صرف انقلاب ہی معاشرے سے برائیوں کو ختم کر سکتا ہے، آئیں ہم سب ملکر اپنے اندر خود احتسابی کا انقلاب برپا کریں۔ جو بات کہتا ہوں بڑی بے حجاب کہتا ہوں اسی لیئے تو زندگی کو انقلاب کہتا ہوں
Saturday, 20 June 2015
Monday, 25 May 2015
الف اللہ
الف اللہ
تم نماز کیوں پڑھتے ہو؟
اس کے سوال نے مجھے پریشان نہیں کیا
بلکہ ایک جوالا مکھی میرے اندر ابل کے رہ گیا۔
میں نے سوال در سوال کیا
تم سانس کیوں لیتے ہو؟
میرا جواب سن کے وہ اک لمحہ میری طرف تکتا رہا
جیسے مجھے کچھ کہنا چاہتا ہو لیکن پھر کچھ نا بولا۔۔
میرے اندر کے ایک بے عمل ، گناہ گار دنیا دار کا سوال
اور اندر ہی اندر اس کا جواب۔
Friday, 22 May 2015
دس ٹپس جو اسپرین کو حیرت انگیز ثابت کردیں
Thanks: DawnNews
اسپرین دنیا بھر میں مقبول ترین درد کش گولی ہے جو سستی ہونے کے باعث ہر طبقے کے استعمال میں رہتی ہے تاہم کیا آپ کو معلوم ہے کہ یہ دوا صرف درد پر ہی قابو نہیں پاتی بلکہ مختلف اقسام کے کینسر اور متعدد امراض کے خلاف بھی فائدہ مند ثابت ہوتی ہے۔
مگر بات یہی ختم نہیں ہوتی طبی لحاظ سے مفید یہ گولی صرف بیماریوں کے خلاف ہی مفید نہیں بلکہ اس سے ایسے روزمرہ کے کام بھی سرانجام دیئے جاسکتے ہیں جن کا آپ نے کبھی تصور بھی نہ کیا ہوگا۔
اب چاہے وہ گھر کا خیال رکھنا ہو یا اپنی خوبصورتی بڑھانا اسپرین واقعی جادو اثر ثابت ہوتی ہے اور اس کے ایسے ہی چند حیرت انگیز اثرات جانے جو آپ کو چونکا کر رکھ دیں گے۔
گاڑیوں کی مردہ بیٹریوں میں نئی جان ڈالنا
اگر تو گاڑی چلانے کے لیے اسٹارٹ کرتے ہوئے آپ کے سامنے یہ انکشاف ہوا کہ کار کی بیٹری نے تو کام کرنا چھوڑ دیا ہے اور ارگرد مدد کے لیے کوئی موجود نہیں تو آپ کیا کریں گے؟ ان حالات میں اسپرین کی دو گولیاں واقعی مددگار ثابت ہوں گی بس آپ انہیں بیٹری کے اندر ڈال دیں۔ اسپرین میں پائے جانے والا ایسی ٹائل سیلی سیلک ایسڈ بیٹری میں موجود سلفرک ایسڈ کے ساتھ مل کر اس مردہ بیٹری میں کرنٹ دوڑا دے گا اور آپ کچھ دور تک سفر کرکے قریبی سروس اسٹیشن تک پہنچ سکیں گے۔
پسینے کے داغوں کو مٹانا
موسم گرما میں جسم سے پسینہ پانی کی طرح بہتا ہے اور اس دوران ہلکے رنگ کے کپڑوں پر اس کے داغ بھی نمایاں ہوجاتے ہیں جن کو صاف کرنا ناممکن تو نہیں تاہم مشکل ضرور ہے، تاہم مایوس مت ہو بس اپنے سفید یا ہلکے رنگ کی قمیض پر سے پسینے کے داغ مٹانے کے لیے اسپرین کی دو گولیوں کو پیس کر کپڑے دھونے والے پاﺅڈر میں مکس کرکے ایک یا دو کپ گرم پانی میں ڈال دیں۔ پھر اس محلول یا سلوشن میں اپنی قمیض کو دو سے تین گھنٹے تک بھگو کر رکھیں آپ اس کا اثر دیکھ کر واقعی حیران ہوجائیں گے۔
بالوں کی رنگت بحال کرنا
اگر تو آپ کے بال ہلکے رنگ کے ہیں تو کلورین ملے پانی سے نہانے سے اس کے اثرات بالوں کے رنگ پر بہت نمایاں اور ناخوشگوار محسوس ہوتے ہیں تاہم آپ اپنے بالوں کو اصل شکل میں واپس بہت آسانی سے لاسکتے ہیں، بس چھ سے آٹھ اسپرین گرم پانی کے ایک گلاس میں ڈال دیں، پھر اس پانی کو اپنے بالوں پر چھڑک کر مساج یا مالش کریں اور دس پندرہ منٹ تک یہ عمل دوہرائیں بالوں کی اصل رنگت بحال ہوجائے گی۔
چیرے کے دانوں کو خشک کرنا
نوجوانی میں دانوں کا چہرے پر ابھرنا عام ہوتا ہے جو سرخ ہونے کے ساتھ ساتھ تکلیف کا بھی باعث بنتے ہیں۔ اکثر پچیس سے تیس سال کی عمر تک بھی اس کا تجربہ ہوتا رہتا ہے جو اکثر افراد خاص طور پر خواتین کے لیے فکرمند کا باعث ہوتا ہے۔ تو ایسا ہونے کی صورت میں دانوں سے نجات کے لیے اسپرین کی ایک گولی کو پیسے اور میں تھوڑا سا پانی ڈال کر پیسٹ سا بنالیں۔ اس پیسٹ کو دانوں پر لگائیں اور کچھ منٹوں تک آرام سے بیٹھے رہیں جس کے بعد چہرے کو صابن اور پانی سے دھولیں۔ اس عمل سے سرخی کم ہوجائے گی اور دانے خشک ہونے لگیں گے، اگر آرام نہ آئے تو اس عمل کو اس وقت تک دوہرائیں جب تک دانے خشک نہ ہوجائے۔
سخت جلد کا علاج
اپنے پیروں کی سخت ہوجانے والی جلد کو نرم کرنے کے لیے پانچ سے چھ اسپرین کو پیس کر سفوف کی شکل دے دیں۔ اس میں ایک سے دو چائے کے چمچ پانی اور لیموں کا عرق شامل کرکے پیسٹ بنالیں۔ اس مکسچر کو متاثرہ حصوں میں لگائیں اور پھر اپنے پیروں پر گرم تولیہ لپیٹ کر انہیں کسی پلاسٹک بیگ سے کور کرلے۔ کم از کم دس منٹ تک اسی حالت میں رہیں پھر پلاسٹک بیگ اور تولیے کو ہٹا دیں اور اپنے پیروں کی نرمی کو محسوس کرکے حیران ہوجانے کے لیے تیار ہوجائیں۔
بالوں کی خشکی کو کنٹرول کرنا
بالوں کی خشکی کا مسئلہ کس کو درپیش نہیں ہوتا جس کے لیے مہنگے سے مہنگے شیمپوز اور کریمیں وغیرہ استعمال کی جاتی ہیں۔ تاہم اس پر قابو پانے کا آسان ترین نسخہ اسپرین کی شکل میں موجود ہے بس دو گولیوں کو پیس کر سفوف بنادیں اور اس میں شیمپوں کی نارمل مقدار شامل کرکے اپنے سر پر لگالیں۔ اس مکسچر کو ایک سے دو منٹ تک لگا رہنے دیں اور پھر دھولیں۔ اس کے بعد اپنے سر کو صرف شیمپو سے ایک بار دھونا نہ بھولیں۔
کیڑوں کے کاٹے اور ڈنک کی تکلیف سے نجات
مچھر کے کاٹنے یا شہد کی مکھی کے ڈنک سے ہونے والی سوجن کو کنٹرول کرنے کے لیے اسپرین کی ایک گولی کو متاثرہ حصے پر آہستہ آہستہ مالش کی طرح رگڑے۔ آپ تکلیف میں فوری طور پر نمایاں کمی محسوس کریں گے جبکہ سوجن بھی کنٹرول میں آجائیں گی۔
پھولوں کو دیر تک زندہ رکھیں
گلاب یا کسی بھی پھول کو جب ٹہنی سے کاٹ لیا جاتا ہے تو وہ کچھ دیر بعد مرجھانا شروع ہوجاتے ہیں تاہم اگر آپ اسے کافی دیر تک تازہ رکھنا چاہتے ہیں تو اسپرین کی ایک گولی پیس کر پانی میں ڈالے اور وہ پانی کسی گلدان یا ایسے برتن میں ڈال دیں جس میں آپ پھول رکھ سکیں، وہ پھول عام دورانیے سے زیادہ عرصے تک مرجھانے سے بچے رہیں گے۔
باغبانی میں مددگار
اسپرین نہ صرف آپ کے درد پر قابو پانے کے لیے بہترین ہے بلکہ آپ کے باغ کو بھی اس سے بہت فائدہ ہوتا ہے۔ کچھ افراد اسپریم کو پیس کر خراب جڑوں کے اوپر ڈال دیتے ہیں یا پانی میں مکس کرکے زمین پر فنگس کا علاج کرنے کے لیے استعمال کرتے ہیں، تاہم یہ احتیاط رکھیں کہ اپنے پودوں کے ارگرد اسپرین کا استعمال بہت زیادہ نہ کریں، بس ایک گولی اور ایک لیٹر پانی کافی ثابت ہوگا۔
کپڑوں پر سے انڈے کے داغ ہٹانا
کیا پکانے یا کھانے کے دوران انڈے کی زردی نے آپ کے لباس کو داغ دار کردیا ہے؟ تو ان کو ہٹانے کے لیے پہلے آپ اسفنج نیم گرم پانی کے ساتھ اس جگہ پر رگڑیں، گرم پانی استعمال نہ کریں کیونکہ اس سے داغ پختہ ہوجائے گا، اگر پھر بھی داغ نہ ہٹے تو پھر ٹارٹریٹ کی کریم اور پانی کو مکس کرکے ایک پیسٹ کی شکل دیں اور اس میں اسپرین کی ایک گولی کو پیس کر شامل کرلیں۔ اس پیسٹ کو داغ پر پھیلائیں اور تیس منٹ تک کے لیے چھوڑ دیں اس کے بعد اسے گرم پانی سے دھولیں۔ داغ صاف ہوجائے گا۔
Friday, 1 May 2015
Tuesday, 24 March 2015
آنکھیں بوڑھی ہو جاتی ہیں
آنکھیں بوڑھی ہو جاتی ہیں..
خواب پرانے ہو جاتے ہیں...
جن گھروں میں افلاس اور غربت
دن چڑھتے ہی دستک دئے
عمر سے پہلے ان صحنوں میں
طفل سیانے ہوجاتے ہیں
کچے صحن اور پکے رشتے
دولت کے انبار کے نیچے
دبتے دبتے دب جاتے ہیں
اور پرانے ہو جاتے ہیں
مجھ کو میرا بچپن دئے دو
بدلے میں سب کچھ لے لو
بچپن کھو کے سب کچھ پایا
لیکن یہ احساس ہے جاگا
آنکھیں بوڑھی ہو جاتی ہیں
خواب پرانے ہو جاتے ہیں
آو راشد اوڑھ کے غم کو
گہری نیند ہی سوجاتے ہیں۔
آنکھیں بوڑھی ہو جاتی ہیں
خواب پرانے ہو جاتے ہیں
از: راشد ادریس رانا
جن کے پہلے شعر نے مجھے
یہ نظم لکھنے پہ مجبور کر دیا
24-03-2015
Saturday, 21 February 2015
ﻣﯿﮟ ﺧﻮﺵ ﮨﻮﮞ ﮔا ـ ایک منتخب تحریر
منتخب تحریر: شکریہ جناب وجدان عالم
ﺑﺎﺑﮯ
ﻧﮯ ﻟﻤﺒﺎ ﺳﺎﻧﺲ ﻟﯿﺎ ﺍﻭﺭ
ﺑﻮﻻ ’’ ﮐﺎﮐﺎ ﺗﻢ ﭼﺎﮨﺘﮯ ﮐﯿﺎ ﮨﻮ ‘‘ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﻋﺮﺽ
ﮐﯿﺎ ’’ ﮐﯿﺎﺁﭖ ﮐﻮ ﻭﺍﻗﻌﯽ
ﺳﻮﻧﺎ ﺑﻨﺎﻧﺎ ﺁﺗﺎ ﮨﮯ
‘‘
ﺑﺎﺑﮯ
ﻧﮯ ﺧﺎﻟﯽ ﺧﺎﻟﯽ ﺁﻧﮑﮭﻮﮞ
ﺳﮯ ﻣﯿﺮﯼ ﻃﺮﻑ
ﺩﯾﮑﮭﺎ
ﺍﻭﺭ ﮨﺎﮞ
ﻣﯿﮟ ﺳﺮ ﮨﻼ ﮐﺮ ﺑﻮﻻ
’’ ﮨﺎﮞ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺟﻮﺍﻧﯽ ﻣﯿﮟ ﺳﯿﮑﮭﺎ ﺗﮭﺎ ‘‘ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﻋﺮﺽ ﮐﯿﺎ ’’ ﮐﯿﺎ ﺁﭖ ﻣﺠﮭﮯ ﯾﮧ ﻧﺴﺨﮧ ﺳﮑﮭﺎ ﺳﮑﺘﮯ ﮨﯿﮟ ‘‘
ﺑﺎﺑﮯ ﻧﮯ ﻏﻮﺭ ﺳﮯ ﻣﯿﺮﯼ ﻃﺮﻑ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﭘﻮﭼﮭﺎ ’’ ﺗﻢ ﺳﯿﮑﮫ ﮐﺮ ﮐﯿﺎ ﮐﺮﻭ ﮔﮯ ‘‘ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﻋﺮﺽ ﮐﯿﺎ ’’ ﻣﯿﮟ ﺩﻭﻟﺖ ﻣﻨﺪ ﮨﻮ ﺟﺎﺋﻮﮞ ﮔﺎ ‘
‘ ﺑﺎﺑﮯ ﻧﮯ ﻗﮩﻘﮩﮧ ﻟﮕﺎﯾﺎ ‘ ﻭﮦ ﮨﻨﺴﺘﺎ ﺭﮨﺎ ‘ ﺩﯾﺮ ﺗﮏ ﮨﻨﺴﺘﺎ ﺭﮨﺎ ﯾﮩﺎﮞ ﺗﮏ ﮐﮧ ﺍﺱ ﮐﺎ ﺩﻡ ﭨﻮﭦ ﮔﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﺳﮯ ﮐﮭﺎﻧﺴﯽ ﮐﺎ ﺷﺪﯾﺪ ﺩﻭﺭﮦ ﭘﮍ ﮔﯿﺎ۔ ﻭﮦ ﮐﮭﺎﻧﺴﺘﮯ ﮐﮭﺎﻧﺴﺘﮯ ﺩﮨﺮﺍ ﮨﻮﺍ ﺍﻭﺭ ﺗﻘﺮﯾﺒﺎً ﺑﮯ ﺣﺎﻟﯽ ﮐﮯ ﻋﺎﻟﻢ ﻣﯿﮟ ﺩﯾﺮ ﺗﮏ ﺍﭘﻨﮯ ﮨﯽ ﭘﺎﺋﻮﮞ ﭘﺮ ﮔﺮﺍ ﺭﮨﺎ ‘ ﻭﮦ ﭘﮭﺮ ﮐﮭﺎﻧﺴﺘﮯ ﮐﮭﺎﻧﺴﺘﮯ ﺳﯿﺪﮬﺎ ﮨﻮﺍ ﺍﻭﺭ ﭘﻮﭼﮭﺎ ’’
ﺗﻢ ﺩﻭﻟﺖ ﻣﻨﺪ ﮨﻮ ﮐﺮ ﮐﯿﺎ ﮐﺮﻭ ﮔﮯ ‘‘ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺟﻮﺍﺏ ﺩﯾﺎ ’’ ﻣﯿﮟ ﺩﻧﯿﺎ ﺑﮭﺮ ﮐﯽ ﻧﻌﻤﺘﯿﮟ ﺧﺮﯾﺪﻭﮞ ﮔﺎ
‘‘ ﺍﺱ ﻧﮯ ﭘﻮﭼﮭﺎ ’’ ﻧﻌﻤﺘﯿﮟ ﺧﺮﯾﺪ ﮐﺮ ﮐﯿﺎ ﮐﺮﻭ ﮔﮯ
‘‘ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺟﻮﺍﺏ ﺩﯾﺎ ’’ ﻣﯿﮟ ﺧﻮﺵ ﮨﻮﮞ ﮔﺎ ‘ ﻣﺠﮭﮯ ﺳﮑﻮﻥ ﻣﻠﮯ ﮔﺎ ‘‘
ﺍﺱ ﻧﮯ ﺗﮍﭖ ﮐﺮ ﻣﯿﺮﯼ ﻃﺮﻑ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﮐﮩﺎ ’’ ﮔﻮﯾﺎﺗﻤﮩﯿﮟ ﺳﻮﻧﺎ ﺍﻭﺭ ﺩﻭﻟﺖ ﻧﮩﯿﮞﺴﮑﻮﻥ ﺍﻭﺭ ﺧﻮﺷﯽ ﭼﺎﮨﯿﮯ ‘‘ ﻣﯿﮟ ﺧﺎﻣﻮﺷﯽ ﺳﮯ ﺍﺱ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺩﯾﮑﮭﺘﺎ ﺭﮨﺎ
‘ ﺍﺱ ﻧﮯ ﻣﺠﮭﮯ ﺟﮭﻨﺠﻮﮌﺍ ﺍﻭﺭ ﭘﻮﭼﮭﺎ ’’ ﮐﯿﺎ ﺗﻢ ﺩﺭﺍﺻﻞ ﺳﮑﻮﻥ ﺍﻭﺭ ﺧﻮﺷﯽ ﮐﯽ ﺗﻼﺵ ﻣﯿﮟ ﮨﻮ؟ ‘‘
ﻣﯿﮟ ﺍﺱ ﻭﻗﺖ ﻧﻮﺟﻮﺍﻥ ﺗﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﻣﯿﮟ ﺩﻧﯿﺎ ﮐﮯ ﮨﺮﻧﻮﺟﻮﺍﻥ ﮐﯽ ﻃﺮﺡ ﺩﻭﻟﺖ ﮐﻮ ﺧﻮﺷﯽ ﺍﻭﺭ ﺳﮑﻮﻥ ﺳﮯ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﺍﮨﻤﯿﺖ ﺩﯾﺘﺎ ﺗﮭﺎ ﻣﮕﺮ ﺑﺎﺑﮯ ﻧﮯ ﻣﺠﮭﮯ ﮐﻨﻔﯿﻮﺯ ﮐﺮ ﺩﯾﺎ ﺗﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺍﺳﯽ ﮐﻨﻔﯿﻮﮊﻥ ﻣﯿﮟ ﮨﺎﮞ ﻣﯿﮟ ﺳﺮ ﮨﻼ ﺩﯾﺎ ‘
ﺑﺎﺑﮯ ﻧﮯ ﺍﯾﮏ ﺍﻭﺭ ﻟﻤﺒﺎ ﻗﮩﻘﮩﮧ ﻟﮕﺎﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﻗﮩﻘﮩﮯ ﮐﺎ ﺍﺧﺘﺘﺎﻡ ﺑﮭﯽ ﮐﮭﺎﻧﺴﯽ ﭘﺮ ﮨﻮﺍ ‘ ﻭﮦ ﺩﻡ ﺳﻨﺒﮭﺎﻟﺘﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺑﻮﻻ ’’ ﮐﺎﮐﺎ ﻣﯿﮟ ﺗﻤﮩﯿﮟ ﺳﻮﻧﮯ ﮐﯽ ﺑﺠﺎﺋﮯ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﮐﻮ ﺑﻨﺪﮦ ﺑﻨﺎﻧﮯ ﮐﺎ ﻃﺮﯾﻘﮧ ﮐﯿﻮﮞ ﻧﮧ ﺳﮑﮭﺎﺩﻭﮞ
ﻣﯿﮟ ﺗﻤﮩﯿﮟ ﺩﻭﻟﺖ ﻣﻨﺪ ﮐﯽ ﺑﺠﺎﺋﮯ ﭘﺮﺳﮑﻮﻥ ﺍﻭﺭ ﺧﻮﺵ ﺭﮨﻨﮯ ﮐﺎ ﮔﺮ ﮐﯿﻮﮞ ﻧﮧ ﺳﮑﮭﺎﺩﻭﮞ ‘‘
ﻣﯿﮟ ﺧﺎﻣﻮﺷﯽ ﺳﮯ ﺍﺱ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺩﯾﮑﮭﺘﺎ ﺭﮨﺎ ‘ ﻭﮦ ﺑﻮﻻ ’’ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﮐﯽ ﺧﻮﺍﮨﺸﯿﮟ ﺟﺐ ﺗﮏ ﺍﺱ ﮐﮯ ﻭﺟﻮﺩ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﮐﯽ ﻋﻤﺮ ﺳﮯ ﻟﻤﺒﯽ ﺭﮨﺘﯽ ﮨﯿﮟ۔ ﯾﮧ ﺍﺱ ﻭﻗﺖ ﺗﮏ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﺭﮨﺘﺎ ﮨﮯ ‘ ﺗﻢ ﺍﭘﻨﯽ ﺧﻮﺍﮨﺸﻮﮞ ﮐﻮ ﺍﭘﻨﯽ ﻋﻤﺮ ﺍﻭﺭ ﺍﭘﻨﮯ ﻭﺟﻮﺩﺳﮯ ﭼﮭﻮﭨﺎ ﮐﺮ ﻟﻮ ‘ ﺗﻢ ﺧﻮﺷﯽ ﺑﮭﯽ ﭘﺎﺋﻮ ﺟﺎﺋﻮ ﮔﮯ ﺍﻭﺭ ﺳﮑﻮﻥ ﺑﮭﯽ ﺍﻭﺭ ﺟﺐ ﺧﻮﺷﯽ ﺍﻭﺭ ﺳﮑﻮﻥ ﭘﺎ ﺟﺎﺋﻮ ﮔﮯ ﺗﻮ ﺗﻢ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﺳﮯ ﺑﻨﺪﮮ ﺑﻦ ﺟﺎﺋﻮﮔﮯ ‘‘
ﻣﺠﮭﮯ ﺑﺎﺑﮯ ﮐﯽ ﺑﺎﺕ ﺳﻤﺠﮫ ﻧﮧ ﺁﺋﯽ ‘ ﺑﺎﺑﮯ ﻧﮯ ﻣﯿﺮﮮ ﭼﮩﺮﮮ ﭘﺮ ﻟﮑﮭﯽ ﺗﺸﮑﯿﮏ ﭘﮍﮪ ﻟﯽ ‘ ﻭﮦ ﺑﻮﻻ ’’ ﺗﻢ ﻗﺮﺁﻥ ﻣﺠﯿﺪ ﻣﯿﮟ ﭘﮍﮬﻮ ‘ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﺧﻮﺍﮨﺸﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﻟﺘﮭﮍﮮ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﻮ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﮐﮩﺘﺎ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﭘﻨﯽ ﻣﺤﺒﺖ ﻣﯿﮟ ﺭﻧﮕﮯ ﺧﻮﺍﮨﺸﻮﮞ ﺳﮯ ﺁﺯﺍﺩ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﻮ ﺑﻨﺪﮦ ‘‘
ﺑﺎﺑﮯ ﻧﮯ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﮐﺎﻣﺮﺍﻥ ﮐﯽ ﺑﺎﺭﮦ ﺩﺭﯼ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺍﺷﺎﺭﮦ ﮐﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﺑﻮﻻ ’’ ﺍﺱ ﮐﻮ ﺑﻨﺎﻧﮯ ﻭﺍﻻ ﺑﮭﯽ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﺗﮭﺎ ‘ ﻭﮦ ﺍﭘﻨﯽ ﻋﻤﺮ ﺳﮯ ﻟﻤﺒﯽ ﺍﻭﺭ ﻣﻀﺒﻮﻁ ﻋﻤﺎﺭﺕ ﺑﻨﺎﻧﮯ ﮐﮯ ﺧﺒﻂ ﻣﯿﮟ ﻣﺒﺘﻼ ﺗﮭﺎ ‘ ﻭﮦ ﭘﻮﺭﯼ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﺩﻭﻟﺖ ﺑﮭﯽ ﺟﻤﻊ ﮐﺮﺗﺎ ﺭﮨﺎ ﻣﮕﺮ ﺍﺱ ﺩﻭﻟﺖ ﺍﻭﺭ ﻋﻤﺎﺭﺕ ﻧﮯ ﺍﺳﮯ ﺳﮑﻮﻥ ﺍﻭﺭ ﺧﻮﺷﯽ ﻧﮧ ﺩﯼ ‘
ﺧﻮﺵ ﻣﯿﮟ ﮨﻮﮞ ‘ ﺍﺱ ﺩﻭﻟﺖ ﻣﻨﺪ ﮐﯽ ﮔﺮﯼ ﭘﮍﯼ ﺑﺎﺭﮦ ﺩﺭﯼ ﻣﯿﮟ ﺑﺮﺳﺘﯽ ﺑﺎﺭﺵ ﻣﯿﮟ ﺑﮯ ﺍﻣﺎﻥ ﺑﯿﭩﮫ ﮐﺮ ‘‘ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺑﮯ ﺻﺒﺮﯼ ﺳﮯ ﮐﮩﺎ ’’ ﺍﻭﺭ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯽ ‘‘ ﺍﺱ ﻧﮯ ﻗﮩﻘﮩﮧ ﻟﮕﺎﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﺟﻮﺍﺏ ﺩﯾﺎ ’’ ﻧﮩﯿﮟ ﺗﻢ ﻧﮩﯿﮟ
! ﺗﻢ ﺟﺐ ﺗﮏ ﺗﺎﻧﺒﮯ ﮐﻮﺳﻮﻧﺎ ﺑﻨﺎﻧﮯ ﮐﺎ ﺧﺒﻂ ﭘﺎﻟﺘﮯ ﺭﮨﻮ ﮔﮯ ﺗﻢ ﺍﺱ ﻭﻗﺖ ﺗﮏ ﺧﻮﺷﯽ ﺳﮯ ﺩﻭﺭ ﺑﮭﭩﮑﺘﮯ ﺭﮨﻮ ﮔﮯ۔ ﺗﻢ ﺍﺱ ﻭﻗﺖ ﺗﮏ ﺳﮑﻮﻥ ﺳﮯ ﺩﻭﺭ ﺭﮨﻮ ﮔﮯ ‘‘ ﺑﺎﺑﮯ ﻧﮯ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺯﻣﯿﻦ ﺳﮯ ﭼﮭﻮﭨﯽ ﺳﯽ ﭨﮩﻨﯽ ﺗﻮﮌﯼ ﺍﻭﺭ ﻓﺮﺵ ﭘﺮ ﺭﮔﮍ ﮐﺮ ﺑﻮﻻ ’’
ﻟﻮ ﻣﯿﮟ ﺗﻤﮩﯿﮟ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﮐﻮ ﺑﻨﺪﮦ ﺑﻨﺎﻧﮯ ﮐﺎ ﻧﺴﺨﮧ ﺑﺘﺎﺗﺎ ﮨﻮﮞ ‘ ﺍﭘﻨﯽ ﺧﻮﺍﮨﺸﻮﮞ ﮐﻮ ﮐﺒﮭﯽ ﺍﭘﻨﮯ ﻗﺪﻣﻮﮞ ﺳﮯ ﺁﮔﮯ ﻧﮧ ﻧﮑﻠﻨﮯ ﺩﻭ ‘ ﺟﻮ ﻣﻞ ﮔﯿﺎ ﺍﺱ ﭘﺮ ﺷﮑﺮ ﮐﺮﻭ ‘ ﺟﻮ ﭼﮭﻦ ﮔﯿﺎ ﺍﺱ ﭘﺮ ﺍﻓﺴﻮﺱ ﻧﮧ ﮐﺮﻭ ‘ ﺟﻮ ﻣﺎﻧﮓ ﻟﮯ ﺍﺱ ﮐﻮ ﺩﮮ ﺩﻭ ‘ ﺟﻮ ﺑﮭﻮﻝ ﺟﺎﺋﮯ ﺍﺳﮯ ﺑﮭﻮﻝ ﺟﺎﺋﻮ ‘ ﺩﻧﯿﺎ ﻣﯿﮟ ﺑﮯ ﺳﺎﻣﺎﻥ ﺁﺋﮯ ﺗﮭﮯ ‘ ﺑﮯ ﺳﺎﻣﺎﻥ ﻭﺍﭘﺲ ﺟﺎﺋﻮ ﮔﮯ ‘
ﺳﺎﻣﺎﻥ ﺟﻤﻊ ﻧﮧ ﮐﺮﻭ ‘ ﮨﺠﻮﻡ ﺳﮯ ﭘﺮﮨﯿﺰ ﮐﺮﻭ ‘ ﺗﻨﮩﺎﺋﯽ ﮐﻮ ﺳﺎﺗﮭﯽ ﺑﻨﺎﺋﻮ ‘ ﻣﻔﺘﯽ ﮨﻮ ﺗﺐ ﺑﮭﯽ ﻓﺘﻮﯼٰ ﺟﺎﺭﯼ ﻧﮧ ﮐﺮﻭ ‘ ﺟﺴﮯ ﺧﺪﺍ ﮈﮬﯿﻞ ﺩﮮ ﺭﮨﺎ ﮨﻮ ﺍﺱ ﮐﺎﮐﺒﮭﯽ ﺍﺣﺘﺴﺎﺏ ﻧﮧ ﮐﺮﻭ ‘
ﺑﻼ ﺿﺮﻭﺭﺕ ﺳﭻ ﻓﺴﺎﺩ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ ‘ ﮐﻮﺋﯽ ﭘﻮﭼﮭﮯ ﺗﻮ ﺳﭻ ﺑﻮﻟﻮ ‘ ﻧﮧ ﭘﻮﭼﮭﮯ ﺗﻮ ﭼﭗ ﺭﮨﻮ ‘ ﻟﻮﮒ ﻟﺬﺕ ﮨﻮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺩﻧﯿﺎ ﮐﯽ ﺗﻤﺎﻡ ﻟﺬﺗﻮﮞ ﮐﺎ ﺍﻧﺠﺎﻡ ﺑﺮﺍ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ ‘
ﺯﻧﺪﮔﯽ ﻣﯿﮟ ﺟﺐ ﺧﻮﺷﯽ ﺍﻭﺭ ﺳﮑﻮﻥ ﮐﻢ ﮨﻮ ﺟﺎﺋﮯ ﺗﻮ ﺳﯿﺮ ﭘﺮ ﻧﮑﻞ ﺟﺎﺋﻮ ‘ ﺗﻤﮩﯿﮟ ﺭﺍﺳﺘﮯ ﻣﯿﮟ ﺳﮑﻮﻥ ﺑﮭﯽ ﻣﻠﮯ ﮔﺎ ﺍﻭﺭ ﺧﻮﺷﯽ ﺑﮭﯽ ‘
ﺩﯾﻨﮯ ﻣﯿﮟ ﺧﻮﺷﯽ ﮨﮯ ‘ ﻭﺻﻮﻝ ﮐﺮﻧﮯ ﻣﯿﮟ ﻏﻢ ‘ ﺩﻭﻟﺖ ﮐﻮ ﺭﻭﮐﻮ ﮔﮯ ﺗﻮ ﺧﻮﺩ ﺑﮭﯽ ﺭﮎ ﺟﺎﺋﻮ ﮔﮯ ‘ ﭼﻮﺭﻭﮞ ﻣﯿﮟ ﺭﮨﻮ ﮔﮯ ﺗﻮ ﭼﻮﺭ ﮨﻮ ﺟﺎﺋﻮ ﮔﮯ۔
ﺳﺎﺩﮬﻮﺋﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺑﯿﭩﮭﻮ ﮔﮯ ﺗﻮ ﺍﻧﺪﺭ ﮐﺎ ﺳﺎﺩﮬﻮ ﺟﺎﮒ ﺟﺎﺋﮯ ﮔﺎ ‘ ﺍﻟﻠﮧ ﺭﺍﺿﯽ ﺭﮨﮯ ﮔﺎ ﺗﻮ ﺟﮓ ﺭﺍﺿﯽ ﺭﮨﮯ ﮔﺎ ‘ ﻭﮦ ﻧﺎﺭﺍﺽ ﮨﻮ ﮔﺎ ﺗﻮ ﻧﻌﻤﺘﻮﮞ ﺳﮯ ﺧﻮﺷﺒﻮ ﺍﮌ ﺟﺎﺋﮯ ﮔﯽ ‘
ﺗﻢ ﺟﺐ ﻋﺰﯾﺰﻭﮞ ‘ ﺭﺷﺘﮯ ﺩﺍﺭﻭﮞ ‘ ﺍﻭﻻﺩ ﺍﻭﺭ ﺩﻭﺳﺘﻮﮞ ﺳﮯ ﭼﮍﻧﮯ ﻟﮕﻮ ﺗﻮ ﺟﺎﻥ ﻟﻮ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻢ ﺳﮯ ﻧﺎﺭﺍﺽ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺗﻢ ﺟﺐ ﺍﭘﻨﮯ ﺩﻝ ﻣﯿﮟ ﺩﺷﻤﻨﻮﮞ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺭﺣﻢ ﻣﺤﺴﻮﺱ ﮐﺮﻧﮯ ﻟﮕﻮ ﺗﻮ ﺳﻤﺠﮫ ﻟﻮ ﺗﻤﮩﺎﺭﺍ ﺧﺎﻟﻖ ﺗﻢ ﺳﮯ ﺭﺍﺿﯽ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﮨﺠﺮﺕ ﮐﺮﻧﮯ ﻭﺍﻻ ﮐﺒﮭﯽ ﮔﮭﺎﭨﮯ ﻣﯿﮟ ﻧﮩﯿﮟ ﺭﮨﺘﺎ ‘‘
ﺑﺎﺑﮯ ﻧﮯ ﺍﯾﮏ ﻟﻤﺒﯽ ﺳﺎﻧﺲ ﻟﯽ ‘ ﺍﺱ ﻧﮯ ﻣﯿﺮﯼ ﭼﮭﺘﺮﯼ ﮐﮭﻮﻟﯽ ‘ ﻣﯿﺮﮮ ﺳﺮ ﭘﺮ ﺭﮐﮭﯽ ﺍﻭﺭ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ
’ ﺟﺎﺋﻮ ﺗﻢ ﭘﺮ ﺭﺣﻤﺘﻮﮞ ﮐﯽ ﯾﮧ ﭼﮭﺘﺮﯼ ﺁﺧﺮﯼ ﺳﺎﻧﺲ ﺗﮏ ﺭﮨﮯ ﮔﯽ ‘ ﺑﺲ ﺍﯾﮏ ﭼﯿﺰ ﮐﺎ ﺩﮬﯿﺎﻥ ﺭﮐﮭﻨﺎ ﮐﺴﯽ ﮐﻮ ﺧﻮﺩ ﻧﮧ ﭼﮭﻮﮌﻧﺎ ‘ ﺩﻭﺳﺮﮮ ﮐﻮ ﻓﯿﺼﻠﮯ ﮐﺎ ﻣﻮﻗﻊ ﺩﯾﻨﺎ ‘ ﯾﮧ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﯽ ﺳﻨﺖ ﮨﮯ ‘
ﺍﻟﻠﮧ ﮐﺒﮭﯽ ﺍﭘﻨﯽ ﻣﺨﻠﻮﻕ ﮐﻮ ﺗﻨﮩﺎ ﻧﮩﯿﮟ ﭼﮭﻮﮌﺗﺎ ‘ ﻣﺨﻠﻮﻕ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﻮ ﭼﮭﻮﮌﺗﯽ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺩﮬﯿﺎﻥ ﺭﮐﮭﻨﺎ ﺟﻮ ﺟﺎ ﺭﮨﺎ ﮨﻮ ﺍﺳﮯ ﺟﺎﻧﮯ ﺩﯾﻨﺎ ﻣﮕﺮﺟﻮ nﻭﺍﭘﺲ ﺁ ﺭﮨﺎ ﮨﻮ ‘ ﺍﺱ ﭘﺮ ﮐﺒﮭﯽ ﺍﭘﻨﺎ ﺩﺭﻭﺍﺯﮦ ﺑﻨﺪ ﻧﮧ ﮐﺮﻧﺎ ‘
ﯾﮧ ﺑﮭﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﯽ ﻋﺎﺩﺕ ﮨﮯ ‘ ﺍﻟﻠﮧ ﻭﺍﭘﺲ ﺁﻧﮯ ﻭﺍﻟﻮﮞ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﮨﻤﯿﺸﮧ ﺍﭘﻨﺎ ﺩﺭﻭﺍﺯﮦ ﮐﮭﻼ ﺭﮐﮭﺘﺎ ﮨﮯ ‘ ﺗﻢ ﯾﮧ ﮐﺮﺗﮯ ﺭﮨﻨﺎ ‘ ﺗﻤﮩﺎﺭﮮ ﺩﺭﻭﺍﺯﮮ ﭘﺮ ﻣﯿﻼ ﻟﮕﺎ ﺭﮨﮯ ﮔﺎ ‘‘۔
’’ ﮨﺎﮞ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺟﻮﺍﻧﯽ ﻣﯿﮟ ﺳﯿﮑﮭﺎ ﺗﮭﺎ ‘‘ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﻋﺮﺽ ﮐﯿﺎ ’’ ﮐﯿﺎ ﺁﭖ ﻣﺠﮭﮯ ﯾﮧ ﻧﺴﺨﮧ ﺳﮑﮭﺎ ﺳﮑﺘﮯ ﮨﯿﮟ ‘‘
ﺑﺎﺑﮯ ﻧﮯ ﻏﻮﺭ ﺳﮯ ﻣﯿﺮﯼ ﻃﺮﻑ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﭘﻮﭼﮭﺎ ’’ ﺗﻢ ﺳﯿﮑﮫ ﮐﺮ ﮐﯿﺎ ﮐﺮﻭ ﮔﮯ ‘‘ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﻋﺮﺽ ﮐﯿﺎ ’’ ﻣﯿﮟ ﺩﻭﻟﺖ ﻣﻨﺪ ﮨﻮ ﺟﺎﺋﻮﮞ ﮔﺎ ‘
‘ ﺑﺎﺑﮯ ﻧﮯ ﻗﮩﻘﮩﮧ ﻟﮕﺎﯾﺎ ‘ ﻭﮦ ﮨﻨﺴﺘﺎ ﺭﮨﺎ ‘ ﺩﯾﺮ ﺗﮏ ﮨﻨﺴﺘﺎ ﺭﮨﺎ ﯾﮩﺎﮞ ﺗﮏ ﮐﮧ ﺍﺱ ﮐﺎ ﺩﻡ ﭨﻮﭦ ﮔﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﺳﮯ ﮐﮭﺎﻧﺴﯽ ﮐﺎ ﺷﺪﯾﺪ ﺩﻭﺭﮦ ﭘﮍ ﮔﯿﺎ۔ ﻭﮦ ﮐﮭﺎﻧﺴﺘﮯ ﮐﮭﺎﻧﺴﺘﮯ ﺩﮨﺮﺍ ﮨﻮﺍ ﺍﻭﺭ ﺗﻘﺮﯾﺒﺎً ﺑﮯ ﺣﺎﻟﯽ ﮐﮯ ﻋﺎﻟﻢ ﻣﯿﮟ ﺩﯾﺮ ﺗﮏ ﺍﭘﻨﮯ ﮨﯽ ﭘﺎﺋﻮﮞ ﭘﺮ ﮔﺮﺍ ﺭﮨﺎ ‘ ﻭﮦ ﭘﮭﺮ ﮐﮭﺎﻧﺴﺘﮯ ﮐﮭﺎﻧﺴﺘﮯ ﺳﯿﺪﮬﺎ ﮨﻮﺍ ﺍﻭﺭ ﭘﻮﭼﮭﺎ ’’
ﺗﻢ ﺩﻭﻟﺖ ﻣﻨﺪ ﮨﻮ ﮐﺮ ﮐﯿﺎ ﮐﺮﻭ ﮔﮯ ‘‘ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺟﻮﺍﺏ ﺩﯾﺎ ’’ ﻣﯿﮟ ﺩﻧﯿﺎ ﺑﮭﺮ ﮐﯽ ﻧﻌﻤﺘﯿﮟ ﺧﺮﯾﺪﻭﮞ ﮔﺎ
‘‘ ﺍﺱ ﻧﮯ ﭘﻮﭼﮭﺎ ’’ ﻧﻌﻤﺘﯿﮟ ﺧﺮﯾﺪ ﮐﺮ ﮐﯿﺎ ﮐﺮﻭ ﮔﮯ
‘‘ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺟﻮﺍﺏ ﺩﯾﺎ ’’ ﻣﯿﮟ ﺧﻮﺵ ﮨﻮﮞ ﮔﺎ ‘ ﻣﺠﮭﮯ ﺳﮑﻮﻥ ﻣﻠﮯ ﮔﺎ ‘‘
ﺍﺱ ﻧﮯ ﺗﮍﭖ ﮐﺮ ﻣﯿﺮﯼ ﻃﺮﻑ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﮐﮩﺎ ’’ ﮔﻮﯾﺎﺗﻤﮩﯿﮟ ﺳﻮﻧﺎ ﺍﻭﺭ ﺩﻭﻟﺖ ﻧﮩﯿﮞﺴﮑﻮﻥ ﺍﻭﺭ ﺧﻮﺷﯽ ﭼﺎﮨﯿﮯ ‘‘ ﻣﯿﮟ ﺧﺎﻣﻮﺷﯽ ﺳﮯ ﺍﺱ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺩﯾﮑﮭﺘﺎ ﺭﮨﺎ
‘ ﺍﺱ ﻧﮯ ﻣﺠﮭﮯ ﺟﮭﻨﺠﻮﮌﺍ ﺍﻭﺭ ﭘﻮﭼﮭﺎ ’’ ﮐﯿﺎ ﺗﻢ ﺩﺭﺍﺻﻞ ﺳﮑﻮﻥ ﺍﻭﺭ ﺧﻮﺷﯽ ﮐﯽ ﺗﻼﺵ ﻣﯿﮟ ﮨﻮ؟ ‘‘
ﻣﯿﮟ ﺍﺱ ﻭﻗﺖ ﻧﻮﺟﻮﺍﻥ ﺗﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﻣﯿﮟ ﺩﻧﯿﺎ ﮐﮯ ﮨﺮﻧﻮﺟﻮﺍﻥ ﮐﯽ ﻃﺮﺡ ﺩﻭﻟﺖ ﮐﻮ ﺧﻮﺷﯽ ﺍﻭﺭ ﺳﮑﻮﻥ ﺳﮯ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﺍﮨﻤﯿﺖ ﺩﯾﺘﺎ ﺗﮭﺎ ﻣﮕﺮ ﺑﺎﺑﮯ ﻧﮯ ﻣﺠﮭﮯ ﮐﻨﻔﯿﻮﺯ ﮐﺮ ﺩﯾﺎ ﺗﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺍﺳﯽ ﮐﻨﻔﯿﻮﮊﻥ ﻣﯿﮟ ﮨﺎﮞ ﻣﯿﮟ ﺳﺮ ﮨﻼ ﺩﯾﺎ ‘
ﺑﺎﺑﮯ ﻧﮯ ﺍﯾﮏ ﺍﻭﺭ ﻟﻤﺒﺎ ﻗﮩﻘﮩﮧ ﻟﮕﺎﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﻗﮩﻘﮩﮯ ﮐﺎ ﺍﺧﺘﺘﺎﻡ ﺑﮭﯽ ﮐﮭﺎﻧﺴﯽ ﭘﺮ ﮨﻮﺍ ‘ ﻭﮦ ﺩﻡ ﺳﻨﺒﮭﺎﻟﺘﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺑﻮﻻ ’’ ﮐﺎﮐﺎ ﻣﯿﮟ ﺗﻤﮩﯿﮟ ﺳﻮﻧﮯ ﮐﯽ ﺑﺠﺎﺋﮯ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﮐﻮ ﺑﻨﺪﮦ ﺑﻨﺎﻧﮯ ﮐﺎ ﻃﺮﯾﻘﮧ ﮐﯿﻮﮞ ﻧﮧ ﺳﮑﮭﺎﺩﻭﮞ
ﻣﯿﮟ ﺗﻤﮩﯿﮟ ﺩﻭﻟﺖ ﻣﻨﺪ ﮐﯽ ﺑﺠﺎﺋﮯ ﭘﺮﺳﮑﻮﻥ ﺍﻭﺭ ﺧﻮﺵ ﺭﮨﻨﮯ ﮐﺎ ﮔﺮ ﮐﯿﻮﮞ ﻧﮧ ﺳﮑﮭﺎﺩﻭﮞ ‘‘
ﻣﯿﮟ ﺧﺎﻣﻮﺷﯽ ﺳﮯ ﺍﺱ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺩﯾﮑﮭﺘﺎ ﺭﮨﺎ ‘ ﻭﮦ ﺑﻮﻻ ’’ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﮐﯽ ﺧﻮﺍﮨﺸﯿﮟ ﺟﺐ ﺗﮏ ﺍﺱ ﮐﮯ ﻭﺟﻮﺩ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﮐﯽ ﻋﻤﺮ ﺳﮯ ﻟﻤﺒﯽ ﺭﮨﺘﯽ ﮨﯿﮟ۔ ﯾﮧ ﺍﺱ ﻭﻗﺖ ﺗﮏ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﺭﮨﺘﺎ ﮨﮯ ‘ ﺗﻢ ﺍﭘﻨﯽ ﺧﻮﺍﮨﺸﻮﮞ ﮐﻮ ﺍﭘﻨﯽ ﻋﻤﺮ ﺍﻭﺭ ﺍﭘﻨﮯ ﻭﺟﻮﺩﺳﮯ ﭼﮭﻮﭨﺎ ﮐﺮ ﻟﻮ ‘ ﺗﻢ ﺧﻮﺷﯽ ﺑﮭﯽ ﭘﺎﺋﻮ ﺟﺎﺋﻮ ﮔﮯ ﺍﻭﺭ ﺳﮑﻮﻥ ﺑﮭﯽ ﺍﻭﺭ ﺟﺐ ﺧﻮﺷﯽ ﺍﻭﺭ ﺳﮑﻮﻥ ﭘﺎ ﺟﺎﺋﻮ ﮔﮯ ﺗﻮ ﺗﻢ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﺳﮯ ﺑﻨﺪﮮ ﺑﻦ ﺟﺎﺋﻮﮔﮯ ‘‘
ﻣﺠﮭﮯ ﺑﺎﺑﮯ ﮐﯽ ﺑﺎﺕ ﺳﻤﺠﮫ ﻧﮧ ﺁﺋﯽ ‘ ﺑﺎﺑﮯ ﻧﮯ ﻣﯿﺮﮮ ﭼﮩﺮﮮ ﭘﺮ ﻟﮑﮭﯽ ﺗﺸﮑﯿﮏ ﭘﮍﮪ ﻟﯽ ‘ ﻭﮦ ﺑﻮﻻ ’’ ﺗﻢ ﻗﺮﺁﻥ ﻣﺠﯿﺪ ﻣﯿﮟ ﭘﮍﮬﻮ ‘ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﺧﻮﺍﮨﺸﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﻟﺘﮭﮍﮮ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﻮ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﮐﮩﺘﺎ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﭘﻨﯽ ﻣﺤﺒﺖ ﻣﯿﮟ ﺭﻧﮕﮯ ﺧﻮﺍﮨﺸﻮﮞ ﺳﮯ ﺁﺯﺍﺩ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﻮ ﺑﻨﺪﮦ ‘‘
ﺑﺎﺑﮯ ﻧﮯ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﮐﺎﻣﺮﺍﻥ ﮐﯽ ﺑﺎﺭﮦ ﺩﺭﯼ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺍﺷﺎﺭﮦ ﮐﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﺑﻮﻻ ’’ ﺍﺱ ﮐﻮ ﺑﻨﺎﻧﮯ ﻭﺍﻻ ﺑﮭﯽ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﺗﮭﺎ ‘ ﻭﮦ ﺍﭘﻨﯽ ﻋﻤﺮ ﺳﮯ ﻟﻤﺒﯽ ﺍﻭﺭ ﻣﻀﺒﻮﻁ ﻋﻤﺎﺭﺕ ﺑﻨﺎﻧﮯ ﮐﮯ ﺧﺒﻂ ﻣﯿﮟ ﻣﺒﺘﻼ ﺗﮭﺎ ‘ ﻭﮦ ﭘﻮﺭﯼ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﺩﻭﻟﺖ ﺑﮭﯽ ﺟﻤﻊ ﮐﺮﺗﺎ ﺭﮨﺎ ﻣﮕﺮ ﺍﺱ ﺩﻭﻟﺖ ﺍﻭﺭ ﻋﻤﺎﺭﺕ ﻧﮯ ﺍﺳﮯ ﺳﮑﻮﻥ ﺍﻭﺭ ﺧﻮﺷﯽ ﻧﮧ ﺩﯼ ‘
ﺧﻮﺵ ﻣﯿﮟ ﮨﻮﮞ ‘ ﺍﺱ ﺩﻭﻟﺖ ﻣﻨﺪ ﮐﯽ ﮔﺮﯼ ﭘﮍﯼ ﺑﺎﺭﮦ ﺩﺭﯼ ﻣﯿﮟ ﺑﺮﺳﺘﯽ ﺑﺎﺭﺵ ﻣﯿﮟ ﺑﮯ ﺍﻣﺎﻥ ﺑﯿﭩﮫ ﮐﺮ ‘‘ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺑﮯ ﺻﺒﺮﯼ ﺳﮯ ﮐﮩﺎ ’’ ﺍﻭﺭ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯽ ‘‘ ﺍﺱ ﻧﮯ ﻗﮩﻘﮩﮧ ﻟﮕﺎﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﺟﻮﺍﺏ ﺩﯾﺎ ’’ ﻧﮩﯿﮟ ﺗﻢ ﻧﮩﯿﮟ
! ﺗﻢ ﺟﺐ ﺗﮏ ﺗﺎﻧﺒﮯ ﮐﻮﺳﻮﻧﺎ ﺑﻨﺎﻧﮯ ﮐﺎ ﺧﺒﻂ ﭘﺎﻟﺘﮯ ﺭﮨﻮ ﮔﮯ ﺗﻢ ﺍﺱ ﻭﻗﺖ ﺗﮏ ﺧﻮﺷﯽ ﺳﮯ ﺩﻭﺭ ﺑﮭﭩﮑﺘﮯ ﺭﮨﻮ ﮔﮯ۔ ﺗﻢ ﺍﺱ ﻭﻗﺖ ﺗﮏ ﺳﮑﻮﻥ ﺳﮯ ﺩﻭﺭ ﺭﮨﻮ ﮔﮯ ‘‘ ﺑﺎﺑﮯ ﻧﮯ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺯﻣﯿﻦ ﺳﮯ ﭼﮭﻮﭨﯽ ﺳﯽ ﭨﮩﻨﯽ ﺗﻮﮌﯼ ﺍﻭﺭ ﻓﺮﺵ ﭘﺮ ﺭﮔﮍ ﮐﺮ ﺑﻮﻻ ’’
ﻟﻮ ﻣﯿﮟ ﺗﻤﮩﯿﮟ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﮐﻮ ﺑﻨﺪﮦ ﺑﻨﺎﻧﮯ ﮐﺎ ﻧﺴﺨﮧ ﺑﺘﺎﺗﺎ ﮨﻮﮞ ‘ ﺍﭘﻨﯽ ﺧﻮﺍﮨﺸﻮﮞ ﮐﻮ ﮐﺒﮭﯽ ﺍﭘﻨﮯ ﻗﺪﻣﻮﮞ ﺳﮯ ﺁﮔﮯ ﻧﮧ ﻧﮑﻠﻨﮯ ﺩﻭ ‘ ﺟﻮ ﻣﻞ ﮔﯿﺎ ﺍﺱ ﭘﺮ ﺷﮑﺮ ﮐﺮﻭ ‘ ﺟﻮ ﭼﮭﻦ ﮔﯿﺎ ﺍﺱ ﭘﺮ ﺍﻓﺴﻮﺱ ﻧﮧ ﮐﺮﻭ ‘ ﺟﻮ ﻣﺎﻧﮓ ﻟﮯ ﺍﺱ ﮐﻮ ﺩﮮ ﺩﻭ ‘ ﺟﻮ ﺑﮭﻮﻝ ﺟﺎﺋﮯ ﺍﺳﮯ ﺑﮭﻮﻝ ﺟﺎﺋﻮ ‘ ﺩﻧﯿﺎ ﻣﯿﮟ ﺑﮯ ﺳﺎﻣﺎﻥ ﺁﺋﮯ ﺗﮭﮯ ‘ ﺑﮯ ﺳﺎﻣﺎﻥ ﻭﺍﭘﺲ ﺟﺎﺋﻮ ﮔﮯ ‘
ﺳﺎﻣﺎﻥ ﺟﻤﻊ ﻧﮧ ﮐﺮﻭ ‘ ﮨﺠﻮﻡ ﺳﮯ ﭘﺮﮨﯿﺰ ﮐﺮﻭ ‘ ﺗﻨﮩﺎﺋﯽ ﮐﻮ ﺳﺎﺗﮭﯽ ﺑﻨﺎﺋﻮ ‘ ﻣﻔﺘﯽ ﮨﻮ ﺗﺐ ﺑﮭﯽ ﻓﺘﻮﯼٰ ﺟﺎﺭﯼ ﻧﮧ ﮐﺮﻭ ‘ ﺟﺴﮯ ﺧﺪﺍ ﮈﮬﯿﻞ ﺩﮮ ﺭﮨﺎ ﮨﻮ ﺍﺱ ﮐﺎﮐﺒﮭﯽ ﺍﺣﺘﺴﺎﺏ ﻧﮧ ﮐﺮﻭ ‘
ﺑﻼ ﺿﺮﻭﺭﺕ ﺳﭻ ﻓﺴﺎﺩ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ ‘ ﮐﻮﺋﯽ ﭘﻮﭼﮭﮯ ﺗﻮ ﺳﭻ ﺑﻮﻟﻮ ‘ ﻧﮧ ﭘﻮﭼﮭﮯ ﺗﻮ ﭼﭗ ﺭﮨﻮ ‘ ﻟﻮﮒ ﻟﺬﺕ ﮨﻮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺩﻧﯿﺎ ﮐﯽ ﺗﻤﺎﻡ ﻟﺬﺗﻮﮞ ﮐﺎ ﺍﻧﺠﺎﻡ ﺑﺮﺍ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ ‘
ﺯﻧﺪﮔﯽ ﻣﯿﮟ ﺟﺐ ﺧﻮﺷﯽ ﺍﻭﺭ ﺳﮑﻮﻥ ﮐﻢ ﮨﻮ ﺟﺎﺋﮯ ﺗﻮ ﺳﯿﺮ ﭘﺮ ﻧﮑﻞ ﺟﺎﺋﻮ ‘ ﺗﻤﮩﯿﮟ ﺭﺍﺳﺘﮯ ﻣﯿﮟ ﺳﮑﻮﻥ ﺑﮭﯽ ﻣﻠﮯ ﮔﺎ ﺍﻭﺭ ﺧﻮﺷﯽ ﺑﮭﯽ ‘
ﺩﯾﻨﮯ ﻣﯿﮟ ﺧﻮﺷﯽ ﮨﮯ ‘ ﻭﺻﻮﻝ ﮐﺮﻧﮯ ﻣﯿﮟ ﻏﻢ ‘ ﺩﻭﻟﺖ ﮐﻮ ﺭﻭﮐﻮ ﮔﮯ ﺗﻮ ﺧﻮﺩ ﺑﮭﯽ ﺭﮎ ﺟﺎﺋﻮ ﮔﮯ ‘ ﭼﻮﺭﻭﮞ ﻣﯿﮟ ﺭﮨﻮ ﮔﮯ ﺗﻮ ﭼﻮﺭ ﮨﻮ ﺟﺎﺋﻮ ﮔﮯ۔
ﺳﺎﺩﮬﻮﺋﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺑﯿﭩﮭﻮ ﮔﮯ ﺗﻮ ﺍﻧﺪﺭ ﮐﺎ ﺳﺎﺩﮬﻮ ﺟﺎﮒ ﺟﺎﺋﮯ ﮔﺎ ‘ ﺍﻟﻠﮧ ﺭﺍﺿﯽ ﺭﮨﮯ ﮔﺎ ﺗﻮ ﺟﮓ ﺭﺍﺿﯽ ﺭﮨﮯ ﮔﺎ ‘ ﻭﮦ ﻧﺎﺭﺍﺽ ﮨﻮ ﮔﺎ ﺗﻮ ﻧﻌﻤﺘﻮﮞ ﺳﮯ ﺧﻮﺷﺒﻮ ﺍﮌ ﺟﺎﺋﮯ ﮔﯽ ‘
ﺗﻢ ﺟﺐ ﻋﺰﯾﺰﻭﮞ ‘ ﺭﺷﺘﮯ ﺩﺍﺭﻭﮞ ‘ ﺍﻭﻻﺩ ﺍﻭﺭ ﺩﻭﺳﺘﻮﮞ ﺳﮯ ﭼﮍﻧﮯ ﻟﮕﻮ ﺗﻮ ﺟﺎﻥ ﻟﻮ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻢ ﺳﮯ ﻧﺎﺭﺍﺽ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺗﻢ ﺟﺐ ﺍﭘﻨﮯ ﺩﻝ ﻣﯿﮟ ﺩﺷﻤﻨﻮﮞ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺭﺣﻢ ﻣﺤﺴﻮﺱ ﮐﺮﻧﮯ ﻟﮕﻮ ﺗﻮ ﺳﻤﺠﮫ ﻟﻮ ﺗﻤﮩﺎﺭﺍ ﺧﺎﻟﻖ ﺗﻢ ﺳﮯ ﺭﺍﺿﯽ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﮨﺠﺮﺕ ﮐﺮﻧﮯ ﻭﺍﻻ ﮐﺒﮭﯽ ﮔﮭﺎﭨﮯ ﻣﯿﮟ ﻧﮩﯿﮟ ﺭﮨﺘﺎ ‘‘
ﺑﺎﺑﮯ ﻧﮯ ﺍﯾﮏ ﻟﻤﺒﯽ ﺳﺎﻧﺲ ﻟﯽ ‘ ﺍﺱ ﻧﮯ ﻣﯿﺮﯼ ﭼﮭﺘﺮﯼ ﮐﮭﻮﻟﯽ ‘ ﻣﯿﺮﮮ ﺳﺮ ﭘﺮ ﺭﮐﮭﯽ ﺍﻭﺭ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ
’ ﺟﺎﺋﻮ ﺗﻢ ﭘﺮ ﺭﺣﻤﺘﻮﮞ ﮐﯽ ﯾﮧ ﭼﮭﺘﺮﯼ ﺁﺧﺮﯼ ﺳﺎﻧﺲ ﺗﮏ ﺭﮨﮯ ﮔﯽ ‘ ﺑﺲ ﺍﯾﮏ ﭼﯿﺰ ﮐﺎ ﺩﮬﯿﺎﻥ ﺭﮐﮭﻨﺎ ﮐﺴﯽ ﮐﻮ ﺧﻮﺩ ﻧﮧ ﭼﮭﻮﮌﻧﺎ ‘ ﺩﻭﺳﺮﮮ ﮐﻮ ﻓﯿﺼﻠﮯ ﮐﺎ ﻣﻮﻗﻊ ﺩﯾﻨﺎ ‘ ﯾﮧ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﯽ ﺳﻨﺖ ﮨﮯ ‘
ﺍﻟﻠﮧ ﮐﺒﮭﯽ ﺍﭘﻨﯽ ﻣﺨﻠﻮﻕ ﮐﻮ ﺗﻨﮩﺎ ﻧﮩﯿﮟ ﭼﮭﻮﮌﺗﺎ ‘ ﻣﺨﻠﻮﻕ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﻮ ﭼﮭﻮﮌﺗﯽ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺩﮬﯿﺎﻥ ﺭﮐﮭﻨﺎ ﺟﻮ ﺟﺎ ﺭﮨﺎ ﮨﻮ ﺍﺳﮯ ﺟﺎﻧﮯ ﺩﯾﻨﺎ ﻣﮕﺮﺟﻮ nﻭﺍﭘﺲ ﺁ ﺭﮨﺎ ﮨﻮ ‘ ﺍﺱ ﭘﺮ ﮐﺒﮭﯽ ﺍﭘﻨﺎ ﺩﺭﻭﺍﺯﮦ ﺑﻨﺪ ﻧﮧ ﮐﺮﻧﺎ ‘
ﯾﮧ ﺑﮭﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﯽ ﻋﺎﺩﺕ ﮨﮯ ‘ ﺍﻟﻠﮧ ﻭﺍﭘﺲ ﺁﻧﮯ ﻭﺍﻟﻮﮞ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﮨﻤﯿﺸﮧ ﺍﭘﻨﺎ ﺩﺭﻭﺍﺯﮦ ﮐﮭﻼ ﺭﮐﮭﺘﺎ ﮨﮯ ‘ ﺗﻢ ﯾﮧ ﮐﺮﺗﮯ ﺭﮨﻨﺎ ‘ ﺗﻤﮩﺎﺭﮮ ﺩﺭﻭﺍﺯﮮ ﭘﺮ ﻣﯿﻼ ﻟﮕﺎ ﺭﮨﮯ ﮔﺎ ‘‘۔
Subscribe to:
Posts (Atom)

