Tuesday, 19 February 2013

...::::::قتل ہوتا دیکھ کر میں جا بجا انسان کو:::::...

(جناب جبار واصف)
 رحیم یار خان
کا حالات حاضرہ پر جگرسوز کلام . 

قتل ہوتا دیکھ کر میں جا بجا انسان کو
  ایک چٹھی لکھ رہا ہوں صدر ِ پاکستان کو
.
صدر جی اِس ملک سے اپنا تو جی اب بھر گیا
  ہر بشر جس ملک میں جینے سے پہلے مر گیا
.
...
چار سُو اِس ملک میں تاریکیوں کا راج ہے
  کل تو بد تر تھا مگر کل سے بھی بدتر آج ہے
.
ہر طرف اس ملک میں دہشت سی ہے پھیلی ہوئی
  جس طرف بھی دیکھئے وحشت سی ہے پھیلی ہوئی
.
کس قدر اِس ملک میں قانون ہے بکھرا ہوا
  جس طرف بھی دیکھئے بس خون ہے بکھرا ہوا
.
کیا سناؤں میں تمہیں اُن لڑکیوں کی داستاں
  کھا گیا جن کی جوانی کو ہوس کا آسماں
.
کیا تمہارا جی نہیں کٹتا وہ مائیں دیکھ کر
  ہر طرف لٹتی ہوئی کم سن ردائیں دیکھ کر
.
آؤ اب تم کو دکھاؤں ایک ننھی جان کو
  جس نے نوچا رات بھر سوکھے ہوئے اِک نان کو
.
پھر وہ ننھی جان کیااحسان ہم پہ کر گئی
  مفلسی میں بھوک کے ہاتھوں بلک کر مر گئی
.
یہ ستم کچھ اِس لئے تجھ کو نظر آتا نہیں
  کیونکہ اِس کی زد کے اندر تیرا گھر آتا نہیں
.
صدر جی اِس ملک میں مجھ سے جیا جاتا نہیں
  روز اپنوں کا لہو مجھ سے پیا جاتا نہیں
.
اب تمہارے سامنے سارے مرے حالات ہیں
  تم کو اب معلوم ہے واصف کے جو جذبات ہیں
.
میں تو کرتا ہوں تہہ دل سے دعا تیرے لئے
  منتظر ہوں میں کہ کیا کرتے ہو تم میرے لئے

2 comments:

  1. These murders are fully supported by Islamists who act in accordance of religion I.e to murder any one who differs from them.

    ReplyDelete
  2. بہت لاجواب ۔۔۔ بہت ہی خوبصورت اور فکر انگیز کلام

    ReplyDelete