Saturday, 14 May 2016

پکا مسلمان 14 مئی 2015

ان دونوں کے گھر ساتھ ساتھ تھے، زیادہ آنا جانا نہیں تھا وجہ تھی ان کے مذہب کا فرق۔ حاجی گاما پکا کٹر مسلمان تھا لیکن دل میں اللہ کا خوف بھی تھا اس لیئے اپنے پڑوس میں رہنے والے ویلیم کا خاطر خواہ خیال رکھتا تھا۔

پھر ایک دن ایک حادثہ ہو گیا، بازار میں کچھ لڑکوں کی لڑائی ہوئی اور انہوں نے فائرنگ کر دی ، عین اسی وقت ویلیم اپنے ریڑھے پے کوڑا کرکٹ اٹھاتا پھر رہا تھا، ایک گولی نے اس کی زندگی کا  اسی جگہ خاتمہ کر دیا۔

لوگ اس کی لاش اسکے گھر لائے تو کہرام مچ گیا۔ اقلیتی جماعت کے ساتھ یہ سلوک توبہٰ توبہٰ!!!! بہت احتجاج ہوا لوگوں نے بہت ہنگامہ کیا سڑک بلاک کی لیکن بہرحال اس کی لاش لے کر اس کے گھر آ گئے۔

حاجی گاما بہت رنجیدہ تھا، اس ظلم کے ساتھ ساتھ اس کو دکھ تھا کہ اس کی مسلمانی پر کیا اثر پڑئے گا آخر کو مارنے والے تو مسلمان ہی تھے، اسی غم میں اس نے اور اس کے سارے گھر نے رات کا کھانا نا کھایا، صبح بھی وہ سارے اداس اداس بھوکے پیٹ اٹھے ، حاجی گامے نے اعلان کیا آج کوئی کام پے نہیں جائے گا، سب بچے سکول سے چھٹی کریں گے، حالانکہ بچوں کے سالانہ امتحانات ہو رہے تھے۔ لیکن پھر بھی !!!! اس نے پورے سوگ کا اعلان کیا، گلی میں نکلا تو کونے والے شیخ صاحب کا لونڈا اپنی گاڑی میں میوزک لگا کر گزر رہا تھا، حاجی صاحب نے آؤ دیکھا نا تاو، جوتا اتارا اور اس کو گاڑی میں ہی پیٹ ڈالا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس فریضے سے فارغ ہو کر وہ ویلیم کے دروازے کے آگے پہنچا ، تاکہ دیکھے اس کی تدفین کی تیاریاں وغیرہ مکمل ہو ئیں کے نہیں، لیکن پھر ٹھٹھک کے رک گیا،

ویلیم کے چاروں بچے سکول یونیفارم گھر سے باہر نکل رہے تھے، اس نے حیرانگی سے پوچھا کہ کدھر جارہے ہو؟ تو انہوں نے جواب دیا کہ آج ہمارا سالانہ پیپر ہے ، جانے والا واپس تو نہیں آ جائے گا ویسے بھی ابھی تدفین میں وقت ہے تب تک ہم واپس آ جائیں گے۔

حاجی گاما !!!!! حیرانگی سے کھڑا ان کو جاتا دیکھ رہا تھا، آخر کو پکا مسلمان تھا۔

(اگر یہ کہانی کسی حقیقی واقعہ سے ملتی جلتی ہے تو!!!!!! کیا ہو سکتا ہے)

#کراچی،#Karachi
بقلم خود: راشد ادریس رانا

No comments:

Post a comment