Tuesday, 27 October 2026

چوہدری اور منطق

 چوہدری اور منطق


ﺩﯾﮩﺎﺗﯽ ﻟﮍﮐﺎ ﺷﮩﺮ ﺳﮯ ﭘﮍﮪ ﻟﮑﮫ ﮐﺮ جب ﻭﺍﭘﺲ اپنے ﺩﯾﮩﺎﺕ آﮔﯿﺎ ﺗﻮ ﮔﺎﺅﮞ ﮐﮯ ﭼﻮﮨﺪﺭﯼ ﻧﮯ اس سے پوچھا:
"ﭘﺘﺮ ﭘﮍﮬﻨﮯ ﻟﮑﮭﻨﮯ ﮐﺎ ﮐﯿﺎ ﻓﺎﺋﺪﮦ ہوتا ہے؟
ﻟﮍﮐﺎ: ﭼﻮﮨﺪﺭﯼ ﺻﺎﺣﺐ ﭘﮍﮬﻨﮯ ﻟﮑﮭﻨﮯ ﺳﮯ "لاجک" ﮐﻠﯿﺮ ہو ﺟﺎﺗﯽ ہے۔
ﭼﻮہدﺭﯼ ﺻﺎﺣﺐ: پُتر ﯾﮧ "لاجک" ﮐﯿﺎ ہوتی ہے؟
ﻟﮍﮐﺎ: "لاجک" ﻣﻨﻄﻖ ﮐﻮ ﮐﮩﺘﮯ ہیں۔
ﭼﻮﮨﺪﺭﯼﺻﺎﺣﺐ: ﯾﮧ ﻣﻨﻄﻖ ﮐﯿﺎ ہوتی ہے؟
ﻟﮍﮐﺎ: ﻣﻴﮟ ﺳﻤﺠﮭﺎﺗﺎ ہوں ﺁپ کو ۔ ۔ ۔
ﻟﮍﮐﺎ: ﭼﻮہدﺭﯼ ﺻﺎﺣﺐ ﺁّپ کے ﮔﮭﺮ ﻣﯿﮟ ﮐﺘﺎ ہے؟
ﭼﻮﮨﺪﺭﯼﺻﺎﺣﺐ: ہاں ہے۔
ﻟﮍﮐﺎ: ﺍس کا ﻣﻄﻠﺐ ہے ﺁپ کا ﮔﮭﺮ ﺑﮍﺍ ہوگا تبھی تو اس کی ﺣﻔﺎﻇﺖ کیلئے ﮐﺘﺎ رکھا ہے؟
ﭼﻮﮨﺪﺭﯼﺻﺎﺣﺐ: ہاں ﮔﮭﺮ ﺗﻮ کافی ﺑﮍﺍ ہے۔
ﻟﮍﮐﺎ: اتنے ﺑﮍﮮ ﮔﮭﺮ ﮐﯽ ﺩﯾﮑﮫ ﺑﮭﺎﻝ کیلئے نوکر بھی ہوں گے؟
ﭼﻮﮨﺪﺭﯼﺻﺎﺣﺐ: ہاں پُتر ﻧﻮﮐﺮ ﺑﮭﯽ ﮐﺎﻓﯽ ہیں۔
ﻟﮍﮐﺎ: ﺍس کا ﻣﻄﻠﺐ ہے ﺁپ کی ﺁﻣﺪﻧﯽ ﺑﮭﯽ ﺍﭼﮭﯽ ﺧﺎﺻﯽ ہوﮔﯽ؟۔(ملازموں کی ﺗﻨﺨﻮﺍﮦ کیلئے)
ﭼﻮﮨﺪﺭﯼﺻﺎﺣﺐ: ہاں ﺟﯽ ﺁﻣﺪﻧﯽ ﺑﮭﯽ ﺍﭼﮭﯽ ﺧﺎﺻﯽ ہے۔
ﻟﮍﮐﺎ: ﺍس کا ﻣﻄﻠﺐ ہے ﺁپ کی والدہ ﮐﯽ ﺩﻋﺎﺋﯿﮟ آپ کے ﺳﺎﺗﮫ ہیں ﺍﻭﺭ آپ کی والدہ ﮐﯽ ﺩﻋﺎﺋﯿﮟ ﺁپ کے ﺣﻖ ﻣﯿﮟ ﻗﺒﻮﻝ ﺑﮭﯽ ہوئیں۔ اس کا ﻣﻄﻠﺐ ﯾﮧ ہوا ﮐﮧ ﺁپ کی والدہ ﻧﯿﮏ خاتون تھیں ۔ ۔ ۔!
ﭼﻮﮨﺪﺭﯼﺻﺎﺣﺐ: ﺑﺲ پُتر ﺍﺏ ﻣﯿﮟ ﺳﻤﺠﮫ ﮔﯿﺎ ﮐﮧ ﭘﮍﮬﻨﮯ ﻟﮑﮭﻨﮯ ﺳﮯ"لاجک" ﮐﯿﺴﮯ کلیئر ہوتی ہے ۔ ۔ ۔
ﺍﮔﻠﮯ ﺩﻥ ﭼﻮہدﺭﯼ ﺻﺎﺣﺐ کے ملازم نے ان کے پیر ﺩﺑﺎﺗﮯ ہوﺋﮯ پوچھا ۔ ۔ ۔
"ﭼﻮﮨﺪﺭﯼ ﺻﺎﺣﺐ ﯾﮧ ﺟﻮ ﻟﮍﮐﺎ ﺷﮩﺮ ﺳﮯ ﭘﮍﮪ ﻟﮑﮫ ﮐﺮ ﮔﺎﺅﮞ ﻣﯿﮟ ﺁﯾﺎ ہے ﺍس کو ﭘﮍﮬﻨﮯ ﻟﮑﮭﻨﮯ ﮐﺎ ﮐﯿﺎ ﻓﺎﺋﺪﮦ ہوا؟؟"
ﭼﻮﮨﺪﺭﯼﺻﺎﺣﺐ: اوئے ﺷﯿﺪﮮ، ﭘﮍﮬﻨﮯ ﻟﮑﮭﻨﮯ ﺳﮯ "لاجک" کلیئر ہو ﺟﺎﺗﯽ ہے ..
ﺷﯿﺪﺍ: ﭼﻮﮨﺪﺭﯼ ﺻﺎﺣﺐ ﯾﮧ " لاجک" ﮐﯿﺎ ہوتی ہے؟
ﭼﻮﮨﺪﺭﯼﺻﺎﺣﺐ: "لاجک" ﻣﻨﻄﻖ ﮐﻮ ﮐﮩﺘﮯ ہیں ..
ﺷﯿﺪﺍ: ﯾﮧ ﻣﻨﻄﻖ ﮐﯿﺎ ہوتی ہے؟
ﭼﻮﮨﺪﺭﯼ ﺻﺎﺣﺐ: ﻣﻴﮟ ﺳﻤﺠﮭﺎﺗﺎ ہوں ﺗﻢ ﮐﻮ ۔ ۔ ۔
ﭼﻮﮨﺪﺭﯼ ﺻﺎﺣﺐ: ﺗﻤﮩﺎﺭﮮ ﮔﮭﺮ ﻣﯿﮟ ﮐﺘﺎ ہے؟
ﺷﯿﺪﺍ: ﻧﮩﯿﮟ ﭼﻮﮨﺪﺭﯼ ﺻﺎﺣﺐ ﻣﯿﺮﮮ ﮔﮭﺮ ﻣﯿﮟ ﮐﺘﺎ ﻧﮩﯿﮟ ہے ..
اب چوہدری صاحب گڑبڑا گئے، لاجک کا یہ جواب تو سوچا ہی نہیں تھا، غصہ میں ہڑبڑا کے بولے کل توں تو کم تے نہیں آنا، شیدے نے گھبرا کو پوچھا کیا ہوا چوہدری جی....؟؟؟؟
ﭼﻮﮨﺪﺭﯼ ﺻﺎﺣﺐ: ﺍس کا ﻣﻄﻠﺐ ہے ﺗﻤﮩﺎﺭﯼ ﻣﺎﮞ ﮐﻮﺋﯽ ﻧﯿﮏ ﻋﻮﺭﺕ ﻧﮩﯿﮟ ﺗﮭﯽ ۔

Friday, 15 August 2025

زبانیں نسلوں کا پتا دیتی ہیں

کاپی شدہ فیس بک: 

Tariq Mughal

 *بشیرا مراثی اور  معاشرتی المیہ*

کہتے ہیں کے بشیرا نام کا ایک میراثی اپنے گاؤں اور میراثی فیملی کو چھوڑ کے شہر آ گیا ۔ کام پیدائش سے ایک ہی کرتا چلا آیا تھا۔ تو شہر میں بھی گلے میں ڈھول ڈالے، رنگین کپڑے پہنے ، لمبے بال دھمال کے انداز میں ہلاتے تابڑ توڑ ڈھول بجاتا پھرتا تھا ۔ جیسا کہ ہر کسی کا ایک دن آتا ہے تو اسے بھی ایک دن کسی میوزک ڈائریکٹر نے اپنے اسٹوڈیو میں بھرتی کر لیا۔ جہاں سے بشیرا ترقی کرتے کرتے پہلے اسسٹنٹ ڈائریکٹر بنا اور پھر اپنا الگ سٹوڈیو بنا کر میوزک ڈائریکٹر “استاد بشیر خاں” کے نام سے شہرت پائی۔


وقت گزرتا گیا۔ استاد بشیر کی دُھنیں عالمی سطح پر مقبول ہوئیں۔ فلموں میں استاد کا نام میوزک کی مد میں شامل ہونا کامیابی کی ضمانت ہوتا ۔ بات نگار ایوارڈ سے تمغۂ حسنِ کارکردگی تک پہنچی ۔ لالی سے بالی اور پھر ہالی تک کا سفر منٹوں میں طے ہوا ۔ آسکر کے لئے نامزدگی ہوئی ۔ امریکہ منتقلی اور پھر مستقل سکونت اختیار کی۔ گوری میم سے شادی ہوئی ۔ ڈاکٹریٹ کی اعزازی سند آکسفورڈ نے عطا کی ۔ میلوں ، نمائشوں کے فیتے کٹوائے گئے۔ فراری میں ڈرافٹنگ اور فائیو اسٹار ہوٹلوں کے سوئمنگ پول میں ڈبکیاں لگیں ۔ دنیا کے سفر اور پذیرائی ملی ۔ برطانیہ میں مشرق کی آواز ، جاپان میں مہاتما بودھ کا پرتو اور افغانستان میں واجب القتل قرار دیا گیا۔ کیسینو میں لاکھوں کی شرطیں لگیں اور بیگ سے ڈرگز برآمد ہوئی۔ کپڑوں کا ایک انٹرنیشنل برانڈ متعارف کرایا۔ “چودھری بشیر اینڈ سنز” کے نام سے سپر اسٹورز کی ایک چین بھی بنائی۔


پچاس سال گزر گئے ۔ چوہدری بشیر کے گٹھنے سیڑھیاں چڑھتے کٹک کٹک کرنے لگے۔ گوری میم بھی “ٹائی ٹینک” میں “بلیو ہارٹ” سمندر بُرد کرنے والی بُڈھی جیسی ہو گئی۔ اب چوہدری صاحب کو خدا یاد آیا ۔ حج کیا، برف جیسی سفید داڑھی چھوڑی، پانچ وقت نماز شروع کی ۔ وطن واپس آئے، انسانیت کی خدمت کے لئے ٹرسٹ قائم کیا ۔ وعظ و نصیحت کی، رمضان ٹرانسمین میں غریبوں کے گردے کے آپریشن کرانے ۔ اپنے گاؤں میں بقیہ زندگی گزارنے کا فیصلہ کیا ۔ گاؤں میں حویلی تعمیر کی، کنواں کھدوایا، اسکول بنوایا، اپنے ماں باپ کی قبر پر مقبرہ اور “استاد حاجی رشید خاں مرحوم” اور “حجن بی بی اللّٰہ بچائی خاتون مرحومہ” کا  کتبہ آویزاں کیا ۔ مسجد و مدرسے کی تعمیر کی اور حویلی میں آخری ایام یادِ الٰہی میں گزارنے لگے۔


تو صاحبو! گاؤں میں چوہدری بشیر خاں کی عزت و احترام اور رعب و دبدبے کا یہ عالم کہ جہاں سے وہ کلف لگے سوٹ اور اونچے شملے کی پگڑی میں ملبوس گزرتے، لوگ 'سلام چوہدری صاحب' کہہ کر جھکتے ۔ اہم مسائل کے فیصلے چوہدری صاحب کی حویلی کے صحن میں سنائے جاتے ۔ غریبوں کا علاج ہو کہ  بچیوں کی شادی ، اسکول کی تقسیمِ اسناد ہو یا الیکشن مہم، چوہدری صاحب کی شرکت کے بغیر سب ادھورا تھا ۔


پھر ایک روز چوہدری صاحب کی خوبرو پوتی ان سے ملنے امریکہ سے گاؤں آئی ۔ پہلی بار گاؤں کا ماحول اور کلچر دیکھا، اچھا لگا، چند دن رہنے کا فیصلہ کیا۔ گاؤں سے باہر کار میں گھومنے نکلی، ایک پراڈو سے گاڑی کا معمولی سا ایکسیڈنٹ ہوا۔ پراڈو سوار سے بحث، تعارف ، دوستی اور پھر محبت ہوئی ۔ بات شادی تک پہنچی ۔ چوہدری صاحب لڑکے کے باپ سے ملے، حسب نسب پوچھا، جواب ملا چوہدری فرزند علی نام ہے ۔ پڑوس کے گاؤں میں جاگیر ہے، پیسے کی ریل پیل ہے، اچھا اور بااثر خاندان ہے ۔ چوہدری صاحب نے فیصلہ بچوں پر چھوڑ دیا ۔ بقیہ خاندان بھی گاؤں آیا ۔ نکاح کی تاریخ طے ہو گئی ۔ حویلی سجا دی گئی۔


شادی کی محفل تھی ۔ بارات پہنچی ۔ پتا چلا کہ لڑکی کے دادا شہر سے آئے ہیں ۔ چوہدری صاحب کی نشست کے برابر میں لڑکی کے دادا براجمان ہوئے ۔ تعارف ہوا، کچھ آنکھیں چار ہوئیں، کچھ یادداشت کھنگالی گئی، آخر کار ایک دوسرے کو پہچان لیا گیا ۔ پرانی شناسائی نکلی ۔ “اوئے بشیرے کنجر! تو کاہے کا چوہدری” سوال ہوا ۔ “اوئے بوٹے مسیح ! مسلی تو کب مسلمان ہوا؟” کا جواب ملا ۔ تلخ کلامی ہوئی  “اوئے لعنتی دی اولاد”اوئے میراثیاں دا ٹولہ” ، “اوئے بلی، کتے کھان والیو” ۔ “اوئے دلیو، شیدے ، ناجیز اولادو”  ، ”اوئے سورا” ۔۔۔ شرکاء حیرت سے دیکھ رہے تھے ۔ گالیاں ایسی تھیں کہ لوگوں کے وضو ٹوٹ جائیں ۔ لوگ کانوں کو ہاتھ لگاتے واپس جا رہے تھے ۔


اونچے شملے تھے، کلف لگے سوٹ تھے، دولت تھی، عزت تھی، سوشل ورک تھا، اعزازی ڈگری تھی ۔۔۔ پر زبان بازاری تھی ۔ ماؤں کے بچے چھوڑ کے آشناؤں کے ساتھ بھاگ جانے کے قصے تھے ۔ ناجائز تعلقات کی داستانیں تھیں ۔ بشیرے میراثی کو چوہدری بشیر خاں بننے میں گو پچاس برس لگے ہوں، واپسی پانچ منٹ میں ہوئی تھی ۔ سب کو سبق مل گیا تھا کہ زمان و مکاں کی تبدیلی ہو یا پوزیشن و لباس کی ۔ اسے ایوان اقتدار پر براجمان کیا جائے یا عطر میں بسا کر منبر و محراب کا ٹھیکہ دار بنا دیا جائے، انسان کی اصل کبھی تبدیل نہیں ہوتی اور منہ کھولتے ہی اوقات کا پتا چل جاتا ہے۔

Monday, 19 February 2024

پرانی یاد 1995


 1995 پرانی یاد


افغانستان واپسی پہ ایک چیک پوسٹ پہ کمانڈر صاب نے بہت اسرار کر کے رات ٹھہرنے کو کہا، دوران قیام کھانے کے بعد خوش گپیوں کے دوران کمانڈر صاب سے پوچھ لیا جناب، کیا وجہ ہے کہ ہر جگہ ہی چیک پوسٹ اور اطراف میں پتھروں اور درختوں کو سفید چونا لگایا جاتا ہے ۔

کمانڈر صاب زور سے ہنسے اور بولے دراصل دوران تربیت یہ خاص سبق ہے جو ہم یاد کرتے ہیں۔۔۔۔


ہر چلتی چیز کو سلوٹ ٹھوکنا ہے 

اور ہر گھڑی چیز کو چونا لگانا ہے 

“

“

“

“آج یاد آیا کہ پاکستان بھی تو ستر سال میں وہیں کا وہیں کھڑا ہے”


Saturday, 23 December 2023

آپ ہمارا فخر تھے:

 آپ ہمارا فخر تھے:

آپ نے بغض عمران خان میں، 


نصاب میں قرآن و سنت کی تعلیم پہ حملہ کیا، 

غریبوں سے انکا کھانا چھینا، 

پناگاہیں چھینیں، 

صحت کارڈ پروگرام کو خراب کیا ، 


آپ نے سیاسی و غیر سیاسی عام عوام کو جھوٹے مقدمات بنا بنا کر ذلیل و خوار کیا ،

 آپ کے ظلم کی وجہ سے لوگوں کے معصوم بے گناہ بچے موت کی آغوش میں چلے گئے ،

آپ نے ذاتی زندگیوں پہ کیچڑ اچھالا ،

 گندی غلیظ ویڈیوز سے لیکر گندی غلیظ کتابیں چھپوا دیں،


جہاں دوسرے ممالک اپنی افرادی قوت کو ملکی ترقی کے لئے استعمال کرتے ہیں آپ اپنے ملک کے نوجوانوں کو ذلیل ہونے کے لئے  باہر بھیج کر فخر محسوس کر رہے ہیں 


آپ نے آن لائن جلسہ کو ثبوتاژکرنے کے لئے انٹرنیٹ سروس تک بند کر کے دیکھ لیا 

آپ الیکشن کے اہل لوگوں سے کاغذات نامزدگی چھیننا شروع ہو گئے 

دنیا  آپ  پر ہنس رہی ہے ،

آپ اپنے بلوچیوں کو مار رہے ہیں کہ جن کی داد رسی کی ذمہ داری ریاست کی ہے، آپ نے خود کو مقدس گائے کا درجہ دے دیا ہے کہ آپ سے کوئی سوال نہیں پوچھ سکتا۔۔۔۔۔

لیکن آپ  جناب !!! 

آپ ہمیں فخر دلاتے تھے کہ ہم ایٹمی سوپر پاور ہیں، جناب آپ کی پالیسی اور پوزیشن بلکل واضح ہو گئی جس وقت مظلوم فلسطینیوں پہ ظالم اوربربریت کے پہاڑے توڑے جارہے تھے آپ امریکہ میں دورے فرما رہے تھے آپ سے تو ایک بیان بھی نا دیا گیا 

یہاں تک کہ فلسطینی قیادت نے درخواست تک کی تھی کہ پاکستان صرف ان کے حق کے لئے عالمی سطح پہ آواز اٹھائے۔ لیکن آپ نے فراموش کیا سب کچھ!!!!

جناب آپ طاقتور نہیں آپ بزدل اور ڈرے ہوئے ہیں،

 اپنے ہی لوگوں سے اپنی ہے عوام سے جس کے اندھے پیار کا ناجائز فائدہ آپ پچھلے ستر سالوں سے اٹھا رہے تھے۔

آپ نے ہمیں پچھلے بیس سالوں سے کہتے رہے کہ پاکستانی نوجوانوں کو ففتھ جنریشن وار کے لئے دشمن سے مقابلہ کے لئے تیار رہنا ہے ، اور جب وہی نوجوان آپ سے سوال کرنے لگے تو آپ نے انکو کئی بورڈ 

وارئیر اور غداری کے تمغات سے نوازنا شروع کر دیا۔

بہت کچھ اور بھی ہے کہے کو لیکن !!!!!! آپ کی انا کا مسئلہ جو ہے !!!! 


ازخود راشد: قلم ناتواں  22 Dec 2023

Saturday, 28 October 2023

پاکستانی دولے شاہ دے چوہے

 پاکستانی دولے شاہ دے چوہے


دولے شاہ کے چوہوں بارے کہا جاتا ہے کہ یہ بچے پیدائشی چھوٹے دماغ اور چھوٹے سر کی وجہ سے سائیں ہوتے ہیں اللہ والے ہوتے ہیں اور لوگوں کو اُنکی دعایں لگتی ہیں

حالانکہ حقیقت اس کے برعکس ہے ، 


دولے شاہ کا ایک پورا منظم نیٹ ورک ہے جو باقاعدہ ان بچوں کے سر پہ لوہے کی ٹوپیاں پہنا کر رکھتے ہیں تاکہ جسمانی افزائش کے ساتھ ان کے سر اور دماغ چھوٹے رہیں اور ان کے زریعے سے کاروبار چلتا رہے چاہے مانگنے کا کام ہو یا دم درود کے زریعے لوگوں کو بیوقوف بنا کر پیسے بٹورنے ہوں۔


تو کل ملا کر بات یہئ ہے کہ ہم پاکستانی کسی حد تک دولے شاہ کے وہ چوہے ہیں جن سے دعاووں اور مانگنے کا کام پچھلے لگ بھگ چوہتر سال سے لیا جاتا ہے ، لوہے کی ٹوپیاں نسل در نسل ہمارے سروں پہ پہنا کر ہمارے دماغوں کو محدود کیا گیا ہے : 


جیسے کہ دولے شاہ سرکار موتیاں والے کرامتاں والے!!!!


٭جب چاہیں ہمیں سیلاب میں ڈبو کر ہماری ابتر حالت اقوام عالم کو دکھا کر پیسا وصول کر سکیں 

٭ یا پھر ، ہمیں ڈالرز کے عوض گوانتاموبے بیچ دیں 


٭ یا پھر ہمیں گناہ گار بدکار غدار دھشت گرد ، کچھ بھی ثابت کر کے ہمیں گولیاں مار دیں 


جب کہ اقوام عالم میں ہم بڑے پہنچے ہوئے ہیں کہ جن سے

کشمیر تا فلسطین شجاعت جرآت اور پتا نہیں کس کس ان دیکھی نمبر ون طاقتوں کے معجزوں کی توقع کیے مظلوم لوگ ہیں۔ 


لیکن کیا بتائیں کہ ہم تو

دولے شاہ کے وہ چوہے ہیں جو اپنے لئے کچھ سوچ نہیں سکتے جن کے اپنے دماغ چھوٹے رہ چکے ہیں، کسی کے لئے کیا کریں گے ، ہم خود دولے شاہ سرکار کے مکمل قبضے اور تسلط میں نسلوں سے محکوم ہیں۔


28 October 2023

ازخود : راشد 

قلم ناتواں 

#پاکستان #followers

Thursday, 15 December 2022

Long live Pakistan 🇵🇰 ❤ 🇲🇦 Morocco brotherhood !

Long live Pakistan 🇵🇰 ❤ 🇲🇦 Morocco brotherhood !
https://drive.google.com/uc?export=view&id=1iFNEpysYq4bgxVQAtO-YHqV-GngXwPud
When Morocco was under the French authority and striving for independence, Sultan Muhammad (V) sent Ahmed Balafrej to the United States to address the UN Security Council. However, French delegates refused to let him speak, claiming that Morocco is a French colony.

Pakistan's Foreign Minister Sir Zafaullah Khan immediately opened the Pakistani embassy in the United States at night and offered Bulferg Pakistani nationality. 

He issued him a Pakistani passport, allowing him to address the UN Security Council as a Pakistani citizen in favor of Morocco the following day. 

This encouraged the Moroccan independence movement both globally and at home.

Finally, after Morocco won independence in 1956, he served as Prime Minister of Morocco between May 12, 1958, and December 2, 1958, and he proudly displayed his framed Pakistani passport in his office, telling all guests about the importance the passport played in Morocco's liberation.

Report by Muneeb bin Majeed

Image Source :  https://lnkd.in/dQDKWkFK

Information Sources : 

Tweet by Pakistan Embassy Morocco : https://lnkd.in/dr3KPr7s

Copy of Ahmed Balafrej Passport : https://lnkd.in/d-zZXRrU

Journal Article on Sir Zafarullah and his contributions to Morocco and other countries :
https://lnkd.in/d-rN2q3W

And Ahmed Balfarej wikipedia article : https://lnkd.in/diwgfCap

Monday, 10 January 2022

انڈسٹری 4.0

Copy from Respectable
انڈسٹری 4.0 کا تصور چند برس قبل جرمنی سے نکلا اور دیکھتے ہی دیکھتے ساری صنعتی دنیا پہ چھا گیا۔ 

اس مضمون میں انڈسٹری 4.0 منزل نہیں پڑاؤ ہے۔ تو بس اتنا سمجھ لیں کہ اس کی جان یا روح آٹومیشن ہے۔ 

خام مال کی پروکیورمنٹ سے لے کر اینڈ یوزر تک اپنی پیداوار پہنچانے تک کے تمام مراحل کو چھوٹے چھوٹے انڈیپنڈنٹ پراسیسز میں کنورٹ کرنا اور ان تمام پراسیسز کو ممکنہ حد تک آٹومیٹ کر دینا۔ 

انڈسٹری 4.0 کی سب سے ایکسائٹنگ بات یہ ہے کہ اس میں آپ کو تمام کی تمام ایمرجنگ ٹیکنالوجیز جن کا آپ ادھر ادھر تذکرہ سنتے پڑھتے رہتے، ایک ساتھ بروئے کار دکھائی دیتی ہیں۔ 

آٹومیشن کیلئے آرٹیفیشل انٹیلیجنس، مشین لرننگ، روبوٹکس، میکاٹرانکس مل کر کام کرتی ہیں، ڈیزائننگ اور ویژولائزیشن کیلئے آگمنٹڈ رئیلٹی اور مکسڈ رئیلٹی استعمال ہوتی ہے۔ ایک ایک مرحلے کے درجنوں یا سینکڑوں پراسیسز کی آٹومیشن کے نتیجے میں جو ماسیو ڈیٹا جنریٹ ہوتا ہے اس کیلئے کلاؤڈ سرورز، اس ڈیٹا کی انٹرپریٹیشن کیلئے ڈیٹا سائنس اور اینالٹکس، سرورز کو زیادہ بوجھ سے بچانے کیلئے ایج کمپیوٹنگ اور ڈیوائسز کو ہر وقت سرور سے پیغام رسانی میں لگے رہنے سے بچانے اور سمارٹ بنانے کیلئے ٹائنی مشین لرننگ۔ 

ان سب کاموں کیلئے آپ کو درکار ہے تیز ترین کنیکٹیویٹی تو اس کیلئے 5G انٹرنیٹ، اور ان سارے پراسیسز سے ملنے والی معلومات کا مستقبل کی پالیسی سازی میں فائدہ اٹھانے کیلئے بزنس انٹیلیجنس، ڈیزائن انٹیلیجنس۔ اب یہ سب کچھ انٹرنیٹ پہ چل رہا تو اسے محفوظ بنانے کیلئے سائبر سکیورٹی۔ اور اس سارے عمل کو پر لگانے کیلئے دو تین سال میں اس مسکچر میں کوانٹم کمپیوٹنگ بھی پوری طرح شامل ہو جائے گی۔ 

غرضیکہ انڈسٹری 4.0 آپ یوں کہہ لیں کہ تمام ایمرجنگ ٹیکنالوجیز کا باہمی اشتراک ہے۔ سوائے ویب تھری یا بلاک چین کے۔ اسی لئے میں اسے زیادہ اہمیت نہیں دیتا۔ 

یہاں ایک اور پوائنٹ ذہن میں رکھیں کہ انڈسٹری 4.0 میں زراعت بھی شامل ہے۔ ہم لوگ عموماً صنعت اور زراعت کو مختلف بلکہ متضاد سمجھتے ہیں۔ دنیا نے عرصہ ہوا ایسا سمجھنا چھوڑ دیا۔ 

تو اب آپ اندازہ کر سکتے ہیں کہ انڈسٹری 4.0 کے نالائق طالب علموں کو روزانہ کیا کچھ پڑھنے، سننے اور سمجھنے کو ملتا ہوگا۔ دماغ ماؤف ہونے لگتا ہے اور بندہ باؤلا سا ہو جاتا ہے، یہ سوچ کر کہ اگلے آٹھ دس برسوں میں دنیا کیا سے کیا ہو جائے گی۔ 

خیر، اب دنیا سے واپس مملکت خداداد میں آتے ہیں۔

 ہماری زراعت میں آٹومیشن بمشکل دس فیصد کے قریب ہو گی، زیادہ سے زیادہ۔ 

جو ہماری لیڈنگ انڈسٹریز ہیں۔ ٹیکسٹائل، فارماسیوٹیکل، آٹو اسمبلنگ، لیدر، سرجیکل اینڈ سپورٹس، شوگر اینڈ فلور انڈسٹری۔ ان میں آٹومیشن تیس سے چالیس فیصد ہے۔ انڈسٹری 4.0 کے نقطہ نظر سے یہ بہت سادہ سی انڈسٹریز ہیں اور ان میں نوے پچانوے فیصد پراسیسز کی آٹومیشن ممکن ہے۔ 

ہم سو فیصد آٹومیشن کی طرف کیوں نہیں جا رہے؟ 

بہت سی وجوہات میں سے یہ دو بڑی وجہ ہیں۔ 

1-   ہمیں لیبر بہت سستی پڑتی ہے۔
2- ہمیں ٹیکنالوجی بہت مہنگی پڑتی ہے۔ 

لیبر سستی اور ٹیکنالوجی مہنگی ہونے کی وجوہات کو چھوڑتے ہوئے، آپ یوں سمجھ لیں کہ ہم نے اپنی زراعت اور صنعت میں سٹیٹس کو برقرار رکھا ہوا ہے۔ 

اس سٹیٹس کو کا فائدہ یہ ہے کہ ہماری ورک فورس کا بڑا حصہ ان سکلڈ یا سیمی سکلڈ ہے۔ اسے ہم نے کسی نہ کسی طرح کام پہ لگایا ہوا ہے۔ 

اس کا نقصان یہ ہے کہ ہم بڑی تیزی سے دنیا سے مقابلہ کرنے کی استعداد کھو رہے ہیں۔ 

آٹومیشن ایک ناگزیر حقیقت ہے۔ ہمارے انڈسٹریلسٹس زیادہ دیر اس سے دور نہیں رہ پائیں گے۔ مسابقت برقرار رکھنے کے علاوہ اس کی دو بڑی وجوہات ہیں۔ 

1- لیبر روز بروز مہنگی ہوتی جا رہی ہے۔ 
2- ٹیکنالوجی دن بدن سستی ہوتی جا رہی ہے۔ 

لیبر مہنگی اور ٹیکنالوجی سستی ہوتے چلے جانے کی بھی کئی وجوہات ہیں۔ فیسبک کے مضمون میں بندہ کیا کچھ گھسیڑے، انہیں بھی جانے دیجئے۔ 

اب آ جائیں آٹو میشن کے ممکنہ نتائج کی جانب۔ 

اگر ہم اپنی زراعت اور صنعت کو کم از کم اپنی ضروریات پوری کرنے کے قابل ہی بنائے رکھنا ہچاہتے ہیں تو اس کیلئے آٹو میشن ناگزیر ہے۔ 

دوسری طرف آٹومیشن ہماری ورک فورس سے اس کا روزگار چھین لے گی۔ کسی نہ کسی سطح پر یہ پراسیس شروع ہو چکا۔ آنے والے برسوں میں یہ عروج پر پہنچ جائے گا۔ 

سان ٹیاگو اے آئی کے ان ایکسپرٹس میں سے ہیں جنہیں میں فالو کرتا ہوں۔ ان کا کہنا ہے کہ 2025 تک اے آئی دنیا سے 85 ملین یا ساڑھے آٹھ کروڑ نوکریوں کا خاتمہ کر دے گی۔ حوصلہ افزا بات یہ ہے کہ 2025 تک ہی اے آئی سے ریلیٹڈ 97 ملین یعنی نوکروڑ ستر لاکھ روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔ 

کہنے کا مقصد یہ کہ ٹیکنالوجی جہاں بہت سی فرسودہ اور سادہ نوکریوں کو ختم کرتی جا رہی ہے وہیں نت نئی فیلڈز، نت نئے جہاں، اور نت نئے امکانات کے دروازے بھی کھولتی چلی جا رہی ہے۔ 

گلوبل ویلج میں یہ نئے جہاں، امکان اور مواقع ہر ملک کی یکساں رسائی میں ہیں۔ جو زیادہ فائدہ اٹھا لے۔ 

پاکستان کے پاس بھی بے شمار مواقع ہیں۔ اپنی نئی نسل کو ہم ضائع ہونے سے بچا سکتے ہیں۔ انہیں دنیا میں اپنا اصل مقام حاصل کرنے کے قابل بنا سکتے ہیں۔ ان کیلئے روزگار کے لامتناہی مواقع پیدا کر سکتے ہیں۔ 

لیکن مواقع جتنے بڑے ہیں، ان سے فائدہ اٹھانے کا وقت اتنی ہی تیزی سے کم ہوتا جا رہا ہے۔ میرا خیال ہے کہ ہمارے پاس صرف سات آٹھ برس کی ٹائم ونڈو بچی ہے۔ ان سات آٹھ برسوں میں ہمیں انسان کا بچہ بننے کی ضرورت ہے۔ ٹیکنالوجی کے حوالے سے کچھ لانگ ٹرم پالیسیاں بنانے اور نوجوانوں کو بہت بڑے پیمانے پر تربیت مہیا کرنے کی ضرورت ہے۔ 

اور یہ ایک آدھ انسٹیٹیوٹ یا ڈیجی سکلز جیسے ایک آدھ آن لائن پلیٹ فارم کے بس کی بات نہیں ہے۔ ہمیں اپنے پورے تعلیمی ڈھانچے کو استعمال کرنا ہوگا۔   

ہم عربوں کو لعنت ملامت کرتے تھے کہ یہ اپنے وسائل سائنس اور ٹیکنالوجی پہ صرف نہیں کرتے۔ پچھلے دس بارہ برس میں انہوں نے یہ گلہ کافی حد تک دور کر دیا ہے۔ خصوصاً قطر، یو اے ای اور سعودی عرب میں جدید ٹیکنالوجیز کے فروغ اور نئی نسل کو ان سے ہم آہنگ کرنے کے ضمن میں بہت کام ہو رہا ہے۔ 

ترکی، ملائشیا اور بنگلہ دیش غیرعرب مسلم ممالک میں ٹیکنالوجی کو ایڈاپٹ کرنے والے نمایاں ملک ہیں۔ 

بھارت میں سنٹرل بورڈ آف سیکنڈری ایجوکیشن کروڑوں بچوں کی تعلیم کا ذمہ دار ہے۔ انہوں نے سال ڈیڑھ سال کی محنت اور مائکروسافٹ کے تعاون سے بچوں کیلئے مشین لرننگ کا سلیبس تیار کیا ہے۔ 

یہ چھٹی سے بارہویں جماعت کے طالب علموں کیلئے ترتیب دیا گیا ہے۔ اور یہ بتدریج آسان سے مشکل تر ہوتا چلا جاتا ہے۔ مقصد یہ ہے کہ جو بچہ پانچ سال اسے پڑھ کر نکلے وہ مشین لرننگ کے میدان میں انٹری لیول کی جاب حاصل کرنے کے قابل ہو۔

اسے بچوں پر جبری مسلط کرنے کی بجائے اس کی ویب سائٹ بنا دی گئی ہے۔ جس پر بھارت کے کسی بھی سکول کا طالب علم نام، رول نمبر، کلاس اور سکول کے نام سے خود کو رجسٹرڈ کروا سکتا ہے۔ پچھلے سال جب اسے لانچ کیا گیا تو میں نے پڑھا تھا کہ پندرہ لاکھ بچوں نے داخلہ لے لیا۔ 

آپ تصور کر لیں کہ پانچ سال بعد انڈیا کا سکول سسٹم ہر سال پندرہ بیس لاکھ بچے ایسے نکال رہا ہوگا جو اس وقت کے سب سے ان ڈیمانڈ پروفیشن میں فوری جاب حاصل کرنے کے اہل ہوں گے۔ 

کیا ہم اس وقت بھی بچے کو بارہ پڑھا کر سر جوڑ کر سوچ رہے ہوں گے کہ اب اسے کہاں داخل کروایا جائے؟ 

مطلب اس کے مقابلے میں آپ دیکھیں کہ ہمارا سب سے بڑا صوبہ ستر ہزار عربی اساتذہ بھرتی کرنے کے چکر میں ہے تاکہ پیدائشی مسلمانوں کو مزید مسلمان بنایا جا سکے۔ اس سے کیا ہوگا؟ 

اور اگر یہی کرنا ہے تو ستر ہزار بندے  بھرتی کرنے کی بجائے ستر لاکھ لگا کر ایک اچھی سی ویب سائٹ بنا دیں جس پر پاکستان کے بہترین عربی دان قرآن فہمی اور عربی کی تعلیم دیں۔ سکول کے بچوں کیلئے یہ لازمی اور مفت کر دیں۔ باقی جو چاہے ایک مناسب فیس دے کر اس سے استفادہ کر سکے۔ ہم بڈھے طوطے بھی ہو سکتا ہے عربی سیکھ لیں۔ حکومت ہر ماہ کروڑوں تنخواہ پر خرچ کرنے کی بجائے لاکھوں کمانے لگ جائے۔

مطلب ایک بیکار کام ہی کرنا ہے تو وہ بھی ڈھنگ سے کیا جا سکتا ہے۔ 

لیکن یہ ٹامک ٹوئیاں مارنے کی بجائے سائنس اور ٹیکنالوجی پہ توجہ دیں تو ہم پہ احسان ہوگا۔ 

ٹارگٹ یہ ہونا چاہیے کہ اگلے پانچ برس میں ہم نے پچاس لاکھ پاکستانی نوجوانوں کو ان ایمرجنگ ٹیکنالوجیز میں ہنرمند بنانا ہے۔ اس میں ترجیح دیہی اور پسماندہ علاقوں کے نوجوانوں کو دینی ہے۔ 

حکومت نیت کرے، وسائل اور راہیں خود کھلتی چلی جائیں گی۔