انقلاب زندہ باد
صرف انقلاب ہی معاشرے سے برائیوں کو ختم کر سکتا ہے، آئیں ہم سب ملکر اپنے اندر خود احتسابی کا انقلاب برپا کریں۔ جو بات کہتا ہوں بڑی بے حجاب کہتا ہوں اسی لیئے تو زندگی کو انقلاب کہتا ہوں
Tuesday, 27 October 2026
چوہدری اور منطق
Friday, 15 August 2025
زبانیں نسلوں کا پتا دیتی ہیں
کاپی شدہ فیس بک:
*بشیرا مراثی اور معاشرتی المیہ*
کہتے ہیں کے بشیرا نام کا ایک میراثی اپنے گاؤں اور میراثی فیملی کو چھوڑ کے شہر آ گیا ۔ کام پیدائش سے ایک ہی کرتا چلا آیا تھا۔ تو شہر میں بھی گلے میں ڈھول ڈالے، رنگین کپڑے پہنے ، لمبے بال دھمال کے انداز میں ہلاتے تابڑ توڑ ڈھول بجاتا پھرتا تھا ۔ جیسا کہ ہر کسی کا ایک دن آتا ہے تو اسے بھی ایک دن کسی میوزک ڈائریکٹر نے اپنے اسٹوڈیو میں بھرتی کر لیا۔ جہاں سے بشیرا ترقی کرتے کرتے پہلے اسسٹنٹ ڈائریکٹر بنا اور پھر اپنا الگ سٹوڈیو بنا کر میوزک ڈائریکٹر “استاد بشیر خاں” کے نام سے شہرت پائی۔
وقت گزرتا گیا۔ استاد بشیر کی دُھنیں عالمی سطح پر مقبول ہوئیں۔ فلموں میں استاد کا نام میوزک کی مد میں شامل ہونا کامیابی کی ضمانت ہوتا ۔ بات نگار ایوارڈ سے تمغۂ حسنِ کارکردگی تک پہنچی ۔ لالی سے بالی اور پھر ہالی تک کا سفر منٹوں میں طے ہوا ۔ آسکر کے لئے نامزدگی ہوئی ۔ امریکہ منتقلی اور پھر مستقل سکونت اختیار کی۔ گوری میم سے شادی ہوئی ۔ ڈاکٹریٹ کی اعزازی سند آکسفورڈ نے عطا کی ۔ میلوں ، نمائشوں کے فیتے کٹوائے گئے۔ فراری میں ڈرافٹنگ اور فائیو اسٹار ہوٹلوں کے سوئمنگ پول میں ڈبکیاں لگیں ۔ دنیا کے سفر اور پذیرائی ملی ۔ برطانیہ میں مشرق کی آواز ، جاپان میں مہاتما بودھ کا پرتو اور افغانستان میں واجب القتل قرار دیا گیا۔ کیسینو میں لاکھوں کی شرطیں لگیں اور بیگ سے ڈرگز برآمد ہوئی۔ کپڑوں کا ایک انٹرنیشنل برانڈ متعارف کرایا۔ “چودھری بشیر اینڈ سنز” کے نام سے سپر اسٹورز کی ایک چین بھی بنائی۔
پچاس سال گزر گئے ۔ چوہدری بشیر کے گٹھنے سیڑھیاں چڑھتے کٹک کٹک کرنے لگے۔ گوری میم بھی “ٹائی ٹینک” میں “بلیو ہارٹ” سمندر بُرد کرنے والی بُڈھی جیسی ہو گئی۔ اب چوہدری صاحب کو خدا یاد آیا ۔ حج کیا، برف جیسی سفید داڑھی چھوڑی، پانچ وقت نماز شروع کی ۔ وطن واپس آئے، انسانیت کی خدمت کے لئے ٹرسٹ قائم کیا ۔ وعظ و نصیحت کی، رمضان ٹرانسمین میں غریبوں کے گردے کے آپریشن کرانے ۔ اپنے گاؤں میں بقیہ زندگی گزارنے کا فیصلہ کیا ۔ گاؤں میں حویلی تعمیر کی، کنواں کھدوایا، اسکول بنوایا، اپنے ماں باپ کی قبر پر مقبرہ اور “استاد حاجی رشید خاں مرحوم” اور “حجن بی بی اللّٰہ بچائی خاتون مرحومہ” کا کتبہ آویزاں کیا ۔ مسجد و مدرسے کی تعمیر کی اور حویلی میں آخری ایام یادِ الٰہی میں گزارنے لگے۔
تو صاحبو! گاؤں میں چوہدری بشیر خاں کی عزت و احترام اور رعب و دبدبے کا یہ عالم کہ جہاں سے وہ کلف لگے سوٹ اور اونچے شملے کی پگڑی میں ملبوس گزرتے، لوگ 'سلام چوہدری صاحب' کہہ کر جھکتے ۔ اہم مسائل کے فیصلے چوہدری صاحب کی حویلی کے صحن میں سنائے جاتے ۔ غریبوں کا علاج ہو کہ بچیوں کی شادی ، اسکول کی تقسیمِ اسناد ہو یا الیکشن مہم، چوہدری صاحب کی شرکت کے بغیر سب ادھورا تھا ۔
پھر ایک روز چوہدری صاحب کی خوبرو پوتی ان سے ملنے امریکہ سے گاؤں آئی ۔ پہلی بار گاؤں کا ماحول اور کلچر دیکھا، اچھا لگا، چند دن رہنے کا فیصلہ کیا۔ گاؤں سے باہر کار میں گھومنے نکلی، ایک پراڈو سے گاڑی کا معمولی سا ایکسیڈنٹ ہوا۔ پراڈو سوار سے بحث، تعارف ، دوستی اور پھر محبت ہوئی ۔ بات شادی تک پہنچی ۔ چوہدری صاحب لڑکے کے باپ سے ملے، حسب نسب پوچھا، جواب ملا چوہدری فرزند علی نام ہے ۔ پڑوس کے گاؤں میں جاگیر ہے، پیسے کی ریل پیل ہے، اچھا اور بااثر خاندان ہے ۔ چوہدری صاحب نے فیصلہ بچوں پر چھوڑ دیا ۔ بقیہ خاندان بھی گاؤں آیا ۔ نکاح کی تاریخ طے ہو گئی ۔ حویلی سجا دی گئی۔
شادی کی محفل تھی ۔ بارات پہنچی ۔ پتا چلا کہ لڑکی کے دادا شہر سے آئے ہیں ۔ چوہدری صاحب کی نشست کے برابر میں لڑکی کے دادا براجمان ہوئے ۔ تعارف ہوا، کچھ آنکھیں چار ہوئیں، کچھ یادداشت کھنگالی گئی، آخر کار ایک دوسرے کو پہچان لیا گیا ۔ پرانی شناسائی نکلی ۔ “اوئے بشیرے کنجر! تو کاہے کا چوہدری” سوال ہوا ۔ “اوئے بوٹے مسیح ! مسلی تو کب مسلمان ہوا؟” کا جواب ملا ۔ تلخ کلامی ہوئی “اوئے لعنتی دی اولاد”اوئے میراثیاں دا ٹولہ” ، “اوئے بلی، کتے کھان والیو” ۔ “اوئے دلیو، شیدے ، ناجیز اولادو” ، ”اوئے سورا” ۔۔۔ شرکاء حیرت سے دیکھ رہے تھے ۔ گالیاں ایسی تھیں کہ لوگوں کے وضو ٹوٹ جائیں ۔ لوگ کانوں کو ہاتھ لگاتے واپس جا رہے تھے ۔
اونچے شملے تھے، کلف لگے سوٹ تھے، دولت تھی، عزت تھی، سوشل ورک تھا، اعزازی ڈگری تھی ۔۔۔ پر زبان بازاری تھی ۔ ماؤں کے بچے چھوڑ کے آشناؤں کے ساتھ بھاگ جانے کے قصے تھے ۔ ناجائز تعلقات کی داستانیں تھیں ۔ بشیرے میراثی کو چوہدری بشیر خاں بننے میں گو پچاس برس لگے ہوں، واپسی پانچ منٹ میں ہوئی تھی ۔ سب کو سبق مل گیا تھا کہ زمان و مکاں کی تبدیلی ہو یا پوزیشن و لباس کی ۔ اسے ایوان اقتدار پر براجمان کیا جائے یا عطر میں بسا کر منبر و محراب کا ٹھیکہ دار بنا دیا جائے، انسان کی اصل کبھی تبدیل نہیں ہوتی اور منہ کھولتے ہی اوقات کا پتا چل جاتا ہے۔
Monday, 19 February 2024
پرانی یاد 1995
1995 پرانی یاد
افغانستان واپسی پہ ایک چیک پوسٹ پہ کمانڈر صاب نے بہت اسرار کر کے رات ٹھہرنے کو کہا، دوران قیام کھانے کے بعد خوش گپیوں کے دوران کمانڈر صاب سے پوچھ لیا جناب، کیا وجہ ہے کہ ہر جگہ ہی چیک پوسٹ اور اطراف میں پتھروں اور درختوں کو سفید چونا لگایا جاتا ہے ۔
کمانڈر صاب زور سے ہنسے اور بولے دراصل دوران تربیت یہ خاص سبق ہے جو ہم یاد کرتے ہیں۔۔۔۔
ہر چلتی چیز کو سلوٹ ٹھوکنا ہے
اور ہر گھڑی چیز کو چونا لگانا ہے
“
“
“
“آج یاد آیا کہ پاکستان بھی تو ستر سال میں وہیں کا وہیں کھڑا ہے”
Saturday, 23 December 2023
آپ ہمارا فخر تھے:
آپ ہمارا فخر تھے:
آپ نے بغض عمران خان میں،
نصاب میں قرآن و سنت کی تعلیم پہ حملہ کیا،
غریبوں سے انکا کھانا چھینا،
پناگاہیں چھینیں،
صحت کارڈ پروگرام کو خراب کیا ،
آپ نے سیاسی و غیر سیاسی عام عوام کو جھوٹے مقدمات بنا بنا کر ذلیل و خوار کیا ،
آپ کے ظلم کی وجہ سے لوگوں کے معصوم بے گناہ بچے موت کی آغوش میں چلے گئے ،
آپ نے ذاتی زندگیوں پہ کیچڑ اچھالا ،
گندی غلیظ ویڈیوز سے لیکر گندی غلیظ کتابیں چھپوا دیں،
جہاں دوسرے ممالک اپنی افرادی قوت کو ملکی ترقی کے لئے استعمال کرتے ہیں آپ اپنے ملک کے نوجوانوں کو ذلیل ہونے کے لئے باہر بھیج کر فخر محسوس کر رہے ہیں
آپ نے آن لائن جلسہ کو ثبوتاژکرنے کے لئے انٹرنیٹ سروس تک بند کر کے دیکھ لیا
آپ الیکشن کے اہل لوگوں سے کاغذات نامزدگی چھیننا شروع ہو گئے
دنیا آپ پر ہنس رہی ہے ،
آپ اپنے بلوچیوں کو مار رہے ہیں کہ جن کی داد رسی کی ذمہ داری ریاست کی ہے، آپ نے خود کو مقدس گائے کا درجہ دے دیا ہے کہ آپ سے کوئی سوال نہیں پوچھ سکتا۔۔۔۔۔
لیکن آپ جناب !!!
آپ ہمیں فخر دلاتے تھے کہ ہم ایٹمی سوپر پاور ہیں، جناب آپ کی پالیسی اور پوزیشن بلکل واضح ہو گئی جس وقت مظلوم فلسطینیوں پہ ظالم اوربربریت کے پہاڑے توڑے جارہے تھے آپ امریکہ میں دورے فرما رہے تھے آپ سے تو ایک بیان بھی نا دیا گیا
یہاں تک کہ فلسطینی قیادت نے درخواست تک کی تھی کہ پاکستان صرف ان کے حق کے لئے عالمی سطح پہ آواز اٹھائے۔ لیکن آپ نے فراموش کیا سب کچھ!!!!
جناب آپ طاقتور نہیں آپ بزدل اور ڈرے ہوئے ہیں،
اپنے ہی لوگوں سے اپنی ہے عوام سے جس کے اندھے پیار کا ناجائز فائدہ آپ پچھلے ستر سالوں سے اٹھا رہے تھے۔
آپ نے ہمیں پچھلے بیس سالوں سے کہتے رہے کہ پاکستانی نوجوانوں کو ففتھ جنریشن وار کے لئے دشمن سے مقابلہ کے لئے تیار رہنا ہے ، اور جب وہی نوجوان آپ سے سوال کرنے لگے تو آپ نے انکو کئی بورڈ
وارئیر اور غداری کے تمغات سے نوازنا شروع کر دیا۔
بہت کچھ اور بھی ہے کہے کو لیکن !!!!!! آپ کی انا کا مسئلہ جو ہے !!!!
ازخود راشد: قلم ناتواں 22 Dec 2023
Saturday, 28 October 2023
پاکستانی دولے شاہ دے چوہے
پاکستانی دولے شاہ دے چوہے
دولے شاہ کے چوہوں بارے کہا جاتا ہے کہ یہ بچے پیدائشی چھوٹے دماغ اور چھوٹے سر کی وجہ سے سائیں ہوتے ہیں اللہ والے ہوتے ہیں اور لوگوں کو اُنکی دعایں لگتی ہیں
حالانکہ حقیقت اس کے برعکس ہے ،
دولے شاہ کا ایک پورا منظم نیٹ ورک ہے جو باقاعدہ ان بچوں کے سر پہ لوہے کی ٹوپیاں پہنا کر رکھتے ہیں تاکہ جسمانی افزائش کے ساتھ ان کے سر اور دماغ چھوٹے رہیں اور ان کے زریعے سے کاروبار چلتا رہے چاہے مانگنے کا کام ہو یا دم درود کے زریعے لوگوں کو بیوقوف بنا کر پیسے بٹورنے ہوں۔
تو کل ملا کر بات یہئ ہے کہ ہم پاکستانی کسی حد تک دولے شاہ کے وہ چوہے ہیں جن سے دعاووں اور مانگنے کا کام پچھلے لگ بھگ چوہتر سال سے لیا جاتا ہے ، لوہے کی ٹوپیاں نسل در نسل ہمارے سروں پہ پہنا کر ہمارے دماغوں کو محدود کیا گیا ہے :
جیسے کہ دولے شاہ سرکار موتیاں والے کرامتاں والے!!!!
٭جب چاہیں ہمیں سیلاب میں ڈبو کر ہماری ابتر حالت اقوام عالم کو دکھا کر پیسا وصول کر سکیں
٭ یا پھر ، ہمیں ڈالرز کے عوض گوانتاموبے بیچ دیں
٭ یا پھر ہمیں گناہ گار بدکار غدار دھشت گرد ، کچھ بھی ثابت کر کے ہمیں گولیاں مار دیں
جب کہ اقوام عالم میں ہم بڑے پہنچے ہوئے ہیں کہ جن سے
کشمیر تا فلسطین شجاعت جرآت اور پتا نہیں کس کس ان دیکھی نمبر ون طاقتوں کے معجزوں کی توقع کیے مظلوم لوگ ہیں۔
لیکن کیا بتائیں کہ ہم تو
دولے شاہ کے وہ چوہے ہیں جو اپنے لئے کچھ سوچ نہیں سکتے جن کے اپنے دماغ چھوٹے رہ چکے ہیں، کسی کے لئے کیا کریں گے ، ہم خود دولے شاہ سرکار کے مکمل قبضے اور تسلط میں نسلوں سے محکوم ہیں۔
28 October 2023
ازخود : راشد
قلم ناتواں
#پاکستان #followers
