Wednesday, 13 April 2011

ریشم زلفوں ، نیلم آنکھوں والے اچھے لگتے ہیں

نہیں دیکھا

بچھڑا ہے جو اک بار

تو ملتے نہیں دیکھا

اس زخم کو ہم نے

کبھی سلتے نہیں دیکھا

اک بار جسے چاٹ گئی

دھوپ کی خواہش

پھر شاخ پہ اس پھول کو

کھلتے نہیں دیکھا

یک لخت گرا ہے تو

جڑیں تک نکل آئیں

جس پیڑ کو آندھی میں بھی

ہلتے نہیں دیکھا

کس طرح مری روح

ہری کر گیا آخر

وہ زہر جسے

جسم میں کھلتے نہیں دیکھا۔

شعر سخن


Tweet With Me!!!

Tuesday, 12 April 2011

چھوٹی سی خواہش

ساڈے جو ارادے تھے
کِڈے سدھے سادے تھے
ہم نے سوچ رکھا تھا
بن کے ایک دن ممبر
اکو کام کرنا ہے
ایک دو پلازوں کو
چار چھ پلاٹوں کو
پنچی تیہہ مربعوں کو
اپنے نام کرنا ہے
شکر اے خداوندا
تو نے اِس نمانے کی
نکی جنی خواہش کو
سن لیا ہے نیڑے سے

×××××بھیڑا لگتا ہے×××××

ہم کو ٹھنڈا مِٹھا پالا بھیڑا لگتا ہے
جیویں کپاہ میں کٹّا کالا بھیڑا لگتا ہے

سالم ٹانگہ کر کے بندہ اس کے گھر جب پہنچے
اگیوں بوہے پہ ہو تالا بھیڑا لگتا ہے

منڈے کھنڈے بے شک ہم کو چاچا تایا کہہ لیں
کڑی کہے جب ہم کو لالہ بھیڑا لگتا ہے

!!!کر چھڈي!!!!انہے واہ

چانس ملا تو چوري چوري کر چھڈي
موڈ ہوا تو دھکوزوري کر چھڈي
اس نے اپني نظر کے تيکھے ورمے سے
پتل ور گے دل ميں موري کر چھڈي
لچ لفنگ اليکٹ ہوا ہے انہے واہ
بيبا فير ريجيکٹ ہو ا ہے انہے واہ

سوئي ميں دھاگہ ڈالنے والي نوکري پہ
انہا ايک سليکٹ ہوا ہے انہے واہ
اوکھا ہويا ہم سے اکڑا کہہ کريے
ايسے گل پر ہوگيا جھگڑا کہہ کريے
جي کرتا ہے اوس رقيب کي گدڑ کٹ لگائيں
ليکن ہے وھ ہم سے تگڑا کہہ کريے