Sunday, 11 December 2011

کوئی کندھا نہیں دیتا

محبت کے سفر میں
کوئی بھی رستہ نہیں دیتا

زمیں واقف نہیں بنتی
فلک سایہ نہیں دیتا

خوشی اور دکھ کے موسم
سب کے اپنے اپنے ہوتے ہیں

کسی کو اپنے حصے کا
کوئی لمحہ نہیں دیتا

اداسی جس کے دل میں ہو
اسی کی نیند اڑتی ہے

کسی کو اپنی آنکھوں سے
کوئی سپنتا نہیں دیتا

اٹھاناخود ہی پڑتا ہے
تھکا ٹوٹا بدن اپنا

کہ جب تک سانس چلتی ہے
کوئی کندھا نہیں دیتا

Saturday, 10 December 2011

...::::Beauty of Math::::...



Absolutely amazing!
Beauty of Math!

1 x 8 + 1 = 9
12 x 8 + 2 = 98
123 x 8 + 3 = 987
1234 x 8 + 4 = 9876
12345 x 8 + 5 = 98765
123456 x 8 + 6 = 987654
1234567 x 8 + 7 = 9876543
12345678 x 8 + 8 = 98765432
123456789 x 8 + 9 = 987654321

1 x 9 + 2 = 11
12 x 9 + 3 = 111
123 x 9 + 4 = 1111
1234 x 9 + 5 = 11111
12345 x 9 + 6 = 111111
123456 x 9 + 7 = 1111111
1234567 x 9 + 8 = 11111111
12345678 x 9 + 9 = 111111111
123456789 x 9 +10= 1111111111

9 x 9 + 7 = 88
98 x 9 + 6 = 888
987 x 9 + 5 = 8888
9876 x 9 + 4 = 88888
98765 x 9 + 3 = 888888
987654 x 9 + 2 = 8888888
9876543 x 9 + 1 = 88888888
98765432 x 9 + 0 = 888888888

Brilliant, isn't it?

And look at this symmetry:

1 x 1 = 1
11 x 11 = 121
111 x 111 = 12321
1111 x 1111 = 1234321
11111 x 11111 = 123454321
111111 x 111111 = 12345654321
1111111 x 1111111 = 1234567654321
11111111 x 11111111 = 123456787654321
111111111 x 111111111=12345678987654321





Now, take a look at this...





From a strictly mathematical viewpoint,

What Equals to 100%?
What does it mean to give MORE than 100%?


Ever wonder about those people who say they are giving more than 100%...

We have all been in situations where someone wants you to

GIVE OVER 100%.
How about ACHIEVING 101%?

What equals to 100% in life?


Here's a little mathematical formula that might help answering these questions:


If:

A B C D E F G H I J K L M N O P Q R S T U V W X Y Z

Is represented as:

1 2 3 4 5 6 7 8 9 10 11 12 13 14 15 16 17 18 19 20 21 22 23 24 25 26


It is
H-A-R-D-W-O-R- K

8+1+18+4+2 3+15+18+11 = 98%

And

K-N-O-W-L-E-D-G-E

11+14+15+23+12+5+4+7+5 = 96%

But
A-T-T-I-T-U-D-E
1+20+20+9+20+21+4+5 = 100%

AND
L-O-V-E-O-F-G-O-D

12+15+22+5+15+6+7+15+4 = 101%


Therefore, one can conclude with mathematical certainty that:

While Hard Work and Knowledge will get you close and Attitude will get you there...
It's the Love of God that will put you over the top!!!

Tuesday, 6 December 2011

چالیس ہزار روپے میں پاکستانی گھر سولر انرجی پر منتقل ہو سکتا ہے



موجودہ صورت حال میں پاکستان کے لیے توانائی کے متبادل ذرائع تلاش کرنا ضروری ہوگیا ہے۔ پاکستان ایک ایسے خطے میں واقع ہے جہاں سارا سال سورج چمکتا ہے۔ چنانچہ یہاں آسانی سے بڑی مقدار میں شمسی توانائی حاصل کی جاسکتی ہے۔پاکستان میں اس شعبے میں پیش رفت ہورہی ہے۔ عام افراد اپنی بجلی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے شمسی توانائی سے کس طرح فائدہ اٹھا سکتے ہیں؟ اس موضوع پر گفتگو کے لیے امریکی ادارے نے ایک مذاکرے کا اہتمام کیا ، جس میں ٹیلی فون کے ذریعے اسلام آباد سے پاکستان آلٹر نیٹ انرجی بورڈ کے چیئر مین عارف علاؤالدین صاحب ، کراچی سے یو این ڈی پی کے پاکستان میں جاری سمال گرانٹس پروگرام کے نیشنل کوآرڈی نیٹر مسعود لوہار، لاس اینجلس کیلی فورنیا سے سولر انرجی کے ماہر اور دنیا بھر میں ایل ای ڈی لائٹنگ سے متعلق صف اول کی ایک کمپنی لیڈٹرانکس کے فاؤنڈر اور سی ای او، جناب پرویز لودھی ، اور کراچی سے پاکستان میں سولر پینل بنانے والی ایک ممتاز کمپنی شان ٹکنالوجیز کے سولر ایکسپرٹ شاہد صدیقی شریک ہوئے۔

لیڈٹرانکس کے فاؤنڈر اور سی ای او پرویز لودھی نے کہا کہ شمسی توانائی کا استعمال گزشتہ کچھ برسوں میں پوری دنیا میں بڑھ رہا ہے لیکن اس کے بارے میں عام لوگوں کو زیادہ معلومات نہیں ہیں ۔ جس کی وجہ سے اس سسٹم سے لوگوں کی توقعات بڑھ جاتی ہیں اور وہ کئی غلط فیصلے کر بیٹھتے ہیں ۔انہوں نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ سولر پینلز سورج سے بہت سی روشنی کو لے کرقلیل مقدار میں بجلی پیدا کرتے ہیں ، اس لیے اس کا استعمال احتیا ط سے کرنا چاہیے اور روشنی کے لیے ایل ای ڈی بلب استعمال کرنے چاہیں۔
اسد محمود نے کہا کہ صرف ایل ای ڈی بلب ہی نہیں بلکہ گھر کی دوسری چیزیں بھی سولر انرجی سے مطابقت رکھنے والی ہونی چاہیں ۔ سولر انرجی ڈی سی کرنٹ پیدا کرتی ہے اس لیے اس پر وہی مشینیں چلانی چاہییں جو ڈی سی کرنٹ پر چلیں اور سولر سسٹم کی لاگت کو کم کرنے کے لیے سسٹم کے ساتھ منسلک دوسرے آلات بھی انرجی ایفیشنٹ ہونے چاہییں۔ انہوں نے تجویز دی کہ سولر سسٹم کی موجودہ لاگت کے پیش نظر پریکٹیکل یہ ہے کہ گھر کا پورا سسٹم سولر پر نہ کریں بلکہ صرف اسے بیک اپ کے طور پر استعمال کریں۔بالکل اسی طرح جیسے بجلی چلے جانے کی صورت میں جنریٹر کو بیک اپ کے طور پر رکھا جاتاہے ۔
شاہد صدیقی صاحب نے بتایا کہ پاکستان کے کسی بھی علاقے میں لوڈ شیڈنگ کے وقت یا بجلی چلے جانے کی صورت میں یا جن علاقوں میں بجلی نہیں ہے ، گھر کا ایک کمرہ روشن کرنے کے لیے سولر پینل کے سب سے چھوٹے سسٹم کو انسٹال کرنے پر چار سے پانچ ہزار یا زیادہ سے زیادہ دس ہزار روپے خرچ ہو سکتے ہیں ۔ا ور اسی طرح اگر اس کے ساتھ ایک پنکھا بھی چلانا چاہیں تو یہ لاگت اسی حساب سے بڑھتی جائے گی لیکن یہ سب سرمایہ کاری صرف ایک بار کی ہوگی ا ور اس کے نتیجے میں بجلی کے بل کی جو بچت ہو گی و ہ بہت جلد آپ کا خرچہ آپ کو واپس کر دے گی۔ لیکن ضروری ہے کہ روشنی ایل ای ڈی ہو پنکھا ڈی سی کرنٹ پر چلتا ہو۔ انہوں نے بتایا کہ مارکیٹ میں لوگ سولر سسٹم لگانے کے لیے موجود ہیں لیکن یہ سولر پینل الیکٹریکل کی تھوڑی بہت سمجھ بوجھ رکھنے والا شخص انسٹال کر سکتا ہے ۔

متبادل توانائی کے بورڈ کے چئیر مین عارف علاؤالدین نے جنریٹر اور سولر انرجی کا تقابل کرتے ہوئے کہا کہ سولر سسٹم زیادہ سستا پڑے گا لیکن اس وقت سسٹم میں استعمال ہونےوالی بیٹری مہنگی ہے ۔ سولر پینل 21سے 25 سینٹ فی گھنٹہ کی بجلی پیدا کر سکتا ہے ۔عارف علاؤالدین نے بتایا کہ بڑے پیمانے پر سولر انرجی پیدا کرنے والے نجی اداروں سے حکومت بجلی خرید سکتی ہے اور ایک کلو واٹس یااس سے کچھ کم یا کچھ زیادہ سولر انرجی پیدا کرنے والے آلات درا ٓمد کرنے کے لیے حکومت نے کسٹم ڈیوٹی معاف کر دی ہے ۔ا نہوں نے مزید کہا کہ اگر آپ سولر پینل کے ساتھ بجلی پیدا کررہے ہیں اور اگر آپ کے پاس زائد بجلی ہے اور آپ کسی وجہ سے اس بجلی کو استعمال نہیں کر رہے اور اسے گرڈ میں ڈال دیں تو حکومت وہ اضافی سولر بجلی خرید سکتی ہے ۔

عارف علاؤالدین نے بتایا کہ پاکستان میں بہت سی این جی اوز سولر بجلی پیدا کر رہی ہیں اور ان کا ادارہ بھی مختلف مقامات پر اس حوالے سے کام کررہا ہے لیکن اس کا سب سے بڑاپراجیکٹ وہ تھا جس کے تحت مٹھی میں پچاس دیہاتوں میں تیس ہزار گھروں کو سولر انرجی فراہم کی گئی اور ہر گھر کو کو دو دو لائٹس اور ایک ایک پنکھا چلانے کے لیے سولر سسٹم لگا کر دیا تو اس پورے سسٹم پر ایک گھر میں چالیس ہزار روپے خرچ ہوئے اور اب جب کہ پینلز اور دوسرے متعلقہ آلات کی قیمتوں میں کمی ہو رہی ہے اس لاگت میں اور کمی ہو سکتی ہے

شرک کی انتہا۔

Monday, 5 December 2011

اک چھوٹا سا لڑکا

اک چھوٹا سا لڑکا تھا
میں جن دنوں
اک میلے میں
پہنچا ہمکتا ہوا
جی مچلتا تھا
ہر اک شے مول لوں
جیب خالی تھی
کچھ مول لے نہ سکا
لوٹ آیا لیئے حسرتیں سینکڑوں

اور آج میلہ لگا ہے
اسی شان سے
آج چاہوں تو
سارا جہاں مول لوں
آج چاہوں تو
اک اک دوکان مول لوں
نارسائی کا اب
دل میں دھڑکا کہاں
پر وہ الہڑ سااب
چھوٹا لڑکا کہاں

شاعر ابن انشاء!!!!!

Thursday, 1 December 2011

الّلہ سے ڈرنے والے

دنیا میں تین قسم کے آدمی ہوتے ہیں۔ ایک وہ جو الّلہ کے ڈر سے خالی ہوں۔ ایسے لوگ خواہ زبان سے الّلہ کا نام لیتے ہوں، مگر ان کے سینہ میں الّلہ کے ڈر کا کوئی خانہ نہیں ہوتا۔ وہ اس طرح رہتے ہیں جیسے کہ وہ آزاد ہیں جو چاہیں کریں ۔ ان کے سامنے سارا سوال بس دنیا کےنفع نقصان کا ہوتا ہے۔ جس کام میں نفع نظر آئے اس کی طرف دوڑنا اور جس کام میں نقصان کا اندیشہ ہو اس سے رک جانا، یہ ان کا مذہب ہوتا ہے۔ کسی چیز کا اصولی طور پربر حق ثابت ہو جانا ان کے نزدیک کوئی اہمیت نہیں رکھتا وہ ہمیشہ‘‘ دلیل’’ کے بجائے ‘‘مفاد’’ کو اصل اہمیت دیتے ہیں۔ کوئی کام کرتے ہوئے وہ کبھی یہ نہیں سوچتے کہ اس معاملہ میں الّلہ کی مرضی کیا ہے یا یہ کہ وہ الّلہ کے سامنے کیوں کر بری الزمہ ہو سکتے ہیں وہ وہاں جھک جاتے ہیں جہاں ان کا نفس جھکنے کے لئے کہے۔ اور وہاں اکڑ جاتے ہیں جہاں ان کا نفس اکڑنے کی ترغیب دے۔ وہ الّلہ سے بے خوف زندگی گزارتے ہیں۔ یہاں تک کہ اس دنیا سے چلے جاتے ہیں تا کہ الّلہ کی عدالت میں حساب دینے کے لئے کھڑے کر دیے جائیں۔
دوسری قسم ان لوگوں کی ہے جن کے دل میں حرام و حلال کا لحاظ رہتا ہے۔ ان کو یہ خیال آتا رہتا ہے کہ مرنے کے بعد الّلہ کے یہاں حساب کتاب کے لئے حاضر ہونا ہے۔ عام حالات مین وہ الّلہ سے ڈر کر زندگی گزارتے ہیں۔ روز مرہ کی زندگی میں کسی کو ان سے حق تلفی اور بےاخلاقی کا تجربہ نہیں ہوتا۔ تاہم وہ اپنئ نفسیاتی پیچیدگیوں سے اٹھے ہوئے نہین ہوتے۔ ان کا خوف خدا اتنا مکمل نہیں ہوتا کہ وہ ان کے نفس کےاندر چھپے ہوئے جزبات کا احاطہ کرلے۔ عام حالات میںوہ خدا ترس زندگی گزارتے ہیں۔ مگر جب کوئی غیر معمولی حالت پیش آئے تو اچانک وہ دوسری قسم کے انسان بن جاتے ہیں۔ کبھی کسی کی محبت کا لحاظ، کبھی کسی کے خلاف نفرت کا جزبہ،کبھی اپنی عزت کا سوال ان کے اوپر اس طرح غالب آتا ہے کہ ان کا خوف خدا اس کے نیچےدب کر رہ جاتاہے۔ یہ عمل چونکہ اکثر غیر شعوری طور پر ہوتا ہے اس لئے بہت کم ایسا ہوتا ہے کہ وہ اپنے اوپراپنے نفس کے اس حملہ سے آگاہ ہوں اوراپنے آپ کو تھامتے ہوئے اپنے کو متقیانہ روش پر قائم رکھیں ، معمول کے حالات میں خدا ترسی کی زندگی گزار نے والا غیر معمولی حالات میں وہی کچھ کر گزرتا ہے جو پہلی قسم کے لوگ اپنے عام زندگی میں کرتے رہتے ہیں۔
تیسرا انسان وہ ہے جو پورے معنوں ہیں الّلہ سے ڈرنے والا ہے، جو الّلہ کو پہچاننے کے ساتھ خود اپنے آپ کو بھی پوری طرح پہچان چکا ہو۔ ایسا شخص صرف عام حالات ہی میں الّلہ سے نہین ڈرتا بلکہ غیر معمولی حالات میں بھی الّلہ کا خوف اس کا نگراں بنا رہتا ہے۔ کسی کی محبت جب اس کو بے خوفی کے راستہ پر لے جانا چاہتی ہے تو وہ فوراً اس کو دیکھ لیتا ہے۔ کسی سے چھپی ہوئی نفرت جب اس کے نفس میں تیرتی ہے اور اس کو بے انصافی پر اکساتی ہے تو وہ چونک پڑتاہے اور اس سے باخبر ہو کر اس کے خلاف کھڑا ہو جاتا ہے۔ ذاتی عزت و وقار کا سوال جب اس کے اندر داخل ہوکر اس کو کسی حق کےاعتراف سے روکتا ہے تو وہ بلا تاخیر اس کو جان لیتا ہے۔ اس طوح وہ اپنی تمام خامیوں سے آگاہ ہوکر اپنی اصلاح کرتا ہے۔ اس کا مسلسل احتساب اس کو ایسے مقام پر پہنچا دیتا ہے جہاں وہ اپنے آپ کو انتہائی بے لاگ نظر سے دیکھ سکے۔ بالفاظ دیگر، وہ اپنے آپ کو اس حقیقی نظر سے دیکھنے لگتا ہے جس نظر سے اس کا خدا اس کو دیکھ رہا ہے۔

دعا

‘‘ میرے لئے بائیسکل خرید دیجئے’’ ایک غریب خاندان کے لڑکے نے اپنے باپ سے کہا۔ باپ کے لئے بائیسکل خریدنا مشکل تھا۔ اس نے ٹال دیا ۔ لڑکا بار بار کہتا رہا اور باپ بار بار منع کرتا رہا۔ آخر کار ایک روز باپ نے ڈانت کر کہا‘‘ میں نے کہہ دیا کہ میں بائیسکل نہیں خریدوں گا۔ آئندہ مجھ سے اس قسم کی بات مت کرنا۔’’ یہ سن کر لڑکے کی آنکھ میں آنسو آگئے ۔ وہ کچھ دیر تک چپ رہا۔ اس کے بعد روتے ہوئے بولا‘‘ آپ ہی تو ہمارے باپ ہیں پھر آپ سے نہ کہیں تو کس سے کہیں’’ اس جملہ نے باپ کو تڑپا دیا ۔ اچانک اس کا انداز بدل گیا۔ اس نے کہا ‘‘ اچھا بیٹے ، اطمینان رکھو۔ میں تم کو ضرور بائیسکل دوں گا۔’’ یہ کہتے ہوئے باپ کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ اگلے دن اس نے پیسہ کر کے بیٹے کے لئے نئی بائیسکل خرید دی۔
لڑکے نے بظاہر ایک لفظ کہا تھا۔ مگر یہ ایسا لفظ تھا جس کی قیمت اس کی اپنی زندگی تھی۔جس میں اس کی پوری ہستی شامل ہو گئی تھی۔ اس لفظ کا مطلب یہ تھا کہ اس نے اپنے آپ کو اپنے سرپرست کے آگے بالکل خالی کردیا ہے۔ یہ لفظ بول کر اس نے اپنے آپ کو ایک ایسے نقطہ پر کھڑا کر دیا جہاں اس کی درخواست اس کے سرپرست کے لئے بھی اتنا بڑا مسئلہ بن گئی جتنا وہ خود اس کے اپنے لئے تھی۔
یہ انسانی واقعہ خدائی واقعہ کی تمثیل ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ کون سی دعا ہےجو لوٹائی نہیں جاتی۔ یہ وہ دعا ہےجس میں بندہ اپنے پوری ہستی کو انڈہل دیتا ہے ۔ جب بندہ کی آنکھ سے عجز کا وہ قطرہ ٹپک پڑتا ہے جس کا تحمل زمین و آسمان بھی نہ کر سکیں۔جب بندہ اپنے آپ کو اپنے رب کے ساتھ اتنا زیادہ شامل کرلیتا ہے کہ ‘‘ بیٹا’’ اور ‘‘ باپ’’ دونوں ایک ترازو پر آجاتے ہیں۔
یہ وہ لمحہ ہےجب کہ دعا محض زبان سے نکلا ہوا ایک لفظ نہیں ہوتی بلکہ وہ ایک شخصیت کے پھٹنے کی آواز ہوتی ہے۔
اس وقت خدا کی رحمتیں اپنے بندے پر ٹوٹ پڑتی ہیں۔ بندگی اور خدائی دونوں ایک دوسرے سے راضی ہو جاتے ہیں۔ قادر مطلق عاجز مطلق کو اپنی آغوش میںلےلیتا ہے۔