Wednesday, 29 January 2014

سیدنا عمر بن عبد العزیز رحمہ اللہ

 
سیدنا عمر بن عبد العزیز رحمہ اللہ کے پاس زکوة کا مال آتا ہے
فرمانے لگے : غریبوں میں تقسیم کردو

بتلایا گیا اسلامی سلطنت میں کوئی بھی فقیر نہیں رہا (اللہ اکبر)
...

فرمایا : اسلامی لشکر تیار کرو
بتلایا گیا اسلامی لشکر ساری دنیا میں گھوم رہے ہیں

فرمایا : نوجوانوں کی شادیاں کر دو
بتلایا گیا کہ شادی کے خواہش مندوں کی شادیوں کے بعد بھی مال بچ گیا ہے

فرمایا : اگر کسی کے ذمہ قرض ہے تو ادا کر دو ، قرض ادا کرنے
کے بعد بھی مال بچ جاتا ہے

فرمایا : دیکھو ( یہودی اور عیسائیوں ) میں سے کسی پر قرض ہے تو ادا کردو
یہ کام بھی کر دیا گیا مال پھر بھی بچ جاتا ہے

فرمایا : اھل علم کو مال دیا جائے ، اُن کو دیا گیا مال پھر بھی بچ جاتا ہے

فرمایا : اس کی گندم خرید کر پہاڑوں کے اوپر ڈال دو

کہ مسلم سلطنت میں کوئی پرندہ بھی بھوکا نہ رہے

سیدنا عمر بن عبد العزیز رحمہ اللہ تم کہاں ہو
آج مسلمانوں کے ملکوں میں انسان بھوکے ہیں
 
::::::منتخب تحریر::::::

Saturday, 25 January 2014

حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا بینک اکاونٹ.

 
 
حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا بینک اکاونٹ کیا آپ کو معلوم ہے کہ سعودی عرب کے ایک بینک میں خلیفہء سوم حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا آج بھ...ی کرنٹ اکاونٹ ہے۔یہ جان کر آپ کو حیرت ہو گی کہ مدینہ منورہ کی میونسپلٹی میں حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے نام پر باقاعدہ جائیداد رجسٹرڈ ہے ۔آج بھی حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے نام پر بجلی اور پانی کا بل آتا ہے۔ کیا آپ جانتے ہیں کہ مسجد نبوی کے پاس ایک عالی شان رہائشی ہوٹل زیر تعمیر جس کا نام عثمان بن عفان رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہوٹل ہے ؟؟ تفصیل جاننا چاہیں گے ؟؟ یہ وہ عظیم صدقہ جاریہ ہے جو حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے صدق نیت کا نتیجہ ہے۔ جب مسلمان ہجرت کر کے مدینہ منورہ پہنچے تو وھاں پینے کے صاف پانی کی بڑی قلت تھی۔ ایک یہودی کا کنواں تھا جو مسلمانوں کو پانی مہنگے داموں فروخت کرتا تھا۔ اس کنویں کا نام "بئر رومہ" یعنی رومہ کنواں تھا۔۔ مسلمانوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے شکایت کی اور اپنی پریشانی سے آگاہ کیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا " کون ہے جو یہ کنواں خریدے اور مسلمانوں کے لیے وقف کر دے ۔ایسا کرنے پر اللہ تعالیٰ اسے جنت میں چشمہ عطاء کرے گا " حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ تعالیٰ عنہ یہودی کے پاس گئے اور کنواں خریدنے کی خواہش کا اظہار کیا ۔کنواں چونکہ منافع بخش آمدنی کا ذریعہ تھا اس لیے یہودی نے فروخت کرنے سے انکار کر دیا۔۔۔ حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے یہ تدبیر کی کہ یہودی سے کہا پورا کنواں نہ سہی ، آدھا کنواں مجھے فروخت کر دو، آدھا کنواں فروخت کرنے پر ایک دن کنویں کا پانی تمہارا ھو گا اور دوسرے دن میرا ہو گا۔۔یہودی لالچ میں آ گیا ۔ اس نے سوچا کہ حضرت عثمان اپنے دن میں پانی زیادہ پیسوں میں فرخت کریں گے ،اس طرح زیادہ منافع کمانے کا موقع مل جائے گا۔ اس نے آدھا کنواں حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو فروخت کر دیا ۔۔ حضرت عثمان نے اپنے دن مسلمانوں کو کنویں سے مفت پانی حاصل کرنے کی اجازت دے دی۔۔ لوگ حضرت عثمان کے دن مفت پانی حاصل کرتے اور اگلے دن کے لیے بھی ذخیرہ کر لیتے۔ یہودی کے دن کوئی بھی شخص پانی خریدنے نہیں جاتا۔۔یہودی نے دیکھا کہ اس کی تجارت ماند پڑ گئی ہے تو اس نے حضرت عثمان سے باقی آدھا کنواں بھی خریدنے کی گزارش کی۔ اس پر حضرت عثمان راضی ھو گئے اور پورا کنواں خرید کر مسلمانوں کے لیے وقف کر دیا ۔۔ اس دوران ایک آدمی نے حضرت عثمان کو کنواں دوگنا قیمت پر خریدنے کی پیش کش کی۔حضرت عثمان نے فرمایا کہ مجھ اس سے کہیں زیادہ کی پیش کش ہے۔اس نے کہا میں تین گنا دوں گا۔حضرت عثمان نے فرمایا مجھے اس سے کئی گنا کی پیش کش ہے۔اس نے کہا میں چار گنا دوں گا۔حضرت عثمان نے فرمایا مجھے اس سے کہیں زیادہ کی پیش کش ہے۔اس طرح وہ آدمی رقم بڑھاتا گیا اور حضرت عثمان یہی جواب دیتے رہے۔یہاں تک اس آدمی نے کہا کہ حضرت آخر کون ہے جو آپ کو دس گنا دینے کی پیش کش کر رہاہے؟۔حضرت عثمان نے فرمایا کہ میرا رب مجھے ایک نیکی پر دس گنا اجر دینے کی پیش کش کرتا ہے ۔۔ وقت گزرتا گیا اور یہ کنواں مسلمانوں کو سیراب کرتا رہا یہاں تک کہ کنویں کے اردگرد کھجوروں کا باغ بن گیا۔عثمانی سلطنت کے دور میں اس باغ کی دیکھ بال ہوئی۔بعد از سعودی کے عہد میں اس باغ میں کھجوروں کے درختوں کی تعداد پندرہ سو پچاس ہو گئی ۔۔ یہ باغ میونسپلٹی میں حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے نام پر رجسٹرڈ ہیں۔۔وزارتِ زراعت یہاں کے کھجور،بازار میں فروخت کرتی اور اس سے حاصل ہونے والی آمدنی حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے نام پر بینک میں جمع کرتی رہی یہاں تک کہ اکاونٹ میں اتنی رقم جمع ہو کہ مرکزی علاقہ میں ایک پلاٹ لیا گیا جہاں فندق عثمان بن عفان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے نام پر ایک رہائشی ہوٹل تعمیر کیا جانے لگا ۔۔ اس ہوٹل سے سالانہ پچاس ملین ریال آمدنی متوقع ہے۔جس کا آدھا حصہ غریبوں اور مسکینوں میں تقسیم ہو گا باقی آدھا حضرت عثمان کے بینک اکاونٹ میں جمع ہوگا۔ اندازہ کیجیئے کہ حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے انفاق کو اللہ تعالیٰ نے کیسے قبول فرمایا اور اس میں ایسی برکت عطاء کی کہ قیامت تک ان کے لیے صدقہ جاریہ بن گیا ۔۔ یہ وہ لوگ ہیں جنھوں نے اللہ کے ساتھ تجارت کی ۔جنھوں نے اللہ تعالیٰ کو قرض دیا ،اچھا قرض، پھر اللہ تعالیٰ نے انھیں کئی گنا بڑھا کر لوٹا دیا -----------------------------------------------------------

ﺍﺏ ﺟﻮ ﺑﭽﮭﮍﮮ ﮨﯿﮟ ﺗﻮ ﺍﺣﺴﺎﺱ ﮨﻮﺍ ہے ہم کو۔

شکریہ جناب محترم مصطفٰی ملک
ﺍﺏ ﺟﻮ ﺑﭽﮭﮍﮮ ﮨﯿﮟ ﺗﻮ ﺍﺣﺴﺎﺱ ﮨﻮﺍ
ﮨﮯ ﮨﻢ ﮐﻮ
ﺩﺭﺩ ﮐﯿﺎ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ ﺗﻨﮩﺎﺋﯽ ﮐﺴﮯ ﮐﮩﺘﮯ
ﮨﯿﮟ
ﭼﺎﺭ ﺳﻮ ﮔﻮﻧﺠﺘﯽ ﺭﺳﻮﺍﺋﯽ ﮐﺴﮯ ﮐﮩﺘﮯ
ﮨﯿﮟ
ﺍﺏ ﺟﻮ ﺑﭽﮭﮍﮮ ﮨﯿﮟ ﺗﻮ ﺍﺣﺴﺎﺱ ﮨﻮﺍ
ﮨﮯ ﮨﻢ ﮐﻮ
ﮐﻮﺋﯽ ﻟﻤﺤﮧ ﮨﻮ ﺗِﺮﯼ ﯾﺎﺩ ﻣﯿﮟ ﮐﮭﻮ
ﺟﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ
ﺍﺏ ﺗﻮ ﺧﻮﺩ ﮐﻮ ﺑﮭﯽ ﻣﯿﺴﺮ ﻧﮩﯿﮟ ﺁﭘﺎﺗﮯ
ﮨﯿﮟ
ﺭﺍﺕ ﮨﻮ ﺩﻥ ﮨﻮ ﺗﺮﮮ ﭘﯿﺎﺭ ﻣﯿﮞﮩﻢ
ﺑﮩﺘﮯ ﮨﯿﮟ
ﺩﺭﺩ ﮐﯿﺎ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ ﺗﻨﮩﺎﺋﯽ ﮐﺴﮯ ﮐﮩﺘﮯ
ﮨﯿﮟ
ﺍَﺏ ﺟﻮ ﺑﭽﮭﮍﮮ ﮨﯿﮟ ﺗﻮ ﺍﺣﺴﺎﺱ ﮨﻮﺍ
ﮨﮯ ﮨﻢ ﮐﻮ
ﺟﻮ ﺑﮭﯽ ﻏﻢ ﺁﺋﮯ ﺍُﺳﮯ ﺩﻝ ﭘﮧ ﺳﮩﺎ
ﮐﺮﺗﮯ ﺗﮭﮯ
ﺍﯾﮏ ﻭﮦ ﻭﻗﺖ ﺗﮭﺎ ﮨﻢ ﻣﻞ ﮐﮯ ﺭﮨﺎ
ﮐﺮﺗﮯ ﺗﮭﮯ
ﺍﺏ ﺍﮐﯿﻠﮯ ﮨﯽ ﺯﻣﺎﻧﮯ ﮐﮯ ﺳﺘﻢ ﺳﮩﺘﮯ
ﮨﯿﮟ
ﺩﺭﺩ ﮐﯿﺎ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ ﺗﻨﮩﺎﺋﯽ ﮐﺴﮯ ﮐﮩﺘﮯ
ﮨﯿﮟ
ﺍﺏ ﺟﻮ ﺑﭽﮭﮍﮮ ﮨﯿﮟ ﺗﻮ ﺍﺣﺴﺎﺱ ﮨﻮﺍ
ﮨﮯ ﮨﻢ ﮐﻮ
ﮨﻢ ﻧﮯ ﺧﻮﺩﺍﭘﻨﮯ ﮨﯽ ﺭﺳﺘﮯ ﻣﯿﮟ
ﺑﭽﮭﺎﺋﮯ ﮐﺎﻧﭩﮯ
ﮔﮭﺮ ﻣﯿﮟ ﭘﮭﻮﻟﻮﮞ ﮐﯽ ﺟﮕﮧ ﻻﮐﮯ
ﺳﺠﺎﺋﮯ ﮐﺎﻧﭩﮯ
ﺯﺧﻢ ﺍﺱ ﺩِﻝ ﻣﯿﮟ ﺑﺴﺎﺋﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺧﻮﺩ
ﺭﮨﺘﮯ ﮨﯿﮟ
ﺩﺭﺩ ﮐﯿﺎ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ ﺗﻨﮩﺎﺋﯽ ﮐﺴﯽ ﮐﮩﺘﮯ
ﮨﯿﮟ
ﺍﺏ ﺟﻮ ﺑﭽﮭﮍﮮ ﮨﯿﮟ ﺗﻮ ﺍﺣﺴﺎﺱ ﮨﻮﺍ
ﮨﮯ ﮨﻢ ﮐﻮ
ﯾﻮﮞ ﺗﻮ ﺩﻧﯿﺎ ﮐﯽ ﮨﺮ ﺍﮎ ﭼﯿﺰﺣﺴﯿﮟ
ﮨﻮﺗﯽ ﮨﮯ
ﭘﯿﺎﺭ ﺳﮯ ﺑﮍﮪ ﮐﮯ ﻣﮕﺮ ﮐﭽﮫ ﺑﮭﯽ
ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﮯ
ﺭﺍﺳﺘﮧ ﺭﻭﮎ ﮐﮯ ﮨﺮ ﺍﮎ ﺳﮯ ﯾﮩﯽ
ﮐﮩﺘﮯ ﮨﯿﮟ
ﺍﺏ ﺟﻮ ﺑﭽﮭﮍﮮ ﮨﯿﮟ ﺗﻮ ﺍﺣﺴﺎﺱ ﮨﻮﺍ
ﮨﮯ ﮨﻢ ﮐﻮ
ﺩﺭﺩ ﮐﯿﺎ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ ﺗﻨﮩﺎﺋﯽ ﮐﺴﮯ ﮐﮩﺘﮯ
ﮨﯿﮟ
ﭼﺎﺭ ﺳﻮ ﮔﻮﻧﺠﺘﯽ ﺭﺳﻮﺍﺋﯽ ﮐﺴﮯ ﮐﮩﺘﮯ
ﮨﯿﮟ
ﺍﺏ ﺟﻮ ﺑﭽﮭﮍﮮ ﮨﯿﮟ ﺗﻮ


Friday, 24 January 2014

نواب بہاولپور اور رولز رائس کار (تاریخ کے آئنے میں)

 
One day during his visit to London, Nawab of Bahawalpur was walking in casual dress in Bond Street. He saw a Rolls Royce showroom and went inside to inquire about the Price and Features etc of their cars.
Considering him a just another Poor Indian citizen, showroom salesmen insulted him and almost showed him the way out of the showroom. After this insult, Nawab of Bahawalpur came back to his Hotel room and asked his servants to call the showroom that Nawab of Bahawalpur city is interested in purchasing their few Cars.
After few hours King reached the Rolls Royce showroom again but with his full astonishing royal manner and in his royal costume. Until he reached the showroom there was already red carpet on the floor and all the salesmen were bent with respect. The King purchased all the six cars that they had at showroom at that time and paid full amount with delivery costs.
After reaching Pakistan, Nawab of Bahawalpur ordered municipal department to use all those six Rolls Royce cars for cleaning and transporting city’s waste. World’s number one Rolls Royce cars were being used for transportation of City’s waste, the news spread all over the world rapidly and the reputation of Rolls Royce Company was in drains.
Whenever someone used to boast in Europe or America that he owned a Rolls Royce, people used to laugh saying, “which one? The same that is used in Pakistan for carrying the waste of the City?”
Due to such reputation damages, sales of Rolls Royce dropped rapidly and revenue of company owners started falling down. Then they sent a Telegram to the Nawab of Bahawalpur for apologies and requested to stop transportation of waste in Rolls Royce cars. Not only this but they also offered Six new cars to Nawab of Bahawalpur free of cost.
When Nawab of Bahawalpur observed that Rolls Royce has learnt a lesson and they are sorry for their mistakes, He stopped using those cars for carrying wastes.
After some years Nawab of Bahawalpur Gifted the one of new Rolls Royce to King Saud's visit to Pakistan. That was first ever Rolls Royce in Saudi Arabia. One of new car was Gifted to to Quaid-e-Azam of Pakistan.

Noor ul Huda:

Thursday, 23 January 2014

تحریک ظالمان پینٹاگان:::::TTP

اوہ !!!! تحریک ظالمان پینٹاگان !!!! اگر تم اتنے سچے ہوتے تو
 
 شراب خانے بند کراتے،
 جوا خانے بند کراتے،
 رنڈی بازی بند کراتے،
 رشوت کا بازار بند کراتے،
ناانصافی ختم کراتے،
چوربازاری ختم کراتے،
نشے اور زہر کے کاروبار بند کراتے،
ناجائز ہتھیار رکواتے،
مساجد کی تعمیر کراتے
تبلیغ اسلام، اور اشاعت اسلام کے لیئے کچھ کرتے،
مسلمان ممالک سے تعلقات اچھے کرنے کی بات کرتے،
یہود وکفار اور رافضیوں کو راہ راست پرلانے کی بات کرتے،
دعوت اسلام کی بات کرتے،
 
 
لیکن تم نے کیا کیا؟

تم نے آکھیں بند کیں اور قتل و خون کی وہ تاریخ رقم کی جس کی شاید ہی کوئی مثال ہو، تم نے حرمت کے مہینوں کا خیال کیا نا معصوم اور بے گناہوں کا۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تم نا نہتوں کو دیکھا نا لاچاروں کو!!!!! یہ اسلام کا کونسا راستہ ہے کونسا جہاد ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ کیا ہے ؟؟؟؟؟