Saturday, 8 November 2014

لاٹ صاحب............ منتخب تحریر

لاٹ صاحب.......................ظفر جی کے قلم سے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جانے نام کیا تھا...لیکن "لاٹ صاحب" کہلاتے تھے- انگریز تھے...وہ بھی برطانوی نژاد- خوشاب اس وقت تحصیل تھی اور یہ اس کے لاٹ صاحب بن کر آئے.....علاقے بھر میں خوب دبدبا تھا....اور خوشامدی سدا انکی نگاہ التفات کے منتظر رہتے-
ایک سال وادی میں اتنا سوکھا پڑا کہ یہاں کی گہری جھیل بھی سوکھ گئ...اور اسکی گہرائ کے بارے میں مشہور سارے افسانے طشت از بام ہو گئے- جانور مرنے لگے اور لوگ بھی-
پتا نہیں کسی مولوی صاحب نے مشورہ دیا یا لاٹ صاحب کا اپنا فیصلہ تھا....... ایک دن آس پاس کی بستیوں میں اعلان کروایا دیا کہ آج بارش کے واسطے قران خوانی لاٹ صاحب کے بنگلے پر ہو گی- آس پاس گاؤں سے لوگ سیپارے اٹھائے دوڑے چلے آئے .... بنگلے کے باہر تمبو قناطیں لگادی گئیں....چناچہ...شربت کی سبیلوں......اور دیگ ہائے بریانی کی کھڑکھڑاہٹ میں......لوگ لہک لہک کر تلاوت کرنے لگے.....لاٹ صاحب بار بار باہر نکلتے......پریشانی میں آسمان کی طرف دیکھتے....اور ....still no chance کہتے اندر چلے جاتے....شام تک لوگ کھا پی کر چلے گئے...لیکن بارش کے آثار تک نمودار نہ ہوئے- اگلے دو دن تک یہی حال رہا.......لوگ پہلے سے زیادہ آنے لگے.....تلاوت کرتے....بریانی اڑاتے...اور گھر کی راہ لیتے-
تیسرے یا چوتھے دن جب لوگ آئے تو تمبو قناط دیگیں غائب تھیں.....لوگ واپس مڑنے لگے تو بتایا گیا کہ قران خوانی ہوگی...لیکن دھوپ میں بیٹھ کر.....چنانچہ اکثر تو واپس لوٹ گئے اور محدودے چند چاروناچار بیٹھ گئے- لاٹ صاحب باہر تشریف لائے اور کہا کہ جب تک بارش نہیں ہو گی......نہ تو پانی دیا جائے گا....نہ کھانا....اور نہ ہی کوئ اٹھ کے جائے گا- جو واپس جانا چاہتا ہے ابھی چلا جائے...کوئ زبردستی نہیں ہے.....چناچہ کچھ اور لوگ کپڑے جھاڑتے اٹھ کے واپس چل دیے اور آٹھ دس آدمی میدان کارزار میں...جم کر بیٹھ گئے.....چناچہ تلاوت شروع ہوئ...آسمان پر بادل کا نام و نشان نہیں تھا....پیاس سے پپڑیاں جمنی شروع ہوئیں...لوگ نہ تو اس پیاس میں واپس جا سکتے تھے اور نہ ہی آج لاٹ صاحب سے کچھ امید .تھی.....ہمت و حوصلہ جواب دے رہا تھا...آج آسمان کی طرف رحم طلب نگاہوں سے دیکھنے کا فریضہ لاٹ صاحب کی بجائے یہی لوگ سرانجام دے رہے تھے....نگاہیں بار بار آسمان کی طرف اٹھتیں اور پھر تلاوت و دعا میں مستغرق ہو جاتیں...دعاؤں کے لیے بار بار ہاتھ اٹھتے...انکھوں سے آنسو..رواں تھے......تب جا کر کہیں سے ایک ٹکڑا بادل کا نمودار ہوا.... باد نسیم چلی.....اور وہ مونسلادھار بارش ہوئ کہ چہار سو جل تھل ہو گیا...............!!!
لاٹ صاحب بھیگتے ہوئے بنگلہ سے نمودار ہوئے اور مسکراتے ہوئے گویا ہوئے....." ام جانتا تھا....گاڈ......کے لیے...بارش....کوئ......پرابلم نہیں....پرابلم.... ٹم...لوگ ..ہو جو گاڈ سے دو ڈراپ واٹر کے لیے بی دو منٹ "سیریس" ہو کر بات نئیں کر سکتا........!!!!
لاٹ صاحب قیام پاکستان کے بعد یہیں بس گئے اور واپس برطانیہ نہیں گئے یا شاید "میم صاحب" کی قبر چھوڑ کر جانا گوارا نہ ہوا- اور 56 میں فوت ہوئے- اُن کی قبر ادھر ہی سرکی موڑ کے پاس ہے-

Wednesday, 29 October 2014

نام تیرا ریت پر: از، راشد ادریس رانا


ریت پر
چلی ہوا تو لکھ دیا
نام تیرا ریت پر
نقش یو ں عیاں ہوا
دل جو بے قراں ہوا
عشق یو ں جواں ہوا
پیار  لامکاں ہوا
انگ انگ نہال تھا
جسم یوں بے حال تھا
چھا گیا تھا ایک نشہ
جانے کیا کمال تھا
بے رخ جو ہوا ہوئی
دل میرا جلا دیا
نقش نقش مٹا دیا
تجھ کو مجھ سے چھین کر
جانے اس کو کیا ملا
اک ہوا کے جھونکے نے
نام تیر ا مٹا دیا
قصور آخر کس کا تھا
ہوا تو بے لگام تھی
چلی ہواتو لکھ دیا
چلی ہوا تو مٹا دیا
نام تیرا ریت پر
از: راشد ادریس رانا

29 اکتوبر 2014

Saturday, 11 October 2014

گوشت کے بارے میں وہ جھوٹ جنہیں آپ سچ سمجھتے ہیں


گوشت کے بارے میں وہ جھوٹ جنہیں آپ سچ سمجھتے ہیں

برمنگھم (نیوز ڈیسک)گوشت کے استعمال اور افادیت کے حوالے سے قارئین کی معلومات اور دلچسپی کے لئے 8 مضحکہ خیز فرضی اور افسانوی باتیں پیش خدمت ہیں جن میں کوئی صداقت نہیں ہے۔ یہ وہ مغالطے ہیں جو نسل درنسل لوگوں میں مشہور و معروف ہیں۔

کچھ لوگوں کا دعویٰ ہے کہ گوشت مناسب طریقے سے ہضم نہیں ہوتا بلکہ آنتوں میں گلتا سڑتا رہتا ہے۔ یہ تو معلوم ہی ہے کہ جیسے ہی گوشت معدے میں پہنچتا ہے تو کچھ تیزابی رطوبتیں اور انزائم کا اخراج ہوتا ہے جو اسے ہضم کرنے میں مددگار ہوتے ہیں۔ پھر یہ محلول نما گوشت چھوٹی آنت میں جاتا ہے تو وہاں اس میں موجود پروٹین امائینوایسڈ مین تبدیلی ہوتی ہے اور فیٹ بھی فیٹی ایسڈ میں تحلیل ہوتی ہے۔ پھر یہاں ہی غذائی اجزاءچھوٹی آنتوں کی دیواروں سے چھن کر خون میں شامل ہوکر جسم کا حصہ بناتے ہیں۔ اب آپ بتائیے کہ گوشت کہاں چھوٹی آنت میں گلنے سڑنے کے لئے پڑا رہتا ہے۔ مختصر یہ کہ گوشت بڑی آنت پنچنے سے قبل ہی تحلیل ہوکر ہضم ہوچکا ہوتا ہے۔ البتہ یہ سچ ہے کہ کچھ خاص قسم کی سبزیاں، پھل اور دانے وغیرہ مشکل سے ہضم ہوتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ انہیں ہضم کرنے کے لئے طاقتور انزائم دستیاب نہیں ہوتے۔

 گوشت کے خلاف سب سے مضبوط دلیل یہ دی جاتی ہے کہ سیر شدہ چربی پیدا کرتا ہے اور کولیسٹرول کو بڑھاتا ہے لیکن اب تک اس دلیل کے ثبوت میں کوئی حقیقت سامنے نہیں آئی۔ سچ یہ ہے کہ کولیسٹرول ہرسیل کی جھلی میں پایا جاتا ہے اور ہارمونز کے اخراج کی وجہ بنتا ہے۔ جگر بھی کولیسٹرول کا منبع ہے۔ ایک تحقیق کے مطابق 70 فیصد لوگوں کے جسم میں پایا جانے وال کولیسٹرول ان کی صحت کو متاثر نہیں کرتا۔ 30 فیصد لوگوں میں ایل ڈی ایل کولیسٹرول کی موجودگی صحت کے لئے مضر ثابت ہوا ہے۔ اس نکتہ پر مختصر تبصرہ یہ ہے کہ یہ سچ ہے کہ گوشت کولیسٹرول بناتا ہے لیکن اس سے جسم پر اس کے منفی اثرات نہیں پڑتے اور نہ ہی دل کی بیماری کی وجہ بنتا ہے۔ احتیاطی تدبیر صرف یہ ہے کہ گوشت مناسب مقدار میں استعمال کیا جاتا ہے۔

 اکثر لوگ ایمان کی حد تک اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ گوشت سے دل کی بیماریاں بڑھتی ہیں اور 2 طرح کی ذیابیطس پیدا ہوتی ہے۔ اس ضمن میں عرض ہے کہ دل کی بیماریاں 20ویں صدی تک تو خطرناک نہ تھیں اور گزشتہ چند عشرے پہلے ذیابیطس بھی اس حد تک خوفناک نہ تھی جتنی کہ آج ہے۔ یہ دونوں بیماریاں تو آج کی بیماریاں ہیں لیکن گوشت تو لوگوں کی صدیوں سے مرغوب غذا ہے۔ کہتے ہیں کہ صدیوں قبل بھی یہ من پسند غذا تھی۔ اس لئے اتنی پرانی غذا کو نئی بیماری سے جوڑنا کسی صورت مناسب نہیں ہے۔ ایک تحقیق میں 1218350 لوگوں پر مطالعہ کیا گیا تو معلوم ہوا کہ اتنی بڑی تعداد کے لوگوں میں کوئی ایسی شہادت نہیں ملی جو ثابت کرتی کہ گوشت کی وجہ سے دل کی بیماری یا ذیابیطس جیسی بیماریوں کو جھیلنا پڑا ہو۔ اصل بات یہ ہے کہ گوشت کا استعمال اور پکانے کا طریقہ کیا ہے، یہ طریقے ہی خرابیوں کا باعث بنتے ہیں۔

 سرخ گوشت کینسر پھیلاتا ہے: یہ بھی ایک مغالطہ ہے کہ جس کی اصل روح کو سمجھنا ضروری ہے۔ ڈبہ بند گوشت سب برائیوں کی جڑ ہے جبکہ تازہ گوشت ایسی کسی بیماری کی وجہ نہیں بنتا، دراصل اس ضمن میں کی گئی دو تحقیقات میں یہ واضح ہوا ہے کہ ڈبہ بند گوشت بھی کینسر کی وجہ بنتا ہے۔ 35 تحقیقیں یہ بتاتی ہیں کہ پکانے کے مختلف طریقے گوشت کی افادیت کا سکیل طے کرتے ہیں کہ آیا غذائی اعتبار سے مفید ہے یا مضر صحت، جیسے یہ بات ثابت شدہ ہے کہ اگر ضرور سے زیادہ کیا پکایا جائے تو اس کے اجزاءہیٹروں ٹیک، ایمانیز اور پولی سائیکل ہائیڈروکاربوریٹس میں تبدیل ہوتا ہے، یہ مرکبات کینسر کی وجہ بنتے ہیں۔

 انسان سبزی خور ہے اس کی تخلیق گوشت خور کے طور پر نہیں کی گئی۔ یہ خیال بھی اوپر بیان کئے گئے مغالطوں کی طرح ہی ہے اور اس میں سچائی نہیں پائی جاتی۔ اس ضمن میں غور کریں کہ ہمارے نظام انہظام میں چھوٹی اور بڑی آنت کا کردار بہت اہم ہے جو گوشت کے ہاضمے کیلئے ان آنتوں میں خصوصی انزائم حصہ لیتے ہیں اور یہ انزائم کچھ سبزیوں اور پھلوں کے لئے فعال نہیں ہوتے۔ سچ یہ ہے کہ انسانی جسم میں قدرت نے وہ نظام بنایا ہے جو گوشت کو ہضم کرتا ہے۔

 کیا پروٹین ہڈیوں کیلئے مفید ثابت نہیں ہوتی؟ اس سوال کے جواب میں اکثریت یہ کہتی ہے کہ چونکہ گوشت پروٹین کا گھر ہوتا ہے اور گوشت خوروں کی ہڈیاں اسی لئے کمزور ہوتی ہیں۔ یہ بھی قطعی غلط خیال ہے۔ جدید تحقیقات نے ثابت کیا ہے کہ زیادہ پروٹین والی غذائیں اور صحت مند ہڈیوں کی ضامن ہوتی ہیں اور ہڈیوں میں پائی جانے والی سختی کو کم کرتی ہیں۔
عام دعویٰ ہے کہ گوشت صحت کے لئے غیر ضروری ہے، اس خیال کو ایک حد تک تو درست تسلیم کیا جاسکتا ہے لیکن پھر بھی گوشت کا کھانا صحت کے لئے لازم ہے، سچ تو یہ ہے کہ ہم گوشت کھائے بغیر رہ بھی نہیں سکتے۔

 گوشت کے بارے میں یہ قیاس آرائی کی جاتی ہے کہ یہ موٹاپے کا باعث بنتا ہے۔ یہ بھی کچھ کچھ درست خیال ہے لیکن ایسا دعویٰ کرنے والے یہ بھول جاتے ہیں کہ گوشت میں پائی جانے والی پروٹین وزن کو کم کرنے میں معاون پائی گئی ہے۔


Wednesday, 24 September 2014

مہنگـی روٹـی سستی مـوت



مہنگـی روٹـی سستی مـوت
کیسے دوں میں تم کو ووٹ

ہر سال آجـــــــــــــــاتے ہو تم
خواب میرے ہی مجھ کو دینے
چہرے پہ مســـــــــــکان لیئے 
اور دلــــوں کــــے اندر کھوٹ

مہنگـــــــی روٹی سستی موت
کیســــے دوں میں تم کو ووٹ

ویسی ہی میری گلیاں بے رنگ
ویسے ہــــــی میرے شہر بازار
خوشیــاں جیسے روٹھ گئی ہوں
ہنسنـــــــا ہے جیسے ایک ادھار

مہنگـــــــی روٹی سستی موت
کیســــے دوں میں تم کو ووٹ

پھــــر بھــــی تم آ جــــــاتے ہو
جھوٹے  وعدے جھوٹی قسمیں
 پرانــے چـہروں پہ نئے چشمے
کرنے پھــر سے لوٹ کھسوٹ

مہنگـــــــی روٹی سستی موت
کیســــے دوں میں تم کو ووٹ

بــــــــاپ گیا اور بیٹــــــــا آیا
تم نے اس کـــو کھـــــیل بنایا
دیـــــس میرے میں خون بہایا
تــم نے اس کــو نسلوں کھایا

مہنگـــــــی روٹی سستی موت
کیســــے دوں میں تم کو ووٹ

چند خاندانوں نے چھانٹ لیا ہے
دیسے میــرے کــو بانٹ لیا ہے
کـــتنا اس کـــو کھـــــاو گـے تم
قبـــــروں میـــں لے جاو گے تم

مہنگـــــــی روٹی سستی موت
کیســــے دوں میں تم کو ووٹ

میــــرے دیــــس کو کھانے والو
خـــون وطـــــن کا پینــــــے والو
ہر ہر ســــانس زہر بنــــــــا دوں
راشـــــــــــد کا جو زور چلے تو
دل کــــــرتا ہے آگ لــــــگا دوں
محل تمہارے قبــــــــــــر بنادوں
محل تمہارے قبــــــــــــر بنادوں


مہنگـــــــی روٹی سستی موت
کیســــے دوں میں تم کو ووٹ

از: راشد ادریس رانا ــــ اجڑے ہوے محب وطن کی پکار


انقلاب ضروی ہے۔



مہنگی تھـــی روٹی بہت
بے رحم تھـی بھوک بھی
موت مانگ لــــی میں نے
اور جـــــــی کے کیا کروں



Sunday, 7 September 2014

آدھا تیتر آدھا بٹیرـــــــــــــ الوداع اردو


آدھا تیتر آدھا بٹیر
سنو یہ فخر سے اک راز بھی ہم فــــــــــاش کرتے ہیں
کبھی ہم منہ بھی دھوتے تھے، مگر اب واش کرتے ہیں
تھا بچوں کے لیے بوسہ مگر اب کِس ہی کرتے ہیں
ستاتی تھیں کبھی یادیں مگر اب مِس ہی کرتے ہیں
چہل قدمی کبھی کرتے تھے اور اب واک کرتے ہیں
کبھی کرتے تھے ہم باتیں مگر اب ٹـــــاک کرتے ہیں
کبھی جو امی ابو تھے ، وہی اب مما پاپا ہیں
دعائیں جو کبھی دیتے تھے وہ بڈھے سیاپا ہیں
کبھی جو تھا غسل خانہ ، بنا وہ باتھ روم آخر
بڑھا جو اور اک درجہ ، بنا وہ واش روم آخر
کبھی ہم بھی تھے کرتے غسل، شاور اب تو لیتے ہیں
کبھی پھول چُنتے تھے، فـــــــــــلاور اب تو لیتے ہیں
کبھی تو درد ہوتا تھا، مگر اب پین ہوتا ہے
پڑھائی کی جگہ پر اب تو نالج گین ہوتا ہے
ڈنر اور لنچ ہوتا ہے، کبھی کھانا بھی کھاتے تھے
بریڈ پر ہے گزارا اب، کبــــھی کھابے اُڑاتے تھے
کبھی ناراض ہوتے تھے، مگر اب مائنڈ کرتے ہیں
جو مسئلہ کچھ اُلجھ جائے ، سلوشن فائنڈ کرتے ہیں
جگہ صدمے کی یارو اب تو ٹیشن ، شـــاک لیتے ہیں
کہ "بُوہا" شٹ جو کرتے ہیں تو اس کو لاک دیتے ہیں
ہوئے ’’آزاد"‘‘جب ہم تو ’’ترقی‘‘ کرگئے آخر
جو پینڈو ذہن والے تھے، وہ سارے مر گئے آخر