Thursday, 10 March 2016

ابو لہب اور یہودی 《《ممتاز مفتی》》

ابو لہب اور یہودی

فالسی فیکشن (falsification) ٹیسٹ کے سلسلے میں گیری ملر نے دو بڑی دلچسپ باتیں لکهی ہیں - لکهتا ہے :
محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک چچا تها - اس کا نام ابو لہب تها -

ابولہب کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے عداوت تهی - اس کی زندگی کا واحد مقصد قرآن ، اسلام اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو جهٹلانا تها - وه محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا پیچها کیا کرتا تها - جہاں بهی آپ صلی اللہ علیہ وسلم جاتے ، وه پیچهے پیچهے جاتا - آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہر بات کو جهٹلاتا - اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کہتے کہ یہ چیز سفید ہے تو وه جهٹ بول اٹهتا ، نہیں یہ چیز کالی ہے - اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کہتے کہ دن ہے تو وه کہتا ، نہیں رات ہے - قرآن میں ابولہب کا ذکر بهی آیا ہے کہ ............
وه دوزخ کی آگ میں جلے گا - دوزخ کی آگ میں جلنا اس کا مقدر ہے - مطلب یہ کہ وه کبهی اسلام قبول نہیں کرے گا ، کافر ہی رہے گا -

گیری ملر لکهتا ہے کہ اس آیت کے نازل ہونے کے بعد ابولہب دس سال زنده رہا - اس کے لیے قرآن کو جهٹلانا بہت آسان تها - وه مسلمانوں سے کہتا ، دوستو ! میں مسلمان ہونا چاہتا ہوں ، مجهے مسلمان بنا لو .......  جب وه مسلمان بنا لیتے تو کہتا ، لو بهئ ! تمہارا قرآن جهوٹا ثابت ہو گیا - اب بولو - لیکن ابولہب نے ایسا نہیں کیا حالانکہ اس کی زندگی کا مقصد ہی یہ تها کہ وه قرآن کو جهوٹا ثابت کرے ، حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو جهٹلائے -

گیری ملر ایسی ہی ایک اور مثال دیتا ہے - لکهتا ہے :
قوموں کی حیثیت سے انسانی رشتوں کا ذکر کرتے ہوئے قرآن کہتا ہے کہ بحیثیت قوم ، یہودیوں کی نسبت عیسائی مسلمانوں سے بہتر سلوک روا رکهیں گے - لہذا یہودیوں کے لیے قرآن جهٹلانا بڑا آسان کام تها -
یہودی مسلمانوں سے مل جول بڑهاتے - ان سے ہمدردی کا اظہار کرتے - انہیں اپناتے ........... پهر کہتے ، مسلمانوں ! تمہارا قرآن غلط ہے - چونکہ ہم مسلمانوں سے عیسائیوں کی نسبت بہتر تعلقات کے حامل ہیں لیکن یہودیوں نے ایسا نہیں کیا ، اور لگتا ہے کہ مستقبل میں بهی ایسا نہیں کریں گے -
گیری ملر نے تو بڑی روداری سے بات کی ہے - حقیقت یہ ہے کہ یہودیوں کا مسلمانوں سے جو رویہ ہے ، وه قرآن کو جهٹلانے کی بجائے اس کے دعوے کو  شدت سے تقویت دیتا ہے -

تلاش
ممتاز مفتی

No comments:

Post a comment