Saturday, 29 August 2015

سو کر نہیں دیکھا

مدت ہوئی ہے پلکوں کو
بھگو کر نہیں دیکھا
اس دل نے تیری یاد میں
رو کر نہیں دیکھا
کیا جان کر کرو گے
جدائی کے غم کو تم
آنکھوں میں میری قید
سمندر نہیں دیکھا
کہتا تھا اک پل میں
بھلا دے گا وہ مجھے
برسوں اسی شخص
نے سو کر نہیں دیکھا

ازخود، راشد ادریس رانا 24-اگست-2015

No comments:

Post a comment