Tuesday, 31 May 2011

دنیا گول ہے :::::::پارٹ-ون:::::::

دنیا گول ہے (پارٹ-ون)
آپ بیتیاں راشد ادریس رانا

Year: 2009_UAE.
رات کے نو بجے اور میں نے جلدی جلدی دکان بند کی۔ یعنی اپنا کمپیوٹر آف کیا اور آفس سے نکلنے کی ٹھانی، آج کافی دیر ہوگئی تھی، ابوظہبی یو اے ای میں آئے ہوئے مجھے تقریبًا آٹھ نو مہینے ہو چکے تھے، جاب مستقل ہو چکی تھی اور میں بہت انجوائے کر رہا تھا، مستقبل کے تابناک خواب، سب کچھ ہرا ہرا یعٰنی سبز سبز
تھا۔

اور لمبے لمبے پلان، دو سو مرغیاں روز کے ڈیڈھ سو انڈے اور میرا اپنا کاروبار، پھر اور مرغیاں اور انڈے اور پوری دنیا میں انڈے صرف میرے بزنس سے سپلائی ہونے لگے۔


لیکن میں اپنے خوابوں سے تب جاگا جب دوست نے بتایا کہ کوئی گاڑی دفتر میں موجود نہیں اور نا ہی آنے کا کوئی اندیشہ ہے۔ دفتر سے رہائش کا فاصلہ کچھ زیادہ کم بھی نہیں اور اوپر سے یو اے ای کی گرمی، شدید گرم ہوا اور حبس۔ چل چلا چل راہی چل چلا چل

نکل پڑے مجاہد پا پیادہ!!!!!!!!!!!!!

آدھے راستے تک پھر وہی خواب لیکن اب کی بار میں اکیلا نہیں بلکہ دوست بھی میری طرح میرے خوابوں میں شانہ بشانہ تھا اور خوب مزے مزے کے پلان تیار کر رہے تھے، بس اس کافائدہ یہ ہوا کہ راستہ اور راستے کی کٹھن تھوڑی کم محسوس ہو رہی تھی۔

انڈسٹرئیل ایریا کا پل کراس کیا اور بارونق شہر میں داخل ہوئے تو پھر احساس ہوا کہ پسینے میں شرابور ہو چکے ہیں اور پیاس بھی بہت لگی ہے۔ لیکن چلتے رہے۔ ایک مشہور مارکیٹ کے آگے سے گزرنے لگے اور جیسے ہی کنارے پر پہنچے تو ایک شخص سندھی ٹوپی اور شلوار قمیض میں ملبوس اچانک الٹے ہاتھ والی سائیڈ سے نمودار ہوا۔ اور قدرتی طور پر اس نے ہماری طرف دیکھا، پھر ایک دم سے ٹھٹھکا، چونکا اور رک گیا۔

بلکل یہی ردعمل میرا بھی تھا، میں بھی ٹھٹھکا، چونکا، رکا اور پھر بہت پھرتی سے میرے دماغ نے کام کیا میں نے جلدی سے اپنی ٹوپی اتاری، ڈائری اور ٹوپی ساتھ والے دوست کو تھما دی جو کہ حیرت کے سمندر میں غوطہ خوری کر رہا تھا اور پریشان تھا کہ کونسی حرکتیں ہو رہی ہیں، اس کے ساتھ نمودار ہونے والے شخص نے بھی ویسا ہی کیا اس نے فوری طور پر اپنی سندھی ٹوپی اتاری، چشمہ اتارا اور میرے ہی دوست کو پکڑاتے ہوئے بولا " بھائی صاحب یہ بھی پکڑئے گا بہت مہربانی ہو گئی"

میرا دوست مزید سٹپٹایا کہ یہ کیا ڈرامہ ہے:::::::::: اسکے بعد!!!


ہم دونوں کے منہ سے ایک دوسرے کی شان میں خوبصورت الفاظ کی بارش شروع ہو گئی جسے نے راہ چلتے ہوئے بہت سے لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کر لیا، کچھ لوگ رک گئے اور کچھ پلٹ پلٹ کر دیکھنے لگے، کچھ پل یہ سلسلہ جاری رہا اور آخر کار ہم دونوں بغل گیر ہو گئے۔

جس کے ساتھ ہی دائیں بائیں والوں نے دل ہی دل میں ہمیں القابات سے نوازا اور یہ سوچتے ہوئے روانہ ہو گئے کہ

انسانوں کی بستی میں
کچھ پاگل، پاگل ہوگئے ہیں۔

میرے ساتھ چلنے والے دوست نے مسکراتے ہوئے ہم دونوں کو دیکھا اور طویل ٹھنڈی سانس لی۔

یہ تھی میری ملاقات میرے ایک پرانے کالج کے دوست جناب سہیل صاحب سے اور وہ بھی تقریبًا سات سال کے عرصہ کے بعد اور جگہ بھی یو اے ای، جہاں نا اسے توقع تھی اور نا مجھے کہ ایک دن اچانک ایک فٹ پاتھ پر مارکیٹ کے پاس ہم یوں ملیں گے۔

اس دن میں نے اپنے دل میں سوچا کہ واقعی ہی
"دنیا گول ہے"۔

Monday, 30 May 2011

مثبت کام کی بُنیاد تو ڈال دوو) محمد سلیم)

مثبت کام کی بُنیاد تو ڈال دو::::::::::::::::::::::::::::::

۱۹۳۰ کے عشرے میں (یہ کمیونزم کے زمانے کا ذکر ہے) ایک طالبعلم نے جب مصر کی ایگریکلچر یونیورسٹی میں داخلہ لیا، وقت ہونے پر اُس نے نماز پڑھنے کی جگہ تلاش کرنا چاہی تو اُسے بتایا گیا کہ یونیورسٹی میں نماز پڑھنے کی جگہ تو نہیں ہے۔ ہاں مگر تہہ خانے میں بنے ہوئے ایک کمرے میں اگر کوئی چاہے تو وہاں جا کر نماز پڑھ سکتا ہے۔

طالبعلم یہ بات سوچتے ہوئے کہ دوسرے طالبعلم اور اساتذہ نماز پڑھتے بھی ہیں یا نہیں، تہہ خانے کی طرف اُس کمرے کی تلاش میں چل پڑا۔

وہاں پہنچ کر اُس نے دیکھا کہ نماز کیلئے کمرے کے وسط میں ایک پھٹی پرانی چٹائی تو بچھی ہوئی ہے مگر کمرہ صفائی سے محروم اور کاٹھ کباڑ اور گرد و غبار سے اٹا ہوا ہے۔ جبکہ یونیورسٹی کا ایک ادنیٰ ملازم وہاں پہلے سے نماز پڑھنے کیلئے موجود ہے۔ طالبعلم نے اُس ملازم سے پوچھا کیا تم یہاں نماز پڑھو گے؟

ملازم نے جواب دیا، ہاں، اوپر موجود لوگوں میں سے کوئی بھی ادھر نماز پڑھنے کیلئے نہیں آتا اور نماز کیلئے اس کے علاوہ کوئی جگہ بھی نہیں ہے۔

طالبعلم نے ملازم کی بات پر اعتراض کرتے ہوئے کہا؛ مگر میں یہاں ہرگز نماز نہیں پڑھوں گا اور اوپر کی طرف سب لوگوں کو واضح دکھائی دینے والی مناسب سی جگہ کی تلاش میں چل پڑا۔ اور پھر اُس نے ایک جگہ کا انتخاب کر کے نہایت ہی عجیب حرکت کر ڈالی۔

اُس نے بلند آواز سے اذان کہی! پہلے تو سب لوگ اس عجیب حرکت پر حیرت زدہ ہوئے پھر انہوں نے ہنسنا اور قہقہے لگانا شروع کر دیئے۔ اُنگلیاں اُٹھا کر اس طالبعلم کو پاگل اور اُجڈ شمار کرنے لگے۔ مگر یہ طالبعلم تھا کہ کسی چیز کی پرواہ کیئے بغیر اذان پوری کہہ کر تھوڑی دیر کیلئے اُدھر ہی بیٹھ گیا۔ اُس کے بعد دوبارہ اُٹھ کر اقامت کہی اور اکیلے ہی نماز پڑھنا شروع کردی۔ اُسکی نماز میں محویت سے تو ایسا دکھائی تھا کہ گویا وہ اس دنیا میں تنہا ہی ہے اور اُسکے آس پاس کوئی بھی موجود نہیں۔

دوسرے دن پھر اُسی وقت پر آ کر اُس نے وہاں پھر بلند آواز سے اذان دی، خود ہی اقامت کہی اور خود ہی نماز پڑھ کر اپنی راہ لی۔ اور اس کے بعد تو یہ معمول ہی چل نکلا۔ ایک دن، دو دن، تین دن۔۔۔وہی صورتحال۔۔۔ پھر قہقہے لگانے والے لوگوں کیلئے اُس طالبعلم کا یہ دیوانہ پن کوئی نئی چیز نہ رہی اور آہستہ آہستہ قہقہوں کی آواز بھی کم سے کم ہوتی گئی۔ اسکے بعد پہلی تبدیلی کی ابتداء ہوئی۔ نیچے تہہ خانے میں نماز پڑھنے والے ملازم نے ہمت کر کے باہر اس جگہ پر اس طالبعلم کی اقتداء میں نماز پڑھ ڈالی۔ ایک ہفتے کے بعد یہاں نماز پڑھنے والے چار لوگ ہو چکے تھے۔ اگلے ہفتے ایک اُستاذ بھی آ کر اِن لوگوں میں شامل ہوگیا۔

یہ بات پھیلتے پھیلتے یونیورسٹی کے چاروں کونوں میں پہنچ گئی۔ پھر ایک دن چانسلر نے اس طالبعلم کو اپنے دفتر میں بلا لیا اور کہا: تمہاری یہ حرکت یونیورسٹی کے معیار سے میل نہیں کھاتی اور نہ ہی یہ کوئی مہذب منظر دکھائی دیتا ہے کہ تم یونیورسٹی ہال کے بیچوں بیچ کھڑے ہو کر اذانیں دو یا جماعت کراؤ۔ ہاں میں یہ کر سکتا ہوں کہ یہاں اس یونیورسٹی میں ایک کمرے کی چھوٹی سی صاف سُتھری مسجد بنوا دیتا ہوں، جس کا دل چاہے نماز کے وقت وہاں جا کر نماز پڑھ لیا کرے۔

اور اس طرح مصر کی ایگریکلچر یونیورسٹی میں پہلی مسجد کی بنیاد پڑی۔ اور یہ سلسلہ یہاں پر رُکا نہیں، باقی کی یونیورسٹیوں کے طلباء کی بھی غیرت ایمانی جاگ اُٹھی اور ایگریکلچر یونیورسٹی کی مسجد کو بُنیاد بنا کر سب نے اپنے اپنے ہاں مسجدوں کی تعمیر کا مطالبہ کر ڈالا اور پھر ہر یونیورسٹی میں ایک مسجد بن گئی۔

اِس طالبعلم نے ایک مثبت مقصد کے حصول کو اپنی زندگی کا مقصد بنا لیا اور پھر اِس مثبت مقصد کے نتائج بھی بہت عظیم الشان نکلے۔ اور آج دن تک، خواہ یہ طالبعلم زندہ ہے یا فوت ہو چکا ہے، مصر کی یونیورسٹیوں میں بنی ہوئی سب مسجدوں میں اللہ کی بندگی ادا کیئے جانے کے عوض اجر و ثواب پا رہا ہےاور رہتی دُنیا تک اسی طرح اجر پاتا رہے گا۔ اس طالب علم نے اپنی زندگی میں کار خیر کر کے نیک اعمالوں میں اضافہ کیا۔

میرا آپ سے یہ سوال ہے کہ

ہم نے اپنی زندگیوں میں ایسا کونسا اضافہ کیا ہے؟ تاکہ ہمارا اثر و رسوخ ہمارے گردو نواح کے ماحول پر نظر آئے، ہمیں چاہیئے کہ اپنے اطراف میں نظر آنے والی غلطیوں کی اصلاح کرتے رہا کریں۔ حق و صدق کہنے اور کرنے میں کیسی مروت اور کیسا شرمانا؟ بس مقاصد میں کامیابی کیلئے اللہ تبارک و تعالیٰ کی مدد و نصرت کی دعا مانگتے رہیں۔

اور اسکا فائدہ کیا ہوگا؟

*
اپنے لیئے اور دوسرے کیلئے سچائی اور حق کا علم بُلند کر کے اللہ کے ہاں مأجور ہوں کیونکہ جس نے کسی نیکی کی ابتداء کی اُس کیلئے اجر، اور جس نے رہتی دُنیا تک اُس نیکی پر عمل کیا اُس کیلئے اور نیکی شروع کرنے والے کو بھی ویسا ہی اجر ملتا رہے گا۔

*
لوگوں میں نیکی کرنے کی لگن کی کمی نہیں ہے بس اُن کے اندر احساس جگانے کی ضرورت ہے۔ قائد بنیئے اور لوگوں کے احساسات کو مُثبت رُخ دیجیئے۔

اگر کبھی اچھے مقصد کے حصول کے دوران لوگوں کے طنز و تضحیک سے واسطہ پڑے تو یہ سوچ کر دل کو مضبوط رکھیئے کہ انبیاء علیھم السلام کو تو تضحیک سے بھی ہٹ کر ایذاء کا بھی نشانہ بننا پڑتا تھا۔

انگور اور شراب



انگور اور شراب



مشہور شامی مصنف عادل ابو شنب نے اپنی کتاب شوام ظرفاء میں عرب مُلک شام میں متعین فرانسیسی کمشنر کی طرف سے دی گئی ایک ضیافت میں پیش آنے والے ایک دلچسپ واقعے کا ذکر کیا ہے۔ اُن دنوں یہ خطہ فرانس کے زیر تسلط تھا اور شام سمیت کئی آس پاس کے مُلکوں کیلئے ایک ہی کمشنر (موریس سارای) تعینات تھا۔ کمشنر نے اس ضیافت میں دمشق کے معززین، شیوخ اور علماء کو مدعو کیا ہوا تھا۔


اس ضیافت میں ایک سفید دستار باندھے دودھ کی طرح سفید ڈاڑھی والے بزرگ بھی آئے ہوئے تھے۔ اتفاق سے اُنکی نشست کمشنر کے بالکل آمنے سامنے تھی۔ کمشنر نے دیکھا کہ یہ بزرگ کھانے میں ہاتھ ڈالے مزے سے ہاتھوں کے ساتھ کھانا کھا رہا ہے جبکہ چھری کانٹے اُس کی میز پر موجود ہیں۔ ایسا منظر دیکھ کر کمشنر صاحب کا کراہت اور غُصے سے بُرا حال ہو رہا تھا۔ نظر انداز کرنے کی بہت کوشش کی مگر اپنے آپ پر قابو نا پا سکا۔ اپنے ترجمان کو بُلا کر کہا کہ اِس شیخ صاحب سے پوچھے کہ آخر وہ ہماری طرح کیوں نہیں کھاتا؟


شیخ صاحب نے ترجمان کو دیکھا اور نہایت ہی سنجیدگی سے جواب دیا؛ تو تمہارا خیال ہے کہ میں اپنئ ناک سے کھا رہا ہوں؟


کمشنر صاحب نے کہا، نہیں ایسی بات نہیں، ہمارا مطلب یہ ہے کہ تم چھری اور کانٹے کے ساتھ کیوں نہیں کھاتے؟


شیخ صاحب نے جواب دیا؛ مُجھے اپنے ہاتھوں کی صفائی اور پاکیزگی پر پورا یقین اور بھروسہ ہے، کیا تمہیں بھی اپنے چھری اور کانٹوں پر کی صفائی اور پاکیزگی پر اتنا ہی بھروسہ ہے؟


شیخ صاحب کے جواب سے کمشنر جل بھن کر رہ گیا، اُس نے تہیہ کر لیا کہ اس اہانت کا بدلہ تو ضرور لے گا۔


کمشنر کی میز پر اُس کے دائیں طرف اُسکی بیوی اور بائیں طرف اُسکی بیٹی بھی ساتھ بیٹھی ہوئی تھی۔


چہ جائیکہ کمشنر عربوں کی ثقافت، روایات اور دینداری سے واقف تھا، مزید براں اُس نے اس ضیافت میں شہر کے معززین اور علماء کو مدعو کر رکھا تھا۔ مگر ان سب روایتوں کو توڑتے ہوئے اُس نے اپنے لئے شراب منگوائی اور شیخ صاحب کو جلانے کی خاطر نہایت ہی طمطراق سے اپنے لیئے، اپنی بیوی اور بیٹی کیلئے گلاسوں میں اُنڈیلی۔ اپنے گلاس سے چُسکیاں لیتے ہوئے شیخ صاحب سے مخاطب ہو کر کہا؛ سنو شیخ صاحب، تمہیں انگور اچھے لگتے ہیں اور تم کھاتے بھی ہو، کیا ایسا ہے ناں؟


شیخ صاحب نے مختصراً کہا، ہاں،۔


کمشنر نے میز پر رکھے ہوئے انگوروں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا؛ یہ شراب ان انگوروں سے نکالی ہوئی ہے۔ تم انگور تو کھاتے ہو مگر شراب کے نزدیک بھی نہیں لگنا چاہتے!


ضیافت میں موجود ہر شخص کمشنر اور شیخ صاحب کے درمیان پیش آنے والی اس ساری صورتحال سے آگاہ ہو چکا تھا۔ سب کے چہروں سے نادیدہ خوف کے سائے نظر آ رہے تھے اور ہر طرف خاموشی تھی۔ مگر اس شیخ صاحب کے نا تو کھانے سے ہاتھ رُکے اور نا ہی چہرے پر آئی مسکراہٹ میں کوئی فرق آیا تھا۔


کمشنر کو مخاطب کرتے ہو ئے شیخ صاحب نے کہا؛ یہ تیری بیوی ہے اور یہ تیری بیٹی ہے۔ یہ والی اُس سے آئی ہوئی ہے۔ تو پھر کیوں ایک تو تیرے اوپر حلال ہے اور دوسری حرام ہے؟


مصنف لکھتا ہے کہ اسکے بعد کمشنر نے فوراً ہی اپنی میز سے شراب اُٹھانے کا حُکم دیدیا تھا۔



مع السلامة

Saturday, 28 May 2011

دعا کی اپیل

دعا کی اپیل

یہ اپیل سعودی عرب سے ہمارے ایک دوست کی تواسط سے ہم تک پہنچی ہے سب دوستوں سے گزارش ہے کہ پلیز ان کے لیئے دعا کریں۔۔۔۔۔اور اگر ہو سکے تو دوسروں تک بھی پہنچائیں۔

شکریہ

============================

HEALTH -JUST A REQUEST FOR DUA!!!!!

JUST A REQUEST FOR DUA!!!!!

From Zubair Mahmood

Assalamualaikum Wa Rahmatullaahi Wa Barakatahu

My daughter Sana , 26 years old mother of two (1 ½ year old son and 3 ½ month daughter) is battling for life at Aga Khan University Hospital From last 2 ½ months. She is suffering from 4th stage cancer. The doctors have given us all hopes that she will recover Inshallah. I have trust in ALLAH and in the power of dua.
Therefore as a helpless father, I beg all of you to pray for my daughter, please include her as a part of each and every dua of yours..

Please pray to ALLAH that He should give her body the strength to respond to the Medication, that He should miraculously heal her of this disease and Insha Allah grant her a healthy and long life (AMEEN)

Please, please pass this message on to as many brothers and sisters as you can. If even ten percent of you would remember to pray for my daughter, it would mean a lot for us. Your duas and Allah's mercy is our ONLY hope. Jazaakalah

Please don't forget, BEFORE YOU CLOSE THIS MESSAGE PLEASE FWD.

--
Best Regards,

Muhammad Faheem
+966-501958302

Wednesday, 25 May 2011

****THIS IS LIFE****

When there is no friend,
When life is on the dead end,

When world is not a paradise,

When your confidence dies,

Tell yourself - Go on, THIS IS LIFE.....


When things don't go right,
When there is no ray of light,

And its too hard to survive,
Tell yourself - Go on, THIS IS LIFE.....


When there is competition to face,

When you are lagging behind in the race,
When you've lost faith,

When you're betrayed by a fraud,

Tell yourself - Go on, THIS IS LIFE!.....


When others don't respect you,
When you're not amongst the admirable few,

When for a question, you can't find a solution,

When all you're sure about, is confusion,
Tell yourself - Go on, THIS IS LIFE.....

When your destination is miles apart,
When you don't know where to start,
When all you see around is pain,

When your hard work is in vain,

Tell yourself - Go on, THIS IS LIFE....

Even though all this happens
just have faith in self & face the life
with smile,
things will surely change one day
because as said "THIS IS LIFE....

Monday, 23 May 2011

پرندوں کا فن:::کمال قدرت کو دیکھیں، کیا ہنر مندی ہے::::













::::مجھے تم سے محبت ہے::::شکریہ نوائے ادب **خرم شہزاد خرم**

تمہیں ضد ہے کہ میں کہہ دوں
مجھے ضد ہے کہ تم کہہ دو
مجھے تم سے محبت ہے
کہو مجھ سے محبت ہے
نہیں یہ جانتے دونوں
محبت کب بھلا محتاج ہے لفظوں کی باتوں کی
محبت تو ہماری دھڑکنوں کے ساز میں شامل
سریلے گیت کی مانند
محبت یاد کی دیوی
جو تنہا رات کو اکثر اتر آتی ہے آنکھوں میں
محبت مسکراہٹ ہے حسیں نازک سے ہونٹوں کی
محبت صندلی ہاتھوں کی نازک لرزشوں میں ہے
محبت سوچ کی گہرائیوں سے پھوٹتی خوشبو
جو پَل پَل ساتھ رہتی ہے
محبت آنکھ میں پلتا وہ پراسرار جذبہ ہے
جسے اب تک سمجھ کوئی نہیں پایا
نہ اس کی کوئی صورت ہے
نہ اس کا کوئی پیمانہ
ڈھکے الفاظ میں اس کا بہت اظہار ہوتا ہے
کچھ ایسے ہی کہ جیسے اب
تہہِ دل سے تو ہم دونوں بہت اقرار کرتے ہیں
مگر پھر بھی نجانے کیوں
تمہیں ضد ہے کہ میں کہہ دوں
مجھے ضد ہے کہ تم کہہ دو
مجھے تم سے محبت ہے