Monday, 25 March 2013

♥-♥-♥-♥-♥ راز بدل ڈالو ♥-♥-♥-♥-♥

تسکین نا ہو جس سے
 وہ راز بدل ڈالو
جو راز نا رکھ پائے،
 ہمراز بدل ڈالو
تم نے بھی سنی ہو گی
 بڑی عام کہاوت ہے
انجام کا ہو خطرہ ،
 آغاز بدل ڈالو
پر سوز دلوں کو جو
 مسکان نا دے پائے
سر ہی نا ملے جس میں
 وہ ساز بدل ڈالو
دشمن کے ارادوں کو
 ہے ظاہر اگر کرنا
تم کھیل وہی کھیلو،
 انداز بدل ڈالو
اے دوست کرو ہمت
کچھ دور سویرا ہے
اگر چاہتے ہو منزل
 تو پرواز بدل ڈالو

Saturday, 9 March 2013

نسلوں کی موت:::::::::از راشد ادریس رانا

 
 
ایک سنہرے دن کا آغاز، جو زندہ رہنے کے کئی ارمان لیئے طلوع ہوا. وہ جلدی جلدی آفس کے لیئے تیار ہوا اور اپنے ننھے سے شہزادے کو لے کر اس کے سکول کی طرف روانہ ہوا، جب سے ننھے شہریار نے سکول جانا شروع کیا تب سے وہ اور اس کی بیوی بہت خوش تھے. مستقبل کے جھلمل کرتے خواب اور اپنے بیٹے کو ایک کامیاب انسان بنانے کی آرزوئیں ہر روز ان میں ایک نیا جوش اور ولولہ پیدا کرتی تھیں.
سارا دن وہ آفس میں مصروف تھا لیکن جیسے ہی گھڑی نے 12:30 کا الارم بجایا وہ سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر بھاگتا ہوا باہر آیا اپنا موٹر سائیکل سٹارٹ کیا اور ننھے شہریار کے سکول کی جانب رواں دواں ہوا، چند ہی منٹ کے بعد وہ اپنے اکلوتے اور پیارے ، لاڈلے شہزادے کو اپنے ساتھ موٹر سائیکل پر لیئے روانہ ہوا. مصروف شاہراہ کوچھوڑ کر جیسے ہی اس نے اندرونی راستہ پر موٹر سائیکل موڑا اور سپیڈ تھوڑی تیز کی اچانک اس کو اپنے ہاتھ پر کچھ محسوس ہوا اور اس سے پہلے کہ وہ کچھ سمجھ پاتا اس کو اپنے ہاتھ پر کٹنے کا احساس ہوا اور موٹر سائکل کی بریک لگاتے لگاتے اچانک اس ننھا شہریار ایک طرف لڑھک سا گیا.....
اس نے جلدی سے موٹر سائکل روکی لیکن بہت دیر ہو چکی تھی "موت کا دھاگہ" اپنا کام کر چکا تھا، بے رحم شوق نے ایک ننھے بچے کی گردن کاٹ دی تھی. اس نے اپنے لال کو اپنی گود میں لیا تو اس کا گلا کٹا ہوا تھا اور ڈور اس کے نرخرے میں پیوست تھی، بچہ ڈھیلا پڑ چکا تھا، لوگوں کا ایک جم غفیر ایک دم اکھٹا ہوا، وہ دیوانوں کی طرح چیخ رہا تھا چلا رہا تھا، موٹر سائیکل ایک طرف گری پڑی تھی، اچانک جیسے اس کو زور کا جھٹکا لگا اور وہ اپنے ننھے لال کو لیکر دیوانوں کی طرح سڑک پر بھاگا، کئی لوگ اس کے ساتھ ساتھ تھے اچانک ایک گاڑی والے نے گاڑی روکی اور لوگوں نے اس کو بچے سمیت گاڑی میں ڈال کر ہسپتال روانہ کیا.....
جہاں چند منٹ کے بعد ہی ڈاکٹر نے معذرت کرتے ہوئے کہا "سوری تیز دھار ڈور سے بچے کی شہہ رگ ایسی کٹی ہے کہ وہ ہسپتال پہنچنے سے پہلے ہی اپنے خالق سے جال ملا" اب کچھ نہیں ہو سکتا..... دیر ہو گئی ...

وہ دیوانوں کی طرح اپنے ننھے پھول کو بے جان پڑا دیکھ رہا تھا.....
میرا آپ سب سے سوال ہے کیا کوئی بتا سکتا ہے کہ چند روپوں کے منافع کی خاطر جو موت کے سوداگر یہ کام کرتے ہیں ان کے کاروبار کو کون پھیلاتا اور پروان چڑھاتا ہے . جی ہاں میں اور آپ ،،،،،،،ہم ہی وہ لوگ ہیں جو ناصرف اپنے بچوں کی اس گندے کھیل کو کھیلنے دیتے ہیں بلکہ ایسے لوگ جو یہ دھندا کرتے ہیں ان کو نا روک اور ان کے خلاف آواز نا اٹھا کر ان کو سپورٹ کرتے ہیں. ایسے کتنے بے گناہوں کا خون ہمارے ہاتھوں پر ہے جس ایک روز ہم سب کو جواب دینا پڑے گا. سوچیں اگر اس ننھی جان کی جگہ میرا یا آپ کا بچہ ہوتا تو ہم پر کیا گزرتی؟
 
(مصنف: راشد ادریس رانا- ابو ظہبی ، یو اے ای)
ایک خیالی لیکن حقیقت لیئے ہوئے تحریر جو ہم سب کے لیئے ایک سوال ہے.

Monday, 4 March 2013

کچھ یوں ہوا:: شاعر :: راشد ادریس رانا:: 04-03-2013

کچھ یوں ہوا
کہ آنکھ میں
آنسو ہی تھم گئے
کچھ یوں ہوا

کہ ہر روز
بڑھ میرے غم گئے
کچھ یوں‌ہوا
کہ دل کو
تسلی نا مل سکی
کچھ یوں ہوا
کہ سانس
بھی اپنی نا بن سکی
کچھ یوں ہوا
کہ ضبط کا
موسم بدل گیا
کچھ یوں ہوا
کہ وصل بھی
جانے کدھر گیا
کچھ یوں ہوا
بہار کو
فصل کھا گئی
کچھ یوں ہوا
ناجانے رنگ
کس چمن گئے
کچھ یوں ہوا
کہ مجھ سے
مرئے زخم چھن گئے
کچھ یوں ہوا
کہ ہاتھ بھی
خالی ہی رہ گئے
کچھ یوں ہوا
کہ زخم
گلالی ہی رہ گئے
کچھ یوں ہوا
کہ قاتل
بے نام بن گیا
کچھ یوں ہوا
کہ مر کے
میرا کام بن گیا.....
 
شاعر: راشد ادریس رانا "دکھ، دریا، زندگی" سے انتخاب

Sunday, 3 March 2013

جب بھی روٹھا:::::::03.03.2013

شاعر: راشد ادریس رانا
"اداسیاں" سے اقتباس
 03.03.2013
 
جب بھی روٹھا
ہے وہ مجھ سے
اپنی ہاتھوں کی
لکیروں میں
بہت کریدہ
بہت تلاشا
بہت کھنگالا،
کچھ نا پایا،
کچھ نا سمجھا،
کچھ نا جانا،
کچھ نا سوجھا،
 
پھر اپنے دل کو
خود ہی سمجھایا
اپنے بند کمرے
میں لوٹ کےآیا
کھولی کھڑکی
اور خالی نظر کو
اوپر نیلے افق پر
دور دوڑایا
 
دور کہیں پر ایک پرندہ،
تیز ہوا سے
جانے کتنی دیرسے پاگل
لڑتا لڑتا
تھک سا گیا تھا
 
میں نے سوچا،
مجھ میں اس میں
کیا فرق ہے باقی
میں بھی لڑتے لڑتے
اک دن تھک جاوں گا،
اور نا پھر واپس آوں گا......
 
پھر بھی مجھ سے روٹھ ہے جاتا
کاش کوئی اس کو سمجھاتا....

اس کے نام کہ جس کا نام ہوا میری حیات J-e-R

 
 
J-e-R ♥.♥.♥  اس کے نام کہ جس کا نام ہوا میری حیات
 
ہجر کرتے یا کوئی وصل گوارا کرتے
ہم بہرحال بسر خواب تمھارا کرتے
ایک ایسی بھی گھڑی عشق میں آئی تھی کہ ہم
خاک کو ہاتھ لگاتے تو ستارہ کرتے
اب تو مل جاؤ ہمیں تم کہ تمھاری خاطر
اتنی دُور آگئے دُنیا سے کنارہ کرتے
محوِ آرائشِ رُخ ہے وہ قیامت سرِ بام
آنکھ اگر آئینہ ہوتی تو نظارہ کرتے
ایک چہرے میں تو ممکن نہیں اتنے چہرے
کس سے کرتے جو کوئی عشق دوبارہ کرتے
جب ہے یہ خانۂ دل آپ کی خلوت کے لئے
پھر کوئی آئے یہاں کیسے گوارا کرتے
کون رکھتا ہے اندھیرے میں دیا، آنکھ میں خواب
تیری جانب ہی ترے لوگ اشارہ کرتے
ظرفِ آئینہ کہاں اور ترا حُسن کہاں
ہم ترے چہرے سے آئینہ سنوارا کرتے

:::::Poet:::::
عبید اللہ علیمؔ
thanks Blog رعنائیِ خیال

Saturday, 2 March 2013

✿✿✿✿جگہ جی لگانےکی دنیا نہیں ہے✿✿✿✿

جگہ جی لگانےکی دنیا نہیں ہے
یہ عبرت کی جاہے تماشہ نہیں ہے

جہاں میں ہیں عبرت کے ہر سو نمونے
مگر تجھ کو اندھا کیا رنگ و بو نے
کبھی غور سے بھی یہ دیکھا ہے تو نے
جو معمور تھے وہ محل اب ہیں سونے

جگہ جی لگانےکی دنیا نہیں ہے
یہ عبرت کی جاہے تماشہ نہیں ہے

ملے خاک میں اہلِ شاں کیسے کیسے
مکیں ہو گئے لُو مکاں کیسے کیسے
ہوے نامور بے نشاں کیسے کیسے
زمیں کھا گئ نوجواں کیسے کیسے

جگہ جی لگانےکی دنیا نہیں ہے
یہ عبرت کی جا ہے تماشہ نہیں ہے

زمیں کے ہوے لوگ پیوند کیا کیا
ملکِ و حضوُر و خداوند کیا کیا
دکھاے گا تو چند روز کیا کیا
اجل نے پچھاڑے تنومندکیاکیا

جگہ جی لگانےکی یہ دنیا نہیں ہے
یہ عبرت کی جاں ہے تماشہ نہیں ہے

اجل نے نہ کسراہی چھوڑا نہ دارا
اسی سے سکندر سا فاتح بھی ہارا
ہر اک چھوڑ کیا کیا حسرت سدھارا
پڑا رہ گیا سب یہں ٹھاٹ سارا

جگہ جی لگانےکی دنیا نہیں ہے
یہ عبرت کی جا ہے تماشہ نہیں ہے

تجھے پہلے بچپن نے برسوں کھلایا
جوانی نے پھر تجھکو مجنوں بنایا
بڑھاپے نے پھر آکے کیا کیا ستایا
اجل تیرا کر دے گی بالکل صفایا

یہی تجھ کو ُدھن ہے رہوں سب سے بالا
ہو زینت نرالئ ہو فیشن نرالا
جیا کرتا ہے کیا یونہئ مرنے والا
تجھے حسنِ ظاہر نے دھوکے میں ڈالا

وہ ہے عیش و عشرت کا کوئی مہر بھی
جہاں تاک میں کھڑی ھو اجل بھی
بس اب اس جہالت سے تو نکل بھی
یہ طرزِ معیشت اب اپنا بدل بھی

جگہ جی لگانےکی دنیا نہیں ہے
یہ عبرت کی جا ہے تماشہ نہیں ہے

یہ دنیاے فانی ہے محبوب تجھکو
ہوی واہ کیا چیز مرغوب تجھکو
نہیں عقل اتنی بھی مجزوب تجھکو
سمجھ لینا اب چاہیے خوب تجھکو

جگہ جی لگانےکی دنیا نہیں ہے
یہ عبرت کی جا ہے تماشہ نہیں ہے

بڑھاپے سے پا کر پیامِ قضا بھی
نا چونکہ چنانچہ سنبھلا زرا بھی
کوئی تیری غفلت کی ہے انتہاء بھی
جنوں چھوڑ کر اپنے ہوشوں میں آ بھی

جب اس بزم سے چل دیے دوست اکثر
اور اُٹھتے چلے جا رہے ھیں برابر
ہر وقت پیشِ نظر ہے یہ منظر
یہاں پہ تیرا دل بہلتا ہے کیونکر

جگہ جی لگانےکی دنیا نہیں ہے
یہ عبرت کی جا ہے تماشہ نہیں ہے

جہاں میں کہیں شورِ ماتم بپا ہے
کہیں فکروفاقہ سے آہ و بقا ہے
کہیں شکوہ جورومکرودغا ہے
غرض ہر طرف سے یہی بس سدا ہے

جگہ جی لگانےکی دنیا نہیں ہے
یہ عبرت کی جا ہے تماشہ نہیں ہے

کلام خواجہ عزیز الحسن مجذوب

~✿вℓσѕѕσм✿~