Thursday, 22 March 2012

::::کیا ہوئے:::::

دولت بڑھی تو ملک میں افلاس کیوں بڑھا
خوشحالی عوام کے اسباب کیا ہوئے

جو اپنے ساتھ ساتھ چلے کوئے دار تک
وه دوست،وه رفيق،وه احباب کیا ہوئے

کیا مول لگ رہا ہے شہیدوں کے خون کا
مرے تھے جن پہ ہم وہ سزا یاب کیا ہوئے

بے کس برہنگی کو کفن تک نہیں نصیب
وہ وعدہ ہائے اطلس و کمخواب کیا ہوئے

جمہوریت نواز،بشر دوست،امن خواہ
خود کو جو خود دئے تھے وہ القاب کیا ہوئے

ہر کوچہ شعلہ زار ہے،ہر شہر قتل گاہ
یکجہتی حیات کے آداب کیا ہوئے

صحرائے تیرگی میں بھٹکتی ہے زندگی
ابھرے تھے جو افق پہ وہ مہتاب کیا ہوئے

ساحر لدھیانوی

::::::::::::::::بے وفا نہ کہنا:::::::::::::::::::

اتنا برا نہ کہنا مجھے بے وفا نہ کہنا
میری مجبوری کو کبھی تم جفا نہ کہنا

تم میری چاہتوں کی سچائی جان لینا
یہ تو حقیقت ہے اس کو دغا نہ کہنا

میں نے مسکراہٹ میں ہر درد چھپایا ہے
کبھی آنسوؤں کی صورت میری ادا نہ بہنا

جو پیار نہ ملا تو چاہت نے حوصلہ دیا
میری وفا حیات ہے اس کو قضا نہ کہنا

ہم تم سے دور رہ کر بھی جی گئے جاناں
ہم تیرے آس پاس ہیں ہم کو جدا نہ کہنا

اے کاش میری نیند تمہارے ہی خواب دے
خوابوں کو واپسی کا کوئی راستہ نہ کہنا

راشد میرا خیال ہی میری حقیقت ہے
میرے تخیلات کو دیکھو خلا نہ کہنا

Wednesday, 21 March 2012

♥♥♥♥♥♥♥ ماں ♥♥♥♥♥♥♥

موت کی آغوش میں جب تھک کے سو جاتی ہے ماں

موت کی آغوش میں جب تھک کے سو جاتی ہے ماں
تب کہی جا کر رضا تھوڑا سکون پاتی ہے ماں

فکر میں بچوں کی کچھ اس طرح گُھل جاتی ہے ماں
نوجواں ہوتے ہوئے بوڑھی نظر آتی ہے ماں

روح کے رشتوں کی یہ گہرائیاں تو دیکھیے
چوٹ لگتی ہے ہمارے اور چلاتی ہے ماں

ہڈیوں کا رس پلا کر اپنے دل کے چین کو
کتنی ہی راتوں میں خالی پیٹ سو جاتی ہے ماں

جانے کتنی برف سی راتوں میں ایسا بھی ہوا
بچہ تو چھاتی پے ہے گیلے میں سو جاتی ہے ماں

جب کھلونے کو مچلتا ہے کوئی غربت کا پھول
آنسوں کے ساز پر بچے کو بہلاتی ہے ماں

فکر کے شمشان میں آخر چتاؤں کی طرح
جیسے سوکھی لکڑیاں ، اس طرح جل جاتی ہے ماں

اپنے آنچل سے گلابی آنسوں کو پونچھ کر
دیر تک غربت پے اپنی اشک برساتی ہے ماں

سامنے بچوں کے خوش رہتی ہے ہر ایک حال میں
رات کیوں چھپ چھپ کے لیکن اشک برساتی ہے ماں

کب ضرورت ہو میری بچے کو ، اتنا سوچ کر
جاگتی رہتی ہیں آنکھیں اور سو جاتی ہے ماں

مانگتی ہی کچھ نہیں اپنے لیے اللہ سے
اپنے بچوں کے لیے دامن کو پھیلاتی ہے ماں

دے کے اک بیمار بچے کو دعائیں اور دوا
پینتی پے رکھ کے سر قدموں پے سو جاتی ہے ماں

گر جوان بیٹی ہو گھر میں کوئی رشتہ نا ہو
اک نئے احساس کی سولی پے چڑھ جاتی ہے ماں

ہر عبادت ہر محبت میں نیہا ہے اک غرض
بے غرض بے لوث ہر خدمات کو کر جاتی ہے ماں

زندگی بھر چنتی ہے خار ، راہ ذیست سے
جاتے جاتے نعمت فردوس دے جاتی ہے ماں

بازوں میں کھینچ کے آجائے گی جیسے کائنات
ایسے بچے کے لیے بانہوں کو پھیلاتی ہے ماں

زندگانی کے سفر میں گردشوں کی دھوپ میں
جب کوئی سایہ نہیں ملتا تو یاد آتی ہے ماں

پیار کہتے ہے کسے اور مامتا کیا چیز ہے
کوئی ان بچو سے پوچھے جن کی مر جاتی ہے ماں

صفحہ ہستی پے لکھتی ہے اصول زندگی
اس لیے اک مکتب اسلام کہلاتی ہے ماں

اس نے دنیا کو دیے معصوم رہبر اس لیے
عظمتوں میں ثانی قرآن کہلاتی ہے ماں

گھر سے جب پردیس جاتا ہے کوئی نور نظر
ہاتھ میں قرآن لے کر در پے آجاتی ہے ماں

دے کے بچے کو ضمانت میں اللہ پاک کی
پیچھے پیچھے سر جھکائے در تک جاتی ہے ماں

کانپتی آواز سے کہتی ہے بیٹا الوداع
سامنے جب تک رہے ہاتھوں کو لہراتی ہے ماں

جب پریشانی میں گھر جاتے ہیں ہم پردیس میں
آنسوں کو پونچھنے خوابوں میں آجاتی ہے ماں

دیر ہو جاتی ہے گھر آنے میں اکثر جب ہمیں
ریت پر مچھلی ہو جیسے ایسے گھبراتی ہے ماں

مرتے دم بچہ نا آ پائے اگر پردیس سے
اپنی دونوں پتلیاں چوکھٹ پر رکھ جاتی ہے ماں

باب مر جانے پے پھر بیٹے کی خدمت کے لیے
بھیس بیٹی کا بدل کر گھر میں آجاتی ہے ماں

ہم بلاؤں میں کہیں گھرتے ہیں تو بے اختیار
خیر ہو بچے کی ، کہ کر در پے آجاتی ہے ماں

چاہے ہم خوشیوں میں ماں کو بھول جائیں دوستو !
جب مصیبت سر پے آتی ہے تو یاد آتی ہے ماں

دور ہو جاتی ہے ساری عمر کی اس دم تھکن
بیاہ کر بیٹے کو جب گھر میں بہو لاتی ہے ماں

چین لیتی ہے وہی اکثر سکون زندگی
پیار سے دلہن بناکر جس کو گھر لاتی ہے ماں

پھر لیتے ہیں نار جس وقت بیٹے اور بہو
اجنبی اپنے ہی گھر میں ہے بن جاتی ہے ماں

ہم نے یہ بھی تو نہیں سوچا الگ ہونے کے بعد
جب دیا ہی کچھ نہیں ہم نے تو کیا کھاتی ہے ماں

ضبط تو دیکھوں کہ اتنی بے رخی کے باوجود
بد دعا دیتی ہے ہرگز اور نا پچھتاتی ہے ماں
♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥♥

چلو چھوڑو!

چلو چھوڑو!
محبت جھوٹ ہے
عہدِ وفا اِک شغَل ہے بے کار لوگوں کا
’’طَلَب ‘‘ سوکھے ہوئے پتوں کا بے رونق جزیرہ ہے
’’ خلش ‘‘ دیمک زدہ اوراق پر بوسیدہ سطروں کا ذخیرہ ہے
’’ خُمارِ وصل ‘‘ تپتی دھوپ کے سینے پہ اُڑتے بادلوں کی رائیگاں بخشش!
’’ غبارِ ہجر ‘‘ صحرا میں سَرابوں سے اَٹے موسم کا خمیازہ
چلو چھوڑو!
کہ اب تک میں اندھیروں کی دھمک میں سانس کی ضربوں پہ
چاہت کی بنا رکھ کر سفر کرتا رہا ہوں گا
مجھے احساس ہی کب تھا
کہ تُم بھی موسموں کے ساتھ اپنے پیرہن کے
رنگ بدلوگی!
چلو چھوڑو!
وہ سارے خواب کچّی بھُر بھُری مٹی کے بے قیمت گھروندے تھے
وہ سارے ذائقے میری زباں پر زخم بن کر جم گئے ہوں گے
تمہارے اُنگلیوں کی نرم پوریں پتھروں پر نام لکھتی تھیں میرا لیکن
تمہاری اُنگلیاں تو عادتاً یہ جُرم کرتی تھیں
چلو چھوڑو!
سفر میں اجنبی لوگوں سے ایسے حادثے سرزد ہوا کرتے ہیں
صدیوں سے
چلو چھوڑو!
میرا ہونا نہ ہونا اِک برابر ہے
تم اپنے خال و خد کو آئینے میں پھر نکھرنے دو
تم اپنی آنکھ کی بستی میں پھر سے اِک نیا موسم اُترنے دو!
’’ میرے خوابوں کو مرنے دو ‘‘
نئی تصویر دیکھو
پھر نیا مکتوب لکھّو
پھر نئے موسم نئے لفظوں سے اپنا سلسلہ جوڑو
میرے ماضی کی چاہت رائیگاں سمجھو
میری یادوں سے کچّے رابطے توڑو
چلو چھوڑو
محبت جھوٹ ہے
عہدِ وفا اِک شَغل ہے بے کار لوگوں کا

Tuesday, 20 March 2012

:::::::::::ماں:::::::::::::

جنہاں گھراں وچ ماں نئیں ہوندی
اوناں گھراں وچ چھاں نئیں ہوندی
پُتر جے کدے جان وی منگے
ماواں کولوں ناں نئیں ہوندی
ماں جے کدے ہاں نہ کرے تے
رب ولوں وی ہاں نئین ہوندی

مسلمان عورت پردہ، حیا، کفن


میرے خواب ميری کہانیاں میرے بے خبر تُجھے کیا پتا

تيری آرزوں کے دوش پر
تيری کيفِيت کے جام میں
میں جو کِتنی صديوں سے قید ہوں
تيرے نقش میں تيرے نام میں
میرے زاِئچے میرے راستے
میرے ليکھ کی یہ نِشانِياں
تيری چاہ میں ہیں رکی ہوئی
کبھی آنسوں کی قِطار میں
کبھی پتھروں کے حِصار میں
کبھی دشتِ ہجر کی رات میں
کبھی بدنصيبی کی گھاٹ میں
کئی رنگ دھوپ سے جل گئے
کئی چاند شاخ سے ڈھل گئے
کئی تُن سُلگ کے پگھل گئے
تيری الفتوں کے قیام میں
تيرے درد کے در و بام میں
کوئی کب سے ثبتِ صليب ہے
تيری کائنات کی رات میں
تيرے اژدھام کی شام میں
تُجھے کیا خبر تُجھے کیا پتا

میرے خواب ميری کہانیاں
میرے بے خبر تُجھے کیا پتا