Friday, 19 August 2011

اب بھی نا سدھرو گے تواک دن تم مٹ جاو گے




اب بھی نا سدھرو گے
تواک دن تم مٹ جاو گے
کب تک نا حق اک دوجے کا
خون تم بہاو گے
اتنا ارزاں تو نا تھا
یہ شہر قائد
بس کرو اور کتنا اس کو
خون میں تم نہلاو گے
کتنے گھر اجڑ گئے ہیں
کتنے اور اجاڑو گے
اب بھی نا سدھرو گے
تواک دن تم مٹ جاو گے


کتنے بچے یتیم کرو گے
کتنے سہاگ اجاڑو گے
کتنے بھائی ان بہنوں کے
بے گناہ مارو گے
اب بھی نا سدھرو گے
تواک دن تم مٹ جاو گے

کب تک تم سندھی بن کر
کب تم پٹھان بن کر
کب تک تم پنجابی بن کر
کب تک تم بلوچی بن کر
نفرتوں کے بیجوں سے
خار کے پیڑ اگاو گے
اب بھی نا سدھرو گے
تواک دن تم مٹ جاو گے

کب تک اپنی زندہ لاشیں
اپنے کاندھوں پہ رکھ کر
اپنے نام نہاد اصولوں کی
بھینٹ
تم چڑھاو گے
اب بھی نا سدھرو گے
تواک دن تم مٹ جاو گے

دعا گو،
طلبگار رحمت خدا وندی

رانا راشد ادریس











Thursday, 18 August 2011

!!!!!!! Love is that !!!!!!!!!


Love is that

when AMMI kisses my forehead.

Love is that
when PAPPA waiting for me, when i came late.
Love is that
when my sister while doing my work says"jab meri shadi ho jaye gi to kon kari ga tumhare kam?"
Love is that
when elder brother says "Tujhe pasand hai, chal rakh le main or kharid longa".
Love is that
when ur love says "hum sath burhe hunge or tab be ese hi jhagrengay"
Love is that
when my best friend says"tension na le jigar, main hon na tere sath".

شکریہ: محمد سلیم کا بلاگ_____پھولوں کے نیچے کانٹے یا کانٹوں کے اوپر پھول؟


بسم اللہ الرحمن الرحیم
السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ
پھولوں کے نیچے کانٹے یا کانٹوں کے اوپر پھول؟
شکریہ: محمد سلیم کا بلاگ




ہو سکتا ہے مندرجہ ذیل قصے کا حقیقت سے کوئی تعلق نا ہو، مگر اس سے حاصل ہونے والے فائدے کیلئے اسے آخر تک پڑھ لیجیئے۔

ایک شخص نے بہتر گھر خریدنے کیلئے اپنا پہلے والا گھر بیچنا چاہا۔
اس مقصد کیلئے وہ اپنے ایک ایسے دوست کے پاس گیا جو جائیداد کی خرید و فروخت میں اچھی شہرت رکھتا تھا۔
اس شخص نے اپنے دوست کو مُدعا سنانے کے بعد کہا کہ وہ اس کے لئے گھر برائے فروخت کا ایک اشتہار لکھ دے۔
اس کا دوست اِس گھر کو بہت ہی اچھی طرح سے جانتا تھا۔ اشتہار کی تحریر میں اُس نے گھر کے محل وقوع، رقبے، ڈیزائن، تعمیراتی مواد، باغیچے، سوئمنگ پول سمیت ہر خوبی کا تفصیل کے ساتھ ذکر کیا۔
اتحریر مکمل ہونے پر اُس نے اپنے دوست کو یہ اشتہار پڑھ کر سُنایا تاکہ اُسکی رائے لے سکے۔
اشتہار کی تحریر سُن کر اُس شخص نے کہا، برائے مہربانی اس اعلان کو ذرا دوبارہ پڑھنا۔ اور اُس کے دوست نے اشتہار دوبارہ پڑھ کر سُنا دیا۔
اشتہار کی تحریر کو دوبارہ سُن کو یہ شخص تقریباً چیخ ہی پڑا کہ کیا میں ایسے شاندار گھر میں رہتا ہوں؟
اور میں ساری زندگی ایک ایسے گھر کے خواب دیکھتا رہا جس میں کچھ ایسی ہی خوبیاں ہوں۔ مگر یہ کبھی خیال ہی نہیں آیا کہ میں تو رہ ہی ایسے گھر میں رہا ہوں جس کی ایسی خوبیاں تم بیان کر رہے ہو۔ مہربانی کر کے اس اشتہار کو ضائع کر دو، میرا گھر بکاؤ ہی نہیں ہے۔
*****
ایک منٹ ٹھہریئے، میرا مضمون ابھی پورا نہیں ہوا۔
ایک بہت پرانی کہاوت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جو کچھ نعمتیں تمہیں دی ہیں ان کو ایک کاغذ پر لکھنا شروع کر دو، یقیناً اس لکھائی کے بعد تمہاری زندگی اور زیادہ خوش و خرم ہو جائے گی۔
اصل میں ہم اللہ تعالیٰ کا شکر کرنا ہی بھلائے بیٹھے ہیں کیوں کہ جو کچھ برکتیں اور نعمتیں ہم پر برس رہی ہیں ہم اُن کو گننا ہی نہیں چاہتے۔
ہم تو صرف اپنی گنی چنی چند پریشانیاں یا کمی اور کوتاہیاں دیکھتے ہیں اور برکتوں اور نعمتوں کو بھول جاتے ہیں۔
کسی نے کہا: ہم شکوہ کرتے ہیں کہ اللہ نے پھولوں کے نیچے کانٹے لگا دیئے ہیں۔ ہونا یوں چاہیئے تھا کہ ہم اللہ کا شکر ادا کرتے کہ اُس نے کانٹوں کے اوپر بھی پھول اُگا دیئے ہیں۔

ایک اور نے کہا: میں اپنے ننگے پیروں کو دیکھ کر کُڑھتا رہا، پھر ایک ایسے شخص کو دیکھا جس کے پاؤں ہی نہیں تھے تو شکر کے ساتھ اللہ کے سامنے سجدے میں گر گیا۔
اب آپ سے سوال: کتنے ایسے لوگ ہیں جو آپ جیسا گھر، گاڑی، ٹیلیفون، تعلیمی سند، نوکری وغیرہ، وغیرہ، وغیرہ کی خواہش کرتے ہیں؟
کتنے ایسے لوگ ہیں جب آپ اپنی گاڑی پر سوار جا رہے ہوتے ہو تو وہ سڑک پر ننگے پاؤں یا پیدل جا رہے ہوتے ہیں؟
کتنے ایسے لوگ ہیں جن کے سر پر چھت نہیں ہوتی جب آپ اپنے گھر میں محفوظ آرام سے سو رہے ہوتے ہیں؟
کتنے ایسے لوگ ہیں جو علم حاصل کرنا چاہتے تھے اور نا کر سکے اور تمہارے پاس تعلیم کی سند موجود ہے؟
کتنے بے روزگار شخص ہیں جو فاقہ کشی کرتے ہیں اور آپ کے پاس ملازمت اور منصب موجود ہے؟
اور وغیرہ وغیرہ وغیرہ ہزاروں باتیں لکھی اور کہی جا سکتی ہیں۔۔۔۔۔
کیا خیال ہے ابھی بھی اللہ کی نعمتوں کے اعتراف اور اُنکا شکر ادا کرنے کا وقت نہیں آیا کہ ہم کہہ دیں:
يا رب لك الحمد كما ينبغي لجلال وجہك وعظيم سلطانك
اللہم لك الحمد حتی ترضی و لك الحمد إذا رضيت ولك الحمد بعد الرضا

Sunday, 14 August 2011

جس دیس کے کوچے کوچے میں


==================

جس دیس کے کوچے کوچے میں
افلاس آوارہ پھرتا ہو
جو دھرتی بھوک اگلتی ہو
اور دکھ فلک سے گرتا ہو
جہاں بھوکے ننگے بچے بھی
آہوں پر پالے جاتے ہوں
جہاں سچائی کے مجرم بھی
زنداں میں ڈالے جاتے ہوں
اس دیس کی مٹی برسوں سے
یہ دکھ جگرپہ سہتی ہے
اور اپنے دیس کے لوگوں کو
آزادی مبارک کہتی ہے

جشن آزادی پھر بھی مبارک



gulfnews : How to donate in the UAE for famine-hit Somalis

Gulfnews : How to donate in the UAE for famine-hit Somalis

جشن آزادی 2011 مبارک::::::::::دعا



تمام اہل وطن کو میری طرف سے جشن آزادی 2011 مبارک
اور اس موقع پر سب سے اس پیارے ملک کے لیئے دعا کی گزارش ہے،


رب العزت!!!

تو نے ہمیں اس پاک دھرتی پر دنیا کی ہر ہر نعمت سے نوازا ہے ہمیں بن مانگے وہ سب کچھ دیا جس کی ہمیں ضرورت تھی۔ یا اللہ ہم نے تیری عطاء کی ہوئی نعمتوں کی نا شکری کی اور تیر
ے کرم کا شکر ادا نا کیا، یا اللہ تو آج ہم سے خفا ہے، ناراض ہے۔ ہم لوگ اسی وجہ سے نا اتفاقی شکار ہیں، یا اللہ اپنے رحمتوں والے مہینے رمضان کے صدقے ہمیں معاف کر دے اور ہمیں وہ عقل و شعور دے کہ ہم اپنے اچھے اور برے کی تمیز کر سکیں، یا اللہ ہم اغیار کے ہاتھوں کے کھلونے بنے ہوئے ہیں ہمیں معاف کردے یا اللہ ہم شیطان اور اس کے چیلوں کے بہکاوے میں آکر اپناآپ برباد کر رہے ہیں یا اللہ ہم اس جنت کے ٹکڑے پاکستان کی عزت اور عظمت کو پامال ہوتا نہیں دیکھ سکتے یا اللہ ہمیں معاف کر دے یا اللہ ہمیں معاف کردے، تو ہم سے راضی ہو جا اور ہمیں وہ اتفاق ،یک جہتی اور جزبہ دے دے کہ ہم پھر سے اپنے ملک کے امن اور سلامتی کے لیئے کچھ کر سکیں۔

آمین ثم آمین



آواز پاکستان
رانا راشد ادریس
ابو ظہبی، یو اے ای