Showing posts with label Rana. Show all posts
Showing posts with label Rana. Show all posts

Wednesday, 9 March 2011

بچپن کے دن

بچپن کے دن کتنے اچھے ہوتے تھے
جب تو صرف کھلونے ٹوٹا کرتے تھے

وہ خوشیاں بھی کیسی خوشیاں تھی
تتلیوں کے پر نوچ کے، اچھلا کرتے تھے

اپنے جل جانے کا احساس تک نا تھا
آگ کے جلتے شعلے پکڑا کرتے تھے

پاووں مار کے خود بارش کے پانی میں
اپنی ناوو آپ ڈبویا کرتے تھے

اب تو اک آنسو بھی رسوا کر جاتا ہے
بچپن میں جی بھر کے رویا کرتے تھے

معصوم بچپن

چلو پھر ڈھونڈ لیتے ہیں،
اسی معصوم بچپن کو
انہی معصوم خوشیوں کو
انہی رنگین لمحوں کو
جہاں غم کا پتہ نا تھا
جہاں دکھ کی سمجھ نا تھی
جہاں صرف مسکراہٹ تھی
بہاریں ہی بہاریں تھیں
کہ! جب ساون برستا تھا
تو اس کاغذ کی کشتی کو
بنانا اور ڈبو دینا
بہت اچھا سا لگتا تھا
اور اس دنیا کا ہر چہرہ
بہت سچا سا لگتا تھا
چلو پھر ڈھونڈ لیتے ہیں
اسی معصوم بچپن کو۔