Wednesday, 25 May 2016

مرحبا ماہ صیام 2016

ہیییییییں جی، ساری دنیا میں غیر مسلمان رمضان المبارک کا احترام کرتے ہیں اور اپنے عمل سے ثابت کرتے ہیں۔
امارات میں میرے ساتھ ایک کٹر ہندو تھا، وہ اور میں اکھٹے آتے جاتے تھے، گرمی شدید ہوا کرتی تھی، اور گرمی سے اسکے ہونٹ خشک ہو جاتے تھے لیکن بیچارہ پانی کی بوتل ساتھ تک نہیں رکھتا تھا، میں نے کہا کہ یار تم رکھ لو گرمی ہے پی لینا لیکن اس کا ایک ہی جواب ہوتا تھا، نہیں تم فاسٹنگ سے ہو، میں تمہارے سامنے ایسا نہیں کروں گا۔ میں آج تک اس کے ظرف اور احترام سے متاثر ہوں۔

ہم یعنی کہ ہم پاکستانی، پاکستان میں رمضان میں وہ کچھ کرتے ہیں جو باقی مہینوں میں بھی نا کیا ہو۔

ماہ مقدس شروع ہونے سے پہلے ہی ہر امیر و غریب ٹوپی پہنے تیار ہے دوسرے کو ٹوپی پہنانے کے لیے۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔ اورہر کوئی روزہ رکھ کے ایسا خونخوار ہو جاتا ہے جیسے روزہ اس نے ساری دنیا کے لیے رکھا ہوا ہے۔

اللہ پاک ہمیں درست معنوں میں احترام رمضان اور اس مقدس مہینے کا پورا فائدہ اٹھانے کی توفیق دے، بے شک جسے اللہ چاہے اپنی رحمتوں سے مالا مال کرئے۔
آمین

از خود راشد ادریس رانا قلم بے لگام
25 مئی 2016

Saturday, 14 May 2016

پکا مسلمان 14 مئی 2015

ان دونوں کے گھر ساتھ ساتھ تھے، زیادہ آنا جانا نہیں تھا وجہ تھی ان کے مذہب کا فرق۔ حاجی گاما پکا کٹر مسلمان تھا لیکن دل میں اللہ کا خوف بھی تھا اس لیئے اپنے پڑوس میں رہنے والے ویلیم کا خاطر خواہ خیال رکھتا تھا۔

پھر ایک دن ایک حادثہ ہو گیا، بازار میں کچھ لڑکوں کی لڑائی ہوئی اور انہوں نے فائرنگ کر دی ، عین اسی وقت ویلیم اپنے ریڑھے پے کوڑا کرکٹ اٹھاتا پھر رہا تھا، ایک گولی نے اس کی زندگی کا  اسی جگہ خاتمہ کر دیا۔

لوگ اس کی لاش اسکے گھر لائے تو کہرام مچ گیا۔ اقلیتی جماعت کے ساتھ یہ سلوک توبہٰ توبہٰ!!!! بہت احتجاج ہوا لوگوں نے بہت ہنگامہ کیا سڑک بلاک کی لیکن بہرحال اس کی لاش لے کر اس کے گھر آ گئے۔

حاجی گاما بہت رنجیدہ تھا، اس ظلم کے ساتھ ساتھ اس کو دکھ تھا کہ اس کی مسلمانی پر کیا اثر پڑئے گا آخر کو مارنے والے تو مسلمان ہی تھے، اسی غم میں اس نے اور اس کے سارے گھر نے رات کا کھانا نا کھایا، صبح بھی وہ سارے اداس اداس بھوکے پیٹ اٹھے ، حاجی گامے نے اعلان کیا آج کوئی کام پے نہیں جائے گا، سب بچے سکول سے چھٹی کریں گے، حالانکہ بچوں کے سالانہ امتحانات ہو رہے تھے۔ لیکن پھر بھی !!!! اس نے پورے سوگ کا اعلان کیا، گلی میں نکلا تو کونے والے شیخ صاحب کا لونڈا اپنی گاڑی میں میوزک لگا کر گزر رہا تھا، حاجی صاحب نے آؤ دیکھا نا تاو، جوتا اتارا اور اس کو گاڑی میں ہی پیٹ ڈالا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس فریضے سے فارغ ہو کر وہ ویلیم کے دروازے کے آگے پہنچا ، تاکہ دیکھے اس کی تدفین کی تیاریاں وغیرہ مکمل ہو ئیں کے نہیں، لیکن پھر ٹھٹھک کے رک گیا،

ویلیم کے چاروں بچے سکول یونیفارم گھر سے باہر نکل رہے تھے، اس نے حیرانگی سے پوچھا کہ کدھر جارہے ہو؟ تو انہوں نے جواب دیا کہ آج ہمارا سالانہ پیپر ہے ، جانے والا واپس تو نہیں آ جائے گا ویسے بھی ابھی تدفین میں وقت ہے تب تک ہم واپس آ جائیں گے۔

حاجی گاما !!!!! حیرانگی سے کھڑا ان کو جاتا دیکھ رہا تھا، آخر کو پکا مسلمان تھا۔

(اگر یہ کہانی کسی حقیقی واقعہ سے ملتی جلتی ہے تو!!!!!! کیا ہو سکتا ہے)

#کراچی،#Karachi
بقلم خود: راشد ادریس رانا

Tuesday, 10 May 2016

اے پاکستان تجھ پہ قرباں

اے پاکستان تجھ پہ قرباں
از راشد ادریس رانا
قلم نا تواں 10 مئی 2016
○○○○○○○○○○○○○○○○○○
یہ کیسے لٹا اور کیوں کر لٹا
اس بات سے مطلب کس کو ہے
بس اجڑئے وطن کو دیکھ زرا
اغیار کے بس کی بات نا تھی
دشمن کی ضرورت کس کو ہے
جو خون بہا ، بے حد ہی بہا
وہ مہنگا تھا یا ارزاں تھا
الزام کسی پہ کیا دینا
یہ جب بھی لٹا اپنوں سے لٹا
غیروں سے عداوت کس کو ہے
●●●●●●●●●●●●●●●●●●

Sunday, 8 May 2016

نامکمل خواہشیں

صبح صادق کی روپہلی کرنوں کے ساتھ ہی کچے صحن میں مرغے کی بانگ سے میری آنکھ کھل گئی، باہر نکل کر دیکھاتو بلند و بالا پہاڑ کی اوٹ سے نکلتا سورج اپنی نارنجی کرنوں سے وادی میں نور پھیلائے  میرا منتظر تھا۔ دھیمے قدموں سے جنگلی کیکر کی شاخ سے بنی تازہ مسواک کرتے میں ندی کی طرف چل پڑا۔ ندی جو نا جانے کتنی صدیوں سے ہونہی بلا روک ٹوک اپنی ہی لے میں مگن بہتی چلی جا رہی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔ نا جانے کب سے ہلکی ہلکی چھینٹیں اڑاتی اور گنگناتی یہ ندی۔ واپس آتے ہوئے خوبانی کے درخت جو اس موسم کی خوبانیوں کے بوجھ سے جھکے کھڑے تھے بہت بھلے لگے۔

اسی لمحے نا جانے کیوں مجھے ہوں لگا جیسے میں ایک بادشاہ ہوں اور میرے درباری راستے میں سر جھکائے میرے ادب میں کھڑئے ہوے ہیں، یکایک ساری وادی مجھے اپنی راجدھانی لگنے لگی۔

بس اسی ایک لمحے نے ساری زندگی کو تشنگی بنا دیا،گلے میں ایک نامکمل سانس اٹک گئی، دو نمکین آنسو آنکھوں کے اندر ہی ابھرئے اور پھر وہیں کہیں ڈوب کے بے نشان ہو گئے۔

میں نے ناشتہ کیا کپڑے بدلے اور قریبی سڑک پہ آکے کھڑا ہو گیا، جس پہ سے اس واحد بس نے گزرنا تھا جس کو پکڑ کے مجھے قریبی شہر کی سبزی منڈی میں جانا اور اپنی واحد ذریعہ آمدن ریڑھی کو کھولنا تھا۔
از خود
راشد ادریس رانا
قلم نا تواں

Wednesday, 27 April 2016

ایک تھا گاؤں "پاکستان"

ایک ہی دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک گاوں تھا، اس میں بڑئے خبیث قسم کے چودھری قابض تھے، لیکن انکی خباثت کا کوئی زور نہیں چلتا تھا، کیوں کہ لوگ خوشحال تھے زرا سے مسئلہ پہ وہ چوھدریوں کے خلاف اٹھ کھڑئے ہوتے تھے ، چوھدریوں نے سوچا کہ کچھ ایسی ترقیب کریں کہ لوگ بھی رہیں لیکن ان کا ضمیر مردہ ہو جائے اور انکی پھوں پھاں بھی ختم ہو جائے۔ لوگ زندہ رہیں لیکن انکے غلام بن کے اور کوئی آواز بھی نا نکالیں۔
سو انہوں نے گاوں کے مراثی سے مشورہ لیا اور موچی کو اپنا مخالف نمایندہ بنا لیا۔۔۔۔۔۔ موچی کیوں کہ انہی گاوں کے لوگوں میں سے تھا سو جیسے ہی اس نے چوھدریوں کئ خلاف شور شرابا شروع کیا لوگ بہت خوش ہوئے کہ دیکھو یار کیسا کھرا بندہ ہے۔ بس موچی نے گاوں کے چوک میں خبیث چوھدریوں کے خلاف دھرنا اور بھوک ہڑتال شروع کر دی، جب بھی کچھ ہلکا پھلکا ہوتا موچی شروع ہو جاتا، لوگ اکھٹے ہوتے واہ واہ کرتے، موچی چوھدریوں کو برا بھلا کہتا، ان کو ننگی گالیاں دیتا ، دھمکیاں دیتا اور لوگ واہ واہ کرتے اپنے اپنے گھروں کو چلے جاتے ، ہر شور شرابے کے بعد چوھدری موچی کے گھر ایک تھیلا گندم بھیجوا دیتے۔ لوگ موچی کی تقاریر اور ہنگامے میں بڑھ چڑھ کے حصہ لیتے اپنا وقت برباد کرتے اپنا نقصان کرتے اور شام کو اپنے اپنے گھر، بس اب یہ ہوا کہ چوھدریوں کے خلاف کوئی عملی طور پہ کچھ نا کرتا، بلکہ لوگ آہستہ آہستہ انکی خباثتوں اور حرامزدگیوں کے عادی ہو گئے، انکی ہر آنے والی نسل پہلے والی نسل سے زیادہ موچیوں کی حمایت می  رہتی لیکن خود کچھ بھی نا کرتے۔
یوں وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ وہ گاؤں بڑا ہوتا گیا پھیلتا گیا اور پھر ایک دن اسکا نام #پاکستان  پڑگیا۔

چوھدری بدنسل تھے سو انکے مزید کئی خاندان بنتے گئے اور وہ وزارتوں، عدالتوں ہر جگہ پھل پھول گئے پھیل گئے۔

موچی ترقی کرتے کرتے اس ملک کی اپوزیشن، لبرل اور مداری عالم بن گئے۔

بس اس گاؤں کے لوگ پڑھ لکھ گئے، ترقی کر گئے موچی کے ساتھ پہلے  بھی کھڑئے ہوتے تھے اب نسل در نسل ذلت و بے ضمیری میں مبتلا رہنے کے بعد اب بھی کھڑئے ہوتے ہیں لیکن  ووٹ بھی ڈالتے ہیں بڑئے شوق سے چوہدریوں سے اپنی عزتیں پامال کراتے ہیں ظلم کراتے ہیں لیکن پھر بھی نظریں انکی موچیوں کی طرف لگی رہتی ہیں۔۔۔۔ کیوں کہ وہ اب ترقی کرکے "عوام پاکستان"  کہلانا پسند کرتے ہیں۔

Sunday, 13 March 2016

پاکستان میں ٹیکس (ایک ننگی تحریر)

اپنی کمائی اپنے اکاؤنٹ میں رکھیں اور جب نکلوائیں تو ٹیکس ادا کریں جس کا کوئی سر پیر نہیں، ایسے دور حکومت میں لوگ ٹیکس چوری نہیں کریں گے تو اور کیا کریں گے۔ پتا تو چلے کہ ملک میں فائدہ کیا ہو رہا ہے اس ٹیکس کٹوتی سے۔
رات کو یہ لوگ اکیلے سوتے ہیں بوجہ عدم دستیابی بیوی جو مکمل کسی اور کو دستیاب ہوتی ہے رات بھر، تو اسی غصے میں صبح اٹھ کر ٹیکس لاگو کر دیتے ہیں۔

¤ زکوۃ کا نظام زیرو
¤ بیت المال کا نظام صرف نام کا
¤ غریب کی زندگی اجیرن

جو کماتے ہی حرام کا ہیں انکو کیا فرق پڑئے ، لیکن جو خون پسینہ ایک کر کے پیسہ پیسہ جوڑیں وہ کدھر جائیں۔

ان کتے کی اولادوں کو ٹیکس دے دو ان حرام زادوں اور انکے حرام کے تخموں کی عیاشیوں کے لیے۔

گو کہ کافی دیر سے لکھ رہا ہوں لیکن پھر بھی۔

لعنت ہو بے شمار #حکومت_پاکستان کی بے ہودگی پر اور حرامزدگی پے۔

از خود : قلم بے لگام
راشد ادريس رانا
13 مارچ 2016

Thursday, 10 March 2016

ابو لہب اور یہودی 《《ممتاز مفتی》》

ابو لہب اور یہودی

فالسی فیکشن (falsification) ٹیسٹ کے سلسلے میں گیری ملر نے دو بڑی دلچسپ باتیں لکهی ہیں - لکهتا ہے :
محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک چچا تها - اس کا نام ابو لہب تها -

ابولہب کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے عداوت تهی - اس کی زندگی کا واحد مقصد قرآن ، اسلام اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو جهٹلانا تها - وه محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا پیچها کیا کرتا تها - جہاں بهی آپ صلی اللہ علیہ وسلم جاتے ، وه پیچهے پیچهے جاتا - آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہر بات کو جهٹلاتا - اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کہتے کہ یہ چیز سفید ہے تو وه جهٹ بول اٹهتا ، نہیں یہ چیز کالی ہے - اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کہتے کہ دن ہے تو وه کہتا ، نہیں رات ہے - قرآن میں ابولہب کا ذکر بهی آیا ہے کہ ............
وه دوزخ کی آگ میں جلے گا - دوزخ کی آگ میں جلنا اس کا مقدر ہے - مطلب یہ کہ وه کبهی اسلام قبول نہیں کرے گا ، کافر ہی رہے گا -

گیری ملر لکهتا ہے کہ اس آیت کے نازل ہونے کے بعد ابولہب دس سال زنده رہا - اس کے لیے قرآن کو جهٹلانا بہت آسان تها - وه مسلمانوں سے کہتا ، دوستو ! میں مسلمان ہونا چاہتا ہوں ، مجهے مسلمان بنا لو .......  جب وه مسلمان بنا لیتے تو کہتا ، لو بهئ ! تمہارا قرآن جهوٹا ثابت ہو گیا - اب بولو - لیکن ابولہب نے ایسا نہیں کیا حالانکہ اس کی زندگی کا مقصد ہی یہ تها کہ وه قرآن کو جهوٹا ثابت کرے ، حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو جهٹلائے -

گیری ملر ایسی ہی ایک اور مثال دیتا ہے - لکهتا ہے :
قوموں کی حیثیت سے انسانی رشتوں کا ذکر کرتے ہوئے قرآن کہتا ہے کہ بحیثیت قوم ، یہودیوں کی نسبت عیسائی مسلمانوں سے بہتر سلوک روا رکهیں گے - لہذا یہودیوں کے لیے قرآن جهٹلانا بڑا آسان کام تها -
یہودی مسلمانوں سے مل جول بڑهاتے - ان سے ہمدردی کا اظہار کرتے - انہیں اپناتے ........... پهر کہتے ، مسلمانوں ! تمہارا قرآن غلط ہے - چونکہ ہم مسلمانوں سے عیسائیوں کی نسبت بہتر تعلقات کے حامل ہیں لیکن یہودیوں نے ایسا نہیں کیا ، اور لگتا ہے کہ مستقبل میں بهی ایسا نہیں کریں گے -
گیری ملر نے تو بڑی روداری سے بات کی ہے - حقیقت یہ ہے کہ یہودیوں کا مسلمانوں سے جو رویہ ہے ، وه قرآن کو جهٹلانے کی بجائے اس کے دعوے کو  شدت سے تقویت دیتا ہے -

تلاش
ممتاز مفتی