناتواں شخص میں کہاں سے اتنی طاقت آگئی کہ اس نے ایک نوجوان فوجی کی طرح کمانڈر کو سلیوٹ کیا اور ایک کاغذ پر ٹوٹے ہوئے الفاظ میں لکھا
”سپاہی مقبول حسین نمبر 335139 ڈیوٹی پر آگیا ہے اور اپنے کمانڈر کے حکم کا منتظر ہے“کمانڈر کو کٹی ہوئی زبان کے اس لاغر ، ناتواں اور بدحواس شخص کے اس دعوے نے چکرا کے رکھ دیا-کمانڈر کبھی اس تحریر کو دیکھتا اور کبھی اس بوڑھے شخص کو جس نے ابھی کچھ دیر پہلے ایک نوجوان فوجی کی طرح بھرپور سلیوٹ کیا تھا-کمانڈر کے حکم پر قیدی کے لکھے ہوئے نام اور نمبر کی مدد سے جب فوجی ریکارڈ کی پرانی فائلوں کی گرد جھاڑی گئی اور اس شخص کے رشتہ داروں کو ڈھونڈ کے لایا گیا تو ایک دل ہلا دینے والی داستان سامنے آئی -اور یہ داستان جاننے کے بعد اب پھولوں، فیتوں اور سٹارز والے اس لاغر شخص کو سلیوٹ مار رہے تھے-اس شخص کا نام سپاہی مقبول حسین تھا-65 ء کی جنگ میں سپاہی مقبول حسین کیپٹن شیر کی قیادت میں دشمن کے علاقے میں اسلحہ کے ایک ڈپو کو تباہ کرکے واپس آرہا تھا کہ دشمن سے جھڑپ ہو گئی-سپاہی مقبول حسین جو اپنی پشت پر وائرلیس سیٹ اٹھائے اپنے افسران کے لئے پیغام رسانی کے فرائض کے ساتھ ہاتھ میں اٹھائی گن سے دشمن کا مقابلہ بھی کر رہا تھا مقابلے میں زخمی ہو گیا-سپاہی اسے اٹھا کر واپس لانے لگے تو سپاہی مقبول حسین نے انکار کرتے ہوئے کہاکہ بجائے میں زخمی حالت میں آپ کا بوجھ بنوں، میں دشمن کا مقابلہ کرتے ہوئے آپ کیلئے محفوظ راستہ مہیا کرتا ہوں-ساتھیوں کا اصرار دیکھ کر مقبول حسین نے ایک چال چلی اور خود کو چھوٹی کھائی میں گرا کر اپنے ساتھیوں کی نظروں سے اوجھل کرلیا- دوست تلاش کے بعد واپس لوٹ گئے تو اس نے ایک مرتبہ پھر دشمن کے فوجیوں کو آڑے ہاتھوں لیا- اسی دوران دشمن کے ایک گولے نے سپاہی مقبول حسین کو شدید زخمی کردیا- وہ بے ہوش ہو کر گرپڑا اور دشمن نے اسے گرفتار کرلیا- جنگ کے بادل چھٹے تو دونوں ملکوں کے درمیان قیدیوں کی فہرستوں کا تبادلہ ہوا تو بھارت نے کہیں بھی سپاہی مقبول حسین کا ذکرنہ کیا-اس لئے ہماری فوج نے بھی سپاہی مقبول حسین کو شہید تصورکرلیا-بہادر شہیدوں کی بنائی گئی ایک یادگار پر اس کا نام بھی کندہ کردیا گیا-ادھربھارتی فوج خوبصورت اور کڑیل جسم کے مالک سپاہی مقبول حسین کی زبان کھلوانے کیلئے اس پر ظلم کے پہاڑ توڑنے لگی-اسے 4X4فٹ کے ایک پنجرا نما کوٹھڑی میں قید کردیا گیا- جہاں وہ نہ بیٹھ سکتا تھا نہ لیٹ سکتا تھا-دشمن انسان سوز مظالم کے باوجود اس سے کچھ اگلوانہ سکا تھا-سپاہی مقبول حسین کی بہادری اور ثابت قدمی نے بھارتی فوجی افسران کو پاگل کردیا-جب انہوں نے دیکھا کہ مقبول حسین کوئی راز نہیں بتاتا تو وہ اپنی تسکین کیلئے مقبول حسین کو تشدد کا نشانہ بنا کر کہتے ”کہو پاکستان مردہ باد“ اور سپاہی مقبول حسین اپنی ساری توانائی اکٹھی کرکے نعرہ مارتا پاکستان زندہ باد، جو بھارتی فوجیوں کو جھلا کے رکھ دیتا-وہ چلانے لگتے اور سپاہی مقبول کو پاگل پاگل کہنا شروع کردیتے اور کہتے کہ یہ پاکستانی فوجی پاگل اپنی جان کا دشمن ہے اورسپاہی مقبول حسین کہتا ہاں میں پاگل ہوں---ہاں میں پاگل ہوں--- اپنے ملک کے ایک ایک ایک ذرّے کے لئے---ہاں میں پاگل ہوں اپنے ملک کے کونے کونے کے دفاع کیلئے--- ہاں میں پاگل ہوں اپنے ملک کی عزت و وقار کے لئے--- سپاہی مقبول حسین کی زبان سے نکلے ہوئے یہ الفاظ دشمنوں کے ذہنوں پر ہتھوڑوں کی طرح لگتے- آخر انہوں نے اس زبان سے بدلہ لینے کا فیصلہ کرلیا انہوں نے سپاہی مقبول حسین کی زبان کاٹ دی اور اسے پھر 4x4 کی اندھیری کوٹھڑی میں ڈال کر مقفل کردیا-سپاہی مقبول حسین نے 1965ء سے لیکر 2005ء تک اپنی زندگی کے بہترین چالیس سال اس کوٹھڑی میں گزار دیئے اب وہ کٹی زبان سے پاکستان زندہ آباد کا نعرہ تو نہیں لگا سکتا تھا لیکن اپنے جسم پر لباس کے نام پر پہنے چیتھڑوں کی مدد سے 4x4 فٹ کوٹھڑی کی دیوار کے ایک حصے کو صاف کرتا اور ا پنے جسم سے رستے ہوئے خون کی مدد سے وہاں پاکستان زندہ باد لکھ دیتا-یوں سپاہی مقبول حسین اپنی زندگی کے بہترین دن اپنے وطن کی محبت کے پاگل پن میں گزارتا رہا- آئیں ہم مل کر آج ایسے سارے پاگلوں کو سلیوٹ کرتے ہیں-

https://www.facebook.com/photo.php?v=276230809238419
 

Saturday, 2 August 2014

ریلوے سٹیشن ـــــ Railway Station

یہ میرا گاوں نہیں ، نا ہی میرے گاوں سے ریل کی پٹری گزرتی ہے نا ہی وہاں اسٹیشن ہے۔ پھر بھی مجھے ریل، ریل کی پٹری اور چھوٹے چھوٹے اسٹیشن بہت اچھے لگے ہیں۔
 
ایک ٹرین اس کی پٹڑی اور اس کا اسٹیشن کیسی قدامت بستی ہے ان میں، کیسا سُر تال ہے کیسا میل جول ہے ان کا۔
 
یہ ایک گاوں کا چھوٹا سا سٹیشن ہے، گاوں کی طرف سے آنیوالا کچا راستہ جو کھیتوں سے گھرا ہوا ہے اور جس کے ایک طرف میں ایک چھوٹی سی نہر ہے جس نہر پر ساتھ ساتھ ٹاہلی اور کیکر کے پیڑ ہیں، بیچ بیچ میں کہیں کہیں ایک آدھ پیپل کا پیڑ کسی ٹیوب ویل کے ساتھ کھڑا نظر آتا ہے جو اپنی قدیم وضع قطع سے بہت ہیں بزرگ دکھائی دیتا ہے، اس کے نیچے بان کی چارپائیوں پر بیٹھے بزرگ جو حقہ کے گڑ گڑ میں نا جانے بچھلی آدھ صدی کے کونسے قصے کہانیاں سناتے رہتے ہیں۔
 
اس کچے راستے کے ساتھ ساتھ بہتی یہ چھوٹی سی نہر جو گرمی سردی گاوں کے باسیوں کو زندگی کا احساس دلائے رواں دواں ہے آگے جا کر سیدھی طرف مڑ جاتی ہے اور کچی سڑک کو خیر آباد کہہ دیتی ہے۔ پھر یہ پنجاب کی دھرتی میں ایسے گم ہو جاتی ہے جیسے ایک چھوٹا بچا ٹھنڈے پانی سے نہا کر کانپتا ہوا اپنی ماں کی آغوش میں چھپ جاتا ہو۔
 
اب یہ تنہا راستہ اپنی اداس تنہائی کے ساتھ ریلوئے اسٹیشن پر جا کر دو شاخہ ہو جاتا ہے جس کا ایک سرا تو ختم ہو جاتا ہے جہاں پر کچھ ٹھیلے، ایک دو پرانی خستہ حال دکانیں اور ایک چائے کا صدا بہار ہوٹل ہے۔ جبکہ دوسرا سِرا اسٹیشن کے ساتھ ساتھ چلتا ہوا اکلوتےریلوئے پھاٹک کو پھاندتا ہوا ریلوئے ٹریک کی دوسری طرف کھیتوں کے سلسلوں کو چیرتا ہوا ایسے چلا جاتا ہے جیسے کسی سرحد کو عبور کر رہا ہو۔
ٹھیلے والے صبح سویرے اپنی اپنی بنائی ہوئی چیزیں لیکر آدھر آ جاتے ہیں پھیری بھی لگا لیتے ہیں اور باقی سارا دن ادھر ریلوے اسٹیشن کی رونق میں اضافہ کرتے رہتے ہیں۔  جس میں پتیسا، ریوڑیاں، دال موٹھ، کھٹے چپس اور بہت ساری چیزیں ملتی ہیں۔ پھر باری آتی ہے گنے کے جوس والے کی، جس کا کام کبھی ہوتا ہے اور کبھی نہیں لہٰذا وہ گرمی کے موسم میں گنے کا جوس بیچتا ہے اور سردی کے موسم میں چھلیاں بھون بھون کر بیچتا ہے۔ اس سے زرا پرے کچی دکانوں میں پہلی دکان ایک عدد نائی یعنی حجام کی ہے جو گاوں کا واحد حجام بھی ہے اور شادی بیاہ پر دیگ پکانے کا کام بھی انجام دیتا ہے۔ دوسری دکان حلوائی کی ہے جو کہ دھول مٹی اور مکھیوں کے جھمگٹوں کے ساتھ سال ہا سال سے اپنی مٹھایاں بنانے اور بیچنے میں مصروف رہتا ہے۔ اس سے آگے گاوں کا واحد ، اکلوتا لاج دلارا چھپر ہوٹل ہے جس پر صبح تڑکے سے لیکر رات دیر تک چائے سمیت ہر قسم کا کھانا ملتا ہے۔
 
پھر ریلوئے اسٹیشن کی پرانی مگر خوبصورت لمبی سیڑھیاں ہیں جہاں سے اسٹیشن کی مرکزی عمارت میں داخل ہوا جاتا ہے۔ داخلی برآمدئے میں الٹی طرف ایک بنچ ہے اورسیدھی طرف قدیم ترین نلکا جس کا ٹھنڈا اور میٹھا پانی پنجاب کی دھرتی کی مٹھاس اپنے اندر سموئے ہوئے ہے۔
 
سیدھی طرف ٹکٹ والا کمرہ اور اس کی چھوٹی سی کھڑکی ہے۔ دوسری طرف اکلوتا ڈاک خانہ ہے جو پرانے فرنیچر کے ساتھ ساتھ پرانے ڈبوں نما طاقوں سے بھرا پڑا ہے جو کسی زمانے میں ڈاک کے باقاعدہ نظام کی عکاسی کرتے ہیں۔
 
آگے بڑھیں تو ایک عدد پھاٹک نما دروازہ ہے جس پر کبھی کبھار مسافروں کے رش ہونے کی صورت میں ریلوئے کا ایک ملازم ٹکٹ چیک کر نے کی غرض سے کھڑا ہو جاتا ہے۔ اس سے گزر کر آگے دیکھیں تو سیدھے ہاتھ سے الٹے ہاتھ کی طرف آپ کو پلیٹ فارم ملے گا، جو اپنی صفائی اور خوبصورتی میں کمال رکھتا ہے۔
 
زیادہ بڑا اسٹین نہیں لیکن پھر بھی اس پر چار بنچ لگائے گئے ہیں جو مسافروں کے انتظار گاہ بھی ہے ، دونوں اطراف میں جہاں سے پلیٹ فارم شروع ہوتاہے وہاں پر بھی خوبصورت لال گلاب کے جھاڑی نما پودے ہیں اور جہاں ختم ہوتا ہے وہاں پر بھی، سیدھے طرف لگے ہوئے جامن کے پیڑ بہت ہی خوبصورت ہیں اور اپنی بلندی کی وجہ سے اسٹیشن پر اکثر سایا کئے رہتے ہیں۔ اسٹیشن کی دوسری طرف تھوڑے تھوڑے فاصلے پر برگد کے دو بڑئے درخت ہیں جنھہوں نے اپنی قدیم عمر اور بزرگی سے اس اسٹیشن کو رونق بھی بخشی ہوئی ہے اور خوبصورتی بھی، ان سے پرئے لہلاتے کھیتوں کا نا ختم ہونے والا طویل سلسلہ ہے۔
 
ریلوئے اسٹیشن کے ساتھ قابل زکر و قدر وہ چند چھوٹے چھوٹے خوبصورت کوارٹر تھے جو اس ریلوئے اسٹیشن اور ڈاک خانے کے ملازمین لئیے سرکار کی طرف سے دئیے گئے تھے۔ جن کے آگے چھوٹے چھوٹے باغیچہ نما لان تھے جن میں باڑیں بھی تھیں اور اہل مکین ان میں سبزیاں بھی اگاتے تھے، اسٹیشن ماسٹر نے اپنے کوارٹر کے اگے بہت صاف لان بنایا ہواتھا جس میں اکثر وہ بیٹھ کر چائے کے ساتھ ساتھ پچھلے ہفتے کے اخبارات کا مطالعہ کیا کرتے تھے۔
 
سامنے ہی کچھ فاصلے پر کھیت تھے جن میں لگے ٹیوب ویل جب چلتے تو دل کو لبھا دینے والے نغمے جنم لیتے تھے۔ انہی نغموں میں جب آنیوالی ٹرین کی چھک چھک کوں کوں شامل ہو جاتی تو ایک عجب سا راگ پیدا ہوتا جو چند منٹوں کے بعد ختم ہو کر پھر نغمہ بن جاتا۔
 
شاید یہ سارا خوبصورت منظر اپنے ان نظاروں اور نغموں کے ساتھ صدیوں سے صدیوں تک چلتا رہے۔
 
یہ ایک بہت ہی خوبصورت اور سہانا منظر ہے جو میرے دل میں ثبت ہو چکا ہے۔
 
ریلوئے سٹیشن ، ایک عہد ایک یادگار ایک داستان اور ایک تاریخ۔
 
از راشد ادریس رانا: 01آگست 2014۔