Monday, 7 March 2011

اور وہ شحص ٹوٹ گیا

مجھ سے بچھڑ کر لکھی اس نے دل کی بات
کیوں نہ ہوا اسے حوصلہ میرے سامنے
کل تک وہ آئینے سے بھی نازک تھا
محسن وہ شحص ٹوٹ گیا میرے سامنے

ہنسنا اچھا نہیں لگتا تو رلا دیتی ہے

ہنسنا اچھا نہیں لگتا تو رلا دیتی ہے

ہنسنا اچھا نہیں لگتا تو رلا دیتی ہے
زندگی کیوں مجھے قسطوں میں سزا دیتی ہے

اب مرے دل کو بھٹکنے کا نہیں اندیشہ
ہر نئی سوچ مجھے راہ دکھا دیتی ہے

یہ سمجھ کر ہی تجھے دوست بنایا میں نے
دوستی دل کی سیاہی کو مٹا دیتی ہے

پیت میں دانہ نہیں ہے تو نہیں‌غم اس کا
خوش لباسی مرا ہر عیب چھپا دیتی ہے

اپنی حاجت سے زیادہ نہ طلب کر کچھ بھی
حرص انسان کو نظروں سے گرا دیتی ہے

آدمی کوئی بھی ہو اس کی ذرا سی لغزش
خاک میں ساری عبادت کو ملا دیتی ہے

موسم ہجر میں ‌زخموں کی خموشی صابر
آنے والے کسی طوفاں کا پتا دیتی ہے

ہماری انا کو قتل نہ کر

محبتوں میں ہوس کے اسیر ہم بھی نہیں
غلط نہ جان کہ اتنے حقیر ہم بھی نہیں
ہمیں بجھا دے، ہماری انا کو قتل نہ کر
کہ بے ضرر سہی محسن بے ضمیر ہم بھی نہیں

Dedicated to "Dhan Pan", I think She never understand me!!!!


!!!Life Cycle of Human!!!

عالم ِ محبت میں

عالم ِ محبت میں
اِک کمال ِ وحشت میں
بے سبب رفاقت میں
دُکھ اُٹھانا پڑتا ہے
تتلیاں پکڑنے کو
دور جانا پڑتا ہے

دلوں کو برف کرتی رائیگانی سے نکل آئے

دلوں کو برف کرتی رائیگانی سے نکل آئے
کوئی کیسے محبت کی کہانی سے نِکل آئے

اُسے بس ایک پل کو دیکھنا بات کرنی تھی
مگر وہ ایک اشک ِ سادہ جو روانی سے نکل آئے

گماں تھا عُمر لگ جائے گی اس حیرانی ء غم میں
مگر ہم شام ِ وحشت کی گِرانی سے نِکل آئے

بہت مجبور رہتے تھے،بہت مغرور رہتے تھے
کہ جب سے شہرِ غم کی کج بیانی سے نِکل آئے

کہیں تو سلسلہ ٹھہرے بدن کی اِس مُسافت کا
کبھی تو بے گھر کی مہربانی سے نِکل آئے

کبھی تاریک شب میں یاد کے جُگنو چمکتے ہیں
کہ جیسے سیپ کوئی گہرے پانی سے نِکل آئے

کبھی ہم بھیگتے ہیں چاہتوں کی تیز بارش میں

کبھی ہم بھیگتے ہیں چاہتوں کی تیز بارش میں
کبھی برسوں نہیں ملتے کسی ہلکی سی رنجش میں

تمہی میں دیوتاؤں کی کوئی خُو بُو نہ تھی ورنہ
کمی کوئی نہیں تھی میرے اندازِ پرستش میں

یہ سوچ لو پھر اور بھی تنہا نہ ہو جانا
اُسے چھونے کی خواہش میں اُسے پانے کی خواہش میں

بہت سے زخم ہیں دل میں مگر اِک زخم ایسا ہے
جو جل اُٹھتا ہے راتوں میں جو لَو دیتا ہے بارش میں