Tuesday, 12 January 2016

رشتےکی پہچان اور قدر

As received from a friend.

ایک شخص اپنی گاڑی دھو رہا تھا گاڑی بالکل نئی تھی چند دن پہلے خریدی گئی تھی۔اس کا چار سالہ بیٹا آیا اور پتھر اٹھا کر گاڑی پر اسکریچ ڈالنے شروع کر دیے یہ دیکھ کر وہ شخص غصے سے پاگل ہو گیا اس نے اپنے چار سالہ بچے کا ہاتھ پکڑا اور اس پر کئی ضربیں لگائیں وہ شخص یہ بھول گیا کہ اس کے ہاتھ میں نٹ کھولنے والا رینچ ہے اس نے رینچ سے اپنے چار سال بیٹے کے ہاتھ پر ضربیں لگائیں۔۔
بچے کو ہسپتال لے جایا گیا اور بہت زیادہ فریکچرز کی بنا پر بچے کے زخمی ہاتھ کی تمام انگلیاں کاٹنی پڑیں.. جب بچے ک...و ہوش آیا اس نے اپنے باپ کو دیکھا تو آواز اور آنکھوں میں درد لیے فوراً اپنے باپ سے پوچھا.. "بابا! میری انگلیاں کب واپس آئیں گی؟"
باپ کے پاس اس بچے کے سوال کا کوئی جواب نہیں تھا وہ افسردہ ہوا اور خاموش رہا۔وہ گھر آیا اور غصے میں اپنی کار کو ٹانگوں سے ضربیں لگانے لگا۔تھک ہار کر وہ کار کے پاس بیٹھ گیا اس وقت اس کی نظر ان سکریچ پر پڑی جو اس کے چار سالہ بیٹے نے پتھر سے لگائے تھے وہ سکریچ نہیں تھے اس نے پتھر سے گاڑی پر ایک فقرہ لکھا تھا.."
LOVE YOU PAPA(I love my dad)
اگلے دن اس شخص نے دل برداشتہ ہوکر خودکشی کر لی.. غصے اور پیار کی کوئی حد نہیں ہوتی یہ فیصلہ آپ کو کرنا ہے کہ خوبصورت زندگی گزارنے کے لیے ان دونوں میں سے کون سا مناسب راستہ ہے۔۔پرانے وقتوں میں چیزیں استعمال کی جاتی تھیں اور انسانوں سے پیار کیا جاتا تھا ۔۔
ہمارے دور کا المیہ یہ ہے کہ چیزوں سے پیار کیا جاتا ہے اور انسانوں کو استعمال کیا جاتا ہے۔ ہر دن صبح کو گھر سے یہ خیال دماغ میں بٹھا کر نکلیں کہ چیزیں استعمال کرنے کے لیے ہیں اور انسان پیار کرنے کے لیے ہیں۔
یہی ایک راستہ ہے جس سے ہم اپنا اور دوسروں کا دن اچھا بنا سکتے ہیں۔۔اپنے خیالات کی حفاظت کریں یہ خیالات الفاظ بن جاتے ہیں اور الفاظ اعمال بن جاتے ہیں۔ اپنے اعمال کی حفاظت کریں یہ عادات بن جاتی ہیں۔۔اور اپنی عادتوں کی حفاظت کریں یہ کردار بن جاتی ہیں اور اپنے کردار کی حفاظت کریں یہ آپ کی قسمت آپ کا نصیب بن جاتا ہے.

Sunday, 10 January 2016

تقدیر نوں سدھا

رستہ پچھ ضمیر نوں سدھا
جہڑا انت اخیر نوں سدھا

جیون کڈا بھولا پنچھی
اڈدا جاوے تیر نوں سدھا

چاہئیے وی تے کر نئیں سکدے
ہتھ دی اک لکیر نوں سدھا

بھکھ نہ ویکھے لہو دے لیکھے
ویر ہو جاوے، ویر نوں سدھا

چور نوں پھڑیاں گل نئیں مکنی
پھڑ لئو رسہ گیر نوں سدھا

دھی نوں روندی ویکھ کے سوچاں 
ہو جاواں تقدیر نوں سدھا

Courtesy Majid Chaudhry FB.

Friday, 8 January 2016

وچوں سب دا حال برابر

سورج ٹردا نال برابر
دن کیوں لگن سال برابر
وتھ تے سجنا وتھ ہوندی اے
بھاونویں ہووے وال برابر
اکھ دا چانن مر جاوے تے
نیلا، پیلا، لال برابر
جُلی منجی بھین نوں دے کے
ونڈ لئے ویراں مال برابر
مرشد جے نہ راضی ہووے
مجرا ، ناچ، دھمال برابر
اتوں اتوں پردے پاون
وچوں سب دا حال برابر

Thanks Majid Chudary FB.

Monday, 4 January 2016

جج اور مرغی


ﺍﯾﮏ ﺷﺨﺺ ﺍﯾﮏ ﺫﺑﺢ ﮐﯽ ﮨﻮﺋﯽ ﻣﺮﻏﯽ ﻟﮯ ﮐﺮ ﻣﺮﻏﯽ ﻓﺮﻭﺵ ﮐﯽ ﺩﻭﮐﺎﻥ ﭘﺮ ﺁﯾﺎ ﺍﻭﺭﮐﮩﺎ:
ﺍس ﮐﻮ ﮐﺎﭦ ﮐﺮ ﻣﺠﮭﮯ ﺩﻭ.
ﻣﺮﻏﯽ ﻓﺮﻭﺵ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ:
ﻣﺮﻏﯽ ﺭﮐﮫ ﺟﺎئو ﺍﻭﺭ ﺁﺩﮬﺎ ﮔﮭﻨﭩﮧ ﺑﻌﺪ لے جانا، ﺳﺐ ﺗﯿﺎﺭ ﮨﻮ ﮔﺎ.
ﺷﮩﺮ ﮐﺎ ﺟﺞ ﻣﺮﻏﯽ ﻓﺮﻭﺵ ﮐﯽ ﺩﻭﮐﺎﻥ ﮐﮯ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﺳﮯ ﮔﺰﺭﺍ ﺍﻭﺭ ﺩﻭﮐﺎﻧﺪﺍﺭ ﺳﮯ ﮐﮩﺎ:
ﯾﮧ ﻣﺮﻏﯽ ﻣﺠﮭﮯ دے ﺩو.
ﺩﻭﮐﺎﻧﺪﺍﺭ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ:
ﯾﮧ ﻣﯿﺮﯼ ﻧﮩﯿﮟ ﺑﻠﮑﮧ ﮐﺴﯽ ﺍﻭﺭ ﮐﯽ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﻣﯿﺮﮮ ﭘﺎﺱ ﺑﮭﯽ ﺍﺑﮭﯽ ﮐﻮﺋﯽ ﺍﻭﺭ ﻣﺮﻏﯽ ﻧﮩﯿﮟ.
ﺟﺞ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ:
ﯾﮩﯽ ﻣﺠﮭﮯ ﺩﮮ ﺩﻭ اور ﻣﺎﻟﮏ ﺁﺋﮯ ﺗﻮ ﮐﮩﻨﺎ کہ ﻭﮦ ﺍﮌ ﮔﺌﯽ.
ﺩﻭﮐﺎﻧﺪﺍﺭ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ:
ﺍﯾﺴﺎ ﮐﮩﻨﮯ ﮐﺎ ﮐوئ ﻓﺎﺋﺪﮦ نہیں کیونکہ جسکی یہ مرغی ہے وہ ﺧﻮﺩ ﺫﺑﺢ ﮐﺮ ﮐﮯ ﻣﺠﮭﮯ ﺩے گیا ﺗﮭﺎ اور ﺫﺑﺢ ﮐﯽ ﮨﻮﺋﯽ ﻣﺮﻏﯽ ﮐﯿﺴﮯ ﺍﮌﮮ ﮔﯽ؟
ﺟﺞ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ:
ﻣﯿﮟ ﺟﻮ ﮐﮩﺘﺎ ﮨﻮﮞ ﺍﭼﮭﯽ ﻃﺮﺡ ﺳﻨﻮ ﺑﺲ ﯾﮧ ﻣﺠﮭﮯ ﺩﻭ اور ﺍﺱ ﺳﮯ ﯾﮩﯽ ﮐﮩنا ﮐﮧ ﺍﮌ ﮔﺌﯽ، ﻭﮦ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﺳﮯ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﺗﻤﮩﺎﺭﮮ ﺍﻭﭘﺮ ﮐﯿﺲ کرنے ﮐﮯ ﻟیئے ﻣﯿﺮﮮ ﭘﺎﺱ ﺁﺋﮯ ﮔﺎ.
ﺩﻭﮐﺎﻧﺪﺍﺭ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ:
ﺍلله ﭘﺮﺩﮦ ﺭﮐﮭﮯ، ﺟﺞ ﻣﺮﻏﯽ ﻟﮯ ﮐﺮ ﮔﯿﺎ ﺗﻮ ﻣﺎﻟﮏ ﺑﮭﯽ ﺁﮔﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﮐﮩﺎ:
ﻣﺮﻏﯽ ﮐﺎﭦ ﺩﯼ ! ﮐﮩﺎﮞ ﮨﮯ؟
ﺩﻭﮐﺎﻧﺪﺍﺭ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ:
ﺁﭖ ﮐﯽ ﻣﺮﻏﯽ ﺍﮌﮔﺌﯽ.
ﻣﺮﻏﯽ ﻭﺍﻻ بولا :
ﮐﯿﺴﮯ؟ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ تو اسے ﺧﻮﺩﺫ ﺑﺢ ﮐﯿﺎ ﺗﮭﺎ، ﺑﺎﺕ ﺗﻮﺗﻮ ﻣﯿﮟ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﺁﮔﮯ ﺑﮍﮬﯽ ﺍﻭﺭ ﻣﺮﻏﯽ ﻭﺍﻟﮯ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ:
ﭼﻠﻮ ﻋﺪﺍﻟﺖ ﭼﻠﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﺟﺞ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ، ﺩﻭﻧﻮﮞ ﺭﻭﺍﻧﮧ ﮨﻮﺋﮯ. ﻋﺪﺍﻟﺖ ﺟﺎﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺭﺍﺳﺘﮯ ﻣﯿﮟ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﮐﮧ ﺩﻭ ﺁﺩﻣﯽ ﻟﮍ ﺭﮨﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﻣﺴﻠﻤﺎﻥ ﮨﮯ اور ﺩﻭﺳﺮﺍ ﯾﮩﻮﺩﯼ. ﭼﮭﮍﺍﻧﮯ ﮐﯽ ﮐﻮﺷﺶ ﻣﯿﮟ ﺩﻭﮐﺎﻧﺪﺍﺭ ﮐﯽ ﺍﻧﮕﻠﯽ ﯾﮩﻮﺩﯼ ﮐﯽ ﺁﻧﮑﮫ ﻣﯿﮟ ﺯﻭﺭ ﺳﮯ لگ گئ ﺍﻭﺭ یہودی کی ﺁﻧﮑﮫ ﺿﺎﺋﻊ ﮨﻮ ﮔﺌﯽ.
ﻟﻮﮔﻮﮞ ﻧﮯ ﺩﻭﮐﺎﻧﺪﺍﺭ ﮐﻮ ﭘﮑﮍ ﻟﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﮐﮩﺎ:
ﻋﺪﺍﻟﺖ ﻟﮯ ﺟﺎﺋﯿﮟ ﮔﺌﮯ. ﺩﻭﮐﺎﻧﺪﺍﺭ ﭘﺮ ﺩﻭ ﮐﯿﺲ ﺑﻦ ﮔﺌﮯ، ﻟﻮ ﮒ ﻣﺮﻏﯽ ﻓﺮﻭﺵ ﮐﻮ ﻟﮯ ﮐﺮ ﺟﺐ ﻋﺪﺍﻟﺖ ﮐﮯ ﻗﺮﯾﺐ ﭘﮩﻨچے تو دوکاندار ﺍﻥ ﮐﮯ ﮨﺎﺗﮭﻮﮞ ﮐﻮ ﺟﮭﭩﮑﺎ ﺩﮮ ﮐﺮ ﺑﮭﺎﮔﻨﮯ ﻣﯿﮟ ﮐﺎﻣﯿﺎﺏ ﮨﻮ ﮔﯿﺎ ﻣﮕﺮ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﮯ ﭘﯿﭽﮭﺎ ﮐﺮﻧﮯ ﭘﺮ ﻗﺮﯾﺒﯽ ﻣﺴﺠﺪ ﻣﯿﮟ ﺩﺍﺧﻞ ﮨﻮﺍ ﺍﻭﺭ ﻣﯿﻨﺎﺭﮮ ﭘﺮ ﭼﮍ ﮪ گیا، ﻟﻮگوں نے ﺍﺱ ﮐﻮ ﭘﮑﮍﻧﮯ ﮐﮯ ﻟیئے ﻣﯿﻨﺎﺭﮮ ﭘﺮ ﭼﮍﮬﻨﮯ ﮐﯽ ﮐﻮﺷﺶ ﮐﯽ ﺗﻮ ﺍﺱ ﻧﮯ ﭼﮭﻼﻧﮓ ﻟﮕﺎ دی ﺍﻭﺭ ﺍﯾﮏ ﺑﻮﮌﮬﮯ ﺁﺩﻣﯽ ﭘﺮ ﮔﺮ ﮔﯿﺎ ﺟﺲ ﺳﮯ ﻭﮦ ﻣﺮﮔﯿﺎ. ﺍﺏ ﺍﺱ ﺑﻮﮌﮬﮯ ﮐﮯ ﺑﯿﭩﮯ ﻧﮯ ﺑﮭﯽ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﻣﻞ ﮐﺮ ﺍﺱ ﮐﻮ ﭘﮑﮍﺍ ﺍﻭﺭ ﻟﮯ ﮐﺮ ﺟﺞ ﮐﮯ ﭘﺎس ﭘﮩﻨﭻ ﮔﺌﮯ.
ﺟﺞ ﺍﺱ ﮐﻮ ﺩﯾﮑﮫ ﮐﺮ ﮨﯽ ﮨﻨﺲ ﭘﮍﺍ ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﺍﺱ ﮐﻮ ﻣﺮﻏﯽ ﯾﺎﺩ ﺁگئ ﻣﮕﺮ ﺑﺎﻗﯽ ﺩﻭ ﮐﯿﺴﻮﮞ ﮐﺎ ﻋﻠﻢ ﻧﮩﯿﮟ ﺗﮭﺎ. ﺟﺐ ﺟﺞ ﮐﻮ ﺗﯿﻨﻮﮞ ﮐﯿﺴﻮﮞ ﮐﮯ ﺑﺎﺭﮮ ﻣﯿﮟ ﺑﺘﺎﯾﺎ ﮔﯿﺎ ﺗﻮ ﺳﺮ ﭘﮑﮍ ﮐﺮ ﮐﭽﮫ ﺩﯾﺮ ﺑﯿﭩﮫ ﮔﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﺳﻮﭺ ﮐﺮ ﮐﮩﺎ:
ﭼﻠﯿﮟ ﻓﯿﺼﻠﮧ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ. ﺳﺐ ﺳﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﻋﺪﺍﻟﺖ ﻣﯿﮟ ﻣﺮﻏﯽ ﮐﮯ ﻣﺎﻟﮏ ﮐﻮ ﺑﻼﯾﺎ ﮔﯿﺎ.
ﺟﺞ :
ﺗﻤﮩﺎﺭﺍ ﺩﻭﮐﺎﻧﺪﺍﺭ ﭘﺮ ﮐﯿﺎ ﺩﻋﻮﯼ ﮨﮯ؟
ﻣﺮﻏﯽ ﻭﺍﻻ:
ﺟﺞ ﺻﺎﺣﺐ! ﺍﺱ ﻧﮯ ﻣﯿﺮﯼ ﻣﺮﻏﯽ ﭼﺮﺍﺋﯽ ﮨﮯ ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ مرغی ﺫﺑﺢ ﮐﺮﮐﮯ ﺍﺱ ﮐﻮ ﺩﯼ ﺗﮭﯽ لیکن ﯾﮧ ﮐﮩﺘﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﻣﺮﻏﯽ ﺍﮌ ﮔﺌﯽ. ﺟﺞ ﺻﺎﺣﺐ! ﻣﺮﺩﮦ ﻣﺮﻏﯽ ﮐﯿﺴﮯ ﺍﮌ ﺳﮑﺘﯽ ﮨﮯ؟؟
ﺟﺞ:
ﮐﯿﺎ ﺗﻢ ﺍلله تعالى ﭘﺮ ﺍﯾﻤﺎﻥ ﺭﮐﮭﺘﮯ ﮨﻮ؟
ﻣﺮﻏﯽ كا مالك:
ﺟﯽ ﮨﺎﮞ ﮐﯿﻮﮞ ﻧﮩﯿﮟ!
ﺟﺞ:
ﮐﯿﺎ ﺍلله تعالى ﺑﻮﺳﯿﺪﮦ ﮨﮉﯾﻮﮞ ﮐﻮ ﺩﻭﺑﺎﺭﮦ ﺯﻧﺪﮦ ﮐﺮﻧﮯ ﭘﺮ ﻗﺎﺩﺭ ﻧﮩﯿﮟ... ﺗﻤﮩﺎﺭﯼ ﻣﺮﻏﯽ ﮐﺎ ﺯﻧﺪﮦ ﮨﻮ ﮐﺮ ﺍﮌﻧﺎ ﮐﯿﺎ ﻣﺸﮑﻞ ﮨے؟؟؟
ﯾﮧ ﺳﻦ ﮐﺮ ﻣﺮﻏﯽ کا مالک ﭼﻼ ﮔﯿﺎ.
ﺟﺞ:
ﺩﻭﺳﺮﮮ ﻣﺪﻋﯽ ﮐﻮ پیش کیا جائے.
ﯾﮩﻮﺩﯼ ﮐﻮ ﭘﯿﺶ ﮐﯿﺎ ﮔﯿﺎ ﺗﻮ ﺍﺱ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ:
ﺟﺞ ﺻﺎﺣﺐ ﺍﺱ ﻧﮯ ﻣﯿﺮﯼ ﺁﻧﮑﮫ ﻣﯿﮟ ﺍﻧﮕﻠﯽ ﮈﺍﻝ ﺩﯼ ﺟﺲ ﺳﮯ ﻣﯿﺮﯼ ﺁﻧﮑﮫ ﺿﺎﺋﻊ ﮨﻮﮔﺌﯽ. ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺁﻧﮑﮫ ﻣﯿﮟ ﺍﻧﮕﻠﯽ ﻣﺎﺭﮐﺮ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺁﻧﮑﮫ ﺿﺎﺋﻊ ﮐﺮﻧﺎ ﭼﺎﮨﺘﺎ ﮨﻮﮞ.
ﺟﺞ ﻧﮯ ﺗﮭﻮﮌﯼ ﺩﯾﺮ ﺳﻮﭺ ﮐﺮ ﮐﮩﺎ:
ﻣﺴﻠﻤﺎﻥ ﭘﺮ ﻏﯿﺮ ﻣﺴﻠﻢ ﮐﯽ ﺩﯾﺖ ﻧﺼﻒ ﮨﮯ. ﺍﺱ ﻟﯿﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﯾﮧ ﻣﺴﻠﻤﺎﻥ ﺗﻤﮩﺎﺭﯼ ﺩﻭﺳﺮی ﺁﻧﮑﮫ ﺑﮭﯽ ﭘﮭﻮﮌﮮ ﮔﺎ، ﺍﺱ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺗﻢ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺍﯾﮏ ﺁﻧﮑﮫ ﭘﮭﻮﮌ دینا.
ﯾﮩﻮﺩی:
جج صاحب ﺭﮨﻨﮯ ﺩیں، ﻣﯿﮟ ﺍﭘﻨﺎ ﮐﯿﺲ ﻭﺍﭘﺲ ﻟﯿﺘﺎ ﮨﻮں.
ﺟﺞ :
ﺗﯿﺴﺮﺍ ﮐﯿﺲ ﮐﯿﺎ ﮨﮯ؟
ﻣﺮﻧﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﺑﻮﮌﮬﮯ ﮐﺎ ﺑﯿﭩﺎ ﺁﮔﮯ ﺑﮍﮬﺎ ﺍﻭﺭ ﮐﮩﺎ:
ﺟﺞ ﺻﺎﺣﺐ ﺍﺱ ﻧﮯ ﻣﯿﺮﮮ ﺑﺎﭖ ﭘﺮ ﭼﮭﻼﻧﮓ ﻟﮕﺎﺋﯽ ﺟﺲ ﺳﮯ ﻭﮦ ﻣﺮﮔﯿﺎ.
ﺟﺞ نے کچھ دیر ﺳﻮﭼﻨﮯ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﮐﮩﺎ:
ﺍﯾﺴﺎ ﮐﺮﻭ ﺟﺎئو ﺳﺐ ﺍﺱ ﻣﯿﻨﺎﺭﮮ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﺍﻭﺭ ﺗﻢ ﺑﮭﯽ ﺍﺱ ﻣﯿﻨﺎﺭﮮ ﭘﺮ ﭼﮍﮪ ﮐﺮ ﺍﺱ ﭘﺮ ﭼﮭﻼﻧﮓ ﻟﮕﺎدو.
ﻟﮍﮐﮯ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ:
ﺟﺞ ﺻﺎﺣﺐ ﺍﮔﺮ ﯾﮧ ﺩﺍﺋﯿﮟ ﺑﺎﺋﯿﮟ ﮨﻮ ﮔﯿﺎ ﺗﻮ ﻣﯿﮟ ﺯﻣﯿﻦ ﭘﺮ ﮔﺮ ﮐﺮﻣﺮﺟﺎئوں ﮔﺎ.
ﺟﺞ :
ﯾﮧ ﻣﯿﺮﺍ ﻣﺴﺌﻠﮧ ﻧﮩﯿﮟ، ﺗﻤﮩﺎﺭﺍ ﺑﺎﭖ ﺩﺍﺋﯿﮟ ﺑﺎﺋﯿﮟ ﮐﯿﻮﮞ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺍ؟

ﻧﺘﯿﺠﮧ :
ﺍﮔﺮ ﺁﭖ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﻣﺮﻏﯽ ﮨﻮ ﺍﻭﺭ ﻭﮦ ﺑﮭﯽ ﺳﻮﻧﮯ ﮐﮯ ﺍﻧﮉﮮ ﺩﯾﻨﯽ ﻭﺍﻟﯽ ﺗﻮ ﺟﺞ ﺁﭖ ﮐﻮ ﺍﯾﺴﮯ ﺑﭽﺎ ﻟﯿﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﺟﯿﺴﮯ ﺁﭨﮯ ﺳﮯ ﺑﺎﻝ ﻧﮑﺎﻝ ﻟﯿﺎ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ ﯾﺎ ﻣﻨﯽ ﻻﻧﮉﺭﻧﮓ ﺳﮯ ﺁﯾﺎﻥ ﻋﻠﯽ ﮐﻮ ﻧﮑﺎﻻ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ..!!!
ﯾﮩﯽ ﺟﻤﮩﻮﺭﯾﺖ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﮐﮯ ﻧﻈﺎﻡ ﮐﺎ ﺣﺴﻦ ﮨﮯ، عدالت میں انصاف منطق کے زور سے کیا جاتاہے جو نظر آتا ہے...Copied

Friday, 1 January 2016

نیا سال پرانا سال

پاگل ہی لگتا ہے بندہ,
نیا سال,  پرانا سال کرتا
سب سال ہمارے لیے ہیں بس
دعا یہ ہونی چاہیے کہ ہم بھی
ان سالوں کے لیے ہوں. ویسے
تو ہر لمحہ آخری سمجھ
کر گزارنا چاہیے, لیکن
ہر آنے والے لمحے کی
امید بھی دل میں ہونی چاہیے.

اللہ پاک ہمیں ہر حال میں شکر ادا
کرنے والا بنائے. آمین

از: راشد ادریس رانا.
Take a look at @RashidIRana's Tweet: https://twitter.com/RashidIRana/status/682657489116987392?s=09

Saturday, 12 December 2015

ہم بے حیا قوم ہیں. ایک شعیہ عالم کا بیان

بہت شکریہ جناب:
راجا افتخار خان
ڈاکٹر صاحب.............فیس بک

ایک شیعہ عالم کی حق بات نے زلزلہ برپا کر دیا ہے:

الجزیرہ عربی کے پروگرام" اتجاہ معاکس" کے اینکر پرسن "ڈاکٹر فیصل قاسم" نے کہا ہے کہ :" عراق کے مشہور شیعہ عالم دین اور راہنما مقتدی الصدر کے معاون نے ایک مضمون لکھا ہے جس کا نام ہے " ہم بے حیا قوم ہیں" مضمون میں مندرجہ ذیل حقائق پر روشنی ڈالی ہے:
شام،عراق اور فارس کو فتح کرنے والا عمر بن الخطاب (سنی ) تھے۔
سند ،ہند اور ماوراء النہر کو فتح کرنے والا محمد بن قاسم (سنی) تھے۔
شمالی افریقہ کو فتح کرنے والا قتیبہ بن مسلم(سنی) تھے۔
اندلس کو فتح کرنے والا طارق بن زیاد اور موسی بن نصیر دونوں(سنی ) تھے۔
قسطنطینیہ کو فتح کرنے والا محمد الفاتح( سنی) تھے۔
صقلیہ کو فتح کرنے والا اسد بن الفرات(سنی) تھے۔
اندلس کو مینارہ نور اور تہذیبوں کا مرکز بنانے والی خلافت بنو امیہ کے حکمران (سنی)تھے۔
تاتاریوں کو عین جالوت میں شکست دینے والا سیف الدین قطز اور رکن الدین بیبرس دونوں(سنی) تھے۔
صلیبیوں کو حطین میں شکست دینے والے صلاح الدین ایوبی(سنی) تھے۔
مراکش میں ہسپانویوں کا غرور خاک میں ملانے والا عبد الکریم الخطابی (سنی) تھے۔
اٹلی کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کرنے والے عمر المختار (سنی) تھے۔
چیچنیا میں روسی ریچھ کو زخمی کرنے اور گرزنی شہر کو فتح والے خطاب (سنی) تھے۔
افغانستان میں نیٹو کا ناگ زمین سے رگڑنے والے (سنی )تھے۔
عراق سے امریکہ کو بھاگنے پر مجبور کرنے والے ( سنی تھے)۔
فلسطین میں یہودکی نیندیں حرام کرنے والے (سنی) ہیں۔

ہم اپنے بچوں کو کیا بتائیں گے؟؟!!
حسین کو عراق بھلا کر کربلاء میں بے یارومدد گار چھوڑنے والے مختار ثقفی (شیعہ) تھے۔
عباسی خلیفہ کے خلاف سازش کر کے تاتاریوں سے ملنے والے ابن علقمی (شیعہ )تھے ۔
ہلاکوخان کا میک اپ کرنے والے نصیر الدین طوسی (شیعہ) تھے۔
تاتاریوں کو بغداد میں خوش آمدید کہنے والے(شیعہ) تھے۔
شام پر تاتاریوں کے حملوں میں مدد کرنے والے(شیعہ) تھے۔
مسلمانوں کے خلاف فرنگیوں کے اتحادی بننے والے فاطمیین( شیعہ) تھے۔
سلجوقی سلطان طغرل بیگ بساسیری سے عہد شکنی کرکے دشمنوں سے ملنے والے(شیعہ) تھے۔
فلسطین پر صلیبیوں کے حملے میں ان کی مدد کرنے والا احمد بن عطاء(شیعہ) تھے۔
صلاح الدین کو قتل کرنے کا منصوبہ بنانے والے کنز الدولۃ (شیعہ)تھے۔
شام میں ہلاکوں خان کا استقبال کرنے والا کمال الدین بن بدر التفلیسی (شیعہ) تھے۔
حاجیوں کو قتل کر کے حجر اسود کو چرانے والا ابو طاہر قرمطی (شیعہ) تھے۔
شام پر محمد علی کے حملے میں مدد کرنے والے ( شیعہ) تھے۔
یمن میں اسلامی مراکز پر حملے کرنے والے حوثی (شیعہ ) ہیں۔
عراق پر امریکی حملے کو خوش آمدید کر کے ان کی مدد کرنے والے سیستانی اور حکیم (شیعہ) ہیں۔
افغانستان پر نیٹو کے حملے کو خوش آئند کہہ کر ان کی مدد کرنے والے ایرانی حکمران (شیعہ) ہیں۔
شام میں امریکہ کی مدد اور بشار سے مل کر لاکھوں مسلمانوں کو قتل کر نے والے اور خلافت کی تحریک کا گلہ گھونٹنے کی کوشش کرنے والے عراقی حکمران،ایرانی حکمران اور لبنان کی حزب اللہ (شیعہ) ہیں۔
خلافت عثمانیہ کے خلاف بغاوت کر کے لاکھوں مسلمانوں کو قتل کرنے والا اسماعیل صفوی (شیعہ) تھے۔
برما کے مسلمانوں کے قتل پر بت پرستوں کی حمایت کا اعلان کرنے والا احمد نجاد( شیعہ ) ہے۔
شام کے لوگوں پر بشاری کی بمباری کی حمایت کرنے والا اور اس کو سرخ لکیر قرار دینے والا خامنئی (شیعہ) ہے۔
صحابہ کو گالیا دینے والے اور خلفائے راشدین اور اور امہات المومنین کے بارے میں شرمناک باتیں لکھنے والے قلم (شیعہ) ہیں۔
سلطان ٹیپو کے خلاف انگریز سے ملنے والے میر جعفر اور میر صادق (شیعہ) تھے۔
اگر سارے واقعات لکھے جائیں تو کئی جلدوں کی کتابیں تیار ہو سکتی ہیں، ہم اپنی نسلوں کو کیا جواب دیں گے ؟؟!!
یہ سب خو دایک شیعہ عالم دین اور حق گو آدمی کہہ رہا ہے !!!
( مصدر نا معلوم)

Friday, 11 December 2015

انصاف اور عدل اسلام کی تاریخ

منتخب تحریر

تاریخ کے جھروکے
انصاف اور عدل
اسلام کی تاریخ
                                             --------------------------

تمام وزیر میدان میں تیر اندازی کی مشق کر رہے تھے ۔سلطان غیاث الدین بھی ان کے ساتھ شریک تھا ۔ اچانک سلطان کا نشانہ خطا ہوگیااور وہ تیر ایک بیوہ عورت کے بچے کو جا لگا۔اس سے وہ مرگیا۔ سلطان کو پتہ نہ چل سکا۔ وہ عورت قاضی سلطان کی عدالت میں پہنچ گئی ۔ قاضی سراج الدین نے عورت کی طرف متوجہ ہوئے اور پوچھا: '' کیا بات ہے ؟ تم رو کیوں رہی ہو؟ "
عورت نے روتے ہوئے سلطان کے خلاف شکایت لکھوائی '' سلطان کے تیر سے میرابچہ ہلاک ہوگیا ہے ''
قاضی سراج الدین نے عورت کی بات پوری توجہ سے سنی اور پھر اسی وقت سلطان کے نام خط لکھا: '' آپ کے خلاف شکایت آئی ہے۔ فوراً عدالت میں حاضر ہو جائیں اور اپنے خلاف آنے والی شکایت کا جواب دیں ''
پھر یہ حکم عدالت کے ایک پیادے کو دے کر ہدایت کی: '' یہ حکم نامہ فوراً سلطان کے پاس لے جاؤ " پیادے کو یہ حکم دے کر قاضی سراج الدین نے ایک کَوڑا نکالا اور اپنی گدی کے نیچے چھپا دیا۔
پیادہ جب سلطان کے محل میں پہنچا تو اس دیکھا کہ سلطان کو درباریوں نے گھیر رکھا ہے اور قاضی کا حکم نامی سلطان تک پہنچانا مشکل ہے۔ یہ دیکھ کر پیادہ نے اونچی آواز میں اذان دینا شروع کر دی۔
بے وقت اذان سن کر سلطان نے حکم دیا: '' اذان دینے والے کو میرے سامنے پیش کرو '' پیادے کو سلطان کے سامنے پیش کیا گیا۔
سلطان نے گرج کر پوچھا: '' بے وقت اذان کیوں دے رہے تھے ''
'' قاضی سراج الدین نے آپ کو عدالت میں طلب کیا ہے آپ فوراً میرے ساتھ عدالت چلیں '' پیادے نے قاضی صاحب کا حکم نامہ سلطان کو دیتے ہوئے کہا۔
سلطان فوراً اُٹھا۔ ایک چھوٹی سی تلوار اپنی آستین میں چھپالی ۔ پھر پیادے کے ساتھ عدالت پہنچا۔ قاضی صاحب نے بیٹھے بیٹھے مقتول کی ماں اور سلطان کے بیان باری باری سنے پھر فیصلہ سنایا:
'' غلطی سے ہو جانے والے قتل کی وجہ سے سلطان پر کفارہ اور اس کی برادری پر خون کی دیت آئے گی ۔ ہاں اگر مقتول کی ماں مال کی کچھ مقدار پر راضی ہو جائے تو اس مال کے بدلے سلطان کو چھوڑا جا سکتا ہے ''۔
سلطان نے لڑکے کی ماں کو بہت سے مال پر راضی کر لیا پھر قاضی سے کہا :
'' میں نے لڑکے کی ماں کو مال پر راضی کر لیا ہے '' قاضی نے عورت سے پوچھا : '' کیا آپ راضی ہو گئیں ''
'' جی ہاں میں راضی ہو گئی ہوں '' عورت نے قاضی کو جواب دیا ۔
اب قاضی اپنی جگہ سے سلطان کی تعظیم کے لئے اٹھے اور انھیں اپنی جگہ پر بٹھایا۔ سلطان نے بغل سے تلوار نکال کر قاضی سراج الدین کو دیکھاتے ہوئے کہا:
'' اگر آپ میری ذرا سی بھی رعایت کرتے تو میں اس تلوار سے آپ کی گردن اڑا دیتا''
قاضی نے بھی اپنی گدی کے نیچے سے کَوڑا نکال کر سلطان غیاث الدین کو دکھاتے ہوئے کہا:
'' اور اگر آپ شریعت کا حکم ماننے سے ذرا بھی ہچکچاتے تو میں اس کَوڑے سے آپ کی خبر لیتا۔ بےشک یہ ہم دونوں کا امتحان تھا..

ﷲ تعالیٰ ہمیں اپنی نعمتوں کا شکر ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور نعمتوں کے زوال سے اپنے امان میں رکھے.. سچ بات کہنے سننے اور اس پر عمل کی توفیق دے آمین۔اللہ سب کا حامی و ناصر.