Friday, 1 June 2012

عرب نسل کے تیندوے کو تحفظ درکار

عرب نسل کا تیندووا

ماہرین کا کہنا ہے کہ عرب نسل کے تیندووں کو تحفظ کی ضرورت ہے اور پوری دنیا میں اس نسل کے دو سو تیند وے باقی رہ گئے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ان تیندووں کے معدوم ہونے کا خدشہ اس لیے اور بڑھ جاتا ہے کیونکہ یہ چھوٹے چھوٹے گروہوں میں رہتے ہیں اور ان کے بچے کم ہوتے ہیں۔ بچے کم ہونے کی وجہ سے ان کی تعداد بہت آہستہ بڑھتی ہے۔
اس خطرے کو کم کرنے کے لیے شارجہ میں واقع ’دی اریبین وائلڈ لائف سینٹر‘ گزشتہ دس برسوں سے ان کی شرح پیدائش میں اضافے کے لیے ان کی افزائش کر رہا ہے۔
اریبین وائلڈ لائف سینٹر متحدہ عرب امارت کا واحد ادارہ ہے جو ان تیندووں کے تحفظ کے لیے کام کر رہا ہے اور ان کی ختم ہوتی نسل کے بارے میں لوگوں کو اجاگر کرنے میں کوشاں ہے۔
شارجہ میں ماحولیات کے تحفظ کے لیے کام کرنے والے ادارے ’انوائرومینٹ اینڈ پروٹیکٹیڈ ایریاس اتھارٹی‘ کے چئیرمین ہنا سیف السعودی کا کہنا ہے کہ عام طور پر سمجھا جاتا ہے کہ صحرا میں دور دور تک صرف ریت کے ڈھیر پھیلے ہوتے ہیں لیکن یہ تصویر غلط ہے۔
’ہمارے یہاں مختلف جغرافیائی خطے ہیں۔ یہاں پہاڑی علاقے ہیں، ساحلی علاقے ہیں۔‘
متحدہ عرب امارات میں گزشتہ پندرہ سالوں سے تیندووں کو عام عوام کے سامنے نمائش کے لیے پیش نہیں کیا گیا ہے۔ حالانکہ اس نسل کے تیندوے عمان، سعودی عرب اور یمن میں بھی پائے جاتے ہیں۔
ہنا سیف السعدی کا کہنا ہے کہ ان تیندووں کے تحفظ کے لیے وہ ان تینوں ممالک میں جنگلات کے تحفظ کے لیے کام کرنے والے اداروں سے رابطہ قائم کیے ہوئے ہیں۔

80 سالہ پرانی تصاویر سے دلچسپ اور حیرت انگیز انکشافات۔















ایک امریکی ڈاکٹر کے اسلام قبول کرنے کا سچا اورعجیب واقعہ



Wednesday, 30 May 2012

بہت بہت مبارکاں: جناب خرم شہزاد خرم صاحب کو!!!!!


موبائل فون پر ایس ایم ایس کو نوید سنتےہیں مجھے لگا کہ شاید میرے کانوں نے دھوکا کھایا ہے، کیوں کہ میرے موبائل پر یو اے ای میں ایس ایم ایس ایسے ہی ہے جیسے بیچ صحرا میں آپ کو اچانک پانی کا چشمہ نظر آجائے۔ بڑی حسرت ہی رہتی ہے کہ فون پر ایس ایم ایس ہی آجائے، تو چلے اس فون کا اپنے ساتھ ہونے کا کچھ یقین ہو جائے۔

بہرحال ایک نا معلوم نمبر سے انتہائی خوشی کی ایک خبر تھی

کہ ::::

ماشاء اللہ، اللہ نے چاند سی بیٹی عطاء کی ہے۔

بہت اچھی خبر لیکن نا بندے کا نام معلوم تھا نا ہی نمبر محفوظ تھا کہ پتہ چلتا کس کا ایس ایم ایس ہے، میرا ذہن فوری طورپر تمام دوست احباب کو ڈھونڈنے لگا کہ کون ہو سکتا ہے? پھر فون اٹھایا اور ایک اور دوست کو بتایا ، بلکہ پوچھا شاید اس کے پاس بھی میسج آیا ہو۔ لیکن اس کا جواب نفی میں تھا، اب تجسس اور جاگا کہ یہ تو کوئی قریبی جاننے والا ہے جو صرف مجھے جانتا ہے۔ دوست کو کہا کہ ذرا فون کر کے چیک کرنا۔

اس نے فوری فون ملایا اور تھوڑی دیر بعد ہی میری لائن پر انٹرنیشنل لائن ٹرانسفر کر دی، سلام ادا کرتے ہی:::::::::::::::::::::::::::::

دل خوشی سے اچھلنے کو تھا اور آنکھیں مسرت سے آشک بار

جی دوسری طرف اپنے شہزادے یعنی خرم شہزاد خرم صاحب تھے، اعلٰی حضرت نے یہ خبر دوبارہ سنائی تو دل کو اور بھی خوشی محسوس ہوئی۔

ماشاء اللہ ، بیٹی اللہ کی ایک بہت بڑی نعمت ہے اور جنت کا ایک وسیلہ بھی۔

تو بھائیو!! خرم بھائی کی خوشی میں سب شریک ہوں، جن کے پاس ان کا پاکستان کا نمبر نہیں وہ مجھ سے لے سکتا ہے ورنہ انکی اپنی ویب سائیٹ "نوائے ادب" بھی موجود ہے۔

ان کو میری طرف سے اور میرے ساتھ وہ سب احباب جو اس پیارے سے انسان کو جانتے ہیں اور بہت یاد کرتے ہیں سب کی طرف سے بہت بہت  "مبارکاں" تے مٹھائی ادھار، انشاء اللہ

Tuesday, 29 May 2012

رب دلاں وچ رہندا::::بلھے شاہ

 
 نہ کر بندیا میری میری
نہ   تیری    نہ    میری
چار    دناں    دا    میلہ
دنیا فیر مٹی دی ڈھیری
مندر ڈھا دے مسجد ڈھا دے
ڈھا   دے   جو   کجھ ڈھیندا
اک  بندے  دا  دل نہ ڈھاویں
رب   دلاں   وچ   رہندا

منتخب تحریر زاویہ از اشفاق احمد

 اشفاق احمد زاویہ  منتخب تحریر
بغداد میں ایک نوجوان تھا - وہ بہت خوبصورت تھا ، اور اس کا کام نعل سازی تھا - وہ نعل بناتا بھی تھا اور گھوڑے کے سموں پر چڑھاتا بھی تھا -
نعل بناتے وقت تپتی بھٹی میں سرخ شعلوں کے اندر وہ نعل رکھتا اور پھر آگ میں اسے کسی " جمور " یا کسی اوزار کے ساتھ نہیں پکڑتا تھا بلکہ آگ میں ہاتھ ڈال کے اس تپتے ہوئے شعلے جیسے نعل کو نکال لیتا اور اپنی مرضی کے مطابق اسے (shape) شکل دیتا تھا -
لوگ اسے دیکھ کر دیوانہ کہتے اور حیران بھی ہوتے تھے کہ اس پر آگ کا کوئی اثر نہیں ہوتا -

وہاں موصل شہر کا ایک شخص آیا جب اس نے ماجرا دیکھا تو اس نے تجسس سے اس نوجوان سے پوچھا کہ اسے گرم گرم لوہا پکڑنے سے کیوں کچھ نہیں ہوتا ؟
اس نوجوان نے جواب دیا کہ وہ جلدی میں لوہے کو اٹھا لیتا ہے اور اب اس پر ایسی کیفیت طاری ہو گئی ہے کہ میرا ہاتھ اسے برداشت کرنے کا عادی ہوگیا ہے -
اور اسے کسی جمور یا پلاس کی ضرورت نہیں پڑتی -
اس شخص نے کہا کہ میں اس بات کو نہیں مانتا " یہ تو کوئی اور ہی بات ہے - "
اس نے نوجوان سے کہا کہ مجھے اس کی حقیقت بتاؤ ؟

اس نوجوان نے بتایا کہ بغداد میں ایک نہایت حسین و جمیل لڑکی تھی اور اس کے والدین عمرے کے لیے گئے ، اور کسی حادثے کا شکار ہو کے وہ دونوں فوت ہو گئے - اور یہ لڑکی بے یار و مددگار اس شہر میں رہنے لگی -

وہ لڑکی پردے کی پلی ہوئی ، گھر کے اندر رہنے والی لڑکی تھی اب اس کو سمجھ نہیں آتی تھی کہ زندگی کیسے گزارے -
آخر کار نہایت غمزدہ اور پریشانی کی حالت میں وہ باہر سڑک پر نکل آئی -
اس نے میرے دروازے پر دستک دی اور کہا " کیا ٹھنڈا پانی مل سکتا ہے "
میں نے کہا ہاں اور اندر سے اس لڑکی کو ٹھنڈا پانی لا کر پلایا اور اس لڑکی نے کہا خدا تمہارا بھلا کرے -

میں نے اس سے پوچھا کیا تم نے کچھ کھایا بھی ہے کہ نہیں ؟
اس لڑکی نے کہا نہیں میں نے کچھ نہیں کھایا -

میں نے اس سے اکیلے اس طرح پھرنے کی وجہ پوچھی تو اس لڑکی نے اپنے اوپر گزرا سارا واقعہ سنایا اور کہا کہ مجھے سمجھ نہیں آتی میں زندگی کیسے بسر کروں -
میں نے اس سے کہا کہ تم شام کو یہیں میرے گھر آجانا اور میرے ساتھ کھانا کھانا - میں تمھیں تمہاری پسند کا ڈنر کھلاونگا وہ لڑکی چلی گئی -

اس نوجوان نے بتایا کہ میں نے اس کے لیے کباب اور بہت اچھی اچھی چیزیں تیار کیں وہ شام کے وقت میرے گھر آگئی اور میں نے کھانا اس کے آگے چن دیا -
جب اس لڑکی نے کھانے کے لیے ہاتھ بڑھایا تو میں نے دروازے کی چٹخنی چڑھا دی اور میری نیت بدل گئی کیوں کہ وہ انتہا درجے کا ایک آسان موقع تھا - جو میری دسترس میں تھا -

جب میں نے دروازے کی چٹخنی چڑہائی تو اس لڑکی نے پلٹ کر دیکھا اور اس نے کہا کہ میں بہت مایوس اور قریب المرگ اور اس دنیا سے گزر جانے والی ہوں -
اس نے مزید کہا " اے میرے پیارے بھائی تو مجھے خدا کے نام پر چھوڑ دے "

وہ نوجوان کہنے لگا میرے سر پر برائی کا بھوت سوار تھا - میں نے اس سے کہا کہ ایسا موقع مجھے کبھی نہیں ملے گا میں تمھیں نہیں چھوڑ سکتا -
اس لڑکی نے مجھے کہا کہ
" میں تمھیں خدا اور اس کے رسول کے نام پردرخواست کرتی ہوں کہ میرے پاس سوائے میری عزت کے کچھ نہیں ہے اور ایسا نہ ہو کہ میری عزت بھی پامال ہو جائے اور میرے پاس کچھ بھی نہ بچے اور پھر اس حالت میں اگر میں زندہ بھی رہوں تو مردوں ہی کی طرح جیئوں "

اس نوجوان نے بتایا کہ لڑکی کی یہ بات سن کرمجھ پر خدا جانے کیا اثر ہوا ، میں نے دروازے کی چٹخنی کھولی اور دست بستہ اس کے سامنے کھڑا ہوگیا اور کہا کہ

" مجھے معاف کر دینا میرے اوپر ایک ایسی کیفیت گزری تھی جس میں میں نبرد آزما نہیں ہو سکا تھا لیکن اب وہ کیفیت دور ہو گئی ہے تم شوق سے کھانا کھاؤ اور اب سے تم میری بہن ہو - "

یہ سن کر اس لڑکی نے کہا کہ

" اے الله میرے اس بھائی پر دوزخ کی آگ حرام کر دے - "

یہ کہ کر وہ رونے لگی اور اونچی آواز میں روتے ہوئی کہنے لگی کہ

" اے الله نہ صرف دوزخ کی آگ حرام کر دے بلکہ اس پر ہر طرح کی آگ حرام کر دے - "

نوجوان نے بتایا کہ لڑکی یہ دعا دے کر چلی گئی - ایک دن میرے پاس زنبور (جمور) نہیں تھا اور میں دھونکنی چلا کر نعل گرم کر رہا تھا میں نے زنبور پکڑنے کے لیے ہاتھ بڑھایا تو وہ دہکتے ہوئے کوئلوں میں چلا گیا لیکن میرے ہاتھ پر آگ کا کوئی اثر نہ ہوا -

میں حیران ہوا اور پھر مجھے اس لڑکی کی وہ دعا یاد آئی اور تب سے لے کر اب تک میں اس دہکتی ہوئی آگ کو آگ نہیں سمجھتا ہوں بلکہ اس میں سے جو چاہے بغیر کسی ڈر کے نکال لیتا ہوں

نجات کا راستہ:::::::::ایک منتخب تحریر


وہ گرمیوں کی ایک تپتی دوپہر تھی۔ دفتر سے میں نے چھٹی لی ہوئی تھی ، کیونکہ گھر کے کچھ ضروری کام نمٹانے تھے۔ میں بچوں کو کمپیوٹر پر گیم کھیلنا سکھا رہا تھا کہ باہر بیل بجی۔ کافر دیر کے بعد دوسری بیل ہوئی تو میں نے جا کر دورازہ کھولا۔ سامنے میری ہی عمر کے ایک صاحب کھڑے تھے۔

...السلام علیکم ۔۔۔۔! انہوں نے نہایت مہذب انداز میں سلام کیا۔ پہلے تو میرے ذہن میں خیال گزرا یہ کوئی چندہ وغیرہ لینے والے ہیں۔ ان کے چہرے پر داڑھی خوب سج رہی تھی، اور لباس سے وہ چندہ مانگنے والے ہر گز نہیں لگ رہے تھے۔ جی فرمایئے ، میں نے پوچھا۔ آپ طاہر صاحب ہے؟ ’’جی‘‘ میں نے مختصر جواب دیا۔ وہ مجھے رفیق صاحب نے بھیجا ہے۔ غالباً آپ کو کرائے دار کی ضرورت ہے۔ ہاں ہاں۔۔۔ مجھے اچانک یاد آیا کہ میں نے دفتر کے ایک ساتھ طاہر کو بتایا تھا کہ میں نے اپنے گھر کا اوپر والا پورشن کرائے پر دینا ہے اگر کوئی نیک اور چھوٹی سی فیملی اس کی نظر میں ہو تو بتائے۔ کیونکہ دفتر کی تنخواہ سے خرچے پورے نہیں ہوتے۔ مجھے افسوس ہوا کہ میں نے اتنی دھوپ میں کافی دیر اسے باہر کھڑا رکھا۔

اسے چھ مال کے لیے مکان کرائے پر چاہیے تھا۔ کیونکہ اپنا مکان وہ گرا کر دوبارہ تعمیر کروا رہے تھے۔ میں نے تین ہزار کرایہ بتایا۔ لیکن بات دو ہزار پر پکی ہوگئی۔ وہ چلا گیا تو مجھے افسوس ہونے لگا کہ کرایہ کچھ کم ہے۔ گواو پر صرف ایک چھوٹا سا کمرہ، کچن اور باتھ روم تھا۔ مجھے اپنی بیوی کا دھڑکا لگا ہوا تھا کہ اسے معلوم ہوگا تو کتنا جھگڑا ہوگا۔ اور وہی ہوا۔ بقول اس کے دو ہزار تو صرف بچوں کی فیس ہے۔ مجھے اس نے کافی برا بھلا کہا اور میں چپ چاپ سنتا رہا، اور اپنی قسمت کو کوستا رہا ۔ میں نے ایم ایس سی بہت اچھے نمبروں سے کیا تھا۔ اس لیے فوراً نوکری مل گئی، نوکری ملی تو شادی بھی فوراً ہوگئی۔
میری بیوی بھی بہت پڑھی لکھی تھی۔ وہ بھی ایک انگریزی اسکول میں پڑھاتی تھی، ہمارے تین بچے تھے۔ مگر گزارا مشکل سے ہوتا تھا۔

اگے ہی دن وہ صاحب اور ان کے بیوی بچے ہمارے گھر شفٹ ہوگئے۔ ان کی بیوی نے مکمل شرعی پردہ کیا تھا۔ دونوں بڑے بچے بہت ہی مہذب اور خوبصورت تھے۔ چھوٹا گود میں تھا۔ کچھ دنوں کے بعد ایک دن میں دفتر سے آیا تو میری بیوی نے بتایا کہ میں نے بچوں کو کرائے دار خاتون سے قرآن مجید پڑھنے کے لیے بھیج دیا کرنا ہے۔‘‘ اچھا پڑھاتی ہیں، ان کے اپنے بچے اتنی خوبصورت تلاوت کرتے ہیں۔

کچھ دنوں بعد جب میں نے ان کے ایک بیٹے سے تلاوت سنی تو پہلی مرتبہ میرے دل میں خواہش ابھری کہ کاش ہمارے بچے بھی اتنا اچھا قرآن مجید پڑھیں۔ ایک دن میں بہار جانے لگا تو اپنی بیوی سے پوچھ ہی لیا کہ وہ بارلر جائے گی تو لیتا چلوں۔ کیونکہ پہلے تو دو مہینے میں تین چار مرتبہ پارلر جاتی تھی اور اس مہینے میں ایک بار بھی نہیں گئی تھی۔
اس نے جواب دیا کہ پارلر فضول خرچی ہے۔ جتنی خوبصورتی چہرے پر پانچ بار وضو کرنے اور نماز اور تلاوت سے آتی ہے کسی چیز سے نہیں آتی۔ اگر زیادہ ضرورت ہو تو گھریلو استعمال کی چیزوں سے ہی چہرے پر نکھار رہتا ہے۔

ایک روز میں کیبل پر ڈرامہ دیکھ رہا تھا تو میرے چھوٹے بیٹے نے میرے بغیر پوچھے ٹی وی بند کر دیا اور میرے پاس آکر بیٹھ گیا۔ بابا یہ بیکار مشغلہ ہے۔ میں آپ کو اپنے نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک واقعہ سناؤں۔ مجھے غصہ تو بہت آیا لیکن اپنے بیٹے کی زبان جب واقعہ سنا تو میرا دل بھر آیا۔ یہ تمہیں کس نے بتایا میں نے پوچھا۔ ہماری استانی محترمہ نے۔۔۔ وہ قرآن مجید پڑھانے کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام کے متعلق بتاتی ہیں۔ اپنے گھر کی اور بیوی بچوں کی تیزی سے بدلتی حالت دیکھ کر میں حیران ہو رہا تھا کہ ایک روز بیوی نے کہا کہ کیبل کٹوادیں۔ کوئی نہیں دیکھا اور ویسے بھی فضول خرچی اور اوپر سے گناہ ہے۔ چند روز بعد بیوی نے شاپنگ پر جانے کو کہا تو میں بخوشی تیار ہو گیا، اس نے کافی دنوں بعد شاپنگ کا کہا تھا ورنہ پہلے تو آئے دن بازار جانا رہتا تھا۔ کیا خریدنا ہے؟ میں نے پوچھا۔
’’برقعہ‘‘
کیا؟؟ میں ہنسا تو وہ بولی’’ پہلے میں کتنے ہی غیر شرعی کام کرتی تھی، آپ نے کبھی مذاق نہیں اڑایا تھا، اب اچھا کام کرنا چاہتی ہوں تو آپ کو مذاق سوجھ رہا ہے۔‘‘ میں کچھ نہ بولا۔ پھر چند دن بعد اس نے مجھے کافی سارے پیسے دیئے اور کہا فریج کی باقی قیمت ادا کر دیں۔ تاکہ مزید قسطیں نہ دینی پڑیں۔ اتنے روپوں کی بچت کیسے ہوگئی۔ بس ہو گئی،وہ مسکرائی جب انسان اللہ کے بتائے ہوئے احکام پر چلنے لگے تو برکت خود بخود ہو جاتی ہے۔

’’یہ بھی وہ کرائے دار خاتون بتایا ہے‘‘ میں نے پوچھا تو وہ کھل کھلا کر ہنس دی۔ سکون میرے اندر تک پھیل گیا۔میری بیوی اب نہ مجھ سے کبھی لڑی، نہ شکایت کی۔ بچوں کو وہ گھر میں پڑھا دیتی ہے۔ خود بچوں کے ساتھ قرآن مجید تجوید سے پڑھنا سیکھ رہی تھی وہ خود نماز پڑھنے لگی تھی، اور بچوں کو سختی سے نماز پڑھوانے بھیجتی۔

مجھے احساس ہونے لگا کہ نجات کا راستہ یہی تو ہے۔ پیسہ آرائش اور سکون نہیں دیتا۔ اطمینان تو بس اللہ کی یاد میں ہے۔ مجھے اس دن دو ہزار کرایہ تھوڑا لگ رہا تھا، آج سوچتا ہوں تو لگتا ہے کہ وہ تو اتنا زیادہ تھا کہ آج میرا گھر سکون بھر گیا ہے۔ نیک بیوی نعمت ہے۔ یہ میں آج سمجھتا ہوں