Sunday, 11 January 2015

گدھ اور چیلیں



سنا ہے آج کل گدھ اور چیلیں ناپید ہو گئی ہیں۔

کیوں نا ہو، پہلے مرداروں کو نوچ نوچ کر کھانے کےلیئے گدھ اور چیلیں ہوا کرتی تھیں ، پھر ان بیچارے پرندوں نے دیکھا کہ یہاں تو مردار کھانے والے بہت ہیں ان کا حصہ تو بچتا ہی نہیں۔ 

ہر کوئی توزندہ، مردہ، حرام، مکروہ سب کچھ کھا رہا ہے سو انہوں نے کوچ کر لی ، دور بہت دور جہاں کم از کم کھانے کی تمیز تو ہو۔

ہمارے اندر کے گدھ اتنے غلیظ ہیں کہ کراہ ارض کے گدھ بھی اس سے پناہ مانگتے ہیں، ہم تو اپنے بچے تک کھا جاتے ہیں۔

ہمارے اندر کے گدھ سر عام اپنی ہی عزتوں سے اپنے مکروہ جذبات کو تسکین پہنچاتے ہیں۔

یہاں سب کچھ مردہ ہے، بس حلال کا نعرہ لگانے والے وہی رہ گئے جن کو شاید مردار کھانے کو نہیں ملتا۔

ہمارے اندر کے گدھ نے باہر کے گدھ کا بھی حق مارا ہے، اس کو بھی نوچ کھسوٹ کے کھا لیا ہے۔

گدھ اور چیلیں بھی اب پناہ مانگ چکی ہیں ہم سے۔

از: راشد ادریس رانا 11جنوری 2015۔

No comments:

Post a comment